Baaghi TV

Category: سیاست

  • کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پی ڈی ایم ٹو،پی ٹی آئی سے سوال ہے کہ عوام کی اقتصادی حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے،بالخصوص نئے وزیر خزانہ سے سوال ہے کہ آپ کو عام آدمی جس کرب میں مبتلا ہے اس کا احساس ہے ،عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی پالیسی موجود ہے؟ عام آدمی کے بنیادی مسائل میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے، مرکز میں پی ڈی ایم ٹو، سندھ میں پی پی، پنجاب میں ن لیگ ،کے پی کے میں پی ٹی آئی، ان سب کے پاس اگر عام آدمی کے لئے کوئی پالیسی نہیں تو پھر یہ ملک میں الیکشن کا ڈرامہ کس لئے رچایا گیا؟ اس کا مقصد کیا تھا؟

    ملک و قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،ایک طرف دہشت گرد دوبارہ ارض وطن میں سر اٹھا رہے ہیں، عین اسی وقت اعلیٰ عدلیہ کے چھ ججوں پر مشتمل ایک لیٹر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر نظر آیا ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا، آیئے مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے، کہاں غلطیاں ہیں،کون سی کل انفرادی اور اجتماعی ٹیڑھی ہے اور ایسا کونسا گناہ ہے کہ سختیاں، پریشانیاں، امتحان ، آزمائش ختم ہونے کو نہیں آتیں، ایک سانحہ کا گرد و غبار نہیں جھڑتا کہ دوسرا جنم لے لیتا ہے، گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے، ارض وطن کے لئے ملک کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں عسکری قیادت، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، پولیس کے اعلیٰ افسران، ملک کی مقتدر ایجنسیاں منبر و محراب سب اکٹھے ہوں سرجوڑ کر صلاح مشورے سے جامع حکمت عملی تیار کریں ، قوم کابھی فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کرے.

    یاد رکھیے دہشت گردی کو لے کر ارض وطن حالت جنگ میں ہے ،حالت جنگ میں کمانڈروں کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں کی جاتی ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہیں ، فوج ہو یا پولیس یا دیگر ادارے، پنجاب پولیس کے آئی جی کا کل کے واقعہ پر اپنی فورس کو الرٹ رہنے کا پیغام ہر قسم کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کی تجدید ہے، بلاشبہ ان حالات میں پنجاب حکومت بھی اپنی سکیورٹی اداروں کی پشت پر ہے، ملکی حالات کے پیش نظر بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں کی تبدیل ہوتی پالیسی کو مدنظررکھتے ہوئے ہمارے پالیسی سازوں دفاعی اور خارجہ پالیسی سازوں کو سرجوڑ کر غور کرنا چاہیے کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟

  • افغان مہاجرین کی پاکستان بدری،ایک تجزیہ

    افغان مہاجرین کی پاکستان بدری،ایک تجزیہ

    افغان مہاجرین کی پاکستان بدری
    افغان مہاجرین کے پاکستان بدری کے لئے حکومت نے گزشتہ برس کے آخر تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاہم اس ڈیڈ لائن کو بعد ازاں 29 فروری 2024 تک بڑھا دیا گیا تھا، آخری ڈیڈ لائن کے بعد پاکستان میں رہنے والے افغان مہاجرین پر ہر ماہ 100 سے 800 ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جائے گا.

    پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی نے سیکیورٹی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ انہیں ملک بھر میں نقل و حرکت کی آزادی دی گئی ہے ، وہ پاکستان کے تمام شہروں میں اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اور بغیر کسی سخت نگرانی کے انہوں نے جائیدادیں حاصل کر رکھی ہیں۔ تاہم، یکے بعد دیگرے حکومتیں ان کے انضمام کے انتظام میں جامع منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہیں۔ نتیجتاً، انہوں نے نادانستہ طور پر منشیات اور کلاشنکوف کلچر درآمد کر لیا۔

    13 مارچ 1996 کے اوائل میں، واشنگٹن پوسٹ نے افغان فوجیوں کی خودکار رائفلوں اور بھاری ہتھیاروں کو سرحد پار سے اسمگل کرنے کے واقعات کی اطلاع دی تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے افغانستان سے سوویت فوجیوں کو نکالنے میں پاکستان کی بندوق کی خرابی کو اس کے ملوث ہونے سے منسوب کرتے ہوئے اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ، اور افغان تنازع سے پیدا ہونے والی مذہبی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان پر بوجھ پڑا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، افغان سرحد سے صرف پانچ میل کے فاصلے پر واقع لنڈی کوتل میں تین اسلحہ ڈیلرز نے اپنی پوری انوینٹری افغانستان سے حاصل کرنے کا اعتراف کیا، جن کی کچھ نقلیں پشاور سے 25 میل جنوب میں واقع درہ آدم خیل میں مقامی بندوق کی دکانوں سے نکلتی ہیں۔

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان غیر محفوظ سرحد سیکورٹی کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے، جس سے ملک میں دراندازی کے ممکنہ خطرات کا پتہ نہیں چل سکا۔ جس آسانی کے ساتھ لوگ افغان تارکین وطن میں گھل مل سکتے ہیں اور سلیپر سیل کے حملوں کو انجام دے سکتے ہیں وہ سرحدی سلامتی سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر نومبر 2023 ،پاکستان کی جانب سے جب تحریک طالبان پاکستان پر پابندی لگائی گئی ،اسکے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے،سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2023 میں دہشت گردی کے 789 واقعات ہوئے جن میں 1,524 ہلاکتوں اور 1,463 زخمیوں کی 6 سال کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی ،”ڈان نیوز”

    پاکستان کے افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ سیکورٹی خدشات کے حوالے سے مسلسل رابطے کے باوجود سرحد پار حملوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس کوششوں کا فقدان ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں رہائش،پاکستان کی مہمان نوازی کے پیش نظر یہ خاص طور پر پریشان کن ہے۔افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو کئی دہائیوں پہلے ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ اگرچہ اس فیصلے سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ پاکستان کی طویل مدتی سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

  • رمضان پیکج میں مستحقین نظر انداز کیوں ؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    رمضان پیکج میں مستحقین نظر انداز کیوں ؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی عوام دوست پالیسیوں کا گراس روٹ لیول پر اثر کیوں نہیں ہو رہا؟ رمضان پیکج اور الیکٹرانک سکوٹر برائے طلباء سکیم رنگ کیوں نہیں دکھا رہی ؟ مشاورت کے عمل میں کوئی خامی یا بیورو کریسی کے روایتی فریب سےرمضان نگہبان پیکج میں اُمراء، صاحب ثروت اور متنول گھرانوں شامل ہوگئے، معذور اور انتہائی مستحقین کیسے نظر انداز ہوئے ؟ اساتذہ سے محروم طلباء اور طالبات سرکاری کالجوں سکولوں سے دور رہنے پر مجبور لیکن ان کے لئے آسان قرضوں پر سکوٹیاں کیا رنگ لائیں گی شہری کالجوں ،سکولوں میں اساتذہ کی بھرمار طلباء ناپید ،دیہاتی کالجوں سکولوں میں طلباء کی بھرمار اساتذہ کی عدم دستیابی،قرضوں سے ادا کی جانے والی تنخواہوں کی افادیت کیسے حاصل ہوگی؟ بلاشبہ مریم نواز نے عوامی خدمت اور عوام کی شنوائی کیلئے دن رات ایک کررکھا ہے لیکن ان اقدامات کے اثرات و ثمرات کو گراس روٹ سطح پر پذیرائی تب ملے گی جب بگڑے ہوئے نظام کی درستی اور دور اندیش مشاورت پر انحصار ہوگا،اس امر کی جامع مثالیں رمضان پیکج اور الیکٹرک سکوٹر سکیم ہے، رمضان سکیم میں جو ڈیٹا لیا گیاوہ نادرا سے حاصل کیا گیا اور فیلڈ کے تقسیم کے عمل میں تقریبا50 فیصد ایسے گھرانوں کو رمضان پیکج پہنچانے کی کوشش کی جو صاحب ثروت اور متنول گھرانے ہیں جبکہ معذور افراد اور حقیقی غربا محروم رہ گئے،اس تقسیم کار میں اگر نادرا کی بجائے سوشل ویلفیئر پنجاب، بیت المال اور زکواة کے کھاتوں میں رجسٹرڈ افراد کو شامل کیا جاتا تو عوام کی حقیقی خدمت کا احساس اجاگر ہوتا، جس رفتار سے یونین کونسل اور گائوں محلہ کی سطح تک گھر دروازے تک راشن پہنچایا جا رہا ہے اگر اس سرعت کے ساتھ لوکل انتظامیہ نمبردار نیٹ ورک کے ذریعے حقیقی مستحقین کی رجسٹریشن کرتی تو یہ صرف ایک ہفتہ میں مکمل کی جا سکتی تھی جس کی طرف کسی وزیر مشیر نے توجہ نہیں دی، بیورو کریٹ بھی سب اچھا ہے کی صدائیں بلند کرتے رہے،ادھر الیکٹرک سکوٹروں کی کھیپ پر خطیر رقم خرچ کرکے طلبا و طالبات کو نئے کھلونے دئیے جا رہے ہیں،پنجاب کے کالجوں میں سینکڑوں کالج ایسے ہیں جن میں کمپیوٹر ٹیچرکی پوسٹ ہی موجود نہیں، لاکھوں طلباء وطالبات کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم سے محروم ہیں جو کہ دور جدید کی اہم ترین ضرورت ہےگذشتہ ادوار میں دیہی کا لجوں اور سکولوں میں اساتذہ کی انتہائی کمی واقع ہوئی جبکہ شہری علاقوں کے کالجوں میں طلباء کی تناسب سے کہیں زیادہ اساتذہ مفت کی تنخواہیں ڈکارتے رہے جو قومی اور صوبائی خزانے پر بوجھ ہے،اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے نہ صرف شہری بلکہ دیہات کے کالجوں میں بھی تعیناتیاں کی جائیں ، ججوں کی طرح اساتذہ کی ملازمت کی عمر میں اضافہ ضروری ہےتاکہ ان کے تجربات اور پیشہ وارانہ مہارت سے قوم زیادہ سے زیادہ مفید ہو سکے،

