Baaghi TV

Category: سیاست

  • تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ

    تکبیر کانفرنس! مینار پاکستان اور نئی سیاسی جماعت کا اعلامیہ!

    تحریر:۔ ملک شفقت اللہ

    اٹھائیس مئی کو پاکستان میں یوم تکبیر کا دن منایا جاتا ہے۔ کیونکہ پچیس سال قبل اسی روز پاکستان نے چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سات ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک بار پھر سے معتدل کیا تھا۔ اس دن کو نہ صرف پوری پاکستانی قوم بڑے جوش و جذبے سے مناتی ہے بلکہ عالم اسلام بھی ان ایٹمی دھماکوں کو اپنا سمجھ کر کفار کو اسی بھروسے میں للکارتا ہے۔ جس دن پاکستان میں دھماکے ہوئے تھے اسی روز فلسطین کا ایک کم سن بچہ اسرائیلی فوجی کو مکا دکھا رہا تھا کہ پاکستان میں یہ جو ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا گیا ہے وہ تمہاری استعماریت کو لگام ڈالنے اور اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر فرعون کیلئے ایک موسٰی ضرور پیدا کرتا ہے۔ سنہ اڑھتالیس میں اگر اسرائیل وجود میں آیا تو سنہ سینتالیس میں پاکستان معرض وجود میں آ چکا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے کہ ہماری آزادی کیلئے عالمی دنیا میں سفارتکاری اور آواز بننے والا ملک بھی اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ بھارت اور اس کے ساتھیوں کو للکار کر کہہ سکے کشمیر کو آزادی دو، استصواب رائے پر آزادی دو! مگر یہ نوجوان نسلوں کے خواب جنہیں وہ آنکھوں میں سجا کر جوان ہوئے تھے بکھر گئے! امید کی روشنی آنکھوں میں مایوسی کے بادل بن کر برس رہی ہے۔ آج پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، ذہنی ہیجان، اور جہاں دیکھو تقسیم ہی تقسیم ہے۔کوئی جماعت، اشرافیہ، ٹیکنو کریٹ، بیوروکریٹ یا ملک کا ذمہ دار اتحاد کی بات نہیں کر رہا! اور اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ہمارا روایتی حریف۔ اس نے مقبوضہ کشمیر میں جی – 20 سمٹ منعقد کروائی ہے اور کنٹرول لائن کا علاقہ مائننگ کیلئے اسرائیلی کمپنی کو ٹھیکے پر دیا ہے۔ مگر سمٹ کے بارے میں تو ہمارے وزیر خارجہ نے بہت شور مچایا ہے، جو ظاہری طور پر بے اثر رہا مگر اسرائیلی کمپنی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ کیا وطن عزیز کو چلانے والے حکمران اور مقتدر طبقہ ابلاغ، دانش اور صحیح فیصلوں کی قوت سے عاری ہے جو مستقبل پر نظر نہیں رکھتا کہ کیسی مشکلات ہماری منتظر ہیں! یہ کیسے اسباب پیدا کئے جا رہے ہیں جس میں صرف میں، میرا اور میری کی فکر کی جا رہی ہے؟

    گریٹر اقبال پارک کے دامن میں ملک پاکستان کے بننے سے موجودہ سنگین حالات تک اور پھر یہاں سے آگے امید کی ایک نئی روشنی کے آغاز تک کی ساری تاریخ دفن ہے۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں 1940 میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس کے سات سال بعد بر صغیر کے مسلمان ایک الگ آزاد ریاست اسلامی و فلاحی جمہوریہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس گریٹر پارک میں یادگار پاکستان یعنی مینار پاکستان بھی قائم ہے جس کی آغوش میں پاکستان کی کئی سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا ہے۔ کئی بڑے جلسے ہوئے، وقت کے ساتھ وہ اثر کن بھی ہوئے مگر کبھی پاکستان کی تقدیر نہیں بدل سکے۔

    پاکستان میں اخلاق، ایثار و جذبہ، اتحاد ملی، یگانگت باہمی، ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقین و محکم کے علاوہ دانشمندی اور دور اندیشی جیسے عناصر کا خلا کوئی سیاسی و مذہبی جماعت بھر نہ سکی۔28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر ایک اور سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اسی گریٹر اقبال پارک کی آغوش میں، اسی مینار پاکستان کے سائے میں تکبیر کانفرنس کروا کر اپنے وجود کا اعلان کیا ہے۔ پہلے ہی جلسے کو پی ایم ایم ایل کی قیادت تاریخی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اور پہلی ہی کانفرنس سے پی ایم ایم ایل نے تمام مذہبی و سیاسی عمائدین و قائدین کو ایک ہی سٹیج پر اکٹھا کر کے تمام تر تعصبات سے پاک ہو کر مذکورہ بالا سیاسی خلا کو پر کرنے کا عملی ثبوت دیا ہے۔لاہور شہر بھر میں تشہیری مہم، استقبالیہ مسافر خانے اور ان میں کھانوں اور مشروب کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔پورے پنڈال کی سیکیورٹی کیلئے جہاں سرکاری طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی وہیں خود پی ایم ایم ایل کی جانب سے سینکڑوں نوجوانوں نے نظم و ضبط کو قائم رکھنے اور شرکت کرنے والوں کو محفوظ کرنے کیلئے بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دئے ہیں۔داخلی راستوں پر میٹل ڈی ٹیکٹر گیٹ لگائے گئے تھے، اور ساتھ ہی مہانوں کیلئے پانی اور شربت کے سٹالز لگائے گئے تھے جہاں سفر کر کے آنے والے جی بھر سیر ہو رہے تھے اور پیاس بجھا رہے تھے۔

