Baaghi TV

Category: سیاست

  • انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    پنجاب اور کے پی کے الیکشن قبل ازوقت کروانے کے آئینی عمل نے اس نام نہاد جمہوری سسٹم کا پول کھول دیا ہے۔ جہاں حکومت محض ذاتی مفادات کے خاطر الیکشن نہ کروا کر آئین اور عدلیہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر عدلیہ مخالف تقریریں اور حکم عدولی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے 90روز کے اندر الیکشن کروانے کی بجائے سپریم کورٹ سے درخواست کررہا ہے کہ الیکشن کے عمل میں آپ مداخلت نہ کرے الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمیں ہی کرنے دیں اور جو صورتحال نظر آرہی ہے اگر اسی طرح سسٹم رہا پھر تو حکومت اگر چاہے تو قیامت تک الیکشن نہ کروائے اور یہی کہتی رہی کہ فنڈز نہیں دینے، سیکورٹی نہیں دینی۔سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں تو اپنی جگہ پر مگر اب اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑاکرنے سے نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا ہورہا ہے جن کی مہنگائی کی چکی میں پیسا جارہا ہے جن کے لیے زندگی محال ہورہی ہے، جن کے دکھ درد میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے اضافہ کیا جارہا۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہورہی ہے۔ چوری، ڈکیتی کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مگر ریاست کے بااختیار، طاقتور اور اربوں کھربوں پتی سیاستدانوں کو ان مسائل سے کیا انہوں نے تو ہر دور میں ہر طرح سے عوام کا خون چوسنا ہے اور چوس رہے ہیں، ان کے کاروبار، جائیدادیں، بال بچے سب کچھ تو بیرون ملک ہے یہاں تو وہ صرف حق حکمرانی کے لیے آتے ہیں۔یہاں کتنے ججز اور بیوروکریٹس ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی آخری سانسیں پاکستان میں لیتے ہوں؟

    انتخابات کے معاملے پر نہ صرف سیاستدانوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ ریاستی اداروں میں بھی ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔ زیرک سیاستدان، صحافی، تجزیہ نگار، دانشور تو کئی دہائیوں سے اس سسٹم کو ناکارہ قرار دیتے آئے ہیں اور اسے طاقتوروں، لٹیروں اور مافیاز کا سہولت کار سمجھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں طاقتوروں کے لیے الگ قانون اور غریب لوگوں کے لیے الگ قانون نظر آتا ہے، امیر لوگ پیسے کے ذریعے اس سسٹم سے ہر جرائم کے بعد ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے مکھن سے بال اور غریب بے چارہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کئی کئی سال کال کوٹھڑیوں میں بند رہنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس دولت نہیں کہ وہ سسٹم کے تحت اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرسکے۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت شروع سے ہی برائے نام ہی رہی ہے، جو کوئی جمہوری ادوار گزرے ہیں انہیں بھی کٹھ پتلی حکمران ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جس وزیر اعظم نے بھی آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، عوامی ریلیف کے لیے کوئی کام کرنے کی کوشش کی تو اس کا دھڑن تختہ کردیا گیا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ہی حقیقی جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ حق بات کہنے والے پارٹی لیڈر کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے، پارٹیوں سے نکالنے کے لیے کوئی قاعدہ قانون، شوکاز نوٹس یا پھر کسی قسم کی کارروائی کے بغیر ہی میڈیا پر اعلان کردیا جاتا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر فارغ کردیا گیا ہے، حالانکہ جمہوری معاشروں میں پارٹی پالیسیاں بھی پارٹی بناتی ہیں مگر یہاں لیڈر جو سوچ لیتا ہے وہی پارٹی پالیسی بن جاتی ہے۔

    معاشرے انصاف کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں، جہاں عدل کا توازن بگڑ جائے وہاں زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، بدقسمتی سے اشرافیہ نے پاکستان کا وہ حال کردیا ہے کہ جہاں سچ بولنا جرم بن جاتا ہے، لوگ اپنی بے بسی کا نوحہ بھی نہیں پڑھ سکتے، اگر حکومت ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو پھر باقی اداروں اور عام لوگوں میں عدلیہ کے فیصلوں کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟ اور جب عدالتیں لوگوں کو انصاف ہی فراہم نہ کرسکیں تو پھر یہ انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں کی بستی بن جائے گی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون بن جائے گا۔ مہذب معاشروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، جس میں ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنا ریاست کے ذمہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں ریاست لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے نہ ہی ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق دے رہی ہے تو پھر لوگ کیا کریں، ریاست کے ذمہ داران کو ابھی بھی سرجوڑ کربیٹھ جانے کی ضرورت ہے اور سیاسی کشیدگی کو کم کروائیں، فوری انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار منتخب لوگوں کے حوالے کر کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملکی ترقی، سلامنی، امن و امان اور خوشحالی کے لیے کام کریں صرف اسی صورت پاکستان دنیا میں ترقی کرسکتا ہے۔

    سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بھی عدم استحکام کا شکار ہوا۔ لوگوں کا معیارزندگی پست ہوگیا۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے کوئی سمجھ نہیں کہ اگلے لمحہ کیا فیصلہ ہونے والا ہے، کیا رد عمل آئے گا۔ ایک ایٹمی ملک کا اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوجانا بھی لمحہ فکریہ ہے، ریاست کے ذمہ داران نے کبھی اس معاملے پر غور کیا کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمارا آج کا طرز حکمرانی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہے؟ کیا ہم ملک میں افراتفری یا پھر انارکی چاہتے ہیں؟ پاکستان میں جس طرح سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اداروں کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے اس سے خدانخواستہ تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے اگر کوئی جامع حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو پھر اس کے نتائج بھی بھیانک ہونگے۔

  • بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    حالیہ دنوں بھارت کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کو پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ مخالفین کے مطابق بلاول کو بھارت جاکر شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

    تاہم واضح رہے کہ جن لوگوں نے بلاول کی اس شرکت کو منفی رنگ دیا یا اس پر اعتراض کیا وہ یا تو مخالفت میں اندھے ہوچکے یا پھر حقائق سے نابلد ہیں کیونکہ وزیر خارجہ کا بھارت جاکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے کا مقصد انڈیا کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرنا نہیں تھا بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    خیال رہے کہ اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بلاول بھٹو زرداری اور جے شنکر کے درمیان کوئی دو طرفہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی قسم کی کوئی ملاقات ہوئی ، بھارت نہ چاہتا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس فورم میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت، سی پیک اور دہشت گردی کے بارے میں بات چیت ہو یا وہ اس میں شامل ہوں۔

    لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس فورم میں شرکت کرکے ان تمام مسائل کی طرف شرکاء کی ناصرف توجہ مبذول کروائی بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اور ان مسائل کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اجاگر کرکے بلاول نے بہت اچھا کیا ہے جس پر انہیں سراہا جارہا ہے۔

    جنوبی ایشیائی امور کے ماہر امریکی صحافی مائیکل کوگلمین کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری نے وہ کام سرانجام دیا جو اسلام آباد چاہتا تھا، بھارت کے علاوہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کے علاوہ ایس سی او کے تمام ارکان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ اس خطہ کے امن کیلئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک یعنی بھارت اور پاکستان اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جبکہ بھارت اس خطے میں اپنا سب سے بڑا حریف چین کو سمجھتا ہے ناکہ پاکستان کو لہذا وہ اب پاکستان کے ساتھ اب گٹھ جوڑ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے لیئے سب بڑا خطرہ پاکستان کے بجائے چین کو سمجھتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان بھی اندرونی طور پر مختلف مسائل سے نمٹ رہا ہے جیسے حالیہ آئینی بحران سمیت معاشی بحران جبکہ مہنگائی اور سیاسی انتشار اور نفرت عروج پر ہے ،

    حقانی نے ایک بیان میں درست نکتہ اٹھایا کہ گوا میں ہونے والے اجلاس سے یہ امید نظر آتی ہے کہ اس سے مثبت بات چیت کی طرف راہ ہموار ہوگی۔

    یاد رہے کہ علاقائی استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کو بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دونوں فریقین کو آگے بڑھ پہل کرکے اپنے تمام تر شکوک و شبہات اور خدشات کو دور کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا چاہئے اور اس کیلئے کمیٹیاں بنانی چاہئے جو ایک میز پر بیٹھ کر دونوں طرف کے خدشات دور کریں۔

    ای اے بکیانیری نے کہا تھا کہ مسائل ایک دروازہ کی طرح ہوتے ہیں لہذا آپ کو اس کے اندر سے گزرنا پڑے گا لیکن اگر آپ آگے نہیں بڑھتے تو پھر دیوار کے ساتھ ٹکرانے کیلئے تیار ہوجائیں۔

  • سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے سوال ہے کہ کیا ملک سے آئین ، قانون اور اخلاقیات ،اصول ختم ہونے جا رہے ہیں۔کیا ہر سیاسی جماعت کے قائدین کو اپنے اوراپنی جماعت کے ذاتی مفادات عزیز ہیں ؟ پاکستان بطور ریاست اور24 کروڑ عوام کے مفادات کو دفن کرکے کس جمہوریت کی خدمات سرانجام دی جار ہی ہے۔ ؟اور کس جمہور کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ آج عوام کی معاشی حالات بدسے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بے روزگار نوجوان سڑکوں پر دھکے کھا رہاہے ۔ بے روزگاری سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اخلاقیات کا تو جنازہ نکال دیاگیا ہے ۔ آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل نے معاشرے کی نوجوان نسل کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہماری پرانی نسل کے کامیاب سیاسی رہنما چاہے ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رہا ہو وہ اپنی ایمانداری اخلاق کی بدولت عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں آج بھی دلوں پر راج کررہے ہیں ۔خدارا عوام شیخی باز اور مغرور اور متکبر بداخلاق سیاستدانوں سے دور رہیں اور بالخصوص وطن عزیز کے نوجوان اپنے آپ کو ان سے دوری اختیار کریں۔ دورحاضر کے سیاستدانوں کو پرانی نسل کے سیاسی قدرآور لیڈران جیسا کردار اد ا کرنا چاہیئے ۔

    اس ملک اور نوجوان نسل کو مسخر ے سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔ نرم دل و نرم گفتار شخصیت کے حامل سیاسی رہنمائوں کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے آئین کو توڑنے آئین شکنی پر سیاستدانوں کو ہیرو قرار دیا جار ہا ہے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے ، عدلیہ کو متنازعہ بنانے والوں کو قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے ۔ صد افسوس ریاستی اداروں کو بین الاقوامی سطح پر متنازعہ بنا کر ہم کون سا قومی فریضہ ادا کررہے ہیں؟ آج بھی وقت ہے سیاستدان ملک و قوم کی خاطر درست سمت کا تعین کرلیں ورنہ تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی انسان دنیا سے چلا جاتا ہے اُس کا کردار زندہ رہتا ہے۔

  • ملکی وقار  اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی فضائوں میں ایک طرف الیکشن اور دوسری طرف کسی قومی حکومت کی بھی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ اس قومی حکومت میں شمولیت کے لئے سبھی جماعتیں تیار یں۔ یعنی نیا دام لائے پرانے شکاری ۔ لیکن افسوس کہ اب پرانے شکاریوں کے پاس نہ کوئی نیا دام ہے نہ پرانا دام ہے سب دام تار تار ہو چکے ہیں عوام سب داموں کو خوب جان چکے ہیں اب ان کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے جال کو خوب پہچان چکے ہیں ۔ آج کل پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمان والے نوحہ کناں ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑی تنخواہیں ہیں ہماری تنخواہیں آج کے مہنگائی کے دور مین بہت کم ہیں۔ کیا پارلیمنٹ ہائوس تک اور پھر وزارتیں ریاستی پروٹوکول اختیارات دلوانے والے عوام کا کبھی خیال آیا جن کی تنخواہیں 15 ہزار یا 20 ہزار ان کی گذر اوقات کیسے ہوتی ہوگی ؟ بے بس عوام جو ووٹر ہے زندگی کاکوئی راستہ نہ پاکر خودکشیاں بھی کرتے ہیں۔ تاہم موجود سیاسی ماحول نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قانون کی حکمرانی کانعرہ لگانے والوں کے قلب وروح کو زخمی کردیا ہے ۔ ملکی سیاست ایک معمہ بن چکی ہے ۔ حالات کب کون سا رُ خ اور رنگ اختیار کرلیں کب سیاسی بساط پر مہرے تبدیل ہوجائیں اور کب جیتی بازی ہار میں تبدیل ہوجائے یہ کوئی نہیں جانتا اور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کب ہونی انہونی اور انہونی ہونی بن جائے ۔

    بے چینی بے یقینی اور عدم استحکام کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے چلے جار ہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ، پاک فوج کے جملہ اداروں کے خلاف سلیکٹڈ کا نعرہ لگانے والے اور پھر امپورٹڈ کا نعرہ لگانے والوں نے جو زبان استعمال کی اُسے کسی طرح درست قرار نہیں دیاجا سکتا اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے آخر ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے خدارا ہوش کریں۔

  • قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد  کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    ابراہم لنکن نے کہا تھا "انتخابات کا تعلق عوام سے اور یہ ان کا فیصلہ ہے، اور اگر وہ آج کسی غلط انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو کل کو انہیں ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا.” انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو عملی طور پر شفاف رکھنا ہوگا۔ جبکہ ریاست میں انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی دونوں میں نگران حکومتوں کے قیام کیلئے آئین میں دفعات موجود ہیں تاکہ انتخابات کو یقینی طور پر شفاف بنایا جا سکے اگر دو جگہوں پر الیکشن ہو گئے اور پھر اگلی قسط میں د ونگران حکومتوں کے دور میں ہوئے اور وفاقی حکومت میں، تو پھر صوبائی حکومتیں وفاقی الیکشن میں سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر سکتی ہیں

    اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت تو اپنی جگہ پر قائم رہے گی دو صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں الیکشن ہوں گے اور پھر شکست کھانے والی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور الزام تراشی ہوگی جبکہ بعدازاں یہ بھی الزام عائد ہونے کا خطرہ ہے کہ حکومتی مشینری کو حکمران جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا ہے.

    تاہم خیال رہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 224 اور 224-A سے بھی متصادم ہوگا جو اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں نگراں حکومتوں کی تقرری کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ لہذا آئین کو ایک کھلونا نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کردیا جائے. لہذا میری رائے میں مناسب یہ ہوگا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروائے جائیں تاکہ بار بار انتخابات یعنی ڈبل الیکشن یا علیحدہ علیحدہ انتخابات پر وسائل کا ضیاع نہ ہو. اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن کے میدان میں اترنے کا موقع دیا جائے جبکہ سیاسی وفاقی حکومت کے صوبہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے امکانات یعنی ریاستی مشینری کے استعمال کے امکانات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے.

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔

  • روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    پاکستان کو جلد ہی روس سے ملاوٹ شدہ تیل کی پہلی کھیپ موصول ہونے والی ہے جو اس کی توانائی کی ضروریات کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس خام تیل کو ملاوٹ شدہ تیل میں ریفائن کرنے کی ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور روس نے تیل برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نے چینی یوآن، یو اے ای درہم اور روسی روبل میں ادائیگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی جو کہ امریکی ڈالر کے معمول کے لین دین سے ہٹ کر ہے.

    تاہم واضح رہے کہ یہ درآمدگی مستقبل میں کم نرخوں پر خریداری کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے وسیع البنیاد نقطہ نظر کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو امریکی ڈالر کے علاوہ کرنسی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے جو کہ پاکستان کی نقدی کی تنگی کی صورتحال کے پیش نظر ایک راحت کی سانس ہے۔ ادائیگی کے ماڈیول سے الگ ہونے والا یہ واحد قدم پاکستان کے لیے لائف لائن ہے۔ اور پھر امریکہ کی طرف سے کوئی اعتراض کرنے کا امکان بھی نہیں ہے.

    حالانکہ بڑی حد تک اس حقیقت کی وجہ سے کہہ بہت سے ممالک نے روس پر امریکی سپانسر شدہ پابندیوں سے خود کو دور کر لیا ہےاور یہ سمجھتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں انہیں بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسکو پر انحصار کرنا پڑے گا. اور پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی عجلت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بجلی کی طلب گرمیوں میں 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سپلائی کا فرق 4,000 سے 6,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب اور رسد کا فرق 8,000 میگاواٹ ہوتا ہے۔ لہذا اسی لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف پیٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات پر انحصار طویل مدت میں غیر پائیدار ہے۔

    مزید برآں پٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جس کے نتیجہ میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پھر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت خود کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے خود کوہی شکست دینے والا طریقہ ہے اختیار کرتی ہے۔ لہذا پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار کم ہو اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    ہم بحیثیت قوم بیمار اور جنونی ہو چکے ہیں اور وہ ایسے کہ سیاست دان کیا کہتے ہیں یا کرتے ہیں جبکہ میڈیا ہمیں کیا فیڈ کرتا ہے، اور ہمیں کیا قبول کرنے کی شرط لگائی گئی ہے لہذا ہم اس میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ باقی تمام معاملات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس طرف ہمارا دھیان بھی نہیں.

    میڈیا ہمیں وہی فیڈ کرتا ہے جو ہم چاہتے ہیں، اور جو ہم چاہتے ہیں وہ زیادہ تر گندگی اور گھٹیا ہوتا ہے۔ ہم اسے اپنے روزانہ کے مینو کے طور پر قبول کرتے ہیں جبکہ کوئی ٹھوس خبر نہ ہونے پر بھی میڈیا نان ایشوز کو ایشوز بنا دیتا ہے۔اور ہم اس سب کو ناصرف قبول کرتے بلکہ ہضم بھی کرتے ہیں.

    ہم جیسے تالاب میں مینڈک کی طرح مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اس گندے تالاب میں کودتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور وہاں کی وسیع دنیا کو دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اور بھی بہت ساری دکھ بھری داستانیں ہیں جو ہمیں پکار رہی ہیں.

    جیسے کہ مثال کے طور پر پچھلے سیلاب میں، 10 ملین لوگ تباہ ہوئے اور یہ لوگ اب بھی خوراک، کپڑوں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے بعد پھر سیلاب آیا۔ ابتدائی ردعمل کے بعد ضرورت مندوں تک پہنچنے کے لیے رائے عامہ کتنی متحرک ہوئی ہے؟ ہم اپنے ہی لوگوں کو بھول چکے ہیں تو پھر یہ شکایت کیوں کریں کہ عالمی برادری نے اب تک صرف 50 فیصد امداد کا وعدہ کیا ہے؟

    دوسری جانب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک دن میں دو وقت کا کھانا تک کھانے کی اوقات نہیں رکھتے۔ جبکہ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے جسے اب لوگوں نے اسے اپنے روزانہ یا ہفتہ وار کھانے کے حصے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ وہ پریشان حال ہیں اور نامید ہیں.

    شاہد ستار نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں 75 فیصد پاکستانی موسم اور موسمیاتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں جس کا تخمینہ 29 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بنتا ہے (ورلڈ بینک گروپ 2022)۔ ہم نے مرکزی ذرائع ابلاغ یا کی بورڈ جنگجوؤں کے ذریعے اس پر بحث کیوں نہیں کی؟ لہذا ہمیں ذیلی متن میں شامل مسائل کو حل کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ یہی اصل مسائل ہیں۔ اور ہمیں اپنا وقت فضول میں ضیاع کرنے سے بہتر ہے کہ ان مسائل پر توجہ دیں.

    آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی قوم کو متاثر کرنے والے حقیقی مسائل کو حل کرنا ہوگا لہذا آئیے ہم ایک بیمار اور جنونی قوم نہ بنیں بلکہ ایک ایسی قوم بنیں جو اپنے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے کو تیار ہو۔

  • کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    معروف آئینی اور قانونی ماہر سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں اس وقت غیر آئینی نگرانی حکومتیں ہیں۔ آئین کے مطابق ان کی معیاد پوری ہوچکی ہے۔ قارئین آئین کے مطابق پنجاب اور کے پی کے کی نگران حکومتیں ماہرین کے مطابق غیر آئینی ہیں تو پھر کس حیثیت سے یہ ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں؟ کیا ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ختم ہوچکی ہے؟ کیا آئین معطل ہوچکا ہے؟ حیرت ہے ایک طرف ملک میں جمہوریت کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف پنجاب اور کے پی کے میں غیر ائینی حکو متیں ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں۔ پاکستان بطور ریاست اور اس کی عوام مہنگائی کے شعلوں میں جل رہی ہے۔ معاشی بحران نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چند شخصیات نے اس ریاست کو اپنی ذاتی سلطنت میں تبدیل کردیا ہے

    ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے آئین کو روندا جارہا ہے ووٹ کی بجائے طاقت کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ آئین پر عمل کرنے کی بجائے ڈکٹیٹر ذہنیت کے حامل افراد اس وقت ملک کی باگ ڈور ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں۔ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنمائوں کو ملک اور 23کروڑ عوام کی کوئی پرواہ نہیں قانون اور آئین کی کوئی حکمرانی نہیں خواہشات کی تکمیل کے لئے قانون کی حکمرانی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو دفن کردیا گیا۔ بظاہر مارشل لاء تو نہیں لیکن جمہوریت کے لبادے میں آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا اصل بھیانک روپ عوام کے سامنے آچکا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں‘ مقتدر قوتیں ملک و قوم کو بند گلی سے نکالنے کے لئے فوری مذاکرات کریں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں ذاتی خواہشات کو دفن کریں۔ انتقامی کاروائی سیاست میں تشدد ہٹلر اور چنگیز خان کا مذہب ہے اسے دفن کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ آڈیو اور ویڈیو جیسی گندی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی۔ دنیا ہمارے سیاستدانوں کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ عوام کی کھانے تک رسائی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔ آئین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے آئین پر عمل کریں عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کا احترام کیا جائے۔

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