Baaghi TV

Category: سیاست

  • علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کو پنجاب حکومت میں مشیر برائے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خصوصی منصوبہ جات مقرر کیے جانے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس تعیناتی کو جہاں بعض حلقے ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کے فروغ کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اقربا پروری کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    علی ڈار کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیٹے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ یہی رشتے داری اس تقرری پر سب سے زیادہ تنقید کی وجہ بنی، اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر ہوئی یا خاندانی قربت نے کردار ادا کیا۔تاہم اگر تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو علی ڈار کی تعلیمی قابلیت قابلِ توجہ سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ برطانیہ کے اداروں سے بھی وابستگی رہی ہے۔ وہ نجی شعبے میں کاروباری تجربہ رکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل انوویشن سے متعلق منصوبوں میں کام کر چکے ہیں۔

    پنجاب حکومت کے مطابق علی ڈار کو دیا گیا پورٹ فولیو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو آگے لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تقرری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں بار بار ایک ہی خاندان کے افراد کو اہم عہدے دینا عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اہلیت اپنی جگہ، لیکن شفافیت کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کے معیار کو واضح کیا جانا چاہیے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان اب علی ڈار کی کارکردگی ہو گی۔ اگر وہ اپنے پورٹ فولیو کے تحت ٹھوس نتائج دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو تنقید خود بخود دم توڑ سکتی ہے، بصورتِ دیگر اقربا پروری کا بیانیہ مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔علی ڈار کی مشیر کے طور پر تعیناتی ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں اہلیت اور رشتے داری دونوں پہلو موجود ہیں۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تقرری پنجاب میں واقعی ٹیکنالوجی اور اصلاحات کا ذریعہ بنتی ہے یا محض سیاسی تنازع کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے

  • وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    راستوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث سے روشنی میں واضع احکامات ہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا صدقہ ہے۔یعنی حضور ؑ نے اپنی اُمت کے مسلمانوں کو راستوں میں رکاٹیں ڈالنے سے منع فرمایاہے۔مسلمانوں کی سب سے محبوب عبادت نماز ہے جن مقامات پر نماز نہیں ہوتی اُن میں سے ایک راستے بھی ہیں۔اگر راستوں پرفرض عبادت میں شمار نماز ادا کرناجائز نہیں تو رزق کمانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ وزیراعلیٰ حکومت پنجاب محترمہ مریم نواز نے جہاں ریڈھی بازاروں کے قیام سے جائز روزی کمانے والوں کے لیے باوقاروسیع اہتما م کو پھیلاؤ پر گامزن کیا ہوا ہے وہاں راستوں سے ناجائز تجاوازات اور ریڈھیوں کو ہٹانے کے لیے پیرا فورس کا قیام شرعی اور اخلاقی طور پر سو فیصددرست کیا ہے۔حکومت پنجاب کی طرح میں بھی کسی غریب پاکستانی کے حلال رزق کا مخالفت نہیں ہوں مگر آپ کونظریہ مریم نواز صاحبہ کاپس منظر ضرور دیکھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔جولوگ کہتے ہیں حکومت پنجاب اور پیرا فورس غریب عوام پر ظلم کر رہے ہیں ان کے شعورکی درستی ہو جائے گئی۔

    (الکاسب حبیب اللہ)خدا کہتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اس کا دوست ہے تو اس دوست کی نشانی یہ ہے کہ وہ شرعی اور اخلاقی تقاضوں پر مزدوری کمانے والا ہوگا۔ فرمان رسول اللہ ؑ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔مگر کتنے مزدور آپ نے ایسے دیکھے ہیں جو اس طرح مزدوری کرتے ہیں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں؟عوامی گزرگاہوں پر ریڈھیوں سے راستے بند کرنے والے کتنے لوگ ہیں جو دُکان کرایہ بجلی بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے اپنا سودا مہنگے کرایے اور بل ادا کرنے والے دوکانداروں سے کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں؟خراب پھل پر اسٹیکر لگا کر ناقص سودا مہنگے داموں بیچنے والوں سے عام عوام کو کیا فائدہ ہے؟ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پراسلامی و اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ان ریڈھی والوں کے ہر طرح کے ظلم کو نظرانداز کیوں کر دیتے ہیں؟

