Baaghi TV

Category: سیاست

  • کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    ہم بحیثیت قوم بیمار اور جنونی ہو چکے ہیں اور وہ ایسے کہ سیاست دان کیا کہتے ہیں یا کرتے ہیں جبکہ میڈیا ہمیں کیا فیڈ کرتا ہے، اور ہمیں کیا قبول کرنے کی شرط لگائی گئی ہے لہذا ہم اس میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ باقی تمام معاملات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس طرف ہمارا دھیان بھی نہیں.

    میڈیا ہمیں وہی فیڈ کرتا ہے جو ہم چاہتے ہیں، اور جو ہم چاہتے ہیں وہ زیادہ تر گندگی اور گھٹیا ہوتا ہے۔ ہم اسے اپنے روزانہ کے مینو کے طور پر قبول کرتے ہیں جبکہ کوئی ٹھوس خبر نہ ہونے پر بھی میڈیا نان ایشوز کو ایشوز بنا دیتا ہے۔اور ہم اس سب کو ناصرف قبول کرتے بلکہ ہضم بھی کرتے ہیں.

    ہم جیسے تالاب میں مینڈک کی طرح مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اس گندے تالاب میں کودتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور وہاں کی وسیع دنیا کو دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اور بھی بہت ساری دکھ بھری داستانیں ہیں جو ہمیں پکار رہی ہیں.

    جیسے کہ مثال کے طور پر پچھلے سیلاب میں، 10 ملین لوگ تباہ ہوئے اور یہ لوگ اب بھی خوراک، کپڑوں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے بعد پھر سیلاب آیا۔ ابتدائی ردعمل کے بعد ضرورت مندوں تک پہنچنے کے لیے رائے عامہ کتنی متحرک ہوئی ہے؟ ہم اپنے ہی لوگوں کو بھول چکے ہیں تو پھر یہ شکایت کیوں کریں کہ عالمی برادری نے اب تک صرف 50 فیصد امداد کا وعدہ کیا ہے؟

    دوسری جانب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک دن میں دو وقت کا کھانا تک کھانے کی اوقات نہیں رکھتے۔ جبکہ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے جسے اب لوگوں نے اسے اپنے روزانہ یا ہفتہ وار کھانے کے حصے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ وہ پریشان حال ہیں اور نامید ہیں.

    شاہد ستار نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں 75 فیصد پاکستانی موسم اور موسمیاتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں جس کا تخمینہ 29 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بنتا ہے (ورلڈ بینک گروپ 2022)۔ ہم نے مرکزی ذرائع ابلاغ یا کی بورڈ جنگجوؤں کے ذریعے اس پر بحث کیوں نہیں کی؟ لہذا ہمیں ذیلی متن میں شامل مسائل کو حل کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ یہی اصل مسائل ہیں۔ اور ہمیں اپنا وقت فضول میں ضیاع کرنے سے بہتر ہے کہ ان مسائل پر توجہ دیں.

    آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی قوم کو متاثر کرنے والے حقیقی مسائل کو حل کرنا ہوگا لہذا آئیے ہم ایک بیمار اور جنونی قوم نہ بنیں بلکہ ایک ایسی قوم بنیں جو اپنے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے کو تیار ہو۔

  • کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    معروف آئینی اور قانونی ماہر سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں اس وقت غیر آئینی نگرانی حکومتیں ہیں۔ آئین کے مطابق ان کی معیاد پوری ہوچکی ہے۔ قارئین آئین کے مطابق پنجاب اور کے پی کے کی نگران حکومتیں ماہرین کے مطابق غیر آئینی ہیں تو پھر کس حیثیت سے یہ ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں؟ کیا ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ختم ہوچکی ہے؟ کیا آئین معطل ہوچکا ہے؟ حیرت ہے ایک طرف ملک میں جمہوریت کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف پنجاب اور کے پی کے میں غیر ائینی حکو متیں ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں۔ پاکستان بطور ریاست اور اس کی عوام مہنگائی کے شعلوں میں جل رہی ہے۔ معاشی بحران نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چند شخصیات نے اس ریاست کو اپنی ذاتی سلطنت میں تبدیل کردیا ہے

    ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے آئین کو روندا جارہا ہے ووٹ کی بجائے طاقت کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ آئین پر عمل کرنے کی بجائے ڈکٹیٹر ذہنیت کے حامل افراد اس وقت ملک کی باگ ڈور ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں۔ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنمائوں کو ملک اور 23کروڑ عوام کی کوئی پرواہ نہیں قانون اور آئین کی کوئی حکمرانی نہیں خواہشات کی تکمیل کے لئے قانون کی حکمرانی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو دفن کردیا گیا۔ بظاہر مارشل لاء تو نہیں لیکن جمہوریت کے لبادے میں آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا اصل بھیانک روپ عوام کے سامنے آچکا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں‘ مقتدر قوتیں ملک و قوم کو بند گلی سے نکالنے کے لئے فوری مذاکرات کریں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں ذاتی خواہشات کو دفن کریں۔ انتقامی کاروائی سیاست میں تشدد ہٹلر اور چنگیز خان کا مذہب ہے اسے دفن کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ آڈیو اور ویڈیو جیسی گندی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی۔ دنیا ہمارے سیاستدانوں کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ عوام کی کھانے تک رسائی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔ آئین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے آئین پر عمل کریں عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کا احترام کیا جائے۔

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔

  • سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے عین مطابق ہے جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس عید کے بعد بلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق موجودہ سیاسی ہنگامے میں جو کردار ادا کرنے جا رہے ہیں مجھے نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی یاد آ رہی ہے نوابزادہ جمہوریت کے دیوانے تھے وہ جمہوریت کا علاج جمہوری مزاج رکھنے والے سیاست ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے ۔ وہ جمہوریت میں اپوزیشن کے موجود کو لازم سمجھتے تھے نواب زادہ نصراللہ کی قیادت میں کئی تحریکوں کا آغاز ہوا او ر وہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی آج کی سیاسی جماعتوں میں میں دوغلے پن سیاستدانوں کی اکثریت موجودہے مگراسکے ساتھ چور راستوں کا انتخاب کرنا بھی بھی آج کی سیاست کا ایک مشغلہ ہے۔ ان کے نزدیک قانون کی حکمرانی – آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کوئی معنی نہیں رکھتی سیاست کو ذاتی دشمنی کا رنگ دے دیا گیا ۔ مولانا سراج الحق بلا شبہ ایک در توثیق انسان ہے جماعت اسلامی والے درویشی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے آج کی ٹونٹی سیاست واٹس اپ سیاست آڈیو اور ویڈیو جیسے گندے کھیل کی سیاست میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا آگے آکر کر دار ادا کرنا اور کامیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

    کیاسیاسی جماعتیں جماعت اسلامی کی تجویز کو قبول کریں گی اس وقت جو سیاسی ہنگامہ برپاہے شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے میں جماعت اسلامی کا میاب ہو جائے گی ؟ موجودہ دور کے سیا ستدانوں سے اور سیاسی دوغلے پن رکھنے والے سیاستدانوں نے جمہوریت کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس جمہوریت کا پردہ چاک ہو کر عوام کے سامنے آچکا ہے عوام کی اکثریت کو لاتعداد مسائل میں الجھا دیا لگا ہے۔ سیاسی اختلاف رائے کو دشمنی اور انتقام میں بدل دیاگیاہے ، جماعت اسلامی کے امیر عجزو انکساری والے ایک دوریش انسان ہیں امید ہے سیاسی جماعتیں تاریخ سے سبق سیکھیں گی اور جماعت اسلامی کی تجویز پر عمل کرکے ملک وقوم کو مسائل سے نکالنے میں کردار ادا کریں گے گی۔

  • کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    ہمارے ملک کی جمہوری سیاست بھی عجیب کھیل ہے، بالکل کوکلا چھپاکی کی طرح۔ اس میں بھی ہر کھیلنے والا صرف اسی کا حکم مانتا ہے جس کے ہاتھ میں کپڑے کا کوڑا ہو۔ اس کوڑے کے خوف سے سب کھیلنے والے سر جھکا کر دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی کسی کردہ یا ناکردہ خطا کی پاداش میں کمر پر کوڑا پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔

    کہنے کو تو جمہوریت آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق دیتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں عملی طور پر یہ حق صرف پارٹی سربراہ یا اس کے منظور نظر اہل خانہ کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ باقی سب میاں مٹھو کی طرح وہی راگ الاپتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور جس سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کو پارٹی لائن کہتے ہیں۔ ایک سٹیج آرٹسٹ تو سکرپٹ سے ہٹ کر بھی لائن بول سکتا ہے لیکن سیاسی آرٹسٹ کو ایسے مذاق کی اجازت نہیں۔

    کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں وفاق صوبوں کی اور پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کا محتاج ہوتا ہے اور اگر ارکان اپنے سربراہ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں تو سربراہ کو پارٹی کا، یا اگر وہ برسراقتدار ہو تو حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا مذاق ناپسندیدہ شرعی عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی عیب کا علاج بھی چودھویں اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔

    آج سے لگ بھگ پینتالیس سال پہلے جب اخبار میں کام شروع کیا تو "پارٹی لائن” کا نام سنا۔ پہلے سوچا شائد یہ بھی ریلوے لائن کی طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ جب حقیقت میں واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ اس لائن پر چلنے والے بھی ریلوے انجن کی طرح کانٹا بدلنے والے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پارٹی لیڈر جب چاہے کانٹا بدل کر اپنی پارٹی کی لائن بدل سکتا ہے۔ وہ عوامی حکومت کا دور تھا اور ارکان اسمبلی پارٹی چئیرمین کے جنبش ابرو پر لائن اپ ہو جاتے تھے۔ اور تو اور اتنا ڈسپلن تھا کہ پارٹی کے سب کہہ و مہ ایک طرح کی یونیفارم پہنتے جس میں تمیز و تخصیص کے لئے مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ربن لگائے جاتے۔

    میرے بزرگوں کے جاننے والے ایک صاحب رکن اسمبلی تھے اور پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمائش کی کہ گاہے گاہے ان کے نام سے مروجہ پارٹی لائن کے مطابق بیان شائع کردیا کروں کیونکہ ان کے محکمے کا پی آر او اپنی ساری توجہ وزیر صاحب پر مرکوز رکھتا تھا۔ اس سے پہلے پارٹی لائن کا لفظ میرے لئے اجنبی تھا۔ میں نے اپنے سینیئر رفقائے کار سے پوچھا تو انہوں نے نہ صرف برسراقتدار جماعت کی مروجہ پارٹی لائن کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کیا بلکہ ملکی سیاست کے دیگر دلچسپ مگر ہوش ربا اسرار و رموز بھی گوش گزار کئے۔

    عوامی حکومت کے عہد میں ہر وزیر مشیر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے یا بہانے کی نوید دیا کرتا۔ ان میں ایک مشیر ایسا بھی تھا جسے باخبر حلقوں کے مطابق اس کے حاسدین "مشیر بوسیلہ ہمشیر” کہا کرتے تھے۔ ایک پارٹی لائن "عوامی” تھی جس کے تحت ہر چھوٹا بڑا لیڈر ایک ہی بات چنگھاڑتا سنائی دیتا تھا کہ ملک میں عوامی انقلاب آ گیا ہے، عوامی طوفان آنے والا ہے جو سب شکست خوردہ عناصر کو بہا لے جائے گا۔ پھر جال بچھانے کی باری آئی جس کے مطابق سڑکوں کے جال بچھا دیں گے، سکولوں کے جال بچھا دیں گے۔ ایک صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو اور کچھ نہ ملا تو یہاں تک کہہ گئے کہ ہم ملک میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔ جب عوامی حکومت کا دم واپسیں آیا تو پھر پارٹی لائن اس طرح تھی کہ قائد عوام کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا پے۔ اس وقت پارٹی لائن صرف تقریروں میں نہیں، سرکاری اشتہاروں میں بھی جھلکتی تھی۔

    میں نے خود ایسے اشتہارات بھی ڈرافٹ کئے جو وزیر اعظم کے انتخابی جلسے کے موقع پرخصوصی ضمیمہ کے لئے کاروباری طبقے کی طرف سے دیے گئے۔ بعد میں ہمارا ایک نمائیندہ اشتہاروں کا بل وصول کرنے کامونکی کی آڑھت منڈی میں گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ ان اشتہاروں کی قابل اعتراض لائن جو فرمائشی طور پر لگائی گئی وہ یوں تھی کہ آپ آئے تو بہاریں آئیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارٹی لائن کا واحد مقصد کسی قومی ادارے کی توہین کرنا ہو تو اس کی سزا نچلے درجے کے "لیڈروں” کی بجائے حقیقی لیڈروں کو دی جائے۔ یہ بچارے تو میاں مٹھو، حکم کے غلام اور پارٹی لائن کے تابع ہوتے ہیں.

  • آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    آئین بنانے والے ہی آئین شکن کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    اعتزاز اور کھوسہ نے ثابت کیا کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
    قوم کو انقلاب سے ڈرایا جانے لگا جو پہلے ہی تہذیبی اقدار بھول چکی
    جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے سر اٹھاتی دہشتگردی کچلی گئی

    چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کی آئین و قانون کی حکمرانی کی الیکٹرانک میڈیا پر باتیں حقیقت میں بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا وہ نعرہ جو پیپلز پارٹی لگاتی ہے کہ کل بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے،دونوں کی سیاسی تربیت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے کی ہے،تاہم پی پی سمیت ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے خوبصورت پردے کی اوٹ میں کچھ رہنما آئین شکن ہوں گے،یہ کبھی نہ سوچا اور نہ کبھی ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا،ثابت ہوا جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے،پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جو تجربہ کرنے جا رہی ہیں وہ نقصان دہ ہو گا ،یہ جمہوریت ،پارلیمنٹ اور آئین کے لئے خوفناک تجربہ ثابت ہو گا اور 23 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم ہو گایہ تجربہ قومی مشکلات کی شکل اختیار کر سکتا ہے،تعجب ہے کہ ایک طرف جشن آئین اور دوسری طرف آئین کو ہی دفن ، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی محاذ آرائی،آئین کے ساتھ کھلواڑ سے، قومی معیشت اور جمہوریت کو استحکام نصیب ہو گا؟ میرے اندازے کے مطابق پی ڈی ایم کا شور شرابہ ضرور ہے ، اس سے آگے کچھ نہیں،آئین میں سب کچھ درج ہے کہ وزیراعظم کیسے بنتا ہے اور کیسے جاتا ہے،پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے،الیکشن کیسے ہوتے ہیں اور کب ہوتے ہیں عوام کے روز مرہ کے مسائل حل نہیں ہور ہے ، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، کوئی عالمی قوت ملک کے حالات درست کرنے میں رکاوٹ نہیں ،

    حالات کو درست سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے، درست راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا اسی میں سب کی بھلائی ہے، آج کے حالات کو دیکھ کر جمہوریت شرمندہ ہے، اہل سیاست کی گلیوں میں داخل دوغلے لوگوں نے سیاست جمہوریت اور آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، مہنگائی کے خوف سے ڈری ہوئی عوام کو ہمارے بعض سیاستدان کسی خونی انقلاب کا ذکر کر کے اور ڈرا رہے ہیں۔ یہ خونی انقلاب کون لائے گا ہر سمت پھیلی اخلاقی تباہی کو دیکھ کرکوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا، تاہم اپنے علاقائی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنرل ندیم انجم کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھا تھا رائٹ مین فار رائٹ جاب، لاکھوں لوگوں نے جہاں پسند کیا وہاں میرے نام کے ساتھ غیر اخلاقی القابات بھی لگانے کی کوشش کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم اخلاقی طور ہر تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے لیکن یہاں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنرل ندیم کی بہترین حکمت عملی سے جہاں وطن عزیز کی سرحدوں کو محفوظ بنایا گیا ہے وہاں دہشتگردی کی سر اٹھاتی لہر کو بھی کچل دیا گیا ہے۔

  • کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کاش، پولیس افسران ریاست کے ملازم بنیں حکمرانوں کے نہیں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ،تجزیہ، شہزاد قریشی
    ایک دوسرے سے خوفزدہ حکمرانوں اور اپوزیشن سے سوال ہے کہ پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس نہ تو حکمرانوں کے ذاتی ملازم ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے۔ اسی طرح آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ اس ریاست کے ملازم ہیں ۔قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔ چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا، اغوا کاروں، منشیات فروشوں سے عوام کو محفوظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ کر حکمرانوں کی غلامی زیب نہیں دیتی بااختیار پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے محکمے اپنے عہدوں کا خدارا خیال رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام کی خدمت کریں۔ آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم نظر کیوں نہیں آتے؟ یہی صورت راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح کی اس سے بدتر حالات پنجاب بھر کے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی تمام تر توجہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ، غداری اور دہشت گردی کے مقدمات پر ہوگی تو عام شہریوں، تاجروں، کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟ راولپنڈی اسلام آباد میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا ایسے پولیس افسران تعینات تھے جو قانون کی حکمرانی، کمزور لوگوں کے افسر تھے جن کے دفاتر عام آدمیوں کے لئے کھلے رہتے تھے آج عام آدمی کے لئے دروازے بند اور خاص آدمیوں کے لئے دروازے کھلے ہیں آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ ان کے پاس جو وردی اور اختیارات ہیں وہ کسی خاص آدمی کی عطا کردہ ہے یا اس ریاست کی؟ خدا کی پناہ آج اسلام آباد کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی حکومت کو اور نہ ہی آئی جی پولیس کو اس کی پرواہ ہے۔ حکمرانوں کی خواہشوں پر عمل کرنا عوام کو ڈاکوئوں ، اغوا کاروں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کرنا پولیس افسران کو زیب نہیں وردی اور عہدے دونوں کی توہین کے مترادف ہے ہر دور کے حکمرانوں کو افسر شاہی کی ضرورت ہوتی رہی ہے انہیں ایسے افسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حکم کے تابع ہو اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کرے۔

    حکمرانوں کے پاس ان افسران کی پوسٹنگ کے اختیارات ہیں۔ کاش پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے ماتحت اہلکاروں اور اپنے محکمہ کے بہتر مستقبل اس محکمہ پولیس کی عزت میں اضافے کا سبب بنتے آنے والے افسران اور ماتحت ان کو یاد کرتے۔ آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

  • مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔

    پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،

  • بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔

    بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔

  • آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کے موجودہ اور مستقبل کے ظل سبحانیاں آٹے کی لائنوں میں لگی یہ قوم کی دست بستہ درخواست کرتی ہے کہ جو ناکردہ گناہ اس قوم نہ کر لئے ان پر اس قوم کو معاف کردیں۔ٹوپی ڈرامے ختم کرکے تباہ حال اور مجبور قوم کا مزید امتحان نہ لیں۔ ان سے روز گارتم نے چھینا ،رو مرہ کی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کردیا ۔ بجلی گیس تم نے چھین لی۔ لے دے کے ان کے پاس جان تھی اب وہ لے رہے ہو۔ شاہی دستر خوانوں کو لپیٹ کر خوشنما نعرے دینے کی بجائے ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ملک کے وقاراس کی عزت ملکی اداروں کی عزت کو بھی اب اُچھال رہے ہو ۔ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر چڑھ دوڑے ہو ۔ پاکستان اور اس کی عوام سے آپ سب کس دشمنی کا بدلہ چکا رہے ہو۔

    پاکستان آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کو مزید کس مقام پر لے جا کر چھوڑنا چاہتے ہو؟ آئین اور جمہوریت کے ساتھ مذاق کرنے کی بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ باری کے چکر میں ملک کو تباہی میں نہ جھونکا جائے۔ جمہوری اداروں کو بچانے ملک کی بقا اور سالمیت کی فکر کرنے، عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ملک کی ترقی ،بقا اور استحکام و سالمیت کے لئے اس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی افسوس آج کی پیپلزپارٹی کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی باتیں سینہ تان کر جا رہی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی آئین شکن کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد کو بھی دفن کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی آج کی سیاست لمحہ فکریہ ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ موجودہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے۔ عدلیہ کی اصل مدد میڈیا اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتیں پہلے فوج پر حملہ آور ہوئیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کا مطلب کیا تھا؟ دونوں طرف سے فوج پر حملہ ، اور اب عدلیہ پر حملہ ہو رہاہے یاد رکھیے اس ملک کی بقا و سلامتی کے لئے آئین اور انصاف کے مسئلے پر عوام ، میڈیا اور فوج عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی سیاسی قوت کی پروا نہیں کی جائے گی۔