Baaghi TV

Category: سیاست

  • میرے کراچی کے مسائل .تحریر:ام سلمہ

    میرے کراچی کے مسائل .تحریر:ام سلمہ

    پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی کا کاغذوں پر 2 کروڑ عوام طویل عرصے سے مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں۔ جرائم ، پانی کی قلت ، اور بجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر اس طرح کے جان لیوا پریشانیوں کے مضر اثرات میں پھنس گیا ہے۔ان مسائل نے نہ صرف پاکستان کے معاشی مرکز کو گھیرے میں لے لیا ہے بلکہ انھوں نے کراچی کے بے بس لوگوں کو بھی درہم برہم کردیا ہے۔

    میں چاہتی ہوں صوبائی اور وفاقی گورمنٹ کراچی کے پانچ بڑے مسائل کی طرف توجہ دے جن کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت ہے۔

    سب سے پہلے ، شہر میں پانی کے شدید بحران کے سلسلے میں کافی نقصان ہوا ہے۔ تاہم ، اگر اس کا انتظام نہ کیا گیا تو یہ کراچی کے بدترین متاثرہ علاقوں میں تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسرا ، سب سے زیادہ آبادی والے شہر پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بگڑتی ہوئی آگ نے آگ کو مزید اکسایا ہے۔ میٹرو اور گرین بس پروجیکٹس ابھی باقی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ، ٹریفک جام مزید خراب ہوگیا ہے۔ اگر لوگوں کا ٹرانسپورٹ کا ایک اچھا اور عمدہ نظام ہوتا تو لوگوں کو اس مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

    تیسرا ، غیر قانونی بستیوں اور اراضی پر قبضہ کرچی سے ختم کرنا ضروری ہے۔ سیاسی حمایت کے ساتھ لینڈ مافیا ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ روشنی والے شہر کی سرزمین سے ایسے مافیا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    چوتھا، کراچی ، وفاق کی 60 فیصد محصولات پیدا کرنے کے باوجود مشکل سے 10 فیصد وفاقی وسائل حاصل کرتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مشترکہ کاوشیں جرائم ، بجلی کی قلت اور بیروزگاری کے خاتمے کو ختم کرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ، پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے بڑے شہر کو وفاقی وسائل کی ضرورت ہے جو 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

    پانچواں آلودگی ، شہری شہری منصوبہ بندی اور کچرے کو کچلنے اور ضائع کرنے کے مناسب نظام کی عدم موجودگی نے کراچی کو دنیا کا سب سے مایہ ناز شہر بنا دیا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو مضبوط کرنا ہوگا۔ حکومت کو آلودگی سے متعلق عوامی آگاہی مہم بھی چلانی ہوگی۔

    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ، معاملات بہت سنگین ہیں۔ لوگوں کو اس طرح کے مہلک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، مناسب ارادے اور عزم کے ساتھ ، صوبائی گورمنٹ وفاق حکومتِ کے ساتھ مل کر ان مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ کراچی کا شہر روشن ، ایک بار پھر بین الاقوامی تجارت اور مالیات کا مرکز بن سکتا ہے۔

  • واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    حالیہ دنوں میں کشمیر میں انتخابی مہم کا بازار گرم ہے ۔ ہر جماعت انتخابی مہم میں مصروف ہے ۔ اسی انتخابی مہم میں مریم نواز نے کچھ لطیفے چھوڑے ہے جس میں دو درج ذیل ہے۔
    1) نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے۔۔۔۔
    2) نواز شریف کشمیر کے لیے جنگیں لڑے گا۔۔۔۔

    اب ان لطیفوں کے بعد کچھ لکھنے کو دل کر رہا ہے لہذا میں آپ کو نواز شریف کے ماضی میں لے جاتا ہو اوع ثابت کرتا ہو نواز شریف کشمیریوں سے کتنا مخلص ہے۔
    کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو بھارت نے امریکہ کے ذریعے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالا جسے نواز شریف نے فراخ دلی سے قبول کیا اور امریکہ جا کر اعلان واشنگٹن کر آئے حالانکہ خود بھارتی جرنیل اور تجزیہ نگار اس بات کا اعتراف کرتے ہے کہ کارگل کی جنگ میں پاکستان نے کئی کلومیٹر تک بھارتی علاقہ کلئیر کرا لیا تھا اور اگر جنگ نا روکتی تو کشمیر کی صورتحال بھی مختلف ہوتی۔ جنگ بندی کے بعد جب بھارتی وزیراعظم پاکستان آیا تو نواز شریف نے ایک تقریب میں ہندو اور مسلمانوں کے رب (نعوذ باللہ) ایک قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوج نے کارگل میں بھارت کے ساتھ غلط کیا۔

    صرف اتنا نہیں یہ وہی نواز شریف ہے جنہوں نے بھارت میں حریت رہنماؤں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا اور کجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مودی کو بغیر ویزہ پاکستان اپنی نواسی کی شادی میں بلا لیا اور وہاں چھپیاں اور پپیاؤں کے ساتھ تحائف کے تبادلے بھی ہوئے لیکن کشمیر کے معاملے میں نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ نا نکلا ۔ پاکستان کی ایجنسیوں نے گلبھوشن کو پکڑا تو نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ تک نا نکلا۔

    جندال کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا تو مری میں آزاد کشمیر کے جھنڈے غائب کر دیے۔

    صرف اتنا نہیں جب مشکل وقت آیا تو یہی نوز شریف نے بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستانی ایجنسیوں کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی کوشش کی۔

    یہ ہے کچھ کرامتیں اور جنگیں جو نواز شریف نے ماضی میں کشمیر اور پاکستان کے لیے لڑی۔
    (چودھری حمزہ)

  • آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت دی ہے۔ اور جب انسان غور و فکر کرتا ہے تو مختلف قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں اور اُن خیالات کا اظہار بھی ایک فطری امر ہے۔ اس لیے اظہارِ رائے کی آزادی شاید انسان کا بنیادی حق ہے۔

    یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنے خیالات کا اظہار صرف زبان کے ذریعے کرے، بلکہ انسان کا لباس، اُسکا رہن سہن کا طریقہ، اُسکا عمومی رویہ، معاشرتی برتاؤ اور احساس زمہ داری سب اظہار کرنے کے طریقے ہیں۔

    ہر انسان فطری طور پر آزاد نظریات کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص آپ پر اپنے خیالات اور نظریات تھوپ نہیں سکتا، اسی طرح ہم بھی کسی پر اپنے نظریات نہیں تھوپ سکتے۔ آزادی ایک فطری عمل ہے اور انسان کا بنیادی حق بھی۔

    لیکن آزادی کیسی بھی ہو اِسکی کچھ حدود ضرور ہوتی ہیں، مذہبی حدود، قومی حدود، معاشرتی حدود اور اخلاقی حدود وغیرہ۔ یہ سب حدود کسی بھی مہذب معاشرے میں امن و امان، انصاف اور خوشگوار ماحول کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔

    معاشرے کا ہر فرد چاہتا ہے کہ کوئی اُسکی زندگی یا آزادی میں عمل دخل نہ دے، لیکن جب کوئی اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے تو دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی کو عمل دخل دینا پڑتا ہے، اس طرح معاشرے میں نہ صرف اختلافات جنم لیتے ہیں بلکہ اُن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بھی آتی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ جس اخلاقی زوال کا شکار ہے اسکی وجہ سے ہم نے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ اسے منافقت کہیں یا دوغلا پن لیکن ہم لوگ اپنے لیے تو ہر طرح کی آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی آزادی ہمیں قبول نہیں، ہم دوسروں پر تو تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن خود پر تنقید قبول نہیں، ہمیں اپنا جھوٹ تو قبول ہے لیکن کوئی اِسکی تصحیح کرے، یہ قبول نہیں۔

