Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے واقعات میں عوام میں احساس کی نمایاں کمی دیکھی گئی، احتجاج میں شریک افراد نے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، سرکاری عمارتوں، ایمبولینس گاڑیوں، پولیس کی گاڑیوں اور نجی و سرکاری املاک کو تباہ کیا گیا جن کی ویڈیو بھی سامنے آ رہی ہیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ کے ساتھ لوٹ مار بھی کی گئی

    پرامن احتجاج کا حق سب کو حاصل اور کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ عام شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہئے، بدقسمتی سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے احتجاج میں بہت تباہی ہوئی، پولیس کی 26 گاڑیاں، سات سرکاری عمارتیں ، 10 نجی املاک میں توڑ پھوڑ کی گئی، پاکستان کی مسلح افواج کی املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا، کور کمانڈر ہاؤس لاہور جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ تھی اور اسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے کو بھی نشانہ بنایا، راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن میں عسکری ٹاور کو نقصان پہنچایا گیا، اس ہنگامہ آرائی ے دوران دس اموات بھی ہوئیں جوکہ افسوسناک امر ہے

    اسی احتجاج کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا، تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین نے میانوالی ایئر بیس پر "دی لٹل ڈریگن” طیارے کو آگ لگائی، یہ طیارہ ایئر کموڈور ایم ایم عالم کا تھا، جنہوں نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور اس پر انہیں ستارہ جرات دیا گیا تھا، مظاہرین کی جانب سے ایسا کرنے پر ہمارے قومی ورثے کو نہ صرف داغدار کیا گیا بلکہ فوج کے خلاف نفرت کو بھی ہوا دی گئی

    مظاہرین نے لاہور میں جو کچھ کیا، اگر خدانخواستہ اسکے جواب میں کور کمانڈر لاہور مظاہرین کی جانب سے کئے حملے کا جواب دینے کا حکم دیتے تو اسکے تباہ کن نتائج ہو سکتے تھے جو ممکنہ طور پر 1971 کی یاد تازہ کر دیتے، اس سے ہمارے رہنماؤں کی سوچ بارے سوال اٹھتا ہے

    دوسری طرف لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کرنا کہ انکا تحریک انصاف کے ساتھ تعلق ہے یہ ان لوگوں کو جواز دے دے گا جو اس قسم کی تخریب کاری میں شامل ہوتے ہیں یا حمایت کرتے ہیں،

    ہم میں سے ہر ایک کو پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لینا چاہئے، تباہی پھیلانا اور نقصان کرنا یہ صرف ایک ایسے معاشرے کو دکھا رہا ہے جو جنگل کے قانون کی حمایت اور پیروی کرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بد نام زمانہ کردار گلو بٹ جیسے افراد کا اثر ہوتا جا رہا ہے،

    آخر کار ،ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم زمہ داری کے ساتھ چلیں گے یا اسے نظر انداز کر دیں گے ،ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ قانون کی پاسداری کریں اور آپس کے معاملات میں تہزیب کے دائرے میں رہیں یا ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس کے برعکس کریں

  • مسلح حملوں کا ارتکاب قابل مذمت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مسلح حملوں کا ارتکاب قابل مذمت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی سلامتی اور رفاعی اداروں پر حملے جلائو گھیرائو کی روش نہ تو سیاست ہے نہ ہی قوم کی خدمت ۔ اعلیٰ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی خواہش میں پارلیمنٹ ہائوس میں عدلیہ پر تابڑ توڑ حملے کو بھی درست قرار نہیں دیاجا سکتا ۔ آج پاکستان کے دشمن ملک کا ہرایک ٹی وی چینل ملک کے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہونے والے کھلواڑ کو بڑھا چڑھا کر دکھا رہا ہے جس پر ہر محب وطن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔پاکستان نے ہر سیاستدان کو عزت دی اور انہیں اعلیٰ ترین عہدوں سے نوازا افسوس صد افسوس ہر کوئی اقتدار اور اختیارات کے مزے لے کر پاک فوج اور جملہ اداروں کو بُرا بھلا کہنا اپنے سیاسی قد میں اضافے کا باعث کیوں سمجھتا ہے ؟

