Baaghi TV

Category: سیاست

  • راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس حکام کی کیا مجبوری،جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دیدی
    چند ایس پیز،اور ڈی ایس پیز کا نیٹ ورک اتنا مضبوط کیوں،کون ذمہ دار؟

    راولپنڈی شہر میں ا یک ہی دن میں 112 وارداتوں کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے ،،،، گاڑی چوری، موٹر سائیکل چوری سمیت گھروں کو لوٹ لیاگیا،،، اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر جہاں پاک فوج اورجملہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں کا یہ حال ہے تو باقی صوبے کا کیا ہوگا؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، وفاقی وزیر داخلہ ، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشا دیکھنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے لوٹ مار مچا رہے ہیں،سوال یہ بھی ہے کہ راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر میں اعلیٰ پولیس ، افسران کی تعیناتی میں آنکھیں بند کیوں کی گئی ہیں ؟ عوام کو چوروں ، ڈاکوئوں ، رسہ گیروں ، لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟ آئی جی پنجاب کیوں بے بس ہیں،راولپنڈی کو لے کر آئی جی پنجاب کی گڈ گورننس کے آگے کون سی دیوار ہے ؟ راولپنڈی کو دوسرا کراچی کیوں بنا دیاگیا ؟ کیا راولپنڈی لاوارث شہر ہے ؟

    گذشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ نے درست کہا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے،پاک فوج اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے ان کی ساری تقریر سنی ایک باوقار شخص باوقار گفتگو کرتا ہے، یقینا پاک فوج اور جملہ اداروں نے قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ماضی میں بھی مقابلہ کیا، مستقبل میں بھی عوام پاک فوج سے یہی توقع رکھتی ہے، ماضی میں کسی زمانے میں کراچی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن پاک فوج اور جملہ اداروں اور ذمہ دار پولیس افسران نے مل کر کراچی میں روشنیاں بحال کی تھیں، بلاشبہ پاک فوج اورجملہ اداروں کے ساتھ پنجاب اور دیگرصوبوں کی پولیس نے بھی امن بحال کرنے میں کردار بھی ادا کیا اور شہادتیں دیں مگر یہ کیاقہرہے کہ آج راولپنڈی میں پولیس کے وہ افسران جن میں ایس پیز ، ڈی ایس پیز کاایک مخصوص نیٹ ورک ہے، جس نے مخلوق خدا کو چوروں ، ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ،رسہ گیروں ، جوئے کے اڈے چلانے والوں ، اور بدمعاشوں کے حوالے کردیا ہے،آخر سی پی او اور آر پی او راولپنڈی کی وہ کونسی مجبوری اور بے بسی ہے کہ وہ اس پولیس نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں جبکہ آئی جی پنجاب بھی راولپنڈی کو لے کر بے بس ہیں کیا آج کے یہ پولیس افسران پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ جہاد فی الارض میں حصہ لے سکتے ہیں ؟

  • محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پہنچی وہیں پہ خاک.جہاں کا خمیر تھا
    اصل غدار بے نقاب،ملک کو دولخت کرنے والے اپنے آقائوں کی بانہوں میں پہنچ گئے
    بھارتی آقائوں کے سامنے اقتدار کی ہوس کیلئے غلامی کا سودا مہنگا پڑ گیا
    فوج پر الزام لگانے والے سیاسی یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر معاف نہیں کرتی

