Baaghi TV

Category: سیاست

  • معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    قوم کے بنیادی مسائل سیاستدانوں کے بے معنی شور شرابے تلے دب کر رہ گئے ہیں معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام نے ملک اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ملکی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت کی طرف سے پاک فوج اور عدلیہ بارے پروپیگنڈے نے تو دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسری طرف ایک سیاسی جماعت کے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان اور کارکن عہدیداروں سمیت زنجیریں پہن کر گرفتاریاں دے رہے ہیں یعنی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے عجب بے معنی شور ہے نہ جانے ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لیکر حساب کتاب اتنا کمزور کیوں ہے سیاست کی دنیا میں دھند دن بدن بڑھتی جا رہے آئین کی کتاب میں سب درج ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے اگر یہ آئینی سوال کہ الیکشن کب ہوں کس طرح ہونگے الیکشن کی تاریخ کون دیتا ہے ، دو چار کی طرح بالکل آسان ہے حیرت ہے ہمارے سیاستدانوں سے یہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے

    اس وقت ملک کی سیاست آئین اور الیکشن ، محسوس ہوتا ہے کہ 75سالوں اور1973ء میں آئین بنایا گیا مگر 1973سے لیکر تا دم تحریر ملک میں خالص جمہوریت نہیں رہی اگر خالص جمہوریت قائم رہتی تو آج جمہور کے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہوتے آمریت نے اس آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا اور آج کی جدید واٹس اپ گروپس اور ٹویٹ جمہوریت بھی آئین سے کھلواڑ ہی کر رہی ہے حیرت ہے ایک طرف جمہوریت کا نعرہ، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ ،قانون کی حکمرانی کا نعرہ اور دوسری طرف آئین کے ساتھ کھلواڑ سیاسی جماعتوں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟عدالتوں کا احترام کریں ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں ملکی سلامتی کے اداروں بشمول عدلیہ کے بارے میں زہریلا پروپیگنڈہ نہ کریں کسی بھی ملک کے یہ ادارے انتہائی اہم ہوتے اور ان کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور مسائل کی گتھی کو سلجھایا جائے جمہوریت کی خاطر اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں ورنہ شاید پھر کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔!

  • پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    برطانوی حکومت نے بھٹو خاندان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ کیوں عطاء کیا۔
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کو درپیش موجودہ سیاسی ، اقتصادی اور مالیاتی حالات بلکہ مشکلات کا معروضی تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان کا حقیقی سبب جاگیرداری کا وہ نظام ہے جس نے پاک سرزمین اور اس کے عوام کو کسی عفریت کی طرح اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس موضوع اور عنوان بارے جائزہ اور محاکمہ کا موقع میسر آیا تو حقیقی معنوں میں چشم کشا حقائق کا علم ہوا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھٹو خاندان جو بلاشبہ وطن عزیز کا سب سے با اثر، مقبول اور قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ، اس کے بزرگوں نے برطانوی راج کے دوران غیر ملکی اور غاصب آقاؤں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب 1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں پر اپنا یہ قبضہ برقرار اور مضبوط رکھنے کے لیے علاقہ میں ٹیکس کی وصولی اور غریب عوام کے استحصال کے لیے ایک خاص طبقہ تشکیل دیا جس کے ذمہ ان غریب عوام سے لگان اور ٹیکس کی وصولی تھا۔اس طبقہ میں بھٹو خاندان بھی شامل ہوا۔ شاہنواز بھٹو لاڑکانہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان تھے جو حکومت بمبئی کے مشیر اور مسلم ریاست جونا گڑھ کے دیوان بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزوں کی بمبئی پریذیڈنسی کے وزیر بھی تھے۔ شاہنواز بھٹو کی تعاون کی مذکورہ پالیسی کے نتیجہ میں ان کو برطانوی حکومت نے سر(Sir) اورسی آئی ای (CIE) کے خطابات دیئے۔ برطانوی حکومت نے ان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ بھی الاٹ کیا جس کے نتیجہ میں وہ سندھ بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار بن گئے۔ آج بھی یہ خاندان سکھر اور جیکب آباد کے علاقہ میں وسیع اراضی کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔

    یہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ماضی کی طرح آج بھی وطن عزیز کے ایک مقبول اور عوامی سیاستدان تسلیم کیے جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو ، صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی سیاسی خدمات تاریخی اعتبار سے نہایت معتبر ہیں لیکن اس افسوسناک حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو خاندان نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود موروثی سیاست کو ہی فروغ اور استحکام دیا۔ اس حوالہ سے یہ مثال ہی کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدہ پر براجمان ہوئے اور اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کا وہ قلمدان سنبھال رکھا ہے جو کم و بیش 6عشرہ قبل موصوف کے نانا ، ذوالفقار علی بھٹو کے پاس رہا۔ برطانوی راج میں جاگیریں اور انعامات و اعزازات حاصل کرنے والے خاندان آج بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی گردن پر سوار مشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے جنوبی پنجاب کے قریشی خاندان کے احوال آئندہ قسط میں بیان کیے جائیں گے۔

  • اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    عوام کی اکثریت کو مہنگائی، غربت، بیروزگاری کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا سامنا رہا اور موجود ہے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام، سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں تھا اور موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن میں کردار ادا کیا وہ ضیا الحق کا دور حکومت ہو یا پرویز مشرف کا دور حکومت جس کے اثرات آج تک پاکستان بطور ریاست اور قوم بھگت رہے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں، سول سوسائٹی، پولیس نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانیاں دیں۔ جس کا عالمی دنیا اور امریکہ اعتراف کرتا ہے۔ آج ملک میں معاشی عدم استحکام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ضرب عضب اور رد الفساد کے ذریعے ملک سے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا آج ایک بار پھر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ معاشی عدم استحکام سیاسی عدم استحکام محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور پھر میاں محمد نوازشریف کادور حکومت کا خاتمہ ہوا ہے ملک میں عدم استحکام ہی رہا ہے۔ نوازشریف کو پانامہ کیس میں سزا کے بجائے اقامہ پر سزا دی گئی وہ اپنے بیٹوں اور بیٹی کو ساتھ لے کر جے آئی ٹی سے لے کر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔

    نوازشریف کے بعد عمران خان کے دور حکومت کا آغاز ہوا انہوں نے بھی اس ملک کو معاشی مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کا خمیازہ تادم تحریر پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہی ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں میں پرلطف زندگی گزارنے والے سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ دینے کی عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا سہارا لیا اور وقتی راحت پر توجہ دی جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے قرض در قرض لے کر ترقی کرنا ممکن ہی ہیں اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے۔ آج سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور نے مشکلات میں گھرے عوام کے کان مائوف کر دیئے ہیں۔ کہیں آئینی بحران کی صدائیں کہیں قانون کی حکمرانی کی صدائیں۔ کہیں الیکشن کی صدائیں ۔ سیاست ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے پورے ملک اور اس کی عوام کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان حالات میں اور یہاں تک پاکستان کو پہنچانے میں کس کا اور کن کرداروں کا ہاتھ ہے فیصلہ عوام خود کریں۔

  • نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چند روز قبل سوشل میڈیا میں کوہلو بلوچستان کی ایک خاتون گراں بی بی مری کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ قرآن مجید ہاتھوں میں اٹھائے بلوچی زبان میں فریاد کر رپی تھی کہ میں اور میرے بچے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان خان کھیتران کی نجی جیل میں قید ہیں یہاں مجھ سمیت میری بیٹیوں سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور تشدد بھی کیا جاتا ہے ہمیں اس سردار کے مظالم اور قید سے نجات دلائی جائے لیکن افسوس صد افسوس کہ اس مظلوم خاتون کی فریاد پر متعلقہ اداروں نے کوئی توجہ نہیں دی اور آج ان کی اور ان کے دو بیٹوں کی ایک کنویں سے تشددزدہ نعشیں برآمد ہوئی ہیں ۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد شہید گراں بی بی کے خاوند جوکہ سردار عبدالرحمن کے خوف سے روپوش ہے اس کی ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سردار کی مبینہ نجی جیل میں قید میرے خاندان کے دیگر افراد کو بھی قتل کیا جائے گا جبکہ سردار عبدالرحمن نے اس واقعے کے حوالے سے خود پہ لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