    ریڈھی بانوں کی اکثریت مہنگے موبائل اچھی خوراک اچھا گھر اور پرائیویٹ سکول میں بچے پڑھانے والوں کی ہے پچیس فیصد کمزور حالات کے مالک ہوتے ہیں جن کے لیے حکومت پنجاب نے وسائل فراہم کرتے منصوبوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔عوام کے زہنوں میں ایک تاثر گردش کرتا ہے کہ ریڈھی لگانے والا بڑا ہی تنگ دست برے حالات میں جینے والا انسان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کسی کے چھوٹے کام کی وجہ سے اس انسان کو تنگ دست سمجھنے لگتے ہیں۔ایک ریڈھی والا ایک دوکان دار سے زیادہ پرکشش منافع کماتا ہے اسی لیے وہ دُکان کرایہ اور بجلی بل جیسے اخراجات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کرعوامی راستوں پر مشکلات پیدا کرتے ہیں ورنہ انہیں ریڈھی سے دکان کی ترقی پر جانے سے کون روکتا ہے؟ اسی طرح بھیک کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اس عقل مندی میں قید ہوتے ہیں کہ اس روزگارمیں دُکان کرایہ بجلی بل کے علاوہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔

    میری تحریر کا موضوع عوامی راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات پر آگاہی و نشاندہی فراہم کرنا ہے لہذا ہم اسی جانب چلتے ہوئے ایک ذاتی اور اہل محلہ کی شکایت بھی احکام بالا تک پہنچاتے چلیں تاکہ اس مسلے کا بھی مداوا ہو سکے۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ رائیونڈ تبلیغی مرکز کے بازار سے مستقل بنیادوں پر ناجائز تجاوازات اور ریڈھیاں ہٹانے میں ماضی و حال میں تمام ادارے ناکامی سے دوچار رہے ہیں جس کی وجوہات میں پہلی یہ کہ روڑ سے منسلک دُکان مالکان پیسے لیکر سڑک کرائے پر دیتے ہیں اور دوسری وجہ جو ریڈھی والے دوران کاروائی پکڑے جاتے ہیں وہ پیسے دیکر چھوٹ جاتے ہیں اورپھر سے روڑ پر قابض ہو جاتے ہیں۔مقامی رہائشی افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں مگرسوال یہ ہے کہ سٹرک کی رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے شریف شہریوں کی گلیوں میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں؟کیا یہ لوگ ٹیکس پیڈ پاکستانی نہیں ہیں؟

    ناجائز تجاوزات اور ریڈھی بانوں کی تکلیفوں سے برسوں کی شکار رائیونڈ تبلیغی مرکز گیٹ نمبر۹والے بازار سے وابستہ رہائشی گلیو ں کی معززمذہبی عوام وزیراعلیٰ حکومت پنجاب مریم نواز صاحبہ اسسٹنٹ کمشنرو پیرا فورس انچارج تحصیل رائیونڈ سے مطالبہ کرتی ہے کہ جب سٹرک پر لگی ریڑھیاں ہٹانے کے لیے کاروائیاں کی جاتی ہیں تو یہ ریڑھیوں والے مقامی رہائشی گلیوں میں پناہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے گلیوں کی بندش تکلیفوں سے دوچار کرتی ہے جس طرح مین سٹرک سے عام حالات میں ایمبولینس نہیں گزر سکتی اسی طرح جب ریڈھیوں والے گلیاں بند کرتے ہیں تو بوڑھے بچے مردعورتیں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جنہوں نے کئی بارشریفانہ انداز میں ریڈھی والوں سے منت سماج بھی کئی مگر وہ قوم پرستی کے منافقانہ اتحاد کی وجہ سے بدمعاشی کرتے ہوئے زبردستی گلیوں میں قابض رہتے ہیں۔برسوں سے مالکانہ حقوق رکھتے شریف حق پرست مقامی افراد نے اس زلت آمیز صورتحال سے جان چھڑوانے کے لیے مورخہ 22-10-2025کو پیرا فورس آفس اوراسسٹنٹ کمشنر تحصیل رائیونڈ آفس درخواست دائر کروائی جس کا ڈائری نمبر 1185ہے تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ کی طرف سے اس کا حل نہ نکال کر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی اداروں کے زریعے عوامی خدمت کے بیانے کو ابہام میں مبتلا کر دیا ہے۔اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو شکایت درج کروائی گئی جس کا نمبر 1555754جو 26جنوری 2026کو رجسٹر ہوئی۔اس پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ہونی ہے۔اس لیے اشتہار بازی اور بیان بازی پر کان نہ دھریں عملی طور پر عوام کے مسائل رشوت شفارش سے ہی حل ہو رہے ہیں جواس سے محروم ہیں وہ مسائل کی زد میں ہیں۔غفلت سستی نظر اندازی تنقید کو جنم دیتی ہے اور اعلیٰ ظرفی اصلاح کا نتیجہ۔ پنجاب حکومت اور سرکاری اداروں کے افسران کی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے پھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانیت و انسانیت کے جذبے سے متاثرہ عوام کی دادرسی کرکے سرخرو ہوں۔

  • ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ریاستیں نعروں، خواہشات یا محض سیاسی بیانیوں سے نہیں چلتیں، بلکہ مضبوط اداروں، واضح نظم اور قومی اتفاقِ رائے سے قائم رہتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور، متنازع یا عوامی تضحیک کا نشانہ بنایا، وہ بالآخر انتشار، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی، نظریاتی اور سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی دباؤ میں رہا ہے۔ دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور اندرونی عدم استحکام کے باوجود ریاست کا برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قومی سلامتی کے ادارے نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے ادارے ریاستی ستون سمجھے جاتے ہیں، جن پر تنقید ضرور ہوتی ہے، مگر ایک متعین آئینی اور قومی دائرے میں۔

    تاہم پاکستان میں ایک خطرناک رجحان مسلسل جڑ پکڑ رہا ہے—جہاں بعض سیاستدان، خود ساختہ دانشور اور سوشل میڈیا کے متحرک کردار قومی سلامتی کے اداروں کو براہِ راست عوامی نفرت اور شکوک کی علامت بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ جمہوری روایت سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سیاسی دانش سے۔

    لیبیا، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں ادارہ جاتی کمزوری کو ’’عوامی آزادی‘‘ کا نام دے کر ریاستی ڈھانچے کو منہدم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ جمہوریت بچی، نہ خودمختاری، اور نہ ہی عوام کا تحفظ۔ عالمی تھنک ٹینکس اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ریاستی اداروں کا ٹوٹنا براہِ راست انسانی بحران کو جنم دیتا ہے۔
    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اصلاحی تنقید کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور پالیسی پر اختلاف رکھنا ایک صحت مند عمل ہے۔ لیکن جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے تضحیک، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عوامی ذہن کو گمراہ کرنا بن جائے، تو یہ عمل ریاست کے لیے نقصان دہ ہو جاتا ہے۔

    پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کے لیے سیاسی قیادت، میڈیا اور رائے ساز طبقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ الفاظ محض آواز نہیں ہوتے، یہ بیانیہ بناتے ہیں—اور بیانیے قوموں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں۔

    عالمی تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مضبوط قومی سلامتی کے ادارے جمہوریت کے مخالف نہیں ہوتے، بلکہ اس کے محافظ ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ادارے طاقتور ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں قومی مفاد کے دائرے میں مضبوط رکھ پا رہے ہیں؟
    ریاستیں اختلافِ رائے سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ بے احتیاط زبان، غیر ذمہ دار سیاست اور ادارہ جاتی تصادم سے کمزور ہوتی ہیں۔

    اگر پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل دینا ہے تو ہمیں تنقید اور تخریب کے فرق کو سمجھنا ہوگا، اور ریاست کے ستونوں کو گرانے کے بجائے انہیں سنبھالنا ہوگا۔

  • اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد کے اندر پیش آنے والا حالیہ دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ دارالحکومت، جو ریاستی رِٹ، سکیورٹی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دشمن اب کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے۔