    ملک کے 24 کروڑ عوام نام نہاد سیاسی گماشتوں کے جھوٹے اور کھوکھلے بیانیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ماضی قریب میں ملک کی ہر ایک سیاسی جماعت نے ان اداروں کو زیر لب یا سرعام ان پر زبان درازیاں کیں اور اپنا اپنا جھوٹا بیانیہ بنایا اور ان اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ جبکہ محب وطن کے اداروں نے انہیں اقتدار سے ہٹتے ہی جس بے حسی اور بے صبری سے ان اداروں کو نشانہ بنایا وہ قابل مذمت ہے اور جس طرح ان اداروں پر مسلح حملوں کا ارتکاب کیا گیا قابل صدمذمت ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر غور کرنا چاہیئے اور ایسے عناصر کو نشان عبرت بنا کر ایک مثال قائم کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ کسی بھی سیاسی شخصیت جماعت یا فرد کو ایسی مذموم حرکت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ملکی سیاستدانوں کو کھلے دل سے اپنی لغزشوں غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے ۔24 کروڑ عوام کی خدمت دفاع پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہنا چاہیئے۔ ہماری افواج داخلی ،سلامتی اور امن وامان کے لئے دن رات ایک ہوتے ہیں ۔سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورت حال سے پی ڈی ایم حکومت ڈانوں ڈول دکھائی دیتی ہے۔ عالمی قوتیں اور ہمارا ازلی دشمن بھارت ملک کی موجودہ صورت حال پر طنز کے تیر چلا رہا ہے ہمیں جواب میں پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہیئے

  • عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری
    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت پیشی کے دوران گرفتار کر لیا گیا، عمران خان پر انکی حکومت کے عرصے کے دوران 2018 سے 2022 تک سرکاری تحائف کی فروخت کرنے کا الزام تھا، عمران خان کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی تا ہم اسکے بعد تباہی دیکھنے کو ملی، تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکلے ، دو چیزیں سامنے آئیں، ایک ، تحریک انصاف کی اول درجے اور دوم درجے کی قیادت اور رہنما عمران خان کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر احتجاج میں نظر نہیں آئے تھے، دوم،نام نہاد برگر کراؤڈ بھی اس احتجاج میں نظر نہیں آیا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو احتجاج ہوا اس میں جوش و جزبہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے موبائل فون نیٹ ورک کو بند کر دیا تا کہ رابطے نہ ہو سکیں، کئی شہروں میں ٹی وی کی نشریات بھی معطل کی گئیں، اسکے بعد آڈیو لیکس سامنے آنا شروع ہو گئیں، آڈیو لیکس میں ہونیوالی گفتگو سن کر یہ طے کرنا مشکل نہیں کہ اس ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی کون ہدایات دیتا رہا، آڈیو لیک کی گفتگو میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف بڑھنے کی ہدایات دی گئیں، تحریک انصاف کے رہنما، سینیٹر اعجاز چودھری اور انکے بیٹے علی چودھری کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز منہاس کی بھی آڈیو لیک ہوئی، دو اور بھی آڈیوز سامنے آئیں، جن میں ملک کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کے ثبوت ملے،

    اختلافات سیاست کا فطری حصہ ہیں تا ہم اختلافات کو ختم کرنے اور آگے بڑھنے کا واحد حل بات چیت، مزاکرات ہیں ، لیکن بدقسمتی سے عمران خان کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھے، اداروں، افراد اور حتیٰ کہ اقوام (جیسے امریکہ) پر الزام لگانے کا ان کا رجحان اس بات کی مثال ہے کہ سیاست میں کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپلومیسی ایک فن ہے، اور اگر کوئی پارٹی رہنما اپنی پارٹی اور اپنی قوم کے مفادات کو ملکی سطح پر محفوظ رکھنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال نہیں کر سکتا تو عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت کے حوالہ سے ان پر کوئی بھی سوال اٹھا سکتا ہے

    دنیا بھر کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں اکثر قید یا طویل مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے کارکنان کو عوامی املاک کو تباہ کرنے یا ریاست کے ساتھ تنازعات میں ملوث ہونے پر اکساتے نہیں قیادت خود ایسے واقعات سے دور رہتی ہے ،عمران خان نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انکے ریمانڈ میں توسیع ہو سکتی ہے یا انہیں جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھجوایا جا سکتا ہے، جس کے بعد انکئ ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، مزید کئی گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر اقتدار کی کشمکش ناگزیر ہو جاتی ہے ،کیونکہ پارٹی طے کرتی ہے کہ اب پارٹی قیادت کون کرے گا، اب حساب کا وقت آ گیا ہے

  • انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    پنجاب اور کے پی کے الیکشن قبل ازوقت کروانے کے آئینی عمل نے اس نام نہاد جمہوری سسٹم کا پول کھول دیا ہے۔ جہاں حکومت محض ذاتی مفادات کے خاطر الیکشن نہ کروا کر آئین اور عدلیہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر عدلیہ مخالف تقریریں اور حکم عدولی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے 90روز کے اندر الیکشن کروانے کی بجائے سپریم کورٹ سے درخواست کررہا ہے کہ الیکشن کے عمل میں آپ مداخلت نہ کرے الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمیں ہی کرنے دیں اور جو صورتحال نظر آرہی ہے اگر اسی طرح سسٹم رہا پھر تو حکومت اگر چاہے تو قیامت تک الیکشن نہ کروائے اور یہی کہتی رہی کہ فنڈز نہیں دینے، سیکورٹی نہیں دینی۔سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں تو اپنی جگہ پر مگر اب اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑاکرنے سے نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا ہورہا ہے جن کی مہنگائی کی چکی میں پیسا جارہا ہے جن کے لیے زندگی محال ہورہی ہے، جن کے دکھ درد میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے اضافہ کیا جارہا۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہورہی ہے۔ چوری، ڈکیتی کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مگر ریاست کے بااختیار، طاقتور اور اربوں کھربوں پتی سیاستدانوں کو ان مسائل سے کیا انہوں نے تو ہر دور میں ہر طرح سے عوام کا خون چوسنا ہے اور چوس رہے ہیں، ان کے کاروبار، جائیدادیں، بال بچے سب کچھ تو بیرون ملک ہے یہاں تو وہ صرف حق حکمرانی کے لیے آتے ہیں۔یہاں کتنے ججز اور بیوروکریٹس ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی آخری سانسیں پاکستان میں لیتے ہوں؟

    انتخابات کے معاملے پر نہ صرف سیاستدانوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ ریاستی اداروں میں بھی ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔ زیرک سیاستدان، صحافی، تجزیہ نگار، دانشور تو کئی دہائیوں سے اس سسٹم کو ناکارہ قرار دیتے آئے ہیں اور اسے طاقتوروں، لٹیروں اور مافیاز کا سہولت کار سمجھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں طاقتوروں کے لیے الگ قانون اور غریب لوگوں کے لیے الگ قانون نظر آتا ہے، امیر لوگ پیسے کے ذریعے اس سسٹم سے ہر جرائم کے بعد ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے مکھن سے بال اور غریب بے چارہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کئی کئی سال کال کوٹھڑیوں میں بند رہنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس دولت نہیں کہ وہ سسٹم کے تحت اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرسکے۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت شروع سے ہی برائے نام ہی رہی ہے، جو کوئی جمہوری ادوار گزرے ہیں انہیں بھی کٹھ پتلی حکمران ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جس وزیر اعظم نے بھی آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، عوامی ریلیف کے لیے کوئی کام کرنے کی کوشش کی تو اس کا دھڑن تختہ کردیا گیا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ہی حقیقی جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ حق بات کہنے والے پارٹی لیڈر کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے، پارٹیوں سے نکالنے کے لیے کوئی قاعدہ قانون، شوکاز نوٹس یا پھر کسی قسم کی کارروائی کے بغیر ہی میڈیا پر اعلان کردیا جاتا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر فارغ کردیا گیا ہے، حالانکہ جمہوری معاشروں میں پارٹی پالیسیاں بھی پارٹی بناتی ہیں مگر یہاں لیڈر جو سوچ لیتا ہے وہی پارٹی پالیسی بن جاتی ہے۔