    اسٹیج کے بائیں طرف میڈیا گیلری قائم کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں راقم الحروف میڈیا گیلری میں موجود تھا۔ اس گیلری میں پندرہ سو کرسیاں لگائیں گئیں جہاں پنجاب بھر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے برقی، سماجی اور اشاعتی ابلاغی اداروں کے نمائندگان کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔ انہیں بجلی اور انٹرنیٹ کی بھرپور سہولت بھی فراہم کی گئی۔ اسٹیج کے بائیں طرف کنٹینر لگا کر الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان کو کوریج میں آسانی اور سیکیورٹی دینے کیلئے انتظام کیا گیا تھا۔ مین اسٹریم میڈیا کے نمائندگان نے اس کنٹینر پر کیمرے لگا رکھے تھے اور وقفے وقفے سے پی ایم ایم ایل کی قیادت کا انٹرویو کر رہے تھے اور مختلف اوقات میں اپنے ٹی وی چینلز پر ہیڈ لائنز اور سٹوری کوریج دے رہے تھے۔ اسٹیج کے درمیان میں کرسیوں پر اور کھڑے ہوئے ایسے لوگ موجود تھے جو ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اور پی ایم ایم ایل کا پرچم تھامے ہوئے تھے۔ گریٹر اقبال پارک کی درمیانی سولنگی پٹی آخر تک سبز ہلالی پرچموں میں ڈھکی ہوئی تھی اور تیز ٹھنڈی ہواؤں نے ان پرچموں کو لہرا کر زندہ و جاوید کر دیا۔اسی مرکزی سولنگی پٹی اور پنڈال کے باہر بھی پاکستان کے بانی ممبران کے علاوہ کشمیر حریت راہ نماؤں کے پوسٹرز بھی آویزاں کئے گئے تھے۔ اسٹیج کی بائیں جانب مکمل اور دائیں طرف میڈیا گیلری کے پیچھے پی ایم ایم ایل کے تمام ضلعی عہدیدار اور ان کے ساتھ آئے ساتھی موجود تھے جو ضلعی قیادتوں کے ہمراہ پنجاب کے طول و عرض سے بنا کسی لالچ اور بنا کسی بریانی کے شوق اپنے کرایے پر صرف اور صرف اپنی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس کا وقت پانچ بجے سہہ پہر مقرر کیاگیا تھا۔ لوگ مختلف اضلاع سے پہلے ہی آنا شروع ہو گئے تھے، دن کی روشنی میں ہی پنڈال بھر چکا تھا۔ مغرب کی نماز سے قبل قریب ساڑھے چھ بجے کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ اور مغرب کی اذان کے وقت علماء و عمائدین نے بھرپور عوامی ہجوم کے ساتھ نماز مغرب اور عشاء ادا کی۔ گریٹر اقبال پارک کی تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہو کہ کوئی سیاسی قیادت اپنے کارکنان کی نماز کی فکر کر رہی ہو، اور ان کیلئے نماز کی ادائیگی کیلئے اتنے بڑے ہجوم کیلئے وضو کے پانی، طہارت کیلئے بیت الخلاء اور نماز کیلئے قالینوں کا اہتمام کیا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد گریٹر اقبال پارک تکبیر کے نعروں، عمائدین و قائدین کے خطابات اور ملی نغموں سے گونجتا رہا۔ رات گئے تک لوگوں کی شرکت کا سلسلہ چلتا رہا۔ خطابات کی تفصیل تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے ویڈیو کلپس اور تصاویری شکل میں گزشتہ روز ٹویٹر ٹرینڈ میں شیئر کر دی گئی ہے۔ لیکن میں یہاں مقررین کے نام ضرور لکھتا چلوں گا۔

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    اسٹیج پر موجود مقررین میں پی ایم ایم ایل کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ شاہد مسعود سندھو، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، خطیب بادشاہی مسجد عبد الخبیر آزاد، حریت راہ نما غلام محمد صفی، سجادہ نشین میاں میر پیر سید ہارون علی گیلانی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، قصور سے پی ایم ایم ایل کے امید وار سیف اللہ خالد، خواتین کی نمائندگی جنرل حمید گل مرحوم کی بیٹی عظمیٰ گل، یعقوب شیخ، مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے راہ نما ڈاکٹر عبد الغفور راشد، بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے قبائلی راہنما نواب ظفرا للہ خان شہوانی، نگران عروۃ الوثقیٰ علامہ آغا سید جواد احمد نقوی، امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبد الغفار روپڑی، مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانہ فضل الرحیم اشرفی، سکھ راہ نما سردار بشن سنگھ، علامہ زاہد محمود قاسمی، معروف عالم علامہ ناصر مدنی، انجینئیر حارث ڈار، قبائلی راہ نما میر شاہ جہاں، انور گل زئی، رانا محمد اشفاق، مقتدر اختر شبیر ایڈووکیٹ، احسان اللہ منصور، چئیرمین پیاف شیخ فہیم الرحمٰن، متحدہ جمیعت اہلحدیث کے راہ نما شیخ نعیم بادشاہ، رانا انتظار، احسان چوہدری، انجینئیر عادل خلیق، ڈاکٹر عبد المتین و دیگر نے خطاب کیا۔