    حکومتی ذرائع اور سکیورٹی اداروں کی ابتدائی معلومات کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جاری پراکسی وار کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہے۔

    یہ حقیقت اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے دہشت گرد عناصر کے استعمال میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر ان سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان خود دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل رہے ہیں۔

    اسی طرح بھارت کا کردار بھی مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ اسلام آباد میں مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن قوتیں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کر کے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔

    یہ واقعہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی واقعی ایک عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس کے خلاف ردعمل بھی عالمی سطح پر یکساں اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو واضح طور پر پابند کریں کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اور بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں معصوم شہری، نمازی، علما اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب مزید صبر کا مظاہرہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والا یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر دشمن عناصر کو بروقت اور مؤثر انداز میں لگام نہ دی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

  • لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    پچیس برس بعد لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ایک شہر میں بسنت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بسنت نہ کوئی اسلامی تہوار ہے اور نہ ہی کوئی قومی روایت،یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے، جسے دنیاوی تفریح کہا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ بسنت کھیل ہے یا تہوار؛ اصل سوال وہ تضاد ہے جو اس فیصلے نے بے نقاب کر دیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے۔ یہی بیانیہ عالمی مالیاتی اداروں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور خود ہمارے سیاسی و میڈیا حلقوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جب صرف لاہور جیسے ایک شہر میں کروڑوں روپے پتنگ بازی پر اڑا دیے جائیں، تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے اگر یہاں پیسہ ہے، تو پھر غربت کہاں ہے؟ اور اگر غربت ہے، تو یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟یہ تضاد پاکستان کے اس سرکاری بیانیے کو کمزور کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم عالمی اداروں کے سامنے مالی مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ شاید مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔

    دوسری طرف، بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی ایک قیمتی جان ضائع ہو چکی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ بسنت کے ساتھ کیمیائی ڈور، چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ہنگامہ آرائی جڑی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن کی تفریح کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ ایک لاش؟ چند زخمی؟ اور ایک بار پھر وہی پرانا المیہ؟ریاست کی ذمہ داری صرف اجازت دینا نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ہے۔ اگر کسی سرگرمی کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں، تو پھر اس سرگرمی کے جواز پر سنجیدگی سے غور لازم ہو جاتا ہے۔

    بسنت سے نہ معیشت کو دیرپا فائدہ پہنچتا ہے، نہ غربت کم ہوتی ہے، نہ ہی قومی وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ اس سے یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ہم بطور قوم ترجیحات طے کرنے میں ناکام ہیں،جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے وقتی تماشوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جشن منانے اور قومی ذمہ داری میں فرق سیکھیں۔ خوشی منانا جرم نہیں، مگر خوشی کی قیمت اگر انسانی جان ہو اور قومی بیانیہ کمزور پڑ جائے، تو یہ خوشی نہیں، غفلت بن جاتی ہے۔

  • پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوامی تحفظ، ریاستی رِٹ اور قانون کی عمل داری کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ان کے پس منظر میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پولیس اصلاحات محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات نمایاں ہوئے۔ صوبے بھر میں نئے تھانوں کا قیام، پرانے تھانوں کی مرمت اور انہیں عوام دوست، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنا ایک ایسا قدم تھا جس نے پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، تھانہ کلچر میں بہتری دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    تاہم، ان تمام اقدامات میں سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں شہداء کی فیملیز کی مالی معاونت، فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کیے گئے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان سمجھ کر لیڈ کیا۔ اسی طرح پنجاب پولیس کے ماتحت عملے کی ترقیوں اور کیریئر اسٹرکچر میں بہتری نے فورس کے مورال کو بلند کیا۔

    ریاستی رِٹ کے استحکام اور حکومتِ پنجاب کی عمل داری کو مضبوط بنانے میں بھی پولیس کے کردار کو مؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو زمینی حقائق میں بدلنے میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اسی تسلسل میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کردار بھی غیر معمولی رہا۔