  • مریم نواز کا پرجوش سیاسی بیانیہ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مریم نواز کا پرجوش سیاسی بیانیہ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ :شہزاد قریشی
    قومی سیاسی احوال کا اجمالی جائزہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز اپنے پرجوش سیاسی بیانیے کے اظہار اور تشریح کے باب میں انتہائی متحرک ہوچکی ہیں۔ راولپنڈی کے جلسہ میں اور ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران اپنے مذکورہ سیاسی بیانئے کے کئی اہم پہلو نہایت حقیقت پسندی اور اعتماد کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کئے۔ ان میں سب سے فکر انگیز اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مریم نے نظام عدل سے یہ تقاضا یا مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اور مختلف مراحل پر نواز شریف کے خلاف جو فیصلے ہوئے وہ انصاف پر مبنی نہیں تھے۔ مریم نواز نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ اہم اور فکر طلب ہیں۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی کیا جاتا رہا یعنی یہ اصرار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سیاسی مدبر بھٹو کو عدالت کی طرف دی گئی سزائے موت ایک عدالتی قتل تھا۔ کچھ ایسا ہی موقف (ن) لیگ کی طرف سے کیا جارہا ہے لیکن ایسے میں یہ بنیادی حقیقت کسی حد تک نظر انداز کی جارہی ہے کہ بھٹو کو دی گئی سزائے موت کا سبب ان کی سیاسی سوچ یا کردار نہیں تھا بلکہ ان پر انسانی قتل کے جرم میں ملوث ہونے کے باعث مذکورہ سزا سنائی گئی تاہم بعد میں اسے عدالتی قتل قرار دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں نواز شریف کا جرم قانونی یا اخلاقی نہیں تھا بلکہ اگر ایسا تھا تو اس کی نوعیت اور پس منظر سیاسی تھا اور ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ نواز شریف 2019 میں جب وطن عزیز سے علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے تو انہوں نے اس سفر کی قانونی اجازت حاصل کی تھی اس باب میں انہوں نے عدلیہ سمیت کسی ریاستی ادارے کے احکامات اور ہدایات کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ مذکورہ اجازت کا اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو بخوبی علم تھا۔ مریم نواز کے سیاسی بیانیے کو اپنی معنویت اور اہمیت کے اعتبار سے بجا طور پر جرات مندانہ بیانیہ قرار دیا جارہا ہے۔ سیاسی پنڈت یہ محسوس کررہے ہیں آنے والے دنوں میں یہ بیانیہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ کہنے اور سمجھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس بیانیہ سے نواز شریف کی وطن واپسی کا راستہ ہموار ہونے اور کرنے میں بھی معاونت میسر آئے گی۔

  • امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ہو گئی سابق صدر ٹرمپ نے دوبارہ صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا ہے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر بائیڈن امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ امریکی قیادت کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے ۔ بائیڈن حکومت پر چین کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کی بھی عالمی سطح پر بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاع کے مطابق ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کمر کس لی ہے ۔ بھارت میں نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہل گاندھی نے 75ضلعوں 14 ریاستوں کا سفر 136 دنوں میں ذرائع ابلاغ کے مطابق 3570 کلومیٹر پیدل سفر کیا ہے ۔ اس کا مقصد نفرت چھوڑو بھارت جوڑو تھا ۔ مودی دور حکومت میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پرظلم کی حدیں کراس کی گئیں ۔ راہل گاندھی اپنے اس سفر میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے کہ وہ اور ان کی جماعت محبت کا پیغام لے کر چلے ہیں۔ا یک دوسرے سے نفرت چھوڑو بھارت جوڑو ۔ مودی نے بھارت کو جتنا نقصان دینا تھا دے لیا۔

    ملک میں بھی سیاسی ماحول فکر انگیز ہے ۔ پی ڈی ایم اگر الیکشن سے راہ فرار اختیار کرتی ہے تو وہ آئین سے غداری کے مترادف ہوگا۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بالخصوص وزیراعطم شہباز کی جماعت آئین توڑنے پر سابق صدر پرویز مشرف پر مقدمہ درج کروا چکی ہے جبکہ ایک مرحوم جج اس مقدمے پر ان کو سزائے موت کا حکم بھی دیا تھا۔

    عمران خان نے بھی جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیا ہے اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کو للکارا ہے کہ وہ روز بروز کی ایف آئی آروں سے تنگ ہیں بہتر ہے تحریک انصاف خود ہی جیلوں میں جائے ۔ اس طرح سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بائیڈن ۔ راہل گاندھی نے مودی سرکار۔ اور عمران خان نے پی ڈی ایم کو للکارا ہے ۔ا سلام آباد پولیس نے 73 سالہ شخص شیخ رشید کو جس طرح زور دار دھکے دئیے وہ قابل مذمت ہی قابل نفرت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ شیخ رشید راولپنڈی کے اب ایک بزرگ سیاستدان ہیں اور بیمار ہیں اس طرح کے رویے کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

  • گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر

    گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر

    گرفتاریوں اور مقدموں کی نئی لہر
    تحریک انصاف کے اراکین کی گرفتاریاں جاری ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد نگران حکومتیں قائم ہوئیں تو نگران حکومت نے آتے ہی فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کیا اور انہیں لاہور سے گرفتار کر لیا ، فواد چودھری کو لاہور سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں عدالت نے انکی اس شرط پرضمانت دی کہ وہ اب مزید کوئی اداروں کے خلاف بیان نہیں دیں گے،

    تحریک انصاف کی جب سے وفاقی حکومت ختم ہوئی، انہوں نے اداروں کو نشانے پر رکھ لیا، عمران خان سے لے کر تحریک انصاف کے ایک کارکن تک ، سب نے ریڈ لائن کراس کر لی ہیں، جس کا جو بھی جی چاہتا ہے بول دیتا ہے خواہ وہ اداروں کے خلاف ہو، کچھ بھی ہو ، سوشل میڈیا پر بھی طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے، ایسے میں اگر ادارے حرکت میں آتے ہیں کسی پر مقدمہ درج ہوتا ہے یا قانون اپنا راستہ بناتا ہے تو اسے انتقامی کاروائی قرار دے دیا جاتا ہے ، اعظم سواتی، شہباز گل پہلے گرفتار ہو چکے، ضمانت پر رہا ہیں ، اب تحریک انصاف کے رہنماؤں شاندانہ گلزار، شبیر گجر پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، شیخ رشید جو تحریک انصاف کے اتحادی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ہیں پر تین مقدمے درج ہو چکے ہیں عمران خان کے خلاف اندراج مقدمہ کی دوبارہ درخؤاست دی جا چکی ہے، پرویز الہیٰ کے خلاف بھی اندراج مقدمہ کی درخؤاست دی جا چکی ہے ، عمران خان زمان پارک میں ہیں اور وہ بنی گالہ جانے کا سوچ رہے ہیں تا ہم ہر روز رات کو شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آج رات عمران خان کو گرفتار کئے جانے کا امکان ہے اور پھر کارکنان کو بلا لیا جاتا ہے تا کہ کسی طریقے سے عمران خان کی گرفتاری نہ ہو

    نگران حکومت کے قیام کے بعد تحریک انصاف ایک بار پھر دفاعی پوزیشن میں جا چکی ہے، شہباز گل، اعظم سواتی، فواد چودھری سمیت کئی رہنما ضمانتوں پر ہیں، اور اب حالات یہی بتا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مزید مقدمے ہوں گے اور گرفتاریاں بھی ہوں گی،

    ہ پشاور کا سانحہ دہشت گردوں کی مزاحمت کا تقاضا کر رہا ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے،