    بھارت کی کوکھ اگرتلہ سے جنم لینے والی سازش مکتی باہنی کے بازئوں میں پلنے والے مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اقتدار چھوڑ کر ننگے پائوں واپس اگرتلہ بھاگ گئی پاکستان کو دولخت کرنے والا ٹولہ اپنے آقائوں کی بانہوں میں پناہ لے کر خلیج بنگال میں ڈوب گیا، 1971ء میں ہم نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا اور آج ہم نے پاکستان سے غداری کرنے والے مجیب الرحمان اور اس کی باقیات کو عبرتناک انجام تک پہنچتے دیکھا، محب وطن پاکستانی عوام کو روحانی تسکین ہوئی اور بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی رانی حسینہ واجد کے ہاتھوں تختہ دار پر جھولنے والے علمائے دین جماعت اسلامی کے اکابرین اور مکتی باہنی کی آمریت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے رضاکاروں کی ارواح کو بھی تسکین ہوئی ہوگی، جنہوں نے غدار وطن مجیب الرحمان اور اس کی بیٹی کی آمریت پر شہادت کو ترجیح دی، افواج پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو بھی سکون ملا ہوگا کہ کس طرح دشمنان پاکستان سے اگرتلہ کے ایئربیس پر 1968ء میں سازباز کر کے مجیب الرحمان کو متحدہ پاکستان کے دارالخلافے میں پٹ سن کی خوشبو آنا شروع ہوئی اور اس نے بھارت کے آقائوں کے آگے اپنی اقتدار کی ہوس کے لئے غلامی کا سودا کیا ، مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان اور محب پاکستان کے جان و مال اور عزتوں سے خون کی ہولی کھیلی اور بھارتی پروپیگنڈے اور وسائل کے بل بوتے پر سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی اور اقتدار حاصل کیا اور پھر اس کی بیٹی نے بھی اپنے آقائوں کی آشیر باد سے دھونس دھاندلی سے ظلم سے اپنے اقتدار کو طوالت دی، آج افواج پاکستان پر لگائے جانے والے سقوط ڈھاکہ کے الزامات کو بھی قدرت نے جھوٹا قرار دے دیا،

    شہیدان ملت اور غازیان پاک فوج بھی سروخرو ہو گئے قدرت نے غداری اور محب وطن کو رات اور دن کے فرق کی طرح واضح کر دیا، افسوس ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پاک فوج پر الزامات لگاتی رہی اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی رہی، مجیب الرحمان سے حسینہ واجد کے انجام سے ان لوگوں کو سبق سیکھنا ہوگا جو اب بھی بھارتی ایجنسیوں کے جھانسے میں آکر کوڑیوں کے مول اپنے اقتدار کے خوابوں کے بدلے وطن عزیز کے خلاف اور افواج پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر کبھی کسی غدار کو معاف نہیں کرتی۔

  • کس طرح فرقہ پرست قیادت جمہوریتوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے

    کس طرح فرقہ پرست قیادت جمہوریتوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے

    انسانوں کا ہیرو کی پرستش کی طرف فطری رجحان ہے، جو اکثر کھیلوں کے ستاروں اور اداکاروں کی تعریف میں دیکھا جاتا ہے، جو ہماری ثقافت میں گہرا جڑا ہوا ہے۔ تاہم، یہ رجحان اس وقت خطرناک ہو جاتا ہے جب لوگ غیر اخلاقی لیڈروں کے بت بنانا شروع کر دیتے ہیں، جس سے شخصیت کے فرقے کا عروج ہوتا ہے۔ یہ رجحان صرف آمرانہ حکومتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جمہوریتوں پر تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

    آج، شخصیت کا فرقہ پروان چڑھ رہا ہے جب افراد اہم سماجی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے مکمل طاقت کے ساتھ "عظیم مردوں” پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، چین کے صدر اور روس کے صدر نے خود کو "تاحیات” کے طور پر رکھا ہے۔ ان کی حکومتیں ناقابل تسخیر ہونے کی چمک پیدا کرنے کے لیے مطابقت پذیر پروپیگنڈہ مشینری کا استعمال کرتی ہیں، ہیرو کی پرستش کی ثقافت کو فروغ دیتی ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔

    جمہوریت چاہے سرمایہ دارانہ ہو یا سوشلسٹ، اسے ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو رائے اور اختلاف رائے کی آزادی کو فروغ دیتا ہو۔ جمہوریت کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے، اس کے حامیوں کو کرشماتی لیڈروں کے ارد گرد کی ہپ کے بجائے پالیسیوں اور مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، سیاسی عمل میں فعال طور پر شامل ہونا چاہیے۔ باخبر اور تنقیدی حامی خود غرضی، انا پرستی اور جارحیت کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں ، قائدین کو اپنی قابلیت اور کامیابیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی ترغیب دینا جمہوری اصولوں کی بہتر خدمت کر سکتا ہے۔