    ڈی جی سیف سٹی احسن یونس کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے پنجاب کو ایک کنٹرول روم سے مانیٹر کرنے کا نظام قائم ہونا ایک انقلابی قدم تھا۔ سیف سٹی کیمروں، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس میکانزم نے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دی بلکہ پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس ضمن میں ڈی جی سیف احسن یونس کا کردار بھی قابلِ قدر رہا، جنہوں نے اس نظام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے تین سالہ دور میں بعض فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں، لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پنجاب پولیس نے بہتری کی سمت میں واضح پیش رفت کی، اب جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت میسر ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اصلاحات کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، پولیس شہداء، فورس کے جوانوں اور عوام کے اعتماد کو مرکز میں رکھ کر اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب پولیس واقعی ایک جدید، باوقار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکے گی۔

  • جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرا افسر ،تیرا افسر،ہرادارے میں ذاتی مفادات کو تقرری کی بنیاد بنادیا گیا
    ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے سیاسی مداخلت بند کرنا ہوگی،میرٹ ناگزیر
    ترقی یافتہ دنیا میں نظام شخصیات کے گرد نہیں ،قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    میرٹ کے بغیر نظام، نظام کے بغیر ریاست،پاکستان میں ریاستی اداروں کی کمزوری، انتظامی انتشار اور عوامی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ میرٹ کی مسلسل پامالی ہے،بیوروکریسی ہو یا پولیس، سول انتظامیہ ہو یا دیگر ریاستی ادارے،تقریباً ہر جگہ تقرریوں اور تبادلوں میں اصولوں کے بجائے پسند و ناپسند، سیاسی وابستگی اور ذاتی تعلقات کو فوقیت دی جا رہی ہے،یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں نہ سینئر افسر کے تجربے اور سروس ریکارڈ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی جونیئر افسر کی پیشہ ورانہ اہلیت کو، جب ایک سینئر افسر کو نظرانداز کر کے اس کے ماتحت کو محض من پسند بنیادوں پر اس کے اوپر تعینات کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے ادارے کو پہنچتا ہے، ایسے فیصلے ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مجروح کرتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد کو کمزور نہیں بلکہ عملاً ختم کر دیتے ہیں،دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ادارے افراد سے بالاتر ہوتے ہیں، وہاں نظام شخصیات کے گرد نہیں بلکہ قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں ’’یہ میرا افسر‘‘ اور ’’وہ تیرا افسر‘‘ کی سوچ نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کا میدان بنا دیا ہے، نتیجتاً پولیس غیر مؤثر، بیوروکریسی دباؤ کا شکار اور عوام انصاف سے مایوس دکھائی دیتے ہیں،اس صورتحال کو جمہوریت کا نام دینا خود جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے، جمہوریت کا بنیادی تقاضا اداروں کی خودمختاری، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی ہے، اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں، وفاداری کو قابلیت پر ترجیح دی جائے اور قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے،پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکومتی بحرانوں کا حل مزید دعوئوں یا بیانات میں نہیں بلکہ عملی اصلاحات میں مضمر ہے، جب تک اقربا پروری کو ریاستی سطح پر مسترد نہیں کیا جاتا، جب تک سیاسی مداخلت سے پاک اور آئین و قانون کے مطابق نظام نافذ نہیں ہوتا، اور جب تک میرٹ کو واقعی قومی پالیسی کا درجہ نہیں دیا جاتا،تب تک ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،اب وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ریاست کو ایک منظم نظام کے تحت چلایا جائے، میرٹ کے بغیر ادارے نہیں چلتے، اداروں کے بغیر ریاست نہیں بنتی، اور ریاست کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں

  • کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کر کے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جارہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیر قانونی پارکنگ لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراؤں پر کار شورومز اور ورکشاپ سڑکوں پر قائم ہیں، تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا گیا ہے۔

    شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیر قانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیر قانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کیلئے مرنا ضروری ہے۔واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ ذنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز نے چائنہ کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کر کے شاباش بھی لے لینی ہوتی ہے اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لینی ہوتی ہے جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشن بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم زریعہ ہیں۔

    شعبہ صحت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائک راڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی، پھر وہی ریڑھی دینے کیلئے بھی بیس سے تیس ہزار کی دھیاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔ یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ سکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے عوام مرتی ہے تو مرجائے انکی دھیاری لگنی چاہئے۔

    انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا جاتاہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔ گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کی نام پر جگہ پر قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ انکے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کردیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے وہ باہر کیا کریں گے۔

    سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بنا نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے ، عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں ؟رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بلا نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے کیوں کہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کیلئے مرنا ضروری ہے کیا ؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف  پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    عالمی سیاست میں توجہ حاصل کرنا اکثر طاقت کے مظاہرے یا جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، مگر بعض اوقات مستقل مزاجی، ادارہ جاتی ضبط اور حقیقت پسندانہ مؤقف بھی عالمی طاقتوں کو متوجہ کر لیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں واشنگٹن میں پاکستان ایک بار پھر سنجیدہ غور و فکر کا موضوع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی خارجہ پالیسی میں روایتی سفارتی آداب کے بجائے براہِ راست مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی توجہ حاصل کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دوبارہ امریکی پالیسی ڈسکورس میں جگہ بنانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے بیانیے کو محض دفاعی دائرے سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم میں پیش کیا ہے۔

    یہ پیش رفت آسان نہیں تھی۔ پاکستان کو ایک طویل عرصے سے کئی محاذوں پر سوالات اور دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں اکثر عالمی بیانیے میں پس منظر میں چلی گئیں، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے کردار کو مسلسل جانچ کے عمل میں رکھا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی فعال سفارت کاری نے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے بھی پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔
    ان حالات میں جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نمایاں طور پر محتاط مگر مؤثر رہی۔ پاکستان نے خود کو کسی بحران کے ذمہ دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست، علاقائی استحکام کے شراکت دار اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر فریق کے طور پر پیش کیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جس نے واشنگٹن میں دوبارہ سنجیدہ مکالمے کی گنجائش پیدا کی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا پاکستان کی جانب مبذول ہونا محض علامتی واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی طاقتیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ جنوبی و وسطی ایشیا ایک بار پھر عالمی اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بن رہا ہے۔

    تاہم یہ لمحہ پاکستان کے لیے صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ عالمی توجہ عارضی ہوتی ہے، اگر اسے واضح پالیسی اہداف، معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کی عملی کوششوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب اس اسٹریٹجک موقع کو دیرپا شراکت داری میں ڈھالنا ہے، نہ کہ اسے محض ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود رکھا جائے۔
    اگر پاکستان اس موقع سے دانشمندی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ نہ صرف واشنگٹن بلکہ دیگر عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اور یہی کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی ہوتی ہے—خاموش، مستحکم اور دیرپا۔

  • غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور لاحاصل مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی رسم، جسے کبھی بسنت اور کبھی روایت کا نام دے دیا جاتا ہے، اس پر گھنٹوں کی بحث قوم کی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کے مباحث پہلے بھی ہمارے فکری زوال کا سبب بنے،کبھی “کوا حلال ہے یا حرام” جیسے موضوعات نے ذہنوں کو الجھائے رکھا، اور آج وہی روش نئے عنوانات کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شوق درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ کیا دنیا پتنگیں اڑا کر آگے بڑھی ہے، یا تعلیم، تحقیق، صنعت اور مضبوط معیشت کے ذریعے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک میں آج بھی عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور تعلیمی نظام اور ناقص صحت کی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں قومی مکالمہ اصل مسائل کے بجائے غیر سنجیدہ موضوعات کے گرد گھوم رہا ہو۔

    میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی اور شعور کی بیداری ہے، مگر جب توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے تو عوامی سوچ بھی منتشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت اور توجہ قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔ اگر یہ سرمایہ غیر ضروری بحثوں میں ضائع ہوتا رہا تو نقصان صرف آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، درست ترجیحات طے کریں اور قومی بیانیے کو ترقی، اصلاحات اور عوامی فلاح کی سمت موڑیں۔ بصورت دیگر افسوس کے سوا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