Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لئے ایک انتہائی سربراہی اجلاس 22 اور23 جون کو پیرس میں ہوگا۔اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت سمیت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلیمان بھی شرکت کریں گے ۔ یہ اجلاس غریب ترین اور سب سے زیادہ کمزور ممالک کی مدد کے لئے جدید طریقوں اور آلات کو فروغ دینے کے لیے بہت اہم ہے ۔ اُمید ہے اس اہم اجلاس میں معاشی سطح پر کمزور ممالک کے لئے فیصلے کیے جائیں گے۔ بلاشبہ چین پاکستان کا دیرینہ د وست ہے چین نے ملکی معیشت کے پیش نظر مدد بھی کی تاہم آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو بھی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب ہمارے سیاستدانوں کے کیا کہنے بلاول بھٹو کی بجٹ پر تنقید اور بجٹ منظوری روکنے کے بیان نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے ۔ کیا پیپلزپارٹی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والی ہے؟ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں پہلے ہی شامل نہیں ۔ عمران خان ۔ بلاول بھٹو ۔ شہباز شریف اور دیگر حکومت میں شامل جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان کا نوجوان طبقہ ملک کا مستقبل ہے ۔ عمران خان سمیت ہر جماعت نے ان نوجوانوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا آج یہ پاکستانی نوجوانوں کی لاشیں دیار غیر کے سمندروں میں تیر رہی ہیں۔ بے روزگاری سے تنگ یہ نوجوان بیرون ملک اپنے بہتر مستقبل کے لئے انسانی اسمگلروں کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ان پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ قومی اسمبلی نے نوٹس لیا اگر یہی قومی اسمبلی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا نوٹس لیتی تو آج آزادکشمیر ، گجرات اور دیگر شہریوں کے گھروں میں صف ماتم نہ ہوتا۔ افسوس ہم اپنی نوجوان نسل کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کا اعتراف ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے۔ اقتدار کی جنگ میں مشغول سیاستدانوں کو اس سانحہ کا جواب دینا ہوگا۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ملک کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ی سے تنگ آکر دل برداشتہ ہو کر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا کوئی حق نہیں کہ انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جائے ؟ یہ نوجوان اس وطن عزیز کا مستقبل بھی ہیں اور اثاثہ بھی۔

  • نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    کینیڈین مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن (سی ایم ایچ اے) کے مطابق: "نوجوانوں کی بامعنی شرکت کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی قوت، دلچسپی اور صلاحیت کو پہچاننا اور ان صفات کی پرورش کرنا شامل ہے تاکہ انہیں انفرادی اور نظمی سطح پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں میں شامل ہونے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ”

    پاکستان میں گورننس کے مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے۔ وہ تخلیقی صلاحیتیں، انوکھی سوچ، اور ملک کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    بدقسمتی سے، پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں انہی منصوبہ بندی کرنے والوں پر انحصار کرتی رہی ہیں، جو معاشی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لانے، اور پیچیدہ سماجی مسائل کا حل کرنے کے لیے ناکام رہے۔ نتیجتاً، پاکستان تیزی سے برین ڈرین کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو دیگر ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے. جبکہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے لیے اپنے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں۔
    پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر والی ہے، البتہ نوجوانوں میں بے روزگاری بدستور زیادہ ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو ضروری ہنر مندی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان دونوں شعبوں میں نمایاں کمی ہے۔

    برین ڈرین کا مقابلہ کرنے اور ترقی کرنے کے لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی اور علمی نوعیت کی مصنوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ شعبوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں خصوصی توجہ خصوصی مہارتوں اور ویلیو ایڈڈ نظریات کو تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اس عمل میں سب سے اہم قدم نوجوانوں کا مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کے فیصلوں میں شمولیت ہے۔ نوجوان افراد کو ان فرسودہ پالیسی سازوں کی جگہ دینی چاہیے جو کئی دہائیوں سے براجمان ہیں اور 1990 کی دہائی کے بعد بدلتے وقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج فرسودہ ذہنیت سے دور ہونے کا ہے، جو اداروں کو ترقی پسند انداز میں ترقی دلانے سے قاصر رہے ہیں۔ جانبداری کا رواج، اور ایسے افراد کی سربراہان اور اسائنمنٹس کے عہدہ پہ تعیناتی جن کے پاس متعلقہ موضوع کا بہت کم علم ہو، اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔

    اب وقت ہے کہ ملکی حکمرانی میں نوجوانوں کی شمولیت کرا کے پاکستان اور اس کے مستقبل کو ترجیح دی جائے۔ ایسا کرنے سے پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہو سکتا ہے، اپنی اہم مشکلات سے نمٹ سکتا ہے، اور ایک پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

  • کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    12 جون کو عمران خان کے قوم سے ایک اور خطاب میں، خان کے بے ترتیب خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی بھی ان سے "بات نہیں” کر رہا ہے {یعنی آرمی چیف }۔ سوال یہ ہے کہ؛ کیا ان کے پاس میز پر رکھنے کے لیے کچھ ہے بھی کہ نہیں؟

    اب یہ بات سب کو کھلے عام معلوم ہے کہ پی ٹی آئی نے "امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات، اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ” پارٹی کے نظریات کی حمایت کے لیے واشنگٹن میں قائم ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں۔ غیر ملکی ایجنٹوں کے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت امریکی محکمہ انصاف کے پاس دائر دستاویزات کے مطابق، معاہدہ 21 فروری کو چھ ماہ کی مدت کے لیے طے پایا تھا۔‘‘ (23 مارچ 2023)۔

    بلنکن کو خط لکھنا، کانگریسیوں کا اکٹھا کرنا، اور حالیہ سجاد برکی کا ایک ٹویٹ۔ وہ مبینہ طور پر امریکہ میں عمران خان کے نمائندہ ہیں اور پی ٹی آئی امریکہ کے سابق صدر بھی تھے۔ ٹویٹ میں کہتے ہیں ،”کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کے لیے مسٹر طارق مجید کا شکریہ۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ وہ ملٹری ایڈ کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنے کے لیے ایک بل کی معاونت کر رہے ہیں۔
    @PTIofficial @ptuusaofficial @MoeedNj

    آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق، گزشتہ دو دن جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر نے کہا، "جو لوگ بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کی جعلی خلاف ورزیوں کا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ”
    یہ پیغام باآوازبلند اور بالکل واضح ہے! جب پی ٹی آئی نے 9 مئی کو سول اور ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ جمہوری ڈھانچے سے نکل کر ایسی کارروائیوں میں مشغول ہوگئے جو دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔ اگر آج اس خطرناک حرکت کو نہیں روکا گیا تو مستقبل میں ٹی ٹی پی یا کسی دوسری سیاسی جماعت کو بھی معاشرے میں ایسے ناقابل قبول حملے کرنے سے کون روک سکتا ہے ؟
    فوج کی پیٹھ دیوار سے لگا دی گئی ہے۔
    کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب نہیں تھی، مگر پھر بھی سٹیورٹ رہوڈز کو حملے کے ماسٹر مائنڈ کے الزام میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بہتر ہے کہ کپتان یاد رکھے کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف نہیں کھیل سکتا۔

  • استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔

    محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔

    یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
    2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔

    اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
    اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔

  • مشکل حالات، عوام دوست بجٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مشکل حالات، عوام دوست بجٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    بجٹ اعدادو شمار کا ایک کھیل ہوتا ہے میرے خیال میں عام آدمی ہی نہیں بہت سوں کے سر سے گزر جاتا ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار کیا ہوتے ہیں عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتے۔ بجٹ پیش ہوتے تقریریں سنتے عمر گزر گئی اور گزر رہی ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معاشی بحران اور آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ پیش کرکے ثابت کر دیا کہ وہ ان مشکل میں ہی نہیں مشکل ترین حالات میں کسان دوست‘ سرکاری ملازمین دوست‘ نوجوان دوست بجٹ پیش کر سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہے اور ایک تجربے کار وزیر خزانہ ہیں۔ سب سے خوشی کہ آئند وزیر خزانہ نے وطن عزیز کو ڈیفالٹ سے بھی بچا لیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی تماشوں کی رونق ماند نہیں پڑ رہی روزایک نیا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال سے بے خبر سیاستدان روزانہ سیاسی تماشے لگا رہے ہیں تاہم یہ تماشے پرانے ہیں۔ قومیں متحد رہ کرہی ترقی کرتی ہیں انتشار تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔

    خطے کی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے ۔ سعودی عرب‘ چین‘ ایران اور دیگر ممالک کے در میان فروغ پانے دوالے رشتوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ غالباً پڑ بھی چکے ہیں۔ ایران‘ سعودی عرب‘ عرب امارات‘ عمان اور دیگر خلیجی ممالک نے مشترکہ بحریہ کے قیام کا فیصلہ کیا ان کی رہنمائی چین کررہا ہے۔ بلاشبہ سعودی عرب ایران تعلقات امریکہ کیلئے بڑا دھچکہ ہے امریکہ جانتا ہے کہ عرب ممالک اتحاد کے پیچھے چین ہے ان حالات کو دیکھ کہ امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب پہنچے ہیں۔ چین امریکہ مقابلہ کیا رنگ لاتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے پاکستان کو اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ خطہ کی بدلتی ہوئی صورت کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔اس بدلتی ہوئی صورت حال میں حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا۔

  • قوم کو نئی جماعت مبارک،تجزیہ، شہزاد قریشی

    قوم کو نئی جماعت مبارک،تجزیہ، شہزاد قریشی

    قوم کو مبارک ہو نئی جماعت استحکام پاکستان وجود میں آچکی ہے۔ اس نئی جماعت میں وہی پرانے سیاستدان ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں سے سفر طے کرکے اب ایک نئی جماعت استحکام پاکستان میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں سیاسی مخبروں کے مطابق پنجاب میں استحکام پاکستان ، ق لیگ اور پی پی پی پنجاب میں حکمرانی کے لئے نیا سیاسی اتحاد بنانے جا رہے ہیں اس اتحاد کے ساتھ پنجاب کی عام یعنی ووٹر ووٹ دیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم عوام کو نیا اتحاد مبارک ہو ۔ بھٹو کے بعد پنجاب نوازشریف کا تھا ۔ پھر پی ٹی آئی کا تھا یہ نیا اتحاد مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں مقبولیت کو شاید نظر انداز کررہا ہے پنجاب میں ووٹر آج بھی نواز شریف اور پی ٹی آئی کا ہے۔ تاہم یہ سیاسی کھیل اتنا بے سبب بھی نہیں عوام مسائل اور محرومیوں کو وقتی طورپر فراموش کر دیں بس ان کی آنیاں جانیاں دیکھتے رہیں۔

    وطن عزیز کی سلامتی مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے قوم کسی سیاستدان اورسیاسی جماعت کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ قومی سلامتی کےاداروں بشمول عدلیہ پر چڑھ دوڑے ۔ پاک فوج اوراس سے جڑے جملہ ادارے ملک کے وجود کا وہ حصہ ہیں جو پاکستان کو ہر خطرات سے بچانے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ کسی سیاستدان اور کسی بھی سیاسی جماعت کویہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ وطن عزیز کے اس اہم وجود کو نقصان پہنچائے ۔ تاہم پی ڈی ایم اور پی پی پی کی جمہوریت اک دھاگے سے جھول رہی ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ صف علی زرداری اپنی زندگی میں بلاول کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں مخبروں کے مطابق کچھ سیاستدانوں کی خواہش ہے کہ نواز شریف وطن واپس نہ آئیں مسلم لیگ(ن) کا روشن مستقبل نواز شریف سے جڑا ہوا ہے نواز شریف کی وطن واپسی سیاسی گلیاروں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

  • ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    پاکستان کو اس وقت اہم معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں خستہ حال معیشت، غیر ملکی ذخائر کی کمی، اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران شامل ہیں۔ تاہم، ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ بارٹر تجارتی معاہدے کرنے کا حالیہ فیصلہ ذہانت کا ایک نمونہ ہے اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غیررسمی حکمت عملی واقعی قابل ذکر ہے۔
    بارٹر ٹریڈ پاکستان کو غیر ملکی ذخائر کی ضرورت کے بغیر مختلف مصنوعات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے غیر ملکی کرنسی کے کم ہوتے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ تبادلے کے لیے دستیاب مصنوعات میں قدرتی گیس، پیٹرولیم، پھل، گری دار میوہ، چاول، دودھ، سبزیاں، مٹھائیاں، کھیلوں کے سامان، بجلی کی اشیاء، ٹیکسٹائل، دواسازی اور چمڑا شامل ہیں۔

    بارٹر ٹریڈ میں دواسازی کی اشیاء کی شمولیت سے مقامی شعبے دوائیں بنانے کے لیے بااختیار ہو جائیں گے، خاص طور پر زندگی بچانے والی، اور دیگر عام دوائیں جن کی سپلائی یا تو کم ہے یا اجزاء کی کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔ سرکاری اور نجی ملکیت والے دونوں ادارے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد بارٹر پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کے پاس خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہ سے بھی کم مالیت کا زرمبادلہ موجود ہے۔

    ایران اور افغانستان سے اسمگلنگ ہماری معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر بارٹر ٹریڈ سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں کمی آنی چاہیے اور غیر ملکی ذخائر کو بچانے میں بھی مدد ہونی چاہیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات، اور وزارت تجارت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق، ملک میں سمگل کی جانے والی اعلیٰ اشیاء سالانہ (25 نومبر 2020) 3.3 بلین ڈالر کماتی ہیں۔ ان سمگل شدہ مصنوعات میں سیل فون، ٹائر، انجن آئل اور کھانے کی اشیاء شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سگریٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے، جو پہلے 200 روپے کے مقابلہ میں اب 500 روپے فی پیکٹ فروخت ہوتے ہیں، افغان سگریٹ کو پاکستان میں ایک منافع بخش مارکیٹ ملی ہے، جو اچھی کوالٹی کا سگریٹ 130 روپے فی پیکٹ سے بھی کم میں مل جاتا ہے

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو صرف 11 اشیا کی سمگلنگ (12 جنوری 2023) کی وجہ سے سالانہ 2.63 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    بارٹر ٹریڈ کے علاوہ، ہمیں دیگر اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ میری تین تجاویز ہیں:

    سب سے پہلے ہمیں سازگار حالات بنا کر آئی ٹی جیسی صنعتوں پر پانچ سال کے لیے ٹیکس ختم کردینا چاہیے۔ ہم ان کی ترقی اور توسیع کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور صارفین کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    دوسرا، ہمیں گرے اکانومی سے پیسے کی خاطر خواہ آمد کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، جو کہ غیر سرکاری ذرائع سے چلتی ہے۔ یہ دس سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دے کر اور بعد کے سالوں میں ٹیکس چھوٹ دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، ہمارے ماہرین اقتصادیات کو 21ویں صدی کے حقائق کو قبول کرنے اور کریپٹو کرنسی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے قانونی شکل دینا اور منظم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جو اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل ہو سکے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان 21ویں صدی میں قدم رکھے اور ایسی اختراعی حکمت عملی کو اپنائے جو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے۔

  • پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مسلسل بدل رہا ہے، اس میں کوئی ایک لمحہ دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتا۔ آئیے موجودہ منظر نامے کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

    عمران خان زمان پارک سے اپنی تقاریر میں فوج پر تنقید کرتے رہتے ہیں. اسے کریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور اسے جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے بیانیے میں واحد تبدیلی اس کی کریک ڈاؤن کے خلاف امریکہ سے مدد کی اپیل ہے۔

    کچھ "لبرلز” فوج کے ردعمل پر سوال اٹھا رہے ہیں اور کیپیٹل ہل میں ہونے والے واقعات پر امریکی حکومت کے ردعمل سے اس کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ جو اس کا علم رکھتے ہیں وہ ایک نکتہ اٹھاتا ہے کہ کیا کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب تھی اور کیا ٹرمپ کے حامیوں نے کسی فوجی یا فضائیہ کے اڈوں، پینٹاگون، یا کسی جنرل کی رہائش گاہ پر حملہ کیا؟ متعدد شہروں میں 9 مئی کو ہونے والے ہم آہنگ حملے یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی . اس وجہ سے یہ نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں ایک بے مثال واقعہ ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی صرف فوج کو نشانہ نہیں بنایا۔

    9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی پر عمران خان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محاذ آرائی کی سیاست، جو کہ دور اقتدار میں بھی خان کے موقف کی بنیاد اور ان کی پارٹی کا خاصہ رہا ہے. اسی کے نتیجے میں ایک غیر فعال طرز حکمرانی کا عمل منظرعام پہ آیا تھا۔

    بیشک کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف آرٹیکل 62[1][f] کے تحت الیکشن لڑنے پر پابندی برقرار رہے گی، چوںکہ اس کے ہٹائے جانے کے بہت کم امکانات ہیں، کیونکہ نواز شریف کو بھی اسی قانون کے تحت 2017 میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اور ترین کو ریلیف دینے کا مطلب ہے کہ شریف کو بھی دینا پڑے گا۔ بہر حال، ترین کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور انہیں پی ٹی آئی سے منحرف ایم این ایز اور ایم پی اے کی کثیر تعداد کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امکانات ہیں کہ وہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

    یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک جلد ہی تشکیل دیا جائے گا اور اس کا اعلان اس تحریر کی اشاعت سے کچھ ہی پہلے ہو سکتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کے منحرف ہونے کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔نیز چوہدری شجاعت بھی ایک مضبوط سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انتخابات اس سال کسی وقت، اور ممکنہ طور پر اکتوبر ہی میں ہو سکتے ہیں۔ یہ اب بھی "ممکنہ” ہے۔ تاہم، جب تک پارٹیوں کے بنیادی ڈھانچے کی اندرونی صفائی نہیں ہوتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی جانب سے ضروری تبدیلیوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، بشمول ‘ان میں سے کوئی نہیں'(NOTA) کے آپشن کو متعارف کرانا، ممکن ہے کہ وہی جانے پہچانے چہرے واپس آجائیں۔ . ضروری اقدامات کے متعلق مزید تفصیلات میرے ویلاگ مورخہ 4 جون 2023 میں بھی بیان ہو چکے ہیں۔

  • پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟
    ڈاکٹر سبیل اکرام
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے شکنجے میں بری طرح پھنس اور دھنس چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی مالیاتی ادارہ اپنی تمام تر جائزو ناجائز شرائط منوانے کے باوجود اس معاہدے پر دستخط نہیں کر رہا جس کے مدد سے ہمارے حکمران اپنی عوام کو مسلسل باور کروارہے ہیں کہ اس کے بعد پاکستان کی معیشت جو کہ مسلسل بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی ہے سنبھل جائے گی اور پاکستان معاشی اعتبار سے خود کفیل ہوسکے گا ۔ آئی ایم ایف کے اس جبر اور پاکستان کے عوام کے صبر پر جس بھی زاویہ نگاہ سے اظہار خیال کیا جائے یہ بات طے ہے کہ یہ ایک ایسا عالمی ایجنڈا ہے جس کا واحد مقصدپاکستان کی معیشت اور معاشرت کو اس حد تک تباہ کرنا ہے کہ ہمارا ملک عالمی ساہوکاروں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہر وہ بات تسلیم کرلے جو وہ چاہتے ہیں ، اس جبر اور دباﺅ کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ ہمیں ایٹمی اثاثوں سے محروم کیا جائے اور بھارت سے ان شرائط پر صلح کروائی جائے جو وہ چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر جو کہ پاکستان کےلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے اسے بھارت کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاسکے۔
    یہ وہ حقائق ہیں جو زباں زدعام ہیں مگر ہمارے ارباب رفتہ اقتدار واختیار ان مسلمہ حقائق کا علم ہونے کے باوجود ایسے اقدامات سے نہ جانے کیوں گریزاں ہیں ، جو اس عالمی ایجنڈے سے نجات دلا کر ہمیں ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کا درس دے سکتے ہیں ۔ یہ محض خلوص نیت سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف عالمی ایجنڈا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ہے ۔۔۔۔۔ قدرت نے ہمیں زبردست جغرافیائی محل ووقوع دیا ہے کہ کوئی سا بھی طاقت ور ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے تاہم بات صرف قومی غیرت وحمیت کو جگانے، باہمی اتحاد واتفاق اور عوام کی رہنمائی کی ہے ۔ مگر جب رہنماہی خواب غفلت میں ڈوب کر اپنے ذاتی اغراض ومفادت کے اسیر ہو چکے ہوں تو پھر لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آج اگر پاکستان کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں یہ گزشتہ حکمرانوں کی بنائی گئی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایسے گدا گر بن چکے ہیں جو پوری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں ۔۔۔۔ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی ملک ہماری جھولی میں بھیک ڈالتا ہے تو ہم شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم ایسے گدا گربن چکے ہیں جو سودی قرضے ملنے پر بھی جشن مناتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ بحیثیت قوم ہماری عزت داﺅ پر لگ رہی اور ہماری ساکھ۔۔۔۔ راکھ بن کر ہمارے ہی سروں پر پڑ رہی ہے ۔

