Baaghi TV

Category: سیاست

  • وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ان دنوں قومی سیاست کے میدان میں ہنگامہ آرائی ، افراتفری اور تشدد پسندی کا رجحان مشاہدہ کیا جا رہا ہے اس کا ایک نہایت قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ایک اہم ریاستی ادارے یعنی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان خونریز تصادم شروع ہو گیا ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز عمران خان کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ واقع زمان پارک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں پنجاب و اسلام آباد پولیس اور مذکورہ کارکنوں کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کے حوالہ سے مذکورہ علاقہ کو میدان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کو قومی میڈیا میں تو ایک الگ انداز میں پیش اور نشر کیا گیا لیکن غیر ملکی میڈیا نے اس ضمن میں اس بات کو اہمیت اور فوقیت دی کہ حکومت کے اقدامات جمہوری روایت اور مزاج کے برعکس ہیں۔

    ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنی اقتصادی اور معاشی حیثیت کو مستحکم بلکہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کی مالیاتی اعانت کی اشد ضرورت ہے ، امن و امان کی صورت حال کا تیزی کے ساتھ ابتراوربے قابو ہونا کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد کی پولیس اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر جو کارروائی کی، وہ نہایت افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ دراصل مذکورہ غیرملکی میڈیا وطن عزیز کی سیاسی حرکیات اورریاستی اقدامات کو اپنے احوال اور معیارات کے مطابق دیکھتا ہے اور ایسے میں اس کی مایوسی نہایت درست محسوس ہوتی ہے۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مغربی میڈیا سے مغربی پالیسی سازادارے اورشخصیات کسی حد تک ضرور متاثر ہوتے ہیں چنانچہ وطن عزیز کے دلخراش واقعات اس تناظر میں بھی نہایت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت کا اہم ترین تقاضا اب یہی ہے کہ سیاست دان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ اگر مستقبل کی سیاست کو جمہوریت کے اندازاوررنگ میں محفوظ کرنا ہے تو اس کے لیے باہمی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ایک عامی بھی اس بات کا اقرار اور احساس کرتا ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ داخلی سیاسی حالات اور امن و امان کا ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کے سلسلہ کا انحصار ہے۔ خود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اس بات کا دو ٹوک الفاظ میں اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کو اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران جس سوال اور استفسار کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا تعلق داخلی حالات سے ہے۔ یہ بات بھی نہایت فکر انگیز اور قابل توجہ ہے کہ اب اصل معاملہ جماعتی اور سیاسی امور کا نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی امور کا ہے ۔

  • توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    افسوس صد افسوس وطن عزیز کے وقار کے قدر دان دوست ممالک نے کیا خوب خوب تحفے ہمارے غریب و عجیب حکمرانوں کے ہاتھوں بھیجے تھے۔ جن کو ہمارے ہی وطن ہماری عوام نے مسند اقتدار کی زینت بنایا تھا تاکہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کریں گے لیکن توشہ خانہ کو جس بے دردی سے ہمارے نام نہاد رہبروں اوررہنمائوں نے لوٹا عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اپنی جائیدادوں ، میلوں رقبوں کی وسعتوں پر نازاں امراء اتنے ہوس پرست اور بھوکے پن کے پیکر تھے کہ کروڑوں کا مال ہزاروں میں ہضم کرتے رہے اور لوٹ لوٹ کراپنے آپ کو عوام کو آئندہ ا لیکشن پر بے وقوف بناتے رہے ۔ اب وقت آچکا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور مقتدر حلقے ایک ایسا کمیشن قائم کریں جو روز اول سے توشہ خانہ سے حاصل کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور اُن سے تمام تحفوں کی موجودہ قیمت وصول کی جائے اور 2 سے ضرب د ے کر تمام رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور ایسا قانون بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی مفاد ،قومی املاک اور قوم کے اعتماد سے کھیلنے کی جسارت نہ ہو سکے ۔

    بیورو کریسی سمیت تمام اُن لوگوں کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس لوٹ مار میں حصہ لیا ۔ دوسری طرف سیاستدان مل کر سیاست ،جمہوریت ، آئین اور قانون کی جو قبر کھود رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں دفن ہونے کی انتہا کردی ہے۔ جمہوریت کی وہ کشتی جس پر سب سفر کررہے ہیںیہ اُسی کشتی میں سوراخ بھی کر رہے ہیں۔ توشہ خانہ کو چوری کا مال سمجھ کر بے دردی سے لوٹ مار کرنے والے کسی طور پرمعافی کے حقدار نہیں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے آج اگر غریب پر زندگی حرام ہو رہی ہے مہنگائی کا جن سرکاری پالیسی کی بوتل سے باہر نکلا ہوا ہے اور لوگ اپنے بچے تک فروخت کرنے اور خود کشی پر مائل اور قائل ہو چکے ہیں تو اس کا سبب یہی شخصیات ہیں جن کو سادہ لوح اورمحب وطن عوام نے نجا ت دہندہ سمجھ کر ان کو اپنی نمائندگی کا حق عطا کیا۔ توشہ خانہ کی جاری کردہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ توشہ خانہ کے حمام میں یہ سب ننگے ہیں۔ ثابت ہو چکا یہ شخصیات ذہنی اوراخلاقی سطح پر کس قدر مفلس، کنگال اور لالچی ہیں۔ ان سے بہتر وہ مزدور ، محنت کش اور غریب شخص ہے جو دیانتداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرکے گھر چلاتا ہے۔

  • لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    گذشتہ سے پیوستہ روز لاہور کے زمان پارک میں پاکستان تحریک انصاف اور پولیس کے درمیان جو ہنگامہ آرائی مشاہدہ کی گئی اس کے دوران ایک کارکن جاں بحق ہوا، متعدد گرفتار کیے گئے، خواتین پر بھی واٹر اور لاٹھی چارج کیا گیا، عام شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے شروع کی گئی اس کی انتخابی مہم کے سامنے دفعہ 144کے نفاذ کی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے تو اس قابل افسوس صورت حال کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہی عائد کی جا رہی ہے لیکن حقائق اس کی تائید سے قاصر ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ پولیس ذرائع کے مطابق ’’ہلاک ہونے والا شخص ایک پرائیویٹ گاڑی میں ہسپتال لایا گیا تھا‘‘۔ حکومت نے یہ حیرت انگیز دلیل بھی پیش کی ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین مذکورہ ریلی میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہر نہ نکلے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے شاید اسی تناظر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اداروں کی رپورٹ کے بعد لاہور میں دفعہ 144نافذ کی گئی، عمران خان قانون سے بھاگ رہے ہیں اور اب ان کو گرفتار کر کے لانا پڑے گا۔ ایک عامی بھی ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ لاہور میں ہونے والی مذکورہ ہنگامہ آرائی اس لحاظ سے تو کوئی نیا واقعہ نہیں کہ ماضی میں ایسے بے شمار واقعات رونما ہو چکے البتہ اس حوالہ سے یہ واقعہ بلاشبہ فکر انگیز ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیے جانے کے بعد کسی پارٹی کی انتخابی ریلی اور مہم پر ایسی یلغار نہایت افسوسناک بلکہ شرمناک ہے۔

    ادھر ایسے ہی حالات کا سامنا مختلف شہروں(لاہور، حیدر آباد، سکھر، گھوٹکی، ملتان اور مظفر گڑھ وغیرہ )میں ان خواتین کو بھی رہا جنہوں نے عالمی یوم خواتین کے سلسلہ میں ریلی اور جلوس کا اہتمام کیا تھا۔ اس نشاندہی کی چنداں ضرورت نہیں کہ پولیس کی ایسی کارروائی سے مہذب دنیا میں وطن عزیز کا وقار اور شناخت مجروح ہوئی۔ اس روز یوں محسوس ہوا جیسے لاہور میں ’’سیاسی قیامت صغریٰ ‘‘ برپا ہو گئی ہے، خیال ہے کہ ماضی کی کسی کہانی اور داستان کو سننے اور سنانے سے گریز کرتے ہوئے درپیش حالات اور احوال کی اصلاح کی طرف توجہ دی جانی چاہیے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے جس میں سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا ۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک سرزمین کو پولیس سٹیٹ نہ بنایا جائے اور یہ بات ہمہ وقت ذہن نشین رکھی جائے کہ قوانین عوام کے لیے ہوتے ہیں، عوام قوانین کے لیے نہیں ہوتے۔

  • بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    روس اور یوکرائن جنگ کے بعد عالمی دنیا کے حالات بہت بدل چکے ہیں بہت سے برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو لگتا ہے کہ خطرہ ان کی دہلیز پر ہے بہت سے ممالک اس عالمی بحران کو حل کرنے کے لئے بیتاب ہیں لیکن ہاتھ جلائے بغیر وہ ضامن بننے میں ہچکچاتے ہیں کوئی بھی امریکہ اور روس دشمن کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم روس یوکرائن جنگ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کی امریکہ نیوکلیئر معاہدے میں شراکت داری معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ نیٹو ممالک روس یوکرین تنازعہ کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ چین نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش نہ کرے بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ روس اسی طرح پھر بکھر جائے گا جس طرح سوویت یونین کو افغانستان میں پھنسا کر اس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا تھا اور وہ بالاخر روس بن گیا تھا۔ تاہم عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اس جنگ کے اثرات نے برطانیہ مغربی ممالک اور عالمی دنیا کی معیشت پر اثرات ڈالے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مہنگائی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر معاشی انحطاط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس جنگ کے اثرات عرب ممالک سے لے کر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی پڑے ہیں۔