    اگر جائزہ لیا جائے تو پورا سٹیج واضح طور پر اتحاد و یگانگت کے مناظر پیش کر رہا تھا۔ اور مقررین کے علاوہ مین اسٹریم کے میڈیا اور اینکرز نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ اس عدم استحکام، ہیجانی کیفیت اور معاشی بحران میں گریٹر اقبال پارک میں لوگوں کا جم غفیر اکٹھا کرنا کسی بھی نومولود سیاسی جماعت کیلئے نا ممکن ہے لیکن پی ایم ایم ایل نے یہ ممکن کر دکھایا ہے۔ مقررین نے پی ایم ایم ایل کی قیادت کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد کی اس فضا کو قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ اندرونی و بیرونی سازشوں، بھارتی دہشتگردی اور ہرزہ سرائی، ملک میں نفرت و انتقام کی سیاست، ملک میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے اور اتحاد باہمی کیلئے ایک سیاسی خلا موجود تھا، جسے پی ایم ایم ایل نے آج اس اتنے بڑے اجتماع کو منعقد کر کے اور تمام سیاسی و مذہبی عمائدین کو ایک اسٹیج پر اکٹھا کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی جماعت اس سیاسی خلا کو پر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تمام مقررین نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔کانفرنس کے دوران پی ایم ایم ایل کے مرکزی راہ نما مزمل ہاشمی نے اعلامیہ پیش کیا جو کچھ یوں ہے:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    *پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام تکبیر کانفرنس کا اعلامیہ*

    ٭ یوم تکبیر کے تاریخ ساز موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام آج مینار پاکستان کے سائے تلے عظیم الشان تکبیر کانفرنس کے انعقاد پر ہم اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم میں نظریہ پاکستان کاشعور بیدار کر کے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قوت بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

    ٭ آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی قوت کے دباؤ پر ایٹمی پروگرام سے دستبرداری نامنظور ہے۔ پوری قوم ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔

    ٭ شہدا پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

    ٭ ملک میں دفاعی اداروں و تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، البتہ جن لوگوں پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

    ٭ وطن عزیز میں شدید مہنگائی، بجلی و پٹرول کی بے انتہا قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے کاروبار تباہ اور انڈسٹری کا چلنا مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں کم کرے، عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے اور روزگار کے مواقع میسر کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

    ٭ شدید مہنگائی سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔حکومت نوجوانوں کی تعلیم کا بوجھ خود اٹھائے،یکساں نظام تعلیم کی طرح تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

    ٭ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں اورسالہا سال گزرنے پر بھی لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ اتفاق رائے سے ایسا نظام انصاف ترتیب دیا جائے جس سے مختصر وقت میں لوگوں کو انصاف میسر آ سکے۔

    ٭ صحت کی ناکافی سہولیات اور مہنگی ترین ادویات عوام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت کو درست کیا جائے۔ دور دراز دیہاتی علاقوں تک بھی لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    ٭ اگر حکومت وقت عوام کو بنیادی حقوق اور ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فی الفور مستعفی ہو۔

    ٭ مرکزی مسلم لیگ اس بات کا عہد کرتی ہے کہ خدمت خلق کی سیاست کو جاری رکھتے ہوئے حکومتی وسائل کے بغیر ہی عوام پاکستان کی مشکلات حل کرنے کیلئے بھر پور کوشش کرتے رہیں گے۔

    ٭ مقبوضہ کشمیر میں جی 20کے اجلاس اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔چین، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی طرف سے جی 20اجلاس کا بائیکاٹ خوش آئند اقدام ہے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ مظلوم کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

    ٭ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فی الفور حل کیا جائے۔

    ٭ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے قائدین جو بھارتی جیلوں میں ناحق قید ہیں، ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ قائدین تحریک آزادی کشمیر کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، ان سزاؤں کو فی الفور ختم کیا جائے۔

  • وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان ، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی گھٹیا اور کم ظرف دشمن کا سامنا ہے ، جس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ان حالات میں عسکری اور دفاعی اعتبار سے مستحکم پاکستان بے حد ضروری ہے اور پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضائوں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے سرنگوں میں پناہ لینے کی بجائے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کی دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اْسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا میں سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ء کی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کے جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ’’ سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ جب دنیا کے عسکری ماہرین نے محاذوں کا دورہ کیا اور پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی جرأت وبہادری کو دیکھا تو بے اختیار یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ میدان کارزار میں پاکستان کی افواج کا مقابلہ کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں ہے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع اْن کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت اْن کا جذبہ شہادت ہے اور ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ دشمن بھارت سے زیادہ مکار اور خطرناک ہیں یہ اچانک اپنے ہی ہم وطنوں پر حملہ آور ہوتے اور مختلف طریقوں سے تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ دہشت گرد بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں، نام بھی مسلمانوں والے ہیں ، شکل وصورت بھی مسلمانوں والی ہے مگر حقیقت میں اْن کا دین اسلام سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ہماری فوج کے بہادر جوان ان تمام دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو دیدہ ہیں یا نادیدہ ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ، ملک میں فوج کے کانوائے کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، کبھی ان پر خودکش حملے کئے جاتے ہیں ، کبھی راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ، ملک دولخت ہوگیا ، بھائی بھائی کا دشمن بن گیا ، پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت ہونے کااعزز چھن گیا اور ہمارے 90ہزار فوجی دشمن کے قیدی بن گئے ۔9مئی کے دن پاکستان میں جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا۔۔۔۔۔اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا یا اب بھی کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بدترین ملک دشمنی ہے ،یہ دانستہ طور پر 1971ء جیسے حالات پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ عسکری تنصیبات پر حملے کرنے یا افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے دانستہ یا نادانستہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ وقت قوم کے باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ہے۔ ہمیں وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والے شہیدوں اور غازیوں پر فخر ہے ۔ مضبوط فوج ہی پاکستان کی بقاکی ضامن اور بھارتی عزائم کی راہ میں آہنی دیوار ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار اور ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کیلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ ہو ۔

  • ہم مزار بنائیں گے

    ہم مزار بنائیں گے

    24 سال قبل کراچی سے اٹھائی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول کے ویٹینگ روم میں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔۔جہاں اسکی چھوٹی بہن پچھلے 13 سال سے قید تھی۔اس کیساتھ پاکستانی سیاست کا ایک درویش صفت کردار سینٹر مشتاق احمد اور امریکی وکیل کلایئو اسٹافورڈ اسمتھ بھی اس انتظار گاہ میں موجود تھے۔۔
    خاتون قیدی کہ بڑی بہن فوزیہ صدیقی سوچ رہی تھی کہ آج 24 برس بعد میں جب چھوٹی بہن کو دیکھوں گی۔۔تو کیا اس کا سامنا کر پاوں گی۔۔اس کے سوالات کا جواب دے پاوں گی۔۔وہ نجانے مجھ سے کیا کیا پوچھے۔۔مجھے اپنے بارے کیا کچھ بتائے تو کیا میں یہ سب سن پاوں گی۔۔جبکہ ہمارا نہ تو باپ ہے اور نہ بھائی۔۔
    انہی سوچوں کے عمیق سمندر کی بے ترتیب لہروں میں اس وقت دل دہلا دینے والا ارتعاش آیا جب جیل کی سیکورٹی پہ مامور عملے نے ڈاکٹر فوزیہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔

    زمین و آسمان ساکت تھے۔۔جیل کی اس نیم تاریک گیلری میں صرف قدموں کی چاپ تھی۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔مگر یہ ٹک ٹک ڈاکٹر فوزیہ کے دل و دماغ پہ ہتھورے برسا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ آج اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن سے وطن سے ہزاروں میل دور پورے 24 برس بعد خاندان کا پہلا فرد تھیں جو چند لمحوں میں ملنے جا رہی تھیں۔۔انہیں گلے لگانے۔۔۔دبی دبی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے درمیان صبر و استقامت کا سبق دینے۔۔نئے عزم، ہمت، جرآت اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام لائی تھیں جو انہیں گلے لگا کے۔۔بہت سا پیار کر کے۔۔کمر تھپتھپا کے دینا تھا۔۔۔اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسکو تسلی دینی تھی۔۔۔
    مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔۔

    اور یوں 24 برس کے سارے ارمان اس وقت کرچی کرچی بن کر بکھر گئے جب ڈاکٹر فوزیہ کو دیوار کے اس طرف بٹھا کر انتظار کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد اس موٹے شیشے کے دوسری طرف جو بوڑھی، لاغر، کمزور و ناتواں، لڑکھڑاتی چال کیساتھ، ٹوٹے دانت لیئے، سفید سکارف اور جیل کا خاکی لباس زیب تن کیئے عورت آئے گی تو پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی ہو گی۔۔اور ہاں وہ اونچا سنتی ہے۔۔آپ کو اونچا بول کر اسکو بات سمجھانا پڑے گی۔۔مگر یاد رکھنا کہ تم اسکو بچوں کی تصاویر تک نہیں دکھا سکتیں۔۔کیونکہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جہاں یہ سب باتیں بے معنی ہوا کرتی ہیں۔۔۔یہ سب اصول، قانون اور ضابطے ہم نے تیسری دنیا کیلئے بنا رکھے ہیں۔۔۔

    پھر وہ وقت بھی آن پہنچا۔جب پورے 24 برس بعد ہزاروں میل دور دنیا کے اس کونے میں قید اس مظلوم و محکوم عورت کی پہلی ملاقات آئی۔۔عافیہ بنا کسی ہیجانی کیفیت کے پروقار انداز میں چلتی ہوئی آئی۔۔۔بڑی بہن کے سامنے بیٹھی۔۔۔اور اڑھائی گھنٹوں کی اس ملاقات میں ایک گھنٹہ اپنے اوپر گزرنے والی قیامتوں کا مختصر سا احوال بتایا۔۔پھر بتایا کہ مجھے میری ماں بہت یاد آتی ہے۔۔۔اسکو کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔اب کون اسکو بتاتا کہ جس ماں کو تو یاد کر رہی ہے وہ ماں تجھے یاد کرتے کرتے اپنے رب کے حضور واپس پہنچ چکی ہے۔۔۔پھر بچوں کا پوچھا۔۔۔کیس کا ڈسکس ہوا۔۔اور یوں ملاقات کا وقت تمام ہوا۔۔وہ پروقار انداز میں اٹھی۔۔۔واپس مڑی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنی بڑی بہن جو اس سے ملنے پاکستان سے آئی تھی اسکی طرف پیٹھ کر کے اپنے مخصوص سیل میں چلی گئی۔۔ایسے جیسے وہ اس ماحول کی پوری عادی ہو چکی ہو۔۔۔جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو کہ وہ یہاں سے کبھی بھی نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔جیسے وہ اپنی قید سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو کہ اسکو اب آزادی سے خوف آ رہا ہو۔۔۔

    قیامت کب آیئگی۔۔۔ماسوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔۔مگر یہ منظر قیامت سے کچھ کم نہ تھا۔۔۔۔دنیا بھر کی کتنی آنکھیں ہیں جو اس وقت پرنم ہیں۔۔۔کتنے لب ہیں جو دعائیہ انداز میں لرز رہے ہیں۔۔کتنے ہاتھ ہیں جو بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
    رابطہ بحال ہو گیا۔۔جلد یا بدیر جیل یا زندگی کی یہ قید ختم ہو ہی جایئگی۔۔مگر ایک روز محشر کا میدان بھی سجنا ہے۔۔اور کچھ لوگ وہاں پہنچ چکے ہیں۔۔بش سے مشرف تک۔۔۔ایک ایک کردار وہاں کھڑا ہو گا۔۔اور ان سے ایک ایک مظلوم کا حساب ہو گا۔۔۔
    باقی ہم جو ابھی تک زندہ ہیں۔۔ہم مزار بنا دیں گے۔۔۔عافیہ بی بی۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپکا جنازہ پاکستانی تاریخ کا بڑا جنازہ ہو گا۔۔ ہم بعد از مرگ تیرے لیئے جتنا ممکن ہو سکا آواز اٹھایئں گے۔۔۔مگر ابھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ ابھی ہم سب مریم نواز، آصفہ بھٹو اور بشری بی بی کی جنگ میں مصروف ہیں۔۔فی الوقت ہم سیاسی اناوں کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے محاذوں پہ مصروف ہیں۔۔۔ابھی ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم آپ کیلئے کسی بھی فورم پہ آواز اٹھا سکیں۔۔کیونکہ ہم قوم کو بتانے میں لگے ہیں کہ مریم فرائی پان سے جیل میں کپڑے پریس کیا کرتی تھی۔۔ہم سر میں خاک ڈال رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں بشری بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔۔۔۔
    جب آپ سسک سسک کر مر جاو گی۔۔۔تب ہم سب باہر نکلیں گے۔۔۔۔اور پوری قوت سے نکلیں گے۔۔
    تب تک۔۔۔تم جانو۔۔۔تمہارا خاندان جانے۔۔۔چند ایک مخلصین جانیں۔۔۔اور تمہارا خدا جانے۔۔۔ہم آپکا عالیشان مزار بنایئں گے۔۔۔اگر تمہاری باقیات کو کسی سمندر میں نہ بہا دیا گیا تو۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں ہے،سینیٹر مشتاق

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

  • ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    ترکی کے انتخابات کو بین الاقوامی میڈیا نے بہت زیادہ کوریج دی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردگان سلطنت عثمانیہ کی شان کو زندہ رکھنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کا میاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ ملکی وطن عزیز کے سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے کیا عزائم ہیں۔ اس کا اندازہ 9 مئی اور اسکے بعد سپریم کورٹ کے باہر ڈنڈا بردار فورس جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں نے کی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے کیا عزائم ہیں۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی سلطنت سمجھ لیا ہے اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے کسی بھی وقت اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے ہر حد کراس کر سکتے ہیں۔ بوقت ضرورت آئین کو پامال کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاست کا بازار گرم ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے اندازوں کے ذریعے کہانیاں مل رہی ہیں قوم بھی مصروف ہے سیاستدان بھی مصروف ہیں کاروبار مفلوج ہے۔ عمران خان نے اپنا سیاسی نقصان بہت کیا ہے سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔

    آنے والا وقت کس سیاستدان کا ہوگا یہ بھی کہنا قبل از وقت ہے پلوں کے نیچے سے نہیں اوپر سے بھی پانی بہہ رہا ہے بلکہ سیلاب بہہ رہا ہے۔ وطن کی افواج اور اسکے نہایت ہی بلند ہمت سابقہ اور موجودہ جرنیلوں نے ملک کو نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا اس کی مثال عالمی دنیا دے رہی ہے ضرب عضب اور رد الفساد کی مثالیں قوم اور بالخصوص نوجوان طبقہ کے کے علم میں ہیں اس کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا جا رہا ہے۔ سیاستدان اپنی جماعتوں میں موجود ایسی لابیوں کو باہر نکال پھینکیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں سیاسی جماعتوں کی صفوں میں ایسی لابیاں موجود ہیں یہ ملک دشمن قوتیں ہیں جو سیاسی جماعتوں کی صفوں میں رہ کر ہماری قومی سلامتی پر وار کرتی ہیں۔ قوم اور بالخصوص نوجوان طبقے کو اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ ملک کی عزت وقار اور سلامتی کے لئے اپنے قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

  • خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے لازوال اوربے مثال قربانیوں بے نظیر جرات ا ور استقلال سے دنیا کی سپُر پاورز کی افواج کو حیران کردیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے عسکری تاریخ میں قابل تقلید باب رقم کردئیے وطن عزیز قائم ودائم ہے بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ تاہم بھارت سمیت کچھ طاقتیں وطن عزیز میں اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو معاشی طورپر کمزورکرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اپنے سیاسی مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان ان سیاسی جماعتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں اپنے آنے والے کل پر توجہ دیں

    وطن عزیز کے بہتر مستبل کے لئے تعلیم پر توجہ دیں ان جماعتوں کی اکثریت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے انہیں آئین اور قانون کی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں یہ عمر کے آخری حصے میں اپنے بچوں کے بہتر سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ پی ڈی ایم رہے نہ رہے پی ٹی آئی رہے یا نہ رہے وطن عزیز قائم ہے اور قائم رہے گا۔ امریکہ اور چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ روس کے اپنے مفادات ہین ۔ سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک کے اپنے مفادات ہیں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی چین خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین کا اثرورسوخ اس خطے میں ہو۔ چین نے کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں جانے سے انکارکردیا ۔ یہ ا س خطے میں سیاسی تبدیلی ہے جو اس خطے میں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کا ثالثی کردا ر ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ ،روس اور یو کرائن کی جنگ کو ختم کرانے کی چین کی کوشش یہ سب تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں

    ذمہ داران ریاست کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز کے اور24 کروڑ عوام کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ملکی سیاسی جماعتیں جو کھیل کھیلنے میں لگی ہیں اس کھیل میں 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان نہیں ہیں ان کے اپنے اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں،ان سیاسی جماعتوں کی خاطر ملک میں جلاؤ گھیرائو اور ہنگاموں سے دور رہیں

  • چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

    چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

    چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟
    چین اور بھارت کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ، جو 3,440 کلومیٹر (2,100 میل) پر پھیلا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے سرحدی علاقے میں ایک بلند و بالا فضائی اڈے کی حالیہ تعمیر نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تقریباً 20 سال کی تعمیر کے بعد 2019 میں لداخ میں دربک-شیوک-دولت بیگ اولڈی (DSDBO) سڑک کی تکمیل کے بعد، تنازع کی صورت میں وسائل اور عملے دونوں کو متحرک کرنے کی ہندوستانی صلاحیت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ 2022 کے آخر میں، ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں پہلی بار دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
    2021 میں چین نے ہندوستان پر اپنے فوجیوں پر فائرنگ کا الزام لگایا تھا جس کی ہندوستان نے زوردار تردید کی تھی۔ اگر درست ہے، تو یہ واقعہ 1996 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پہلی خلاف ورزی ہو گی. اس معاہدہ کا مقصد سرحد کے قریب ہتھیاروں کے استعمال کو روکنا تھا۔

    سری نگر میں 2023 میں طے شدہ G20 سربراہی اجلاس تنازعات میں گھرا ہوا ہے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین اور سعودی عرب نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی اور 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے حاصل ہونے والے مثبت نتائج کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، جیسا کہ ڈی شان اسٹوکس نے اشارہ کیا، "ناحق حاصل شدہ مراعات کے حامل افراد اکثر چیزوں کو ‘سیاسی درستگی’ کے طور پر گھماتے ہیں، ظلم کرنا چاہتے ہیں۔”
    چین، جو پاکستان کا قریبی اتحادی ہے، اس اجلاس میں شرکت نہیں کرنا چاہتا، جسے وہ کشمیر پر بھارت کے "غیر قانونی قبضے” کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب متنازعہ علاقہ پر منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے ہر تنازع سے بچنے کو ترجیح دیتا ہے۔

    ترکی، جو کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے پہچانا جاتا ہے، اجلاس میں شرکت نہ کرنے میں چین، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ شامل ہے۔ مصر نے بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بھارت کی جانب سے متنازعہ خطے میں اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کوایسے دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے ان سفارت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش. جو اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چین، پاکستان اور ترکی خطے پر قبضہ کے خلاف ہیں۔ کشمیر پر عوامی موقف کی بنا پر شرکت کا کوئی امکان نہیں۔

