Baaghi TV

Category: سیاست

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔

  • پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف ہر سازش بری طرح ناکام

    پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف ہر سازش بری طرح ناکام

    22-03-21
    پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف ہر سازش بری طرح ناکام رہی۔حکومت اپنی مدت پوری کرے گی،پی ڈی ایم ایکسپائر ہو چکی ہے۔اقتدار کی ہوس میں مبتلا کرپٹ سیاستدانوں پر مشتمل پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔

    پی ڈی ایم ملک کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہتی ہے۔اپوزیشن والوں کی یہ خواہش بھی کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار پی ڈی ایم کو ترقی کے سفر میں رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے۔عثمان بزدار

  • ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کے سینیٹ‌الیکشن جیتنے کی خوشی میں ظہرانہ

    ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کے سینیٹ‌الیکشن جیتنے کی خوشی میں ظہرانہ

    ننکانہ صاحب میں معروف سیاسی و سماجی رہنماء اقبال سہیل شاہ کی طرف سے سینٹ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی خوشی میں پارٹی رہنماؤں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا،مسیحی برادری کے قدیم گاؤں مارٹن پور میں دیئے گئے ظہرانے میں وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ کے کوآرڈی نیٹر اور سابق چیئر مین یونین کونسل رائے جہانگیر خاں بھٹی مہمان خصوصی تھے جبکہ ظہرانے میں زین شاہ،ملک عرفان اعوان،ایوب گل اور ڈاکٹر اے ڈی سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور معززین علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی

    ،مارٹن پور پہنچنے پر رائے جہانگیر بھٹی کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رائے جہانگیر بھٹی نے کہا کہ سینٹ الیکشن نے اپوزیشن کی رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے،

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی قیادت میں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے،آنے والا وقت انشاء اللہ بہت بہتر ہو گا،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اعجاز احمد شاہ کی بھرپور کوشش ہے کہ مسیحی برادری کے قدیم دیہات ینگسن آباد اور مارٹن پور میں سوئی گیس فراہم کی جائے،انشاء اللہ بہت جلد اس حوالے سے بہت اچھی خبر آئے گی۔

  • جماعت اسلامی یوتھ پی کے 78 کے زیر اہتمام، پارٹی چیرمینز کا خطاب

    جماعت اسلامی یوتھ پی کے 78 کے زیر اہتمام، پارٹی چیرمینز کا خطاب

    جماعت اسلامی یوتھ پی کے 78 کے زیر اہتمام، کوہاٹی
    گیٹ پشاور میں جوانوں کے مسائل کے حوالے سے یوتھ جرگہ منعقد ہوا_

    جس میں پی کے 78 اور گرد و نواہ کے علاقوں سے جوانوں اور سیاسی نمائندوں سمیت جماعت اسلامی یوتھ پی کے 78 شمالی کے صدر شیخ عرفان،

    صدر پی کے 78 شرقی امین جان، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی یوتھ پشاور عبدالرحیم، جماعت اسلامی یوتھ پشاور کے صدر حسن بشیر، اور امیر

    جماعت اسلامی پشاور عتیق الرحمن نے شرکت کی اور خطاب کیا_

    حسن بشیر صدر جماعت اسلامی یوتھ پشاور اور امیر جماعت اسلامی پشاور عتیق الرحمن نے کوہاٹی گیٹ میں یوتھ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    پاکستان کی تمام پارٹیاں ایک خاص ٹولے کے افراد پر مشتمل ہیں جوپچھلے 75 سال سے پاکستان میں مختلف پارٹیوں اور جھنڈوں تلے حکومت کررہے ہیں_

    حکومتی پارٹی تحریک انصاف سمیت تمام پارٹیوں نے ہمیشہ جھوٹے وعدوں کے نتیجے میں پشاور کے جوانوں کا ووٹ حاصل کر کہ حکومت حاصل کیا

    لیکن پشاور کا جوان آج بھی بے روزگاری، منشیات، سٹریٹ کرائم اور بدامنی کا شکار ہے_ پشاور میں حکومت نے دوران حکومت کوئ تعلیمی ادارہ قائم

    نہیں کیا، جوانوں کے لئیے کھیلوں کے میدان یا پارک نہیں بنیں، ہنر مندی اور آئ ٹی کے کوئ سینٹر موجود نہیں ہیں_ جماعت اسلامی پاکستان کی وہ

    منظم جماعت ہے جو پشاور سمیت ملک بھر میں جوانوں کی حقیقی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے_ وقت آگیا ہے کہ پشاور کے جوان جماعت

    اسلامی یوتھ پشاور کے پلیٹ فارم پر منظم ہو کر چوروں، لٹیروں اور جاگیرداروں سے حکومت چھین کر پاک دامن اور با صلاحیت افراد کے حوالے کرے_

  • شیخوپورہ تحریک انصاف کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ اور پاکستان زندہ باد ریلی

    شیخوپورہ تحریک انصاف کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ اور پاکستان زندہ باد ریلی

    شیخوپورہ تحریک انصاف کے زیراہتمام جاوید لطیف کے بیان کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور پاکستان زندہ باد ریلی

    ریلی کی قیادت صوبائی صدر سنٹرل پنجاب سینٹر اعجاز چوہدری اور صوبائی وزیر میاں خالد م

    پاکستان تحریک انصاف کے نومنتخب سینیٹر و صدر سنٹرل پنجاب اعجاز چوہدری پاکستان زندہ باد ریلی کے شرکاء سے خطاب

    وطن فروش تمہاری زبان پر تھو اعجاز احمد چوہدر

    جاوید لطیف نے یہ کہا کے پاکستان نہ کھپے اعجاز احمد چوہدری

    بے نظیر کی شہادت پر لوگوں نے کہا پاکستان نا کھپے مگر زردری نے کہا پاکستان کھپے

    وطن عزیز کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بڑوں نے قرانیاں دیں

    ان کو لیڈر بیماری کا بہانہ بنا کر باہر بھاگ گیا

    غداروں کی سزا موت ہو سکتی ہے مگر اس کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں

    جاوید لطیف پاکستانی قوم سے معافی مانگے

    پی ڈی ایم کا کوئی بندہ استعفی نہ دے سکا

    ان غداروں کو اٹھا کر اسمبلیوں سے باہر کر دیں گے

    عمران خان ان کو شکست فاش دے چکا ہے

    سینیٹ کے الیکشن کے بعد پی ٹی آئی چاروں صوبوں کی جماعت بن گئی ہے

    مریم نواز اور ان کے حواریوں کی زبانیں کھینچ لیں گے

    فوج کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا

    مریم نواز کا باپ بھاگ گیا باہر چھلانگیں لگاتا پھرتا ہے

    مریم نواز یہاں اداروں کے خلاف بکواس کرتی ہے

    ان کو نہیں چھوڑیں گے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گےور ان کے حواریوں کی زبانیں کھینچ لیں گے

  • پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ کی تیاریاں شروع۔

    پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ کی تیاریاں شروع۔

    پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے لاہور میں پیپلز پارٹی پنجاب کے ایگزیکٹو رہنما اور ضلعی صدور کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا۔ اجلاس آج 15مارچ بروز پیر کو لاہور میں منقد ہوگا۔

    اجلاس میں چودھری منظور احمد، چودھری اسلم گل اور سید حسن مرتضی کے علاوہ وسطی پنجاب کے 26 اضلاع کے صدور اور ڈویژنل سربراہ بھی شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں عثمان ملک ،عاصم بھٹی اور تمام الائیڈ ونگز کے صدور کی شرکت بھی متوقع ہے۔

    اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کریں گے جو کہ اجلاس کے بعد دیگر قیادت کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو بھی کریں گے۔

  • جاوید لطیف سے معافی کا مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    جاوید لطیف سے معافی کا مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    مسلم لیگ ن کے اہم رہنما میں جاوید لطیف کے پاکستان کی سالمیت پر دیئے گئے بیان پر ان پرسخت تنقید کی جارہی ہے اوران کو شرپسند عناصرسے تعبیرکیا جارہا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں ن لیگ کے اہم رہنما میاں جاوید لطیف نے نوازشریف کا بیانیہ اورمودی جیسی دھمکیاں ددیں میاں جاوید لطیف نے کہا تھا کہ بے نظیر کی ہلاکت پرتوزرداری نے پاکستان کھپے کہہ دیا تھا مگراگرمریم نوازکو کچھ ہوا تو پھر پاکستان نہیں کھپے گا میاں جاوید لطیف نے مزید کہاکہ اگرمریم نوازکو اگرکچھ ہوا تو پھرمشرقی پاکستان والی تاریخ دہرائیں گے-

    میاں جاوید لطیف کی اس گفتگو کے بعد ان پرسخت تنقید کی جارہی ہے اوران کو شرپسند عناصرسے تعبیرکیا جارہا ہے-

