Baaghi TV

Category: سیاست

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    استعفوں سے متعلق آئین ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر جو گفتگو آج راجہ پرویزاشرف اسپیکر قومی اسمبلی نے کی وہ ثابت کرتی ہے کہ استعفوں کو لے کر وہ کوئی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کرنے کو ہرگز تیار نہیں آئین اور قانون میں جو لکھا ہے اُس پر من وعن عمل ہو گا۔ آئین اور ضابطوں کے حوالے سے جمہوریت کے پاسبان کے طور پر راجہ پرویز اشرف کا موقف ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔

    آئین اور قانون کی بات کرکے انہوں نے جعل سازی اور دوغلے پن کوجہاں بے نقاب کیا ہے وہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پی ڈیم ایم کے سپیکر نہیں وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اسپیکر ہیں یا وہ جیالے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آئین کے تابع رکھ کر جو گفتگو کی کاش سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی آئین کے مطابق گفتگو کرتے ۔ یوں تو پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر گئے لیکن بہت عرصے بعد وطن عزیز میں اور سیاسی گلیاروں میں آئین ۔ قانون ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے راجہ پرویز اشرف کی ایک عمدہ سیاسی گفتگو جو آئین اور ضابطوں کے حوالے سے انہوں نے کی لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    راجہ پرویز اشرف کی سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی ثابت ہوا انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت انہوں نے استعفوں سے متعلق گفتگوکرکے دیا ۔ ان کا یہ طرزعمل جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے آئین اور ضابطوں کی بات کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے تربیت یافتہ کارکن اوراپنے قائدین کے فلسفے کو جلا بخشی۔بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی قوم کو اُمید دلائی کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے اورجمہوریت سے ہی ملک کا وقارجمہوری دنیا میں ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چند نام نہاد راہنمائوں کو اپنی اپنی سیاسی تربیت اور جمہوری روایات سے آشنائی اور آگاہی حاصل پر توجہ دینی چاہیئے اور جمہوری رویوں اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیئے ۔ میرا استعفی ۔ میرے بندوں کا استعفیٰ،میں نہ مانوں ۔ میں نہیں تو کون والے رویے اور دھمکیاں کسی بھی سیاسی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔ اس سے جمہوریت اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔

  • ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم 2023 میں داخل ہونے والے ہیں۔ایک طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے وطن عزیز میں دوبارہ دہشت گرد ی خودکش حملوں کا سلسلہ جاری ہے فوجی افسران ،فوجی جوان، پولیس اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی انتشار اپنے عروج پر ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی سیاست ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے یقینی کے ایسے خوفناک وقت میں ہم کیسے پُر امید ہو سکتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری معیشت ، ملک میں امن ، دہشت گردی کا خاتمہ ۔ آنے والے سال میں ملک ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرے گا؟ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے ۔سیاسی جماعتیں ریاست ااور اس میں بسنے والے عوام کے لئے متحد ہو جائیں۔ سیاسی انتشار میں کوئی معاشرہ اور ریاست ، اور معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ قومی سلامتی کے لئے نئی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔ ترقی کے لئے پُرامن ماحول میں بہت ہی ضروری ہے۔

    21 ویں صدی میں مل کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں ۔ وطن عزیز کے وسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا کیاجائے ہمارے سیاستدانوں کو اقتداراور صرف اقتدار چاہیئے۔ انہیں ریاست اور عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں ۔آج سیاسی گلیاروں میں اخلاقی اقدار کے معیار گر گئے۔ آج سیاست میں عوام کی موجودگی نہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ۔ ہر طرف اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور ڈاکو سمیت غیر اخلاقی الزامات لگائے جارہے ہیں ۔سیاستدان سیاسی گلیاروں میں ایک دوسرے کی مائوں ، بہنوں ،بیٹیوں اوربیویوں کی سوشل میڈیا پر توہین کرتے نظر آرہے ہیں ان حالات میں سیاست اور ریاست کی حالت کیا ہوگی ؟ ۔

    زمینی حقائق سے کوسوں دورسیاست میں شوروغل مچا ہوا ہے۔ محسوس ہوتا ہے سیاست عوام اور ریاستی مسائل سے بے بہرہ ہو کر تماشوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ موجودہ شور شرابے میں وطن عزیز کی معیشت مستحکم کیسے ہو سکتی ہے ؟۔اقتدار حاصل کرنے والے اوراقتدار کوطول دینے والے ہوش کے ناخن لیں ہمارے اطراف میں دہشت گردی کی آگ دوبارہ لگا دی گئی ہے ۔پاک فوج ،قومی سلامتی کے ادارے ، پولیس اس نئی آگ کو ملک و قوم کو محفوظ رکھنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ سیاستدان بھی ملک وقوم کی خاطر انتشار کی سیاست کو دفن کرکے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں۔

  • ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھتی شرح سود،امریکی ڈالر کی مضبوطی، ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان سمیت دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی شرح سود اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ دی اکانومسٹ نے 53 ممالک کی نشاندہی کی ہے جو یا تو اپنے قرضے ادا کر چکے ہیں یا قرض کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ممالک زیادہ قرض دار بن چکے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جن 53 ممالک قرضوں کی وجہ سے پریشانی کی نشاندہی کی ہے وہ دنیا کی اٹھارہ فیصد آباد ی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے قرض دینے والے کم آمدنی والے ممالک کے لئے قرض میں ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کو لازمی طور پر ادا کرنا چاہئے۔ درمیانی آمدن والے ممالک جیسے لبنان، سری لنکا اور سورنیام پہلے ہی نادہند ہ ہیں۔ جبکہ مصر، گھانا، پاکستان، تیونس سمیت دیگر کو قرض کی شدید پریشانی کا سامنا ہے ارجنٹائن اور ایکواڈور نے پہلے ہی 2020 میں اپنے غیر ملکی قرضوں کی تنظیم نو کر لی ہے عالمی معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو وہ ریلیف دیں جس کی انہیں ضرورت ہے

    ورلڈبنک یا علاقائی ترقیاتی بنکوں کے لئے کریڈٹ کی سہولت فراہم کریں جس سے پریشان قرض دہندگان رضاکارانہ طور پر استعمال کریں۔ یہ سہولت تمام دوطرفہ اور تجارتی قرضوں اور مساوی شرائط پر لاگو ہو اور قرضوں پر دوبارہ گفت و شنید کے دوران اس عمل کا انتظام کرنے والے کثیر الطرفہ بنک کی طرف سے سخت نگرانی کی جائے عالمی معاشی ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس میں شامل ممالک کو تکمیلی کریڈٹ کی پیشکش کر کے قرضوں کی تنظیم نو کے معاہدوں میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کو ہر معاملے کی بنیاد پر ریلیف کے بارے میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس کی تکمیل کثیر الجہتی ترقیاتی بنکوں کی طرف سے مزید عالمی امداد سے کی جانی چاہئے۔ صرف ان ممالک کے لئے جن کو قرضوں میں ریلیف کی ضرورت ہے بلکہ ان کے لئے بھی جو نہیں کرتے اور یقینا تمام ترقی پذیر ممالک کو طویل مدتی قرضوں کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے ساختی اور مالیاتی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہئے۔

  • خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    آئن سٹائن نے جب نظریہ نسبیت theory of relativity پیش کیا تو اس کی بہت دھوم تھی. دور دور سے یونیورسٹیوں کے اساتذہ انہیں اپنے ہاں بلاتے اور نظریہ بیان کرنے کی دعوت دیتے، اس پر سوال جواب کرتے.

    ایک روز وہ حسب معمول کسی دور دراز سفر پر تھے. راستے میں ان کا ڈرائیور کہتا، سر یہ جو آپ لیکچر دیتے ہیں میں نے اتنی بار سن لیا ہے کہ مجھے سارے کا سارا لفظ بہ لفظ ازبر ہوگیا ہے. اگر آپ چاہیں تو آج لیکچر میں دے سکتا ہوں. آئن سٹائن نے کہا کہ سناؤ تو ذرا..

    ڈرائیور نے واقعی حرف بہ حرف درست سنادیا. بیسویں صدی کے اوائل میں ابھی ٹیلی ویژن وغیرہ تو تھا نہیں صرف اخبار میں ایک آدھ بار تصویر چھپی ہوگی. لہذا بہت کم لوگوں نے انہیں دیکھ رکھا تھا.

    سو یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے آئن سٹائن صاحب ڈرائیور بن گئے اور ڈرائیور صاحب آئن سٹائن. لوگوں نے ڈرائیور کی بہت آو بھگت کی اس نے بھی بہت مزے سے لیکچر دیا. جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو تو وہ ایک سوال پر پھنس گیا مگر گھبرایا نہیں.. کہتا یہ تو بہت آسان سوال ہے اس کا جواب تو میرا ڈرائیور بھی دے سکتا ہے… اور پھر ڈرائیور نے جواب دے بھی دیا.

    یونیورسٹی کے زمانے میں کسی استاد سے سنا یہ واقعہ آج خان صاحب کی تقریر سنتے ہوئے یاد آیا.. میرا خیال ہے اگر ایک ہی تقریر بار بار کرنے پر کوئی گینئس بک کا ورلڈ ریکارڈ ہوتا تو خان صاحب وہ آئن سٹائن سے چھین چکے ہوتے. ایک ہی تقریر بار بار سننے کا ریکارڈ البتہ ان کے پیروکاروں سے شاید ہی کوئی چھین سکے.

  • آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی
    اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر سیاسی جماعتیں کون سا اخلاقی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ا یک دوسرے کی آڈیو وڈیو لیک کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز کرنے والے سیاستدانوں نے بلیک میلنگ کی روش اپنا کر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کا جو راستہ اپنایا اُس کی اجازت اسلام بھی نہیں دیتا ۔ اسلام رواداری،برداشت، شرم و حیا اور دوسروں کی عزت و احترام کا جہاں درس دیتا ہے، وہاں بدی کو نیکی سے، شر کو امن ، اندھیرے کو روشنی سے، ظلم کو امن سے ختم کرنے کا بھی درس دیتا ہے ۔

    آڈیو اور وڈیو پر لیکس کے ڈرامے سے مقتدر ایجنسیوں کا کوئی لینا دینا نہیں وہ وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ اس وقت ملکی سلامتی کے اداروں کی پوری توجہ دہشت گردی کے جن کو قابو رکھنے پ مبذول کی ہوئی ہے ۔ کسی بھی سیاسی شخصیت یا پارٹی کو اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے سے اجتناب برتنا چاہیئے ۔ موجودہ قومی سلامتی ادارے کے سربراہ جنرل ندیم انجم پاک فوج کا فخر ہیں ان کا تعلق غازیوں، شہیدوں کی سرزمین کے ساتھ ساتھ شہیدوںاور غازیوں کے خاندان سے ہے ۔ ان کی تربیت ان کے حقیقی ماموں( مرحوم) بطور کیپٹن پاک فوج میں سرانجام دیتے رہے جبکہ ان کے حقیقی بھائی افواج پاکستان میں بطور آفیسر جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔

    کسی کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا یا کسی کو بے توقیر کرنا ان کی شخصیت اور خاندان اورتربیت کا ہرگز خاصا نہیں ۔ایک بے داغ بے لوث اور اعلٰی اخلاقی دار کے حامل خاندان سے ان کا تعلق ہے ۔ کسی بھی سیاسی سرکل کو بے جا الزام تراشیوں سے گریز کرنا چاہیئے ۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے اس وقت دشمنان پاکستان کے بدخواہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں کسی بھی غیر مناسب پروپیگنڈے کو عوام پاکستان وطن عزیز کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ۔ سیاستدان معاشی، بدحالی اور سیاسی بے یقینی اور مالیاتی دیوالیہ پن کے خطرات جو منڈلا رہے ہیں اُس پر توجہ دیں۔ سیاستدان آڈیو اور ویڈیو کے کاروبار کو فوری بند کریں ان کے اس کاروبار سے وطن عزیز کے مستقبل کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اخلاق سوز جنگ کا بائیکاٹ کریں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے ۔

  • "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ماما پھلا دھوپ میں بیٹھا مالٹوں پر حملہ کرنے میں مصروف تھا کہ آواز آئی۔ "کوٹ لے لو، بنیان لے لو، جرابیں لو”۔ پنچابی زبان والا”ماما”، ضروری نہیں کہ آپ کی اماں کا بھائی ہو۔ گاؤں میں ہر وہ شخص آپکا ماما ہے کہ جس کے ساتھ آپ گھنٹوں گپیں ہانک سکیں۔
    دروازے سے ہی ماما جی نے پھیری والے خان کو رکنے کا کہا۔ "یہ کوٹ کتنے کا ہے خان صاب”، مامے پھلے نے کوٹ پہنتے ہوئے خان سے پوچھا۔ "ساڑھے تین ہزار کا صرف تمہاری خاطر”۔

    خان نے کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی پہن رکھی تھی۔ جسکا سنہری رنگ اسے بار بار دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔مامے پھلے نے خان کی کلائی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، ” خان فار سیل ہے”۔

    قہقہ لگاتے ہوئے خان بولا۔

    "ہم قادر خان ہے، عمران خان نہیں”۔ خیر پندرہ سو میں کوٹ لے کر میں اور ماما پھلا گھر کی طرف چل پڑے۔ماما جی کیا خان نے واقعی گھڑی بیچی ہوگئی؟ ماما پھلا بولا "پتہ نہیں۔۔۔۔۔(چند منٹ کی گہری خاموشی کے بعد قدرے غصے میں)مان لیا بیچی بھی ہے تو کیا باقی صادق و امین ہیں سارے؟۔۔۔۔۔۔۔ خیر مامے پھلے نے اور کیا کہا اسے چھوڑیے "خان فار سیل ہے” سے منصور آفاق صاحب کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔ وہ دیکھیے

    گرہ میں مال ہے جس کے، خرید سکتا ہے

    کہیں عمامہ کہیں ہے ردا برائے فروحت

    وفا کی، ان سے توقع کریں تو کیسے کریں

    جنہوں نے اپنی جبیں پر لکھا برائے فروخت

    یہ لوگ کیا ہیں ؟حمیت کامول مانگتے ہیں

    یہ ننگ ِ ملک، یہ اہل ِ قبا برائے فروخت

    دعائیں دے ہمیں ، تجھ کوخرید لائے تھے

    کسی زمانے میں تُو بھی تو تھا برائے فروخت

    یہ خوش خطوں کا ہنر ہے یہ دلبروں کا طریق

    جفا برائے محبت، وفا برائے فروخت

    رُکے تھے کنج گلستاں میں ہم بھی کل منصورؔ

    کہیں تھے گل کہیں بادصبا برائے فروخت

    چند دن پہلے خان کی گھڑی سے متعلق ایک آڈیو لیک سامنے آئی۔ جس میں زلفی بخاری کو بشریٰ بی بی سے سلام کرنے کے بعد ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اس کے بعد بشریٰ بی بی زلفی بخاری سے یہ کہتی ہیں کہ "خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو بھیج دوں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کی یہ بات سننے کے بعد جواب میں کہا کہ”ضرور مرشد میں کردوں گا، میں کر دوں گا جی”۔

    اس آڈیو لیک بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ قصور مرشد کا ہے، مرید کو ہم ویسے ہی قصوروار ٹھہرا رہے تھے۔

  • ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ  رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی
    پاک فوج ملکی سلامتی کے ادارے پولیس ، اس وطن عزیز اوربسنے والے کروڑوں عوام کی خاطر شہید ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اورقومی سلامتی کے ادارے کئی محاذوں اورآزمائشوں سے گزر رہے ہیں ۔ دشمن کی بھاری تخریب کاری کا مقابلہ جاری ہے ۔ سیاستدانوں کا کام عوام کے مسائل کو حل کرنا تھا مگروہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے سیاستدانوں نے ہی اس حال تک پہنچایا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان سے باز پرس کون کرے گا؟ جو ان سے باز پُرس کرنے والے ہیں وہ ڈھول کی تھاپ پر ان کے آگے بھنگڑے ڈالتے ہیں اوروقت آنے پر ووٹ بھی انہی کو دیتے ہیں ۔عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم بھی ہوتے ہیں اور غربت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے تخریب کاری بھی جاری ہے اوراقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے والوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

    قوم بے فکر رہے تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے موجودہ فوجی جرنیل اور ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں بھارت کی حکمت عملی کو خاک میں ملا دیں گے۔ قوم کو بلوچستان اور پاک افغان سرحد پر ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں ،پولیس کے شہداء اور غازیوں جو مادر وطن کے لیے اپنا خون بہا چکے ہیں اور انہی کے راستے پر چلتے ہوئے ان کے سینکڑوں ہزاروں ساتھی ملکی بقا اور سلامتی کے لیے نبرد آزما ہیں ۔ ہماری افواج کے افسر اور جوان وطن عزیز اور کروڑوں عوام کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔

    ہمارے شہداء اور غازی اس بات کے حقدار ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے ۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں ۔ اپنی انائوں کی سولیاں اکھاڑ لیں جن پر مصلوب کرتے ہیں اور کبھی قوم کے مفادات کو قومیں کبھی دو عملی اوردو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتیں ۔ فوجیں کبھی قوم کی پشت پناہی کے بغیر فتح یاب نہیں ہوا کرتی۔ خود پسندی ، انا پرستی اور منافقت کو خیر باد کہہ کر قومی یکجہتی کے دھارے میں شامل ہونے کا لمحہ ہے ۔ ایک طرف معاشی بحران دوسری طرف تخریب کاری۔ملکی سالمیت اور بقاء کے لئے قوم کے مسائل کے حل کے لیے نفرتوں کو دفن کریں۔

  • تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    جناب عمران خان صاحب! جس گھڑی کو آپ ذاتی بتاتے پھر رہے ہیں وہ آپ کی ذاتی نہیں تھی کیونکہ ہیروں والی گھڑی سمیت 1.2 کروڑ ڈالر کی لگ بھگ مالیت کا ’’گراف‘‘ کا سیٹ سعودی ولیٔ عہد نے آپ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو گفٹ کیا تھا۔نہ صرف آپ نے امانت میں خیانت کی اوراخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا بلکہ قانون کی درج ذیل خلاف ورزیاں کیں:

    1۔ قانون کے مطابق سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ ملتے ہی وہاں تعینات پاکستانی سفیر کو ان تحائف کی بابت توشہ خانہ کے انچارج کو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہئے تھامگر آپ نے سفیر کو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر رپورٹ بھجوانے سے منع کر دیا۔

    2۔قانون کا تقاضا تھا کہ سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف آپ کابینہ ڈویژن یا پی ایم آفس کے Designated افسر کے سپرد کرتے جو پاکستان پہنچ کر مذکورہ تحائف (قواعد کے مطابق) توشہ خانہ میں جمع کراتامگر آپ اسے اپنے ذاتی luggage کے ساتھ سیدھے بنی گالا اپنے گھر لے گئے اور توشہ خانہ کے اسٹاف کو ان تحائف کی شکل تک دیکھنے نہیں دی ۔

    3۔ رولز کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ 2019 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ میں جمع ہوتے اور پھر آپ بطور Recipient مذکورہ تحائف کو Retain کرنے کی تحریری درخواست مع بیان حلفی انچارج توشہ خانہ کو بھجواتےمگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔

    4۔تحائف Retain کرنے کیلئےآپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد انچارج توشہ خانہ 15روز میں (رولز کے مطابق خط بھجواکر) ایف بی آر سے اور مارکیٹ سے اپریزر بلاتا جو مذکورہ تحائف کا ایگزامینیشن اور پرائس ایویلیوایشن کرکے مارکیٹ نرخوں کے مطابق قیمت کاتعین کرتے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ مذکورہ تحائف توشہ خانہ میں لائے ہی نہیں گئے اور آپ کی ہدایت پر بغیر اپریزل کے مذکورہ تحائف کی Retaining کی رسمی کارروائی پوری کی گئی۔

    5۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ رولز کے مطابق توشہ خانہ کی پرائس ایویلیوایشن کمیٹی بنائی جاتی جو ایف بی آر اپریزر اور پرائیویٹ اپریزر کی تعین کردہ قیمتوں کا جائزہ لے کر سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف کی حتمی قیمت کی منظوری دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    6۔ آپ کی حکومت نے دسمبر 2018 میں توشہ خانہ رولز آف پروسیجر آفس میمورنڈم میں ترمیم کرکے تحائف کی Retaining Fee مارکیٹ پرائس کے 20 فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کردی تھی مگر 2019میں سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘ کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaing کے معاملے میں انچارج توشہ خانہ نے جعلی اپریزل کے ذریعے انڈر پرائسنگ کرکے جو قیمت متعین کی وہ 10کروڑ روپے تھی اس کے برعکس آپ کی طرف سے Retaining Fee محض دو کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اس طرح آپ نے 20 فیصد ادائیگی کرکے اپنے ہی بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی۔

    7۔ آپ نے سعودی ولی عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘کے (1.2 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ مالیت کے) ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaning کیلئے جو 2 کروڑ روپے کی معمولی رقم ادا کی وہ آپ کےذاتی اکاؤنٹ یا آپ کے نام سے پے آرڈر کے ذریعے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئی بلکہ ان تحائف کو بیرون ملک بیچنے کا انتظام کرنے والے معاون خصوصی کی طرف سے مذکورہ رقم جمع کروائی گئی۔

    8۔ آپ نے دوست ملک سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘ کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ (جس میں ایک گھڑی، ایک انگوٹھی ،دو کف لنکس اور ایک قلم شامل تھا) اور غیرملکی دوروں میں ملنے والے دیگر تحائف اندرون وبیرون ملک کی مارکیٹوں میں بیدردی سے فروخت کردئیے۔ حالانکہ یہ تحائف آپ نے نیلامی میں نہیں خریدے تھے بلکہ توشہ خانہ سے Retain کئے تھے اور Retaining کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قانون میں غیرملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی Retaining کی اجازت Recipient کو اس لئے ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی درخواست میں لکھتا ہے کہ ’’یہ تحفہ مجھے فلاں اہم شخصیت نے پیش کیا تھا جو میرے لئے یادگار ہے اور میں اسے بطور یادگار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،‘‘ اسی لئے ہر Recipient کو Retaining کیلئے ایک بیان حلفی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لف کرنا پڑتا ہے۔

    9۔ آپ نے سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ دبئی فروخت کرنے کیلئے ایکسپورٹ NOC کے بغیر نجی جہاز پر بیرون ملک اسمگل کروایاجس کا شعبہ کسٹم کے ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں۔

    10۔عمران خان کی اس حرکت کی پاداش میں پاکستان کو 3ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ کی واپسی اور موخر ادائیگی پر تین ارب ڈالر تیل فراہمی کے معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔

    کیا ان حقائق اور قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد آپ کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ میری گھڑی، میری مرضی؟

    خیراندیش…رانا ابرار خالد

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