Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستان سے محبت،اس کی زبان و ثقافت اوراقدار کو اپنانا،اور اس کی تعمیرو ترقی میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا پاکستانیت ھے پاکستان ہمارا وطن ہے
    وطن ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس میں ہر شخص اپنے گھر اپنے خاندان اپنے دوست و احباب کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارتا ہے ایک انسان کے لیے اس کے وطن کی اہمیت ماں باپ ،بھائی بہن سے بڑھ کر ہوتی ہے جس کا نظارہ سرحدوں پران جاں بازجوانوں کی شکل پرکیا جاسکتا ہے جو ملک کی حفاظت وصیانت کے لیے اپنے گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پوری مستعدی کے ساتھ رات ودن ایک کیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ہمارے شہیدوں نے ہمیں ایک ہی درس دیا ہے کہ اپنے گھر اپنی اولاد اپنی دولت سے بڑھ کر اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اپنے کلچر کو فروغ دینا ہے اپنی زبان کو فروغ دینا ہے آج تک پاکستان میں انگلش کلچر کو فروغ دیا گیا یہاں پر انگلش لباس کو اہمیت دی گئی جس شخص کو انگریزی بولنا آتی ہے وہی پڑھا لکھا ہے اس بات کو فروغ دیا گیا ہماری زبان ہمارے لباس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک ہمارے وزراء اعظم بھی انگلش لباس پہنا کرتے ہیں اپنی ساری تقاریر انگریزی میں کرتے ہیں اگر ہمیں اپنا سافٹ امیج بہتر بنانا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا اپنی ثقافت اپنے کلچر اپنی روایات کو فروغ دینا ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان صاحب جو کہ رہے بھی انگلش ممالک میں لیکن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستانی کلچر کو فروغ دیا پاکستانی لباس کو فروغ دیا اگر وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے باہر کے سارے دورے دیکھے جائے تو ہمیں ہمارا قومی لباس دیکھائی دے گا وزیراعظم کا قومی لباس اور زبان اردو میں تقاریر کرنا خوش آئند ھے۔مگر پاکستانیت کے فروغ کے لئے محض اتنا کافی نہیں ھے ہمارے سلیبس میں اردو کو فروغ دینا ہو گا ہمارے تعلیمی نظام میں انگلش تاریخ دانوں کی جگہ اسلامی تاریخ دانوں کی تاریخ ڈالنی ہو گی ہمیں ہماری قوم کے بچے بچے کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنا ہو گا بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ملک میں بچہ بچہ
    ” Jafri chosr ”
    کو جانتا ہے لیکن مولوی عبد الحق اور سرسید احمد خان کو نہیں جانتے کیونکہ ہماری رگوں میں انگلش کلچر کو بھر دیا گیا ہے کہا جاتا ہے جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جائیں وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ہمارے ٹی وی ڈراموں کو بدل دیا گیا ہمارے فنکاروں نے قوم کو ہمارے کلچر سے ہٹا کر فحاشی پر لگا دیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہونا چاہیے تھا وہاں صبح ڈانس موسیقی شوز دیکھائیں جا رہے ہیں ہماری اداکارہ کے لباس انتہائی نازیبا ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر اثرات چھوڑتے ہیں ہمارے کالجوں ہماری یونیورسٹیوں میں انگلش بولنے پر زور دیا جا رہا ہے ہمیں انگریزی کلچر کا عادی بنایا جا رہا ہے ہمیں ہماری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنا ہو گا عدالت عظمی کے فیصلوں کی رو سے اردو کو قومی کے ساتھ دفتری زبان کے طور پر رائج کرنا ھوگا۔علاقائی زبانوں کو بھی ترقی اور فروغ دینا ھو گا۔دفاتر اور عدالتوں کی دستاویز عام آدمی کے لئے ھوتی ہیں مگر انگریزی زبان میں۔جس سے اس کا دور سے بھی واسطہ نہیں۔کیا ملکی نظام عام آدمی کے لئے نہیں ھوتا؟انگریزی علمی ترقی کے لئے بلا شبہ ضروری ھے ۔مگر مخصوص اشرافیہ نے اسی کے سہارے بیوروکریسی اور اہم اداروں پر قبضہ کر رکھا ھےاور ایک طبقاتی تضاد سو سائٹی میں بڑھتا جا رھا ھے۔اس کا سد باب بھی بہت ضروری ھے۔قومی زبان بولنے سے زیادہ حقیقی معنوں میں اداروں میں رائج کرنے سے پاکستانیت فروغ پائے گی۔

  • پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    اے پاک وطن تیری کہانی سب سے اونچی، اونچی تیری شان
    ‎ تیرے آگے ہم سر جھکا کر اور بڑھائیں ہم تیری شان
    ‎ تیری حفاظت مقصد ہمارا
    ‎ ہمارا ایمان صرف پاکستان

    ‏اشرف غنی جو ہمیشہ بھارت کے ایجنڈے پہ چلتے ہوئے پاکستان پہ جھوٹے الزام لگاتا تھا۔
    لیکن! اس بار وزیر اعظم عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے اسے چپیڑیں مار دیں۔

    بلاشبہ! ایسے کھل کر جواب صرف وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتا تھا۔
    پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور بلاشبہ اللہ نے اسے بلندوبالا ہی رکھنا ہے ۔اللہ نے ہماری قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے ایک رہنما اتارا جو صرف اور صرف اس ملک کی بقا کا جذبہ رکھتا ہے ۔ وہ انقلابی بھی ہے اور ایک لشکر کا سپاہ سالار بھی ہے جس کا نعرہ ہے تبدیلی جو اپنی انتھک محنت کے باوجود بھی تنقید برائے تنقید کا شکار ہے ۔ سازشوں کا جال ان کے قدموں میں بچھایا جا رہا ہے لیکن خدا سلامت رکھے ان کی استقامت کو کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے کوشاں ہیں ۔
     
     یہ تبدیلی مخالف شور ، میرا تبدیلی پہ ایمان کو مزید مضبوط کر رہا ہے ۔ جب کوئی اچھا اور نیک کام ہونے جا رہا ہو اور باطل قوتیں اس سے ٹکرائیں تو سمجھ لیں کہ کامیابی بہت قریب ہے لہٰذا تبدیلی آچکی ہے ، تبدیلی آ بھی رہی ہے اور تبدیلی مزید بھی آتی رہے گی ، کوئی روک سکتا ہے تو روکے ۔

     ایک سوال جو بارہا میری سماعتوں سے ٹکرایا ہے کہ تبدیلی سرکار نے کیا کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب تو بہت سی صورتوں میں موجود ہے لیکن وہی شور و غل برپا کرنے والی مفاد پرست قوتیں اس جواب کو چھپانے کی سازش میں محوِ عمل ہیں، لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کے باطل کے سمندر میں حق اکیلا بھی ہو تو ابھر کر نکلتا ہے ، اسے جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے اتنا ہی وہ سامنے آ کر للکارتا ہے ۔