    اس کے برعکس، اندھی اطاعت جمہوریت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ بیکار رہنماؤں کو برقرار رکھنے کی قیمت قومی تقسیم کا باعث بن سکتی ہے، پیروکاروں کے درمیان پرتشدد رویے کو بھڑکا سکتی ہے، اور آزادی اور انصاف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی فرقوں میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ سیاسی جماعتیں منشوروں کی بنیاد پر کام کرتی ہیں، جب کہ سیاسی فرقے اپنے رہنماؤں کو خدا کی طرح کا درجہ دیتے ہیں، دوسری جماعتوں کے خلاف نفرت پروان چڑھتے ہیں جنہیں ناقابل تلافی کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے جولائی 2023 میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں، ڈاکٹر اسٹیون حسن کی ایک کتاب "دی کلٹ آف ٹرمپ” کا حوالہ دیا، جو بتاتا ہے کہ کس طرح ٹرمپ جیسے فرقے کے رہنما دماغ پر قابو پانے کی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں جو یہاں تک کہ معاشرے کے تعلیم یافتہ اور عقلی طبقوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    یہ عوام، پارٹیوں کے حامی ہیں جنہیں اپنے لیڈروں تک مسلسل رسائی، جانچ اور سوال کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔

  • مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے وجود پر مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک جواب صرف نام نہاد اُمہ ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے؟ اگر اقوام متحدہ کا اور مسلم اُمہ کا کوئی وجود ہوتا تو کشمیر اور فلسطین میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام نہ ہوتا ، ان مسئلوں کا حل کرنے کاکردار کسی نے بھی کیا ۔اسلامی ممالک کے حکمران لاغر اور مفلوج ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کسی مسئلے کو حل کرنا اس کے بس کی بات ہی نہیں رہی۔ دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو اور ایسے ہی ہے جیسے ان کے ہاتھوں میں کوئی پستول ہو ، جہاں ان کے مفادات سے کسی مسئلہ کا حل ٹکرائو کھاتا ہے وہاںیہ اقوام متحدہ کی کنپٹی پر یہ اوزار رکھ کر اس سے اپنی بات منواتے ہیں۔ کشمیر جیسے اور فلسطین جیسے مسائل انہی طاقتوں کے مفادات کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔ انہی طاقتوں کی محکوم اقوام متحدہ بھلا کیسے اور کیونکر حل کروائے گی ؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع پر تین جنگیں ہو چکی ہیں مذاکرات کے لامتناہی دھارے اور سربراہی ملاقاتیں ہمیشہ ناکام ہی رہیں۔ مسلم حکمران ان معاملات سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ کشمیر اورفلسطین میں خونریزی جاری ہے۔

    ہماری پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں نے سرحدوں کی حفاظت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ ایٹمی قوت کا حامل ایک اسلامی ملک عالمی سیاسی کھلاڑیوں کو ہضم نہیں ہوتا پاک فوج اور جملہ ادارے اپنی سلامتی اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ ہمارے فوجی وطن عزیز کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔ میں اگر خط پوٹھوہار کا ہی ذکر کروں کوئی ایسا گائوں نہیں جسے کسی شہید کے مسکن ہونے کا اعزاز حاصل نہیں اور کتنے ہی مستقبل کے شہداء جو اس وقت ملک کے مختلف محاذوں پر داد شجاعت دے رہے ہیں۔

    آج کے ملکی حالات کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ محسوس ہوتاہے کہ کوئی نہ کوئی عالمی سازش ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ پاکستان بھارت کو آنکھیں نہ دکھا سکے۔ گذشتہ پنجاب پولیس نے شہداء کا دن منایا گیا ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے انگنت قربانیاں دی ہیں پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی ہیں۔ پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا پولیس کے شہید ہونے والے نوجوان بھی ہیرو ہیں۔ یہ ہمارے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا۔

  • کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں،،،،،(ریورس)
    فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی بند کی جائے
    نوجوان نسل کو تباہی کی دھکیلنے والے ملک کی خدمت کررہے؟
    سرحدوں کے پاسبانوں پر حملے حب الوطنی نہیں،فوج ہے تو ہم ہیں

