Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے عین مطابق ہے جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس عید کے بعد بلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق موجودہ سیاسی ہنگامے میں جو کردار ادا کرنے جا رہے ہیں مجھے نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی یاد آ رہی ہے نوابزادہ جمہوریت کے دیوانے تھے وہ جمہوریت کا علاج جمہوری مزاج رکھنے والے سیاست ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے ۔ وہ جمہوریت میں اپوزیشن کے موجود کو لازم سمجھتے تھے نواب زادہ نصراللہ کی قیادت میں کئی تحریکوں کا آغاز ہوا او ر وہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی آج کی سیاسی جماعتوں میں میں دوغلے پن سیاستدانوں کی اکثریت موجودہے مگراسکے ساتھ چور راستوں کا انتخاب کرنا بھی بھی آج کی سیاست کا ایک مشغلہ ہے۔ ان کے نزدیک قانون کی حکمرانی – آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کوئی معنی نہیں رکھتی سیاست کو ذاتی دشمنی کا رنگ دے دیا گیا ۔ مولانا سراج الحق بلا شبہ ایک در توثیق انسان ہے جماعت اسلامی والے درویشی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے آج کی ٹونٹی سیاست واٹس اپ سیاست آڈیو اور ویڈیو جیسے گندے کھیل کی سیاست میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا آگے آکر کر دار ادا کرنا اور کامیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

    کیاسیاسی جماعتیں جماعت اسلامی کی تجویز کو قبول کریں گی اس وقت جو سیاسی ہنگامہ برپاہے شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے میں جماعت اسلامی کا میاب ہو جائے گی ؟ موجودہ دور کے سیا ستدانوں سے اور سیاسی دوغلے پن رکھنے والے سیاستدانوں نے جمہوریت کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس جمہوریت کا پردہ چاک ہو کر عوام کے سامنے آچکا ہے عوام کی اکثریت کو لاتعداد مسائل میں الجھا دیا لگا ہے۔ سیاسی اختلاف رائے کو دشمنی اور انتقام میں بدل دیاگیاہے ، جماعت اسلامی کے امیر عجزو انکساری والے ایک دوریش انسان ہیں امید ہے سیاسی جماعتیں تاریخ سے سبق سیکھیں گی اور جماعت اسلامی کی تجویز پر عمل کرکے ملک وقوم کو مسائل سے نکالنے میں کردار ادا کریں گے گی۔

  • کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    ہمارے ملک کی جمہوری سیاست بھی عجیب کھیل ہے، بالکل کوکلا چھپاکی کی طرح۔ اس میں بھی ہر کھیلنے والا صرف اسی کا حکم مانتا ہے جس کے ہاتھ میں کپڑے کا کوڑا ہو۔ اس کوڑے کے خوف سے سب کھیلنے والے سر جھکا کر دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی کسی کردہ یا ناکردہ خطا کی پاداش میں کمر پر کوڑا پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔

    کہنے کو تو جمہوریت آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق دیتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں عملی طور پر یہ حق صرف پارٹی سربراہ یا اس کے منظور نظر اہل خانہ کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ باقی سب میاں مٹھو کی طرح وہی راگ الاپتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور جس سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کو پارٹی لائن کہتے ہیں۔ ایک سٹیج آرٹسٹ تو سکرپٹ سے ہٹ کر بھی لائن بول سکتا ہے لیکن سیاسی آرٹسٹ کو ایسے مذاق کی اجازت نہیں۔

    کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں وفاق صوبوں کی اور پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کا محتاج ہوتا ہے اور اگر ارکان اپنے سربراہ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں تو سربراہ کو پارٹی کا، یا اگر وہ برسراقتدار ہو تو حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا مذاق ناپسندیدہ شرعی عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی عیب کا علاج بھی چودھویں اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔

    آج سے لگ بھگ پینتالیس سال پہلے جب اخبار میں کام شروع کیا تو "پارٹی لائن” کا نام سنا۔ پہلے سوچا شائد یہ بھی ریلوے لائن کی طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ جب حقیقت میں واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ اس لائن پر چلنے والے بھی ریلوے انجن کی طرح کانٹا بدلنے والے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پارٹی لیڈر جب چاہے کانٹا بدل کر اپنی پارٹی کی لائن بدل سکتا ہے۔ وہ عوامی حکومت کا دور تھا اور ارکان اسمبلی پارٹی چئیرمین کے جنبش ابرو پر لائن اپ ہو جاتے تھے۔ اور تو اور اتنا ڈسپلن تھا کہ پارٹی کے سب کہہ و مہ ایک طرح کی یونیفارم پہنتے جس میں تمیز و تخصیص کے لئے مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ربن لگائے جاتے۔

    میرے بزرگوں کے جاننے والے ایک صاحب رکن اسمبلی تھے اور پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمائش کی کہ گاہے گاہے ان کے نام سے مروجہ پارٹی لائن کے مطابق بیان شائع کردیا کروں کیونکہ ان کے محکمے کا پی آر او اپنی ساری توجہ وزیر صاحب پر مرکوز رکھتا تھا۔ اس سے پہلے پارٹی لائن کا لفظ میرے لئے اجنبی تھا۔ میں نے اپنے سینیئر رفقائے کار سے پوچھا تو انہوں نے نہ صرف برسراقتدار جماعت کی مروجہ پارٹی لائن کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کیا بلکہ ملکی سیاست کے دیگر دلچسپ مگر ہوش ربا اسرار و رموز بھی گوش گزار کئے۔

    عوامی حکومت کے عہد میں ہر وزیر مشیر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے یا بہانے کی نوید دیا کرتا۔ ان میں ایک مشیر ایسا بھی تھا جسے باخبر حلقوں کے مطابق اس کے حاسدین "مشیر بوسیلہ ہمشیر” کہا کرتے تھے۔ ایک پارٹی لائن "عوامی” تھی جس کے تحت ہر چھوٹا بڑا لیڈر ایک ہی بات چنگھاڑتا سنائی دیتا تھا کہ ملک میں عوامی انقلاب آ گیا ہے، عوامی طوفان آنے والا ہے جو سب شکست خوردہ عناصر کو بہا لے جائے گا۔ پھر جال بچھانے کی باری آئی جس کے مطابق سڑکوں کے جال بچھا دیں گے، سکولوں کے جال بچھا دیں گے۔ ایک صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو اور کچھ نہ ملا تو یہاں تک کہہ گئے کہ ہم ملک میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔ جب عوامی حکومت کا دم واپسیں آیا تو پھر پارٹی لائن اس طرح تھی کہ قائد عوام کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا پے۔ اس وقت پارٹی لائن صرف تقریروں میں نہیں، سرکاری اشتہاروں میں بھی جھلکتی تھی۔

    میں نے خود ایسے اشتہارات بھی ڈرافٹ کئے جو وزیر اعظم کے انتخابی جلسے کے موقع پرخصوصی ضمیمہ کے لئے کاروباری طبقے کی طرف سے دیے گئے۔ بعد میں ہمارا ایک نمائیندہ اشتہاروں کا بل وصول کرنے کامونکی کی آڑھت منڈی میں گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ ان اشتہاروں کی قابل اعتراض لائن جو فرمائشی طور پر لگائی گئی وہ یوں تھی کہ آپ آئے تو بہاریں آئیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارٹی لائن کا واحد مقصد کسی قومی ادارے کی توہین کرنا ہو تو اس کی سزا نچلے درجے کے "لیڈروں” کی بجائے حقیقی لیڈروں کو دی جائے۔ یہ بچارے تو میاں مٹھو، حکم کے غلام اور پارٹی لائن کے تابع ہوتے ہیں.

  • آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    اعتزاز اور کھوسہ نے ثابت کیا کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
    قوم کو انقلاب سے ڈرایا جانے لگا جو پہلے ہی تہذیبی اقدار بھول چکی
    جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے سر اٹھاتی دہشتگردی کچلی گئی

    چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کی آئین و قانون کی حکمرانی کی الیکٹرانک میڈیا پر باتیں حقیقت میں بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا وہ نعرہ جو پیپلز پارٹی لگاتی ہے کہ کل بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے،دونوں کی سیاسی تربیت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے کی ہے،تاہم پی پی سمیت ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے خوبصورت پردے کی اوٹ میں کچھ رہنما آئین شکن ہوں گے،یہ کبھی نہ سوچا اور نہ کبھی ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا،ثابت ہوا جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے،پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جو تجربہ کرنے جا رہی ہیں وہ نقصان دہ ہو گا ،یہ جمہوریت ،پارلیمنٹ اور آئین کے لئے خوفناک تجربہ ثابت ہو گا اور 23 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم ہو گایہ تجربہ قومی مشکلات کی شکل اختیار کر سکتا ہے،تعجب ہے کہ ایک طرف جشن آئین اور دوسری طرف آئین کو ہی دفن ، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی محاذ آرائی،آئین کے ساتھ کھلواڑ سے، قومی معیشت اور جمہوریت کو استحکام نصیب ہو گا؟ میرے اندازے کے مطابق پی ڈی ایم کا شور شرابہ ضرور ہے ، اس سے آگے کچھ نہیں،آئین میں سب کچھ درج ہے کہ وزیراعظم کیسے بنتا ہے اور کیسے جاتا ہے،پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے،الیکشن کیسے ہوتے ہیں اور کب ہوتے ہیں عوام کے روز مرہ کے مسائل حل نہیں ہور ہے ، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، کوئی عالمی قوت ملک کے حالات درست کرنے میں رکاوٹ نہیں ،

    حالات کو درست سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے، درست راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا اسی میں سب کی بھلائی ہے، آج کے حالات کو دیکھ کر جمہوریت شرمندہ ہے، اہل سیاست کی گلیوں میں داخل دوغلے لوگوں نے سیاست جمہوریت اور آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، مہنگائی کے خوف سے ڈری ہوئی عوام کو ہمارے بعض سیاستدان کسی خونی انقلاب کا ذکر کر کے اور ڈرا رہے ہیں۔ یہ خونی انقلاب کون لائے گا ہر سمت پھیلی اخلاقی تباہی کو دیکھ کرکوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا، تاہم اپنے علاقائی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ندیم انجم کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھا تھا رائٹ مین فار رائٹ جاب، لاکھوں لوگوں نے جہاں پسند کیا وہاں میرے نام کے ساتھ غیر اخلاقی القابات بھی لگانے کی کوشش کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم اخلاقی طور ہر تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے لیکن یہاں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے جہاں وطن عزیز کی سرحدوں کو محفوظ بنایا گیا ہے وہاں دہشتگردی کی سر اٹھاتی لہر کو بھی کچل دیا گیا ہے۔

  • کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ،تجزیہ، شہزاد قریشی
    ایک دوسرے سے خوفزدہ حکمرانوں اور اپوزیشن سے سوال ہے کہ پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس نہ تو حکمرانوں کے ذاتی ملازم ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے۔ اسی طرح آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ اس ریاست کے ملازم ہیں ۔قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔ چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا، اغوا کاروں، منشیات فروشوں سے عوام کو محفوظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ کر حکمرانوں کی غلامی زیب نہیں دیتی بااختیار پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے محکمے اپنے عہدوں کا خدارا خیال رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام کی خدمت کریں۔ آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم نظر کیوں نہیں آتے؟ یہی صورت راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح کی اس سے بدتر حالات پنجاب بھر کے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی تمام تر توجہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ، غداری اور دہشت گردی کے مقدمات پر ہوگی تو عام شہریوں، تاجروں، کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟ راولپنڈی اسلام آباد میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا ایسے پولیس افسران تعینات تھے جو قانون کی حکمرانی، کمزور لوگوں کے افسر تھے جن کے دفاتر عام آدمیوں کے لئے کھلے رہتے تھے آج عام آدمی کے لئے دروازے بند اور خاص آدمیوں کے لئے دروازے کھلے ہیں آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ ان کے پاس جو وردی اور اختیارات ہیں وہ کسی خاص آدمی کی عطا کردہ ہے یا اس ریاست کی؟ خدا کی پناہ آج اسلام آباد کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی حکومت کو اور نہ ہی آئی جی پولیس کو اس کی پرواہ ہے۔ حکمرانوں کی خواہشوں پر عمل کرنا عوام کو ڈاکوئوں ، اغوا کاروں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کرنا پولیس افسران کو زیب نہیں وردی اور عہدے دونوں کی توہین کے مترادف ہے ہر دور کے حکمرانوں کو افسر شاہی کی ضرورت ہوتی رہی ہے انہیں ایسے افسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حکم کے تابع ہو اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کرے۔

    حکمرانوں کے پاس ان افسران کی پوسٹنگ کے اختیارات ہیں۔ کاش پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت اہلکاروں اور اپنے محکمہ کے بہتر مستقبل اس محکمہ پولیس کی عزت میں اضافے کا سبب بنتے آنے والے افسران اور ماتحت ان کو یاد کرتے۔ آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

  • مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔

    پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،

  • بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔

    بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔

  • آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کے موجودہ اور مستقبل کے ظل سبحانیاں آٹے کی لائنوں میں لگی یہ قوم کی دست بستہ درخواست کرتی ہے کہ جو ناکردہ گناہ اس قوم نہ کر لئے ان پر اس قوم کو معاف کردیں۔ٹوپی ڈرامے ختم کرکے تباہ حال اور مجبور قوم کا مزید امتحان نہ لیں۔ ان سے روز گارتم نے چھینا ،رو مرہ کی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کردیا ۔ بجلی گیس تم نے چھین لی۔ لے دے کے ان کے پاس جان تھی اب وہ لے رہے ہو۔ شاہی دستر خوانوں کو لپیٹ کر خوشنما نعرے دینے کی بجائے ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ملک کے وقاراس کی عزت ملکی اداروں کی عزت کو بھی اب اُچھال رہے ہو ۔ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر چڑھ دوڑے ہو ۔ پاکستان اور اس کی عوام سے آپ سب کس دشمنی کا بدلہ چکا رہے ہو۔