    تبدیلی کے متعلق سوالات کے جوابات چاہیے تو پچھلی دہائیوں اور دورِ حاضر کا غیر جانبدارانہ موازنہ کریں ، حقیقت آشکار ہو جائے گی بس اپنی نظر کا زاویہ بدل کر دیکھیں ۔

    جو مضبوط خارجہ پالیسی پاکستان کی آج ہے وہ ماضی میں کبھی نہ تھی ۔ بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کی عزت اس کی خارجہ پالیسی پر انحصار کرتی ہے ۔ صد شکر خدا جس نے پاکستان کو ایک غیور اور نڈر وزیرِ خارجہ سے نوازا ، جن کی یو این یو میں پہلی تقریر نے اقوامِ عالم کو جگایا کہ ہم پاکستانی دہشتگرد نہیں ہیں ، ہم تو امن کے سفیر ہیں ۔ حقیقی دہشتگرد تو بھارت  ہے جو نہتے کشمیریوں کے خون کا دشمن بن چکا ہے ۔ اس سے پہلے یو این او میں بھارت کا بے رحم چہرہ کسی نے بے نقاب نہیں کیا ۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقوامِ عالم حرکت میں آیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی اداروں نے بھارت مخالف رپورٹس پیش کی۔ ابھی حال میں ہی برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں ہونے والی کشمیر کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آج پاکستان کو امریکہ جیسے مغرور ملک نے امن کا سفیر مانتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے مدد مانگی جبکہ پچھلی حکومتوں کے دور میں امریکہ کی طرف سے صرف ڈرون حملے ہوتے تھے یا پھر ڈو مور کا مطالبہ ۔

    کرتارپور رہداری کی تعمیر نے پاکستان کو دنيا کے سامنے ایک پرامن قوم کے طور پر پہچان دی ۔ یاد رکھیں کہ ایک انسان بھوک سے مر جاتا ہے لیکن عزت کے بغیر جیتے جی مر جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت کی بحالی نے ہمیں نئی زندگی بخشی ہے جو ایک غیور قوم کا اثاثہ ہوتی ہے ۔

    دھرتی اگر ماں ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بے سروسامانی کی حالت میں سڑک کنارے پڑا نہیں دیکھ سکتی ۔ آج تحریکِ انصاف کی حکومت نے پناہ گاہوں کے قیام کو یقینی بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھرتی واقعی ہی ماں ہوتی ہے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا ، بےدردی سے اس ملک کو لوٹا، لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کی جنگ لڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اس حکومت کا سکون غارت کیا جا رہا ہے ۔ لیکن یہ پھر بھی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پہ قائم و دائم ہیں ۔ آج کے پاکستان میں حکمران احتساب کے عمل سے آذاد نہیں ہیں ، اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے ؟

    کلین گرین پاکستان ، پاکستان سٹیزن پورٹل ، پاکستان بناو سرٹیفکیٹ سکیم، اسلامی ممالک سے بردارانہ تعلقات ، آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے سے انکار ، سیاست سے پاک آذاد ادارے ، یورپی یونین کے پاکستان کے قوانین میں ردوبدل سے متعلق مطالبات ماننے سے انکار ، یہ سب وہ کام ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے اس مختصر سے عرصے میں سرانجام دئيے جو ماضی کی تجربہ کار حکومتیں نہ کرسکی تھیں ۔ واقعتاً قیادت دیانتدار ہو تو عزت اور کامیابی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔

    میرا قلم آج تحریک انصاف کی کارکردگی پہ رطب السان اس لیے ہو رہا ہے کہ میرے مستقبل کی آنکھیں کھلی ہیں ۔ میرا  لاشعور گواہی دیتا ہے کہ اس قوم کی تقدیر میں ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ باطل کے تمام قلم ٹوٹ جائیں گے اور ہر طرف حق حق کی پکار ہوگی ، بین الاقوامی سطح پر ہم ایک خود مختار اور باعزت قوم کے طور پر جانے جائیں گے ، معاشیات بھی عروج پہ ہو گی اور پاکستان سے مہنگائی کا خاتمہ بھی ہو گا ، امیر ، امیر تر اور غریب مزید غریب نہیں ہوگا ، حکمران عوام کو اپنے اثاثہ جات کے جوابدہ ہوں گے  ۔ علم کا بول بالا ہوگا اور ادب ہمارا پیرہن ہوگا (انشاءاللہ )۔
                                                    تبدیلی کی چنگاری اب آلاو بن چکی ہے ، جسے کوئی نہیں بجھا سکتا ، جو چاہے سازش کرے ، یہ ملک تبدیل ہو کر رہے گا ، کوئی روکنا چاہے تو روکے ، لیکن تبدیلی کا یہ طوفان اب نہیں رکنے والا ۔ ہم نے طے کرلیا ہے کہ اپنے خون کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو ہم اس نئے پاکستان کی بنیاد کو ہلنے نہيں دیں گے ۔

    جو سازشی عناصر سادہ لوح پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے میں محوِ عمل ہیں وہ خبردار ہو جائیں کہ یہ محب الوطن قوم ہے یہ ذیادہ دیر تک غفلت کی نیند نہیں سو سکتی اور جس دن یہ قوم مکمل طور پر جاگ اٹھے گی ، باطل کو دنیا بھر میں کوئی پناہ نہیں ملے گی ۔
                                      خراجِ تحسین ہے تبدیلی کے اس پورے لشکر کیلئے جو کہ پاکستان کو مستحکم دیکھنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ اللہ آپ کی کاوشوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ہماری قیادت کو خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے (آمین )

  • کراچی میں کچرے کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی میں کچرے کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    سیاست کے بجائے عمل کی ضرورت

    کراچی میں کچرے اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے انتظام کی پریشانی کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس شہر میں پندرہ ملین سے زیادہ رہائشیوں نے پچھلے سال تقریبا 16 16،000 ٹن کوڑا کرکٹ پیدا کیا تھا۔ اس میں سے بیشتر اس نے شہر میں دو بڑے لینڈ فلز بنائے ہیں لیکن 30 فیصد سڑکوں پر رہتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں 30 فیصد اگر سڑکوں پر رہتا ہے تو شہر کی کیا حالات ہوگئی؟
    بارشوں کے موسم میں کچرا کے مسئلے کو نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، کیونکہ یہ سب جمع ہوکر سطح پر آجاتا ہے ، اور شہر میں سیلاب کی طرح سڑک کے اوپر تیرتا ہوا نظر آتا ہے. وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کے لیے یہ انتہائی توجوں طلب مسئلہ ہے۔ گورنر سندھ بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آئے کے وہ دو ہفتوں میں کراچی کو صاف کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے شہر کے باشندوں سے مدد کی درخواست کی جہاں وہ مدد کرسکیں اور ایف ڈبلیو او اور پاکستان آرمی سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن پھر انکو عملی میدان میں قدم رکھنے کے بعد یہ بات سمجھ آی کے شہر سے 10 سال سے زیادہ کوڑا کرکٹ ہٹانا دو ہفتوں کی نوکری نہیں ہے اس معاملے پر صوبائی حکومتِ اور ایم کیو ایم سے صوبہ چلانے کے مابین پھوٹ بھی پڑ گئی لیکن معاملے کا کوئی صحیح حل نہ نکلا۔ اور اب تک اس شہر کے صفائی کے معاملات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہں ہوئی.