    معاشرے انصاف کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں، جہاں عدل کا توازن بگڑ جائے وہاں زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، بدقسمتی سے اشرافیہ نے پاکستان کا وہ حال کردیا ہے کہ جہاں سچ بولنا جرم بن جاتا ہے، لوگ اپنی بے بسی کا نوحہ بھی نہیں پڑھ سکتے، اگر حکومت ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو پھر باقی اداروں اور عام لوگوں میں عدلیہ کے فیصلوں کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟ اور جب عدالتیں لوگوں کو انصاف ہی فراہم نہ کرسکیں تو پھر یہ انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں کی بستی بن جائے گی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون بن جائے گا۔ مہذب معاشروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، جس میں ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنا ریاست کے ذمہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں ریاست لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے نہ ہی ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق دے رہی ہے تو پھر لوگ کیا کریں، ریاست کے ذمہ داران کو ابھی بھی سرجوڑ کربیٹھ جانے کی ضرورت ہے اور سیاسی کشیدگی کو کم کروائیں، فوری انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار منتخب لوگوں کے حوالے کر کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملکی ترقی، سلامنی، امن و امان اور خوشحالی کے لیے کام کریں صرف اسی صورت پاکستان دنیا میں ترقی کرسکتا ہے۔

    سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بھی عدم استحکام کا شکار ہوا۔ لوگوں کا معیارزندگی پست ہوگیا۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے کوئی سمجھ نہیں کہ اگلے لمحہ کیا فیصلہ ہونے والا ہے، کیا رد عمل آئے گا۔ ایک ایٹمی ملک کا اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوجانا بھی لمحہ فکریہ ہے، ریاست کے ذمہ داران نے کبھی اس معاملے پر غور کیا کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمارا آج کا طرز حکمرانی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہے؟ کیا ہم ملک میں افراتفری یا پھر انارکی چاہتے ہیں؟ پاکستان میں جس طرح سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اداروں کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے اس سے خدانخواستہ تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے اگر کوئی جامع حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو پھر اس کے نتائج بھی بھیانک ہونگے۔

  • بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    حالیہ دنوں بھارت کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کو پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ مخالفین کے مطابق بلاول کو بھارت جاکر شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

    تاہم واضح رہے کہ جن لوگوں نے بلاول کی اس شرکت کو منفی رنگ دیا یا اس پر اعتراض کیا وہ یا تو مخالفت میں اندھے ہوچکے یا پھر حقائق سے نابلد ہیں کیونکہ وزیر خارجہ کا بھارت جاکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے کا مقصد انڈیا کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرنا نہیں تھا بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    خیال رہے کہ اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بلاول بھٹو زرداری اور جے شنکر کے درمیان کوئی دو طرفہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی قسم کی کوئی ملاقات ہوئی ، بھارت نہ چاہتا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس فورم میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت، سی پیک اور دہشت گردی کے بارے میں بات چیت ہو یا وہ اس میں شامل ہوں۔

    لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس فورم میں شرکت کرکے ان تمام مسائل کی طرف شرکاء کی ناصرف توجہ مبذول کروائی بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اور ان مسائل کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اجاگر کرکے بلاول نے بہت اچھا کیا ہے جس پر انہیں سراہا جارہا ہے۔

    جنوبی ایشیائی امور کے ماہر امریکی صحافی مائیکل کوگلمین کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری نے وہ کام سرانجام دیا جو اسلام آباد چاہتا تھا، بھارت کے علاوہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کے علاوہ ایس سی او کے تمام ارکان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ اس خطہ کے امن کیلئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک یعنی بھارت اور پاکستان اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جبکہ بھارت اس خطے میں اپنا سب سے بڑا حریف چین کو سمجھتا ہے ناکہ پاکستان کو لہذا وہ اب پاکستان کے ساتھ اب گٹھ جوڑ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے لیئے سب بڑا خطرہ پاکستان کے بجائے چین کو سمجھتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان بھی اندرونی طور پر مختلف مسائل سے نمٹ رہا ہے جیسے حالیہ آئینی بحران سمیت معاشی بحران جبکہ مہنگائی اور سیاسی انتشار اور نفرت عروج پر ہے ،

    حقانی نے ایک بیان میں درست نکتہ اٹھایا کہ گوا میں ہونے والے اجلاس سے یہ امید نظر آتی ہے کہ اس سے مثبت بات چیت کی طرف راہ ہموار ہوگی۔

    یاد رہے کہ علاقائی استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کو بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دونوں فریقین کو آگے بڑھ پہل کرکے اپنے تمام تر شکوک و شبہات اور خدشات کو دور کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا چاہئے اور اس کیلئے کمیٹیاں بنانی چاہئے جو ایک میز پر بیٹھ کر دونوں طرف کے خدشات دور کریں۔

    ای اے بکیانیری نے کہا تھا کہ مسائل ایک دروازہ کی طرح ہوتے ہیں لہذا آپ کو اس کے اندر سے گزرنا پڑے گا لیکن اگر آپ آگے نہیں بڑھتے تو پھر دیوار کے ساتھ ٹکرانے کیلئے تیار ہوجائیں۔

  • سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے سوال ہے کہ کیا ملک سے آئین ، قانون اور اخلاقیات ،اصول ختم ہونے جا رہے ہیں۔کیا ہر سیاسی جماعت کے قائدین کو اپنے اوراپنی جماعت کے ذاتی مفادات عزیز ہیں ؟ پاکستان بطور ریاست اور24 کروڑ عوام کے مفادات کو دفن کرکے کس جمہوریت کی خدمات سرانجام دی جار ہی ہے۔ ؟اور کس جمہور کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ آج عوام کی معاشی حالات بدسے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بے روزگار نوجوان سڑکوں پر دھکے کھا رہاہے ۔ بے روزگاری سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اخلاقیات کا تو جنازہ نکال دیاگیا ہے ۔ آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل نے معاشرے کی نوجوان نسل کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہماری پرانی نسل کے کامیاب سیاسی رہنما چاہے ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رہا ہو وہ اپنی ایمانداری اخلاق کی بدولت عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں آج بھی دلوں پر راج کررہے ہیں ۔خدارا عوام شیخی باز اور مغرور اور متکبر بداخلاق سیاستدانوں سے دور رہیں اور بالخصوص وطن عزیز کے نوجوان اپنے آپ کو ان سے دوری اختیار کریں۔ دورحاضر کے سیاستدانوں کو پرانی نسل کے سیاسی قدرآور لیڈران جیسا کردار اد ا کرنا چاہیئے ۔

    اس ملک اور نوجوان نسل کو مسخر ے سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔ نرم دل و نرم گفتار شخصیت کے حامل سیاسی رہنمائوں کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے آئین کو توڑنے آئین شکنی پر سیاستدانوں کو ہیرو قرار دیا جار ہا ہے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے ، عدلیہ کو متنازعہ بنانے والوں کو قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے ۔ صد افسوس ریاستی اداروں کو بین الاقوامی سطح پر متنازعہ بنا کر ہم کون سا قومی فریضہ ادا کررہے ہیں؟ آج بھی وقت ہے سیاستدان ملک و قوم کی خاطر درست سمت کا تعین کرلیں ورنہ تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی انسان دنیا سے چلا جاتا ہے اُس کا کردار زندہ رہتا ہے۔

  • ملکی وقار  اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی فضائوں میں ایک طرف الیکشن اور دوسری طرف کسی قومی حکومت کی بھی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ اس قومی حکومت میں شمولیت کے لئے سبھی جماعتیں تیار یں۔ یعنی نیا دام لائے پرانے شکاری ۔ لیکن افسوس کہ اب پرانے شکاریوں کے پاس نہ کوئی نیا دام ہے نہ پرانا دام ہے سب دام تار تار ہو چکے ہیں عوام سب داموں کو خوب جان چکے ہیں اب ان کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے جال کو خوب پہچان چکے ہیں ۔ آج کل پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمان والے نوحہ کناں ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑی تنخواہیں ہیں ہماری تنخواہیں آج کے مہنگائی کے دور مین بہت کم ہیں۔ کیا پارلیمنٹ ہائوس تک اور پھر وزارتیں ریاستی پروٹوکول اختیارات دلوانے والے عوام کا کبھی خیال آیا جن کی تنخواہیں 15 ہزار یا 20 ہزار ان کی گذر اوقات کیسے ہوتی ہوگی ؟ بے بس عوام جو ووٹر ہے زندگی کاکوئی راستہ نہ پاکر خودکشیاں بھی کرتے ہیں۔ تاہم موجود سیاسی ماحول نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قانون کی حکمرانی کانعرہ لگانے والوں کے قلب وروح کو زخمی کردیا ہے ۔ ملکی سیاست ایک معمہ بن چکی ہے ۔ حالات کب کون سا رُ خ اور رنگ اختیار کرلیں کب سیاسی بساط پر مہرے تبدیل ہوجائیں اور کب جیتی بازی ہار میں تبدیل ہوجائے یہ کوئی نہیں جانتا اور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کب ہونی انہونی اور انہونی ہونی بن جائے ۔

    بے چینی بے یقینی اور عدم استحکام کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے چلے جار ہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ، پاک فوج کے جملہ اداروں کے خلاف سلیکٹڈ کا نعرہ لگانے والے اور پھر امپورٹڈ کا نعرہ لگانے والوں نے جو زبان استعمال کی اُسے کسی طرح درست قرار نہیں دیاجا سکتا اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے آخر ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے خدارا ہوش کریں۔

  • قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد  کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    ابراہم لنکن نے کہا تھا "انتخابات کا تعلق عوام سے اور یہ ان کا فیصلہ ہے، اور اگر وہ آج کسی غلط انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو کل کو انہیں ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا.” انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو عملی طور پر شفاف رکھنا ہوگا۔ جبکہ ریاست میں انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی دونوں میں نگران حکومتوں کے قیام کیلئے آئین میں دفعات موجود ہیں تاکہ انتخابات کو یقینی طور پر شفاف بنایا جا سکے اگر دو جگہوں پر الیکشن ہو گئے اور پھر اگلی قسط میں د ونگران حکومتوں کے دور میں ہوئے اور وفاقی حکومت میں، تو پھر صوبائی حکومتیں وفاقی الیکشن میں سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر سکتی ہیں

    اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت تو اپنی جگہ پر قائم رہے گی دو صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں الیکشن ہوں گے اور پھر شکست کھانے والی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور الزام تراشی ہوگی جبکہ بعدازاں یہ بھی الزام عائد ہونے کا خطرہ ہے کہ حکومتی مشینری کو حکمران جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا ہے.

    تاہم خیال رہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 224 اور 224-A سے بھی متصادم ہوگا جو اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں نگراں حکومتوں کی تقرری کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ لہذا آئین کو ایک کھلونا نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کردیا جائے. لہذا میری رائے میں مناسب یہ ہوگا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروائے جائیں تاکہ بار بار انتخابات یعنی ڈبل الیکشن یا علیحدہ علیحدہ انتخابات پر وسائل کا ضیاع نہ ہو. اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن کے میدان میں اترنے کا موقع دیا جائے جبکہ سیاسی وفاقی حکومت کے صوبہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے امکانات یعنی ریاستی مشینری کے استعمال کے امکانات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے.

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔

  • روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    پاکستان کو جلد ہی روس سے ملاوٹ شدہ تیل کی پہلی کھیپ موصول ہونے والی ہے جو اس کی توانائی کی ضروریات کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس خام تیل کو ملاوٹ شدہ تیل میں ریفائن کرنے کی ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور روس نے تیل برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نے چینی یوآن، یو اے ای درہم اور روسی روبل میں ادائیگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی جو کہ امریکی ڈالر کے معمول کے لین دین سے ہٹ کر ہے.

    تاہم واضح رہے کہ یہ درآمدگی مستقبل میں کم نرخوں پر خریداری کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے وسیع البنیاد نقطہ نظر کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو امریکی ڈالر کے علاوہ کرنسی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے جو کہ پاکستان کی نقدی کی تنگی کی صورتحال کے پیش نظر ایک راحت کی سانس ہے۔ ادائیگی کے ماڈیول سے الگ ہونے والا یہ واحد قدم پاکستان کے لیے لائف لائن ہے۔ اور پھر امریکہ کی طرف سے کوئی اعتراض کرنے کا امکان بھی نہیں ہے.

    حالانکہ بڑی حد تک اس حقیقت کی وجہ سے کہہ بہت سے ممالک نے روس پر امریکی سپانسر شدہ پابندیوں سے خود کو دور کر لیا ہےاور یہ سمجھتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں انہیں بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسکو پر انحصار کرنا پڑے گا. اور پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی عجلت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بجلی کی طلب گرمیوں میں 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سپلائی کا فرق 4,000 سے 6,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب اور رسد کا فرق 8,000 میگاواٹ ہوتا ہے۔ لہذا اسی لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف پیٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات پر انحصار طویل مدت میں غیر پائیدار ہے۔

    مزید برآں پٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جس کے نتیجہ میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پھر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت خود کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے خود کوہی شکست دینے والا طریقہ ہے اختیار کرتی ہے۔ لہذا پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار کم ہو اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج