Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ایک ایسے وقت میں جب عوام کا ایک بڑا حصہ ناقابل تصور مہنگائی کا سامنا کررہاہے ۔ ملک کی سڑکوں پرمفت آٹا لینے کے لئے بزرگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ وطن عزیز کے شہریوں کو پولیس اٹھا کر جیلوں میں بند کر رہی ہے ۔ شہریوں کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ، ہیں تو وہ پاکستانی شہری ، ان کا قصور یہ ہے کہ یہ ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کے ووٹوں سے اقتدار اور اختیارات سیاستدانوں کو ملتے ہیں۔ دنیا کی شاید واحد قوم ہے جن کی ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاستدان ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان دلخراش حالات میں وزیر داخلہ نے پنجابی فلموں والا ڈائیلاگ بول کر ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا۔ کیا سیاسی گلیاروں میں پُتر شاہیا دا اور جگا ڈاکو فلموں والے ڈائیلاگ بولے جائیں گے؟ وزیر داخلہ کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) ذاتی دشمن بن گئے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا رویہ عمران خان کا رہا ماضی میں وہ بھی پنجابی فلموں کے ڈائیلاگ کا سہارا لیتے رہے۔ آج کے سیاستدانوں پر حیرت ہے کہ سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا۔ وطن عزیز میں جمہوریت مستحکم نہیں جمہوریت پر سوالیہ نشان بھی ہے اور زوال بھی ہے ۔ آئین اورقانون کی حکمرانی کا زوال ۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنا ، اعلیٰ عدلیہ پر روز مرہ کے حملے ۔ سول انتظامیہ اورپولیس کا غلط استعمال جمہوری ڈھانچے کے منہدم ہونے کے واضع اشارے ہیں۔

    ذرا سوچئے اس وقت عالمی سطح پر وطن عزیز کا جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا میں پاکستان بطور ریاست کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیا عالمی دنیا کے لیڈران آج کے پاکستان میں جاری جمہوریت پریقین کرلیں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ کیا شہباز شریف ، عمران خان اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتیں عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کررہی ہیں؟ جن حالات میں اس وقت وطن عزیز گزر رہا ہے اور عوام ،سیاسی گلیاروں میں لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ملکی سرحدیں پاک فوج نے مضبوط کردی ہیں ۔ ہمارے جوان وطن عزیز کو مستحکم کرنے کے لیے شہادتیں دے رہے ہیں تاہم ایک جمہوری حکومت کے لئے ایک ہوشیار ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو ملک کے مسائل حل کرسکے۔

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    اس وقت ملک کی بائیس کروڑ عوام آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے رحم و کرم پر ہے اسے ہی جمہوریت کے ثمرات کہتے ہیں۔ سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں نے عدلیہ کے کچھ ججوں کیخلاف طبل بھی بجا دیا ہے۔ عام آدمی حکومت کی جارحانہ حکمت عملی سے بے حد پریشان ہے۔ قوم مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے حیرانگی کی بات ہے جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آئین کو سیاسی گلیاروں میں گھر کی لونڈی سمجھ لیا ہے۔ سب جانتے ہوئے کہ آئین شکن کی آئین میں کیا سزا ہے ؟زیادہ عرصہ نہیں گزرا سابق چیف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف مرحوم کو انہی سیاستدانوں نے آئین شکنی پر آرٹیکل 6 لگا کر مقدمہ چلایا پھر انہیں اسی مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی۔ آج وہی سیاستدان آئین شکنی پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ انہی سیاسی جماعتوں میں وہ سیاستدان موجود ہیں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر آمریت کے دور میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بدترین تشدد کا بھی سامنا کیا سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدانوں کی تعداد بہت کم رہ چکی ہے جو آئین اور قانون جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے سیاستدان دعویدار تو جمہوریت کے ہیں مگر غیر جمہوری اعمال میں مصروف ہیں

    حیرانگی عمران خان پر بھی ہے وہ ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تاحیات نااہلی پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور آج اپنے اوپر بنائے سینکڑوں مقدمہ کا رونا رو رہے ہیں ایک دوسرے خلاف جنگ میں مصروف سیاستدانوں نے اس ملک اور عوام کو آج یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ لائنوں میں لگے آٹا لینے کی خاطر وہ مر رہے ہیں کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں عوام ووٹ بھی لائن میں لگ کر دے اور آٹا بھی لائنوں میں لگ کر لے؟ اگر سیاسی جماعتوں نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو تو بڑا نقصان ہونے کا خطرہ موجود ہے سیاسی جماعتیں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتی سیاسی جماعتیں ملکوں اور قوموں کو ان کی مشکلات سے نکالتی ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے راستے دکھاتی ہیں۔ لوگ مہنگائی کی وجہ سے بلبلا اٹھی ہیں اس وقت ایک راستہ مذاکرات کا راستہ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ اس ملک اور عوام کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلاکو خان اور چنگیز خان کے راستے کا انتخاب ہرگز ہرگز غلط ہے۔

  • مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی
    حیدرعلی صدّیقی

    امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی جامع اور ہمہ جہت شخصیت سے کون واقف نہیں! جو بیک وقت بلند پایہ مفکر، عظیم دانشور، زبردست صحافی، محقق مصنف، بالغ النظر مفسر، عبقری سیاست دان، آفتاب علم و دانش، مجتہد بالغ نظر، کوہِ عزم و ثبات، سالارِ حریت، خطیب معجز بیان، ادیب سحر طراز، صاحب اسلوب انشاء پرداز، شاعرِ سخن رس کے عملی تصویر تھے۔ متضاد حیثیتوں پر مبنی زندگی کے مالک مولانا آزاد نے جس میدان میں بھی قدم رکھا تو کامیابیوں اور کامرانیوں کو اپنا مقدر پایا۔ آزاد جی بظاہر ایک جسم و جان تھے لیکن شورش کاشمیریؒ کے بقول ابوالکلام آزاد کئی دماغوں کا ایک انساں تھے۔ نثر نگاری اور انشاء پردازی تو جیسے آپکا خاصہ تھا، جس کے متعلق بڑے بڑے ادیب انگشت بدنداں تھے اور یہ اقرار کرکے رہ نہ سکے کہ مولانا آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں۔ آپ کی نثر کے متعلق بلند پایہ غزل گو شاعر جناب حسرت موہانی نے کہا تھا: ؎

    جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
    نظم حسرت میں بھی مزا نہ رہا

    اللہ کریم کے طرف سے ہر انسان کو مختلف تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا جاتا ہے، لیکن انسان حالات، معاشرتی رجحان یا ستم ہائے روزگار کے وجہ سے خود کو ایک کام کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں اور باقی دیگر تخلیقی صلاحیتوں کا ان سے خاطر خواہ اظہار نہیں ہوتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھی، جو بظاہر تو ایک حق گو صحافی، مفسر اور نثر نگار تھے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ ایک سحر طراز قسم کے شاعر اور سخن ور بھی تھے۔ شعر و شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا، اور کیوں نہ ہوتا کہ آپ کے والد گرامی مولانا خیرالدینؒ ایک پیر و مرشد ہونے کے ساتھ ایک بلند پایہ عربی شاعر اور مصنف بھی تھے۔ مولانا آزاد کے بڑے بھائی غلام یاسین ابونصر آہ جنکا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا، وہ بھی ایک بے مثل شاعر تھے، اور داغ دہلوی سے شعرگوئی کی اصلاح لے چکے تھے۔ مولانا آزاد کی بہنیں بھی تعلیم یافتہ اور اعلی شعری اور ادبی ذوق کی حامل تھیں۔ مولانا آزاد کی ذوق سخن آرائی میں اس ماحول کا دخل تو تھا ہی، لیکن عملی طور آزادؔ کے شعر گوئی کے متحرک مولوی عبدالواحد خان سہسرامی تھے۔ مولانا آزاد ان سے بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ شعر گوئی اور ادب کے موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ مولانا آزاد کی طبیعت بچپن میں زوروں پر تھی لیکن کم عمری میں خود اعتمادی کے فقدان کے وجہ سے وہ اپنے اشعار کسی کو سنا نہ سکے، حتی کہ اپنے شعری ذوق کے متحرک مولوی عبدالواحد خاں کو بھی نہیں سنائے، اور اسی طرح آزاد جی کے سینکڑوں اشعار کا مجموعہ محفوظ نہ رہا۔ مولانا آزاد کی پہلی غزل کی سرگزشت سن 1898ء کی بات ہے، کہ ان دنوں بمبئی سے حکیم عبدالحمید فرخؔ نے ایک گلدستہ ”ارمغان فرخ“ نکالا تھا، اس میں دی گئی طرحوں پر شعرا غزلیں بناتے اور پھر ماہوار مشاعرہ ہوتا تھا۔ اس گلدستے کی ایک طرح ”پوچھی زمیں کی تو کہی آسمان کی“ پر مولوی عبدالواحد خاں نے غزل بنائی اور اس کے چند اشعار مولانا آزاد کو سنائے۔ پھر کیا تھا کہ یہ اشعار مولانا آزاد کے ذوق سخن سرائی کے لیے متحرک بنے۔ مولانا آزاد کی افتاد زوروں پر تھی، چنانچہ آپ نے اس طرح پر تیس اشعار نکالے، جن میں سے سترہ اشعار منتخب کرکے غزل بنائی۔ لیکن طبیعت مطمئن نہیں تھی اور کسی کو سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، بار بار اصلاح اور کوشش کے بعد آزاد جی نے مولانا عبدالواحد خاں کو مطلع سنائی تو وہ چیخ اٹھے اور خوب تحسین و تعریف کی۔ مولانا آزاد نے اور اشعار سنائے اور وہ ہر ایک شعر پر خوب داد و تحسین سے نوازتے۔ اس کے بعد مولانا آزاد نے اگلے دن ہونے والے مشاعرے میں اس غزل کو سنانے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی ان کی عمر بمشکل دس بارہ برس تھی، خود اعتمادی کا فقدان تھا، مجمع عام میں سنانے کا حوصلہ نہ تھا، اور پھر کچھ خاندانی روایات اور والد محترم کے خوف سے اس مشاعرے میں شرکت مناسب نہیں سمجھا۔ مولانا آزاد نے اس غزل کو مولوی عبدالواحد خاں کو دی کہ وہ مشاعرے میں سنائے، جب انھوں نے یہ غزل مشاعرے میں سنائی تو مجمع عام بھی داد و تحسین سے نوازے نہ رہ سکا۔ مذکورہ غزل کے چند ابیات قارئین کے پیش خدمت ہیں: ؎

    نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
    نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
    گنبد ہے گردباد تو ہے شامیانہ گرد
    شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
    ہوں نرم دل کہ دوست کے مانند رو دیا
    دشمن نے بھی جو اپنی مصیبت بیان کی
    آزادؔ بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
    پوچھی زمین کی، تو کہی آسمان کی

    جب مولانا عبدالواحد خاں کے ذریعے مولانا آزاد کو مجمع عام کی طرف سے داد و تحسین کا پتہ چلا تو آزاد جی خوشی سے شادماں اور مخمور ہوگئے۔ ایک ماہ بعد یہ غزل ”ارمغان فرخ“ میں بھی شائع ہوئی، اور اسی طرح یہ آزاد جی کی پہلی باقاعدہ غزل ہونے کے ساتھ پہلی مطبوعہ غزل بھی قرار پائی۔ زندگی میں پہلی بار اپنا کلام اور نام کسی رسالے میں چھپا ہوا دیکھ کر مولانا آزاد کو جو خوشی محسوس ہوئی اس کے متعلق وہ خود چھتیس (36) برس بعد مولانا غلام رسول مہر کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ وہ خوشی میں آج بھی اسی طرح محسوس کر رہا ہوں۔

    مولانا آزاد علمی اور تحقیقی، قلم آرائی اور سخن وری ہر ایک میدان میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے، جس طرح وہ نثر نگاری میں ممتاز تھے اسی طرح وہ شعر گوئی اور سخن سرائی میں بھی ممتاز تھے۔ آپکی یہ رباعی تو قارئین سے بارہا داد وصول کرچکی ہے ؎

    تھا جوش و خروش اتفاقی ساقی
    اب زندہ دلی کہاں ہے باقی ساقی
    مے خانے نے رنگ روپ بدلا ایسا
    میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی

    عام طور شعراء حمد یا نعت بہت کم ہی کہتے ہیں، زیادہ تر انکی شاعری محبت، وصال، فراق، احساسات، ارمانوں اور تمناؤں سے عنوان ہوتی ہے، اور اسی طرح وہ حمد یا نعت کو اپنے شاعری کے لیے بطور تمہید کہتے ہیں، خصوصا جب اپنا شعری مجموعہ شائع کرتے ہیں۔ لیکن مولانا آزادؒ اس حوالے سے بھی ممتاز حیثیت کے حامل ہیں، جو شعراء دنیا جہاں کے باتیں اپنی شاعری میں سمو دیتے ہیں، لیکن نعت گوئی کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ ہو تو ایسے شاعروں پر آزاد جی طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ؎

    شمہ ثنائے شاہ رسلﷺ کا نہ لکھ سکے
    بیکار شاعروں کی سخن گستری ہوئی

    مولانا آزاد اپنی نعتیہ شاعری کو اپنے لیے ذخیرۂ آخرت، وجہ شہرت اور قیامت میں آرزوئے شفاعت مانتے ہیں۔ آزاد جیؒ کے نزدیک جب وہ کائنات کی عظیم ہستی اور افصح العرب کا ثنا خواں ہے تو اس کی سخن وری اور قلم آرائی میں فصاحت و بلاغت کیونکر نہ ہو؟ فرماتے ہیں: ؎

    میں افصح العرب کا ثنا خواں ہوں دوستو
    کیونکر نہ ہو سخن میں فصاحت بھری ہوئی

    یوں تو مولانا آزاد ؒ نے نثر نگاری سے پہلے شعر گوئی شروع کی تھی، اور اس دور میں مشاعروں کے علاوہ اس دور کے ”مخزن“ جیسے مؤقر رسائل میں آپ کا کلام شائع ہوتا تھا۔ لیکن بعد میں آپ نے شاعری کو یکسر چھوڑ کر خود کو نثر نگاری کے دائرے میں داخل کردیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک سخن وری میں مولانا آزاد کے شعوری عمل کا دخل تھا۔ مولانا آزادؒ نے انتہائی کم سنی میں 1898 کے قریب شاعری کا آغاز کیا تھا، جبکہ ابھی انکی عمر کے بچے کھیل کھود سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔ سن 1902 کا دور آپ کی شاعری کا دورِ عروج ہے۔ اس کے بعد مولانا آزادؒ تراجم، مضمون نویسی اور علمی و ادبی تالیفات کو شعر گوئی پر ترجیح دیتے تھے، یعنی اب مولانا کا رجحان شعر نگاری کے بجائے نثر نگاری کے جانب ہوگیا۔ اور بالآخر انھوں نے 1904 میں شعر گوئی ترک کردی، اور اس کا محرک یہ تھا کہ مولانا آزاد شاعری سے بڑے علمی و مذہبی کاموں کے لیے وقت نکال سکے۔ اور ایک طرح انکی ترک شعرگوئی اچھی ثابت ہوئی، کیونکہ اگر آپ شعرگوئی میں منہمک رہتے تو آج ہم ان کی اس نثر سے محروم ہوجاتے جس نثر سے فصاحت و بلاغت کے چشمے نکلتے ہیں، جس میں علم و تحقیق، ادب و دانش کا دریا جاری ہے۔

    مولانا آزادؒ کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے کلام میں تخیل آفرینی، صفائی زبان، معاملہ بندی، زور بیان، قادر الکلامی، فصاحت و بلاغت، خلوص، صداقت، علمیت اور روانی جیسے خصوصیات پائے جاتے ہیں۔ محبان آزاد کے نام ایک رباعی پیش خدمت ہے: ؎

    آفتِ جاں ہے قصّۂ جوانی میرا
    ظاہر ہے حالِ نوحہ خوانی میرا
    اک جان بچاؤں میں کس طرح آزادؔ
    دل کا دشمن ہے یارِ جانی میرا

    مولانا آزادؒ کی شعر گوئی صرف اردو زبان تک محدود نہیں، آپ نے فارسی زبان میں بھی خوب سخن آرائی کی ہے۔ ایک رباعی قارئین کے ذوق کے لیے پیش خدمت ہے: ؎

    ساقی تو نگاہ کن بریں ابر و بہار
    یک ساغرے دیدہ و بیں لطف خمار
    وقتیست کہ ماہ روئے با ناز و ادا
    یک زیر نظر باشد و یک زیر کنار

    مولانا آزادؒ کی نثرنگاری انتہائی مشکل ہے، جو بہت سعی طلب ہے، جس میں علم و دانش، شعور و ادراک کے علاوہ الفاظ کا ایک خزانہ موجود ہے، تاہم انھوں نے شعر گوئی میں سہل اندازی اور سلاست سے کام لیا ہے اور بہت ہی آسان لفظوں میں اپنے مطلب کو بیان کیا ہے جس سے روانی ابھر کر ظاہر ہورہی ہے جس کے بدولت انکے کلام میں رنگینی اور دلکشی پیدا ہوتی ہے اور قاری پر وجد طاری ہوجاتا ہے۔ مولانا آزادؒ کے شاعری سے اس وجہ سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صرف پندرہ برس سے کم عمر ایک بچے کا کلام ہے، کیونکہ مولانا آزاد کا کلام کسی بھی طور اردو کے متوسط درجے کے شعراء کے کلام سے کم نہیں ہے۔ جس سخن ور کے کلام کو دیکھ کر غزل خواہوں کے امام حسرت موہانی بھی اپنے نظم کو ” بے مزہ“ کہنے لگے تو اس بچے کے کلام کو ناپختہ کہنا سراسر ناانصافی اور دیوالیہ پن ہے۔ مولانا آزاد کے شاعری اس دور کی مقبول عام شاعری تھی اور ”مخزن“ جیسے معیاری ادبی پرچے میں تواتر کے ساتھ ان کے کلام کا شائع ہونا ان کی عظمت کا بین ثبوت ہے۔ اور پھر امیرمینائی، شوق اور شوخی جیسے بڑے اور بلندپایہ شعراء بھی آپ کی شاعری کو قابل اعتناء نہیں سمجھتے تھے، اور ان کے کلام کی اصلاح کرتے تھے اور مولانا آزاد نے ان سے خود بھی اصلاح لی تھی اور بارہا امتحان لینے کے باوجود یہ تینوں مولانا آزاد کی سخن وری سے استعجاب میں تھے۔ اگر چہ ان دنوں داؔغ کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا لیکن مولانا آزاد کے نزدیک استادی کے لیے معیار شہرت اور ہردلعزیزی نہیں تھا، اس معیار پر داؔغ تو پورے نہ اترے لیکن یہ فضیلت کی دستار اور جبۂ معلمی شوؔق کے قامت زیبا پر موزوں ہوا۔
    مولانا آزاد کی سخن وری علم و ادب کے شہ پاروں سے بھری ہوئی ہے جو علم و ادب کے شائقین، اور تشنگان سخن آرائی کے لیے دعوت عام دے رہی ہے۔ جن لوگوں کو سخن وری کا شوق ہے تو ان کو مولانا آزاد کی علم و ادب سے بھر پور سخن سرائی کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے، اور کیونکر چاہیے کہ آزاد جی خود صلائے عام دے رہے ہیں: ؎

    اے گلشن سخن کے ہوا خواہ شائقو
    آؤ آؤ بہارِ بے خزان کے مزے لوٹو

  • سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ دے دیا۔ سیاسی اشرافیہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اس کی بنیادی وجہ ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ اصلاحات سے چند منتخب افراد کے مفادات کو پورا کرنے سے گریز کیا جاتا ہے. اسکے ساتھ ہی جن لوگوں کی مقبولیت کا گراف بلند ہے ان کے احتساب کی حقیقت بھی سامنے ہے، ایسے میں سعودی عرب کی جانب سے سے پاکستان کو بلاسود قرضے فراہم کرنے سے انکار کرنا حیران کن نہیں ہونا چاہئے،

    سعودی وزیر خزانہ نے جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کہا، "ہم بغیر کسی تار کے براہ راست گرانٹ اور ڈپازٹس دیتے تھے اور ہم اسے تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ کہا جا سکے کہ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی سیاست دانوں کو لگتا ہے کہ اس تبدیلی نے پاکستان کو نکال دیا ہے، تو انہیں اب بہتر معلوم ہونا چاہیے

    ایسے میں پاکستان کی حکمت عملی ایسی ہے کہ جیسے وہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا انکی مقروض ہے، ایک سوچ یہ بھی تھی کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، دنیا پاکستان کو گرنے نہیں دے گی، جو کہ غلط تھی

    سعودی عرب ان دنوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت تھی، سعودی ریڈار پر ہم ایک درجہ کم ہو گئے ہیں ، ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی گیم چینجر ہے، سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری بھی شروع کرے گا،علاوہ ازیں ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا آغاز 2020 میں ہوا تھا ۔ ترکی سمجھ گیا تھا کہ اسے سعودی عرب کے ساتھ ایک بہتراور مضبوط تعلقات بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے تجارت بڑھانے، سعودی عرب سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے اور ان سے براہ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے پر توجہ دی

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب خود کئی مواقع اور مقامات پر واشنگٹن سے مدد مانگ رہا ہے، اس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بھی شامل ہے جو امریکہ کے کچھ احسانات سے مشروط ہے

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    ورلڈ بینک 2020 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نظام شمسی سے توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ ملک کے صرف 0.071 فیصد رقبے کو شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان کی بجلی کی موجودہ طلب پوری ہو جائے گی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہئے اسکی بجائے جو وہ کر رہا ہے،

    بدقسمتی سے، بدعنوانی، ذاتی مفادات کا تحفظ، مقدس گائے سمیت پورے بورڈ میں قانون کے نفاذ میں ناکامی نے پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لیے ناخوشگوار بنا دیا ہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بین الاقوامی میدان میں کوئی دوست نہیں البتہ اتحادی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوست اور دشمن دونوں بدل جاتے ہیں۔

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

  • اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی
    نجی ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا پر عدلیہ ، پاک فوج کے سابق جرنیلوں اور موجودہ جرنیلوں کے بارے میں جو زہر اگلا جا رہا ہے اسے کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملکی بقا ،ملکی وقار اور ان اداروں کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم سمیت پی ٹی آئی ملکی سلامتی کے پیش نظر ہوش کے ناخن لے، دنیا کے کسی بھی ملک میں فوج اور اعلیٰ عدلیہ بڑے اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ سلیکٹڈ کے الزام سے لے کر امپورٹڈ کے الزام تک کا ملبہ ان نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے اداروں پر ڈالا۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے ججوں کو عالمی دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے۔ خدا نہ کرے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے خلاف ایک بھیانک سازش ہو رہی ہے اور اس سازش کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عوام اور اداروں کا ٹکرائو اداروں کو متنازعہ بنائو اور وطن عزیز کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ زندہ تو رہیں مگر بھارت سمیت دیگر پاکستان مخالف قوتوں کو آنکھیں نہ دکھا سکیں۔

    یہ ملک نہ تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی جاگیر ہے اور نہ پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن کا ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے یہ چند خاندانوں، چند لینڈ مافیا، چند شوگر مافیا ، چند آٹا ملز مالکان کا نہیں۔ کسی زمانے میں قوم بڑی منظم ہوا کرتی تھی آج اس قوم کو غیر منظم کرنے کا کردار کس نے کیا؟ ملک کے تازہ ترین حالات کا عوام جائزہ لے اپنے مسائل کا اور ملکی معیشت کا جائزہ لے اور پھر عوام اپنے ان نام نہاد رہبروں کا جائزہ لے ۔سب اس وقت مشکوک نظر آتے ہیں ملکی دانشور قومی فریضہ ادا کریں قوم کے بنیادی مسائل اور اس ملک کے وقار اور عزت میں اضافے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ناقابل برداشت مہنگائی، دہشت ناک بدامنی، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت سے ڈریں جب عوام انہیں اپنا رہبر ماننے سے ہی انکار کر دیں گے ایک بے ہنگم شور اور ہنگامہ ملک بھر میں برپا ہے کیا ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوری مزاج سیاستدانوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ جن کی قومی ادارے عزت کرتے تھے اور وہ ان اداروں کی بقا کی جنگ لڑتے تھے۔ یاد رکھئے اداروں کو بقا حاصل ہے اور شخصیات کو فنا حاصل ہے۔

  • سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قرضوں اور معاشی بدحالی میں گرے وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ فکر انگیزہے ، حکمرانوں سمیت اپوزیشن اورپنجاب کی نگران حکومت نے تو حد کراس کرلی ہے ۔ عالمی دنیا وطن عزیز میں جاری ہوس اقتدار اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ وطن عزیز کی سڑکیں اشرافیہ کی آپس کی جنگ میں لہولہان ہیں۔ ریاستی ملازمین اور یاست کی عوام ایک دوسرے پرحملہ آور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام حالات کا ذمہ دار کون ہے۔؟ ہمارے سیاستدانوں فیصلہ ساز اداروں کو علم ہے کہ عام آدمی موجودہ ماحول اورمعاشی بحران میں کیسے زندگی بسر کررہا ہے۔ اسے دو وقت کی روٹی ملتی بھی ہے یا نہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کہاں ہے اور کس صوبے اور کس شہر میں ہے ؟ عوام ان حالات میں زندہ رہیں گے اور اگر رہیں گے تو کب تک ؟ ۔ حیرت ہے اس ملک کے کل کے مڈل کلاس کے سیاستدان آج اربوں پتی کیسے بن گئے ؟ غضب خدا کا کھربوں پتی کیسے اور کس طرح ہو گیا ؟ انہی شخصیات کی بدولت آج ریاست اور عام آدمی کنگال ہو چکا ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ معاشرے کا بڑا حصہ رینگتا سسکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور دوسراایک ایسا جو اربوں کھربوں پتی ہے وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر نظر آتا ہے

    کسی زمانے میں سیاست نظریاتی لوگوں میں ہوا کرتی تھی ۔ نظریات کے فروغ کے لئے سیاست کرتے تھے اب سیاست میں تشدد اور انتقام کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایک دوسرے کو دہشت گرد اور غدار کہا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں وہی پرانی ہیں مگر اب ان میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں منہ پھٹ اور سیاسی بدتمیز ہیں۔ سیاسی بدتمیزی کا مظاہرہ پی ٹی آئی ، مسلم لیگ(ن) اوردیگر سیاسی جماعتوں میں روزانہ نظر آتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے مایوس سیاستدان اس سیاست کو خراب کردیں بلکہ خراب کردیا ہے۔ دشمنوں سے گرا ملک آج کے سیاستدانوں سے شدید پریشان ہے۔گزشتہ روز سینٹ میں رضا ربانی کے سوال پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں جواب دیا جو موضوع بحث رہا۔ سیاسی جماعتوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلامی نظریاتی ملک کے اس اثاثے کی حفاظت پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے اس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ہماری پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنا چکے ہیں ۔ بلاشبہ وطن عزیز کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنے والے نظریاتی سیاستدانوں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا

  • آئی ایم ایف کی شرائط میں مسلسل تبدیلی، ڈار کی ناکامی؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کے لئے شرائط کی تبدیلی،اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو ترک کرنے کی بات اسحاق ڈار کی ناکامی ہے،

    سینئر صحافی مبشر بخاری نے کل مجھے فون کیا اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط میں تاخیر کے حوالہ سے بات کی، اس دوران انہوں نے ایک دلچسپ بات کی اور کہا کہ جب سوالیہ پرچہ حل کرنے لگتے ہیں تو نصاب بدل دیا جاتا ہے، ہمیں اس نقطہ نظر پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف جس نے پاکستان کو قرض دینا ہے نے کم از کم چار بار اپنا ارادہ بدلا،شرائط بدلیں، آئی ایم ایف نے قرض کے لئے حتمی معاہدے سے قبل پاکستان سے کئے گئے چار اقدامات کی تشریح بدل دی ہے ،اور نظر ثانی شدہ اقدامات کے حوالہ سے بات کی ،آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے چار شرائط رکھی

    1] پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ جس سے یقینی طور پر پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی،

    2] دوست ممالک سے بیرونی مالیاتی فرق کے لئے تحریری یقین دہانی

    3] بجلی کی قیمتوں میں تین روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے، سرچارج چار ماہ کے بجائے مستقل بنیادوں پر کرنے کا کہا گیا ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے چار ماہ کی مدت کو آئی ایم ایف نے مسترد کیا گیا

    4] آخری افغانستان سے نمٹنے کے لیے شرح مبادلہ کا اخراج

    یہ بات کی جا رہی تھی کہ پالیسی کم آمدنی والے افراد کے لئے بہتر اور دوستانہ ہو گی لیکن ایسا نہیں ہے، جی ایس ٹی میں اضافہ سے یہ واضح ہو گیا ہے،رواں برس 16 مارچ کو پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ہر بارآئی ایم ایف کا جائزہ پروگرام ایک نیا پروگرام بن رہا ہے، یہ بہت غیر معمولی ہے،

    آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار نئی شرائط کی وجہ سے پاکستان جس کی معاشی صورتحال دگردوں ہو چکی ہے، کو قرض فراہمی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کہا کہ کسی کو یہ بتانے کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس کتنے میزائل ہیں یا نہیں۔ اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ لیکن ظاہر ہے کسی نے کیا۔ کون تھا؟

    11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت کی جانب سے زیر زمین پانچ ایٹمی تجربات کیے گئے۔ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو 5 اور 30 مئی کو ایک اور ٹیسٹ کے ساتھ جوابی تجربات کامیابی کے ساتھ کئے۔ بعض حلقوں میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ 1998 میں جب پاکستان نے یہ ٹیسٹ کیے تھے تو اس کے بعد سے ہی پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کچھ کوششیں کی گئی تھیں۔ پاکستان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے بعض طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے کوششیں کر سکتی ہیں ،

    پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے، اس طرح کے تبصرے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    غیر یقینی صورتحال میں پالیسی سازوں کے سامنے خطرات بھی ہوتے ہیں، کیونکہ انکے پاس ماضی کی کوئی مثال نہیں ہوتی اور نہ ہی عدم فیصلہ کی آسائش

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، اسلام آباد پولیس گرفتاری کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ 20 گھنٹے تک آنکھ مچولی کی اور عمران خان کو گرفتار نہیں ہونے دیا، اس دوران تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان نہ صرف جھوٹ بولتے رہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے رہے، اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولے گئے کہ انکو سن سن کو شاید سچ لگنے لگ جائے،

    عمران خان کے پاس کسی قسم کی حفاظتی ضمانت نہیں ہے۔ عمران خان کے گرفتاری وارنٹ 6 مارچ کیلئے جاری کیے گئے، پھر 9 مارچ کیلئے جاری کیے گئے اور پھر 13 مارچ تک کیلئے موخر کیے گئے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب تک کسی عدالت نے عمران خان کے گرفتاری وارنٹ نہ کینسل کیے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا کہنا کہ وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں اس بات کی گواہی ہے کہ وہ قانون کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں۔گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ایک قانونی عمل ہے جس کے خلاف ہٹ دھرمی دکھانا صریحا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔

    عمران خان اس بات پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان پر 80 کیس ہو چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں صرف 30 ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں (27 اسلام آباد میں، 2 پنجاب میں اور 1 بلوچستان میں)۔یہ ایف آئی آریں حکومت نے نہیں بلکہ شہریوں کی درخواستوں پر عمران خان کے جرائم کی وجہ سے درج ہوئی ہیں۔ لہذا اس پر بھی عمران خان کو گمراہی پھیلانا بند کرنی ہوگی۔ پولیس اور رینجرز کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ عمران خان کو آنسو گیس کے آلے اور بندوق میں فرق واضح طور پر سمجھنا چاہیئے۔ عمران خان نے پٹرول بموں، پتھراؤ اور خندقوں کے ذریعے اپنے گھر کو جنگجوؤں کا ایک مورچہ بنا لیا ہے۔ پارٹی کی قیادت بھی مان رہی ہے کہ کارکنوں نے پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ یاسمین راشد کی بھی آڈیو لیک ہوئی جس میں پٹرول بم کے استعمال کا کہا گیا ہے،

    عمران خان کے گھر میں کالعدم تنظیم کے ایک کارندے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان غیر قانونی حرکات میں حدوں کو چھو رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی اس بات کو خود مان رہے ہیں کہ تربیت یافتہ مجاہدین زمان پارک پہنچ چکے ہیں۔ عمران خان نے مشتعل مظاہرین پر فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیلوں کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ سب ان کے گھر پر پھینکے گئے۔ یہ عالمی میڈیا کو بیوقوف بنانے کا صرف ایک حربہ ہے۔ مشتعل مظاہرین نے عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے گرین بیلٹس، بجلی کے انفراسٹرچر اور گاڑیوں کی شدید ترین توڑ پھوڑ کی اور سرکاری اہلکاروں کو بھی زخمی کیا عمران خان خود کو مظلوم دکھانا چاہ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،

    پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔

    صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔

    پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،

    لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔

    نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

    ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟

    https://twitter.com/kiran_Naaz12/status/1635951799822606340

    ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.