    لباس انسان کی سوچ اور نظریات کی عقاسی کرتا ہے، اور ہر انسان اپنی پسند کے مطابق لباس کا انتخاب کرتا ہے۔ کوئی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے پر مجبور نہیں کر سکتا نہ ہی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے سے روک سکتا ہے۔ البتہ مذہب اور معاشرہ لباس کے انتخاب کے لیے کچھ حدود ضرور متعین کرتا ہے جو کہ انسانوں کی ہی فلاح کے لیے ہیں۔

    کُچھ عرصے سے لبرلز کے ایک گروپ کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ کو اُن کے پردے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن جب عمران خان نے ایک انٹرویو میں فحش اور نا مناسب لباس اور اسکے معاشرے پر ہونے والے اثرات کی بات کی تو ان لوگوں نے سب سے زیادہ شور بھی مچایا۔

    یہ منافقت ہی تو ہے کہ آپ خود تو مذہب یا معاشرے کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی سوچ کے مطابق لباس کا انتخاب کرنے کو اپنا حق سمجھیں اور پہنیں، لیکن کوئی دوسرا اگر مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی لباس منتخب کرے تو آپ اُسکا مذاق اڑائیں اور تنقید کریں۔

    آزادی اظہار رائے یہ تو نہیں کہتی کہ آپ خود تو دوسروں کے پہناوے پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھیں لیکن اگر کوئی دوسرا آپ کے پہناوے پر بات کرے تو کہہ دیں کہ کسی کو آپ کے لباس کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

    کچھ روز قبل ایک خاتون وکیل اور فیمینسٹ نے ایک خاتون جرنلسٹ پر دوغلے پن کا الزام لگایا، اس الزام کی وجہ یہ تھی کہ خاتون صحافی نے ہم ٹی وی کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی تھی جس کی میزبانی ایک مشہور زمانہ سنگر کر رہے تھے۔

    اُس سنگر پر کُچھ عرصہ قبل ایک خاتون اداکارہ کی طرف سے ہراسمنٹ کا الزام لگایا گیا تھا، جو کہ بعد میں ثابت نہ کیا جا سکا۔

    لیکن حال ہی میں وہی فیمینسٹ بطور وکیل، ایک خاتون صحافی کے ایک یو ٹیوبر پر کیے گئے ہراسمنٹ کیس میں اُس یو ٹیوبر کی طرف سے کیس لڑ رہی ہیں۔ خاتون وکیل کے موکل نے ایک خاتون صحافی کو ہراس کرنے کے ساتھ گھٹیا قسم کے الزام بھی لگائے تھے۔

    یہ اخلاقی منافقت کی ایک اور مثال ہے۔ ایک طرف آپ کسی پر اس بات کی وجہ سے تنقید کریں کہ اس نے ایک ایسے شو میں شرکت کی جہاں ایک ملزم میزبانی کر رہا تھا، دوسری طرف آپ اُس شخص کی وکالت کریں جس پر خاتون کی ہراسمنٹ کرنے کا کیس چل رہا ہے، اور تیسری طرف آپ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈھونگ کریں۔
    (یاد رہے پہلے بھی اسلام آباد کی ایک عدالت نے جھوٹے الزامات لگانے کے ایک کیس میں اُس یو ٹیوبر کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔)

    لبرلز کا ایک گروپ، جو بات تو خواتین کے حقوق کی کرتا ہے لیکن حمایت صرف اُن کی کرتا ہے جن کے خیالات انکے نظریات کے مطابق ہوں، جن کے خیالات انکے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے اُن پر صرف تنقید کی جاتی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بات کرنے کی آزادی صرف انکو ہے، کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اِنکے خیالات سے اختلاف کرے۔ ان کے کسی ساتھی سے اگر کوئی بدتمیزی یا اختلاف کرے تو یہ لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، لیکن اگر انکا ساتھی کسی کے ساتھ بدتمیزی بھی کرے تو وہ قصور وار نہیں سمجھا جاتا۔

    اس سب کے علاوہ آجکل ہماری صحافت کے حالات بھی کچھ نازک ہی ہیں۔ ایک طرف سکرین پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت اور فوج پر بلکہ ریاست پر بھی تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف آزادی اظہارِ رائے پر پابندیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

    صحافی حضرات ذرائع کے نام پر بغیر تصدیق کے خبریں شیئر کرتے ہیں، اور اگر کوئی ادارہ ذرائع کا پوچھ لے تو دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی خبر کی تردید کر دی جائے تو انکی صحافت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، اور یہ تصیح کرنے والوں پر ہراسمنٹ کا الزام لگا دیتے ہیں۔

    اگر کسی صحافی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو الزام فوج یا اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایکٹوسٹ شمالی علاقوں میں سیر کرنے گیا، کچھ صحافیوں نے رابطہ نہ ہونے پر الزام لگا دیا کہ اُسے ایجنسیوں نے اٹھا لیا ہے، لیکن اُس ایکٹوسٹ کی واپسی کے بعد حقیقت سامنے آنے پر کسی نے معذرت تک نہ کی۔
    حال ہی میں ایک یوٹیوبر کی کچھ لوگوں نے پٹائی کی لیکن موصوف نے بیان دیا کہ اسے آئی ایس آئی نے مارا ہے اور مزید کہا کہ مارنے والوں نے مار پیٹ کرنے سے پہلے اپنا تعلق خفیہ ایجنسی سے بتایا تھا۔
    اس واقعہ پر فوج پر خوب تنقید کی گئی، لیکن اس شخص کے قریبی دوست نے اپنی سٹوری میں کہا کہ یہ حملہ ایک دوسرے صحافی نے کروایا ہے۔
    اس طرح ہمارے ایک اور پیارے صحافی جن پر کچھ سال قبل حملہ ہوا تھا، ہمیشہ اُس حملے کا الزام فوج پر لگاتے آئے ہیں، حال ہی میں یہ عقدہ کھلا کہ اُن صحافی صاحب کو بہت پہلے ہی اصل مجرم کا بتا دیا گیا تھا جس کو وہ نہ صرف ہمیشہ چھپاتے رہے بلکہ الزام خفیہ اداروں پر لگاتے رہے۔ لیکن پھر بھی ہمارا شکوہ یہی ہے کہ ہمیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی۔

    حال ہی میں میڈیا پر ایک شور بھرپا ہوا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دے رہا ہے۔ جس کی حکومت کی طرف سے تردید کی گئی۔ ایک انٹرویو میں جب عمران خان سے یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اس تردید کے بعد جن لوگوں نے فوجی اڈے دینے کی بات پر واویلہ کیا تھا، وہ اب اس بات پر واویلہ کر رہے ہیں کہ جب امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں تو حکومت انکار کس کو اور کیوں کر رہی ہے۔

    یہ بھی ایک منافقت ہے کہ ہم صحافی حکومت یا اداروں پر تنقید کرنا اور گالیاں دینا تو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اگر کوئی ہم پر تنقید کرے تو اس پر ٹرول کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جہاں اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کیا وہاں یہ بھی کہا کہ یہ کسی حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور اس سے مخصوص برادریوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔

    آزادی اظہار رائے کسی حدود کے بغیر نہیں ہوسکتی، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہمیں بولنے کا حق ہے تو دوسروں کو بھی بولنے کا حق ہے، اور ہم اظہارِ رائے کی ایسی آزادی کے متحمل نہیں ہو سکتے جس سے ہمارے وطن کی سالمیت اور معاشرتی اقدار متاثر ہوتی ہو۔

  • ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ٹرسٹ کا مطلب وہ املاک جونیک مقاصد کے لیے وقف کردی جائے ۔عام حالات میں ہم جب بھی کسی ادارہ کے ساتھ لفظ ٹرسٹ لکھا دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ تصور ہوتا ہے کہ ایک رفاہی ،فلاحی ادارہ ہوگا یہی لفظ اگر بالخصوص کسی ہسپتال کے ساتھ لکھا ہواہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہاںپر ایک معمولی سی فیس کے اندر مستحق افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جوکہ عام انسان کو کسی سرکاری ہسپتال میں میسر نہیں آتیں ۔ہمارے ایک دوست بڑی خوب بات کہا کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال میں بندہ صرف جان سے جاتا ہے جبکہ پرائیوٹ ہسپتال میں جان کے ساتھ ساتھ مال سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے اندر اتنے مسلمان نہیں ہونگے جتنی مذہبی تنظیمیں ہیں اور وہ بھی اس قدر طاقتور کہ چلتے ملک (سسٹم )کو جام کرسکتیں ہیں زندہ کئی مثالیں موجود ہیں مگرافسوس کہ 73سالوں میں ”اسلامی نظام“نافذ نہیں ہوسکا کیونکہ ان کا ایجنڈا ”اسلام“نہیں اسلام آباد اور ”پیٹ“ہے ۔آج کہیںخدمت تو کہیں مذہب تو کہیں جمہوریت کے نام پر معصوم بھولی بھالی عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے”سبھی رانگ نمبر“ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ انکو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ لوگ اس قدر طاقتور ہیں کہ جب کوئی انکی اصلیت کو عیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردی جاتی ہے ۔ میری جماعت اسلامی کے بارے سوچ ذرہ مختلف تھی کیونکہ میں سید ابوالامودودی ؒکے افکارات،نظریات اور خدمات کو پڑھ چکا ہوں ۔ثریا عظیم (ٹرسٹ)ہسپتال جوکہ جماعت اسلامی کا ہے اور جہاں پر بلا امتیازرنگ ،نسل ومذہب انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کیا جاتا ہے آئیے ذرہ اس دعویٰ کی حقیقت کو جاننے کی ادنیٰ سی کوشش کرتے ہیں عام چیک اپ پرچی فیس مبلغ سوروپے ہے بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جوکہ یہ فیس ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ،سپشلسٹ ڈاکٹر کی فیس مبلغ پندرہ سو روپے سے لیکر تین ہزار اور بعض کی تو یقینا اس سے بھی زیادہ ہوگی ۔الٹراساﺅنڈ اور دیگر ٹیسٹ دوسری لیبارٹریوںسے بھی مہنگے ہیں کیونکہ یہ ”ٹرسٹ “ہے ڈرپ لگوانے کے دوسو روپے اور انجکشن لگوانے کے پچاس روپے ۔

    راقم الحروف عرصہ چار سال تک ایک میڈیکل سنٹر پر ملازمت کرتا رہا ہے ۔اچھی طرح علم ہے کہ ایک غیر معیاری میڈیسن کمپنی اپنے میڈیکل ریپ کے ذریعے کس طرح اپنی ادویات کی فروخت کے لیے ڈاکٹر زحضرات کو اچھی خاصی رقوم سے لیکر گاڑیوں سمیت اندورن بیرون ممالک کے دورے بھی شامل ہیں ۔ایک اچھی کمپنی کا انجکشن جو کہ تین سو روپے میں دستیاب ہے وہی انجکشن اسی سالٹ میں غیرمعیاری اور ٹھیکے کی کمپنی کا مبلغ پندرہ سوروپے میں فروخت ہوتا ہے ۔میڈیکل سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دنیا بھر میں ہر دوائی کا الگ فارمولا(سالٹ)ہوتا وہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہر کمپنی مختلف نام سے اس سالٹ کی دوائی تیار کرتے ہیں جس طرح اسپرین سالٹ کو مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے تیار کرتی ہیں سب سے مشہور” ڈسپرین “ہے ۔اکثر یہ تجربہ کرنے کو ملتا ہے کہ جوڈاکٹر کسی پرائیوٹ ہسپتال یا کلینک میں کسی مریض کومیڈیسن تجویز کرتا ہے (اب تو سرکاری ہسپتالوں کا یہی حال ہے ) وہ ادویات یا تو اسی ہسپتال کی فارمیسی سے ملتی ہیں یا پھر اس سے ملحقہ ایک مخصوص فارمیسی سے ملتی ہیں ڈاکٹر باقاعدہ حکم دیتا ہے کہ جو میڈیسن لکھی ہیں وہی لی جائیں اور فلاں میڈیکل سٹور پر دستیاب ہونگیں۔ثریا عظیم ہسپتال میں ایک عام بچوں کے ڈاکٹر وسیم جوکہ تقریباً ہر بچے کو معمولی سی تکلیف پر تیرہ ،چودہ سو روپے کی ڈرپ لگوانے کی فوری ہدایت کرتا ہے اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کرتا ہے کہ میڈیسن ہسپتال کی فارمیسی سے خریدی جائیں ،یقین کریں وہی ادویات اچھی کمپنی کی معیاری فارمیسی سے چھ سے سات سوروپے کی ہوتی ہیں جوکہ ہسپتال کی فارمیسی سے غیر معیاری ادویات تیرہ سے چودہ سو روپے کی ہوتی ہیں ۔کئی بار یہ تجربہ ہوچکا ہے اگر ڈاکٹر صاحب کو اس کی پرچی کے مطابق ادویات باہر کی فارمیسی سے اچھی کمپنی کی لاکر دیں ہیں تو انہوں نے رعونت بھرے لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر میں ہوں یا کہ تم ؟۔ہر ڈرپ کے ساتھ ڈرپ ٹیپ منگوائی جاتی ہے ایک ٹیپ تقریباً دو سے تین لوگوں کے لیے استعمال ہوسکتی ہے مگر وہ بقیہ ٹیپ واپس نہیں کی جاتی اور وہی بقیہ ٹیپ مہارت سے اگے مریض کو لگائی جاتی ہے اور نئی ٹیپ رکھ لی جاتی ہے جوکہ یقینا رات کو اکھٹی کرکے واپس کردی جاتی ہونگیں۔مجھ جیسے بے بس لوگ ہسپتال کی فارمیسی سے ادویات خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہسپتال کے اندر غریب اور مستحق افراد کے تقریباً فری علاج کے لیے مخیر حضرات کی طرف سے دی گئی زکوة،صدقات،عطیات اور دیگرز فنڈ ز سے ایک باقاعدہ شعبہ موجود ہے ۔