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

    نیشنل ایکشن پلین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے،

  • آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وارثان پاکستان وارثان سیاست و جمہوریت اور وارثان عام آدمی کے دعویداروں سے سوال ہے کہ آئین پاکستان کہاں ہے؟ قانون اور پارلیمنٹ ہائوس کی بالادستی کہاں ہے؟ سٹیٹ کے اداروں کو اپنے تابع سمجھنے والے سیاستدانوں سے سوال ہے کیا یہ ملک کسی فرد واحد کی جاگیر ہے؟ یا 22 کروڑ عوام کا ہے اگر22 کروڑ عوام کا ہے تو یہ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں ہیں؟ ان کے پڑھے لکھے بچے اور بچیاں بے روزگار کیوں ہیں؟ آٹا حاصل کرنے لائنوں میں لگ کر یہ کیوں مررہے ہیں؟ ان کو پینے کے لئے صاف پانی میسر کیوں نہیں؟ بیماروں کے لئے جدید سہولتوں والے ہسپتال کیوں نہیں ہیں؟ اے وارثان جمہوریت 75سال بیت گئے نہ تم سیاست کے اصول مرتب کرسکے نہ جمہور کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرسکے نہ جمہوریت کو مستحکم کرسکے نہ معیشت کو مستحکم کرسکے اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکے۔ تاہم لینڈ مافیا‘ چینی مافیا‘ آٹا مافیا‘ جاگیرداری نظام‘ سرمایہ داری نظام کی پشت پناہی کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔

    موروثی سیاست پر بحث کرنے والے سیاستدان امریکہ سے لیکر بھارت‘ بنگلہ دیش کی سیاست کا مطالعہ کریں اور غور کریں۔ یہ وقت موروثی سیاست پر بحث کا نہیں ریاست کو مستحکم کرنے‘ جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اس وقت ملک میں آئینی بحران پیدا کیا جارہا ہے یا کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جارسکتا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے آبائو اجداد آئین پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا آج ان کی اولادیں آئین سے کیوں راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہیں اگر پیپلز پارٹی بھٹو کے مشن کا نعرہ بلند کرتی ہے تو پھر موجودہ حالات جس میں انتخابات سے فرار بھٹو کے مشن سے فرار کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد مرحوم کا بھی بڑا کردار رہا پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کیا پی ڈی ایم اور کیا اپوزیشن تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے یہ محض فریب کاری اور شعبدہ بازی ہے۔ فوج نہ تو جذبہ جہاد سے عاری ہوسکتی ہے اور نہ مذہب اس کے دل و دماغ سے کھرچا جاسکتا ہے۔ پاکستان‘ عوام‘ اسلام اور عشق رسول پاک فوج کا قیمی اثاثہ ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں‘ وی لاگرز‘ سوشل میڈیا والے اس ملک اور پاک فوج پر رحم کریں۔

  • مل کر سوچیں ، غلطیاں کہاں ہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مل کر سوچیں ، غلطیاں کہاں ہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پشاور میں دہشت گردی کا قہر کوئی پہلا واقعہ نہیں تا ہم حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو شاید محسوس نہیں ہوا۔ دہشت گردی کی آگ کس طرح ملک کو تباہ کرتی جا رہی ہے۔ مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے؟ کہاں غلطیاں ہیں؟ کون سی کلی انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے ؟ اور ایسا کون سا گناہ ہے کہ سختیاں اور پریشانیاں، امتحان، آزمائشیں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ ابھی کسی پہلے سانحہ کا گرد و غبار بھی نہیں جھڑتا پھر ایک اور۔ گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے یا تو انتہائی بے حس ہو چکے ہیں یا پھر مایوس و نامراد یا پھر تیسری وجہ یہ عم بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا رب بھی ہے اور خالق بھی ہے اسے سب خبر ہے اور وہ ضرور ہماری داد رسی کرے گا کیونکہ ہم اس کے چہیتے ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں اور ہم نے وہ کون سا جرم کیا ہے کہ ظالم درندے بے گناہ شہریوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میری دانست میں حکومت وقت، مقتدر ایجنسیاں، منبر و محراب، کیونکہ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے ارباب اختیار، سیاسی و مذہبی جماعتیں دکھ اور غم کا اظہار کرنے کے بعد دھواں دھار بیانات، لوگوں کی اشک شوئی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان ہوتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ساری قوت اقتدار کو بچانے اور طول دینے جبکہ اپوزیشن اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں لگی ہیں۔ پشاور کے واقعہ نے پورے ملک کی عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے دہشت گردوں نے سیدھا اور واضح پیغام دیا ہے کہ ہم نے ریاست کے دوسرے بڑے قانون نافذ کرنیوالے ستون جو لوگوں کی حفاظت پر مامور ہے یعنی پولیس اس پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔

    سیاستدان ہوش کے ناخن لیں ایسے دل ہلا دینے والے واقعات پر سیاست اور ایک دوسرے پر الزامات سے گریز کریں وطن عزیز اور بسنے والے عوام مہنگائی، غربت بنیادی ضروریات زندگی سے پہلے ہی محروم ہیں عوام الناس کا کوئی والی وارث نہیں ہے ان کے منہ سے ہر بڑے پیٹ والے نے نوالہ چھینا ہے اس لئے رونا صرف سیاسی ابتری کا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر بڑے طاقتور نے مظلوم کا خون نچوڑا ہے پشاور کے دل ہلا دینے والا سانحہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اخوت، رواداری، بھائی چارے کی عظیم روایات کو زندہ کریں جنگ اسی صورت جیتی جا سکتی ہے کہ افواج کو اس کے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ افواج پاکستان، قومی سلامتی کے اداروں، پولیس نے بہت قربانیاں دی اور عوام نے بھی۔ ہمارے شہیدا اور غازی اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے۔

  • کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سیاسی انتشار کیساتھ معاشی زوال ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں پر سوالیہ نشان ہے ۔ اس معاشی زوال کا ذمہ دار کسی فرد واحد، سیاسی جماعت یا فیصلہ ساز اداروں کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ذمہ دار سب ہیں۔ موجودہ بے ہودہ شور شرابے کی کیفیت میں معاشی زوال مزید تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ اس معاشی زوال کی ایک وجہ سیاسی انتشار اور محاذ آرائی ہے۔ ریاست کے حالات اور کردار کا دارومدار معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ آج ملک معاشی زوال کی جس نہج پر کھڑا ہے غریب عوام کے معاشی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالادست طبقے کی لڑائی نے ملک و قوم کو بلی چڑھا دیا ہے۔ سالوں سے پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ان سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ ہی نہیں دی اورنہ ہی فیصلہ ساز اداروں نے ان کی توجہ کا مرکز آئی ایم ایف ، چین، عرب ممالک عالمی مالیاتی ادارے رہے جن سے قرض در قرض لے کر ملک چلاتے رہے۔

    موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دے کر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے یہ پرانا وطیرہ ہے ڈان لیکس میں جس طرح پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ان کو سینٹ سے باہر کر دیا گیا قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت کی آواز بلند کرنے والے کو نوازشریف کے وفادار ساتھی کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ یہ پارلیمنٹ ماضی کے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے اے ٹی ایم لینڈ مافیا کی پشت پناہی، چینی مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ جس پارلیمنٹ ہائوس میں بے نظیر بھٹو، نوابزادہ نصر اللہ، قاضی حسین احمد، مولانا عبدالستار خان نیازی، ولی خان اور ان جیسے دیگر سیاستدان اپوزیشن کا کردار ادا کرتے آج اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں پارلیمنٹ ہائوس اور آج کی جدید جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے؟

    سینئر سے سینئر ترین کہلوانے والے صحافی کرکٹ جو نوجوانوں کا کھیل ہے چیئرمین کے عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں پڑھے لکھے نوجوان خاکروبوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نام نہاد ماہرین، فیصلہ ساز اداروں، سیاستدانوں کی لایعنی اور گری ہوئی گفتگو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ موجودہ نظام کے رکھوالوں کے پاس معاشرے کو درپیش سنگین مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ ملک کے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف اور آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر پی ڈی ایم والوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی باقی رہ گیا ہے تو اسے بھی وزیر اہر مشیر بنا دیں تاکہ قوم کے لئے خزانے میں کچھ بھی نہ بچے۔