    اس بارے میں وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میاں جاوید لطیف نواز شریف اور بیگم صفدر اعوان کے ایما پر ملکی سلامتی کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ ن لیگ کی ملک دشمن سازشیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ ن لیگ حکومت، عوام اور پی ڈی ایم سمیت سب کو بے وقوف بنانے کے چکروں میں ہیں۔ ن لیگ نے ہمیشہ اپنی شکست کے بعد سازشی رویہ اپنایا ہے۔ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ نام نہاد قائدین پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ن لیگ نے جمہوری اداروں کو کمزور رکھ کر اپنے اقتدار کو طول بخشا۔ میرا مطالبہ ہے کہ میاں جاوید لطیف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔موجودہ حکومت پاکستان کی اندرونی و بیرونی دشمنوں سے حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

    جاوید لطیف کے مذکورہ بیان پر جہاں سیاسی شخصیات برہم ہیں وہیں عوام کی جانب سے بھی بھر پور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ جاوید لطیف معافی مانگو ٹوئٹرپینل فہرست پر دوسرے نمبر پر ٹرینڈ کر رہا ہے –


    فوزیہ صدف نامی صارف نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غدار کو سوجوتے مارو-


    ایک صارف نے کہا کہ یہ کہتے ہوئے اس نے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کی صارف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان مسلم لگ ن کا نام بلیک لسٹ میں دے دینا چاہیئے-


    ایک صارف نے سوال کیا کہ پارس جہانزیب کے پروگرام میں جو میاں جاوید لطیف نے کہا اس کے بعد اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟


    ایک صارف نے لکھا کہ کیسے کیسے لعنتی لوگ اس ملک کا کھا رہے ہیں اسی کو لوٹ رہے ہیں اور اسی کے خلاف بھونک بھی رہے ہیں-


    ایک صارف نے جاوید لطیف کے اس بیان پر انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا-
    https://twitter.com/AGFixit/status/1370719770631360514?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں کہ کوئی بھی توڑ دے گا تمہیں ٹھیک ہی عوام جوتے مار رہی ہے۔
    https://twitter.com/Abu__Umar956/status/1370721419731034112?s=20
    ایک صارف نے کہا کہ بے غیرتی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔۔


    ایک صارف نے کہا کہ "سب سے پہلے پاکستان” اور جو اس کو چیلنج کرے گا مارا جائے گا چاہے وہ کسی بھی سیاستدان کی اولاد ہو یا اس کا درباری-
    https://twitter.com/Bayg_pisces/status/1370721133239148544?s=20
    ایک صارف نےلکھا کہ اس بے غیرت چور سے صرف معافی کا مطالبہ نہیں کرنا بلکہ اس کو اس کی اس بکواس کی ایسی سزا ملنی چاہیے کہ آئندہ اس کی نسل سے بھی کوئی ایسی جرات نہ کرسکے-

    جاوید لطیف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ مطالبہ آ گیا

  • NA-75 ڈسکہ کایا پلٹ گئی ، مریم نواز کا  دعویٰ جو مبشر لقمان بھی ماننے پر تیار

    NA-75 ڈسکہ کایا پلٹ گئی ، مریم نواز کا دعویٰ جو مبشر لقمان بھی ماننے پر تیار

    NA-75 ڈسکہ کے ری الیکشن پر مریم نواز کے دعوے کو پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان بھی ماننے پر مجبور ہو گئے-

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹوب چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ بڑا ہی اہم فیصلہ الیکشن کمیشن کا سامنا آ گیا ہے NA-75 ڈسکہ کے اوپر انہوں نے دوبارہ الیکشن کروانے کا کہہ دیا ہے اور یہ ایک لینڈ مارک فیصلہ ہے لینڈ مارک ججمنیٹ ہے مریم نواز نے اس حوالے سے ڈسکہ والوں کو مبارکباد دی ہے عمران خان اور ان کی حکومت کے اوپر اب بہت بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے


    سینئیر صحافی نے کہا کہ ڈسکہ میں خونی انتخاب ہوا خونی اس لئے کہ اس میں دو معصوم بچوں کی جانیں لی گئیں اور سارے سیست دان ان بچوں کی میت کے اردگرد اپنی سیاست چمکا رہے ہیں جو انتہائی گھٹیا اور چھوٹی بات ہے اورساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ میں کسی ایک جماعت کی بات نہیں کر رہا سارے کے سارے ہی اس میں برابر ملوث ہیں دوسری بڑی بات یہ ہے کہ س میں 7 لوگ زخمی ہوئے تھے ان کا بھی کوئی پُرسان حال نہیں نہ ہی ان کا کوئی والی وارث ہے جب مرتے ہیں اور زخمی ہوتے ہیں تو وہ پارٹیاں اون کر لیتی ہیں لیکن پھر ان کے گھر جاتے وقت موت پڑ جاتی ہے ان کی کفالت کرنے میں پرابلم ہو جاتی ہے تو اللہ کرے کہ ہمارے جو ووٹ ہیں جس کو عزت ملنی ہے تو ووٹر کو بھی عزت ملے اور ووٹر کی بھی زندگی کا تحفظ ہو اور ووٹر کی بھی عزت نفس پامال مت ہو-

    مبشر لقمان نے کہا کہ NA-75 الیکن کمیشن نے بہت ہی سولڈ ججمنٹ دی ہے اور اس میں الیکشن کمیشن کو سلام ہے کہ انہوں نے اتنی جلدی اس کیس کو نمٹایا اور اس کے اوپر فیصلہ دیا پی ٹی آئی ڈیمانڈ کر رہی تھی کہ 20 پولنگ بوتھز کے اوپر ری الیکشن کرائے جن کے اوپر جھگڑا ہوا اور پاکستان مسلم لیگ اور مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر ری الیکشن ہونا ہے تو پورے حلقے میں ہونا ہے ایک میں نہیں ہونا بات تو ان کی صحیح تھی کیونکہ میرا نہیں خیال کہ الیکشن کے طریقہ کار میں اس چیز کی کوئی provision ہے کہ ایک چند حلقوں کے اندر پولنگ ہو تو یہ تو اس کے لئے نئی آئین سازی قانون سازی کرنی پڑتی جو کہ اس الیکشن میں تو ممکن نہیں تھا تو بہرحال الیکشن کمیشن نے آزادانہ فیصلہ کیا اور ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اس میں ان پر کسی کا بوجھ نہیں ہے کسی کا زور نہیں ہے نہ حکونمت کا نہ عدالت کا نہ کسی ادارے کا -اور الیکشن کمیشن نے اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے 18 مارچ کو اس حلقے میں ری الیکشن کا کہہ دیا-

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ نواز شریف کے بیانیے کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے ووٹ کو عزت دو- ڈسکہ کے عوام کا شکریہ کہ انہوں نے نا صرف ووٹ دیا بلکہ ووٹ پر پہرہ بھی دیا اور ووٹ چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ قانون کے حوالے کر دیا تو میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز نے یہ بالکل صحیح بات کہی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی چھوٹی بات نہیں کہ خریدے ہوئے الیکشنز میں لوگوں نے اتنی گہما گہمی دکھائی اتنا ہائی ٹرن آؤٹ ہوا کیونکہ دو فیصد کے قریب 53 فیصد کے قریب اور وہاں پر لوگوں نے اس دھاندلی کو بلاک کیا اور ہر حلقے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں اور غیر قانونیت بھی ریکارڈ ہوئی فائرنگ بھی ریکارڈ ہوئی-

    مبشر لقمان نے کہا کہ سیالکوٹ اور ڈسکہ کے عوام کا میں بھی بڑا فین ہوں کبھی یہ دل کرتا ہے تو ائیر پورٹ بنا لیتے ہیں دل کرتا ہے تو ائیر لائن بنا لیتے ہیں اب ان کا دل کیا تو انہوں نے اپنی ووت کی ھفاظت کر لی یہ تو مریم نواز نے صحیح کلیم کیا ہے کہ ان لوگوں کو سلام ہے ڈسکہ والوں کو کہ ان لوگوں نے اپنے ووٹ کی حفاظت کی –

    انہوں نے کہا کہ لیکن مجھے ایک بات کی درخواست کری ہے میں نے پاکستان مسلم لیگ ن سے بھی کروں گا پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے بھی کروں گا جتنی بھی جماعتیں اور کارکنان ہیں سب سے کہوں کہ کوئی بھی ہمار سیاسی لیڈر اس قابل نہیں ہے کہ جس کے لئے آپ اپنی جان قربان کر دیں پلیز یہ ایک دوسرے کو مارا ماری اور لڑائی جھگڑا ہماری سیاست صرف سیاست رہنی چاہیئے وہ اس لیول پر نہیں آنی چاہیئے کہ کوئی زخمی ہو کسی گھر کا چراغ گُل ہو اگر یہ چیزیں ہونا شروع ہو جائیں تو ہم جیسوں کو جمہوریت کے اوپر سے اعتبار کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر اس میں معصوم انسانی جانیں ضائع ہونا شروع ہوں اور اس پر جو مرضی کوئی کہے کہ میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتا ہوں یا نہیں کرتا ہوں قطعاً اگر اس پر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے وہ لااینڈ آرڈر کو تیار کر کے رکھے-