    امیر جمات اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد سے اچھا تعلق ہے اور وہ واقعی ایک نفیس ،بااخلاق،باکرداراور درد دل رکھنے والے انسان ہیں ۔وہ اکثر ثریا عظیم ٹرسٹ ہسپتال میں غرباءکے فری علاج اور جماعت کی دیگر خدمات کے متعلق آگاہ کرتے رہتے ہیں پراثر اور پر تاثیر گفتگو کے ساتھ ساتھ سحر انگیز لہجہ بھی رکھتے ہیں۔اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے اخبارات،ٹی وی چینلز کی رونق بنے رہتے ہیں۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ جس شخص کا ہمسایہ بھوک سے مرجائے ،سخی اسکو کہلوانے کا کوئی حق نہیں ۔آپ نے سندھ میں میڈیکل کیمپس لگاکر ہزاروں لوگوں کو فری ادویات دیں،آپ نے شیخوپورہ میں دوسو افراد کی آنکھوں کے آپریشن کیے ،مگر آپ کے ہمسائے کے پاس اپنے بچے کا چیک اپ کروانے کے لیے ڈاکٹر کی فیس نہیں ہے بتائیے ایسی سخاوت کا کیا حاصل ؟۔مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے ۔من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا ۔راقم الحروف لٹن روڈ جماعت کے دفتر کا پڑوسی ہے ۔بیٹی کی طبیعت ناساز تھی اورہسپتال میں مستحق افراد کے شعبہ کے انچارج سے رابطہ کیا اور عرض کی کہ ہسپتال میں بچوں کے ایک انتہائی قابل سپشلسٹ فرشتہ صفت ڈاکٹر اقبال احمد اظہر سے چیک اپ کروانا ہے پرچی فیس مبلغ پندرہ سوروپے معاف کردی جائے۔کیونکہ موجودہ حکومت نے برابری کی وہ زندہ مثال قائم کی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی کل تک لوگوں کو زکوة،صدقہ،خیرات دینے والے آج لینے والوں میں ہوئے بیٹھے ہیں ۔ادھر ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ”کرونا“اور مسلسل لاک ڈاﺅن نے مجھ جیسے لاکھوں افراد کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا ہواہے ،خدا نے حرام موت مرنا حرام کیا ہے اور حاکم وقت نے جینا۔

    معلوم ہوا کہ پرچی فیس معاف نہیں ہوسکتی یہ امیر لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد کا فرمان ہے ۔ خود امیر محترم کو کال کی جسارت کی تو حسب روایت انہوں نے نمبر مصروف کردیا پہلے تو کبھی کال سن لیا کرتے تھے مگر مسلسل”امارت“اور خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے والی بات ۔ہم بھی بہت سے بڑے لوگوں کے ساتھ بہت سا وقت گزار چکے ہیں اور اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی سے بات نہ کرنی ہو تو کس طرح فون کاٹ کر مصروفیت کا میسج بھیجا جاتا ہے ۔عرصہ بائیس سال سے”قلم“سے جڑے ہوئے ہیں دو سیرت النبی پر اور کشمیر پر کتاب بھی لکھ چکا ہوں مگر میری ان خدمات سے انکو کیا فائدہ ؟یہ دور سلجوق تھوڑا ہے کہ جس میں خواجہ حسن طوسی (ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق)کوشاہ سلجوق اسکی علمی خدمات کے اعتراف میں ”نظام الملک“کا خطاب دینے کے ساتھ سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعلیٰ اور معتمد خاص مقرر کرے ۔ایک وقت تھا کہ جب اہل قلم افراد کی تخلیقات اور تصانیف پر انکی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی مگر پیشہ ور قصیدہ گو افراد نے اہل قلم افراد سے یہ حق چھین لیا ہوا ہے۔آخر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا سراج الحق اور امیر جمات لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہدسے ہاتھ جوڑ اپیل ہے کہ کہ وہ ثریا عظیم ہسپتال کے ساتھ سے لفظ (ٹرسٹ)ختم کردیں اس طرح غریبوں کا استحصال نہ کریں ۔درحقیقت یہ ایک پرائیوٹ ہسپتال ہے جہاں پر پیسے سے زندگی تو نہیں ملتی مگرعزت ضرور ملتی ہے۔۔۔

  • ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    یوں تو اللہ رب العزت نے پاکستان کو پانی جیسی بیش قیمت نعمت سے مالا مال کر رکھا ہے، یہاں نہ صرف زیر زمین پانی کے ذخائر موجود ہیں بلکہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کے سبب دریائوں میں بھی پانی وافر مقدار میں موجود رہتا ہے مگر سالہا سال گزر جانے کے باوجود منتخب حکومتوں اور متعلقہ اداروں نے کبھی سنجیدگی سے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز بنانے کی طرف توجہ نہیں دی جا سکی اور یوں ہر سال لاکھوں کیوسک پانی سیلابوں کی شکل میں دریائوں کے راستے سمندر کی نظر ہو جاتا ہے۔زراعت پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور غریب آبادی کے بڑے حصے کو روزگار اور خوراک کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے مگر ہمارے ہاں نہری نظام موثر نہ ہونے اور حکومت کی طرف سے وقت گزرنے کے ساتھ نہری نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار نہ کرنے کی وجہ سے پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو کر ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کے بنجر ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ کچے اور بوسیدہ نہری نظام کی وجہ سے ضائع ہونے والے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے طاقتور وڈیرے اور زمیندار اپنی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے نہروں میں بند بناندھ کر پانی کی فراہمی روک دیتے ہیں یوں طاقتور زمیندار تو اپنی فصلوں کو سیراب کرلیتا ہے مگر غریب اور کمزور کسان کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہرسال خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لئےیکساں بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ تاکہ ہمارا غریب کسان خوشحال ہو اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال۔

    سندھ کی بات کی جائے تو یہاں چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کو پیش آنے والا سب بڑا مسئلہ پانی چوری کا ہے، بڑے زمیندار نہروں میں بند باندھ کر پانی چوری کر لیتے ہیں مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ بھر کی نہروں کو پختہ کر دیا جاۓ اور سندھ میں سائنسی بنیادوں پر ایسا واٹر سسٹم لایا جاۓ جس سے پانی چوری کرنا نا ممکن ہو تو چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    پنجاب زراعت کے شعبے میں خاصی ترقی کر چکا ہے اور اس ترقی اور خوشحالی کی ایک وجہ پنجاب میں زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر اور پانی کی تقسیم کے نظام کا باقی صوبوں سے بہتر نظام کا رائج ہونا ہے تاہم جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اب بھی بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے۔

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر ترقی کی دوڑ میں باقی صوبوں سے خاصا پیچھے ہے جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ بلوچستان میں زیرزمین پانی کے ذخائر کی کمی ہے لحاظ سے کافی پیچھے ہے اگر ملک میں ڈیمز بنانے کی طرف دی جاتی اور لاکھوں کیوسک پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر ذخیرہ کرلیا جاتا تو بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنا کر ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا تھا۔

    اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں کسی بھی دور حکومت میں ڈیمز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام صوبوں میں نئے ڈیمز بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے نہ صرف ہمیں پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے بلکہ ضائع ہونے والے پانی کو ذخیرہ کرکے ہم اپنی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرکے جہاں ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ چھوٹے زمینداروں اور غریب طبقے کی زندگیوں میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔

  • ضلع  تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    ضلع تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    1985 میں اٹک اور جہلم کے کحچھ حصوں کو ملاکر بننے والا ضلع چکوال ( تقریبا” 6524 کلومیٹر ) رقبے پر محیط ہے۔ اسکی پانچ تحصیلیں ہیں جن میں چکوال، کلرکہار، چواسیدن شاہ، تلہ گنک اور لاوہ شامل ہیں جبکہ اسکی کل آبادی لگ بھگ 15 لاکھ افراد کے قریب ہے۔ چکوال کو اپ گریڈ کرتے وقت ، تحصیل تلہ گنگ کو ضلع اٹک سے منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت اسے ضلع چکوال کا دوسرا سب ڈویژن بنایا گیا تھا۔ پانچ تحصیلوں میں تلہ گنگ سب سے بڑی اور گنجان آبادی پر محیط تحصیل ہے۔ اس میں تقریبا” 17 یونین کونسلز، 80 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات / گاوں، 320 کے قریب مختلف تعلیمی ادارے (سکولز ، کالجز) اور 3 پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔
    اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل تلہ گنگ لگ بھگ 85 سال تک (1901-1985) تک انتظامی طور پر ضلع اٹک کے زیر اثر رہا ہے اور 1985 میں جب چکوال کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو اسکے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اسی سال یعنی 1985 میں پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے، تو ان کے ذریعہ ذات، برادری، دولت و حیثیت اور روایتی سیاسیی خاندانوں کو استحکام بخشا گیا۔ اس استحکام کی بدولت خاندانی سیاستدان ہر مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ 1985 سےلیکر تاحال یہاں کی سیاست نظریات کی بجائے مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی آرہی ہے۔ یہ چند مخصوص لوگ مخصوص سیاسیی جماعتوں کے ٹکٹس پر الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی انکو ٹکٹ نہ دے تو یہ فورا” ہی کسی بھی دوسریسیاسیی جماعت کے ساتھ الحاق کرلیتے ہیں۔ بلفرض متبادل پارٹی بھی ٹکٹ سے محروم رکھے تو یہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    اسی موورثی سیاسیی پالیسی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسیی اجارداری اور وڈیرہ شاہی قائم کررکھی ہے۔ اپنے لیے حمایتی، مالی سپورٹرز اور موورثی طور پر سیاسیی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو پال رکھا ہے، جو الیکشنز میں انکے دست راست بنکر انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ 1985 سے لیکر تاحال تلہ گنگ کی علاقائی سیاست میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ لگ بھگ 36 سال سے یہاں کے وڈیرے اور موورثی سیاستدانوں کی سیاست ایک ہی ڈگر پر چلی آرہی ہے ۔سال 1988 سے لیکر 2018 تک کے الیکشنز تک تمام سیاسیی جماعتوں نے "ضلع تلہ گنگ” کے نعرے کو انتخابی مہمات کے دوران "قومی نعرے” کے طور پر استعمال کرکے عوام کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالتے آرہے ہیں۔
    سال 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ڈاریکٹو آرڈر کا ایک عدد ردی کاغذ بنام ضلع تلہ گنگ ایشو کیا تھا اور ہمیشہ کیطرح میاں جی نے بھی یہ چورن بیچ کر عوام کی داد موصول کرلی تھی۔ ابھی چند روز پہلے موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے چئیر مین اور وزیراعظم عمران خان کیطرف سے بھی متعلقہ انتظامیہ کو تحصیل تلہ گنگ کی اپ گریڈیشن کےلیے ایک عدد سرکاری ڈاریکٹو آرڈرز جاری ہوچکا ہے، لیکن تاحال تلہ گنک کی سیاسیی بے یارو مددگار عوام کو اس حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جانب این اے 65 کی تمام سیاسیی جماعتیں ڈاریکٹو آڈرز کےلیے کریڈیٹ کریڈیٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تمام سیاسیی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام ترشی کرتی نظر آرہی ہیں، کوئی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں لگا ہے تو کوئی عوام کی داد موصول کرکے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس تحریک نے اور سیاسیی پوائنٹ کورنگ کی رفتار نے اس وقت مزید زور پکڑ لیا جب حکمران جماعت کی اتحادی ق لیگ کے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے "ضلع تلہ گنگ” کے حوالے نے بیان دیا کہ ” ضلع تلہ گنگ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے” ۔ اس مایوس کن بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر سوشل ورکرز اور سیاسیی جماعتوں کیطرف سے مسلم لیگ ق پر تنقید کے تیروں کی بارش شروع ہوگئی، تحریک انصاف، نون لیگ اور باقی سیاسیی جماعتوں نے حافظ عمار یاسر کے اس مایوس کن بیان کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی اور انکا کہنا تھا کہ اگر "ضلع تلہ گنگ” قابل عمل منصوبہ نہیں ہے تو اپنی الیکشن مہمات کے دوران یہ چورن کیوں بیچا گیا ہے ؟ عوام سے کیوں جھوٹ بولا گیا؟ عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول جھونکی گئی؟ عوام کو کیوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان سے ووٹ حاصل کیے گئے ؟ آخر کب تک تلہ گنگ کی عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی ؟ کب تک عوام اپنے مسائل کی پوٹلیاں اٹھا کر چکوال جاتی رہے گی ؟ کب تک عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کےلیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ؟ کب تک عوام کو بنیادی ضروریات کے ضروری کاغذات بنوانے کےلیے گھنٹوں روڈ پر ٹرانسپورٹ کےلیے زلیل و رسو ا ہونا پڑے گا؟

    اس وقت سوشل میڈیا پر "تلہ گنگ کو ضلع بناو” تحریک زور و شور سے جاری ہے۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان، سوشل ورکرز، سیاسیی و سماجی کارکن، صحافی برادری، اساتذہ کرام، ڈاکٹرز الغرض تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف ضلعی سطح پر اس تحریک کو چلایا جارہا ہے بلکہ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تحریک کو جوائن کرلیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوانوں کیطرف سے "ضلع تلہ گنگ” کےلیے اسپیشل دعائیں بھی کی گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک "ضلع تلہ گنگ ” کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایسے ہی چلے گی اور کسی قسم کی سیاسیی یا حکومتی ہیرا پھیری میں نہیں آیا جائے گا۔ تمام افراد کا ایک ہی نعرہ، "بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا” بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا”۔ تحریک کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس بار ہمیں سیاسیی پارٹی بازیوں سے بالا تر ہوکر "ضلع تلہ گنگ” کےلیے کوشش کرنی ہے ، تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، صرف مشترکہ مفاد کو اپنانا ہے، نون، ش، ق، پی ٹی آئی سب کو بھول کر عوامی مفاد کو سامنے رکھنا ہے۔
    ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر سے گزارش ہے کہ خداراہ اب تلہ گنگیوں کے حال پر رحم کریں اور نصف صدی سے چلی آرہی تحصیل کو "ضلع تلہ گنگ” بنایا جایا تاکہ عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوسکے۔

  • ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    اس دنیا میں رہنے والے انسان کس نے کسی جدوجہد میں مصروف ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول بہتر سے بہترین ہو اس کو ہر سہولت ملے جس کا وہ خواہش مند ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے انسانی جسم مشینوں کی طرح کام میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ تبدیلی ہے وہ مثبت تبدیلی جو کہ انسن کو اس معاشرے میں ہر وہ حقوق مہیا کرے جس کا وہ خواہشمند ہے۔
    مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے مرتبے کی شان بڑھانے میں اس قدر مگن ہے کہ وہ روایات بھلا چکے جو ہمیں اپنے اباؤ اجداد سےملیں۔
    بے شک اس دنیا میں محنت کرنے والا انسان کامیاب ہے محنت سے کسی چیز کے حصول کے لیے وقت درکار ہے مگر ہم تو اس قدر جلد باذ ہیں کہ ہمیں جو چیز پسند آ جائے ہم اس کا فوری طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں چاہے کسی کے حقوق کا گلا گھونٹنا پرے یا کرپشن کرنی پڑے۔
    کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب ہم خود دوسروں کے حقوق کھانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب اس ملک کی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر وہ کام سرانجام دے رہی ہے جس سے ہماری اخلاقی اقدار شرمندہ ہیں۔
    اس وطن کے حالات ویسے کے ویسے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں کیا ہم خود کرپٹ نہیں ہیں رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے تقدس کو بھلا بیٹھے ہیں جہاں دنیا بھر میں اس مہینے کے پیش نظر تمام اشیاء خردنوش سستی ہوتی ہیں اور یہاں حاجی صاحب دوگنا منافع کما رہے ہیں ۔
    اور پھر ہم بات کرتے ہیں باہر کے ممالک کی کہ وہاں
    میں سہولیات بہترین ہہں ہمارے وطن میں کیوں نہیں؟؟ تو یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے وہ غیر مسلم ہو کر بھی کرپشن ،چوری دھوکہ دہی کو جرم سمجھتے ہیں اور ہم مسلمان ہو کر بھی یہ سب کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔

    اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ریاست مدینہ ملے تو کہاں سے ملے گی وہ ریاست جب ہم اس ریاست کے ایک بھی اصول کو اپنانے کو تیار نہیں۔

    سوچئے اور غور سے سوچئے سیاستدانوں کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں کہ وہ پل بھر میں سب تبدیل کر دیں گے اصل تبدیلی تو انفرادی طور پر ہر شخص نے لانی ہے اپنے رویے سے اپنے مظاہرے سے۔

    تبدیلی کوئی پھل نہیں جس کو درخت سے توڑا اور کھا لیا تبدیلی کا مطلب اپنے رویوں کو مثبت راستے کی طرف گامزن کرنا ہے تاکہ کسی کی ذات کو نقصان نہ ہو اور یہ معاشرہ پر امن معاشرہ بن سکے

  • گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً 3 سال پورے ہونے کو ہیں ۔ اگر پوری ایمانداری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان حالات سے بہت بہتر ہے جن حالات میں عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ایف اے ٹی ایف اور ائی ایم ایف کا شدید دباؤ اور پابندیاں جکڑے کھڑی تھیں۔ سابقہ حکمران ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کی یہ حالت کر کے گئے تھے اور بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے قریبی حلقہ احباب میں کہتے تھے کہ عمران خان کو ایسا ملک دے کر جا رہے ہیں جہاں وہ ناکام ہو کر خود ہی بھاگ جائے گا اور پھر ہم تجربہ کاروں کو منتیں کر کے واپس لایا جائے گا کہ ملک سنبھالو اور پھر ہم اپنی شرائط پر آئیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نیتوں کے حساب سے مرادیں پوری کرتی ہے۔ جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے نامراد رکھتی ہے اور جس کی نیت ٹھیک ہو اسے بامراد اور کامیاب ؤ کامران کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی، عمران خان صاحب نے تو شروع میں چھٹی تک نہیں کی اور دن رات محنت سے پاکستان کو ٹریک پر واپس لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر کیا، کرونا کی عالمی وبا کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی سے ہینڈل کیا کہ دنیا ہماری مثالیں دینے پر مجبور ہو گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں جو حال ہوا سب کے سامنے ہے لیکن ہماری قوم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ہم نے دنیا کو دی۔ خارجہ پالیسی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں، ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ ازلی دشمن انڈیا کو نہ صرف دنیا میں ننگا کیا بلکہ تنہا بھی کر دیا۔ دشمن کے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملے کا دن کی روشنی میں کامیاب جواب دیا۔ ایشیا میں پاکستان، چائینہ، روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گروپ بنا کر انڈیا کو تنہا کر دیا ۔ فلسطین کے مسلئہ پر کامیاب سفارتکاری سے جنگ بندی کروائی، اپنا ہم خیال گروپ بنایا اور دنیا کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بیباک طریقے سے پیش کیا ، امید ہے انڈیا جلد یا بدیر پاکستان اور ہمارے ہم خیال گروپ کی بات ماننے ہے مجبور ہو جائے گا۔ اسلامو فوبیا کو دنیا بھر میں وزیراعظم عمران خان نے اجاگر کیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ہمارا ایسا پوائنٹ ہے جس پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پہلی بار حقائق پر مبنی جراتمندانہ جواب کے ساتھ زمینی اڈے دینے سے انکار کے ساتھ امریکی لڑائی اپنے ملک یا اپنی افواج کے ذریعے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سابقہ حکمران پاکستان کو فیفٹ کی گرے لسٹ میں پھینک کر گئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی اقدامات اور موثر قانون سازی کرتے ہوئے 27 میں سے 26 پوائینٹس پر عمل کیا اور بہت جلد 27 ویں ہوائینٹ پر بھی عمل کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون اسمبلی سے منظور کروایا اور جلد سینٹ سے منظور ی کے بعد 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے ۔ لانگ ٹرم پالیسیز بنائی گئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اچھے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ کرپشن کو اتنے اچھے طریقے سے ایکسپوز کیا کہ اب عوام میں قابلِ قبول یہ بد فعل ایک گالی بن چکا ہے۔ بجلی کے نئے منصوبے کئی گنا کم قیمت پر شروع کیے گئے، اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 ڈیمز زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل پر نہ صرف بجلی انتہائی سستی اور وافر دستیاب ہو گی بلکہ ہمسایہ ممالک کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ ، گیس کم نرخوں پر خریدی گئی، انڈسٹری کو مراعات دیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو آخری سانسیں لے رہی تھی کو زندہ کیا اور اب نہ صرف انڈسٹری اپنی فل کیپیسٹی پر چل رہی ہے بلکہ ایک سال کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں۔ کرونا وائرس میں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان نے اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔ جو پاکستان کل تک ماسک نہیں بنا سکتا تھا وہ اس وقت دنیا کو وینٹی لیٹر بیچ رہا ہے۔ کرونا ویکسین پاکستان میں بن رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان جدید جنگی جہاز جے ایف تھنڈر بنا کر بیچنا شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیرات، سیاحت سمندری راستے اور بندرگاہوں کے شعبوں کو صنعت کا درجہ دیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو مفت علاج کی جدید سہولیات کے پی کے میں مکمل اور پنجاب میں جزوی طور پر مل رہی ہیں جو جلد پوری قوم کو دستیاب ہوں گی۔ کسان کو پہلی دفعہ گنے اور گندم کے بہترین ریٹ ملے اور وقت پر ادائیگی ہوئی، اب کسان کارڈ کے ذریعے زرعی آلات، کھادیں ، ادویات اور بیج دستیاب ہیں ۔ ان سب اقدامات کے رزلٹ جلد ہی عوام کے سامنے آ جائیں گے اور اس کا ثمر ملک ؤ قوم کو ملنا شروع ہو جائے گا۔ اور بھی بہت سے ایسے قابل ذکر اقدامات ہیں جو ملک کی تاریخ بدل دیں گے لیکن آج میں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کی توجہ کچھ ایسے کاموں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ان کی فوری توجہ کے متمنی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان صاحب گورننس ملک کا بہت بڑا مسلہ ہے، گورننس میں پورے ملک اور خصوصاً پنجاب میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سفید پوش طبقے کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے جتنا ریلیف دینے کی کوشش کی ، سبسڈی دی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج دیے ، ٹیکسوں میں چھوٹ دی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا مقابلہ مختلف مافیاز سے ہے جو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ایسے طریقوں سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس اختیار ہے، حکومتی مشینری ہے ، اس کا صحیح استعمال ان مافیاز کو لگام دے سکتا ہے۔ حکومت کے پاس ہر محکمے میں لوگ موجود ہیں لیکن یہ لوگ اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے ، ان کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور ادارے ملک بھر میں موجود ہیں لیکن برائے نام ۔ ان کو ایکٹو کرنا ، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کرنا اور ایسے اہل اور ایماندار افسروں کا آگے لانا ہی واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی اور آئی جی پنجاب پولیس کی ٹرانسفر کے وقت بلکل ٹھیک کہا تھا کہ لوگ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ عوام کو کتنی سکیورٹی دی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ مافیاز کا کیا رول تھا بلکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہمیں ریلیف کیا ملا۔ ایسا صرف گورننس بہتر بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو آفیسر صحیح کام نہیں کرتے انہیں ہٹا کر نئے آفیسر تعینات کریں۔ بیوروکریسی میں بہت سے آفیسرز ایسے ہیں جنہیں کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ ملی ہی نہیں ، آپ انہیں اعتماد دے کر اعلی عہدوں پر لگائیں اور رزلٹ دیکھیں ۔ نئ چیزیں ضرور کریں لیکن موجود سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر کے آپ بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی وافر اور ارزان قیمت پر مہیا کرنا آپ کا منصبی فرض اور ذمہ داری بھی ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی جوابدہ ہیں ۔