    پاکستان اس وقت عالم اسلام کا واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان بین الاقوامی حالات کا بغور جائزہ لے کر سیاست کرنا ہوگی ملکی وقار ، ملکی سلامتی کے پیش نظر ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے عالمی سیاسی کھلاڑیوں کا مقابلہ کر سکیں، عراق، شام، سوڈان، یمن، لبنان اور افغانستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں، کسی بھی عالمی سازش کا حصہ بننے سے ہمیں دور رہنا ہوگا ہمیں پہلے اپنے ملک کی سلامتی اپنے ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر سیاست کرنا ہوگی، ہماری معیشت اس وقت کمزور ہے ملک کی سیاسی جماعتوں کو انتقامی سیاست فوری بند کر کے مذاکرات کرنا ہونگے یہ وقت ملک میں افراتفری، جلائو گھیراؤ اور سیاسی عدم استحکام کا نہیں ہے ملکی فیصلہ ساز اداروں کو حکمرانوں سمیت اپوزیشن کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت مذاکرات ہی واحد راستہ ہے،

  • ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ :  شہزاد قریشی

    ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    اس امر کی نشاندہی بلاشبہ قابل فخر ہے کہ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر اگرچہ جمہوریت ابھی کسی نومولود بچے کی طرح رینگ رہی ہے لیکن یہ کسی غیر منتخب حکومت اور خاص طور پر مارشل لاء انتظامیہ سے بہرحال بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ صورت حال بھی توجہ طلب ہے کہ جملہ ریاستی ادارے یعنی انتظامیہ المعروف بیورو کریسی، مقننہ اور عدلیہ کی کارکردگی پر عوام کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ مذکورہ ریاستی اداروں میں اگر میڈیا کو بھی شامل کیا جائے تو یہ صورت حال مزید گھمبیر محسوس ہوتی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر ریاستی اداروں پر تنقید کا معیار اور جواز اس قدر بوسیدہ اور کم درجہ ہے کہ دور اندیش حلقوں میں اس بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے پر جو تنقید کرتے ہیں وہ تنقید کم اور تضحیک زیادہ ہوتی ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ سیاسی قیادت اس حوالہ سے اپنے کارکنوں کی ذہنی، فکری اور نظریاتی تربیت کا فرض ادا کرے لیکن مشاہدہ یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ سیاسی قیادت خود بھی مذکورہ روش پر ہی گامزن ہے۔ کسی بھی دن کا اخبار ملاحظہ اور مطالعہ کیا جائے یا کسی بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو چند منٹ میں ہی یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہو گی کہ سیاسی کارکردگی دراصل سیاسی شعبدہ بازی اور بازی گری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ معلوم نہیں نام نہاد ناقدین کس طرح یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وہ کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر اور اپنی شرائط پر عدلیہ سے انصاف کے حصول کا مطالبہ اور تقاضا کریں۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ کسی انتخاب میں نتائج کی تہہ میں دفن کوئی سیاسی جماعت اپنی مد مقابل اس سیاسی جماعت کے احتساب کا مطالبہ کرے جس پر عوام نے اپنے اعتماد اور یقین کا برملا اظہار کیا ہے۔

    ایسے میں یہ مشاہدہ بھی عام ہے کہ انتظامیہ عرف بیورو کریسی کے ساتھ کسی تنازعہ اور محاذ آرائی کی صورت میں اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک اختیار کیا جاتا ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ایسے واقعات بھی اب راز نہیں رہے کہ ہماری آزادی، خود مختاری اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی مسلح افواج کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی گئی۔ یہ مذموم روش سوشل میڈیا پر نمایاں دیکھی گئی۔ ارباب فکر و دانش اور خاص طور پر سیاسی اکابرین کا یہ خیال نہایت درست اور بروقت ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے اور ان اداروں کو بھی پسندیدہ اور با اثر شخصیات کے اثر و رسوخ سے بے نیاز ہو کر محض خوف خدا کے تحت اپنے سرکاری فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔ یہی وہ وقت ہے جس کے لیے فیض احمد فیض نے یہ دعا کی تھی کہ ’’میرے وطن ، تیرے دامان تار تار کی خیر ‘‘۔

  • عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ :   شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    حالیہ دنوں میں قومی سیاسی حلقوں میں جہاں انتخابات، مہنگائی اور سرکاری کفایت شعاری کے حوالہ سے بحث مباحثہ جاری ہے وہاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سلامتی اور حفاظت کے حوالہ سے بھی اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ اس عنوان سے تجزیئے اور تبصرہ کی نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عمران خان کی زندگی کو درپیش خطرات اور خدشات کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز اسلام آباد میں سابق وزیر قانون اور اب پی ٹی آئی کے صف اول کے رہنما بابراعوان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو سنائپر یا خود کش حملے میں نشانہ بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ابھی لانگ مارچ شروع نہیں ہوا تھا کہ ہمیں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع ملی تھی ۔ حتیٰ کہ عمران خان نے خود بھی 2 مرتبہ یہ بات دہرائی۔ بابر اعوان نے مزید کہا کہ میں نے ماضی قریب میں میڈیا کے روبرو یہ انکشاف کیا تھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوگا جس پر بعض لوگوں نے میرا تمسخر اڑایا اور میرے اس بیان کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ میں اب دوبارہ قوم کو اس خطرہ سے آگاہ کر رہا ہوں کہ عمران خان کو سیکیورٹی کے حوالے سے تنہا کیا جارہاہے اورعمران خان کو اسلام آباد کچہری بلا کر بم سے اْڑانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے چنانچہ ہمیں یہ تحریرفراہم کی جائے کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا۔ ادھر ایک ٹویٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چوہدری اور سینئر رہنما افتخار درانی نے بھی اپنے اپنے ٹوئٹ میں بیان کیا ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سامنے آ چکی ہے لہذا ان کی سیکورٹی کو جامع بنایا جائے۔ اسلام آباد کچہری میں عمران خان پر سنائپر یا خود کش حملہ کروانے کی سازش ہے ، اعلیٰ عدلیہ فوری نوٹس لے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان پر یکے بعد دیگرے اور بلاجواز مقدمات اس لئے بنائے جا رہے ہیں تا کہ ان پر ایک اور قاتلانہ حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے جن خدشات اور خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کیا بھی نہیں جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ عوام کو خوب یاد ہے کہ وطن عزیز کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں (جو اب ان کے نام سے منسوب ، لیاقت باغ ہے) 16اکتوبر 1951ء کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا جب انہوں نے ایک جلسہ عام میں اپنے خطاب کا آغاز ہی کیا تھا۔ اسی طرح وطن عزیز کے پہلے منتخب وزیراعظم اور قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ مقبول سیاستدان، ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی میں ہی سنٹرل ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی ذہین و فطین صاحبزادی اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اب سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھیوں کی طرف سے ان کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے تو اس پر عوام کی طرف سے تشویش پر مبنی ردعمل ایک قدرتی بات ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب 3 نومبر 2022ء کو وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بعد خود عمران خان نے کئی مرتبہ یہ بیان دیا کہ ان کو منظر عام سے ہٹانے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان پر ہونے والے حملے کی فوری اور شفاف تفتیش کرائی جاتی لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ تفتیش کا یہ مرحلہ ابھی تک طے نہیں ہوا اور ایسے میں گرفتار شدہ ملزم کے خلاف ہنوز کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ سیاسی حریف اس واقعہ پر ایسی تبصرہ آرائی کرتے ہیں جس کو نرم سے نرم الفاظ میں شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر سیاسی مخالفین کے بارے میں انتقامی جذبہ اور سلوک کا یہی عالم رہا تو اس کا نتیجہ کس صورت میں سامنے آئے گا کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ ایوان اقتدار میں کسی کا قیام بھی مستقل نہیں ہوتا ۔ دربار سے بازار تک اور بازار سے دربار تک کا سفر ہر کسی کا مقدر بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ حقیقت بھی فراموش نہ کی جائے کہ اگر وطن عزیز اپنے وزرائے اعظم کا اسی طرح مقتل بنتا رہا تو اس سے مہذب اور عالمی برادری میں ہماری شناخت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

  • اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    فراق گورکھپوری

    اردو کے ایک عظیم شاعر اور نقاد فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھو پتی سہائے ہے ۔وہ 28 اگست 1896ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گورکھ پرشاد زمیندار تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ان کا آبائی وطن گورکھپور کی تحصیل بانس گاؤں تھا اور ان کا گھرانہ پانچ گاؤں کے کائستھ کے نام سے مشہور تھا۔۔فراق کے والد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔فراق نے اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی اس کے بعد میٹرک کا امتحان گورنمنٹ جوبلی کالج گورکھپور سےسکنڈ ڈویژن میں پاس کیا ۔اسی کے بعد 18 سال کی عمر میں ان کی شادی کشوری دیوی سے کر دی گئی جو فراق کی زندگی میں ایک ناسور ثابت ہوئی۔فراق کو نوجوانی میں ہی شاعری کا شوق پیدا ہو گیا تھا اور 1916 میں جب ان کی عمر 20 سال کی تھی اور وہ بی اے کے طالب علم تھے، پہلی غزل کہی۔پریم چند اس زمانہ میں گورکھپور میں تھے اور فراق کے ساتھ ان کے گھریلو تعلقات تھے۔پریم چند نے ہی فراق کی ابتدائی غزلیں چھپوانے کی کوشش کی اور زمانہ کے ایڈیٹردیا نرائن نگم کو بھیجیں۔فراق نے بی اے سنٹرل کالج الہ آباد سے پاس کیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔اسی سال فراق کے والد کا انتقال ہو گیا۔یہ فراق کے لئے اک بڑا سانحہ تھا۔چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری فراق کے سر آن پڑی۔بے جوڑ دھوکہ کی شادی اور والد کی موت کے بعد گھرییلو ذمہ داریوں کے بوجھ نے فراق کو توڑ کر رکھ دیا وہ بے خوابی کے شکار ہو گئے اورمزید تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ اسی زمانہ میں وہ ملک کی سیاست میں شریک ہوئے۔سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے 1920 میں ان کو گرفتار کیا گیا اور انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے۔ 1922 میں وہ کانگرس کے انڈر سیکریٹری مقرر کئے گئے۔ وہ ملک کی سیاست میں ایسے وقت پر شامل ہوئے تھے جب سیاست کا مطلب گھر کو آگ لگانا ہوتا تھا نہرو خاندان سے ان کےگہرے مراسم تھے اور اندرا گاندھی کو وہ بیٹی کہہ کر خطاب کرتے تھے۔مگر آزادی کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی خدمات کو بھنانے کی کوشش نہیں کی۔وہ ملک کی محبت میں سیاست میں گئے تھے۔،سیاست ان کا میدان نہیں تھی۔1930 میں انھوں نے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ اور کوئی درخواست یا انٹرویو دئے بغیر الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہو گئے۔اس زمانہ میں الہ آباد یونیورسٹی کا انگریزی کا شعبہ سارے ملک میں شہرت رکھتا تھا۔ امر ناتھ جھا اور ایس ایس دیب جیسے مشاہیر اس شعبہ کی زینت تھے۔لیکن فراق نے اپنی شرائط پر زندگی بسر کی۔وہ ایک آزاد طبیعت کے مالک تھے۔مہینوں کلاس میں نہیں جاتے تھے نہ حاضریی لیتے تھے۔اگر کبھی کلاس میں گئے بھی تو نصاب سے الگ ہندی یا اردو شاعری یا کسی دوسرے موضوع پر گفتگو شروع کر دیتے تھے، اسی لئے ان کو ایم اے کی کلاسیں نہیں دی جاتی تھیں۔ورڈسورتھ کے عاشق تھے اور اس پر گھنٹوں بول سکتے تھے۔ فراق نے 1952 میں شبّن لال سکسینہ کے اصرار پر پارلیمنٹ کا چناؤ بھی لڑا اور ضمانت ضبط کرائی۔نجی زندگی میں فراق بے راہ روی کا مجسمہ تھے۔ان کے مزاج میں حد درجہ خود پسندی بھی تھی۔ان کے کچھ شوق ایسے تھے جن کو معاشرہ میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن نہ تو وہ ان کو چھپاتے تھے اور نہ شرمندہ ہوتے تھے۔ان کے عزیز و اقارب بھی، خصوصاً چھوٹے بھائی یدو پتی سہائے،جن کو وہ بہت چاہتے تھے اور بیٹے کی طرح پالا تھا،رفتہ رفتہ ان سے کنارہ کش ہو گئے تھے جس کا فراق کو بہت صدمہ تھا۔ان کے اکلوتے بیٹے نے سترہ اٹھارہ سال کی عمر ممیں خودکشی کر لی تھی۔بیوی کشوری دیوی 1958 میں اپنے بھائی کے پاس چلی گئی تھیں اور ان کے جیتے جی واپس نہیں آئیں۔اس تنہائی میں شراب و شاعری ہی فراق کی مونس و غمگسار تھی۔1958 میں وہ یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے۔ گھر کے باہر فراق معزز،محترم اور عظیم تھے لیکن گھر کے اندر وہ ایک بے بس وجود تھے جس کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔وہ محرومی کا ایک چلتا پھرتا مجسمہ تھے جو اپنے اوپر آسودگی کا لباس اوڑھے تھا۔

    باہر کی دنیا نے ان کی شاعری کے علاوہ ان کی حاضر جوابی،بزلہ سنجی،ذہانت،علم و دانش اور سخن فہمی کو ہی دیکھا۔فراق اپنے اندر کے آدمی کو اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ب۔بطور شاعر زمانہ نے ان کی قدر دانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔1961 میں ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔1968 میں انہیں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ دیا گیا۔حکومت ہند نے ان کو پدم بھوشن خطاب سے سرفراز کیا۔1970 میں وہ ساہتیہ اکیڈمی کے فیلو بنائے گئے اور "گل نغمہ” کے لئے ان کو ادب کے سب سے بڑے اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا جو ہندوستان میں ادب کا نوبیل انعام تصور کیا جاتا ہے۔1981 میں ان کو غالب ایوارڈ بھی دیا گیا ۔جوش ملیح آبادی نے فراق کے بارے میں کہا تھا "میں فراق کو قرنوں سے جانتا ہوں اور ان کے اخلاق کا لوہا مانتا ہوں۔مسائل علم و ادب پر جب ان کی زبان کھلتی ہے تو لفظوں کے لاکھوں موتی رولتے ہیں اور اس افراط سے کہ سامعین کو اپنی کم سوادی کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔جو شخص یہ تسلیم نہیں کرتا کہ فراق کی عظیم شخصیت ہندوسامنت کے ماتھے کا ٹیکا،اردو زبان کی آبرو اور شاعری کی مانگ کا سیندور ہے وہ خدا کی قسم کور مادر زاد ہے” 3 مارچ 1982 کو،حرکت قلب بند ہو جانے سے فراق اردو ادب کو داغ فراق دے گئے اور سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسوم ادا کی گئیں۔فراق اس تہذیب کا مکمل نمونہ تھے جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے وہ شاید اس قبیلہ کے آخری فرد تھے جسے ہم مکمل ہندوستانی کہہ سکتے ہیں۔