    ایک رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں بڑھتے جرائم جن میں ڈکیتیاں ،گاڑی چوری ،قتل وغارت، قبضہ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم شامل ہیں ، سی سی پی او لاہور کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جنہیں تمغہ خدمت سے نوازا گیا ہے۔

  • ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف افواہ سازی کی  مہم کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف افواہ سازی کی مہم کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے جبکہ افغانستان کو بھی غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔دونوں اسلامی ممالک کو غیر مستحکم کرنے کا مقصد چین ہے اور چین کو کمزور کرنے کا مقصد امریکہ کی پالیسی ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں میں موجود چند سیاستدان اپنے مفادات کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں اور کہہ بھی رہے ہیں کچھ سیاستدان حقائق کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظرانداز کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ملک کی سیاسی جماعتیں اور ان سیاسی جماعتوں میں چند سیاستدان ملکی سلامتی کے اداروں پر چڑھ دوڑے ہیں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر وہ کون سا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کر رہی ہیں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر جام شہادت مگر دوسری طرف سوشل میڈیا، وی لاگرز، یوٹیوبر اور الیکٹرانک میڈیا پر انہی ملکی سلامتی کے اداروں پر افواہ سازی کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    پاکستان اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لئے پاک چین راہداری کے منصوبے پر تکیہ کئے بیٹھا ہے جن ممالک کو ہمارا یہ منصوبہ کھٹک رہا ہے وہ اپنی کوششوں میں مصروف ہیں پاکستان میں بدامنی پھیلا کر اس اہم منصوبے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم میں اس تاثر کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور ایک منصوبے کے تحت ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے قوم کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دینی چاہئے، بلاشبہ سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورت حال ہے تاہم ملکی سلامتی کے ادارے ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو سیاستدان، دانشور، ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر اپنے ہی سلامتی کے اداروں کے بارے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ فوجی بھائی فوجی بھائی ہوتے ہیں یہ شہید ہوتے ہیں یا غازی ہوتے ہیں۔ قوم اپنے فوجی بھائیوں کے حق میں دعائیں کیا کریں۔

  • تحریک پاکستان والے جذبے آج بھی چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک پاکستان والے جذبے آج بھی چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کی جنگ امریکہ سے لے کر مغربی ممالک جنگ روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟ عرب دنیا اور دیگر اسلامی ممالک بھی ناکام ہی ہیں اس کی بنیادی وجہ امریکہ سے لے کر مغربی ممالک بھی عظیم عالمی رہنمائوں سے محروم ہیں۔ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ماملک بھی رہنمائوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جو عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک صدیوں سے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے بہتے لہو کو نہیں روک سکا وہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کوکیا کردار ادا کرے گا؟ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے سامنے کشمیر کو لے کر پاک بھارت جنگیں بھی ہوئیں اقوام متحدہ دیگر عالمی ادارے کچھ نہیں کرسکے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کا بھی یہی حال ہے ان ممالک کا بھی ایسا ہی حال ہے ۔ ان قوموں کی رہنمائی بڑی بڑی قد آور سیاسی شخصیات کے ہاتھوں میں تھی۔ ونسٹن چرچل ، جرمن چانسلر ولی برپنڈٹ مارگریٹ تھیچر، چارلس ڈی گال ، جان ایف کینیڈی ، ہیلمٹ کوہل اور حال ہی میں انجیلا مرکل ، عرب ممالک دیگر اسلامی ممالک امریکہ سمیت مغربی ممالک میں شاندار لیڈروں کا دور اب ختم ہو گیاہے ۔

    امریکہ سمیت پوری دنیا میں اب سیاسی لیڈروں کے بڑے بڑے مالیاتی اسیکنڈل سامنے آتے ہیں۔ موجودہ دور میں بین الاقوامی برادری غیر مستحکم دور سے گزرر ہی ہے امریکہ اور چین کے تعلقات کا جائزہ لیں دونوں ممالک کے تعلقات ٹھیک نہیں۔ چین امریکہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے چین کو کمزور کرنے کے لئے امریکہ طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے ۔ بھارت کی پشت پناہی ہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ بھارت امریکہ کی پشت پناہی میں افغانستان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پشت پناہی بھارت ہی کرتا ہے۔ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر اپنی فوج کے ذریعے ظلم کررہا ہے۔ 23 مارچ قریب ہے ۔ 23 مارچ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا درس دیتا ہے ۔تاریخ کا سبق یاد رکھنے کی آواز لگتا ہے 23 مارچ دشمن کے سامنے سراُٹھا کر بات کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے۔ ارض وطن میں خون کی ہولی بند ہونے کی دہائی دیتا ہے ۔ جس طرح مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت تھی آج پاکستان کو اُسی جذبے کی ضرورت ہے جو اُس وقت کے مسلمانوں میں موجود تھا۔

  • جمہوریت کے بغیر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

    جمہوریت کے بغیر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

    پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے میں جمہوری اصولوں جیسی کوئی چیز نظر نہیں آتی، جماعت اسلامی کے علاوہ، جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچے میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزیاں ملتی ہیں،میں نے اسکرین پر اور اپنے مضامین میں، پارٹیوں کے اندر افراد کی مدت کو محدود کرنے کی لازمی ضرورت پر مسلسل زور دیا ہے۔ خاص طور پر کسی بھی فرد کو پارٹی کے کسی عہدے پر دو بار سے زیادہ فائز نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ انتخاب کے ذریعے ہو یا تقرری کے ذریعے، انتخابات میں ناکام رہنے والے افراد کو سینیٹ کے ٹکٹوں، مخصوص نشستوں، مشاورتی امور، وزارتی عہدوں، یا کسی دوسری انتظامی تقرری کے ذریعے اقتدار کے عہدوں تک رسائی حاصل کرکے جمہوری عمل کو روکنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس اصول کو پارٹی قیادت کے کردار تک لاگو کرنا چاہئے، ان بنیادی اصولوں کی پاسداری کے بغیر سیاسی جماعتیں جمہوری ادارے ہونے کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ جو لوگ اپنی صفوں میں جمہوریت پر عمل کرنے سے قاصر ہیں وہ فطری طور پر میرٹ کی بنیاد پر جمہوری تقرریاں کرنے سے قاصر ہیں۔

    ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر بنیادی خامیوں میں سے ایک مربوط درجہ بندی کا فقدان ہے۔ کسی ایک فرد کی خواہش پوری پالیسیوں کو الٹ سکتی ہے، چاہے وہ پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہوں یا بیرونی معاملات ، دو حالیہ واقعات مثال کے طور پر سامنے ہیں،سب سے پہلے، عمران خان کی تحریک انصاف کی طرف سے مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ ہوا، پھر اس کے بجائے پی ٹی آئی نے سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) میں شمولیت اختیار کی۔ اتحادوں میں اس اچانک تبدیلی نے نہ صرف پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو جنم دیا بلکہ مربوط پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کو بھی اجاگر کیا۔ حسین حقانی کے ساتھ ایک حالیہ ویلاگ میں، میں نے غیر تصدیق شدہ رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جس میں تحریک انصاف کی ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ ممکنہ اتحاد کی تجویز پیش کی گئی تھی، جو کہ اس کے بعد حقیقت میں بن گئی، تاہم تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، حسین حقانی نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ ہر پارٹی کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، اور پی ٹی آئی کی جانب سے غیر مانوس سیاسی میدانوں میں جانے کی کوشش کو لامحالہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    لنک: https://www.youtube.com/watch?v=LGjs10YNcos

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مختلف خیالات ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ عمران خان سنی اتحاد کونسل میں نہیں بلکہ ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ دوسرے اس سے متفق نہیں ہیں۔ اس سے تحریک انصاف کی مسلسل اور مربوط نقطہ نظر کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کی نشاندہی ہوتی ہےجس سے تنظیمی تنظیم میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔

    دوسری،مسلم لیگ ن کے معاملے پر غور کریں۔ وزیر خزانہ کے طور پر اسحاق ڈار کی واضح ناکامی کے باوجود، انہیں پارٹی کے اندر مسلسل اہمیت دی گئی ہے۔ ان پر احتساب اور ٹیکس دہندگان کے وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔ اسی طرح این اے 67 حافظ آباد میں ان کی انتخابی شکست کے بعد سائرہ افضل تارڑ کو قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر پہنچانا براہ راست جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور انتخابی عمل کی سالمیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    پاکستانی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اصولوں کی وسیع پیمانے پر عدم موجودگی ان کی حکمرانی کے جواز کو مجروح کرتی ہے اور عوامی اعتماد کو ختم کرتی ہے۔ پارٹی ڈھانچے میں احتساب، شفافیت اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی اصلاحات کے بغیر حقیقی جمہوری پاکستان کی امنگیں معدوم رہیں گی۔

  • مفاداتی سیاست  کرنے والے  ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفاداتی سیاست کرنے والے ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی دنیا کی طرح پاکستان میں ایسے ادوار آئے اور چلے گئے مضبوط سیاسی لیڈر موجود تھے۔پاکستان ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں لیڈر نظر نہیں آتے تاہم ناقص ترین کارکردگی کے نام نہاد رہنما نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور قوم اب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں، سیاسی نظریات کو دفن کرکے مفاداتی سیاست کرنے والے کو ہی لیڈر کہا جانے لگا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی لیڈرشپ کا فقدان کیوں ہو رہاہے۔ شاندارلیڈر شپ کا دور بظاہر ختم ہورہا ہے ۔ نواز شریف جو اس ملک کے سینئر ترین سیاستدان ہیں ،عمران خان بلاشبہ جو اس وقت جیل میں ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہیں۔انہوں نے سینئر ترین سیاستدان نواز شریف کے خلاف ایسی سازش کی کہ ان کو لندن ان کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ ہائوس اور گلی چوراہوں میں منی لانڈرنگ اور چور ثابت کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا اسے پاکستان اور قوم کے ساتھ زیادتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے آج وہ خود اور ان کی جماعت بھگت رہی ہے۔ بلاشبہ نواز شریف کے خلاف اس سازش میں ان کی اپنی ہی جماعت کے مبینہ طور پر چند اشخاص بھی شامل تھے۔

    ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے دعویداروں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے کیا کردار ادا کیا ؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے، آئین اور قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جس کے ذمہ دار خود سیاستدان ہیں۔ سیاستدانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئین و قانون کے تحت ان کی تابع رہے۔ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی اپنا قبلہ درست رکھیں۔ آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے آپ کی پسند وناپسند مختلف ہوگی لیکن فوج تو اپنی ہے اور ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہے۔ جن کی وجہ سے آپ کی سیاست بھی قائم ہے ۔ سیاستدانوں کی جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے کم عقل سیاستدان ملک میں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دارفوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں جو سراسر غلط ہے ۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ماضی اور حال میں فوج کو سیاستدا ن سو کنوں کی طرح طعنے ہی دیتے ہیں ، سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے۔

  • دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسلم لیگ (ن) کے اصل میرکاررواں نوازشریف تھے مگر اس کاررواں میں شامل (ن) لیگ کے کسی رہنما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کی عدالت عظمیٰ میں جاکر درخواست دائر کرتا کہ نواشریف کو تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا اس کے اسباب کیا تھے؟ بھٹو کا مقدمہ پیپلزپارٹی لے کر عدالت میں گئی ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھٹو کا ٹرائل درست نہیں تھا۔ بھٹو کے عدالتی قتل ، محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کا تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دینا اس کا نقصان ملک و قوم کو جو ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نوازشریف نے استحکام پاکستان اور قوم کے سہانے مستقبل کا خواب دے کر بھاری قیمت ادا کی ۔قربانیوں کی اس داستان میں اپنے والدین سے جدائیاں اپنی شریک حیات سے نزع کے عالم میں پابند سلاسل کی کال کو لبیک کہا یہ وہ واقعات ہیں جن کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے اور اس پر ستم یہ ہے کہ اقتدار کے پجاری اقرباء اور رفقاء نے جس تیزی سے پیٹھ دکھائی وہ کہانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے میر کاررواں کی کشتی میں سوار، تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو کشتی میں سوراخ کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاک فوج اور جملہ اداروں پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والے غور کریں اگر انتخابات میں دھاندلی ہوتی یا فوج دھاندلی کرتی تو کے پی کے کیا پہنچ سے دور تھی ،وہاں حکومت پی ٹی آئی کی ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی نے نشستیں حاصل کیں اگر پاک فوج اور جملہ ادارے دھاندلی کرتے تو کیا بانی پی ٹی آئی کو اتنی پذیرائی ملتی؟

    سیاست چونکہ ایمانی باتوں سے دور ہے اس لئے شکوک کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ سابق ادوار میں نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھ کر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی نشستیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کروائی۔ ملک کے معاشی، سیاسی حالات کے پیش نظر اپوزیشن اگر حکومت کے ہمرکاب ہونا نہیں چاہتی تو قومی مسائل جس میں معیشت اہم ہے رخنہ اندازی نہ کرے اداروں کو متنازعہ بنانے کے عمل سے گریز کیا جائے عوام کی اکثریت مہنگائی ، بیروزگاری اور دیگر مسائل جن کا عوام کو سامنا ہے بیزار ہے۔ اپنا رخ شور شرابے کے بجائے ملک و قوم کی طرف موڑ دیا جائے

  • اسلام خطرے میں

    اسلام خطرے میں

    اسلام خطرے میں

    14 مارچ 2024 کو احسان اللہ ٹیپو محسود، احسان ٹیپو نے ایک ٹویٹ کی ،جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کے میئر حمیت اللہ مایار نے مردان میں کے ایف سی ریسٹورنٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سٹی لوکل کونسل کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی قرارداد میں مقامی تاجر برادری کو مردان میں تمام اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کی ہدایات کی گئیں،

    میرے ایک دوست نے جواب دیا، "وہ ایسا کر رہا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا نے تقریباً 2 سالوں میں بلدیاتی اداروں کو کوئی فنڈ جاری نہیں کیا۔ ان لوگوں کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔ زیادہ تر، ان کا کردار پرائمری اسکولوں کا "دورہ”ہوتا ہے ،تقرری و تبادلوں کے لئے لڑنا اور نلکے و نالے کو ٹھیک کرنا، انکا یہ کام ہوتا ہے، اگر انہیں اور بہت ساری مقامی حکومتوں کو وعدے کے مطابق وسائل فراہم کیے جاتے تو وہ کام کرتے اور پھر ان کے پاس کے ایف سی پر پابندی کی قراردادیں پاس کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔

    کوئی بھی وجہ ہو، پاکستان جیسے انتہائی غیر مستحکم ملک میں کسی بھی طرح سے مذہبی کارڈ کھیلنا انتہائی خطرناک ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لاہور کے بازار میں میں عربی تحریر والی قمیض پہننے پرخاتون پر تشدد کیا گیا ،لباس پر عربی میں حلوہ لکھا گیا تھا جس کا مطلب خوبصورتی ہے ،

    امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی ابوظہبی میں انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی میں سفارت کار اور واشنگٹن ڈی سی میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو ہیں، ایک حالیہ مضمون میں انہوں نے اچھرا واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوراً اپنی بیوی اور بیٹیوں کا خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا لباس پہنتے ہیں جس میں عربی خطاطی کے ڈیزائن ہوتے ہیں، میں اپنے کاروبار کو پاکستان تک بڑھانے بارے سوچ رہا تھا تا ہم کیا میں اس طرح کے حملوں کا خطرہ دیکھ کر اپنی بیوی یا بیٹیوں کے ساتھ لاہور یا کراچی رہ سکتا ہوں؟ (14 مارچ 2024)

    بدقسمتی سے عمران خان ان کی نبض کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے عوام کے سامنے جذبات کو بھڑکانے کے لیے بارہا مذہبی بیانیے کو سامنے لے کر آیا، اس نے اپنی سیاسی جدوجہد کا موازنہ خلفائے راشدین سے کیا تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ عمران خان اکثر متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں۔ جب کہ اس کے اپنے بچے مغربی ثقافت میں پرتعیش طرز زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس نے خود اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ بھی ادھر گزارا ہے، اور اب وہ اسلامی سماجی، ثقافتی اور سیاسی اقدار کی وکالت کرتا ہے، بدقسمتی سے، وہ سیاسی فائدے کے لیے مذہبی جذبات کا استحصال کرتا ہے، مسلم ریاستوں میں مثبت شراکت کی کمی کے باوجود خود کو مسلم دنیا میں ایک رہنما کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مذہبی اور سیاسی تقسیم پر کھیل کر اس نے ہمارے معاشرے کو پولرائز کر دیا ہے۔

    ہم سب کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے ہم اپنے معاشرے کے تانے بانے کو کمزور نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ حکومت کو لوگوں کی ضروریات، معاشی ترقی اور ہمارے معاشرے کو ایک مربوط اکائی میں یکجا کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔

  • وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ عرب ممالک کی ترقی کے راز میں جہاں بہت سے دوسرے عوامل شامل ہیں و ہاں وقت کی پابندی شامل ہے۔ نظام کائنات بھی پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے ۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ چاند سورج کا ایک مقررہ وقت ہے۔ انسان اگر وقت کی پابندی کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی یا نااہلی کے سوا کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں وقت کی پابندی کا حکم دیاہے۔ وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے۔ ملک میں حکومتوں کی ناکامی کی ا یک وجہ وقت کی پابندی ہے بالخصوص بیورو کریٹ، سول انتظامیہ ، وقت کی پابندی کرنا شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

    بلاشبہ مریم نواز نے صوبے میں نئی روایت ڈالی ہے۔ صوبائی کابینہ کی اکثریت نئے اور پڑھے لکھے وزراء کی ہے جو قابل تحسین ہے ۔ پنجاب میں گڈ گورننس اور عوامی فلاح ا ورترقیاتی عمل کی بحالی بلاشبہ عوام میں اُمید کی کرن پیدا ہو گئی ہے مگر اس سمت میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مزید اقدامات اٹھانا ہوںگے۔ چیف سیکرٹری ، صوبائی سیکرٹری ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، تحصیل آفس میں اسسٹنٹ کمشنر ، تحصیلدار ، پنجاب میں ہر سرکاری محکمے میں کسی بھی دفتر میں عملہ حکومت کا چہرہ ہوتا ہے تمام حکومتی عملہ کو وقت کا پابند بنایا جائے ۔ قومی فریضہ جان کر حکومتی عملہ عام آدمی کے مسائل حل کرے عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ عام آدمی کو غلام سمجھنے کی بجائے خادم بن کر اُن کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردارا دا کرے۔ عوام تک حکومت کی رسائی اور رہنمائی یقینی بنائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی حکومت اور گڈ گورننس کا عمل نظر آئے ۔

    آج بھی پنجاب میں چیف سیکرٹری کے ماتحت سول انتظامیہ مغلیہ دور کے شہزادوں کے طرز پر زندگی گزار رہی ہے ۔ کسی بھی ضلع میں کمشنر سے لے کر تحصیلدار تک وقت پر دفتر نہیں آتے ،عام آدمی کی رسائی نہ دربار میں اور نہ سرکار میں اگر سول انتظامیہ کا مغلیہ دور کے شہزادوں کا طرز ندگی رہا تو پھر گڈ گورننس ایک سوالیہ نشان رہے گا۔