Baaghi TV

Category: سیاست

  • سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جس نے اپنے دورِ اقتدار میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بنایا۔ سڑکیں، موٹرویز، اور انفراسٹرکچر وہ شعبے تھے جہاں اس جماعت نے سرمایہ کاری کی، اور اپنے بیانیے کو اس ترقیاتی ماڈل کے گرد گھمایا۔ لیکن اقتدار میں بارہا آنے کے باوجود عوامی فلاح کے حقیقی مسائل — مہنگائی، توانائی، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشرتی انصاف ، ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے رہے۔

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بجلی کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور بے روزگاری نوجوان نسل کی امیدیں نگل رہی ہے، تو ن لیگ کی کارکردگی پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ عوام اس وقت ایک ایسے معاشی جبر کا شکار ہیں جس کی جڑیں حکومتی پالیسیوں میں پیوست ہیں اور جس کے چہرے کو اویس لغاری جیسے وزرا کی صورت میں شناخت ملی ہے۔

    بطور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی کارکردگی عوامی ریلیف کے بجائے عوامی اذیت کا سبب بنی۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اور ناقابلِ برداشت اضافہ، شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی کے شعبے میں ناقص حکمرانی نے عوام کو ذہنی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے سنگین حالات میں بھی وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ایسے وزیروں کی سرپرستی کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عوامی مسائل کے حل کی بجائے انہیں مزید گھمبیر بنانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

    عوامی اذیت کی ایک نمایاں مثال بجلی کے بلوں میں لاگو "سلیب سسٹم” ہے، جس کے ذریعے محض ایک یونٹ کی زیادتی پر عام شہری کو پندرہ ہزار روپے تک کا بل تھما دیا جاتا ہے۔ "سلیب گردی” کی اصطلاح عوامی شعور نے اس سنگین ناانصافی کے ردعمل میں وضع کی ہے۔ 200 یونٹ تک بجلی کا بل تقریباً 3000 روپے ہوتا ہے، لیکن 201 یونٹ ہوتے ہی یہی بل چھلانگ لگا کر پندرہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اضافہ محض ٹیکس نہیں بلکہ ایک قسم کی معاشی دہشتگردی ہے، جو ریاستی پالیسیوں کے نام پر عوام پر مسلط کی جا رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں شہری ریاست کو سہارا دینے کے بجائے خود کو اس کے ظلم سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ تنقید صرف معیشت یا توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی بحران اور قیادت کی بے حسی کا بھی آئینہ دار ہے۔ پارٹی کے مقامی کارکنان اور ارکانِ اسمبلی متعدد بار اس بات کا شکوہ کر چکے ہیں کہ قیادت نہ انہیں سن رہی ہے، نہ ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہی ہے، اور نہ ہی عوامی رابطے کو اولیت دی جا رہی ہے۔ نتیجتاً پارٹی کے اندر بداعتمادی، فاصلہ اور مایوسی جنم لے چکے ہیں، جو کسی بھی جماعت کے لیے زوال کی علامت ہوتے ہیں۔

    اسی زوال کا اظہار عوام کی اس شدید مایوسی سے ہوتا ہے جو اب محض خاموش ناراضی نہیں بلکہ ایک متحرک اور بلند احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ وہ بیانیہ جسے ن لیگ نے اپنے سیاسی وجود کی بنیاد بنایا تھا "ووٹ کو عزت دو” آج عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ کیونکہ جب ووٹ دینے والا شہری مہنگائی سے بلکتا ہے اور اس کے صبر کا امتحان ہر بل، ہر اشیائے ضرورت، ہر سرکاری سروس میں لیا جاتا ہے تو وہ اس بیانیے کو ایک کھوکھلی نعرہ بازی سے زیادہ نہیں سمجھتا۔

    یہ حالات صرف ایک سیاسی جماعت کی ساکھ کا بحران نہیں بلکہ جمہوری اعتماد کے ٹوٹنے کا اشارہ بھی ہیں۔ اگر ایک جماعت مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل کو حل نہ کرے تو عوام بھی بالآخر اس جماعت کو سیاسی سزا دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب ان نمائندوں سے جواب مانگتی ہیں، جنہوں نے اقتدار تو لیا مگر خدمت نہیں کی۔

    اگر مسلم لیگ (ن) واقعی اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اب فیصلے کرنے ہوں گے ، وہ فیصلے جو صرف وزارتوں کی تبدیلی تک محدود نہ ہوں بلکہ پالیسیوں، ترجیحات اور طرزِ حکمرانی میں انقلابی اصلاحات پر مبنی ہوں۔ اویس لغاری جیسے وزرا کی موجودگی پارٹی کے لیے سیاسی بوجھ بن چکی ہے اور جب عوام ایسے افراد کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں تو جماعت کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہتا۔

    یہ لمحہ ن لیگ کے لیے محض بحران نہیں ہے بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے! پارٹی کو یا تو خود کو تبدیل کرنا ہوگایا پھر عوام اسے بدل ڈالیں گے۔ "سلیب گردی” جیسے الفاظ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

    اگر ن لیگ نے اب بھی عوام کے درد کو محسوس نہ کیا تو پھر یہ حقیقت بن جائے گی کہ اس جماعت کا تابوت عوام خود اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب انتخابی میدان سجے گا اور عوامی عدالت ن لیگ کو آخری بار طلب کرے گی۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جہاں یا تو وہ سرخرو ہوں گے، یا پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائیں گے۔

  • پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن صرف امیر مقام،پورا خاندان بھرتی کرلیا،دیکھیں کوئی رہ تو نہیں گیا
    کسی کوبرا لگے یا اچھا ، دنیا میں عزت اور مقام صر ف پاک فوج کو ملا،سیاست صرف گپ شپ تک محدود
    اکثر سیاسی اقتدار میں صرف پروٹو کول انجوائے کرتے رہے ،مریم نواز نے پہلی بار ہی پنجاب کا نقشہ بدل دیا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، جو کچھ سینٹ کے الیکشن میں ہوا، اس نظام زر میں سیاست نہ جمہوریت، عوام کاکوئی مقدر نہیں، سیاسی گلیاروں میں منڈی کا راج ہے،جمہوریت نہیں ہے،عوام کو اس نرکھ میں سسکنا ا ور سلگنا پڑے گا، ملکی سیاسی جماعتوں میں حاکمیت دولت کی رہے گی، سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے، پہلا اور آخری معیار دولت ٹھہرا، نورا کشتیاں ، مفادات کے تابع ہیں ، امریکہ سے مغربی ممالک اور مغربی ممالک سے مڈ ل ایسٹ تک دنیا ہماری سیاست اور جمہوریت سے مکمل آگاہ ہے، کے پی کے مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی امیر مقام اپنی فیملی میں دیکھیں اگر کوئی باقی رہ گیاہے تو اُسے بھی ٹکٹ یا عہدہ دلوانے میں دیر نہ کریں، لگتا ہے مسلم لیگ ن کے پی کے میں صرف آپ اور آپ کے خاندان تک محدود ہے، امریکہ سے لے کر مغربی ممالک مڈل ایسٹ کسی کو اچھا لگے یا بُرا ان ممالک کا اعتماد پاک فوج اور جملہ اداروں پر ہے ، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور طاقت ور ادارہ فوج اور جملہ ادارے ہیں ، دنیا ہمارے سیاسی گلیاروں اور ہماری جمہوریت سے باخبر ہے،

    عوام ان سیاسی سوداگروں کی باتوں میں آکر ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ اقتدار کا حصول رہا ہے ، ان دلخراش حالات میں اگر جمہوریت سیاسی گلیاروں میں زندہ ہے تو ہر سیاسی جماعت میں بااصول شخصیات کی بدولت لیکن بااصول شخصیات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو ملک میں جمہوریت ، پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین کی حکمرانی ،ایمانداری اور دیانتداری کا پرچار کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں موجود جمہوریت ،ایمانداری ،دیانت داری کا پرچار کرنے والے موجودہیں مگر ان کی آواز دب چکی ہے،اس وقت 25 کروڑ عوام سیاسی تماشے دیکھ ر ہےہیں ، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پنجا ب میں عوام کی خدمت کی مثال قائم کردی ، مریم نواز کی مقبولیت پنجاب کے نوجوان طلباء اور خواتین میں دیکھی جا سکتی ہے ، مریم نواز کا سیاسی مستقبل اُمید اور امکانات سے بھرپور ہے

  • آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج 20 جولائی 2025 کو پاکستان کے بڑے اخبارات جیسے ڈان، جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت اور بی بی سی اردو کے اداریوں اور خبروں میں عوام کو درپیش گوناگوں مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان مسائل پر نہ صرف پرنٹ میڈیا میں کھل کر بات کی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر بھی یہ موضوعات ٹرینڈ کر رہے ہیں، جو عوام کی بے چینی، مایوسی اور حکمرانوں کی بظاہر بے حسی کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ ان تمام مباحثوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوامی درد شدت اختیار کر چکا ہے اور حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی کمی اس درد میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

    ملک میں سیلاب اور واٹر مینجمنٹ کا مسئلہ ہر سال معمول کا بحران بن چکا ہے اور اس سال بھی اس پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ ڈان کے ایک اداریے نے سیلاب کو پاکستان کا "معمول بن جانے والا بحران” قرار دیا، جو واٹر مینجمنٹ کے فقدان اور ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی و قوم پرست رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اداریہ صرف پانی کی تباہ کاریوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما سیاسی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس اور قوم پرستی کی سیاست کے خاتمے سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جو سالہا سال سے دہرائی جا رہی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے عوام کے اندر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ واٹر مینجمنٹ کے مسائل، جیسے پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں کا غیر متوازن سلسلہ، ملک کی زرعی معیشت اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر شدید بحث جاری ہے، جہاں ایک صارف @Khyousufzai90 جیسے افراد ڈان کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی رکاوٹوں پر تنقید کر رہے ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ یہ عوامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ مسئلے کی جڑ کو سمجھتے ہیں لیکن حکمرانوں کی جانب سے ٹھوس حل نہ ہونے پر نالاں ہیں۔

    امن و امان کی صورتحال ملک بھر میں بالخصوص خیبرپختونخوا میں بدستور ایک تشویشناک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے، جہاں علی امین گنڈاپور نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال کس قدر سنگین ہے کہ صوبائی حکومت کو تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ڈان نے انسداد دہشت گردی کے عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی منتقلی کے بارے میں لکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی پیچیدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف فوجی کارروائیوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ ایک جامع قانونی اور عدالتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر والدین کے صبر اور حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کی ناکامی پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق انصاف کی مانگ آج بھی سوشل میڈیا پر ایک اہم موضوع ہے، جہاں ان کے خاندان کی جدوجہد کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ عوامی احساسات کا آئینہ دار ہے کہ وہ انصاف اور امن کی فراہمی میں حکومت کی جانب سے مزید فعال کردار کے منتظر ہیں۔

    ملک کی معاشی صورتحال بھی عوام کے لیے ایک مستقل درد سر ہے۔ ڈان نے فری لانس اور ریموٹ ورک سیکٹر کی ترقی پر روشنی ڈالی ہے، جہاں برآمدات میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت پہلو ہے اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہ خوش آئند خبر ملک کی مجموعی معاشی مشکلات کو چھپا نہیں سکتی۔ اے آر وائی نیوز اور آج ٹی وی نے سونے کی قیمتوں میں اضافے اور موٹر سائیکل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بات کی ہے، جو عام صارفین پر معاشی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو براہ راست ہر طبقے کے افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین مہنگائی کے اثرات اور حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی یہ لہر عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس سے زندگی گزارنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور حکومت سے اس پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ جب تک بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں آتی، معاشی ترقی کے دعوے بے معنی ہیں۔

    کشمیر ایشو بھی ایک ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عوامی جذبات کا اہم حصہ ہے۔ ڈان اور نوائے وقت نے کشمیر سے متعلق تاریخی اور موجودہ حالات پر تبصرہ کیا ہے، خاص طور پر 19 جولائی 1947 کو پاکستان سے الحاق کی قرارداد کی یاد تازہ کی گئی ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو "وحشیانہ اقدام” قرار دیا گیا ہے، جو کشمیری عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ مسئلہ ہر پاکستانی کے دل میں بسا ہوا ہے اور اس پر حکومتی غیر فعالیت عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس مسئلے پر کسی قسم کی کمپرومائزنگ پوزیشن قبول کرنے کو تیار نہیں۔ حکمرانوں کی جانب سے اس مسئلے پر عملی اقدامات کا فقدان عوامی بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔

    صحت اور سماجی مسائل بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو اور نوائے وقت نے اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں پیش رفت پر تبصرہ کیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹس میں کوئی زہریلی یا نشہ آور چیز نہ ملنے کی بات کی گئی ہے۔ اس کیس میں شفافیت اور انصاف کی فراہمی کے لیے عوامی دباؤ مسلسل موجود ہے۔ اس کے علاوہ، نوائے وقت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ وہ سماجی مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے عوام کے ذہنوں میں موجود ہے اور ان کی رہائی کے لیے ایکس (سوشل میڈیا) پر بھی ایک بھرپور مہم جاری ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ حکومت کو اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے مزید سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں اور موجودہ رویہ حکمرانوں کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسائل انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

    تعلیم اور سرکاری اصلاحات کی ضرورت پر بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈان نے سرکاری افسران کی بھرتی، ترقیاور تربیت کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے، جیسا کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس میں بتایا۔ یہ اصلاحات ملکی ترقی اور گڈ گورننس کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم، ان اصلاحات کا صرف اجلاسوں میں ذکر کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر تعلیم کے معیار اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت اس شعبے میں حقیقی بہتری لائے گی۔

    مجموعی طور پر آج کے اخبارات اور سوشل میڈیا پر زیر بحث تمام مسائل پاکستان کے عام شہری کے روزمرہ کے درد کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے لے کر امن و امان کی خراب صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کشمیر کے حل طلب مسئلے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے سماجی معاملات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر شعبے میں عوام حکومت کی جانب سے فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کے منتظر ہیں۔ کیا حکمران واقعی عوام کی اس بے چینی، اضطراب اور مایوسی کو محسوس کر رہے ہیں یا یہ درد صرف اداریوں اور سوشل میڈیا کی زینت بن کر ہی رہ جائے گا اور حکومتی بے حسی بدستور برقرار رہے گی؟

  • بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کو نام نہاد جمہوری قوتوں نے تین بار گھر بھیجا ،کئی چہرے بے نقاب ہوگئے
    مخالف سیاسی جماعتیں ہر نواز دور میں روڑے اٹکاتی رہیں،اپنوں نے بھی پیٹھ میں چھرا گھونپا
    آج پارلیمنٹ چور،غدار ڈاکو جیسے نعروں کا گھر ،سیاست مسخرے پن کی آخری حدوں کو چھو گئی
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پارلیمنٹ ہائوس میں کسی زمانے میں مستحکم جمہوریت آئین قانون کی حکمرانی عوامی مسائل پر تقریریں ہوا کرتی تھیں آج اسی پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو غدار چور ڈاکو کہہ کر ہائوس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ، مسخرے پن کی حدیں کراس ہوگئیں ،سیاستدانوں نے آئین اور جمہوریت کو تماشابنا کر رکھ دیا ، جمہوریت کے اندر جمہوریت نہیں سیاسی قیادت کی اکثر یت کرپشن اقرباء پروری کا شکار رہی، عوام کی بڑی تعداد سیاسی شعور اور جمہوریت کی اہمیت سے ناآشنا ، اکثر جمہوری حکومتیں شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکیں، بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، غربت، مہنگائی اوربیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہوتے گئے، ملک تین بار مارشل لاء سے بھی گزرا ان تین مارشل لاء کو سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھرپور تعاون رہا اور اپنی ہی سیاسی جماعت کے قائدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،اسکی زندہ مثال نواز شریف ہیں، جنکو تین بار اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اس میں ن لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کردار موجود تھا، جمہوریت اور جمہوری حکومت کے خاتمے میں عدلیہ کا کردار رہا جس کو ہم نظریہ ضرورت کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس کی مثال ہمارے سامنے ایک قد آور سیاسی شخصیت بھٹو ہے، جنکی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا، اسی نظریہ ضرورت کا نشانہ نواز شریف کو نام نہاد پانامہ لیکس کے ذریعے بنایا گیا، اس کیس میں آج کے حقیقی آزادی اور جمہوریت کے طلبگار عمران خان نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور ایک منتخب جمہوری حکومت کو چلتا کرنے پر بھنگڑے ڈالے گئے، عمران خان نے تو مذہب کا بھی استعمال کیا اور معاشرے کو تقسیم کر دیا .

    ملک میں جمہوریت کی ناکامی کسی ایک فریق کی غلطی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جمہوریت صرف ایک نظام حکومت نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جسے اپنانا اور فروغ دینا سب کی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے انتخابی اصلاحات پر بات کی جائے ملک کے تمام ریاستی اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے، آئینی ترمیم صرف قومی مفادات اور جمہوری طریقے کار کے تحت کی جائیں

  • جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    اگر چار ہزار من گندم 2200 روپے فی من میں بک سکتی ہے تو 5500 روپے والی چینی کی بوری 9000 روپے تک کیوں جا پہنچی؟ یہ محض ایک اقتصادی سوال نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی گہرائیوں میں پیوست ایک تلخ سچائی ہے۔ ہمارے ہاں اشیاء کی قیمتیں نہ طلب و رسد کے اصولوں سے طے ہوتی ہیں، نہ مارکیٹ کی خودکار طاقتوں سے۔ قیمتوں کا تعین ہوتا ہے طاقتور طبقے کی مرضی، مفادات اور مافیاز کی اجارہ داری سے جو پیداوار عوام سے لیتے ہیں مگر منافع اپنی تجوریوں میں بھر لیتے ہیں۔

    گندم کاشت کرنے والا کسان جو سال بھر دھوپ، گرمی، قرضوں، کھادوں، مہنگے بیج اور ناکارہ زرعی نظام کا سامنا کرتے ہوئے زمین کا سینہ چیرتا ہے۔مگر جب اس کی فصل تیار ہوتی ہے تو اسے سرکاری امدادی قیمت کے نام پر اونے پونے بیچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ آزاد منڈی کا رخ کرے تو وہاں بیوپاریوں کی اجارہ داری، کمیشن خور مڈل مین اور منڈی کا غیر شفاف نظام اس کی ریڑھ توڑ دیتا ہے۔ کسان کی محنت پر منافع لینے والے وہی طاقتور طبقات ہیں جو پالیسی بھی خود بناتے ہیں اور قیمت بھی خود طے کرتے ہیں۔

    یہی صورتحال گنے کی فصل کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔ گنا بھی وہی کسان کاشت کرتا ہے مگر شوگر ملز کے دروازے پر پہنچتے ہی کھیل بدل جاتا ہے۔ گنے کی قیمت، تول، کٹوتی اور ادائیگی کا نظام شوگر مافیا کے ہاتھ میں ہے جو حکمران جماعتوں اور وزارتی خاندانوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ کسان کو کم نرخ، کٹوتی اور تاخیر کے ذریعے کمزور کیا جاتا ہے جبکہ چینی کی قیمتوں پر کوئی قانون یا ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کیونکہ چینی "عوامی ضرورت” نہیں بلکہ "اشرافیہ کی پیداوار” بن چکی ہے۔

    کھاد کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ یوریا اور ڈی اے پی جیسی زرعی کھادیں ان کارخانوں میں تیار ہوتی ہیں جن کے مالکان اکثر وزراء، مشیر یا طاقتور خاندان ہیں۔ کسان کو یہ کھاد نہ صرف مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے بلکہ جعلی یا ناقص مال کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔ کسان کی محنت کی لاگت بڑھتی ہے اور منافع ان صنعتکاروں کی جیب میں جاتا ہے جنہوں نے خود ہی قیمتیں بڑھانے کے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    پھر آتا ہے پٹرول اور ڈیزل جو نہ صرف کسان کے ٹریکٹر بلکہ ہر شہری کی نقل و حرکت اور روزمرہ کی معیشت سے جُڑا ہوا ہے۔ پٹرول پر مکمل کنٹرول حکومت کے پاس ہوتا ہے اور جب بھی بجٹ خسارہ یا آئی ایم ایف کی شرائط درپیش ہوں تو یہ کنٹرول عوام پر مہنگائی کے ہتھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مگر ریاستی خزانے میں آنے والے یہ ٹیکس براہ راست عوام پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ حکمران اشرافیہ کی مفت سہولیات اور شاہانہ اخراجات میں جھونک دیے جاتے ہیں۔

    سب سے اذیت ناک پہلو بجلی کا ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے والی بیشتر کمپنیاں نجی شعبے میں ہیں جن کے مالکان براہ راست سیاسی و انتظامی طاقتور طبقات سے وابستہ ہیں۔ یہ کمپنیاں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، انہیں "کیپسٹی پیمنٹس” کے نام پر عوامی خزانے سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کا بوجھ براہ راست عوام کے بلوں پر ڈالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شہری 201 یونٹ بجلی استعمال کرے تو اس کا بل دس ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ انہی حکمرانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو بجلی، پٹرول اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

    علاج معالجے کے میدان میں بھی یہی طبقاتی فرق نمایاں ہے۔ غریب شہری سرکاری ہسپتال میں پیناڈول کی گولی کے لیے ترستا ہے اور اگر کسی بڑے ٹیسٹ، بستر یا ڈاکٹر تک رسائی درکار ہو تو سفارش یا رشوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے برعکس حکمران طبقے کے افراد معمولی بیماری پر بھی بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے لندن، دبئی، نیویارک کے ہسپتال کھلے ہیں اور خرچ ہوتا ہے پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ۔

    یہ سب کچھ اس بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک میں پیداوار تو عوام کرتے ہیں لیکن منافع اور کنٹرول طاقتور طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ اشیاء کی قیمتیں معیشت کے اصولوں پر نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات پر مبنی فیصلوں سے طے ہوتی ہیں۔ قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور طاقتور قانون سے بالا تر ہوتا ہے۔
    یہ نظام جمہوری نہیں، معاشی آمریت ہے ، ایک ایسا نظام جس میں عوام صرف ووٹر، ٹیکس دہندہ، بل دہندہ اور سائل ہے جبکہ حکمران طبقہ بادشاہ ہے جسے نہ احتساب کا خوف ہے نہ قانون کی پرواہ۔

    سوال یہ نہیں کہ چینی مہنگی کیوں ہے۔سوال یہ ہے کہ طاقتور اپنی پیدا کردہ اشیاء کی قیمت خود طے کرنے کا اختیار کب تک رکھے گا؟اور غریب جو ہر شے کا خریدار ہے، کب تک صرف بل ادا کرتا رہے گا؟

    اگر ہم واقعی جمہوریت کے دعوے دار ہیں تو جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ معاشی عدل بھی ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن عوام کے حقوق کے تحفظ میں ہے اور اگر وہ تحفظ صرف طاقتوروں کے لیے مخصوص ہو جائے تو یہ نظام جمہوریت نہیں بلکہ ایک "جمہوری آمریت” بن جاتا ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو چیلنج کیا جائے۔ جمہوریت کو اشرافیہ کے دامن سے نکال کر کسان، مزدور اور متوسط طبقے کے ہاتھ میں دیا جائے۔ معیشت کو عوامی مفادات کے تابع بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ معاشی آمریت ہر روز ہزاروں گھروں کے چولہے بجھاتی رہے گی اور ہم صرف تحریریں لکھتے، سوالات اٹھاتے اور احتجاج کرتے رہ جائیں گے۔

  • لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟

    لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟

    لگی ہے آگ پھولوں کو، جبر کے موسم میں سچ کون بولے گا؟
    تحریر:شاہدریاض
    یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ درختوں کی شاخیں ساکت ہیں، پرندے خاموش ہیں، اور فضا میں گھٹن ایسی ہے کہ سانس لینا بھی جرم لگتا ہے۔ چمن میں آگ لگی ہے، مگر کوئی نہیں بولتا۔ شاید اس لیے کہ جو بولتا ہے، وہ جلا دیا جاتا ہے، یا پھر کفن پہنا دیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی سانس لیتا بھی ہے تو اس کے لہجے میں خوف، تحریر میں احتیاط، اور آنکھوں میں وہ چمک باقی نہیں رہتی جو سچ کا پہلا تعارف ہوتی ہے۔کسی شاعر نے اپنی نظم میں جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ
    لگی ہے آگ پھولوں کو، چمن میں کون بولے؟
    ابھی زندہ ہوں، بولو تم، کفن میں کون بولے گا؟

    زبانیں کاٹ دو گے سب، اگر سچ بولنے والی،
    حکومت ظلم کی ہوگی، وطن میں کون بولے گا؟

    یہ خاموشی کسی طوفان کا لازم پیش خیمہ ہے،
    ذرّہ سی کھڑکیاں کھولو، گھٹن میں کون بولے گا؟

    صحافی کی زباں ہے یا قلم ہے ایک لکھاری کا،
    یہ سب چپ رہے تو آخر، سچائی کون بولے گا؟

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنے والوں کی زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ جہاں صحافت ایک پیشہ نہیں، بلکہ جرم بن چکی ہے۔ جہاں قلم چلانا، بندوق اٹھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جہاں لکھنے والے پر مقدمہ نہیں، فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جہاں سوال پوچھنے والا "غدار” قرار پاتا ہے اور خاموش رہنے والا "محب وطن” مانا جاتا ہے۔

    کیا واقعی یہی وہ آزادی ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ کیا یہی وہ جمہوریت ہے جس پر ہم ہر سال ووٹ ڈالنے کی رسم ادا کرتے ہیں؟ کیا واقعی اس وطن میں صرف وہی زندہ ہے جو حکومت کی زبان بولے؟ اور جو عوام کی زبان بنے، وہ غائب، خاموش یا مردہ قرار پاتا ہے؟

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بے روزگاری ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے، سیلاب سے شہر کے شہر ڈوب رہے ہیں، تعلیم ایک خواب بن چکی ہے اور علاج ایک نایاب سہولت… تب اگر کوئی صحافی ان سوالات کو آواز دیتا ہے تو وہ "ریاست مخالف” قرار پاتا ہے۔ جب ایک لکھاری ظالم کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جب ایک شاعر خون کے آنسو روتے عوام کا نوحہ لکھتا ہے تو اسے "مذہب، ریاست یا اداروں” کے خلاف پروپیگنڈا کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ جو اشعار ہیں "ابھی زندہ ہوں، بولو تم؛ کفن میں کون بولے گا؟” یہ صرف شاعری نہیں، ایک سوال ہے اس معاشرے سے، اس سسٹم سے اور ہم سب سے۔ اگر آج ہم چپ رہے تو کل ہماری خاموشی کا ماتم کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے دراصل ظلم کے معاون ہوتے ہیں۔ اور اگر ہر درخت، ہر پنچھی، ہر دریا، ہر پہاڑ، ہر دیوار خاموش ہو جائے تو پھر سچ کے لیے کون بولے گا؟

    سوال صرف یہ نہیں کہ زبانیں کیوں بند ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ "کس نے بند کی ہیں؟” اور اگر ہم نے خود اپنے ہونٹ سِیے ہیں تو پھر ہم اس آگ کے ذمہ دار بھی خود ہیں جو چمن کو جلا رہی ہے۔

    یہ بھی سچ ہے کہ صرف ایک شخص کے بولنے سے کچھ نہیں بدلتا، لیکن اگر سب خاموش رہیں تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ آوازیں کچلی جا سکتی ہیں، لیکن جذبے نہیں۔ قلم روکا جا سکتا ہے، لیکن خیالات کی پرواز کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔ کاغذ جلا سکتے ہو، لیکن سوچوں کی آگ بجھانا تمہارے بس میں نہیں۔

    لہٰذا اب بھی وقت ہے۔ ذرہ سی کھڑکیاں کھولو، ہوا آنے دو، سچ کو سانس لینے دو۔ صحافیوں، لکھاریوں، شاعروں، اور فنکاروں کو مت روکو — کیونکہ اگر یہ سب چپ رہے تو اس وطن میں کون بولے گا؟ اگر آج ہم سچ کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے، تو کل ہماری نسلیں سچ کا چہرہ پہچاننے کے قابل بھی نہ رہیں گی۔

    لگی ہے آگ پھولوں کو اور اگر ہم نے اب بھی لب نہ کھولے، تو نہ چمن بچے گا، نہ ہم۔

  • سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟

    سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟

    سیلاب، آفات، مہنگائی. عوام کا مقدر کیوں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان ایک ایسی ریاست بنتا جا رہا ہے جہاں عوام ہر سال قدرتی آفات، حکومتی نااہلی، اور معاشی بدحالی کے شکنجے میں کَس دیے جاتے ہیں۔ جونہی مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں، شہر ڈوبنے لگتے ہیں، نالے ابلنے لگتے ہیں اور انتظامیہ کی غفلت آشکار ہو جاتی ہے۔ 2025 کے حالیہ مون سون سیزن نے ایک بار پھر راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، چکوال اور آزاد کشمیر کے عوام کو بے رحم سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ہزاروں افراد محفوظ مقام کی تلاش میں در بدر ہیں، کئی جانوں کا چراغ گل ہو چکا اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ مگر ریاستی ڈھانچے میں کوئی لرزش، کوئی احتساب اور کوئی پائیدار حل اب تک دکھائی نہیں دیتا۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں 230 ملی میٹر سے زائد بارش نے نالہ لئی کو دھاڑتا دریا بنا دیا۔ کٹاریاں، گوالمنڈی اور ڈھوک کھبہ کے مکین پانی میں پھنس گئے۔ پانی کی سطح 20 فٹ تک جا پہنچی اور ندی نالوں کی طغیانی نے شہری نظام کو مفلوج کر دیا۔ خطرے کے سائرن بج گئے، ریسکیو ادارے متحرک ہوئے، فوج سے مدد طلب کی گئی اور ایک دن کی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ہر سال یہی ہونا ہے تو پھر کیا ریاست نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا؟ کیا اربوں کے بجٹ صرف رپورٹوں اور اشتہارات کی نذر ہوتے رہیں گے؟

    چکوال میں کلاؤڈ برسٹ سے 423 ملی میٹر بارش نے تباہی کی نئی داستان رقم کی۔ بچوں سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے، سینکڑوں زخمی اور مکانات زمین بوس ہو گئے۔ قدیم مذہبی مقام کٹاس راج مندر بھی پانی میں ڈوب گیا۔ علاقہ مکین چھتیں چھوڑ کر اونچی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ تمام ادارے فیلڈ میں موجود ہیں مگر سچ یہ ہے کہ عوام کی نظروں میں یہ اقدامات ہمیشہ دیر سے آتے ہیں اور ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ضرور ہوتی ہے لیکن زخمیوں کو دوا، راشن اور رہائش کی سہولیات اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔

    این ڈی ایم اے کا بتانا ہے کہ 26 جون سے اب تک مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 178 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں جبکہ اس دوران 491 افراد زخمی ہوئے۔ صرف 24 گھنٹوں میں 63 اموات رپورٹ ہوئیں۔ لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ جیسے شہروں میں یہ المناک واقعات پیش آئے۔ بارش کے پانی نے گھروں کو روند ڈالا، بچوں کو چھین لیا اور مویشیوں تک کو بہا لے گیا۔ مگر حکمران اشرافیہ صرف پریس کانفرنسوں اور رسمی دوروں تک محدود ہے۔

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال یہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا نالہ لئی کی صفائی کے دعوے محض دکھاوا تھے؟ کیا واسا اور بلدیاتی ادارے صرف تنخواہوں کے لیے بنائے گئے ہیں؟ پاکستان میں مون سون کوئی نئی شے نہیں۔ ہر سال جون سے ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ہر سال حکومت "اچانک” جاگتی ہے۔ جب تک گلیاں ندی نالوں میں نہ بدل جائیں اور لوگ مدد کے لیے چیخ نہ اٹھیں، حکومتی مشینری متحرک نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال کسی آفت کا نہیں بلکہ ریاستی نااہلی کا ثبوت ہے۔

    اگر ہم بھارت، بنگلہ دیش یا انڈونیشیا جیسے ممالک کی مثال دیکھیں تو وہاں بھی بارشیں ہوتی ہیں، مگر شہری منصوبہ بندی، ڈرینج سسٹم، ابتدائی وارننگ سسٹم اور انخلاءکا پلان اس قدر منظم ہوتے ہیں کہ جانی و مالی نقصان کم سے کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں الٹا نظام ہے ،یہاں پہلے آفت آئے، پھر اجلاس بلائے جائیں، پھر بیان دیے جائیں اور آخر میں میڈیا سے کہا جائے کہ "صورتحال قابو میں ہے”۔ مگر عوام جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہےکیونکہ وہ ہر سال کیچڑ، مچھروں، وبائی امراض اور بے گھر ہونے کی اذیت جھیلتے ہیں۔

    مہنگائی کا عذاب اس سے علیحدہ ہے۔ جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے، وہاں سبزیاں نایاب، دودھ مہنگا اور پینے کا پانی خریدنا پڑ رہا ہے۔ تعمیر نو کا خواب ایک دور افتادہ وعدہ بن چکا ہے۔ امدادی پیکج اگر آتے بھی ہیں، تو ان میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور کرپشن کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ عوام بے بسی سے صرف یہی سوال دہراتے ہیں کہ آخر ہم کب تک آفات کا سامنا کرتے رہیں گے؟ کیا ہم محض موسمی قربانی کے بکرے ہیں؟ یا پھر یہ نظام ہی ہمیں قربانی کے لیے پیدا کرتا ہے؟

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آفات کو مواقع میں بدلنے کا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ یہاں قدرتی آفات سے نمٹنے کے بجائے ان کا استعمال سیاسی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا فرض ہوتا ہے کہ پہلے سے نقشہ جات، خطرناک علاقوں کی نشاندہی اور بروقت نقل مکانی کے پلان تیار رکھے۔ مگر یہاں سب کچھ بعد میں ہوتا ہے اور اس تاخیر کی قیمت عوام اپنی جان، مال اور عزت سے ادا کرتے ہیں۔ اگر NDMAs اور PDMAs صرف رپورٹیں بنانے اور غیرملکی فنڈنگ کی وصولی تک محدود رہیں تو حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔

    پاکستانی عوام اب اس اذیت کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔ سیلاب ہو یا زلزلہ، گیس کی لوڈشیڈنگ ہو یا مہنگائی، ہر سانحہ صرف "خبر” بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل تبدیلی صرف اس وقت آئے گی جب ریاست اپنی ذمہ داری قبول کرے، مقامی حکومتوں کو فعال بنائے، وسائل کو شفاف طریقے سے استعمال کرے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی اور ڈیجیٹل نظام اپنائے۔ بصورت دیگر، ہر مون سون، ہر زلزلہ اور ہر آفت ایک بار پھر یہی سوال دہراتی رہے گی کہ "سیلاب، آفات، مہنگائی… آخر عوام کا مقدر ہی کیوں؟”

  • ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل

    ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل

    ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ہمارا مستقبل
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک محفوظ، خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ہم غیر محفوظ ہیں اور ہماری اکثریتی آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، لیکن افسوس کہ مستقبل کی فکر کسی کو نہیں۔

    ہماری اجتماعی سوچ ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ بحیثیت قوم ہماری کوئی ٹھوس ترجیحات نہیں۔ جب تک ہم قومی سوچ پیدا نہیں کرتے، ہم محض سیاستدانوں کے ان الفاظ کو دہراتے رہیں گے کہ "پچھلی حکومتوں نے یہ کردیا، وہ کردیا اور ہم یہ کریں گے”۔ یہی تکرار اگلی کئی دہائیوں کی نوید ہے۔ آئیے، اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔

    پاکستان ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جہاں ہر مسئلے کا حل وقتی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی نظر آتی ہے، نہ سنجیدہ حکمت عملی اور نہ ہی کوئی قومی وژن۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف وقتی ریلیف اور ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کا نتیجہ ہے، جو اب ہمارے ہر شعبہ زندگی میں سرایت کر چکی ہے ، خواہ وہ تعلیم ہو، صحت ہو، زراعت ہو یا انفراسٹرکچر۔

    ہر سال بارشوں کے موسم میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں، سیلاب آتے ہیں، لوگ جانیں گنواتے ہیں اور حکومت صرف فوٹو سیشنز اور بیانات کے ذریعے دعویٰ کرتی ہے کہ سب کچھ قابو میں ہے۔ مگر اگلے سال پھر وہی حالات، وہی مسائل اور وہی بے بسی سامنے آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری ترجیحات صرف وقتی اور سطحی ہوتی ہیں۔

    ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ عدالتوں، اسمبلیوں، میڈیا اور جلسوں میں صرف اقتدار کی جنگ چل رہی ہے۔ عوامی فلاح، روزگار، مہنگائی، صحت، تعلیم اور عدل و انصاف جیسے حقیقی مسائل پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی قسمت گویا صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہو چکی ہے۔

    قوم اس وقت شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ ہر روز ایک نیا بحران، ایک نئی بے یقینی۔ نوجوان مایوس ہے، کسان پریشان ہے، مزدور بے روزگار ہے۔ ایسے میں حکومتوں کا صرف وقتی اقدامات پر اکتفا کرنا ناقابل قبول ہے۔

    ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی کے تباہ کن نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نے اپنے اداروں کی ساکھ تباہ کر دی ہے۔ ہر بحران کے بعد عوام کو جھوٹے وعدے سنائے جاتے ہیں، اور پھر اقتدار کی مستی میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ کہیں کوئی احتساب ہے، نہ جواب دہی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو جھنجھوڑیں۔ ہمیں مستقل حل، مؤثر منصوبہ بندی، اور پالیسیوں میں تسلسل کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہوں گے۔

    ورنہ کل کا مؤرخ صرف یہ لکھے گا کہ”یہ ایک ایسی قوم تھی جو وقتی فیصلوں، ذاتی مفاد اور سیاسی لڑائیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔”

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے، لیکن صرف قومی سوچ، سنجیدہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد سے — نہ کہ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسی سے۔

  • پاکستان میں قیامت کی گھڑی

    پاکستان میں قیامت کی گھڑی

    پاکستان میں قیامت کی گھڑی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان کے عوام آج کل ایک ایسی قیامت کی گھڑی سے گزر رہے ہیں جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی زندگیوں کو مفلوج کر رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت 272.15 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 284.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے جبکہ بجلی کے نرخ 53 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار محض نمبر نہیں بلکہ عام آدمی کی چیختی ہوئی پکار ہیں جو روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام اور خاص طور پر مزدور طبقہ پہلے ہی وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی مسلط کردہ سلیب گردی کا شکار ہیں اور اب ایک ماہ میں دو بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور جو روزانہ 800 سے 1000 روپے کماتا ہے، اب ایندھن کے اخراجات پورے کرنے کے بعد اپنے گھر کے لیے کچھ بچا نہیں پاتا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدور جو پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں اب نوکریوں کے خاتمے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہے، جس سے غربت اور معاشرتی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔

    بسوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کے کرائے آسمان کو چھو رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقہ اپنے روزمرہ سفر کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔ ایک عام مزدور جو صبح سویرے اپنے کام پر جانے کے لیے بس کا انتظار کرتا ہے، اب اس کرائے کو ادا کرنے کے لیے اپنی جیب خالی کرتا ہے۔ اس کی آمدنی وہی پرانی ہے، لیکن ٹرانسپورٹ کے اخراجات دگنے ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے بچوں کی تعلیم یا گھر کے راشن پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی اس معاشی بحران کی زد میں ہیں۔ دال، چینی، آٹا اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتوں سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ ایک عام گھریلو خاتون اب سوچتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا کیسے تیار کرے گی جب ہر چیز کی قیمت اس کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں پر خرچ کم ہوتا جا رہا ہے اور پاکستانی عوام کی اگلی نسل ان پڑھ اور ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر بجلی کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ فیول سرچارج ایڈجیسٹمنٹ کے نام پر بجلی کے نرخ میں ہر بار اضافہ کیا جاتا ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق بجلی کی قیمت 53 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5-10 روپے فی لیٹر اضافہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 1-2 روپے اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ اضافہ عام گھرانوں کے لیے ایک اور دھچکہ ہے جو پہلے ہی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ گرمیوں کی شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ اور مہنگے بجلی کے بل عوام کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ صنعتوں پر بھی اس کا گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ مہنگی بجلی اور ایندھن سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں غیر مسابقتی شکارہورہی ہیں۔ برآمدات کم ہو رہی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بند ہو رہے ہیں، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک فیکٹری ورکر جو اپنی نوکری کھو دیتا ہے، اپنے خاندان کے لیے روٹی کا بندوبست کیسے کرے گا؟ یہ سوال پاکستانی معاشرے کے ہر کونے میں گونج رہا ہے۔

    حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے مالی خسارے کو پورا کرنے کی پالیسی عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ حالیہ بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی متعارف کی گئی ہے، جو اگلے مالی سال میں 5 روپے فی لیٹر تک بڑھ جائے گی۔ اس سے حکومت کو 48 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے لیکن یہ آمدنی عام آدمی کی جیب سے نکل رہی ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔ ٹیکسز اور لیویز برقرار رہتے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومتی ترجیحات قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی اہداف پر مرکوز رہتی ہیں۔ پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان اور عوام دوست اقدامات کی کمی نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی عام آدمی کی فلاح کے لیے سنجیدہ ہے؟ اگر ہاں تو پٹرولیم لیوی کو کم کیوں نہیں کیا جاتا؟ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ پر قابو کیوں نہیں پایا جاتا؟ متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی کو فروغ کیوں نہیں دیا جاتا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں لیکن ان کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔

    پاکستانی عوام کی سب سے بڑی امنگ ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی جئیں جہاں انہیں بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد نہ کرنی پڑے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، ان کے گھروں میں بجلی ہو اور ان کی جیب میں اتنا پیسہ ہو کہ وہ دو وقت کا کھانا خرید سکیں۔ لیکن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے بڑھتے نرخ اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی مسلط کردہ سلیب گردی نے ان امنگوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ ایک ماہ میں دو بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی چیخ کو اور بلند کر دیا ہے۔ ایک عام پاکستانی کی آواز یہ ہے کہ "ہم سے ہر بار قربانی مانگی جاتی ہے، لیکن ہمیں بدلے میں کیا ملتا ہے؟ مہنگائی، بے روزگاری اور اندھیرا۔” عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور مہنگائی سہنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ کیا یہ ریاست صرف امیروں کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی؟ اگر نہیں تو پھر عام آدمی کو ریلیف دینے کا کوئی عملی، مستقل اور مؤثر راستہ دکھایا جائے۔

    اگر حکومت نے اس بڑھتی مہنگائی، گرتی قوتِ خرید اور ختم ہوتے صبر کا ادراک نہ کیاتو وہ دن دور نہیں جب یہ عوامی اضطراب ایک منظم مزاحمت کی صورت اختیار کر لے گا۔ پاکستانی قوم نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے،دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، سیلاب، زلزلے اور اب مسلسل معاشی استحصال۔ ہر حکومت آتی ہے، دعوے کرتی ہے اور جاتے جاتے عوام کو مہنگائی کا ایک نیا زخم دے جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ یہ قوم مزید قربانی نہیں دے سکتی۔ ریاستیں ایندھن، ٹیکس اور بجٹ سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد، خوشحالی اور امید سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ اعتماد اب خطرے میں ہے اور اسے بچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ملک کی بقا قرضوں سے نہیں، عوامی اعتماد سے وابستہ ہے اور جب وہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو نہ صرف معیشت بلکہ پورا نظام لڑکھڑا جاتا ہے۔

    اگر یہ بحران یوں ہی جاری رہا تو یہ نہ صرف معاشی نظام کو مفلوج کرے گابلکہ سماجی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےاور مقامی سطح پر تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔ شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کو فروغ دینے سے نہ صرف تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ عوام کو سستی توانائی بھی میسر آئے گی۔ سب سے اہم بات، حکومت کو عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے شفاف اور عوام دوست پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ پاکستانی عوام کی امنگیں اور ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب خاموشی کا وقت نہیں ہے،عوام کی چیختی ہوئی آواز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک دیہی علاقوں کو مساوی ترقی کے مواقع نہ دیے جائیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات میں آج بھی صرف شہروں کو فوقیت حاصل ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں تو سڑکیں، میٹرو بسیں، انڈر پاسز، جدید ہسپتال اور معیاری تعلیمی ادارے عام نظر آتے ہیں لیکن دیہاتوں میں زندگی آج بھی بنیادی سہولیات کی محرومی کا شکار ہے۔

    جبکہ ترقی کسی بھی قوم کی پہچان اور بقاء کی ضمانت ہوتی ہے، ہمارے ہاں بیشتر فیصلے صرف شہری علاقوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ گنجان آباد بستیوں، بڑھتے ہوئے جرائم، آلودگی اور ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ نقل مکانی دراصل دیہی پسماندگی کی علامت ہے، جو کہ ایک بڑا قومی چیلنج بن چکی ہے۔

    دیہی علاقوں میں اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقائق لرزہ خیز ہیں۔ یہاں کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور ادویات کی عدم دستیابی، بجلی و گیس کی قلت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صاف پانی کی عدم فراہمی، اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان عام مسائل میں شامل ہیں۔ دیہی آبادی آج بھی ان بنیادی حقوق سے محروم ہے جنہیں شہری علاقوں میں معمول سمجھا جاتا ہے۔

    یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ ایسے میں اگر دیہاتوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل نہ کیا گیا تو نہ صرف شہری سہولیات کا توازن بگڑے گا بلکہ قومی ترقی کا خواب بھی ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔

    موجودہ حکومت خصوصاً پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، جو تعلیم یافتہ، عوام دوست اور باصلاحیت رہنما کے طور پر پہچانی جاتی ہیں، ان سے دیہی عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کی ابتدائی تقاریر میں تعلیم، صحت اور خواتین کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ پنجاب کے دیہی علاقوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دیں۔

    دیہی ترقی کے لیے حکومت کو درج ذیل اقدامات کی فوری ضرورت ہے:
    ×دیہی سکولوں کی اپ گریڈیشن
    ×بنیادی صحت مراکز کی بحالی اور ڈاکٹروں کی دستیابی
    ×دیہات میں سڑکوں کی مرمت اور پختگی
    ×صاف پانی کی فراہمی
    ×چھوٹے پیمانے پر روزگار کے مواقع کا فروغ

    دیہی ترقیاتی اتھارٹی کا قیام اگرچہ ایک خوش آئند قدم تھا، لیکن بدقسمتی سے اس ادارے کا عملی کردار یا تو بہت محدود ہے یا طاقتور شخصیات کے حلقوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام انصاف کے بجائے عدم مساوات اور اقربا پروری کو فروغ دے رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔

    یاد رکھنا چاہیے کہ دیہات صرف زمین کے ٹکڑے نہیں، بلکہ قوم کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم دیہاتوں کو بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ بنائیں گے تو پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کم کرنا ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو چاہیے کہ وہ دیہی ترقی کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کریں تاکہ پنجاب کا ہر گاؤں، ہر بستی، ہر کسان ترقی کی روشنی سے منور ہو سکے۔ دیہی عوام کی نظریں آپ پر مرکوز ہیں — کیا آپ ان کی امیدوں پر پورا اتریں گی؟