Baaghi TV

Category: سیاست

  • ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری .تحریر: حمزہ بن شکیل

    ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری .تحریر: حمزہ بن شکیل

    ماحولیاتی آلودگی کے باعث اس وقت دنیا بھر کو موسمیاتی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے ہمیں اجتمائی اور انفرادی سطح پر ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے…

    ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہر سال کئی لاکھ لوگ مختلف پھیپڑوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور کچھ جان کی بازی ہار جاتے ہیں.

    ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہمارے کارخانوں سے نکلتا وہ زہریلا کیمیکل ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پرانی گاڑیوں سے نکلتا دھواں، پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کا بڑھتا استعمال اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی بھی ایک اہم وجہ ہے۔

    زندگی کی بقاء کے لیے آلودگی سے پاک ماحول بہت ضروری ہے۔ جہاں شہریوں کو رہنے کے لیے صحت افزا ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے وہیں ہماری کچھ انفرادی ذمہ داریاں بھی ہیں جنہیں پورا کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہئے وہ پرانی گاڑیوں اور مشینوں پر بین لگاۓ جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں چاہئے کے ہم زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

    ماضی میں ہمارے جنگلات کو نہایت بیدردی سے کاٹا گیا پر اب وقت ہے کے ہم اپنے ماحول کو پھر سے سر سبز و شاداب بنایں.

    درخت لگانا سنت نبوی اور صدقہ جاریہ ہے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ جو کوئی درخت لگائے، پھر اس کی نگرانی اور حفاظت کرتا رہے، حتیٰ کہ درخت پھل دینا شروع کر دے تو وہ اس شخص کے لیے صدقے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک اور موقع پر حضورﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے، اور اس میں سے کوئی انسان، درندہ، پرندہ، یا چوپایہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ہیں بلکہ زمینی کٹاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں سایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے اردگرد کا ماحول خوبصورت ہو جاتا ہے اور ہماری صحت پر اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں۔

    آئین آج ہم سب یہ تہیہ کرتے ہیں کہ ہم ایک پودا ضرور لگائیں گے اور اس کے تناور درخت بننے تک اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کو بھی با خوبی نبھائیں گے۔ اس سب سے ماحولیاتی آلودگی میں بہت حد تک کمی آئے گی۔

  • پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    عالمی طاقتوں کی بھرپور سازشوں اور مخالف اقدامات کے باوجود قیامِ پاکستان ایک معجزہ ہی تھا .
    قیام کے ساتھ ہی مذہبی و سیکولر طبقات کوئی رستہ نہ پاکر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انکے فروغ کے لئے متحرک ہوگئے, جس کی وجہ سے پاکستان میں دو نظریاتی انتہاؤں نے جنم لیا
    مذہبی انتہا پسندی
    لبرل اور سیکولر انتہا پسندی
    ہر دو مکاتیبِ فکر کی نظر میں اختلاف رائے رکھنے والا ملعون و مطعون ٹھہرا
    مذہب پر چونکہ ہر کوئی دسترس نہیں رکھتا, اسکے لئے وہ مخصوص طبقے کے محتاج ہیں اس لئے بہت تھوڑے تناسب کے علاوہ اس طبقے کی اکثریت
    کو اپنی تھیوکریسی انداز کی مطلق العنانیت قائم کرنے اور اپنے مفادات کے لئے مخصوص نظریات کی ترویج اور عام آدمی کو اپنے نظریات کے تابع کرنے کا بھرپور موقع مل گیا
    اس کام کو طاقت کے بغیر سرانجام نہیں دیا جاسکتا تھا تو سیاست میں نفوذ کیا گیا
    دوسری طرف سیکولر طبقہ عالمی قوتوں کا مُہرہ بنا
    پرویز ہود بھائی, شرمین عبید چنائے نے سول ایٹمی ری ایکٹرز کی مخالفت میں سندھ ہائی کورٹ سے یہ منصوبہ رکوادیا
    میڈیا کے ذریعے معاشرتی اقدار پر حملہ کیا گیا
    خاندانی نظام میں نقب زنی کی گئی
    ویڈ لاک کے بجائے آزاد تعلقات کے فروغ کیلئے ڈرامے کا رخ ہی بدل دیا
    بہنوئی کا سالی کے ساتھ ,
    سسر کا بہو کے ساتھ تعلق دکھا کر وژوئل امپیکٹ کے ذریعے سلو پوائزن نئی نسل میں انجیکٹ کیا جارہا ہے