    پاکستان آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کو مزید کس مقام پر لے جا کر چھوڑنا چاہتے ہو؟ آئین اور جمہوریت کے ساتھ مذاق کرنے کی بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ باری کے چکر میں ملک کو تباہی میں نہ جھونکا جائے۔ جمہوری اداروں کو بچانے ملک کی بقا اور سالمیت کی فکر کرنے، عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ملک کی ترقی ،بقا اور استحکام و سالمیت کے لئے اس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی افسوس آج کی پیپلزپارٹی کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی باتیں سینہ تان کر جا رہی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی آئین شکن کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد کو بھی دفن کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی آج کی سیاست لمحہ فکریہ ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ موجودہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے۔ عدلیہ کی اصل مدد میڈیا اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتیں پہلے فوج پر حملہ آور ہوئیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کا مطلب کیا تھا؟ دونوں طرف سے فوج پر حملہ ، اور اب عدلیہ پر حملہ ہو رہاہے یاد رکھیے اس ملک کی بقا و سلامتی کے لئے آئین اور انصاف کے مسئلے پر عوام ، میڈیا اور فوج عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی سیاسی قوت کی پروا نہیں کی جائے گی۔

  • بلوچستان کی تازہ تصویر

    بلوچستان کی تازہ تصویر

    بلوچستان کی تازہ تصویر

    معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان کا شمار دنیا کے امیر ترین علاقوں میں ہوتا ہے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ لیکن غربت اور پسماندگی میں بھی سب سے بڑا صوبہ اور سب سے آگے بلوچستان ہی ہے۔ اگست 2022 میں سیلابوں اور طوفانی بارشوں سے بلوچستان میں جو تباہی آئی اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ان میں سے اب بھی ہزاروں افراد گھروں سے محروم ہیں جن میں زیر نظر تصویر کے افراد پر مشتمل خاندان بھی شامل ہے ۔

    ستم بالائے ستم یہ کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آٹے کا ہے جس کے حصول کیلئے روزانہ کئی افراد شدید مشکلات اور مشقت کے مرحلے سے گزر کر اپنی جان سے ہی گزر جاتے ہیں اور سب سے مہنگا آٹا بلوچستان میں ہے یعنی بلوچستان ہر طرح سے ” امیر و کبیر” صوبہ ہے جس کا اندازہ اس ایک تصویر سے ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ بلوچستان صرف آج اس طرح نہیں ہے یہ صوبہ ہر دور میں ایسی ہی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔

    آغا نیاز مگسی

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔

    آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔

  • پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل

    پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل

    پاکستان کی وزارت پٹرولیم کو ایک مضحکہ خیز ذمہ داری دی گئی جس پر عمل نہیں ہو سکتا ہے پھر بھی وہ کام کر رہے ہیں، اس ذمہ داری کا مقصد ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس میں امیروں سے پٹرول کے پیسے زیادہ وصول کئے جائیں گے اور چھوٹی گاڑیوں والوں کو سبسڈی دی جائے گی،جو مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہیں،

    حکومت کی اس تجویز پر کیا کیا جائے؟ کیونکہ اس طرح مسئلے کا حل نہیں ہو گا اور یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے،سب سے پہلے بڑی گاڑیوں میں وین اور ٹرک شامل ہیں، اگر ان کے لئے تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا تو اسکا اثر تمام چیزوں پر پڑے گا اور افراط زر میں اضافہ دیکھنے میں ملے گا، حالانکہ مصنوعات کی قیمتیں تمام صارفین کے لئے ایک ہیں ،دوسرا، تعمیراتی سامان بھی وینوں اور ٹرکوں میں لے جایا جاتا ہے جیسے سیمنٹ، لکڑی، ریت، بجری،اسکی لاگت بھی خریدار پر ہی آئے گی،

    تیسری چیز، وین اور بس، سامان کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال معاشرے کا غریب طبقہ ہی کرتا ہے جن کے پاس کار یا موٹر سائیکل نہیں ہوتی، تعلیمی اداروں کے طلبا کے لئے بھی بسوں کا استعمال ہوتا ہے،چوتھا، گھروں میں جہاں ایک چھوٹی اور بڑی کار ہوتی ہے، گھر پہنچنے کے بعد چھوٹی کار کو ٹینک بھرنے اور بڑی گاڑی میں لوڈ آف لوڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پانچواں ،حکومت کے اس فیصلے سے کریم اور ان ڈرائیو جیسی کار سروسز کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔ اور اس سے متاثر ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جو عام طور پر گاڑی کے متحمل نہیں ہوتے ہیں

    حکومت کے اس سبسڈی والے آئیڈیا کو دیکھا جائے تو اس پر عمل کرنا اور لاگو کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس کے ناکام ہونے کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں،