Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں سیاستدان کم مخبروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے البتہ بے نقاب بھی ہورہے ہیں۔ سیاستدانوں کی لڑائیاں اب سیاسی نہیں ذاتی دشمنی پر اتر آئی ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ آئین اور قانون کی حکمرانی کے نعرے باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے تنازعات میں ایک دوسرے کو ننگا کررہی ہیں۔ ان حرکات سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ عالمی دنیا اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے ہمارے سیاستدان ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اقتدار کی جنگ میں مصروف عمل ہیں دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ سیاسی تماشائیوں میں عوام کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ ملکی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا یا متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن سے لیکر تمام اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم اس ملک کی کونسی خدمت کررہے ہیں۔

    سیاستدان سراپا احتجاج‘ عوام سراپا احتجاج‘ تاجر سراپا احتجاج‘پی ڈی ایم میں شامل خود سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج‘ صحافی سراپا احتجاج۔ آخر انہیں کس نے اتنا مجبور کردیا ہے کہ سب سراپا احتجاج ہیں؟تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ملک میں نہ آئین ہے نہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہے نہ کوئی انسانی حقوق ہیں۔ ان حالات میں پنجاب اور کے پی کے کے الیکشن بھی مشکوک ہوگئے ہیں۔ آئین تو انتخابات کا راستہ دکھاتا ہے اگر موجودہ حکومت نے پنجاب اور کے پی کے میں بروقت انتخابات نہ کروائے تو معاملہ عدالتوں میں چلا جائے گا۔ اگر وفاق انتخابات نہیں کرواتا تو پھر یہ آئین سے روگردانی ہوگی۔ امید تو یہی ہے کہ وفاق ایسا نہیں کرے گا اگر ایسا کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔

    ملک اور عوام کے مفاد میں مقتدر حلقوں اور قومی سلامتی کمیٹی کو مل کر سیاسی خلفشار کو کم کرنے کی راہ نکالنی چاہئے اور تمام سیاسی جماعتوں کا ڈآئیلاگ اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی گرداب سے ملک کو نکالنے کے لئے وطن عزیز کے تمام اعلیٰ پائے کے معیشت دانوں کے ساتھ بامقصد کانفرنس کرکے تجاویز لی جائیں اور قابل عمل راہ اختیار کی جائے۔ تمام سیاسی مصلحتوں اور پسند ناپسند سے بالاہو کر حکومت اور مقتدر حلقوں کو خلوص کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ معاشی بحران پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت عالمی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ خود ڈیفالٹ ہونے کے قریب تر ہے تاہم ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے امریکی سیکرٹری خزانہ جانیٹ پالین نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ قرض کی حد از جلد بڑھا دے تاکہ تاکہ ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا جاسکے۔

  • سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    بچپن تو سب کا ہی اچھا گزرتا ہے اور جوانی کے بعد عموما لوگ اپنے بچپن کو خصوصی یاد کرتے ہوئے جلتے دل کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ماضی بھی سب کو ہی خوب بھاتا ہے اور یاد ماضی بھی اکسیر کا کام دیتے ہوئے ذہن انسانی کو تسکین بخشتی ہے ۔ ہم نے بھی بچپن سے ہی جن رسالوں اور کتابوں کو پڑھا ان میں بھی ماضی بڑا خوشگوار کرکے پیش کیا گیا ۔ گویا ہمیں شروع سے ہی یہ سکھایا گیا کہ گزرا وقت اچھا ہوتا ہے ۔ رہی سہی کسر بڑے بوڑھوں نے نکال دی جنہوں نے حال کی خوب خبر لی اور ماضی کی تعریفات میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ عموما یہ لوگ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ "ہون تے زمانہ ٹھیک ای نئی ریا ساڈے ویلیاں وچ تے بہاراں سی”
    ابھی وقت اچھا نہیں رہا ہمارے وقتوں میں تو خوب بہاریں ہوتی تھیں ۔
    پھر ہم نے نفسیات پڑھی جس میں یہ بتایا گیا کہ یاد ماضی کی خوسنمائی دراصل انسان کے نفسیاتی واہمے ہیں اور وقت سارے ہی خوب صورت ہوتے ہیں ۔ انسان دراصل آرام پسند ہے اور اس کا ماضی اور بچپن بے فکری میں گزرتا ہے اسی نسبت سے جب حال کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ خوشحال ماضی کو یاد کرکے روتا ہے ۔
    اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہم اس قابل ہوگئے کہ سبھی وقتوں کو اچھا کہنے لگے اور ساتھ ساتھ ماضی کی یاد کو ایک فضول چیز سمجھنے لگے ۔