    جب حکومت نے لاہور شہر کی سڑکوں کے ٹریفک سگنلز پر کیمرے نصب کیے اور ریڈ لائیٹ جمپ کرنے والوں کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تصویر کے ساتھ آٹو میٹک سسٹم کے تحت جرمانے شروع کیے تو عوام ٹریفک لائٹ کی پابندی کرنا شروع ہو گئی تھی اور ٹریفک کا نظام کافی بہتر ہو گیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سسٹم کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب پھر سے سڑکوں پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ایک سسٹم جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کروڑوں لگا کر بنایا گیا تھا اسے کیا ہوا ؟ کیوں اس کا ڈر عوام کے سر سے اتر گیا ؟ ایک بنے بنائے سسٹم کو کس نے خراب یا بند کر دیا ؟ دنیا بھر میں ٹریفک سگنلز پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار نہیں ہوتا لیکن کسی کی مجال نہیں کہ رات کے پچھلے پہر خالی سڑک پر بھی ریڈ لائیٹ جمپ کر جائے۔ وزہر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے لاہور میں اگر کوئی سڑک ٹوٹ جائے تو مہینوں اس کی چھوٹی سی مرمت نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے جو کہ جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے لیکن سڑک کی معمولی مرمت کی بجائے وہاں پر مہینوں بعد نئی سڑک بنانی پڑتی ہے۔ وزیراعظم صاحب یہ چھوٹے چھوٹے کام بڑا ایمپیکٹ ڈالتے ہیں۔ ان سے ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست مدینہ کہنے سے نہیں عملی مظاہرے سے بنتی ہے۔ آپ ریاست مدینہ کے داعی ہیں آپ کو اپنا سسٹم بہتر کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان کی عوام جو جاہل اور ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹس کو دیکھ دیکھ کر اپنی حیثیت میں خود بھی کرپٹ ہو چکی ہے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کی فلاسفی پر یقین رکھتی ہے، ان کو گمراہ کرنا جھوٹے اور چور اپوزیشن لیڈرز اور کرپٹ مافیاز کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن جو عوام آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ بھی دل برداشتہ ہو گئے تو اس پاک دھرتی کے ساتھ بہت زیادتی ہو گی۔ خدارا دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر آپ کی ٹیم میں سے کچھ لوگ ڈلیور نہیں کر پا رہے تو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے انہیں ریپلیس کریں۔ اپنے اردگرد کالی بھیڑوں کو پہچان کر فارغ کریں، اہل لوگوں کو آگے لائیں۔ جہاں ضرورت ہے قانون سازی کریں لیکن ان مسائل سے پہلو تہی نہ کریں ۔ قوم کو یقین ہے کہ آپ ایماندار اور ارادے کے پکے ہیں۔ ہار مارنے والے نہیں۔ آپ نے نئی نسل کو اپنی مسلسل جدو جہد کے دوران جو سکھایا ہے اس کے مطابق نوجوانوں کی ذہن سازی ہو چکی ہے۔ ان کو آپ سے بہت توقعات ہیں ۔ خدارا ان کی امیدوں پر پانی نہ پھرنے دینا ۔ اگر یہ مایوس ہو گئے تو ان کا سسٹم اور انسانیت سے اعتماد اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا جو کہ ملک دشمنوں کی خواہش اور ایجنڈا بھی ہے۔
    اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو

  • ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا مقصد جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ تھا وہی اس کے پیچھےایک نظریہ بھی تھا۔ کہ اگر ہم بات کریں دو قومی نظریہ کی تو اس سے مراد یہی تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں رہنے والے مسلمان اور ہندو مذہبی ثقافتی لحاظ سے مختلف عقائد رکھتے ہیں اور ان کی رقم رسومات منانے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ برصغیر سے پاکستان اور ہندوستان کے علیحدگی کی بنیادی وجہ دو قومی نظریہ تھی۔
    پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علیحدگی کی دیوار نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ یہ دو نظریہ کی بنیاد پر ہے پاکستان کو الگ ریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ایسی ریاست ہو جہاں اسلامی قوانین کا بآسانی نفاز ممکن ہو جہاں کی ثقافت میں اسلامی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہو
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسان ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا وہی یہاں کے بسنے والے لوگ اپنی تہذیب وثقافت کو بھلا بیٹھے ۔
    اگر بات کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تو ہوا یوں کے یہاں کے لوگ اپنی ثقافت بھلا بیٹھے اور دوسری ثقافت سے متاثر ہے اور جس ثقافت سے متاثر ہے اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    یہاں کے لوگوں سے اگر من پسند ہیرو کا پوچھیں تو سرحد پار کے لوگوں کا نام سامنے آئے گا تو کیا ہم سرحد پار کی تہذیب میں اتنی دلچسپی لینے لگے ہیں کہ اپنی تہذیب کو بھلا بیٹھے ہیں۔
    بھلا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
    ثریا نے آسماں سے زمین پر ہم کو دے مارا

    یہ کیسی تہذیب ہے جس میں لڑکی کی سر پر دوبٹہ نہ لینے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے کیا یہ ہمارے دو قومی نظریہ کی بنیاد تھی ۔
    یہ تو ماڈرن زمانے میں نہیں بلکہ جہالت کے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں اسلام نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو سمجھنے سے قاصرہیں۔
    اگر ہم نے دوسروں کی تہذیبوں سے متاثر ہونا تھا تو کہ الگ وطن حاصل کرنے کا کیا مقصد تھا؟؟ اور اگر بات کریں عورت کے لباس کی تو شرم و حیا نہ ہونے کے برابر ہے۔
    اگر کوئی اس معاملے پر بات کرے تو اس کی بات کا مذاق بنا دیا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اس معاملے پر بات کی تو سب نے ان کی باتوں کا مذاق بنانا شروع کر دیا ۔
    خدارا سوچیے اس وطن کو الگ ریاست بنانے کا مقصد اور اس نظریے کو جو ہمارا نظریہ ہے

  • پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ ملک میں نوٹوں کی گڈیوں سے وزارتوں اور عہدے باٹنے کا سلسلہ بھی شروع گیا ہے ۔ کیونکہ سیاست کے اپنے اصول ہیں ۔ بیڈ گورننس ، سیاسی نا تجربہ کاری اور روز روز کی تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سوچ لیا ہے کہ باقی ماندہ دو سالوں میں لوگوں کو نوازا جائے ، گلے دور کیے جائیں اور دوست بنایا جائے ۔ کیونکہ کہیں اگلا الیکشن اگر اپنے بل بوتے پر لڑنا پڑ گیا تو آسان کچھ نہیں مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔

    ۔ جہاں نوازشریف صاحب ایک بار پھر خاموش ہوگئے ہیں۔ پر ان کی کمی شہباز شریف پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی جو کچھ بھی کرتا ہے۔ بڑے بھائی کے کہنے پر ہی کرتا ہے۔ اب شہباز شریف نے اپنے روایتی انداز دیکھانا شروع کر دیے ہیں ۔ یعنی مصالحت کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ شہباز شریف نے چاروں صوبائی صدور اور عہدیداروں کو حکومت کے خلاف متحرک ہونے کی ہدایات کے ساتھ لیگی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اسمبلیوں میں حکومت کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب ن لیگ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائی گئ ۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو بھی ہدف تنقید بنایا جائے گا ۔ جبکہ جو سب سے اہم چیزہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے۔ ساتھ ہی منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم دو دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی بھی سختی سے ہدایت کر دی ہے۔ آسان الفاظ میں اگلے الیکشن کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ عمران حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شہباز صاحب کو عدالت سے مبینہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے آئندہ دو مہینوں کے دوران سزا دلوا کر رہے گئیں ۔ اس میں شہزاد اکبر پیش پیش ہیں ۔ جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف اور ’’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘‘والی بات کی ہیڈ لائنز بنیں تو جو دبے لفظوں میں نئے انتخابات کا مطالبہ ہوا وہ بھی اہم ہے ۔ ۔ اگلے انتخابات میں ابھی بڑا وقت ہے لیکن اس بار سیاسی جوڑ توڑ قبل از وقت شروع ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتے تھے اب بروقت انتخابات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی بھی بات کر رہے ہیں۔

    ۔ کوئی ٹھوس خبر تو نہیں مگر چند اشارے ایسے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں کے بااثر سیاسی خاندانوں سے معاملات طے کر رہی ہے۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہےکہ سندھ میں ساری سیاسی قوتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گی ۔ اور یوں بھرپور پلاننگ کے ساتھ اگلی بار سندھ سے پیپلز پارٹی کا پتہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ تو دعوی کر رہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم اور ق لیگ کی طرح مرکز یا صوبے میں حکومتی جماعت کا اتحادی بننا پڑے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ق کے ساتھ حکومت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں مسلم لیگ ق کی لیڈر شپ سے ملاقات بھی کی ہے۔ اور آج تو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں چودھری مونس الہیٰ کو وفاقی وزیر بنا کر ان کی دیرینہ خواہش کو پورا کر دیا گیا ہے ۔ اب کہنے والے تو کہہ رہے ہیں اور اسکا کریڈیٹ بھی زرداری کو ہی دے رہے ہیں کہ حکومت کو ڈر پڑ گیا ہے کہ اگلی بار ق لیگ پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر الیکشن لڑے گی تو سوچا یہ گیا کہ ق لیگ جو مانگتی ہے دے دو ۔ آخر الیکشن کا سوال ہے ۔

    ۔ ساتھ ہی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پنجاب سے مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں جبکہ میاں شہباز شریف اپنے ووٹ بینک کو بچانے اور اپنے الیکٹ ایبل محفوظ بنانے کے لیے تگ ودو میں ہیں۔ بلاول بھٹو کا امریکہ جانا بھی ہمارے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اسے آئندہ انتخابات میں امریکہ سے آشیرباد اور ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اس وقت اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی دوڑ جاری ہے البتہ اس دوڑ میں پیپلزپارٹی کی دال گلتی تو نظر آتی ہے لیکن مسلم لیگ ن بارے کہا جا رہا ہے کہ شاید انکی قبولیت کا ابھی وقت نہیں آیا۔ حکومت نے بھی ابھی سے آئیندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حالیہ بجٹ میں انتخابی تیاریوں کی جھلک نظر آتی ہے تاہم اگلا بجٹ خالص انتخابی بجٹ ہو گا۔ اب دیکھیں آذاد کشمیر میں کیا ہوتا ہے تاہم سیاسی پنڈتوں کی پشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کے باعث وہاں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط ہے اور آج کل مریم نواز بڑے بڑے جلسے کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے جلسوں کے مقابلے میں تحریک انصاف ابھی تک کشمیر میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی۔ تحریک انصاف جوڑ توڑ کی سیاسی مینوفیکچرنگ میں مصروف ہے۔

    ۔ ہاں البتہ جو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور نوٹوں کی تھدیاں بانٹتے پکڑ گئے ۔اس سے تحریک انصاف کی مشہوری میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ پر آج چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے وفاقی وزیر علی امین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے کر اس مشہوری کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔

    ۔ اس سیاسی کھیل میں عوامی مسائل کا نظر انداز ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اسی جذباتی انداز میں تقریریں کرتے کرتے اصل سیاست جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے اسے بھلا دیتے ہیں۔ ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔

    ۔ کوئی پسند کرے یا نہیں ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے نمودار ہونے کے چند ماہ بعد ہی ہوئے انتقال پر ملال نے عمران حکومت کو بے پناہ اعتماد بخشا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کے بجائے اب ایک دوسرے کو شرمندہ کررہی ہیں۔

    ۔ آج بھی اپوزیشن اپنے اپنے کیسز پر عدالت میں پیش ہوتی ہے لیکن کبھی حکومت کے ساتھ عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی اگر گیس، پانی بجلی کے بل جمع کرواتا ہے تو کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور ادویات کے لیے ادھار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

    ۔ کراچی سے خیبر تک اور گلگت سے گوادر تک کوئی شخص ایسا نہیں جو مہنگائی سے تنگ نہ ہو۔ آج سب ایک ہی آواز میں حکومت کو کوس رہے ہیں۔

    ۔ پاکستان اس وقت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کے اثرات عوام کے لیے کرونا کی چوتھی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں ہیں۔ دراصل آئی ایم ایف کی مرضی اور حکم نے ہمارے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسی اذیتوں کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

    ۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بیانات جاری کرنا بہت آسان ہے۔ بازاروں میں جا کر حالات کا جائزہ لینا اور عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت مہںگائی تو ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے کم نہیں کر سکتی لیکن اسے قوت خرید بڑھانے سے تو کسی نے نہیں روکا۔ حکومت ماضی میں پھنسی رہے گی تو نہ مہنگائی رکے گی نہ قوت خرید بڑھے گی اس کے نتیجے میں صرف عام آدمی پسے گا، کیا اس تبدیلی کے لیے لوگوں نے بلے پر مہر لگائی تھی۔