    شاعری کے لحاظ سے فراق بیسویں صدی کی منفرد آواز تھے۔جنسیت کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ کا حصہ بنا کر محبوب کے جسمانی روابط کو غزل کا حصہ بنانے کا سہرا فراق کو جاتا ہے۔جسم کس طرح کائنات بنتا ہے،عشق کس طرح عشق انسانی میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر وہ کس طرح حیات و کائنات سے رشتہ استوار کرتا ہے یہ سب فراق کی فکر اور شاعری سے معلوم ہوتا ہے۔فراق شاعر کے ساتھ ساتھ ایک مفکّر بھی تھے۔راست اور معروضی انداز فکر ان کے مزاج کا حصہ تھا۔فراق کا عشق رومانی اور فلسفیانہ کم،سماجی اور دنیاوی زیادہ ہے۔فراق تلاش عشق میں زندگی کی سمت و رفتار اور بقاء و ارتقاء کی تصویر کھینچتے ہیں۔ فراق کے وصل کا تصور دو جسموں کا نہیں دو ذہنوں کا ملاپ ہے۔وہ کہا کرتے تھ تھے کہ اردو ادب نے ابھی تک عورت کے تصور کو جنم نہیں دیا۔اردو زبان میں شکنتلا،ساوتری اور سیتا نہیں۔جب تک اردو ادب دیویت کو نہیں اپنائے گا اس میں ہندوستان کا عنصر داخل نہیں ہو گا اور اردو ثقافتی حیثیت سے ہندوستان کی ترجمان نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ ہندوستان کوئی بینک نہیں جس میں رومانی اور ثقافتی حیثیت سے الگ الگ کھاتے کھولے جا سکیں۔فراق نے اردو زبان کو نئے گمشدہ الفاظ سے روشناس کرایا ان کے الفاظ زیادہ تر روز مرّہ کی بول چال کے،نرم،سبک اور میٹھے ہیں۔فراق کی شاعری کی ایک بڑی خوبی اور خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عالمی تجربات کے ساتھ ساتھ تہذیبی قدروں کی عظمت اور اہمیت کو سمجھا اور انہیں شعری پیکر عطا کیا۔۔۔فراق کے شعر دل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ دعوت فکر بھی دیتے ہیں اور ان کی یہی صفت فراق کو دوسرے تمام شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔
    3 مارچ 1982ء اردو کے عظیم شاعر فراق گورکھپوری کی وفات ہوئی ۔

    فراق گورکھپوری کے اشعار

    دل غمگیں کی کچھ محویتیں ایسی بھی ہوتی ہیں
    کہ تیری یاد کا آنا بھی ایسے میں کھٹکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اٹھی ہے چشم ساقیٔ مے خانہ بزم پر
    یہ وقت وہ نہیں کہ حلال و حرام دیکھ

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    قفس سے چھٹ کے وطن کا سراغ بھی نہ ملا
    وہ رنگ لالہ و گل تھا کہ باغ بھی نہ ملا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
    کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہیں سچ سچ بتاؤ کون تھا شیریں کے پیکر میں
    کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہکن کیوں ہو

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل وارفتۂ دیدار کی اللہ رے محویت
    تصور میں ترے وہ تیری صورت بھول جاتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترغیب گناہ لحظہ لحظہ
    اب رات جوان ہو گئی ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
    چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تصور میں تجھے ذوق ہم آغوشی نے بھینچا تھا
    بہاریں کٹ گئی ہیں آج تک پہلو مہکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ہو سکا تو بتاؤں گا تجھے راز عالم خیر و شر
    کہ میں رہ چکا ہوں شروع سے گہے ایزد و گہے اہرمن
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ فسوں پھونکا کہ وحشی بھی مہذب ہو گئے
    کر گیا کیا سحر مانا عشق بازی گر نہ تھا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تا بہ قدم
    رکے رکے سے کچھ آنسو رکی رکی سی ہنسی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی دنیا کے کچھ نقش و نگار اشعار ہیں میرے
    جو پیدا ہو رہی ہے حق و باطل کے تصادم سے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرش مے خانہ پہ جلتے چلے جاتے ہیں چراغ
    دیدنی ہے تری آہستہ روی اے ساقی
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنت صوفیا نثار دہر کی مشت خاک پر
    عاشق ارض پاک کو دعوت لا مکاں نہ دے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فراق گورکھپوری کی غزلیں

    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
    تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

    مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
    نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
    اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

    نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
    تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
    اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے
    وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

    ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
    مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

    تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
    کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

    اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں
    خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

    جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں
    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے
    تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

    رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے
    ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

    زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے
    اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

    فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
    کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
    ———*****————–
    تم ہو جہاں کے شاید میں بھی وہاں رہا ہوں
    کچھ تم بھی بھولتے ہو کچھ میں بھی بھولتا ہوں

    مٹتا بھی جا رہا ہوں پورا بھی ہو رہا ہوں
    میں کس کی آرزو ہوں میں کس کا مدعا ہوں