    انتہا پسند مذہبی طبقے نے مدرسوں کے ذریعے اپنے اپنے نظریات کے پیروکاروں کی بہت بڑی کھیپ پیدا کی
    تو دوسری جانب لبرل انتہا پسند کالجز اور یونیورسٹیز کے ذریعے قوم کے مستقبل پر حملہ آور ہوئے
    آج پاکستان میں جتنی بھی معاشی, سیاسی, انتظامی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی تباہی ہوئی ہے اسکے پیچھے یہی دو قوتیں ہیں

    اعتدال پسند , امت کو جوڑنے والے علماء اور لسانی,صوبائی اور نسلی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرنے والے دانشور اور سیاسی رہنما ان دو انتہا پسند طبقات کے تیروں کے رخ پر ہیں.
    جب تک پاکستانی خود کو مسلکی, لسانی صوبائی حدود میں مقید رکھیں گے
    جب تک خود دین نہیں پڑھیں گے, سیکھیں گے
    جب تک نام نہاد کھوکھلی روشن خیالی, سریلے اور جوشیلے نعروں کے سحر میں جکڑے رہیں گے تب تک پاکستان کی ترقی و خوشحالی ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گی

    ایک قدم میانہ روی کی طرف ,
    ایک قدم خود سیکھنے کی طرف ,
    ایک قدم سب سے پہلے پاکستان کی طرف ,
    ایک قدم غیر جانبدار اور کریٹیکل تھنکنگ کی طرف
    تو
    قائد کا پاکستان
    اسلام کا قلعہ بننے سے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی

  • ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    295 سی پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کو اس کے آئین میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی
    یہ مکمل طور پر پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس پر کسی دوسرے کو قرار داد لانے کی ضرورت نہیں ہے
    کیا کبھی پاکستان نے بھی دوسرے ممالک کے قوانین میں دخل اندازی کی ہے؟
    یہ حق صرف دوسرے ممالک کو ہے کہ صرف اور صرف پاکستان کو نشانے پر رکھنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے
    پاکستان ایک خود مختار اور آزاد ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر پاور اسلامی ملک ہے جہاں کا نظام حکومت پارلیمانی جمہوری نظام ہے
    جہاں اقلیتی نمائندگی اور اقلیتی آزادی اپنے پورے جوبن سے چکا چوند ہے، اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ ہے کسی قسم کا کسی بھی اقلیت پر کوئی دباو نہیں
    ان سب عوامل کے باوجود پاکستان سے ایسا برتاو کیوں

    چند وجوہات:
    موجودہ حالات میں پاکستانی معیشت کے اعشاریے مثبت
    ٹیکس نیٹ ورک سے اکانومی بہتری کی طرف گامزن ہے
    پاکستان کی برآمدات میں بڑھتی ہوئی مانگ
    پاکستانی قیادت کا سالہا سال کی بیرونی غلامی سے نجات کا عزم
    اسلامو فوبیا پر پاکستان کا سٹینڈ
    فیٹف FATF کی شرائط و ضوابط کے مطابق پاکستان کی سمت درستی کی جانب مخصوص انداز
    مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کی علمبرداری
    مغرب سمیت تمام اندرونی اور بیرونی دشمنان کو یہ سب ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ایسے میں چند شر پسندوں کو تخریب کاری کا موقع ملا اور مغرب کو پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا موقع ہاتھ لگ گیا
    مغرب سمیت تمام اقوام عالم صرف پاکستان کے پیچھے ہی کیوں پڑی ہیں
    اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم ریاست بن گیا تو نیوکلیئر پاور کا حامل اسلامی ملک پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور ہماری اجارہ داری ختم ہو جائے گی
    امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور فرانس جیسے ممالک پاکستان کو مقروض رکھ کر اپنے زیرنگیں رکھنا چاہتے ہیں
    تاکہ مفادات کی جنگ میں جب چاہیں پاکستان کو استعمال کرتے رہیں
    بحثیت پاکستانی ہمیں پاکستان کے وسیع تر مفادات کی خاطر اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور سیاسی و مذہبی وابستگیوں کو ترک کر کے وطن کی سلامتی کے لیے سوچنا ہو گا
    وطن ہو گا تو ہم سیاست کر سکیں گے، وطن ہو گا تو ہم خود کو منوا سکیں گے
    اللہ کریم اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین ثمہ آمین
    از
    محمد عثمان

  • تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    وہ شخصیات تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ہوتی ہیں جن کے بارے میں کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی اتنی تشہیر کی جائے کہ وہ قبولِ عام کا درجہ حاصل کر لے۔
    اگرچہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی عمومی وجہ شہرت یہی ہے کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا دل و جان سے بھرپور ساتھ دیا مگر انہوں تاریخ برصغیر اور پھر پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ خود بھی ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بھابھی محترمہ رتی بائی (مریم جناح) کی ناگہانی وفات کی وجہ سے اپنے عظیم بھائی کو پہنچنے والے شدید صدمے کے دوران انہیں سنبھالا دیا جس کے بغیر شاید وہ تاریخ کا دھارا نہ موڑ سکتے۔ دنیا کے نقشے پر وہ اسلامی مملکت منصہ شہود پر نہ ابھرتی جس کا 14 اگست 1947ء سے پہلے وجود بھی نہ تھا۔

    انگریز سامراج، کانگرس اور نیشلسٹ مسلمانوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان کے قیام کا معجزہ رونما ہوا۔ بدقسمتی سے قائداعظمؒ جلد ہی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کو ایک افغان نے لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کر دیا۔

    ایک نوزائیدہ مملکت کے لیے یہ جھٹکے قابل برداشت نہ تھے۔ قوم پے در پے دو عظیم صدمات سے دوچار ہوئی۔ سیاسی استحکام کی جگہ نظام سیاست میں جوڑ توڑ اور محلاتی سازشیں پروان چڑھنے لگیں۔ قصہ مختصر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا۔ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ ہوا۔ صدارتی انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف میں شامل قیام پاکستان کے بدترین مخالفین خان عبدالغفار خان و دیگر نے کمال ہوشیاری سے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو جنرل ایوب خان کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی الیکشن مہم کے انچارج بنائے گئے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران مادر ملت کی شخصیت پر انتہائی نازیبا ریمارکس دیے جن کا تذکرہ بھی مادر ملتؒ کی توہین ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں غلام دستگیر خان نے مادرملتؒ کے خلاف جو توہین آمیز حرکت کی، اس کا تصور کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگے، صدارتی انتخابات متنازع قرار پائے مگر جنرل ایوب خان صدر منتخب ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ بےمثال اقتصادی ترقی ہوئی۔ بڑے ڈیم تعمیر ہوئے۔ جشن ترقی بھی منایا گیا مگر مشرقی پاکستان میں سیاسی محرومیوں کا لاوہ سلگتا رہا جس میں مادر ملتؒ کی شکست کے صدمے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پھر حزبِ اختلاف متحرک ہوئی۔ عوام کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس کے پیش نظر صدر ایوب خان مستعفی ہو گئے۔ زمامِ اقتدار جنرل یحیٰ خان نے سنبھال لی۔ ون یونٹ سسٹم ختم ہوا۔ عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے کلین سویپ کیا۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی سرخرو ہوئی۔ جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا حق بنتا تھا جسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا گیا۔ ملک دو لخت ہو گیا۔ قوم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئی۔

    پھر ایک اور سانحہ رونما ہوا۔ کہا گیا کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو غدار قرار دیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ کسی نے بھی تحقیق کی کوشش نہ کی کہ اس الزام کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ کن اخبارات میں یہ بات رپورٹ ہوئی۔ تاریخ نویسی کے اصولوں پر پوری اترنی والی تاریخی شہادتیں کیا ہیں؟ اس کسوٹی پر کسی نے بھی الزام کو پرکھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ بس بات منہ سے نکلی پرائی ہوئی کا قصہ ہوا۔ بات کو غلط العام کا درجہ حاصل ہو گیا۔ فوج سے نفرت کرنے والے عناصر نے اس الزام کو دہرانا ایک فیشن بنا لیا۔

    راقم الحروف نے جب تحقیق شروع کی تو دنگ رہ گیا کہ ناقدین کے پاس اس الزام کا کوئی تاریخی حوالہ اور ثبوت موجود نہیں جس میں جنرل ایوب خان نے مادرملت کو غدار قرار دیا ہو۔ صرف ٹائم میگزین میں یہ بات ملی کہ ایوب خان نے مادرملت کو پرو امریکن اور پرو انڈین قرار دیا مگر اس میں بھی یہ بات نہ ملی کہ ایوب خان نے مادرملت فاطمہ جناحؒ کو غدار (ٹریٹر) قرار دیا ہو۔ میں نے ایک معروف صحافی اور اس الزام کی تکرار کرنے والے دیگر مصنفین کو بار بار چیلنج کیا کہ کوئی تاریخی حوالہ پیش کریں بصورت دیگر قوم کی ماں پر بلاثبوت تہمت مت لگائیں کہ کوئی اولاد اپنی ہی ماں پر کبھی تہمت نہیں لگاتی۔ ایوب خان میں سینکڑوں خامیاں ہوں گی۔ ان سے اظہار نفرت کے لیے ان خامیوں پر تنقید کے ہزاروں زہریلے تیروں کی بارش کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں میدان کھلا ہے مگر جنرل ایوب خان کے بغض میں مادرملت فاطمہ جناحؒ پر تہمت طرازی کسی کو زیب نہیں دیتی۔ یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی ہے۔ یہ امر تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ بات تاریخ نویسی کے اصولوں کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملتؒ کو غدار قرار دیا تھا تو اگر اس بات کا دہرانا مادر ملتؒ پر تہمت قرار پائے گا تو یہ جنرل ایوب پر بھی بہتان ہو گا۔ یہ تاریخ پر کیسا ظلم ہے کہ ایوب خان پر بہتان لگا کر مادر ملت پر تہمت لگاؤ۔ ایک ہی تیر سے دو شخصیات کو گھائل کرو۔ کیسا کمال ہنر ہے کہ اس بات کی اتنی تکرار کرو کہ اگر ردعمل میں عوام کسی کے اقوال و افعال کو غداری کے زمرے میں شمار کریں تو وہ فخر سے کہے کہ ایوب خان نے مادر ملت کو بھی غدار قرار دیا تھا، لہذا اگر اسے بھی غدار قرار دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ پس اب زمانے کا چلن یہ ہو گیا ہے کہ اس غیرمصدقہ الزام کی آڑ میں اب جو دل میں آئے کسی ثبوت کے بغیر بولیں۔ کسی تاریخی حوالے کے بغیر لکھیں۔ اگر ناقدین تاریخی حوالہ جات نہ دینے پر غدار کہیں تو خود کو مادرملت فاطمہ جناحؒ کا پیروکار قرار دے دیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس توہین آمیز صورتحال میں مادر ملتؒ اور قائداعظمؒ کی ارواح جس کرب سے انگاروں پر لوٹتی ہوں گی، اس کا تصور بھی محال ہے۔

  • مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ جن میں سے کچھ ترقی پذیر اور کچھ ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا ہے، آبادی کے لحاظ سے چائنہ، انڈیا سے چھ گنا چھوٹا لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔
    یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سےچوتھے،
    پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے،
    دنیا کی سب سے مہنگا ترین خشک میوہ چلغوزے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر،
    (چترال اور وزیرستان)
    آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں،
    چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں،
    گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں
    اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔
    یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور برِ اعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کے زخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے زخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے زخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔لیکن

    سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ملک کرپٹ، چور اور لٹیرے سیاستدانوں کی پیداوار میں ایک نمبر پر ہے
    وہ اسلئے کہ ملک پچھلے 30 سالوں سے چوروں کے شکنجے میں رہا
    ملک کو تباہ کرکے اپنے کاروباروں کو وسعت دی
    ملک گروی رکھ کر بیرون ملک جائیداد بنائی
    ملک میں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر اپنے بچوں کو انگلینڈ شفٹ کروائے
    اپنے خاندان والو کو اعلی اعلی منسبوں پر فائز کروائے
    ملک کو غیروں کا مرکز بنایا
    خق و سچ بات کرنے والو کا گلہ دبایا
    اور جس نے ملک کی فلاح چاہا اسے غدار اور ایجنٹ کہا۔

    اور آج اس ملک کا حال یو چھوڑ کر گئے ہے کہ ملک کا حزانہ خالی ہے
    ملک آئی ایم ایف کو گروی دیا ہے
    قرضوں میں جکڑا ہوا ہے
    معیشت ڈوب گئی ہے
    لوگ غربت سے مر رہے ہے
    عدالتوں سے غریب کیلئے قانون اور امیر کیلئے ریلیف مل رہے ہے

    اور یہ ہے
    مملکتِ خداداد” پــــــاکـــــــــــستان ”

  • پاکستان اور ہم .تحریر: سجاد علی

    پاکستان اور ہم .تحریر: سجاد علی

    پاکستان کو بنانے کی خواہش لے کر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال، اولاد، جائیداد غرض ہر اُس چیز کی قربانی دی جو ہر نوعِ انسان کی اول خواہش ہوتی ہے. ان بےانتہا قربانیوں کے بعد ہم نے اپنا وطن تو حاصل کر لیا مگر کیا ہم نے ان قربانیوں کا جائزہ لیا جو ہمارے آباؤ اجداد نے دیں؟
    کیا ہم نے تحریکِ آزادی کے ان پہلوؤں کو دیکھا جن سے گزرتے ہوۓ مسلمان بچے یتیم ہوگئے، ماؤں کی گود اجڑ گئی، بیٹیوں کے سروں سے دوپٹے اتر گئے، بہنوں کے سروں پر ہاتھ رکھنے والے بھائی نذر آتش ہوگئے؟
    کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ انگریز کے علاوہ کون لوگ تھے جو انگریز سے وفاداری کر کے اپنے ہی مسلمانوں پر گھات لگا کر قتلِ عام کرتے تھے؟
    چلیے ہم آج یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اتنا سب کچھ کیسے کھویا اور جن لوگوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کرتے ہوئے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ان کے بچے آج کدھر ہیں.
    ہم محب وطن لوگ ماں کی گود سے دو سبق لیکر پیدا ہوتے ہیں، پہلا ﷲ پر ایمان اور دوسرا وطن کی محبت.
    ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ حق کی خاطر اپنے وطن کا دفاع خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک کرتے رہنا ہے اور ہماری اسی بات کو ان لوگوں کی اولادیں کمزوری سمجھتی ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کی نا صرف مخالفت کی بلکہ ہمارے اسلاف کا قتلِ عام بھی کیا.
    آج ہم سب کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ جن لوگوں نے تحریک آزادی میں تن من دھن کی بازی لگائی وہ لوگ اور ان کے خاندان پسا ہوا طبقہ کیونکر ہیں اور جن لوگوں نے انگریزوں کی غلامی کی وہ پاکستان پر حکمرانی کیسے کر رہے ہیں اور کیسے کر سکتے ہیں.
    ہمیشہ سے مغرب کی خواہش رہی ہے کہ دنیا کے ہر خطے خصوصاً مسلمانوں کے خطے پر بالواسط یا بلا واسطہ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا جائے تاکہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے.
    انگریز نے تحریک آزادی کے خلاف جن مسلمانوں کو استعمال کیا پاکستان بننے کے بعد انہیں لوگوں کے بچوں کو بھی اپنے ایجینٹ کے طور پر استعمال کیا اور کر رہے ہیں.

    میرے عزیز ہموطنوں اگر ہم آج یہ تہیہ کرلیں کہ ہم نے انگریزوں کے جاسوسوں کی اولادوں کو ووٹ دیکر اسمبلی تک نہیں لانا تو پاکستان اور ہماری ان لوگوں سے جان چھوٹ سکتی ہے مگر مگر مگر!!!! یہ تب ہی ہوگا جب ہم ایک قوم اور پاکستانی بن کر سوچیں گے.
    میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں بشمول میرے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا کہ اپنے حلقے کے بااثر افراد کو چھوڑ کر ایک غیر معروف شخصیت کو ووٹ دینا لیکن اگر ہم یہ کر گزرتے ہیں تو یقین جانیں ہماری نسلیں ہمارا شکریہ ضرور ادا کریں گی بالکل اسی طرح جس طرح ہم تحریکِ آزادی کے ہیروز کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے قربانیاں دیکر ہمیں ایک آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل بنایا.
    بقول عمران خان کے "خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود بدلنے کیلئے محنت نہیں کرتی”
    میرے عزیز پاکستانیوں آج ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کی دعائیں لیں اور صرف چند سالوں کیلیے خود کو قربانی کیلیے پیش کریں تاکہ پاکستان کی حالت بدلے. ہماری حالت بدلے.
    ہم ایسے لوگ چنیں جو ہم سے ہوں نا کہ ایسے لوگ جن کے ساتھ سو سو گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہو اور اس قافلہ سے ہمیں اپنا نمائندہ ڈھونڈنے میں عمریں بیت جائیں.
    یقین جانیے پاکستانیوں اگر ہم نے ایسا کر لیا تو قیامت کے روز ہمارے نبی ﷺ آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کریں گے کہ یہ ہیں میری امت کے وہ لوگ جنہوں نے غیر مسلموں کے تسلط سے مسلم خطے کو نکال کر اسلام کا جھنڈا سر بلند کیا.
    آئیں آج آپ اور میں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم نے ایک ہو کر ملک دشمن عناصر کو شکستِ فاش دینی ہے.

    دلوں میں حُبِ وطن ہے اگر تو ایک رہو
    نکھارنا یہ چمن ہے _ اگر تو ایک رہو

    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    مصطفیٰ کمال، امیدوں کی کرن،تحریر : ثاقب شیخ

    جو لوگ آج یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ مصطفیٰ کمال واپس ایم کیو ایم میں چلے جائیں گے آئے ان پر تھوڑی نظر اس پر ڈالی جائے

    چھ سال پہلے وہ لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ 2 لوگ آتو گئے ہیں لیکن یہ خیابان سحر سے باہر نہیں آسکتے

    آج اَلْحَمْدُلِلّٰه رب نے خیابان سحر کے گھر سے نکال کر دنیا بھر میں پھیلا دیا آج جہاں جہاں پاکستانی ہیں، وہاں پاک سرزمین پارٹی بھی موجود ہے

    2018 کے الیکشن کے بعد لوگوں نے یہ بھی افواہ پھیلائی کہ مصطفیٰ کمال پارٹی ختم کرکے دبئی واپس چلیں جائیں گے اور پھر وقت نے ثابت کردیا

    حالیہ طوفانی بارشوں میں پی ایس پی فاؤنڈیشن کے تحت پاک سرزمین کارکنان کی انتھک محنت نے پورے کراچی میں یہ بات ثابت کردی کہ آج اللّه تعالی نے پاک سرزمین پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کردیا ہے

    انشاء اللّه حسد کرنے والے کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ظالموں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں

    بیشک جھوٹوں پر اللّه کی لعنت ہوتی ہے

  • فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

    کوئی بھی بڑا بین الاقوامی اخبار کھولیں تو مسلم ورلڈ والے سیکشن میں آپکو یمن ، شام ، عراق ، لبنان ، لیبیاء کی تباہی اور وہاں کی کٹھ پتلی حکومتوں کے آنے جانے کی خبریں ہی ملتی رہتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی خاص "مہربانیوں” کے علاوہ جس چیز نے ان ممالک کی تباہی س بربادی میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے ان ممالک میں فرقہ واریت کی بناء پر ایران اور سعودیہ عرب کی پرسکسی جنگ۔ ایران اور سعودیہ عرب کی اس پراکسی جنگ نے مسلم دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا یے۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں یمن میں ایران حوثی باغیوں کی امداد کرتا ہے اور سعودیہ ان باغیوں پر بم گراتا ہے مگر ان دونوں کے چکر میں تباہ یمن ہو رہا ہے مر عام مسلمان رہے ہیں اور کچھ دہائیوں پہلے تک ایک خوشحال ملک آج پتھر کے زمانے میں پہنچ چکا ہے۔ ایسی خبریں پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال ضرور اٹھتا ہے کیا اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی اور مزہب میں فرقے نہیں ہوتے ؟ اگر ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح اپنے ہم مذہبوں کی تباہی و بربادی کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟؟ آج ہم انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرینگے
    عیسائیت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مزہب ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لگ بھگ دو ارب اڑتیس کروڑ سے زائد ہے اور 15 ممالک کا سرکاری مذہب ہے۔ عیسائیت کے دس فرقے ہیں جن کے بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور ان میں زبانی گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے مگر عیسائی دنیا میں مذہب کی بناء پر ایک دوسرے کا قتل اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں دیکھے جاتے اور ناں ہی ایک فرقہ دوسروں کے ساتھ کسی قسم کی پراکسی وار میں الجھا ہوا یے۔ اٹلی میں کیتھولک عیسائیت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جبکہ رومانیہ میں اسکے مخالف فرقے آرتھوڈوکس عیسائیت ماننے والوں کی اکثریت ہے مگر آپ کبھی نہیں سنیں گے ان دونوں فرقے والوں نے یورپ کے کسی ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہو اور اس ملک میں اپنے فرقے والوں کی حکومت لانے کیلئے وہاں جنگ چھڑوا دی ہو
    اسی طرح یہودیت ہے اس کے چار بڑے فرقے ہیں مگر جب بھی کہیں یہودیت بمقابلہ باقی دنیا ہو تو بنیادی اختلافات کے باوجود سارے یہودی متحد ہو جاتے ہیں تو سوال یہ ہے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟

    ایران نے پوری القدس فورس بںا رکھی ہے جسکا مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک سے باہر ایرانی مفادات کا تحفظ کرتی یے جبکہ حقیقت یہ ہے اس تنظیم کے زریعے ایران ہمسائیوں ممالک میں اپنے فراقے اور پسند کی حکومت بنانے کی جستجو میں مصروف ہے اسی مقصد کیلئے ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو کھڑا کیا ، یمن میں حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اسی طرح سعودیہ عرب اپنے پسند کے گروہوں پر کھل تک ڈالروں اور ریالوں کی برسات کرتا رہتا ہے تاکہ اسکی ہم نظریہ حکومت قائم کی جا سکے۔ شام میں ایران بشار الاسد کا خاص اتحادی ہے جبکہ سعودیہ شامی حکومت کے خلاف مختلف ملشیاء کو جدید ہتھیار فراہم کر کے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے نیز یہ تمام عرب ممالک ایران اور سعودیہ کی سرد جنگ کا میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ عصمت اللہ فلاحتفی شاہ کے مطابق ایران صرف شام میں اپنی پراکسی وار پر 30 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ سعودیہ عرب نے جتنا پیسہ بہایا اسکا کوئی حساب ہی نہیں۔
    پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دونوں ممالک نے اپنی اپنی پسند کی تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جس کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک ان فسادات کی لپیٹ میں رہا اور آج تک ان فسادات اور نفرتوں کی سائے سے نکل نہیں سکا۔ ایران اور سعودیہ عرب مسلم دنیا کے امریکہ اور سویت یونین بن چکے ہیں جنکی آپسی پراکسی جنگوں نے کئی برادر اسلامی ممالک کو تباہ کر دیا ہے جس طرح امریکہ اور سابقہ سویت یونین کی سرد جنگوں نے کوریا ، ویت نام اور افغانستان سمیت کئی ملکوں میں جنگیں برپا کیے رکھیں آپ غور کریں جو ممالک ان دونوں کے حصار سے دور ہیں وہاں کوئی بدامنی فتنہ فساد نہیں ہے۔ ملائیشیا ، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایران و سعودیہ سے دور الگ تھلگ ہیں وہاں پر ان دونوں ممالک کی آپسی جنگ نہیں چھڑی ہوئی وہاں پر امن و سکون ہے۔

    جس دن ان دونوں ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کا استعمال جنگیں چھیڑنے کی بجائے اپنی قوم اور ملک کی بہتری پر خرچ کرنا شروع کیا اس دن اسلامی دنیا میں سکون آ جائے گا

  • میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    میرا خواب نیا مضبوط پاکستان .تحریر: فضل عباس

    اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو ۔
    پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دم ہو

    میں ایک پاکستانی ہوں میرا وطن پاکستان ہے ہر انسان کی طرح مجھے میرے وطن سے بے حد محبت ہے مجھے بھی میرے وطن سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں میں آپ سب سے اپنے وطن کے بارے میں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہو میرے وطن کا ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو میرے ملک کے ہر کونے میں تعلیم کی سہولت موجود ہو علم میرے وطن کے بچوں کی طاقت بنے یہاں کا ہر فرد علم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہو جیسا کہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے”

    میں چاہتا ہوں میرا وطن صحت کی سہولیات دینے میں سب سے آگے ہو میرے وطن میں دی جانے والی سہولیات دنیا میں کہیں بھی نہ ہوں یہاں کے ہسپتال دنیا میں بہترین ہوں یہاں مریض ہسپتال میں ڈاکٹر کو مسیحا سمجھیں یہاں ڈاکٹر خود کو خدا نہیں خدمت گزار سمجھے یہاں کے ہسپتال میں داخل مریض خود کو محفوظ سمجھے

    میں چاہتا ہوں کہ میرا وطن کھیل کے میدان میں فاتح بنے جس طرح ماضی میں ہم نے کارنامے سر انجام دیے وہی کارنامے دوبارہ سر انجام دیں جس طرح عمران خان کی قیادت میں ہم نے کرکٹ کا عالمی کپ جیتا بلکل اسی طرح ہم دوبارہ فاتح قرار پائیں اسی طرح اسکواش کے میدان میں جہانگیر خان کی طرح کامیابیوں کو اپنے وطن کی عزت بنائیں سب سے زیادہ خوشی کی بات تو تب ہے جب ہم اپنے قومی کھیل ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں

    میں چاہتا ہوں میرا وطن سب سے بڑی معاشی طاقت بنے دنیا بھر سے لوگ یہاں ملازمت کرنے آئیں میرے وطن کے لوگوں کو ملازمت کے لئے باہر نہ جانا پڑے میرا وطن سب کی امید ہو میرے وطن کی معاشی اعتبار سے دنیا میں ایک الگ ٹھاٹ باٹ ہو میرا وطن عظیم معاشی طاقت بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا وطن ہو جہاں غریب اور امیر نہیں بلکہ انسان ہوں جہاں عزت کا پیمانہ دولت نہیں انسانیت ہو جس انسان میں انسانیت ہو وہی عزت دار ہو میں چاہتا ہوں میرے وطن میں غریب اور امیر میں کوئی فرق نہ ہو غریب بھی اسی طرح جیے جس طرح امیر

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی مملکت بنے جس طرح ہم نے اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا ویسے ہی یہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں میں چاہتا ہوں میرے وطن میں ہر کام اسلام کے مطابق ہو

    میں چاہتا ہوں میرا وطن اسلامی دنیا کا سربراہ بنے اسلامی ممالک پاکستان کے جھنڈے تلے یکجا ہوں اسلام ایک طاقت بنے جس کا محور پاکستان ہو میرے وطن کو اسلامی دنیا میں وہ مقام حاصل ہو جو بھائیوں میں بڑے بھائی کا ہوتا ہے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن امن کا گہوارہ بنے جس طرح ہماری افواج نے دہشتگردوں کا سر کچلا اسی طرح آگے بھی کچلتی رہیں یہاں پر صدا امن رہے یہ دھرتی امن کی دھرتی بنے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن وہ سلطنت بنے جہاں سب بھائی بھائی ہوں کہ جہاں ہر کوئی اپنا فرض دوسرے کا حق سمجھ کر ادا کرے میرے ملک میں کوئی کسی کا حق نہ مارے

    میں چاہتا ہوں میرا وطن ایسا ہو جہاں سیاست خدمت کا نام ہو جہاں سیاست کرپشن سے پاک ہو جہاں سیاستدان اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں

    اپنے خواب کا اختتام کرتے ہوئے کہوں گا میرا وطن ایسا ہو جیسا اقبال کا خواب اور جناح کی محنت تھی

  • وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    وزیراعظم ایماندار لیکن نااہل کابینہ .تحریر ۔ زیشان روؤف

    میری تحریر کا ایک ایک لفظ میرے دل کی اواز ہے اور جو لیکھ رہا ہوں اس پر توجہ ضرور کریں۔
    عمران خان , کارکنان اور وزیر, مشیر
    یہ تین الاگ الاگ چیزیں ہیں ایک عمران خان ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس کے کارکنان اس کی طاقت ضرور ہیں لیکن یہ وزیر مشیر عمران خان کی 25 سال کی محنت کو پانی پانی کرنے کے در پر ہیں۔ کیوں کہ ٹھنڈی گاڑی ٹھنڈا کمرا اور پروٹوکول جو مل رہا ہے تو عوام جائے جہنم میں اور عمران خان کا کیا ہے اس کی جدوجہد اور نام بھی جائے جہنم میں ہم تو ارام کرنے اہیں ہیں اور وقت گزارنے اہیں ہیں۔
    یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہر جماعت سے اچھل اچھل کر تحریک انصاف کا حصہ2018 میں بنے یہ وہ ہیں جو پولیس کے پرچوں قبضے اور بے شمار ایسے کاموں میں ملوث ہیں ۔
    یہ کسی بھی مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ نہیں دیں گے
    عمران خان اپ کو اس نظام سے ناکامی کے اعلاوہ کچھ نہیں مل سکتا اپ کو سڑکوں پر نکل کر ایک نئے صدارتی نظام کی طرف انا ہوگا جو ملک کی ضرورت بن چکا ہے ۔ کرپٹ اور نااہل کابینہ سے جان چھڑواہیں ۔

    یہ کرپٹ وزرا صرف اپنا مال بنا ریے ہیں اور یہ لوگ اس نظام کو اپنے حق میں چلانا جانتے ہیں یہ سب کابینہ کے اراکین اپ سے پہلے کئی سالوں سے اس نظام کا حصہ ہیں وہ نظریہ عمران کو نہیں نظریہ پیسے کو سمجھتے ہیں اور وہ ہی کر ریے ہیں جو ہر وزیراعظم کے ساتھ رہ کر کرتے ہیں۔

    وقت اج بھی ہے قدم لیں ایک نئے نظام کا
    کل یہ وقت بھی شائد نہ ہو۔