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ پھر نفسیات نے انکشاف کیا کہ ماضی کو یاد کرنا انسان کی ڈپریشن کو کم کرتا ہے ۔ ایک بار پھر نئے مخمصے اور عجیب صورت حال تھی ۔ اور پھر سائنس نے رہی سہی کسر نکال دی ۔ اور انسان کے تمام جذبات کو کیمیکل ری ایکشن کا نام دیا ۔ اگر کیمیکل ری ایکشن ہی ساری مصیبتوں کی جڑ ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ حقیقت کچھ نہیں ہے ۔ اور ان ری ایکشنز کو میڈیسن کے ذریعے سے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ ادبی، نفسیاتی اور سائنسی انکشافات کے بعد صورت حال یہ ہے کہ ادب کی بنیاد پر ہم ماضی کو یاد کرتے ہیں تو خیال آتا ہے نفسیات کی رو سے ماضی کو یاد کرنا فضول بات ہے اور پھر نفسیات ہی نفسیات کا رد کرتی ہے کہ ماضی کو یاد کرلینا بھی اچھی بات ہے اور اگلے ہی لمحے ہمیں خیال آتا ہے کہ سائنسی رو سے تو ہمارے وجود اقدس میں کیمیکل ری ایکشن ہورہے ہیں جس کی بنیاد پر ہمیں اداسی محسوس ہورہی اور جذبات کا حقائق سے نہیں بلکہ جسم سے تعلق ہے ۔ ایک کے بعد ایک سوال اور خیال کے بعد خیال ہمیں مزید چکرانے والے ہی ہوتے ہیں کہ ہم ان سوالوں اور خیالوں کو چکر دے کر کوئی کتاب کھول کر نئے خیالات کی جستجو میں لگ جاتے ہیں ۔
    ماضی بھی اچھا ہے لیکن ماضی کی حسین یادوں کو سوچا نہیں جاسکتا ۔ حال بھی ڈستا ہے لیکن حال کے زہریلے پن سے بھاگا نہیں جاسکتا۔ ایک شعر کے مصداق حالت کچھ یوں ہے کہ ؛
    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم
    نہ خدا ملا نہ وصال صنم

  • عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان کا وقاراگر دائو پر لگ جائے تو اس کے پاس باقی کچھ نہیں رہتا۔ سیاستدانوں سے التجا ہے کہ اپنی روش پر نظرثانی فرمائیں۔ نظریات تو پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں دفن ہو چکے۔ جمہوریت کے ساتھ بھی تاریخی ظلم کیا گیا کسی بھی سیاسی جماعت میں جمہوریت باقی نہیں بچی۔ اب سیاست بھی دائو پر لگ چکی ہے۔ اکثریت پارٹی سربراہوں کو چاپلوسوں، ضمیر فروشوں، حاشیہ برداروں کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟ شاید اس لئے کہ ان نام نہاد رہنمائوں نے جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو نظرانداز کیا۔ ریاست اور جمہور کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال کر ہوس اقتدار اور ہوس زر کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔ جس کا خمیازہ یہ خود اور ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ کیا ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی موجود ہے؟ کیا پارلیمنٹ کی بالادستی موجود ہے؟ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو کیا پی ڈی ایم والو ں نے دودھ اور شہد کی نہریں چلوا دیں ہرگز نہیں عوام کا حال تو یہ ہےکہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ اس صبح کی کرنوں سے کون سا خورشید طلوع ہوا ہے۔ کس کے گھر میں چولہا جلنے کی خوشخبری، کہاں بجلی اور گیس کا بحران حل ہوا کس شہر میں غنڈہ گردی کم ہوئی۔ چوریاں اور ڈکیتیاں کہاں کم ہوئیں۔ کیا وطن عزیز خود غرض سیاستدانوں، لینڈ مافیاز، غنڈوں اور لٹیروں کی آماجگاہ بن چکا ہے؟