    پچھلے برسوں میں لگاتار طویل عرصے سے آنے والی پی پی پی حکومت نے اس کو کوئی ایسا مسئلہ نہیں سمجھا جس کے لئے ان کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس پر ابھی جھگڑا کرنے کے بجائے ، تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر پہلے کوڑے کو ہٹانے کے لئے مطلوبہ فنڈز اور افرادی قوت حاصل کرنے اور جو افرادی قوت موجود ہے اس سے صحیح طرح کام لینے کے لئے مل کر کام کرنا پڑے گا اور پھر مناسب اور موثر ضائع کرنے کے لئے مناسب فضلہ کے انتظام کے انفراسٹرکچر کی تشکیل کی جائے گی تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں دوبارہ ڈھیر نہ ہو۔

  • امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    گزشتہ کچھ روز سے مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر ایک ایشو کو لے کر بہت زیادہ گفت و شنید دیکھنے میں آ رہی ہے اور پاکستانی عوام بھی ایک شش و پنج میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی پاکستان نے امریکہ کو ملٹری بیس فراہم کر دیئے ہیں یا نہیں؟ یہ ٹاپک پینٹاگون سے لے کر پاکستان کے پسماندہ علاقوں کے چائے کے ڈھابوں تک برابر زیرِ بحث ہے۔ آئیے آج اس معاملے کے کچھ حقائق کی کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جب سے امریکی انخلا کی خبریں آنی شروع ہوئیں ساتھ ہی افغان طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت جنگ جاری ہے گزشتہ دو دنوں میں افغان طالبان کا نشانہ بننے والے افغان سیکیورٹی فورسز کے مقتولین کی تعداد 150 سے بڑھ چکی ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا واقعی یہ اعدادوشمار شمار درست ہیں یا امریکہ کو ہوائی اڈوں کی فراہمی کے لئے حالات کو سازگار بنانے کے لئے گراؤنڈ ورک کیا جا رہا ہے
    گزشتہ دنوں امریکہ کے انڈو پیسفک افیئرز کے نائب دفاعی سیکریٹری نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے دینے کو تیار ہے، تاکہ انخلا کے بعد امریکہ خطے پر اپنی نظر رکھ سکے اور افغانستان میں امن کو یقینی بنا سکے۔ جبکہ دوسری جانب وزیرِ خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے اس عمل کی ناصرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ واضح بھی کر دیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں دے گا۔
    ماضی میں دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو کر پاکستان نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ ہماری معیشت تباہ ہوئی، بے شمار جانی نقصان ہوا، پاکستان خود دہشتگردوں کا ہدف بن گیا اور دنیا بھر میں پاکستان کو دہشتگرد ریاست ڈیکلیئر کرنے کے لئے انڈین لابی نے زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ اس کے علاوہ منشیات اور کلاشنکوف کلچر رائج ہوا جس کے نتائج پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے۔ اگر دنیا میں کسی ملک نے دہشتگردی کے خلاف حقیقی قربانیاں دی ہیں تو وہ پاکستان ہے لیکن اس کے باوجود بھی "ڈو مور” اور "دہشتگرد” جیسے خطابات بھی پاکستان کو دیئے گئے۔ لیکن اب پاکستان کی موجودہ قیادت یہ غلطی دہرانے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہی۔ جس کے پیچھے اور بھی بہت سارے عناصر ہیں۔
    اگر ہم کچھ اندرونی معاملات پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت معاشی اور تجارتی حوالے سے دنیا کے تین ملک آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ امریکہ، روس اور چین۔ جن میں سے دو ملک ایشیائی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ ایشیا پر کسی نہ کسی طرح اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں جو کہ باقی ایشیائی ممالک کے لئے تجارتی مسائل کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ایشو بھی ہے۔ فرض کریں اگر امریکہ کا افغانستان سے مکمل انخلا ہو جاتا ہے تو خطے میں امریکہ کی موجودگی ختم ہو جائے گی اور دنیا پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں اپنی لابی افغانستان میں بیٹھ کر کنٹرول کر رہا تھا جو کہ روس اور چین کے لئے بھی مسئلہ تھا۔ لیکن اب امریکی انخلا کے بعد روس اور چین کے لئے میدان صاف ہو جائے گا، جو کہ امریکہ نہیں چاہتا اس لئے پاکستان کے انکار کے بعد امریکہ نے ازبکستان اور تاجکستان سے بھی زمینی اور فضائی رسائی کی ڈیل کرنا چاہی جو کہ چین کے پریشر کی وجہ سے ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ ان ممالک کی سرحدیں چین کے قریب ہیں۔ روس اور چین کے علاوہ افغان طالبان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ کوئی ہمسایہ ملک امریکہ کو اڈے دینے کی غلطی نا کرے۔

    کچھ عرصہ پہلے روس کی طرف سے پاکستان کو "بلینک چیک” کی آفر بھی اسی حوالے سے تھی تاکہ پاکستان امریکہ کی مزید مدد نہ کرے اور خطے کو امریکہ سے خالی کیا جا سکے۔
    اگر ہم پاکستان کے حالات دیکھیں تو پاکستان نے "منٹھار بس تھیوری” چھوڑ کر ایک مناسب اور مضبوط حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اب بجائے کسی لابی کا حصہ بننے کے پاکستان اپنی خودمختاری کو منوا رہا ہے۔ پاکستان اب جی حضوری کی بجائے جارحانہ حکمت عملی پر گامزن ہے اور ساتھ پاکستان اب چین کا معاشی شراکت دار بھی بن چکا ہے۔ کوئی بھی کاروباری انسان جھگڑوں کا شوقین نہیں ہوتا اس لئے اب پاکستان نے بھی بجائے جنگ کے معاشی سوچ اپنا لی ہے۔ سی پیک و بیلٹ اینڈ روڈ اور افغان جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لئے پاکستان نے وہی فیصلہ کرنا تھا جو اپنے مفادات کا دفاع کرے لہٰذا پاکستان نے جنگی راستہ چھوڑ کر معاشی راستہ اپنایا۔
    امریکی انخلا اور عدم موجودگی کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہو گا۔ چینی سرمایہ کار افغانستان کے ذریعے ایران اور مشرق وسطیٰ تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ ساتھ ہی وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان بھی سی پیک تک آسان رسائی حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دوسری طرف روسی اسلحے کی انڈسٹری کے بھی چمکنے کے امکانات ہیں۔ کیونکہ یورپ کے بعد پورے ایشیا میں صرف افغانستان ہی امریکہ کا دفتر بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے امریکہ اپنی چودھراہٹ کے ساتھ ساتھ دکانداری بھی چمکا رہا تھا جو کہ اب کھٹائی میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
    موجودہ حالات اور روس کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی دلچسپی کے پیشِ نظر یہی نظر آ رہا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کو نکالنا بھی روس اور چین کا پلان تھا جو پاکستان کے ذریعے مکمل ہوا اور مستقبل میں بھی امریکہ کو اس خطے میں کوئی اڈہ یا ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ آنے والا دور اسلحے اور بارود کا نہیں بلکہ ایک مستحکم اور معاشی پاکستان کا دور ہے، سی پیک کا دور ہے اور گوادر کے عروج کا زمانہ ہے۔ لہٰذا یہ اڈوں اور جنگوں کے قصے اب نہیں دہرائے جائیں گے۔
    نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    اللہ پاک وطنِ عزیز کو سلامت رکھے۔ پاکستان زندہ باد

  • قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    ( AK Anwar Khan )
    گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو ہنگامہ دیکھنے کو مِلا ،اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو بہانے لگا ۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کو پاکستانی عوام نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے تاکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کر سکیں اور یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کے ایک دن کے ایک دن کے اجلاس کا خرچہ پانچ کروڑ روپے ہے اور جن کے تنخواہوں اور مراعات کے نتیجہ میں اس غریب قوم کے ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ ہو تے ہیں ۔ افسوس صد افسوس ۔۔!! اس طرح تو ہمارے گلی کے کتّے بھی نہیں لڑتے یا بھونکتے جس طرح یہ معزز ممبران اسمبلی ایک دوسرے کو گالی دے رہے تھے، برا بھلا کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے پر کتابیں اور کاپیاں پھینک رہے تھے ۔ وطنِ عزیز میں اگر اسی طرح کے ممبرانِ اسمبلی ہیں تو عوام ان کی خاک عزّت کریں گے ؟ آخر عوام کو اس کا فائدہ کیا ہے ِ ان کی کارکردگی کیا ہے ؟ عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ممبرانِ اسمبلی اقتدار اور اختیار کے نشے میں مست و مدہوش ہو کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قومی اسمبلی کا ایوان ایک ایسا کلب ہو جہاں آسودہ حال افراد تھوڑی دیر کے لئے تفریحِ طبع کے لئے آتے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کر کے پھر عیاشی کے لئے حکومت کے مہیا کردہ رہائشی فلیٹس میں چلے جاتے ہیں ۔ ان کو ملک کے کمزور ترین معیشت کی فکر، نہ اغیار کے سازشوں کا غم ، معیشت سے لے کر امورِ خارجہ تک کسی بھی مسئلہ پر انہوں نے اج تک سنجیدگی سے بحث تک نہیں کی ۔ پارلیمان موجود ہے مگر قانون سازی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہو رہی ہے ۔
    ان ممبرانِ اسمبلی پر غریب قوم کے اٹھنے والے اخراجات دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔بنیادی تنخواہ کے علاوہ اعزازیہ، آفس مینٹیننس الاؤنس ‘ ٹیلی فون الاؤنس‘ ایڈہاک ریلیف، سفری واوچرز، ڈیلی الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس الغرض الاؤنسز اور مراعات کی برسات ہے جو ان ممبران اسمبلی پر برس رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو شخص ایک دفعہ قومی اسمبلی کا ممبر بن جائے ،وہ تا حیات نہ صرف گریڈ بائیس آفیسر
    کے برابر میڈیکل الاؤنس کے حقدار ہوتے ہیں بلکہ تمام موجودہ و سابقہ ارکانِ اسمبلی بلیو پاسپورٹ رکھنے کے بھی حقدار ہیں۔

    قوم کے فلاح و بہبود کے لئے قانون سای کے وقت ان کے اختلافات عروج پر ہوتے ہیں مگر اپنے فائدے کے لئے قانون سازی کے وقت یہ تمام اختلافات بھلا کر یک جان ہو جاتے ہیں ۔ باہر ممالک کے سر براہان یا نمائندے جب پاکستان آکر ہمارے حکمرانوں اور پارلیمان پر اٹھنے والے اخراجات دیکھتے ہیں تو وہ انگشت بدانداں رہ جاتے ہیں کہ ایک غریب ملک کے حکمران کس طرح اتنے بھاری اخراجات کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک ہمارے اخراجات دیکھ کر ہم پر ہر گز رحم نہیں کھاتے کیونکہ ہمارے حکمرانوں پر اٹھنے والے اخراجات کسی غریب قوم کے نہیں ہو سکتے ۔

    پارلیمان کی بالا دستی اور ارکانِ اسمبلی کا احترام سر آنکھوں پر ‘ مگر ان کی کارکردگی اور آپس میں دست و گریباں ہونا عوام کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ اگر انہوں نے یہی روّش جاری رکھی تو لا محالہ عوام کی نظریں پھر فوج کی طرف اٹھیں گی۔ جو ملک کے لئے اچھا شگون نہیں ۔

    باایں وجہ تمام ارکانِ اسمبلی سے میری گزارش ہے کہ خدا را ! ہوش کے ناخن لیں اور ایوان کو تماشہ گاہ نہ بنائیں،د نیا کے دیگر ممالک کو جگ ہنسائی کا مو قعہ فراہم نہ کریں ۔ عوام نے جس مقصدکے لئے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے اس مقصد کوسامنے رکھ کر اجلاس میں جائیں اور اپنے فرائض ِمنصبی کو پورا کرنے کے لئے پورے ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی کو شش کریں ۔ عوام کا خون تو چوس ہی رہے ہو مگر اس خون کے بدلے تھوڑی سی قیمت بھی تو ادا کرنے کی زحمت گوارا کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔

  • اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    میں پاکستان کے گلے سڑے نظام اوراس نظام سے فائدہ اٹھانے والے درندوں کو دیکھتا تھا تو دل بہت جلتا تھا کیسے یہ لوگ پاکستان کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں. ہمارا کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا جو جوابدہ ہو ہرکوئی ببرشیربنا ہوا سب کا ایک ہی کام پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہمارے نوجوان جو قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں وہ ان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں یہ تک بھول چکے تھے کہ اللّٰہ نے انہیں بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں سوچنے والا دماغ ہے جو تفکروتدبراورعقل وشعورکی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دل بہت کڑتا تھا مجھے لگتا تھا کچھ تبدیل نہیں ہوگا ہماری نسلیں ان چوروں ڈاکووں کی عمربھرغلامی کریں گی۔

    اس مایوسی کے عالم میں میری نظر ایک کھلاڑی پرپڑی جس نے اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اسے اقتدار کی کرسی کی لالچ ہے نہ حاکمیت کا شوق، وہ ایک درویش انسان ہے جس کا اوڑھنا بچھونا صرف پاکستان اور پاکستانی ہیں جس نے ہمیں شعوردیا پُل اور سڑکیں بنانے سے زیادہ اِہم ہوتا ہے، کہ قوم بنائی جاۓ اورانسانیت کی خدمت کی جاۓ انسانوں کی بقاء کے وژن پرکام کیا جاۓ خیبر پختونخوا کو ہی دیکھ لیں میرے لیے وہ آج آئیڈیل صوبہ ہے پچھلے دورحکومت دیکھیں اورماشاءاللہ اب دیکھیں جہاں صحت کی سہولت اب مفت ہے جہاں مذہب، ذات اورسیاسی وابستگی کی پرواہ کئے بغیرہرخیبرپختونخوا کے شہری کو دس لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس فراہمی دی جا رہی ہے الحمدللہ‏صوبہ خیبر پختونخوا میں میرے کپتان کی زیرنگرانی تیزی سے ترقی کا سفرجاری و ساری ہے۔

    ہر کام کو کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے پہلے مجھے لگتا تھا عمران خان پنجاب میں آئیں گے تو وہی سسٹم یہاں بھی دہرایا جائے گا اور حالات بہتر ہوجائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اسکی بنیادی وجہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کلچر، مزاج، سوسائٹی مختلف ہے جب کہ پنجاب کا مزاج اورطرح کا ہے۔ یہاں کی پولیس، پٹواری، ہسپتال، محکمہ جات پہلے سے امپروو کرنے کے بجائے تنزلی کا شکار ہوئے۔
    کیونکہ یہاں کی عوام میں محکومیت والا عنصر موجود ہے اس سب کے باوجود، عمران خان بڑے اداروں کی بنیادوں کو مضبوط کر رہا ہے، جس کا نتیجہ آنے والی دنوں میں سامنے آئے گا۔

    میرا قائد عمران خان اس وقت پوری قوم کی جنگ لڑرہا ہے۔ اس وقت ملک کے سارے چوراچکے ڈاکو لٹیرے جیب کترے لفافے ایک ہوکر اس شخص کو ناکام بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں پرعوام بیوقوف نہیں سب نظرآرہا ہے کی پی کی ہو سندھ یا پھرپنجاب سب کی کوشش صرف یہی ہے کہ عمران خان کا راستہ روکا جائے. کیونکہ سب پارٹیز کے مفادات تو ایک ہی ہیں. سب کو پتا ہے عمران خان نے پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑنا ہے لیکن خدا نخواستہ یہ کرپٹ مافیا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے یا یہ کہیں کہ اگر عمران خان صاحب نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی تو کیا ہو گا۔۔؟؟

    اسکی ذات کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر پھر کوئی اور انسان آپکی آواز نہیں بنے گا کیونکہ اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھانا صرف عمران خان کا نہیں اس کی قوم کا بھی کام ہے۔ چلیں آئیں آج پھر ہم عہد کریں کہ ہم عمران خان صاحب کو گرنے نہیں دینگے کیوں کہ نقصان ہمارا ہوگا اللہ تعالی ہمارے لیڈر عمران خان صاحب اور پاکستان کی حفاظت فرمائے. آمین ثم آمین۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان زندہ باد

    Twitter handle @HayatShilmani

  • وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    قومی سیاست کا بڑا المیہ محاذ آرائی اور بداعتمادی ہے ، جب ایک سیاسی فریق دوسرے کو قبول کرنے کے بجائے سیاسی تعصب، نفرت ، الزام تراشی اور منفی طرزعمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں ہی پیدا ہوگا۔

    ۔ آج پھر آزاد کشمیرمیں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نوازنے خوب تنقید کے نشتر چلائے ہیں اور کہا ہے کہ کشمیر بیچنے کی سازش امریکہ میں بیٹھ کر رچائی گئی ، کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال کر 2 منٹ خاموشی کا کہتے ہیں۔ یہ جیت کر کشمیر کے پہاڑ بھی آئی ایم ایف کو بیچ دیں گے ۔ پلندری میں تو عمران خان پر یہ بھی الزام لگا دیا کہ وہ آزاد کشمیر کو ایک نیا صوبہ بنانا چاہیتے ہیں ۔ پھر عمران خان کو دھمکی دی کہ سن لیں ان کا یوم حساب قریب ہے ، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام ان سے حساب لیں گے۔ ۔ میری نظر میں گندی زبان والے لیڈر اور حکومتی وزیر کشمیر پہنچے ہوئے ہیں اور کشمیر کا ماحول خراب کررہے ہیں۔ کیونکہ زبان درازی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ۔ ایسا لگتا ہے کہ آزادجموں وکشمیر انتخابی مہم ’جگت بازی‘ اور ’گالم گلوچ‘ کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

    ۔ کیونکہ ہر مسئلے کی زمہ دار حکومت ہوتی ہے تو شروع حکومت سے ہی کرتے ہیں ۔ علی امین گنڈاپور الیکشن مہم کے آغاز میں ہی تنازعات کی زد میں آگئے تھے جب ان کی مبینہ طور پر پیسے بانٹنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد وزیر موصوف اپنی تقریر میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر بھی خبروں کی زینت بنے رہے۔ پھر ان کی جانب سے
    500
    ارب روپے کے فنڈز کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، جو پی ٹی آئی الیکشن جیتنے کی صورت میں وہاں کی حکومت کو دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ۔ آزاد کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے سابق وزیراعظم ذوالقفار علی بھٹوکو غدار اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ڈاکو قرار دیا۔

    ۔ یوں یہ بدزبانی کشمیرسے پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ میں جو زبان استعمال ہوئی جو ہنگامہ ہوا ، جو الزامات لگے وہ باعث شرمندگی ہیں ۔
    علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھٹو کو غدار کہنا ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہے ۔

    ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت تصادم کی نئی راہ کھول رہی ہے ۔ سینیٹ میں اپوزیشن بینچز سے جو نعرے لگے وہ بھی اس مقدس ایوان کی بے حرمتی ہے اور حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ۔

    ۔ اپوزیشن کی بات کریں تو عمران خان کو بزدل کہا جارہا ہے ۔ ن لیگ تو آزاد کشمیر کے اندر بھی دھاندلی کا عندیہ دے کر۔ ان الیکشنوں کو بھی متنازعہ کرنے پر لگی ہے ۔

    ۔ مریم نواز بھرپور انتخابی مہم تو چلا رہی ہیں۔ مگر جیت کے چانسز کم دیکھائی دیتے ہیں ۔ جو کچھ وہ روزانہ ارشاد فرما رہی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمران خاں نے کشمیر کو بیچ ڈالا۔ صرف ان کی جماعت ہی طوفان میں ہچکولے کھاتے کشمیریوں کو ساحل سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کے امیدوار فاروق حیدر نے فرمایا کہ مریم ہی کشمیر کو آزاد کرائیں گی۔

    ۔ جبکہ مظفر آباد کو فتح کرنے کے لیے عمران خان کی حکمتِ عملی وہی پرانی ہے، جو نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی تھی۔ کہ برادریوں کی حمایت رکھنے والے کروڑ پتیوں کو ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ وہ کر بھی ایسا ہی رہی ہے ۔

    ۔ اب اس تمام دھما چوکڑی میں عمران خاں کشمیر کا رخ کرنے والے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ
    ۔ کیا وہ بھی بلاول اور مریم کی روش اختیار کریں گے؟ انہی پہ گولہ باری کریں گے۔ اگر وہ اس بچگانہ کھیل کا حصہ ہو گئے تو مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟
    ۔ ٹارچر سیل میں پڑے ہزاروں نوجوانوں اور کمسن بچوں کا، جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ کہاں ہیں اوران پہ کیا بیت رہی ہے۔

    ۔ ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ
    ۔ انتخابات کہیں بھی ہوں؟
    ۔ حکومت کوئی بھی ہو؟
    ۔ اپوزیشن کتنی ہی نالائق کیوں نہ ہو؟

    ۔ سیاسی جماعتیں کتنی ہی پارسا، قابل اور جمہوریت پسند کیوں نہ ہوں انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنا، ایک دوسرے پر مختلف طرح کے الزامات عائد کرنا اور تابڑتوڑ حملے کرنا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

    ۔ لیکن اس بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے لے کر اپوزیشن کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت تک جو الزامات ایک دوسرے پر لگائے جا رہے ہیں اور جس گھن گرج کے ساتھ مخالفین کو کشمیر فروش ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کو آج بھی اپنی تاریخ اور تحریک کا اچھی طرح علم ہے۔ تاہم آج پاکستان سے ووٹ مانگنے کے لئے آزادکشمیر جانے والے لیڈر کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر سمجھانے اور آزادی حاصل کرنے کے گر بتانے سے زیادہ پاکستان میں اپنے مخالفین کو غدار ، ملک دشمن، چور، ڈاکو، کرپٹ وغیرہ ثابت کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں۔

    ۔ 25
    جولائی کو ہونے والے الیکشن میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟
    اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم تحریک انصاف جس نے پچھلے الیکشن میں صرف دو سیٹیں جیتی تھیں، اب
    ۔۔۔ تبدیلی فارمولہ ۔۔۔
    کی رو سے سب سے مقبول پارٹی ہے۔

    ۔ پی ٹی آئی نے عوامی رابطہ مہم پراب تک اتنا زور نہیں لگایا جتنا دوسری پارٹیوں کے ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کو توڑنے میں لگایا ہے ۔

    ۔ اچھا یہ بھی ایک تاثر ہے کہ ن لیگ کے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے حقیقتاً آزادکشمیر کو مالی خود مختاری دلانے سمیت کئی اچھے کام کئے ہیں جن کے زور پر وہ پی ٹی آئی کو جھٹکا دے سکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی میں بھی کئی تجربہ کار لوگ موجود ہیں جو اپنی سیٹیں جیت سکتے ہیں مگر پانسہ پلٹنے کے لئے اسے مزید محنت کرنا ہوگی۔

    ۔ دوسری جانب حکومت کا ایک مشن شہباز شریف ہے ۔ اس حوالے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر حکومت کا خصوصی ٹارگٹ ہیں ۔ جبکہ حکومتی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ان کے خلاف شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ نااہلی سے بچ نہیں سکیں گے ۔ مسلم لیگ( ن) کا کہنا ہے کہ حکمران اپنی عدم کارکردگی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ شہباز شریف چونکہ حکومت کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں اس لئے انہیں خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ احتساب ہے۔ آزادانہ اور شفاف احتساب نہ ہونے کے باعث اول تو یہ عمل آگے نہیں بڑھ رہا اور دوسری طرف یہ تاثر عام ہوتا نظر آتا ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں ، خصوصاً اپوزیشن تک محدود ہے۔ دیکھا جائے تو نیب نے احتساب کے لفظ کو ایک لطیفہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ اب اس ساری مارا ماری اور الزامات کی جنگ میں انتخابی اصلاحات کا معاملہ سیاسی طور پر خاصا ٹیڑھا ہوگیا ہے ۔ پہلے کچھ اُمید پیدا ہوچلی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پر اب روز بروز تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔

    ۔ ابھی تک جماعت ِاسلامی کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی انتخابی اصلاحات کی بیشتر تجاویز کو مستردکیا ہے۔ وہ نہ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کے حق میں ہیں اور نہ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے پر راضی ہیں ۔
    کیونکہ تقریبا اسّی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کی بھاری اکثریت حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ یوں دس پندرہ لاکھ اوورسیز نے بھی اگلے عام انتخابات میں ووٹ ڈال دیا توتیس سے چالیس انتخابی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو فائدہ ہوگا۔

    ۔ دوسری طرف آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین قابل ِقبول نہیں۔ حکومت کی مجوزہ ترمیم کے تحت ووٹر فہرستیں بنانے کا اختیار الیکشن کمیشن کی بجائے نادرا کو مل جائے گا۔۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن اسکی مخالفت کررہے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ اس اقدام سے الیکشن کمیشن بے اختیار ہوجائے گا۔

    ۔ یوں انتخابی اصلاحات کا معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ صاف ستھرے الیکشن پر جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ بدقسمتی سے ہر الیکشن کے بعد ہارنے والی جماعتیں انتخابی عمل میں شدید دھاندلی کی شکایت کرتی ہیں۔ کبھی ووٹنگ سے پہلے دھاندلی کرنے کا شور مچتا ہے۔ کبھی ووٹنگ کے بعدپولنگ اسٹیشن پر گنتی اورریٹرننگ افسر کے دفتر میں نتائج مرتب کرنے میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

    ۔ ہمارا سیاسی کلچر ایسا گلا سڑا ہے کہ کوئی طریقہ اختیار کرلیا جائے شکست کھانے والا اپنی ہار تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ الیکشن صاف ستھرے اور منصفانہ ہوں بلکہ دشواری یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدان ہر صورت حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔۔ ہمارے سیاستدان جاگیردارانہ اور قبائلی مزاج کے حامل ہیں ۔ انکا خیال ہے کہ چودھراہٹ اور سرداری ہمیشہ ان کے پاس رہنی چاہیے۔ الیکشن تو محض رسمی کاروائی ہے۔۔ یہ بھی درست ہے کہ عملی سیاست سمجھوتوں اور کچھ لو، کچھ دو کے اُصولوں پر چلتی ہے۔ تحریک انصاف کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کیلیے اپنی انتخابی تجاویز میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کی ہر بات کو رَد کرکے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔ تمام فریقوں کو ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔ ضروری نہیں کہ الیکشن کے عمل میں بہتری کی تمام کوششیں ایک ہی قانونی ترمیم کے ذریعے نافذ ہوجائیں۔

  • "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    پاکستان کے بڑ ے مسائل میں سے بدعنوانی اور دہشت گردی سر فہرست ہیں۔
    دہشتگردی کے لئے تو پاکستان کی کوششیں انتہائی کامیاب ہیں اور الحمداللہ ہماری فوج نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی حیرانکن نتائج کے ساتھ کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہماری ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے ۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارا فوج کا ادارہ عالمی سطح پر ایک کنسلٹیٹو کا درجہ رکھتاہے تو غلط نہیں ہوگا ۔آپ سب سے گزارش ہے کہ اس فورمپر، علم اور تجربہ کی بنیاد پر اپنی اپنی آراء سے مستفید فرمائیں۔ممکن ہے ہماری یہ چھوٹی سی کوشش اس ضمن میں مددگار ثابت ہو۔
    میں ایک طالب علم ہوں سو میری رائے کوئی حرفِ آخر نہیں بلکہ رائے بھی کیا بس کُچھ پریشان خیالیاں ہیں جو آپ احباب سے شئیر کر سکتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ یہاں شخصیات اور ادارے طاقتور ہیں اور قانون کمزور ایسے میں ہم اپنے اطراف جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی صورتِ حال ہر قدم باآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہاں چونکہ خود قانون ہی بے آبرو ہے تو موقع اور مفاد پرست شخصیات اور اداروں میں عزت، خودداری، ملی غیرت اور خود احتسابی جیسی ضروری خصوصیات کیسے پیدا ہوں۔ آج کلمے کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کی عملی شکل کُچھ یوں ہے کہ آپ شیطانیت کے راج میں ہونے والے کسی بھی بڑے سے بڑے روح فرسا جُرم کا تصور کر لیں وہ جُرم آپ کو پوری آب و تاب کے ساتھ ارضِ پاک میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر ملے گا۔ یہاں کسی بڑے سے بڑے سانحے کا بھی کوئی ذمہ دار نہیں ملتا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا مگر ہمارے عملی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کی آن بان میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ وہ خود کو اس ٹکڑے کے پہلے سے زیادہ اہم محافظ قرار دیتے ہیں۔ یہاں قانون ایک سنگین مذاق ہے۔ جب تک یہاں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی ہم خود کو باوقار قوموں کی صف میں آخری درجے پر بھی نہیں لا سکتے۔
    نا اُمیدی کفر ہے سو اُمید کرتے ہیں کہ ایک دن عوام اپنے اجتماعی شعور کو حرکت میں لا کر اندھیروں سے روشنیوں کے سفر کی طرف ضرور گامزن ہوں گے۔ ہر الزام حکومت پر ڈال دینا انتہائی درجے کی بیوقوفی ہے ہمیں بطور قوم اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔

    ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
    دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

    انتخابی اصلاحات اہم ہیں۔ تو میرا اور آپ کا مشترکہ نعرہ کہ انتخابی اصلاحات تشکیل دی جائیں۔

    میرا تو سب سے پہلے اس بات سے اختلاف ہے کہ عوام مظلوم ہیں ۔ عوام خود ظالم ہیں۔ دوسروں پہ بھی ظلم کرتے ہیں اور خود پہ بھی ۔ رمضان کی آمد سے پیشتر ہی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونا شروع کر دیتی ہیں ۔ یہ قیمتیں حکومت یا ریاستی ادارے نہیں بڑھاتے ۔ ہم عوام بڑھاتے ہیں ۔ ایک کسان سے لے کر چھابڑی فروش تک اور گودام کے مالک سے لے کر گلی میں جا کے سبزی بیچنے والے تک ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا لُوٹا جا سکتا ہے لُو ٹ لو ۔اس لُوٹ مار میں ہم عوام خود سب سے آگے ہوتے ہیں۔
    اگر یہاں یہ کہا جائے کہ چونکہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے اس لیے سب کچھ ہو رہا ہے تو آپ قانون کی حُکمرانی کر کے دیکھ لیں جن کے خون میں حرام کی کمائی کی ملاوٹ ہو چکی ہے وہ حرام کھانے سے کبھی باز نہیں آئیں گے ۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے ہمیں چاہئے کہ اب ہم اپنی عادتوں کو بدلیں اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے راستے پر گامزن کریں ۔

    اقصی احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • سیاست کرو منافقت نہیں .  تحریر: فضیلت اجالہ

    سیاست کرو منافقت نہیں . تحریر: فضیلت اجالہ

    جیسے جیسے آزاد کشمیر کے الیکشن نزدیک آرہے ہیں ویسے ویسے اپوزیشن جماعتوں کے جھوٹوں کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے
    اسی دوڑ میں شامل لندن فرار نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا ایک بیان

    ” میں کشمیر کی بیٹی ہوں ،کشمیر سے ہمارا رشتہ بڑا پرانا ہے ”

    جھوٹ اور ڈھٹائی کی اعلی مثال ہے
    کشمیر کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی جعلی راجکماری سے سوال ہے کہ آپ تب کہاں تھی جب آپ کے والد نے ہائی کمیشن کو بھارت کے بارے میں بات کرنے سے روکا
    یہ حب الوطنی تب کہاں تھ جب نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا ،اور جب آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے اجازت کیلیے زور ڈالا تو مودی کے یار نے اجازت تو دے دی لیکن اسکا بدلہ آرمی چیف سے استعفیٰ لیکر لیا ۔
    کیا نواز لیگ اور ان کے حامی یہ بتانا پسند کریں گے کہ کشمیر کہ یہ بیٹے تب کہا تھے جب بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا لیکن دوسری طرف نواز خاندان مودی کی والدہ کو ساڑھیوں اور آم کے تحفے بھیجنے میں مصروف تھے ۔
    4 جولائی 1999 جب نواز شریف نے پاکستان آرمی کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم دیا ،جس کے نتیجے میں پاکستان ایک جیتی ہوئی جنگ ہارگیا، تب آپکی وطن سے محبت کہا جا سوئی تھی ۔کشمیر کے اس نام نہاد بیٹے کی غیرت تب کیوں نا جاگی جب اکتوبر 1999 میں اندر کمار گجرال کو کشمیریوں کی سرگرمیںوں کی خفیہ رپورٹ دی ۔
    کوئی نون لیگی کارکن یہ کیوں نہیں سوچتا کہ 2008 میں ممبئ حملوں کے فوراً بعد نواز شریف کا بیان
    "”میں نے خود پتہ کروایا ہے اجمل قصاب یہیں کا ہے” کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔

    2011 میں اسی جعلی محب وطن نواز شریف نے کہا پاکستان اور بھارت کا کلچر ایک ہے سرحدی لکیر ہے وگرنہ جس رب کی پرستش بھارت کرتا ہے اسی کی ہم پوجا کرتے ہیں اور یوں عمران خان کو ضمیر بیچنے کا طعنہ دینے والوں نے اپنا ایمان ہی بیچ ڈالا ۔
    اگست 2011 کا بھارت نواز بیانیہ،”” واجپائی ٹھیک کہتے ہیں ہم نے انڈیا کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تمام لیگی سپورٹرز کے منہ پر تمانچہ ہے ۔
    آج ووٹ کی خاطر خود کو اسی کشمیر کے ثپوت گردان رہے ہو جس کشمیر کے حریت رہنماؤں سے ملنے سے تمہارے آقا نواز نے انکار کر دیا اور مودی سے ملاقات کی۔
    کشمیر سے نواز لیگ کا رشتہ اتنا ہی ہے کہ ہمیشہ کشمیر کے قاتل مودی کو نواز شریف نے خاندانی دوست کا درجہ دیا
    جس مودی نے کشمیریوں کیلیے جینا دوبھر کردیا اسی مودی کو نواز شریف نے بغیر ویزے کے نواسی کی شادی پہ بلایا اور ریڈ کارپٹ بچھا کر استقبال کیا
    نواز شریف وہ کرپٹ سیاستدان ہے جس نے ہمیشہ ذاتی مفاد کی سیاست کی ، پاکستان کو نقصان پہنچایا اور ہمیشہ بھارتی آقاؤں کو خوش کیا ۔مودی اور واجپائیوں سے اپنے مفاد کیلیے یارانے رکھے اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچایا
    بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان ڈیم نا بنا سکے اور اس کوشش کا پورا ساتھ نواز شریف نے نبھایا
    زرداری کیساتھ ملکر کالا باغ ڈیم کو دفنایا ، دیامر بھاشا ڈیم پر کام رکوایا اور پھر 2018 میں نیلم جہلم ڈیم پر کھڑے ہوکر بھارت سے بجلی خریدنے کا اعلان کر کے پاکستان کیساتھ غداری اور انڈیا کیساتھ یاری نبھائی ۔

    2016 میں جب نواز شریف پر پانامہ کا گھیرا تنگ ہوا تو بھارتی تجزی نگار نے برملا اعتراف کیا کہ بھارت نے نواز شریف پر انویسٹ کیا ہوا ہے وہ اسے بچانے کے بھرپور اقدامات کریں گے ،کیا یہ بیان نواز کے غدار وطن ہونے کا ثبوت نہیں ؟
    ایک ایسا وقت جب پاکستان کے حوالے سے یہ فیصلہ ہونے جارہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گرد ممالک میں شامل کریں یا نہیں ایسے میں نواز شریف کا ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت نواز بیانیہ کہ
    ” پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں ” کیا یہ ملک سے غداری میں نہیں آتا؟ میاں سانپ کی یہ کیسی حب وطنی الوطنی ہے کہ وہ اپنے بیان سے ملک دشمن عناصر کو خوش کرنے کے چکر میں اپنے ہی وطن کو دہشت گرد ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں ۔
    نواز لیگ کی غداری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق سیاہ ہیں ۔یہ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا کردوغلو ہے۔
    ذرا نہیں پورا سوچیے ،کسی جماعت ،کسی شریف،کسی زرداری کا نہیں حق اور سچ کا ساتھ دیجیے ۔اپنے ملک پاکستان کا ساتھ دیجیے ۔

  • ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    دنیا کی اس مختصر سی اور دھوکے والی زندگی کے بعد نا ختم ہونے والی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہے اور ہم سب نے جان بوجھ کر اپنے بچوں کی آخرت بھلا کر دنیا میں انکو مصنوعی کامیابی کے پیچھے لگا رکھا ہے جبکہ اصل کامیابی تو موت کے بعد کی ہے جس کے لیئے ہماری کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں … آپ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھیں یا ہاورڈ سے آپ سے سوال تعلیمی ڈگریوں کا نہیں بلکہ اچھے اور برے اعمال کے حوالے سے ہوگا .. آپ دنیا کی تعلیم ضرور حاصل کریں بلکہ خوب حاصل کریں کوئی ممانعت نہیں مگر یہ سب الله تعالیٰ اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کر ہو تو کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے … تب دنیا میں بھی مزے کریں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائیں … مگر یہاں کچھ لوگ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا حوالہ دیکر دین دار طبقوں کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ وہ خود اپنا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں اور سخت خسارے میں رہتے ہیں …

    مجھے الله تعالیٰ نے صرف نو سال کی کم عمری میں عالمی شہرت کے میڈلز پہنائے ، پڑھائی لکھائی اور ذہانت میں کمال درجہ عطا کیا مگر یہ زندگی چونکہ جلد ختم ہوجائے گی اور اگلی منزل پر مجھے روک کا پوچھا جائے گا کہ ہم نے آپکو زندگی دی تھی وہ کن چیزوں میں اور کس جگہ صرف کی تو سوچیئے کہ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا یہ وہ وقت ہوگا جب انسان حسرت کریگا کہ ایک بار الله دنیا میں دوبارہ بھیج دیں تو وہ اپنی پوری کی پوری زندگی سجدے میں گزار دیں لیکن افسوس کہ یہ موقع انسان کو دوبارہ نہیں ملے گا. میرے بھائیوں اس بڑی ناکامی کے خوف نے مجھ سے میری دنیا کی مختصر سی زندگی کی شہرت بھلا رکھی ہے اور میں اس کوشش میں ہوں کہ کیسے اپنی قوم کے بچوں کو صراط مستقیم پر لاکر بچاؤں … کسے ان بچوں کی خوب صورت تربیت کروں کہ جس سے نا صرف وہ پاکستان اور امت مسلمہ کے لیئے کارآمد ثابت ہوسکیں بلکہ الله اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم بھی خوش ہو جائیں.اس دنیا کی شہرت دولت اور پروٹوکول سب ختم ہونے والا ہے یہ وہ جالا ہے جس میں شیطان انسان کو پھنسا کر ناکام بنانا چاہتا ہے . میری تقریریں اب بھی چل رہی ہیں میری دنیاوی انگریزی تعلیم اب بھی جاری و ساری ہے بس پہلے اور اب میں صرف اتنا فرق آیا ہے کہ اب میں کچھ بھی کام کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ میرے نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ کیا تھا . میرے الله نے مجھے زندگی گزارنے کے لیئے جو قرآن بھیجا ہے وہ میری زندگی کے حوالے سے کیا کہتا ہے. بس اتنی سی بات سے ہم دین کو سخت جان کر اس سے اس لیئے بھاگ رہے ہیں کہ لوگ کہیں گے کہ بندا مولوی بن گیا ہے . جو تضحیک ہم لوگ آج کل علما کی کر رہے ہیں وہ بھی ہماری ناسمجھی ہی ہے کیونکہ جس معاشرے میں لوگوں کے دلوں میں دین کی اہمیت اور قدر نہیں ہوگی تو وہاں کے علما کے ساتھ پھر یہی رویہ برتا جاتا ہے … میرے بھائیوں یہ دین صرف مولویوں کے لیئے نہیں آیا دین ایک طرز زندگی ہے ایک ترتیب ہے جو ہم سب کے لیئے چودہ سو سال پہلے پیش کیا گیا … آپ کے انگریزی سکول تو ابھی بنے ہیں جبکہ دین کا معاملہ تو صدیوں پرانا ہے …