گذشتہ دن اپنے دیرینہ و مخلص دوست وسینیٹر اور رہنما پروفیسر عرفان صدیقی کی صحبت جمیلہ میں اسلام آباد سے لاہور یوم تکبیر کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لئے سفر کرنے کا شرف حاصل ہو ا اور سینیٹر ناصر بٹ بھی ہمارے ہم رکاب تھے ہم خیال ہم عمر اور مہم ہمدم دوستوں کا اکٹھا سفر اور ایک ہی منزل اور ایک ہی لیڈر و عظیم لیڈر سے ملاقات کے اشتیاق نے ہمارے سفر کو انتھک اور خوشگوار بنا دیاجونہی ہماری گاڑی اسلام آباد سے لاہور کے لئے موٹر وے پر پہنچی تو کون محب وطن اور ترقی پسند ہے جس کے دل سے میاں نواز شریف کے جذبہ دل اور غنچہء شوق کی خوشبو کا اعتراف نہ اُبلتا ہوسینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی ، سینیٹر ناصر بٹ اور میری اپنی گفتگو میں جو تجزیہ کرنے لگے کہ اگر میاں نواز شریف پشاور اسلام آباد لاہور فیصل آباد ، لواری ٹنل اور دیگر موٹر ویز نہ بناتے تو آج کا پاکستان کیسا ہوتاشیر شاہ سور ی دور کا گرینڈ ٹرنک روڈ کوہستان برہان بٹالہ پاک وطن کی وہ بسیں ہوتیں جوراولپنڈی سے فیصل آباد کا سفر 14 گھنٹے میں کرتی تھیں اور جب مسافر ان سے اترتے تھے تو انہیں اپنے گھر والے بھی نہ پہچان سکتے تھے تاجر کئی دن تک اپنے ساز وسامان کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہتے تھے اور آئے دن گاڑیوں کے خطرناک حادثات کی خبریں اخبارات کے پہلے صفحات کی زینت بنتی تھیں اور سوال یہ بھی آیا کہ اگر نواز شریف موٹر وے نہ بناتے تو کوئی اور بناتا؟ جی بالکل نہیں کیونکہ ان کے ہم عصر ایک اور وزیرا عظم اس پر تنقید کرکے موٹر وے کی چوڑائی کم کر گئی تھیں جس کا پچھتاوا آج بھی قوم کو ہےکیا آج ہم اتنے طویل موٹر ویز بنا سکتے ہیں ؟ جی بالکل نہیں کیا آج ہم میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں جی بالکل نہیں ہماری معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے
سینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی نے نکتہ اٹھایا اگر میاں نواز شریف سی پیک کی تکمیل کر چکے ہوتے اور کراچی لاہورا سلام آباد تاکاشغر دو رویہ ریل ٹریک بن کر چالو ہو چکا ہوتا تو پھر پاکستان کہاں کھڑا ہوتاہم سب کا جواب تھا کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتادنیا کے بڑ ےبڑے برانڈراپنی مصنوعات کے کارخانے پاکستان میں لگاتے اور اپنی مصنوعات کی ترسیل دوسرے دور دراز ممالک میں کررہے ہوتےبیرون ملک سے پاکستانی لیبر واپس آکر اپنے دیس میں روزی کما رہی ہوتی پاکستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ یوتھ ڈنکیاں لگاکر سات سمندر پار ڈوب نہ رہی ہوتی اور پاکستان کا برین ڈ رین نہ ہوتالاہور پہنچ کر حسب معمول سینیٹر پرویز رشید کی مہمانداری نصیب ہوئی تو ان کے گرد میاں نواز شریف کے مخلص دوستوں کا ہجوم دیکھ کر دل بے ساختہ کہہ اٹھابقول اقبال و فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
میاں نواز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے خطاب میں عوام کے دل موہ لئے اور یہ خطاب بلاشبہ ایک تاریخی خطاب ہے جس میں انہوں نے سات سال کے عرصہ میں جلا وطنی اور اقتدار سے زبردستی علیحدگی صادر فرمانے والے ٹولے کی نشاندہی بھی کی اور اس سے پاکستان کے ترقی کے سفر میں ناقابل تلافی رخنہ اندیزی کاتذکرہ کیاانہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح پاکستان کو سی پیک کی منزل سے گمراہ کرنے کے لیے انہیں لندن پلان اور ا س وقت کی عدلیہ کی ملی بھگت کا نشانہ بنایا گیا اور ایک نااہل قیادت کو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے کا کھلا موقع فراہم کیا گیا
میاں نواز شریف نے موٹر ویز سے لے کر ایٹمی دھماکوں تک صنعتی انقلاب سے سی پیک ا ور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک جتنے بھی اقدامات کیے کا ذکر کیا ان کارناموں کوفیض احمد فیض کے ایک قطعہ میں تخلیق کیا جا سکتا ہے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اورنکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب میں ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
Category: سیاست

یوم تکبیر پر سفر اور نواز شریف کا عوامی خطاب، تجزیہ : شہزاد قریشی

نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی
سیاسی قوتوں اور عوام کو ریاستی اداروں پر تنقید پر اکسانے والے پاکستان سے مخلص نہیں ۔ریاستی و قومی ادارے ہی وطن عزیز کی بقا اور استحکام کے ضامن ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔ وطن عزیز کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے کہنہ مشق سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو کہ میاں نوازشریف کی صورت میں ہی موجود ہے۔ تمام تر سپر پاور کے دبائو کو نظرانداز کر کے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کوناقابل تسخیر بنانا اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا، وطن عزیز میں موٹرویز کا جال بچھا کر معیشت کے پہیے کو نئی رفتار بخشی۔ نوجوانوں کے لئے آسان قرضے، پیلی ٹیکسی کی آسان قسطوں پر فراہمی کے ذریعے بیروزگاری پر قابو پانے جیسے اقدامات کے بعد میاں نوازشریف نے تکمیل پاکستان کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو دور کیا ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں صنعتکار پاکستان سے اپنی ملوں کو اٹھا کر دوسرے ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے تھے اور مختصر عرصے میں چائنا سے معاہدے کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا۔
میاں نوازشریف کی انتھک کوششوں کا سلسلہ جاری رہا اور سی پیک کے منصوبے اور گوادر سی پورٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان کو بیرونی قرضوں سے نجات اور ایشین ٹائیگر بنانے جیسے اقدامات کے تمام حلقے معترف ہیں۔ اگر اس وقت دھرنا سیاست کے ذریعے چینی صدر کے دورے کو منسوخ نہ کرایا جاتا تو آج پاکستان کا معاشی منظر نامہ مختلف ہوتا۔ اگر سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جاتے تو آج پاکستان معاشی طور پر خودکفیل بن چکا ہوتا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو اعلیٰ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر کے میاں نوازشریف کی غیر متزلزل قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کے ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم کرنا چاہئے۔

عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے محکمہ تعمیرات اور بلدیات کو گلیات اور سڑکوں کی تعمیر سے قبل ویسٹ مینجمنٹ اور سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی ضروری مرمت کے احکامات اور کوالٹی کنٹرول کی ترجیحات کو مدنظر رکھنے جیسے اقدامات قومی سرمائے کے درست استعمال کی جانب قابل تحسین قدم ہے جس سے عوامی فنڈز کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار میں گلیات اور سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوتے ہی دوسرے ہفتے میں واٹر سپلائی یا ٹیلی فون یا گیس والے بنی بنائی گلی سڑک کو اکھاڑ کر چلے جاتے تھے جس سے گلی نالی کی پے درپے تعمیر پر ترقیاتی گرانٹوں کا زیاں اور ٹھیکیدار کلچر کا فروغ دیکھنے میں آیا اور سیاسی اثر و رسوخ حتیٰ کہ بلدیات کے ملازمین نے ہی اپنے رشتے داروں کو ٹھیکیدار رجسٹر کراکے اپنے خاندانوں کی چاندیاں کیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیات اور تعمیرات کے محکموں کے پلاننگ شعبوں اور مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندے کسی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل نیچے موجود ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی مرمت و تبدیلی کیلئے کلیئر کریں اور ٹھیکیدار کی مانیٹرنگ پر مقامی نمائندوں کو فوکل پرسن اور اہلیان علاقہ و محلہ کے ایماندار افراد کی کمیٹی کو کوالٹی کنٹرول میں شامل کیا جائے جو کہ کنکریٹ کے میٹریل کی کوالٹی اور کام مکمل ہونے کے بعد اس کی آبیاری کو بھی ٹھیکیدار سے یقینی بنائے. آئے روز گلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور اہلیان محلہ کی جانب سے خود ہی نالی یا گیس کنکشن کی کھدائی کے ذریعے یا جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنانے کی بلا روک ٹوک روش کو بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس اپنی کاروائی میں شامل رکھے بلدیاتی افسران اور محکمہ تعمیرات کے افسران جن میں ایس ڈی او‘ ایکس ای این‘ سب انجینئر‘ بلدیہ کے سی او اور کلرک صاحبان جس دیدہ دلیری کے ساتھ 10فیصد کمیشن کی رواجی کمائی کے عادی ہوچکے ہیں اس کے بغیر وہ ٹھیکیدار کا چیک سائن نہیں خرتے اس کرپشن کا قلع قمع بھی ہونا چاہئے تاکہ عوام کا فنڈ مکمل طور پر عوام پر ہی خرچ ہو نہ کہ افسر شاہی کے نذر نذرانوں کی نذر ہو۔

دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی
تازہ ترین خبر کے مطابق دوبئی لیک سامنے آئی ہے۔ چلئے کوئی کمیٹیاں بنا دیں۔آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا۔ دوبارہ پھر کسی نواز شریف جیسے فرد واحد کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے اور باقی کے افراد کو چھوڑ دیا جائے۔ نواز شریف کو پانامہ نہیں بچوں سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم دوبئی لیک سے ثابت ہو چکا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے تمام راستے صاف ہیں بلکہ موٹر وے کی صاف راستے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں، ہمارے بیوروکریٹس ، دیگر اعلیٰ افسران ، سیاستدان ، اشرافیہ ، لوٹ مار، منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کے ننگے ناچ میں مشغول ہے۔ بدقسمت ملک میں بسنے والے کروڑوں عوام کس کرب میں مبتلا ہیں اس سے ان کو کوئی سرورکار نہیں۔ بے حسی، بے پناہ مہنگائی ،بے قابو غربت ، غیر معمولی حدوں کو چھونے لگی ہے۔
حکومت میں ہوتے ہوئے حزب اختلاف کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اصلیت ہے مگر اس میں جوش کا پتہ نہیں،ہیرو ہیں جن کے کارنامے نہیں۔ تاریخ ہے جس میں واقعے نہیں۔ تبدیلی کی رفتار ہے جیسے اگر کوئی طاقت حرکت میں رکھنے والی ہے تو محض کیلنڈر ۔ محلاتی سازشوں اور درباری تماشوں میں محو ہیں۔ ہر بار معیشت کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سیاست نظر آتی نہیں رہی مفاد ذاتی سیاست کا دورہے ۔ ایمان۔ ضمیر۔ وفا جیسی چیزیں سیاستدانوں کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج کا سیاستدان کل کا جس پارٹی کو گالیاں دیتا ہے پھر دوسری پارٹی بدل کر گالی د ینے والی پارٹی کے لئے تالیاں بجاتا ہے۔ سیاستدان کی وفاداری تبدیل ،ضمیر تبدیل ، معیار تبدیل، خیال تبدیل ،ان حالات میں منی لانڈرنگ ، کالا دھن سفید نہ ہو تو کیا ہو۔ جن کی اپنی کوئی منزل نہ ہو۔ وہ پاکستان اور عوام کے رہبر کیسے کہلوا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے یہ خطہ ہی نہیں ہے یہ ساری دنیا خدا پاک کی ملکیت ہے ۔ قرآن پاک کا مطالعہ کریں ،سرکش انسانوں کی داستانیں بھری پڑی ہیں اور عبرت حاصل کرتے وقت توبہ کریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے میرٹ پر اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کی تقرریاں کرکے سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ریاستی مشینری کو عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈویژنل کمشنر ایسے عہدے ہیں جن کا سیاست سے پاک ہونا بہت ضروری ہے اسی طرح پولیس کے محکمہ میں تھانہ سے لے کر آئی جی کے آفس تک کے افسران کو بھی اپنی پیشہ وارانہ آزادی سے کام کرنا چاہئے اور ان افسران کو سیاسی مداخلت سے بے نیاز ہو کر کام کرنا چاہئے جبکہ مقامی منتخب نمائندوں مثلاً ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو بھی بے جا مداخلت سے اجتناب برتنا چاہئے البتہ علاقے کی عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے منصوبوں کی نشاندہی اور ان انتظامی افسران کی راہنمائی کے لئے مشاورت کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی عوام کی بہتری اور ترقی کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور ان کی کاوشوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا سفارش تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حضرات مہنگائی کے کنٹرول‘ تجاوزات کے خاتمے‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں بین الاضلع اور مقامی روٹوں پر ٹرانسپورٹروں کی کرایوں میں اضافے سے لوٹ مار‘ جعلی ادویات اور اشیاء خوردنی میں ملاوٹ پیٹرول پمپوں میں ڈیزل پٹرول میں ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی اور خصوصاً پٹواری مافیا کے قلع قمع کرنے میں کوشاں نظر آنا چاہئے اور غفلت لاپرواہی اور کرپشن میں ملوث پائے جانے والے افسران کے خلاف وزیراعلیٰ صاحبہ کو بھی عوامی شکایات پر نوٹس لینے اور تادیبی کارروائی کرنے کا ایک موثر نظام بھی فعال کرنا ہوگا تاکہ کرپشن فری انتظامی مشینری عوام کی خدمت میں مصرف عمل موجود ہے۔

جعلی مزدور جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی
یر سال یکم مٸی کو مزدوروں کا عالمی دن اور ہر 3 مٸی کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے ٠ اس کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر ہر سال عالمی دن مناٸے جاتے ہیں جن میں خواتین کا دن ، ماں کا دن ، باپ کا دن ، زمین پانی و دیگر کٸی موضوعات شامل ہیں ٠ یہ ایک بہت اچھا اور مثبت عمل اور اچھی روایت ہے ٠ ایسے دن یا ایّام کے منانے سے ان موضوعات کے حوالے سے حقاٸق جاننے اور اصلاح کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے ٠ جن کے ماحول اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ٠ مٸی کے مہینے میں مزدوروں ، صحافت اور ماٶں کے عالمی دن مناۓ جاتے ہیں ٠ بقول نواب اسلم رٸیسانی ڈگری ڈگری ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا نقلی لیکن بہت اچھا ہوا کہ نواب صاحب نے بعد میں اپنے کہے پر معذرت کر لی تھی ٠ ہمارے ذہن میں بھی شاید اور اکثر یہ خیال آتا ہوگا کہ مزدور مزدور ہوتا ہے صحافی صحافی ہوتا ہے ماں ماں ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا جعلی ٠ لیکن اصل اور نقل میں فرق کرنا لازمی بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی ورنہ اصل اور نقل کو ایک سمجھنے سے انسان اور معاشرے کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کو فروغ ملتا ہے ٠ جھوٹے پر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور جھوٹ ہی تمام براٸیوں کی جڑ ہے ٠
دھوکہ دہی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے کسی کے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہو تو اس انسان کی بربادی واضح ہو جاتی ہے ٠ لیکن افسوس اس وقت بھی ہوتا ہے جب تعلیم کے شعبے سے وابستہ استاد لیکچرر ہوتا ہے مگر جھوٹ بولتے ہوۓ خود کو پروفیسر کہلاتا ہے یہاں تک کہ وہ رٹاٸر بھی لیکچرر کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر پھر بھی خود کو پروفیسر ہی لکھتا اور کہلاتا ہے ٠ جب ایک استاد ہی تمام عمر جھوٹ بولتا اور لکھتا رہے تو اس کے اس کذب اور جھوٹ کے خود اس کی ذات پر اس کے شاگردوں پر اس کے خاندان پر اور معاشرے پر کس طرح منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں گے ؟ طب یا صحت کے شعبے سے وابستہ افراد جن میں ڈسپنسر ، میڈیکل ٹیکنیشن ، نرسنگ اردلی اور وارڈ بواۓ وغیرہ بھی خود کو ڈاکٹر کہلاۓ تو اس معاشرے اور سماج کی کیا صورتحال ہوگی ؟ ایسی دیگر کٸی مثالیں ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اصل جج اصل وکیل اصل سیاستدان اصل ساٸنسدان اصل سپاہی اصل سپہ سالار اصل عالم و فاضل اور اصل مولوی اور مولانا و مفتی وغیرہ کی پہچان کیسے اور کس طرح ہو یہ وہ سوال اور وہ مسٸلہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے ٠
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل مزدور وہ ہے جو سردی ہو یا گرمی مشکل ہو یا آساں وہ اپنے فراٸض نیک نیتی اور پوری دیانتداری کے ساتھ سر انجام دیتا ہے اور اس کی یہ محنت عبادت بھی بنتی ہے اور حلال رزق کا باعث بھی ٠ ایسے ہی مزدور کیلیٸے مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ ”الکاسب حبیب اللّٰہ “ یعنی محنت کرنے والا اللّٰہ کا دوست ہے ٠ یہ اس انسان اور اس مزدور کے لیے کتنا بڑا اعزاز ہے اور کتنی بڑی کامیابی ہے جس کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اپنا دوست بناتا ہے ٠ گزشتہ یکم مٸی کو بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں مزدوروں کے حوالے سے مستری مزدور یونین کا ایک جلسہ منعقد ہوا ٠ اس یونین کے صدر ہارون الرشید عرف لیاقت چکھڑا نے جلسے سے اپنے خطاب میں جو باتیں کیں وہ رلادینے والی تھیں ٠ اس نے بتایا کہ بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے لیکن ہم مزدوروں کے لیے رحمت کے بجاۓ اس لیٸے زحمت ثابت ہوتی ہے کہ اس دن ہمیں کام نہیں ملتا اور ہم خالی ہاتھ اپنے گھر واپس جاتے ہیں ٠ اور اس دن ہمیں بھوکا رہنا پڑتا ہے ٠ انہوں نے کہا کہ ہم مزدوروں کا جینا تو ویسے بھی امتحان اور سخت آزماٸش تو ہے ہی مگر مرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ فوت ہونے والے کی تدفین کیلیۓ کفن کی رقم بھی نہیں ہوتی اور مزدورں کو قرض یا ادھار دینے والا بھی کوٸی نہیں ہوتا ٠ لیاقت علی نے یہ بھی بتایا کہ مزدوروں کی اکثریت کو سر چھپانے کیلیۓ اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہوتا ٠ کرایہ کے مکان میں زندگی مزید مشکل گزرتی ہے ٠ یعنی دوسروں کے لیے گھر اور محل بنانے والے اپنے گھر سے محروم رہتے ہیں ٠ ایسی اور بھی انہوں نے درد بھری باتیں بتاٸیں جن پر الگ سے کالم لکھنے کی ضرورت ہے ٠ اسی یکم مٸی کو ایسے لوگ بھی خود کو مزدور اور مزدور رہنما کہلاتے ہیں جو انتہاٸی بد دیانت کام چور کرپٹ اور بلیک میلر ہوتے ہیں جو مزدوروں کے حقوق کا سودا کرتے ہیں ٠ ایسے سرکاری ملازم جو یونین کی آڑ میں نہ صرف خود ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی بھرتی کرا لیتے ہیں اور وہ بھی گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ٠ خود یونین لیڈر بن کر اپنے محکمہ سے ماہانہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتے ہیں اور اپنے ہی مزدور ملازمین کا استحصال کرتے ہیں ٠ اور دنیا کے مزدورو ایک ہو جاٶ کا نعرے لگواتے ہیں ٠ مزدور اتحاد اور مزدور مزدور بھاٸی بھاٸی کا منافقانہ نعرہ لگوا کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں ٠ یہی وہ جعلی مزدور ہیں جو اپنے محکمہ میں کرپشن بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کا بازار گرم رکھے ہوٸے ہوتے ہیں ٠ لاکھوں اور کروڑوں کی پراپرٹی کا مالک بنتے ہیں ٠ اور یہی مزدوروں کے لیڈر اور رہبر بنے ہوٸے ہیں ٠ حالانکہ اصل مزدور تو وہ مرد و خواتین بچے اور بوڑھے ہیں جو کھیتوں سڑکوں کارخانوں ہوٹلوں ریستورانوں گیراجوں ورکشاپس اور گھروں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ٠ تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور گھروں میں کام کرنے والی بچیاں اور خواتین تشدد کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتی ہیں ٠ مگر افسوس کہ ہماری اسلامی ریاست اپنے محنت کش اور مزدور مرد و خواتین بچوں اور بوڑھوں کو عزت روزگار اور تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے ٠
صحافت کے شعبے میں بھی جعلسازی اور دھوکہ دہی کا راج ہے ٠ یہ فرق کرنا بہت مشکل لگتا ہے کہ اصل صحافی کون ہے ٠ صحافت ایک بہت ہی معزز پیشہ ہے ٠ صحافی کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے ٠ آزادی صحافت کی بات کی جاتی ہے ٠ یہ بھی طے کرنا ابھی باقی ہے کہ آزادی ہے کیا چیز آزادی کی حد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے ٠ ہمارے یہاں تو سیاستدان حضرات آزادی اور حق و سچ کی صحافت اس کو سمجھتے ہیں جس کے تحت ان کے مخالفین کے خلاف لکھا جاۓ اور خود ان کی تعریف کی جاٸے ٠ خواہ وہ خود کتنا ہی کرپٹ بدعنوان ظالم اور بد کردار ہی کیوں نہ ہو ٠ اگر صحافی اس کے بارے میں سچ لکھتا ہے تو وہ صحافی اس کی نظر میں بلیک میلر بن کر سزا کا مستحق بن جاتا ہے ٠ جبکہ سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں لکھنا صحافی کیلیۓ مزید مشکل بن جاتا ہے اور سیکوریٹی اداروں کے بارے میں لکھنا گویا موت کو دعوت دینا یا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے ٠ اس لیٸے حق اور سچ لکھنے والے صحافی کیلیۓ صحافت قدم قدم پر آزماٸش اور شدید خطرات کا باعث بنتی ہے ٠ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافی مشکلات اور خطرات میں گھرے رہتے ہیں ٠ اب تک دنیا بھر میں ہزاروں مرد و خواتین صحافی حق اور سچ لکھنے پر قتل کیٸے جا چکے ہیں ٠ قید و بند اور تشدد کے واقعات تو حقیقی صحافیوں کیلیۓ آٸے روز کے معمولات میں شامل ہیں ٠ مگر یہاں بھی مزدور پروفیسر اور ڈاکٹر وغیرہ کی طرح اصل اور جعلی صحافی میں فرق پیدا کرنا بڑا اہم مسٸلہ ہے ٠ صحافت کے شعبے میں ایسے افراد گھس آۓ ہیں کہ اصل صحافی کی پہچان ہی مشکل بن گٸی ہے ٠ سوشل میڈیا میں تو یہ مسٸلہ اور بھی پیچیدہ بن گیا ہے ٠ اب تو ہر دوسرا اور تیسرا شخص صحافی بنا ہوا ہے ٠ ایسے صحافیوں کو نہ تجربہ ہے نہ مہارت اور نہ ہی تربیت ٠ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح و بھلاٸی اور مساٸل کی نشاندہی نہیں بلکہ ناجاٸز عزت دولت اور شہرت حاصل کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ٠ جس کیلیۓ وہ ہر غلط کام خوشامد چاپلوسی اور جھوٹ لکھ اور بول کر نہ صرف خوش اور مطمٸن ہوتے ہیں بلکہ اپنے شرمناک کرتوتوں پر فخر بھی کرتے ہیں ٠ لوگوں پر رعب جمانے اور بلیک میل کرنے کی غرض سے اور خود کو معزز اور مشہور ثابت کرنے کیلیۓ بڑے نامور لوگوں کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنوا کر سوشل میڈیا میں پوسٹ کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ٠ حالانکہ کسی بڑے عہدیدار کے ساتھ تصویر بنوانا احساس کمتری کا واضح ثبوت ہوتا ہے ٠ اس کے علاوہ جو اوپری سطح کے اینکر یا صحافی ہیں ان میں کچھ ایسے صاحبان اور صاحباٸیں بھی ہیں جو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں یا تو لوگوں کو مرغوں کی طرح لڑاتے ہیں یا پھر سوال بھی خود کرتے ہیں جواب بھی خود دیتے ہیں ٠ مہمانوں کو بولنے ہی نہیں دیتے اس لیٸے وہ بیچارے اپنا مدعا بیان ہی نہیں کر پاتے اور یہ بھی آزادی صحافت کا ایک حصہ ہے ٠ اس طرح کے لوگ ہی خود کو صحافی سمجھتے ہیں ٠ اس لیٸے آزادی صحافت سے پہلے یہ بھی سوچنا ہے کہ اصل اور جعلی صحافی کی پہچان کیسے ہو اس کے بعد ہی آزادی صحافت کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا ٠

سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی
اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) پاکستان کی مقتدرہ سیاست عوام اور میڈیا کو پاکستان سب سے پہلے رکھنا ہوگا۔ پاکستان کے مفادات، سالمیت اور بقا کو دائو پر لگا کر سیاست اور اقتدار کی دکان چمکانے والے کسی طرح بھی محب وطن نہیں، سوشل میڈیا بشمول الیکٹرانک میڈیا کو عوا م کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے چاہئیں نہ کہ اپنی ریٹنگ کے چکر کی دوڑ میں قومی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ پولیس کسی بھی معاشرے میں امن و امان اور عوام کی حفاظت کی ضامن ہوتی ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دستہ اول کے طور پر پولیس نے عوام کی جانوں کی حفاظت میں پولیس نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں اور ایک تاریخ رقم کی۔ پولیس کو عوامی تذلیل اور تمسخر کا نشانہ بنانا اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کا ذریعہ بنانا دراصل عوام کو عدم تحفظ اور بے لگام معاشرے اور لاقانونیت کے جنگل میں دھکیلنے کے مترادف ہے، مسند اقتدار پر براجمان بعض سیاستدان نہ جانے کن آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ٹی وی پر آکر زبان درازیوں اور بازاری جملہ بازیوں کے کرتب دکھا رہے ہیں اور نوجوانان قوم کو بے لگام آزادی کے خواب دیکھنے میں مشغول کر رہے ہیں قومی سیاستدانوں، مسند اقتدار پر براجمان شخصیات کے ہر قول و فعل حتیٰ کہ لباس اور حرکات و سکنات میں بے مثال سلیقہ نظر آنا چاہئے جو عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے لیکن ناعاقبت اندیش ہستیاں عارضی اقتدار کے نشے میں سستی شہرت کے حصول کی خاطر نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ان کی تقلید کرنے والوں کو عراق ، یمن ، اردن ، لیبیا اور دیگر زوال کا شکار ہونے والے ممالک کی ماضی قریب کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہئے وہ بھی ایسے ہی فتنوں اور جھوٹی آزادی کے خوابوں میں مبتلا ہو کر حقیقی آزادی سے محروم ہو گئے اور ان کی نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی گئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدرہ، سیاست اور حکمرانوں کو مل بیٹھ کر وطن عزیز کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے اپنی حدود کے تعین اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے تمام اداروں کو عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لئے مخلص افسران کی تعیناتیوں کو عمل میں لانا ہوگا۔ ہر نئی حکومت نئے عہد و پیمان لے کر آتی ہے اور قومی سرمایہ کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کے وعدے لاتی ہے اور ان کے جانے پر دریافت ہوتا ہے کہ انہوں نے کمال ہوشیاری سے کرپشن کی جس کی زندہ مثال حالیہ گندم اسکینڈل میں تین سو ملین ڈالر کا ٹیکہ ہے، مقتدرہ اور حکمرانوں کو اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچا کر عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔

نواز شریف کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی
میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کا مسلم لیگ (ن) کی مسند صدارت پر دوبارہ بیٹھنا پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت اشارہ ہے ،میاں نواز شریف کے جدید پاکستان کے وژن کے ادنیٰ سے ثبوت لاہور شہر میں اورنج ٹرین‘ میٹرو بس راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹر وبس، پاکستان بھر میں موٹر ویز کا جال بچھانے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب کی تعبیر کی طرف سی پیک اور گوادر سی پورٹ جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جبکہ راولپنڈی کو رنگ روڈ کے منصوبے کی منظوری اور اب اس پراجیکٹ پر عملی اقدامات ایسے منصوبے ہیں جن سے عوام کی زندگی میں سہولیات اور آسانیاں اور ترقی یافتہ انقلاب آتا ہے۔
آج لاہور کی عوام شدید گرمی کے ایام میں ٹریفک جام کی اذیتوں سے آزاد ہو کر یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اورنج ٹرین اور میٹرو بسوں کی سہولتوں سے فائدہ مند ہورہی ہیں اور خصوصاً خواتین کو اور طالبات کو لوکل ٹرانسپورٹ میں خوار ہونے سے نجات مل چکی ہے جو کہ میاں نواز شریف کی عوام دوست پالیسیوں کے عملی ثبوت ہیں۔
ادھر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عوامی گورنروں کی تقرریوں کے لئے سردار سلیم حیدر اور فیصل کریم کنڈی کی منظوری دے کر پارٹی کارکنوں کے دل جیت لئے ہیں جس سے جمہوری سیاست میں گراس روٹ سطح پر ورکروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ورکروں اور پسے ہوئے طبقے کو آگے لانا ہوگا کیونکہ گزشتہ ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی پر خاندان پرور سیاسی مداریوں کے قبضے نے بینظیر بھٹو اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے کو پامال کئے رکھا جس سے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا پہنچا۔ امید کی جاتی ہے کہ چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ابن الوقت ٹولے کی حوصلہ شکنی کرکے پنجاب بھر میں ورکروں کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں گے۔
میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے حقیقت پسندانہ اقدامات سے وطن عزیز میں سیاسی اور جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا اور سیاسی طاقتوں کو پرورش کی فضا ملے گی اور عوام کو سیاسی قیادت کے ثمرات ملیں گے۔


سپاہی، صحافی اور جاسوس، تحریر: آغا نیاز مگسی
دنیا میں جتنی بھی مخلوقات کرہء ارض پر موجود ہیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص وقت مقرر ہوتا ہے لیکن ان میں سے سپاہی، صحافی اور جاسوس وہ مخلوق ہیں جو ہمہ وقت یعنی 24 گھنٹے آن ڈیوٹی یا آن کال رہتے ہیں رات کو جب ہر کوئی آرام میں ہوتا ہے لیکن یہ تینوں آپ کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئیں گے یہ زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہتے ہیں یعنی گھر کے ہوتے ہوئے بھی بے گھر لگتے ہیں البتہ ان تینوں کی وفاداری ہمیشہ مشکوک رہتی ہے یہ خود بھی مشکوک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر سپاہی اور صحافی ”سخاوت“ میں ایسے کہ کسی کو دعا تک بھی نہیں دیتے لیکن خود بہت کچھ کے علاوہ دعا کے بھی ہمیشہ طلبگار رہتے ہیں۔
کتے کو جہاں وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں نفرت کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے کسی انسان کو کتا کہنا بہت بڑی گالی مانا جاتا ہے 1976 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پریس پر سخت پابندی عائد کی تو سارے صحافی خوفزدہ ہوکر خاموش ہوگئے تو اندرا گاندھی نے کہا کہ کوئی ایک کتا تک نہیں بھونکا لیکن اس برعکس پاکستان کے صحافی بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں انہوں نے مارشل لاؤں میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بیروزگار بھی ہوئے اور اب بھی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ہر محاذ پر لڑ رہے ہوتے ہیں سپاہی بھی ایسی ہی مشکلات اور خطرات کا شکار رہتے ہیں اس لیئے یہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کی دعاؤں میں رہتے ہیں جبکہ سپاہی اور صحافی دونوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں بھی موجود ہوتی ہیں اصل سپاہی اور صحافی کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے اس لیئے لوگ سپاہی اور صحافی سے کم کم ہی پیار کرتے ہیں بلکہ ان کے حصے میں نفرت اور بد دعائیں زیادہ آتی ہیں تاہم پولیس فورس میں ذوالفقار چیمہ عابد نوتکانی اے ڈی خواجہ خادم رند اور خیر محمد جمالی جیسے کئی بہادر اور مخلص سپاہی اور افسران بھی موجود رہے ہیں جبکہ صحافت میں بھی میر خلیل الرحمان حمید نظامی عنایت اللہ ضمیر نیازی الطاف قریشی منو بھائی ، وارث میر اور ہارون الرشید جیسے صحافی بھی موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود بھی اگر لوگ سپاہی اور صحافی سے پیار نہیں کرتے اعتبار نہیں کرتے اور ان کو دعا نہیں دیتے تو اس لیے ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔
ہر دور میں تین قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں پہلی جنگ سپاہی اسلحہ کے بل بوتے پر لڑتے ہیں دوسری جنگ ملکوں اور اقوام کے درمیان جاسوسی کے ذریعے لڑی جاتی ہے جسے جاسوسی جنگ کے علاوہ ملکوں کے درمیان سرد جنگ Cold War بھی کہا جاتا ہے اور یہ ایک خطرناک جنگ ہے جاسوسی کی جنگ میں خوبرو خواتین اور خوبصورت دوشیزاؤں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے وہ فرائض کے دوران اپنی عصمت کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں ۔ دنیا میں بہت سی جاسوس خواتین موت کے گھاٹ اتاری گئی ہیں لیکن خواتین نے اپنے فرائض میں بہادری کی مثالیں قائم کی ہیں ۔
دنیا بھر میں تیسری جنگ صحافی قلم کے ذریعے لڑتے رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ غزہ فلسطین کی حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی بمباری سے اب تک 60 سے زائد صحافی شہید ہو چکے ہیں جن میں کچھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ یونیسکو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 تک دنیا بھر میں 1500 کے لگ بھگ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں ۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں صحافیوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں یہاں حق اور سچ کی صحافت کرنے والے مرد و خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی رہتی ہیں اور یہ لوگ دباؤ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے حقیقی صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور یہ لوگ جیسے صحافت کے پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں وہ خود بھی غیر محفوظ رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد بھی غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں چنانچہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو احتیاط اور دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔
ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں
بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا
بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے
سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری
تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف
چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم
امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت
ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات
مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ
اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ
ایک تزویراتی سیاسی اقدام کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم کا باوقار عہدہ عطا کیا ہے، جس سے انتظامیہ کے اندر ایک قابل اعتماد شخص کے طور پر ان کے کردار کو تقویت ملی ہے۔ یہ اہم تقرری پارٹی کے صدر کے طور پر نواز شریف کے دوبارہ متحرک ہونے کی عکاسی کرتی ہے، جو پارٹی کے اندرونی حلقے میں مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔
سعودی عرب میں ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی اجتماع میں شرکت کے دوران اسحاق ڈار کا اپنے نئے کردار میں ابتدائی قدم انہیں عالمی سطح پر لے جاتا ہے۔ یہ تبدیلی ان کے گزشتہ دور میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے شاندار کارکردگی کے بعد آئی ، موجودہ حکومت میں اسحاق ڈار کو وزارت خارجہ دی گئی تھی، اسحاق ڈار کی اب بطور نائب وزیراعظم تقرری کے بارے میں قیاس آرائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا
تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ آئین واضح طور پر نائب وزیر اعظم کے عہدے کی وضاحت نہیں کرتا ۔ 2012 میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور موجودہ پی ٹی آئی کے رہنما پرویز الٰہی 2012 میں نائب وزیراعظم کے عہدے پر رہ چکے ہیں،سیاسی مصلحت کے لیے یا پسندیدہ افراد کو نوازنے کے لیے ایسے کرداروں کی تشکیل قانونی اصولوں اور آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔
نائب وزیر اعظم کے کردار کو جلد متعارف کرانے کا فیصلہ شہباز شریف حکومت پر بری طرح جھلکتا ہے،جو ممکنہ طور پر ان کے اختیارات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آیا شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان تناؤ پیدا ہوگا یا نہیں کیونکہ مؤخر الذکر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے
روایتی طور پر وزیر خزانہ کے دائرہ اختیار میں، مالیاتی معاملات کے حوالے سے ممکنہ تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے اسحا ق ڈار کی جگہ پر محمد اورنگزیب کو وزارت خزانہ میں تعینات کرنے کے باوجود، اورنگزیب کی قبولیت کی شرائط خود مختاری کی خواہش کا اشارہ دیتی ہیں۔ مالی معاملات پر اسحاق ڈار کی مداخلت کے بارے میں وہ کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں اس سے انتظامیہ کے اندر کی حرکیات کا تعین ہو سکتا ہے۔
ان پیش رفتوں کے بارے میں عوامی تاثر سازگار سے کم ہے، بہت سے لوگ انہیں اقربا پروری اور پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں سنجیدگی کی کمی کے طور پر دیکھتے ہیں،اور سیاسی چالبازی کے بجائے بنیادی تبدیلی کی خواہش کی نشاندہی کرتے ہیں۔