    خلاصہ یہ ہے کہ ریاست کے مسائل اور عوام کے مسائل کو دیکھا جائے تو ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے ملک و قوم کبھی دوعملی اور دوغلی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتی۔ آج ہر سیاسی جماعت میں دوغلی پالیسی کا راج ہے ملکی سیاسی گلیاروں میں ایک معجزہ ظہور پذیر ہوا ہے کراچی میں جماعت اسلامی نے کامیابی حاصل کی ہے جن لوگوں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کراچی میں اور کراچی تک ہی اور بلدیاتی انتخابات تک محدود رہے گی کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے اثرات پورے ملک آمدہ قومی انتخابات پر بھی پڑیں گے عوام کی اکثریت کا کراچی میں جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔ جماعت اسلامی افراد کی نہیں نظریات کی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے حیدر آباد سندھ کے دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی اور کراچی میں جماعت اسلامی کا راج ایم کیو ایم کی دوغلی پالیسی اور قیادت کا فقدان قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    قصور
    تھانہ بی ڈویژن قصور پولیس کی کاروائی،ڈکیت اسلحہ سمیت گرفتار،ناجائز اسلحہ و نقدی برآمد

    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں
    تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس آئی محمد اسلم و محرر رفیق الدین غوری کو مخبر خاص نے اطلاع دی کہ موضع بلندے والا کھوہ میں دو کس ملزمان بمعہ اسلحہ بآرادہ ڈکیتی موجود ہیں
    نیز اس علاقے میں وارداتیں ہو رہی ہیں جس پہ اہلیان علاقہ سخت پریشان ہیں
    اطلاع پہ فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس پارٹی نے ایس آئی محمد انور کی قیادت میں ریڈ کیا تو کھیتوں میں چھپے ملزمان پولیس پارٹی کو دیکھ کر بھاگ اٹھے جن کا پیچھا کرکے قابو کیا گیا
    گرفتار ملزمان کی شناخت بشارت عرف بشارتی عرف ٹنڈا ولد صادق قوم شیخ موضع پیال کلاں اور ابوسفیان عرف شانی ولد بشیر قوم جٹ موضع کنگن پور کے نام سے ہوئی ہے جن کے قبضہ سے دو عدد ناجائز پسٹل 30 بور تین عدد اینڈرائڈ موبائل فون اور ہزاروں روپیہ نقدی برآمد کی گئی ہے
    ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے
    شہریوں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر بروقت کاروائی کرکے ملزمان کو پکڑنے پر تھانہ بی ڈویژن قصور پولیس کا شکریہ ادا کیا ہے

  • ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    یورپ کے کسی قصبے میں بھکاری نے ایک گھر کے دروازے پر آواز لگائی. مالک مکان دروازے پر بچا ہوا کھانا لایا اس کے سامنے رکھا اور بھکاری سے کہا چلو دعا کریں تم میرے پیچھے دہرانا. عیسائیت میں کھانے سے پہلے کی دعا میں مالک مکان نے جب کہا اے جنت میں ہمارے باپ بھکاری نے کہا "اے جنت میں اس کے باپ” . مالک مکان نے کہا نہیں بولو ہمارے باپ بھکاری نے پھر کہا اس کے باپ.

    مالک مکان نے جھنجھلا کر کہا تمہیں دعا نہیں آتی بولو ہمارے باپ گداگر نے کہا دعا تو آتی ہے لیکن اس رشتے میں پھر میں تمہارا بھائی بن جاتا ہوں جسے عزت و احترام سے گھر میں بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے نہ کہ باسی کھانا گھر کے دروازے کے فرش پر کھلایا جائے. اس لئے جنت میں تمہارے فادر کو یاد کرتے ہیں جس نے تمہیں گھر دیا اور مجھے بھکاری بنایا.

    کہتے تو ہم بھی یہی ہیں کہ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں. اس رشتے پر ہم سب ہی بہن بھائی ہیں. اللہ رب العزت کی ایک تقسیم اور ہماری زندگی کا امتحان ہے جو ہمیں مختلف مقامات پر آزمایا جا رہا ہے. البتہ عزت دینا ہم بھولتے جا رہے ہیں. ہم نہیں جانتے کون کس کشمکش زندگی سے دوچار ہے.؟ کیوں دوچار ہے لیکن عزت نفس تو سب کا حق ہے.

    یہی عزت نفس ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق کہلاتی ہے. یہ عزت ہو تو مشکل سے مشکل امتحان بندہ آسانی سے سہہ لیتا ہے. بے عزت ہو تو چھوٹی تکلیف بھی پہاڑ لگتی ہے. ایک دوسرے کی عزت کریں زندگی سب پر آسان ہو جاتی ہے.

  • یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملے کے دو سال

    یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملے کے دو سال

    امریکی کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے اور آج دو سال مکمل ہو گئے لیکن ٹرمپ پر لگا یہ داغ بدستور قائم ہے.

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    یو ایس کانگریس پر حملہ، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

    تحریر:بلال شوکت آزاد

  • ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ:

    ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی تاجر اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی صدارت سے قبل، ٹرمپ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور میڈیا پرسن کے طور پر جانے جاتے تھے، اور ایک ٹی وی ریئلیٹی شو "دی اپرنٹس” کی میزبانی کے لیے مشہور تھے۔ اپنی صدارت کے دوران، ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور تقسیم نے داغ دار کیا تھا، اور ان کا عہدہ صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز جانا جاتا ہے۔

    سیاسی وابستگی:

    ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے رکن تھے، اور انہوں نے 2016 اور 2020 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر صدر کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ اور ان کے ایجنڈے کی وفادار ہو گی, اس مقصد کے لیے کئی گروپس بنائے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان گروپوں میں سے کوئی ایک قابل عمل تھرڈ پارٹی قائم کرنے میں کامیاب ہوگا یا ریپبلکن پارٹی کی سمت کو نمایاں طور پر متاثر کرنے میں کردار ادا کرسکے گا؟

    ٹرمپ کا دور:

    "ٹرمپ دور” کی اصطلاح سے مراد عام طور پر وہ دور ہے جس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ٹرمپ نے متعدد پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازع بیانات اور ایسے فیصلے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے اور دنیا ووامریکہ آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی صدارت کے دوران کی پالیسیاں:

    صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے دوران کئی اہم پالیسیاں نافذ کیں جن کے مختلف مسائل پر اہم اثرات مرتب ہوئے, ان کی کچھ اہم پالیسیوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    ٹیکس میں کٹوتیاں: ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے کارپوریشنوں اور بہت سے افراد کے لیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی۔

    صحت کی دیکھ بھال: ٹرمپ نے سستی نگہداشت کے ایکٹ کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جسے اوباما کیئر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور متعدد پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد اس قانون کو ختم کرنا تھا۔

    امیگریشن: ٹرمپ نے متعدد متنازعہ امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ، اور ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ آرائیول (DACA) پروگرام کو ختم کرنا شامل ہے۔

    تجارت: ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی کی پیروی کی، کئی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر محصولات عائد کیے۔

    ماحولیاتی ضوابط: ٹرمپ نے متعدد ماحولیاتی ضوابط کو واپس لے لیا اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    خارجہ پالیسی: ٹرمپ نے خارجہ پالیسی کے کئی متنازع فیصلوں پر عمل کیا، جن میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری، اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا، اور کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات میں ملوث ہونا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے دور کی اچھی اور بری چیزیں:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں بہت سے اہم تنازعات اور درحقیقت تقسیم کا شکار رہی۔ ٹرمپ کے دور میں پیش آنے والی کچھ بڑی "اچھی” اور "بری” چیزیں یہ ہیں۔

    "اچھی چیزیں:

    ٹرمپ کی زیادہ تر صدارت کے دوران امریکی معیشت نے ترقی کی اور عوام کو کم بے روزگاری کا سامنا ہوا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی۔

    ٹرمپ نے وفاقی عدالتوں میں قدامت پسند ججوں کو مقرر کیا، جن میں سپریم کورٹ کے دو جج بھی شامل ہیں, اور یہ بظاہر امریکہ کے لیے اچھے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

    "بری چیزیں:

    ٹرمپ نے متعدد متنازعہ اور پابندیوں والی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ شامل ہے۔

    ٹرمپ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو باہر نکال لیا اور متعدد ماحولیاتی ضوابط کو پس پشت کردیا جو کہ نہایت برا فعل مانا گیا۔

    ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی پر عمل کیا جس کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات پیدا ہوئے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑا, بلخصوص امریکہ کی چائنہ سے تجارتی جنگ شروع ہوگئی جوکہ امریکی ملٹائی نیشن کمپنیز کے لیے اچھی ثابت نہیں ہورہی۔

    ٹرمپ کو 2019 میں ایوان نمائندگان کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور 2021 میں دوبارہ امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دار کیا اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا جو موقع بنا وہ الگ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا سال بہ سال مختصراً:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ہر سال کے اہم واقعات اور پیشرفت کا خلاصہ یہ ہے:

    سال 2017:

    ٹرمپ نے 20 جنوری کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جو بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا باعث بنا۔

    ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ تجارتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے نکل جائے گا۔

    ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے سفری پابندی جاری کی جسے بعد میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    سال 2018:

    ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کیے جو کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرتا تھا۔

    ٹرمپ نے بریٹ کیوانا کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیا، لیکن جنسی زیادتی کے الزامات کی وجہ سے کیوانوف کی تصدیق میں تاخیر ہوئی۔ آخر کار سینیٹ سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

    ٹرمپ نے روس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

    ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں تاریخی سربراہی ملاقات ہوئی، لیکن دونوں فریق جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    سال 2019:

    ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، لیکن سینیٹ نے مقدمے کی سماعت میں انہیں بری کر دیا۔

    ٹرمپ نے ایک ایسے بل پر دستخط کیے ہیں جو ایک دہائی میں دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ فراہم کرتا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ, میکسیکو کو ایک "محفوظ تیسرے ملک” کے طور پر نامزد کرے گا، جو پناہ کے متلاشیوں کی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنے کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے محدود کر دے گا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ شام سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

    سال 2020:

    ٹرمپ کو ایوان نمائندگان نے دوسری بار مواخذہ کیا، اس بار امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

    ٹرمپ نے کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے جن میں ایک ایسا بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی مواد کو سنسر کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

    ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن نے شکست دی تھی۔

    سال 2021:

    ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری کو ختم ہوئی، جبکہ جو بائیڈن ریاستہائے متحدہ کے 46 ویں صدر کے طور پر منتخب ہوگئے۔

    ٹرمپ کو 6 جنوری 2021 کوکیپیٹل پر یو ایس کانگریس بلڈنگ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سینیٹ میں مواخذے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی کانگریس پر حملہ:

    6 جنوری 2021 کو، اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے، ٹرمپ کے اس جھوٹے دعوے سے حوصلہ افزائی حاصل کی کہ 2020 کے صدارتی انتخابات ان سے چوری کیے گئے تھے، اس لیے الیکٹورل کالج کے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں حامیوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کیپیٹل پر دھاوا بول دیا۔ کیپیٹل پر حملےکے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ایوانِ نمائندگان کی طرف سے ٹرمپ کو مواخذے کا شکار بنے۔ کیپیٹل پر حملہ امریکہ میں کسی سرکاری عمارت کی سب سے اہم خلاف ورزیوں میں سے ایک تھا۔ امریکی تاریخ میں اس حملے کو جمہوریت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    امریکی کانگریس کے حملے کی وجہ اور اس کا پس منظر:

    کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کے حملے کی ٹائم لائن:

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل:

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر امریکی حکام کا ردعمل:

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    امریکی کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کا مستقبل:

    یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا مستقبل کیا ہو گا۔ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پرحملے کے بعد ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری 2021 کو ختم ہوئی، جب منتخب صدر جو بائیڈن نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کو کیپیٹل میں تشدد کو بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔

    مواخذے کی کارروائی کے علاوہ، ٹرمپ کو کیپیٹل پر حملے سے متعلق اپنے اقدامات کے قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی اور مقامی حکام نے ہنگامہ آرائی میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی، اور تحقیقات کا حصہ بنایا۔ یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ کو اس حملے کے سلسلے میں مجرمانہ الزامات کی بدولت آئندہ عوام میں شدید ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ابھی اس پر کچھ واضح نہیں ہے۔

    قصہ مختصر:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    امریکی دارلحکومت پر حملہ 6 جنوری 2021 کو ہوا، جس میں ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں کیپیٹل پر دھاوا بول دیا، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ اس حملے پر، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

  • افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ استعمال آج بھی بدستور جاری و ساری ہے، کچھ گروہ جیسا کہ ٹی ٹی پی حملوں کی منصوبہ بندی اور تعاون کے لیے ملک کے پہاڑی اور زیادہ تر غیر حکومتی علاقوں کو استعمال کرتے ہیں جن کو کسی نا کسی افغان طالبان گروہ کی پشت پناہی حاصل رہتی ہی ہے۔ یہ مسئلہ اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر امارت اسلامیہ افغانستان چاہے تو بات چیت سے مسئلہ سلجھ سکتا ہے۔

    اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بعض عسکریت پسند گروپوں نے پاکستان پر حملوں کے لیے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے اور آج بھی یہ ان کا بیس کیمپ ہے۔ مثال کے طور پر، افغان طالبان کا ایک ناراض دھڑا جو خود کو تحریک طالبان پاکستان عرف ٹی ٹی پی کہتے ہیں، جو افغانستان میں بھی کئی سالوں سے سرگرم ہے، اور یہی گروہ پاکستان میں حملے کرنے کا میں سر فہرست ہے۔ یہ گروپ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سرگرم رہتا ہے، جہاں وہ سرحد کی غیر محفوظ نوعیت اور افغان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی محدود موجودگی کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہتا ہے۔

    افغانستان میں ان گروپوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہی ہے، کیونکہ افغانستان نے انہیں نسبتاً آسانی کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، ان گروہوں نے افغانستان میں جو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان نے انھیں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور مسلح کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو مزید ہوا دی ہے۔

    افغانستان میں جاری سالوں کے تنازعے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب تر ہوئی ہے، جس نے عسکریت پسند گروپوں کو افزائش نسل فراہم کی ہے اور افغان حکومت کے لیے ملک کی سرزمین پر اپنا کنٹرول رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس نے تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپوں کو نسبتاً استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

    دن بہ دن دونوں ممالک کی سرحدوں پر کشیدگی کی خبریں بڑھ رہی ہیں جو کہ کسی محدود پیمانے کی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتیں ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے قیام پاکستان سے لیکرآج تک افغانستان کے ساتھ دوستانہ بلکہ برادرنہ تعلقات کی کوشش کی ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو سوائے فتنوں اور نقصانات کے اور کچھ نہیں ملا۔

    یہ بات اظہر الشمس واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان پر خواہ اسلامسٹ نظریات کے حامل حکمران مسلط ہوں یا لبرل نظریات کے حکمران, دونوں صورتوں میں پاکستان کو افغانستان سے فقط تعصب, نفرت اور جانی و مالی نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

    پاکستان میں تب تک امن نہیں ممکن جب تک افغانستان سے متصل سرحدیں بند نہ ہوں اور اکثر یہ سوال دانشور طبقے میں زور پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر اور ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان کو لگتی ہیں لیکن اس ملک سے حملے فقط پاکستان پر ہی ہوتےہیں, کیوں؟ اس کیوں کا جواب ہم تو جانتے ہیں لیکن دنیا کو منوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

    مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    استعفوں سے متعلق آئین ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر جو گفتگو آج راجہ پرویزاشرف اسپیکر قومی اسمبلی نے کی وہ ثابت کرتی ہے کہ استعفوں کو لے کر وہ کوئی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کرنے کو ہرگز تیار نہیں آئین اور قانون میں جو لکھا ہے اُس پر من وعن عمل ہو گا۔ آئین اور ضابطوں کے حوالے سے جمہوریت کے پاسبان کے طور پر راجہ پرویز اشرف کا موقف ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔

    آئین اور قانون کی بات کرکے انہوں نے جعل سازی اور دوغلے پن کوجہاں بے نقاب کیا ہے وہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پی ڈیم ایم کے سپیکر نہیں وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اسپیکر ہیں یا وہ جیالے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آئین کے تابع رکھ کر جو گفتگو کی کاش سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی آئین کے مطابق گفتگو کرتے ۔ یوں تو پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر گئے لیکن بہت عرصے بعد وطن عزیز میں اور سیاسی گلیاروں میں آئین ۔ قانون ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے راجہ پرویز اشرف کی ایک عمدہ سیاسی گفتگو جو آئین اور ضابطوں کے حوالے سے انہوں نے کی لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    راجہ پرویز اشرف کی سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی ثابت ہوا انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت انہوں نے استعفوں سے متعلق گفتگوکرکے دیا ۔ ان کا یہ طرزعمل جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے آئین اور ضابطوں کی بات کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے تربیت یافتہ کارکن اوراپنے قائدین کے فلسفے کو جلا بخشی۔بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی قوم کو اُمید دلائی کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے اورجمہوریت سے ہی ملک کا وقارجمہوری دنیا میں ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چند نام نہاد راہنمائوں کو اپنی اپنی سیاسی تربیت اور جمہوری روایات سے آشنائی اور آگاہی حاصل پر توجہ دینی چاہیئے اور جمہوری رویوں اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیئے ۔ میرا استعفی ۔ میرے بندوں کا استعفیٰ،میں نہ مانوں ۔ میں نہیں تو کون والے رویے اور دھمکیاں کسی بھی سیاسی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔ اس سے جمہوریت اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