    آئے روز مختلف مفروضے اس سے بھی زیادہ پیشن گوئیاں سوشل میڈیا پر ملتی ہیں جبکہ حقائق مختلف ہیں، ملک معاشی بحران کی زد میں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ہے اورایرانی صدر کا طیارہ حادثہ اور اب حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی تہران میں شہادت،بلوچستان میں وطن عزیز کی سکیورٹی پر مامور نوجوان کی شہادت اور زخمی ہونا، افغانستان کے ذریعے بھارت کا وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنا، دیگر اسلامی ممالک میں آگ اور خون کا کھیل ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے معاشرے میں شر پھیلا رہے، شرانگیز قوتوں کی پشت پناہی سیاسی اور مذہبی قوتیں کر رہی ہیں خدا کا قہر ایک آزاد ملک میں یہ کون سی حقیقی آزادی مانگ رہے ہیں؟ وطن عزیز کے نوجوانوں سے التجا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اکثریت اب ایسے لوگوں کی ہے جن کی میری طرح ایک پیر قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے ، کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے کسی کو علم نہیں، اپنے اقتدار اور اختیارات کے لئے شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ چکی ہیں،موجودہ بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامے عدلیہ کو اس وطن عزیز کے مستقبل کے لئے آگے بڑھ کرکردار ادا کرنا ہوگا، عسکری اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کا یوں تمسخر اڑانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، جو سیاسی و مذہبی جماعتیں عدلیہ اور عسکری اداروں کے خلاف تقریری مہم جوئی کر کے اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف عوام میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، بیہودہ رویوں کو نکیل ڈالنے کے لئے عدلیہ اور عسکری اداروں کو اور اس ملک کے نوجوان نسل کے مستقبل کے لئے حرکت میں آنا ہوگا۔، آج جن مسائل کا عوام کو سامنا ہے جس عذاب سے عوام گزر رہے ہیں ،سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں یہ سب اقتدار میں رہے مذہبی جماعتوں نے بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے عوام کے مسائل کا ذمہ دار کون ہے؟ بقول نامعلوم شاعر
    دھوکہ دیتے ہیں اور معزز ہیں، کیسے لوگوں کا زمانہ ہے۔
    ضمیر زر کے ترازو میں تل رہے ہیں
    کہاں کا زہد و تقویٰ کہاں علم و ہنر
    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں
    جو رہبری کے نام پر سوداگری کریں

  • پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ، ماوزے تنگ ہر چینی، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہرپاکستانی اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں زندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے ۔ ان شخصیات کے ہم سفر نہ کوئی گوگی ، نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے آج کی ہماری ملکی سیاسی جماعتوں میں اس طرح کی مخلوق کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں د یا جاسکتا مگر قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، آج کل سیاسی گلیاروں کو جس رفتار سے دشنام طرازیاں حرف عتاب کی عذاب زدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے۔ اقتداراور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا

    شداد کی جنت نہ رہی فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں نظریات ، ضمیر اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری ہے ۔ آج کل وطن عزیز میں آئین موضوع بحث ہے سپریم کورٹ کے وکیل راجہ تنویر سے اس سلسلے میں میری بات ہوئی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئین پر عمل نہیں ہو رہا اگر آئین پر عمل ہو تا توایک منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی آج بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا اسی طرح منتخب وزرائے اعظم کو آج تک وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا اس کوبھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا یہ توہین عوام ہے۔ عوامی حکومتوں کو چلتا کرناکسی طرح بھی درست نہیں تھا۔

    قارئین گزشتہ دنوں سینیٹر عرفان صدیقی نے 28 جولائی 2017 ء کے بھیانک دن کا ذکر کیا انہوں نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں منصب سے ہٹا کرجیلوں مین ڈال دینے کا زکر کیا انہوں نے کہا کہ ترقی کی شرح 6.3 اور مہنگائی 3 فیصد تھی۔ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی تھی ۔ دہشت گردی کا سر کچلا جا چکا تھا ۔آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا گیا تھا تمام عالمی ادارے نے پاکستان کے شاندار مستقبل کی نوید دے رہے تھے ۔یقینا سینیٹر عرفان صدیقی کی یہ بات درست ہے۔ نواز شریف کے اس ترقی کے سفر میں اس وقت کے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی بھی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو رات گئے گام کیا کرتے تھے۔ نواز شریف وہ واحد وزیراعظم تھے جن کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی یہ بھی توہین عوام کے زمرے میں آتا ہے نواز شریف کا نعرہ ووٹ کو عزت دو صرف نواز شریف کی ذمہ داری نہیں ووٹ کی عزت ملک کے تمام اداروں پر لازم ہے۔عوام کی منتخب حکومتوں کو چلنا نہ کیا جائے عوام کا ووٹ دینے کا اعتماد اٹھ جائے گا۔آئین ہے تو جمہوریت ہے آئین ہے تو عدالتی نظام ہے۔ آئین ہے تو پارلیمنٹ ہے آئین ہے تو عوام کے حقوق ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین پر عمل کیا ۔ آئین نے جو حد مقرر کی حکومتیں اور تمام ادارے اس حد کوکراس نہ کریں ورنہ پاکستان اور عوام مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکیں گے۔

  • معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    2016 اور2017 کے درمیان ملکی معیشت مستحکم ہو رہی تھی ۔ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے وہ رات گئے کام کرتے ، پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے شکنجے اور سود سے چھٹکارے کے قریب پہنچ چکے تھے پھر ناانصافیوں کے جھرمٹ میں چھپی ایسی آندھیاں چلیں گے ۔ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا پاکستان ایک بار پھر گہری کھائی میں جاگرا.تادم تحریر معیشت مستحکم نہ ہو ہو سکی اورنہ ہی وطن عزیز کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکا ۔قرض در قرض وطن عزیز کا مقدر بنا۔

    موجودہ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ قوم کو سچ بتائیں قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرض مانگے جا رہے ہیں، معیشت مستحکم نہیں عوام پر بجلی کے بلوں کو لے کر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ذمہ دار سابق حکومت یا موجودہ حکومت کو ٹھہرانا سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی بُحران کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اس سوال کا جواب حکومت بھی اور اپوزیشن بھی بتائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف حدوں کو کراس کر گئے ہیں۔ان حالات میں قوم کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟ شہباز حکومت ، پیپلزپارٹی ، مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن قوم کو بتائے کہ مستقبل میں ملکی معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے؟سستی بجلی ،ڈیم بنانے او رمتبادل ذرائع پر کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ جو معاہدے آئی پی پیز سے کئے یا منصوبے لگائے ان منصوبوں سے آئی پی پیز سود سمیت منافع بٹور رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا کوئی منصوبہ ہو نہ ہو تاہم ملک میں انتشار پھیلانا،افواہ پھیلانا ،اپنے ہی اداروں کو کمزور بنانا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقااور شخصیات کو فنا ہے پھر بھی اب تو خیر ہے یہ کاروبارکا روپ دھار چکا ہے۔

    وطن عزیز میں کچھ ان دنوں افوا ساز کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔پاکستان دشمن طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ وقت کا تقاضا متضاد بیان دے کر آپس میں اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے ۔ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی روحیں سیاسی جماعتوں سے ایسے فیصلہ کن کی منتظر ہیں جو مستقبل میں قومی عزت ووقار اور وطن عزیز کی بقا و سلامتی کا ضامن بن سکے۔

  • ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی عدالت نے اسرائیل کو فوجی آپریشن فوری طورپر روکنے کا حکم دیا تھا، رفاہ میں فوجی آپریشن فوری روکنے کا یہ حکم 15 میں سے 13 ججوں کی غالب اکثریت کے ساتھ صادر کیاگیا تھا ،یہ حکم صرف حکم ہی رہا ،اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ الحدیدہ کو نشانہ بنایا،اس حملے کا مقصد حوثیوں پر دبائو ڈالنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت بند کریں،اسرائیل کو اقوام متحدہ کا خوف نہ عالمی برادری کا ڈر اور نہ ہی عالمی عدالت کے فیصلے کی پروا ہ،صرف یہی نہیں بلکہ سلامتی کونسل ،اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ،ترکی ، ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی مذمتی قرار دادیں، دنیا بھر بشمول اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ دیگر یورپی ممالک میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی جلوس اور ریلیاں بھی اسرائیل کا ہاتھ نہ روک سکیں، دنیا ہوش کے ناخن لے قتل عام کی پالیسی آج اگر غزہ میں نافذ ہے تو آنے والے کل کہیں اور بھی ہوسکتی ہے، کشمیر میں بھارت قتل عام میں ملوث ہے اور غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کی پالیسی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے ،اس پالیسی کو روکنا ہوگا،

    دوسری جانب گذشتہ روز پاک فوج کے ترجمان نے جہاں 9 مئی کا ذکر کیا وہیں امن عامہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں امن قائم رکھنا صوبوں کی ذمہ ہے،16 ہزار مدارس کا بھی ذکر کیا ان کو کون چلا رہاہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ،انہوں نے وطن عزیز میں دو قسم کی دہشت گردی کا ذکر کیا،ڈیجیٹل دہشت گرد اصل دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، انہوں نے عزم استحکام کا بھی تفصیلی ذکر کیا، قارئین بلاشبہ وطن عزیز میں شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ گئی ہیں اگر ایسی زبانوں کو لگام نہ دی گئی یہ ندیاں دریا کا روپ دھار لیں گی، ہماری یکجہتی خواب وخیال بن کر رہ جائے گی، بدقسمتی سے ہماری سیاست کی دنیا میں ایسی ہوا اور وبا چلی کہ خدا کی پناہ سیاست تو عبادت کا درجہ رکھتی ہے مگر سیاست میں مفاد پرست اور لالچی لوگوں نے اسے آلودہ کرکے رکھ دیا ہے، سیاست کا اجتماعی چہرہ گہناکر رہ گیا، استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے دیانتدار فرض شناس پیشہ وارانہ مہارت، بلند حوصلے کے پیکر پولیس افسران ،سول انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں ذمہ دار افسروں کو تعینات کیا جائے جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا کریں،جن افسران کا ماضی ،حال داغدر ہے وہ کیسے استحکام پاکستان میں کردار ادا کر سکتے،، ایں خیال است و محال است

  • حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک وسائل سے مالامال،ہم کشکول لئے کب تک پھرتے رہیں گے
    عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کے کارناموں سے دشمن خوش!
    ہر معاملے میں پاک فوج پر تنقید،دانشور سیاسیوں نے قائد کو بھی شرمادیا
    تجزیہ: شہزاد قریشی
    محسن کشی اور احسان فراموشی دیکھنی ہو تو وطن عزیز میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آج کے پاکستان کی حالت دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ہمارے سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والے اقتدار اختیارات پروٹوکول عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کی کمال مہربانی سے دشمنان وطن کے ممالک میں شادیانے بج رہے ہیں۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کی منڈی میں جو سودے ہورہے ہیں یا کئے جارہے ہیں عوام کی اکثریت ان سے بے خبر ہے۔ سیاسی چالبازیاں عروج پر ہیں۔ ملکی و قومی سلامتی کیا ہے اس سے بے خبر ہو کر سیاستدان اپنے مفادات کے لئے اپنے ذاتی مخبروں کے ذریعے شاید اسٹیبلشمنٹ بھی اور عوام بھی ان کی اس شطرنجی سیاست سے بے خبر ہیں۔ آج ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے ماضی حال کو دیکھتے ہوئے ملکی سلامتی کے اداروں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاملے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کو ملوث کرنا ملکی سلامتی کے پیش نظر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سیاسی گلیاروں میں بابائے قوم کے پاکستان کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے؟

    وطن عزیز کو اس وقت معاشی صورت حال کے ساتھ بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے مورخ لکھے گا کہ جب پاکستان کی معیشت غیر مستحکم تھی’ 25کروڑ عوام اپنے بنیادی مسائل کا رونا رو رہی تھی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آرہے تھے۔ اس سے زیادہ بے حسی کا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں جو انداز سیاست اپنایا جارہا ہے سا سے تصادم کی فضا ہموار ہورہی ہے۔ بھارت سمیت عالمی قوتیں وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ 25کروڑ عوام پاک فوج اور جملہ اداروں کو انتہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختون خواہ کو غیر مستحکم کرنے کا ایک نہ دکھائی دینے والا عالمی منصوبہ ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک و قوم کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہورہے ہیں۔ استحکام پاکستان پر بھرپور توجہ دی جائے قدرت نے پاکستان کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے غضب یہ ہے کہ ہم قدرت کی ان نوازشات سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہمارے ہاں دیانت لفظ صرف کتابوں اور زبانوں پر نظر آتا ہے عملی نہیں۔ عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ترقی ممکن ہے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  • عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بقول شاعر ،ہر سمت ظالموں کی خدائی ہے اے خدا،
    جینے کا حق نہیں ہے کسی بدنصیب کو،
    اس عہد نامراد میں رزق حلال کیا ،
    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،
    سی پی او راولپنڈی کے آفس سے چند گز کے فاصلے پر تھانہ سول لائن سے لے کر گوجر خان تک لہو کےسفر کی خبروں نے ہلا کر رکھ دیا ، انسانی حقوق کی بازگشت پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک سنائی دیتی ہے مگر کیا انسانی حقوق صرف اس ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں، اعلیٰ عہدوں پر فائز اہم شخصیات کے لئے ہیں، عام آدمی کے لئے انسانی حقوق کے قانون لاگو نہیں ہوتے؟ یہ سوال پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی، اعلیٰ عدلیہ، سول انتظامیہ، آئی جی پنجاب، مقتدر حلقوں سے بھی ہے؟ ذیشان نامی ملزم راولپنڈی پولیس نے چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا، دوران تفتیش راولپنڈی پولیس نے گوجرخان پولیس کے حوالے کر دیا ،مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ملزم کی حالت غیر ہو ئی اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا ،مرحوم چور تھا یا نہیں سوال یہ ہے کہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حق تو قانون دیتا ہے پولیس کو جان سے مار دینے کا حق کس نے دیا؟

    یوں تو راولپنڈی کےسی پی او سمیت کچھ ایس پی اور ڈی ایس پی حضرات کی داستانیں زبان زدعام ہیں مگر اس دلخراش واقعہ نے راولپنڈی پولیس کی نااہلی، عدم کنٹرول، ڈسپلن کے فقدان اور خود احتسابی سے چشم پوشی آشکار کر رہی ہے ،سنتا جا شرماتا جا کی غیبی آوازیں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، راولپنڈی کی پولیس ہمیشہ ملک کے دیگر اضلاع اور ڈویژن سے مختلف اعلیٰ اقدار اور صلاحیتوں سے مزین افسران کا گلدستہ رہی ہے، یہاں چوہدری اسرار، رائو محمد اقبال، ناصر خان درانی، ڈاکٹر شعیب سڈل، سید سعود عزیز، فخر سلطان راجہ، طلعت محمود طارق، احسن یونس جیسے افسران اور دیگر بہت سے افسران جن کے نام یاد نہیں،تعینات رہے ان لوگوں نے راولپنڈی پولیس کی ورکنگ ڈسپلن، کارکردگی، اخلاق اور مورال کو ایک بلندی سے نوازا ،ان افسران کے کارناموں سزا و جزا کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، آج راولپنڈی میں پولیس کی ہوس زر کی داستانیں زبان زدعام ہیں لینڈ مافیا سے یارانے، جوئے کے اڈوں سمیت دیگر اخلاقی جرائم میں اضافہ راولپنڈی پولیس پر سوالیہ نشان ہے؟

    سی پی او سمیت راولپنڈی کے ایس پیز اور ڈی ایس پیز نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ان کاوشوں کو ٹھیس پہنچائی ہے جو وہ تھانہ اور چوکی کی سطح پر پولیس کے مورال اور عزت میں اضافے کے لئے دن رات کر رہے ہیں، راولپنڈی کے تھانوں اور علاقوں میں منشیات اور دیگر جرائم کا تقابلی جائزہ بھی شرمناک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور مقتدر حلقوں کو یقیناً ضلع کی پولیس میں عمل تطہیر کے ذریعے ان داغوں کو دھونا ہوگا اگر استحکام پاکستان میں اس طرح کے افسران ہمسفر رہے تو پھر پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے، راولپنڈی پولیس کے چند افسران نے راولپنڈی کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور راولپنڈی کو اپنی ذاتی جاگیر تصور کررکھاہے جس میں عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