    سوال یہ ہے کہ جب کفایت شعاری کی پالیسی اپنا کر آئی ایم ایف کے ظلم و جبر اور استحصال کا راستہ روکا جاسکتا ہے تو یہ پالیسی خلوص نیت سے کیوں نہیں اپنائی جاتی ۔ ہمارے حکمرانوں کا قرض کی ۔۔۔۔مئے پینے ۔۔۔۔ اور سینہ چوڑا کرکے غیر ملکی دورے کرنے کا نشہ آخر کب۔۔۔ اترے گا ۔۔۔؟ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ عالم اسلام کے قلعہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں بد ترین خطرے میں ڈالی جارہی ہیں، اس کی معاشی بنیادوں میں ڈائنامیٹ بھرا جارہا ہے تاکہ سیکولرازم کی راہ ہموار ہوسکے اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک لادینی ریاست بن جائے ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی نہ صرف ہمارے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں بلکہ وطن عزیز کی بربادی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں جن پر پاکستان کو بچانے اور عوام میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔۔یہ محض اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی اولین ترجیح ریاست نہیں اقتدار ہے ، یہ جماعتیں اقتدار چاہتی ہیں چاہے کسی بھی قیمت پر ملے جبکہ پاکستان کی سا لمیت اور تیئس کروڑ عوام کو در پیش مسائل کی کسی کو فکر نہیں ۔ نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عوام کو بہکایا اور دھوکے میں رکھا جارہا ہے ۔ نان ایشوز کے ذریعے عوام کے حقیقی مسائل ، غربت، بے روزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو اس حد تک مایوس کردیا ہے کہ اب عوام میں اعتماد کا فقدان بڑھتا رہا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ حالات بتدریج حتمی تباہی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں اصلاح و حوال پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ملک میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے باعث غربت، افلاس اور بے روزگاری بڑھ رہی ہیں تمام سہولتیں طبقہ اشرافیہ کے لیے مخصوص ہیں مگر غربت وافلاس کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کا قرض ادا کرنے کیلئے عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکے ڈالے جارہے ہیں مگر حکمران اور اشرافیہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔اگر چہ ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگرہمارا ملک مسائلستان بن چکا ہے ۔ بات بہت سیدھی ہے کہ جب ایک اسلامی نظریاتی ملک کی معیشت کی بنیادیں سود پر رکھی جائیں گی تو معیشت میں سدھارکیسے آ سکتا ہے ؟ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاﺅپالیسیوں نے ملک کو تباہ اور عوام کو بدحال کردیا ہے مگر شعور سے عاری ہماری عوام وڈیروں اور لٹیروں کے لئے ” آوئے ہی آوئے “ کے نعرے بلند کررہے ہیں ۔ کوئی لیڈر اسلام کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور کوئی رہنما بنیادی انسانی حقوق کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیل رہا ہے جبکہ دینی جماعتوں کے رہنما جن پر اصلاح احوال کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہوتی تھی ۔۔۔۔وہ بھی قوم کی تقسیم در تقسیم کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جو دور حاضر کے سب سے بڑے مہاجن ہیں پاکستان کی معیشت کو اپنے شکنجے میں نہیں لیں گے۔۔۔۔عوام کاخون نہیں چوسیں گے تو اور کیاہوگا ۔۔۔؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں یا اپوزیشن جماعتیں یا دینی جماعتیں سب کے قول وفعل میں تضاد ہے اس تضاد نے ہی قوم اور ملک کو برباد کردیا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایم ایف سے نجات کے لیے خود انحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنائی جائیں ، قرضے لینے کی بجائے جو کچھ ملک میں میسر ہے اسی پر گزر اوقات کی جائے ۔ مراعات یافتہ طبقے پر نواز شات کی بارش برسانے کے بجائے غریب عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے ۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے ملک میں نان اور روٹی سمیت دیگر اشیا خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں مگر ارکان پارلیمنٹ جو کروڑوں اربوں کے اثاثوں کے مالک ہیں ان کےلئے کھانا شرم ناک حد تک کم نرخوں پر دستیاب ہے۔ کم آمدن والے ملازمین کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو محکموں کے سربراہان کو حاصل ہیں ۔ یہ صورت حال اسلام کے احکامات اور تعلیمات سے متصادم ہے۔یہ طبقاتی تفاوت ملک اور قوم کےلئے تباہ کن ہے جو کہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کی فکر کریں ۔اسلئے کہ طبقہ امرا کی تو پہلے ہی پانچوں گھی میں ہیں ، انہیں ہرطرح کی سہولتیں میسر ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت قو م ہم سادگی اور کفایت شعاری ایسی پالیسیاں اپنا کرآئی ایم ایف سمیت عام عالمی ساہوکاروں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، سودی نظام کو چھوڑنے اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرنے اور اخلاص نیت سے آگے بڑھنے کی ہے ۔ جب ہم خود سدھر جائیں گے تو یقین کریں دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات حاصل کرنے کا عہد کریں اور ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور ان کو ووٹ بھی نہ دیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ہماری گردنوں سے معاشی غلامی کا ڈالتے اور خود داد عیش دیتے پھرتے ہیں ۔

  • اقتدار و اختیارات کا کھیل، عوام میں مایوسی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اقتدار و اختیارات کا کھیل، عوام میں مایوسی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    بِقول شاعر: بڑی رونق تھی اس گھر میں ، یہ گھر ایسا نہیں تھا
    گلے شکوے بھی رہتے تھے مگر ایسا نہیں تھا
    جہاں کچھ شیریں باتیں تھیں وہیں کچھ تلخ باتیں تھیں
    مگر ان تلخ باتوں کا اثر ایسا نہیں تھا
    قارئین، ماضی میں بھی سیاسی گلیاروں میں شکوے شکایتیں رہتی تھیں مگر آج کی سیاست اور سیاستدانوں نے وطن عزیز میں جو انتشار پھیلا رکھا ہے ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا۔ نہ ختم ہونے والی تکرار نان ایشوز الزام تراشیوں اور بہانوں کے سوا سیاستدانوں کے پاس کچھ نہیں رہا۔ 24 کروڑ عوام اور ریاست کو درپیش مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ عدلیہ سمیت ریاستی ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے خاشامدی ٹولوں نے حد کراس کردی یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے کونسا ایسا سیاستدان اور سیاسی جماعت بھی ہے جس نے محب وطن اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا؟ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے عوام کی اکثریت نام نہاد جمہوری سیاست کے تماشوں سے بیزار ہوچکے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر بنتا جارہا ہے جمہوریت کا یہ دکھاوا ایک فریب ہے۔ عوام کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ لینڈ مافیا شوگر مافیا ادویات مافیا کالے دھن پر کھڑی سیاست اسے کچلتی رہے گی۔

    عمران خان سمیت بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سیاستدانوں نے دغا بازی کی مشکل حالات میں ساتھ چھوڑ گئے کہا جاتا ہے کہ جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے سب سے پہلے چوہے بھاگتے ہیں۔ محرومی مایوسی اور عدم استحکام ملک کے کروڑوں عوام کا حصہ بن چکے ہیں۔ آخرکب تک؟ اب اقتدار کے لئے سیاسی گروپ بن رہے ہیں۔ ملاقاتوں ایک دوسرے کے ساتھ وعدے اقتدار میں حصہ داری نئی جماعت بنانے کی کوشش۔ پرفریب وفاداریاں اور ایک دوسرے کو یقین دہانیاں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے آمدہ الیکشن میں ساتھ چلنے کے وعدے۔ اس سارے کھیل میں عوام اور ریاست کو درپیش مسائل نظر نہیں آرہے اقتدار اور اختیارات کے اس کھیل میں عام آدمی کے لئے مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