    اینکر پرسن نے حال ہی میں ہونے والے الیکشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے اس دن ہم نے دیکھا کہ آئی جی ، ڈی آئی جی آپریشنز غائب تھے چیف سیکرٹری ، انٹیرئیر سیکرٹری یہ سب غائب تھے تو پنجاب حکومت کی انتظامیہ کے اوپر یہ بہت بد نما داغ ان کے چہرے پر یہ پڑا ہوا اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس دفعہ آنکھیں کھول کر دل کھول کر اور اپنے ضمیر کو جگا کر یہ الیکشنز کروائیں گے کیونکہ یہ NA-75 الیکشن آنے والے دنوں میں پاکستان کے لئے پاکستان کی سیاست کے لئے ایک لینڈ مارک الیکشن ثابت ہو سکتا ہے یہ NA-75 بہت ہی اہم الیکشن ہے سینیٹ کے الیکشن سے بالکل پہلے لیکن ابھی کی ڈویلپمنٹ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس میں دوبارہ پولنگ کا کہہ دیا ہے اب دوبارہ مارچ کو ڈسکہ NA-75 میں الیکشن ہو گا –

    مبشر لقمان نے پیشن گوئی کہ کہ لگتا یہ ہے کہ عدالتی طور پر یا الیکشن کمیشن کی حد تک پاکستان مسلم لیگ ن کو واضح جیت مل گئی ہے آج وہ سیلیبریٹ کر سکتے ہیں ان کے سپورٹرز اور ان کے ووٹرز میں جو ش و جذبہ بڑھ جائے گا اور مجھے لگتا ہے کہ جب آنے والے دنوں میں جب یہ NA-75 الیکشن ہو گا تو مسلم لیگ ن آرام سے الیکشن جیت ہو سکتی ہے کیونکہ موڈ جو وہ پورے کا پورے وہاں پر سینٹرل پنجاب کے کئی حلقوں میں نہ صرف ڈسکہ مسلم لیگ ن کے حق میں جا رہا ہے –

  • وزیرآباد :مریم نواز کے جلسے میں ووٹ کو عزت دینے والا ذلیل ہو گیا

    وزیرآباد :مریم نواز کے جلسے میں ووٹ کو عزت دینے والا ذلیل ہو گیا

    وزیرآباد :مریم نواز کے جلسے میں ووٹ کو عزت دینے والا ذلیل ہو گیا-

    باغی ٹی وی : وزیرآباد میں :مریم نواز کے جلسے میں مسلم لیگ نواز کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے ورکر کو دھکے کروا دیئے


    اطلاعات کے مطابق وزیرآباد جلسے میں پارٹی کا متوالا سٹیج پر اپنی لیڈر شپ کے ساتھ سیلفیاں بنا رہا تھا کہ اس دوران سٹیج کے اوپر فرنٹ پر آنے کے لیے احسن اقبال نے ن لیگی ورکر کو دھکے مارے-

    تاہم ورکر نے بھی اپنی جگہ نہ دینے کی ٹھان لی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احسن اقبال ووٹ کو خوب عزت دے رہے ہیں ورکر کی ڈھٹائی کے سامنے بے بس احسن اقبال واپس کرسیوں پر جا بیٹھے –

    صارفین کا کہنا ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ پارٹی قیادت اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہے حقیقت میں ووٹ کو کیا عزت ملتی ہے اس ویڈیو سے صاف ظاہر ہو رہا ہے-

  • ضلع کیماڑی میں مصطفیٰ کمال کا خطاب

    ضلع کیماڑی میں مصطفیٰ کمال کا خطاب

    کراچی: گزشتہ روز پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفئ کمال ضلع کیماڑی کے علاقے بھٹہ ولیج تاتا ہاؤس میں مختلف برادریوں کے معززین سے خطاب کیا، اس موقع پر وائس چیئرمین شبیر احمد قائم خانی ممبر نیشنل کونسل و کیماڑی ڈسٹرکٹ کے صدر ہمایوں عثمان راجپوت سمیت ڈسٹرکٹ کیماڑی و ٹاؤن کے عہدیداران بھی موجود تھے ۔