  • سیاسی عدم استحکام  کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سیاسی عدم استحکام معاشی بدحالی انتظامی ،اداروں کے درمیان اور اداروں کے اندر کشمکش حکومتوں کے چل چلاؤ کی بے یقینی جیسے ان گنت مسائل کے گرداب میں عام آدمی کے متعلقہ معاملات دب کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر محب وطن غمزہ اور اشکبار ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد 24 کروڑ عوام کو بلاشبہ عمران خان اس وقت عوام میں مقبول ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کریں ان میں وہ سیاسی تجربہ نہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف میں ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نواز شریف کو ڈان اور سیلسین مافیا قرار دیا گیا کیا یہ کسی قوم یا ملک کی بدنصیبی نہیں کہ قوم کے لیڈروں کو غدار، ور اب موجودہ سرکار دہشت گرد قرار دے رہی ہے ؟ اس سے بڑا اس قوم کے ساتھ ظلم کیا ہو گا؟ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں آج بھی اگر وہ پاکستان موجود ہوتے توسیاسی انتسار کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ملک وقوم کے لیے وہ عمران کو بھی گلے لگاتے اور اس کی مثال موجود ہے ، نواز شریف کو الیکشن مہم کے دوران خبرملی کہ عمران خان لاہور میں جلسہ گاہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تو نواز شریف نے اپنا جلسہ لیاقت باغ ملتوی کیا اور شہباز شریف اور پرویز رشید کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھیجا جبکہ اسلام آباد بنی گالہ بھی چل کر گئے۔ اُس کے بدلے عمران خان کی جماعت نے نواز شریف کو بین الاقوامی چور اورڈاکو کے الفاظ سے یاد کیا۔ آج سیاسی لیڈر شپ نہ ہونے کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہے ہیں ۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے سیاسی معاملات کو سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کو آئین اور قانونی بردباری سے حل کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے مذاکرات کیے جائیں۔ اس ملک و قوم کی خاطر ضد ،انا ،ہٹ دھرمی میں نہ مانوں کا خاتمہ کیا جائے سیاستدان مل کر جمہوریت اور ملک کی بقا اور سلامتی ،عوام کی خاطر جو اس وقت بند گلی میں کھڑی ہے مذاکرات کریں۔

  • پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اہل نظر کا چشمہ ملکی سیاست اور جمہوریت کا مستقبل کہاں تک دیکھ رہا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ملک اور24کروڑ عوام اور جمہوریت کا مستقبل روشن نظر نہیں آرہا۔ قومی مفاد کیا ہے قوم کے مسائل کیا ہیں ریاست کو درپیش مسائل سے آنکھیں چرا کر اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ایک بات طے ہے کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوریت اور آئین پر عمل نہیں کررہی اور نہ ہی جمہور کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ ملکی سیاست گالی گلوچ تک محدود ہوگئی ہے جس طرح جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر جمہوریت اور آئین کا جنازہ نکالا جارہا ہے جمہوریت بھی ان سے پناہ مانگتی نظر آرہی ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس وطن عزیز کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے جمہوریت کی آڑ میں ملک میں انتشار پھیلانا اسلحہ اور ڈنڈا بردار سمیت سڑکوں پر بیٹھ جانا عدلیہ اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر لب کشائی کرنا الزامات لگانا یہ انداز جمہوریت نہیں بلکہ انتشار کی آخری حد ہے۔

    عوام کی اکثریت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا جارہا ہے کیا ماضی اور کیا حال ان سیاسی جماعتوں نے ملکی سلامتی اور عدلیہ کو نشانے پر رکھا دنیا کے کسی بھی ملک کے یہ دو انتہائی اہم ادارے ہوتے ہیں جنہوں نے ہر حال میں ملکی سلامتی اور امن کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ افسوس ہمارے سیاسی قائدین نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ یاد رکھیے چین کے اپنے مفادات ہیں امریکہ کے اپنے مفادات ہیں عرب ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں ہمیں اپنے وطن عزیز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ملکی مفادات آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی اور امن جبکہ اعلیٰ عدلیہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھیں اور عوام اپنے ان اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں ان اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

  • آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    پاکستان میں نو مئی کو رونما ہونیوالے واقعات ایک سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،پاکستانی قوم نے دیکھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کیا گیا، دس قیمتی جانیں گئیں، یہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جانے والا حملہ تھا جس کا مقصد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا اور بنایا گیا، بدقسمتی سے حملہ آور، شرپسند جو چاہتے تھے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے،جن مقامات پر شرپسندوں نے حملہ کیا ان میں جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، آئی ایس آئی دفتر فیصل آباد شامل ہیں، ایم ایم عالم نے 1965 کی جنگ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اس کے مشہور طیارے کو بھی آگ لگا دی گئی، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں بھارت آج تک کامیاب نہیں ہو سکا لیکن پاکستان میں موجود گمراہ کن پاکستانی شرپسندوں نے اپنے رہنما کی عقیدت میں آ کرسب کچھ تباہ کر دیا،

    نو مئی کو پاکستان میں ہونیوالے تباہی کی کاروائیوں کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرپسند افراد اور جو بھی اس میں ملوث ہیں انکے خلاف 1952 کے آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی، آرمی کی تنصیبات پر حملوں کے مقدمے ہوں گے، اس حوالہ سے ایمنسٹی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر دنوشیکا ڈسانائیکے کا کہنا ہے کہ "یہ دہشت زدہ کرنے کا ایک طریقہ ہے اوراس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اختلاف کرنے والوں میں ایک ایسے ادارے کیلئے خوف پیدا کیا جائے جس ادارے کا آئینی حدود سے تجاوز کرنے پر کبھی بھی احتساب نہیں کیا گیا ،پاکستان کی طاقتور فوج کا حوالہ دیتے ہوئے ،آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ کیوں؟ "وائس آف امریکا

    بیرون ممالک کے لوگ اور یہ ایجنسیاں اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ان کے معاشرے کی روایات ہم سے الگ ہیں، کیا وہ لوگ تشدد کرتے ہیں، جب انکا کوئی رہنما گرفتار ہوتا ہے تو اپنے ہی وطن کو آگ لگاتے ہیں؟ کیا وہ شہریوں پر تشدد کرتے ہیں اور سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کرتے ہیں؟ پاکستان میں حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا اسکے بعد اب جو لوگ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل اور مقدمے کو سخت اور غلط کہہ رہے ہیں انہوں نے ان واقعات کی مزمت بھی نہیں کہ بلکہ وہ اسوقت خاموش رہے جب سپریم کورٹ سے عمران خان جو ایک ملزم تھا اور اسکے کیس کی سماعت تھی اس کو گاڑی بھیجی گئی،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل پر اعتراض کرنیوالوں نے کیا انصاف کے غیر مساوی ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا؟ عمران خان کو اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے سے قبل سول لائنز پولیس کے گیسٹ ہاؤس میں بطور مہمان رکھا گیا، کیا عدالتوں سے عمران خان کو ملنے والے اس ریلیف پر عدم اطمینان کا کوئی واویلا کیا گیا؟

    لیکن جب فوجی عدالتیں پی ٹی آئی کے حمایتی اور شرپسند عناصر کے خلاف مقدمے چلائیں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور کیوں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ باہر کے لوگ اور ایسی ایجنسیز پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہیں،واضح ہے کہ ریاست اب پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں ہو گی،کیونکہ انصاف کو برقرار رکھنے کا عزم اور امن کی بحالی غیر متزلزل ہے،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزادقریشی)
    ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرناچاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ لیکن یہ کیسی پارلیمانی جمہوریت ہے ۔ یہ کیسے سیاستدان ہیں ملکی تاریخ میں کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے فوج پر تنقید نہ کی ہو ، کسی نے اینٹ سے اینٹ بجانے کسی نے حساب دینا پڑے گا صدائیں لگائیں۔ لیکن 9 مئی کے واقعات نے تو ہلا کر رکھ دیا ۔ عدلیہ ، فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کو عالمی دنیا میں متنازعہ بنا کر رکھ دیا گیا۔میرا اپنا تعلق پوٹھوہار سے ہے ہر دوسرے گھر کاایک نہ ایک سپوت پاک افواج کاحصہ ہوتا ہے ۔ ان دیہی علاقوں میں نیٹ بھی صحیح کام نہیں کرتا جہاں فوجی جوان تعینات ہیں وہاں موبائل کے سگنل بھی ایک مسئلہ ہے۔ میرے علاقے کے سینکڑوں قبرستانوں میں شہداء کے مقبرے بنے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی پاک فوج کے انتہائی اعلیٰ عہدوں پر فائز فوجی افسران خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ فوجی یا تو ڈھول سپاہی ہوتا ہے یا پھر فوجی بھائی ان بے رحم سیاستدانوں کو ان فوجی بھائیوں اور فوجی افسران کا احترام کرنا چاہیئے۔

    زلزلوں ،سیلاب قحط زدہ علاقوں کی مدد کرنا ۔ گرمی میں گرم وردی میں لمبے چمڑے کے بوٹوں میں تپتی بندوقیں ہاتھ میں لئے چوکس کھڑے ہوتے ہیں حالت جنگ میں فوجی جب اگلے مورچوں پر ہوتے ہیں تو ان کے گھروں میں جو بے خواب راتیں گزرتی ہیں ان کے لئے کیا کبھی کسی اہل دل نے سوچا؟ ۔ ان کی شہید میتیں ان کے گھروں میں جب پہنچائی جاتی ہیں ۔ ان کی مائوں ،بہنوں ، بیویوں پر کیا گزرتی ہے کیا کسی نے کبھی سوچا ؟ اس قوم کا پاک فوج سے محبت کاایک کلچر بن چکا ہے اوریہ نہ ختم ہونے والا کلچر ہے یہ فوجی جوان لینڈ سلائیڈ بپھری ہوئی موجوں ، وبائی امراض، حشرات الارض ، خدمت کے لئے فوری پہنچ جاتے ہیں۔ ملکی سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ پاک فوج کی لازوال قربانیوں اورخدمات کے معترف ہیں اور انہیں اپنے اپنے اقتدار کی سیڑھی نہ بنائیں اور اپنے سیاسی جھگڑے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