    منزل کی یوں تو مجھ کو کوئی خبر نہیں ہے
    دل میں کسی طرف کو کچھ سوچتا چلا ہوں

    لیتی ہیں الٹی سانسیں جب شام غم فضائیں
    اس دم فنا بقا کی میں نبض دیکھتا ہوں

    ہوں وہ شعاع فردا جو آنکھ مل رہی ہے
    وہ سرمگیں افق پر میں تھرتھرا رہا ہوں

    جس سے شجر حجر میں اک روح دوڑ جائے
    وہ ساز سرمدی میں غزلوں میں چھیڑتا ہوں
    ——*****————-
    تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
    سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں

    کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
    نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں

    بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں
    کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں

    کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
    ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں

    امیدوں میں بھی ان کی ایک شان بے نیازی ہے
    ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں

    یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب
    مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں

    کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے
    جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں

    جہاں کی فطرت بیگانہ میں جو کیف غم بھر دیں
    وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں

    ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں
    مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں

    نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری
    نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں

    بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر
    تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں

    یہ کہہ کر آبلہ پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو
    جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں

    یہ ہستی نیستی سب موج خیزی ہے محبت کی
    نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں

    فراقؔ اس گردش ایام سے کب کام نکلا ہے
    سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں
    ———****—————–
    جنون کارگر ہے اور میں ہوں
    حیات بے خبر ہے اور میں ہوں

    مٹا کر دل نگاہ اولیں سے
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    کہاں میں آ گیا اے زور پرواز
    وبال بال و پر ہے اور میں ہوں

    نگاہ اولیں سے ہو کے برباد
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    مبارک باد ایام اسیری
    غم دیوار و در ہے اور میں ہوں

    تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے
    حیات منتشر ہے اور میں ہوں

    کوئی ہو سست پیماں بھی تو یوں ہو
    یہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں

    نگاہ بے محابا تیرے صدقے
    کئی ٹکڑے جگر ہے اور میں ہوں

    ٹھکانا ہے کچھ اس عذر ستم کا
    تری نیچی نظر ہے اور میں ہوں

    فراقؔ اک ایک حسرت مٹ رہی ہے
    یہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں

    چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
    نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں

    زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
    وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں

    حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا
    اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں

    زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی
    کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں

    ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
    ابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں

    جہاں کے باب میں تر دامنوں کا قول یہ ہے
    یہ موج مارتا دریا کوئی سراب نہیں

    دکھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنے
    خراب ہو کے بھی یہ زندگی خراب نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حوالہ جات
    تاریخ اردو ادب
    تاریخ پاکستان
    ریختہ
    نوائے اردو

  • معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ  شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کے سیاسی میدان میں آج کل جو سرگرمیاں مشاہدہ کی جا رہی ہیں، ان کو بجا طور پر دھینگا مشتی اور ہاتھا پائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ سلسلہ اب عدالتوں کے ماحول کو بھی مکدر کر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ، عمران خان کی اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس میں آمد کے موقع پر جو ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی وہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف جو اقدامات کیے ان کو اگر ’’انتقامی روئیے ‘‘ سے منسوب نہ بھی کیا جائے تو وہ عملی طور پر اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی وسوسے اور خدشات کو جنم دیتی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ ، رانا ثناء اللہ خان نے عمران خان کی جوڈیشل کونسل میں آمد کے موقع پر اور اسی حوالہ سے یہ بیان دیا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کریں۔ ایک عامی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی اور انتقام کا درجہ کیوں دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ نام نہاد دانشور اور انگریزی سیاسی اصطلاحات زدہ طبقہ ملکی امور کے سلسلہ میں ’’چائے کی پیالی میں طوفان ‘‘ اٹھانے پر ہی اکتفا کرتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں محب وطن عوام کی ایک بڑی تعداد ان احوال کے حوالہ سے فکر مند ہے ۔
    دریں اثناء عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں عندیہ دیا ہے کہ ہم مسلط ٹولہ کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے یعنی وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ الیکشن کے لیے ان کی تیاری مکمل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے ساہیوال میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ کارکن، الیکشن کی تیاری کریں۔ ایسے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ردعمل سے بھی یہ تاثر نمایاں ہوتا ہے کہ عدالتی کارروائی سے قطع نظر، الیکشن کا انعقاد ہی سیاسی پیش رفت کا بنیادی اور کلیدی نکتہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کو کسی طور بھی سیاسی صورت حال سے الگ اور دور تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے لیے یہ بات بجا طورپر تشویش کا باعث ہے کہ سیاسی قیادت خوش فہمی اور غلط فہمی کے معاملہ میں خود کفیل ہے اور اس کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، جرائم میں اضافہ اور آئی ایم ایف کے احکامات کے نتیجہ میں ٹیکسوں کی بھرمار کا شکار عوام ان (سیاست دانوں) سے اب بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ قومی امور اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم سیاسی سطح پر خوش فہمی اور غلط فہمی کی بجائے معاملہ فہمی سے کام لیا جائے۔

  • سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی
    عوام کی اکثریت نیم مردہ حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تاہم سیاسی گلیاروں میں سیاسی رونقیں عروج پر ہیں ۔ ایک بے معنی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ایم کیو ایم والے اور جماعت اسلامی سمیت پیپلز پارٹی نجی ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کی ضروریات پریس کانفرنسوں میں پوری کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم مردم شماری اورجماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی والے میئر کراچی بنائو مہم کا رونارو رہے ہیں۔ اب کون بنے گا کروڑپتی والا کھیل جاری ہے۔ اسلام آباد کی تو بات ہی نرالی ہے جہاں ہرروزقانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی صدائیں بے معنی پارلیمنٹ سے لے کر نجی ٹی وی چینلز پرسنائی دیتی ہیں۔ اسلام آباد سیاسی شہر تو بن گیا لیکن یہاں کے سیاسی ہاتھوں نے قوم کی تباہی کردی ناقابل برداشت مہنگائی ، دہشت ناک بدامنی ، گھر گھر اس اسلام آباد میں بسنے والے سیاستدانوں کے ہاتھوں برباد ہو چکے۔ جمہوری مزاج سیاستدان نہیں ورنہ جمہوریت میں جمہوربرباد نہیں ہوتی۔ سیاست میں متانت ،سنجیدگی اور اخلاق کو جو اہمیت اور درجہ حاصل ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ موجودہ بیان بازی کو کسی طور بھی نیک فال تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ موجودہ حالات میں تعمیری اور مثبت طرز بیان اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ شومئی قسمت ایسا نہیں ہو رہا ۔

    ملکی سیاسی تاریخ کی نگاہ اس وقت عمران خان ،مریم نواز شریف پراور ان کے بیانات پر مرکوز ہے اوران دونوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے کاش عمران خان اور مریم نوازشریف اس حقیقت کا ادراک کرسکیں کہ سیاسی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ٹویٹ اورتقاریر میں چیخ وپکار سے دور رہیں۔ مثبت اور تعمیری سیاسی بیانات دیں بلاشبہ مریم نواز شریف اپنے والد میاں محمد نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لے کر اُتری ہیں جس طرح وہ اپنے والد کا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر اتری ہیں اس سے قبل مسلم لیگ(ن) اپنے قائد نواز شریف کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی اس ناکامی کے ذمہ دارمسلم لیگ(ن) کے نام نہاد مرکزی رہنما ہی ہیں کوئی اور نہیں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے قائد کی خدمات کو پس پشت ڈال کراقتداراور صرف اقتدار کی دوڑ میں شامل رہی۔ اس وقت ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران خان اور مریم نواز کا سیاسی مستقبل تو روشن نظر آرہا ہے تاہم دونوں پرسیاسی تاریخ کی نگاہ مرکوز ہے ۔ لہذا اخلاقی ، متانت اورسنجیدگی لازمی شرط ہے ۔

  • معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    قوم کے بنیادی مسائل سیاستدانوں کے بے معنی شور شرابے تلے دب کر رہ گئے ہیں معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام نے ملک اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ملکی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت کی طرف سے پاک فوج اور عدلیہ بارے پروپیگنڈے نے تو دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسری طرف ایک سیاسی جماعت کے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان اور کارکن عہدیداروں سمیت زنجیریں پہن کر گرفتاریاں دے رہے ہیں یعنی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے عجب بے معنی شور ہے نہ جانے ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لیکر حساب کتاب اتنا کمزور کیوں ہے سیاست کی دنیا میں دھند دن بدن بڑھتی جا رہے آئین کی کتاب میں سب درج ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے اگر یہ آئینی سوال کہ الیکشن کب ہوں کس طرح ہونگے الیکشن کی تاریخ کون دیتا ہے ، دو چار کی طرح بالکل آسان ہے حیرت ہے ہمارے سیاستدانوں سے یہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے

    اس وقت ملک کی سیاست آئین اور الیکشن ، محسوس ہوتا ہے کہ 75سالوں اور1973ء میں آئین بنایا گیا مگر 1973سے لیکر تا دم تحریر ملک میں خالص جمہوریت نہیں رہی اگر خالص جمہوریت قائم رہتی تو آج جمہور کے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہوتے آمریت نے اس آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا اور آج کی جدید واٹس اپ گروپس اور ٹویٹ جمہوریت بھی آئین سے کھلواڑ ہی کر رہی ہے حیرت ہے ایک طرف جمہوریت کا نعرہ، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ ،قانون کی حکمرانی کا نعرہ اور دوسری طرف آئین کے ساتھ کھلواڑ سیاسی جماعتوں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟عدالتوں کا احترام کریں ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں ملکی سلامتی کے اداروں بشمول عدلیہ کے بارے میں زہریلا پروپیگنڈہ نہ کریں کسی بھی ملک کے یہ ادارے انتہائی اہم ہوتے اور ان کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور مسائل کی گتھی کو سلجھایا جائے جمہوریت کی خاطر اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں ورنہ شاید پھر کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔!