Baaghi TV

Category: سیاست

  • کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟  — ابو بکر قدوسی

    کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟ — ابو بکر قدوسی

    یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوئی لوگوں کو کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت ہی نہیں دیا ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

    اسلام نے بس اتنا کیا ہے کہ انتخاب حاکم کی حد تک مختلف آپشنز کو کھلا رکھا ، لیکن اس حاکم کو بھی طریق حکومت میں ہرگز مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا ۔

    اور حاکم کا اگر عوامی انتخاب کیا جائے گا تو اس میں بھی لوگوں کو پابند کیا اور نظائر سے واضح کیا کہ معیار کیا ہونا چاہیے ۔

    اور کوئی حاکم انتخاب کے بغیر بھی سریر آرائے سلطنت ہو جاتا ہے تو اسے پابند رکھا کہ وہ ان امور کا خیال رکھے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اموی اور عباسی دور حکومت میں ہرگز خلیفہ یا بادشاہ کی زبان سے نکلے الفاظ کو قانون نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ بعد میں عثمانی دور میں اور ہمارے ہاں برصغیر کی بادشاہت میں نظر آتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان ابتدائی ادوار میں خلیفہ کے کسی اقدام کو اگر کسی نے چیلنج کیا ، یا اس کے دربار میں روکا اور ٹوکا تو بنیاد قران و سنت کے احکام کو ہی بنایا ۔

    اسی طرح اگر جمہوریت میں حکمران کا انتخاب ہوتا ہے تو بھی عوام اور حکام اس انتخاب میں مکمل آزاد نہیں ہیں ۔ بطور مثال ایک ضابطہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک معزز بزرگ نے کسی علاقے کی امارت طلب کی تو آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ہم طلب پر عہدے نہیں دیتے ۔۔۔۔یوں یہ اصول طے پا گیا کہ طلبگار کو عہدہ دینا خلاف ضابطہ ہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ نظام امارت و حکومت کا مکمل طریقہ اسلام کے ہاں موجود ہے ۔

    اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا ۔

    اسلام نے جزیات تک پر بحث کی ہے اور یہ تک طے کر دیا ہے کہ حاکم کا لباس کیسا ہو گا ، اسے عوام کے سامنے کیسے جانا ہے ، ملکی خزانے کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہو گا ، اور اس کی ذمے داری کہاں سے کہاں تک ہو گی ، عوام کے حقوق اس پر کیا ہوں گے اور مملکت پر کیا ۔

  • گھڑی چوری‘ قبل از وقت الیکشن کا راگ عام آدمی کے مسائل نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    گھڑی چوری‘ قبل از وقت الیکشن کا راگ عام آدمی کے مسائل نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    گھڑی چوری‘ ڈیلی میل سے بریت اور قبل از وقت الیکشن کا راگ عام آدمی کے مسائل نہیں۔ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ امن و امان کا فقدان‘ صحت اور تعلیم کی سہولیات کا ناپید ہونا گڈ گورننس عوام کے مسائل ہیں جن پر نہ ہی گزشتہ حکومت نے توجہ دی اور نہ ہی موجودہ سیٹ اپ ان بنیادی مسائل کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ میڈیا اپنی آزادی میں مختلف الخیال سیاسی پارٹیوں کے اشاروں پر ڈھول بجا رہا ہے اور عوام کے اصل مسائل کو سیاسی شور شرابے میں دبائے جارہا ہے اور عوام کی آواز و چیخ و پکار سے بے خبر ہے۔ میڈیا نے اپنی حقیقی آزادی سیاسی قربان گاہوں کی بھینٹ چڑھا رکھی ہے اور سیاسی جماعتوں نے اقربا پروری‘ بدعنوانی‘ سفارش اور اقتدار کی ہوس کی جنگ میں عوام کو مسائل کی چکی میں پیسنے میں بے رحمی بے حسی کی حدود کو پھلانگ دیا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے قومی سیاست کا دھارا عوامی مسائل اور ریاستی مسائل کی طرف سے کسی دوسری طرف موڑ دیا گیا ہے۔ نان ایشو پر باتیں ہورہی ہیں۔ اجتماعی سوچ کا بھی کوئی تصور ہوتا ہے۔ عوامی مفادات اور ریاستی مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاسی کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے عام آدمی بجلی کا بل دینے سے قاصر ہے۔ ملک کے معاشی حالات ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ مل بیٹھ کر معیشت کی بہتری کے لئے تجاویز دیں لیکن افسوس صد افسوس ریاست کی بجائے سیاست کو مقام دیا جارہا ہے۔ عجب بے معنی شور نے مشکلات ممیں گھرے عوام کے کان مائوف کردیئے ہیں۔ ایک دوسرے کی آڈیو‘ ویڈیو کا کھیل جاری ہے مسخرے پن کی حدود کو کراس کیا جارہا ہے قومی فریضہ کیا ہے قومی سلامتی کیا ہے ملکی بقا کیا ہ ے اس سے بے خبر ہو کر معاشرے میں ایسا گند پھیلایا جارہا ہے خدا کی پناہ۔ آج کے دور کو دیکھ کر اسے پرانتشار دور کا نام دیا جاسکتا ہے۔ موجودہ پرانتشار دور میں عوام کی ضروریات اور ان کے سلگتے مسائل سے کسی کو کوئی واسطہ نہیں ہے۔

  • سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آ ج کل سیاست کے بازار میں سودا گری ہو رہی ہے ایک سوداگری کا ذکر جاتے جاتے سابقہ آرمی چیف جنرل باجوہ کر گئے صرف وزارت عظمیٰ کے لئے ایسی سوداگری کی کہ آدھا ملک گنوا بیٹھے۔ آج ایسی سوداگری تو نہیں کی جا سکتی تا ہم شہباز شریف اینڈ کمپنی جمع پی ڈی ایم کی سیاسی سوداگری نے عمران خان اور اُن کی جماعت تحریک انصاف کو مقبول ترین بنا دیا ہے ۔ جب سے پرجوش اور خوفزدہ وزرا نے طاقت کا استعمال شروع کیا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گراف بڑھتا جارہا ہے ۔ پرجوش وزرا کے لئے یہ خبر ہے کہ طاقت کا استعمال اب مشکل ہوگا۔ فوج نے صاف کہہ دیا ہے کہ اپنے مسئلے خود حل کریں فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ویسے بھی فوج خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میں کیسے دخل دے سکتی ہے ۔ فوج اپنے اصل کام میں مصروف ہے فوج ایک مقدس جنگ میں مصروف ہے۔ ملک وقوم کی حفاظت پر مامور فوجی جوان غازی اور شہید کا رتبہ حاصل کرنے میں رہتے ہیں۔

    ملک کے ممتاز صحافی ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس سپریم کورٹ نے لے لیا ہے جب سے ارشد شریف قتل ہوئے راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں سمیت سیاسی وسماجی اور وکلاء اس قتل کا نوٹس لینے کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ پاکستان سے لے کر کینیا تک لہو کا سفر ارشد شریف نے کیسے طے کیا اس قتل میں کون شامل تھے؟ ارشد شریف کی افسوسناک مگرپراسرار موت نے صحافتی دنیا میں ایک بھونچال برپا کردیا ہے ۔

    تازہ ترین سیاسی صورت حال کے بارے میں مخبروں نے اطلاع دی ہے کہ پنجاب اسمبلی برقرار رہے گی اور کے پی کے میں مخبر سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں۔ اصل اقتدار کے مزے مخبروں کے ہی ہوتے ہیں ۔ صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم اقتدار کے مزلے لے رہی ہے کے پی کے میں جمعیت علمائے اسلام کے گورنرہیں پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے ق لیگ اقتدار کے مزے میں رہتی ہے ۔ بڑی سیاسی جماعتیں دست وگریبان ہیں ۔ جمہور سیاسی تماشوں سے لطف اندوزہو رہے ہیں موجودہ سیاسی انتشار میں عوام کے بنیادی مسائل دب کررہ گئے پنجاب کے سرکاری کالجوں میں پروفیسرز کی کمی پنجاب کے سلطان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ پنجاب کے سرکاری کالجوں میں غریب کے بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

  • سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہے۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ خطے کی تازہ ترین صورت حال کو بھی مدنظر رکھیں بالخصوص افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے اثرات اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ عمران خان بھی اقتدار میں ہے اور پی ڈی ایم بھی اقتدار میں ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں کوسوں دور ہیں ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایسے ایسے ناٹک اور عوام کو ایسے ایسے موضوعات میں الجھا رکھا ہے کہ خدا کی پناہ، مثلاً پہلے آرمی چیف کی تعیناتی کو لے کر قوم کو بحث پر لگا دیا یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک میں آرمی چیف کا تقرر ہونے جا رہا ہے۔ اب کہیں سے تحریک عدم اعتماد کہیں سے گورنر راج۔ کہیں سے اسمبلی توڑنے کی باتیں کہیں سے قومی انتخابات کی باتیں کی جا رہی ہیں تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بالخصوص افغانستان اور ملک و قوم کے مفاد میں سیاسی انتشار جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا اس وقت جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے اور سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی ایک بڑی اور مقتدر پارٹی ہے جس کی شرافت اور اصول و ضوابط کے قائل ان کے بدترین دشمن بھی رہے ہیں مولانا مودودی مرحوم کی تحریر و تقدیر جماعت کے تمام ساتھیوں اور رفقاء کے سینوں میں پیوست ہے۔ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار میں جماعت اسلامی کے امیر اپنا کردار ادا کریں ملک میں سیاسی عدم استحکام کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی جان کی دشمن بن چکی ہیں۔ ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ہیں سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی ہے سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں

  • میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پاک آرمی اور مسلح افواج کے سربراہان کی میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ہے جس کے دور رس نتائج اور ثمرات ملک و قوم کو ملیں گے۔ مسلح افواج کی موجودہ اور آئندہ قیادت ایک عرصے سے یقین دہانیاں کرا رہی ہے کہ افواج پاکستان غیر سیاسی اور نیوٹرل رہنا چاہتی ہیں اور سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں اور مسلح افواج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ قربان جاؤں میں اپنے میڈیا ہاؤسز اور اینکر پرسنز ، سوشل میڈیا پر جنہوں نے عسکری تقرریوں کے فوراً بعد اپنی اپنی سکرینوں پر سرشام اپنی اپنی بزم سجا کر ایک نئے جذبے سے مباحثے چھیڑ کر بلاضرورت تبصرے اور تجزیئے شروع کردیئے ۔ کیا ملک و قوم کے یہی ایشوزرہ گئے ہیں؟

    اس وقت اسلام آباد اور پنجاب میں سیاسی رہنمائوں نے اپنی من پسند انتظامی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کر کے نہ صرف پنجاب بلکہ اسلام آباد کی معصوم عوام کو چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم پیشہ کے حوالے کر دیا ہے۔ پنجاب کے سلطان وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کو نوجوان نسل جو پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں کے کالجز میں پڑھ رہی ہے پروفیسروں کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کم عمر مزدوروں کی کھیپ آبادی میں اکثریت حاصل کر رہی ہے ۔ بیماریوں میں مبتلا بوڑھے ،بچے ،خواتین سندھ، بلوچستان، پنجاب ، کے پی کے اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ غربت، بیروزگاری ، جہالت، جرائم میں بے پناہ اضافہ یہ وہ ایشوز ہیں جو عام آدمی کے ایشوز ہیں۔ عام آدمی کے مسائل کو پس پشت ڈال کر سیاسی پنڈت اور میڈیا عسکری تقرریوں کو موضوع بحث لاکر کون سی عوامی خدمت سرانجام دینے جا رہی ہے

    آدھی سے زیادہ آبادی کو اور بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جا رہا ہے۔ جعلی ادویات، ملاوٹ شدہ خوراک، ذخیرہ اندوزی، زمینوں پر قبضے، سول بیورو کریسی کے ناز نخرے، نام نہاد سیاسی رہنمائوں کا غرور اور تکبر۔ خدا راہ اس ملک اور اس کی عوام پر رحم کریں کسی بھی ملک کی طاقت اور رونق عوام ہوتی ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • ملک و قوم کی خاطر انتقامی سیاست دفن کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک و قوم کی خاطر انتقامی سیاست دفن کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روز مرہ کا معمول بن چکا ہے آج کی سیاست میں اور سیاسی جماعتوں میں خلیج اتنی وسیع ہے کہ ہوس اقتدار میں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا مشکل ترین نظر آرہا ہے ۔ کسی زمانے میں سیاستدان ملک اور قوم کی خاطر جمہوریت کی خاطر مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ سیاسی جماعتوں میں ایسے ایسے افراد شامل ہو چکے ہیں اور ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی ان کو اہمیت دینے لگا ہے جن کی زبانوں سے گالی گلوچ اور من گھڑت الزامات کے علاوہ کچھی نہیں ہوتا۔ ملک کے جو حالات ہیں اور عوام پر جو گزر رہی ہے ایسے سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر ملک وقوم کے بارے سوچ رکھتے ہوں۔

    اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھارسے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو پاکستان روانہ کیا تھا مگر ملکی سیاسی انتسار اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسحاق ڈار بہت کچھ کرنے کے باوجود ڈوبتی معیشت کو سہارا تو دے رہے ہیں اورساتھ اپنے بیانات کے ذریعے اپوزیشن کو باور کروا رہے ہیں کہ ملک وقوم کی خاطر اپنی زبانوں کو لگام دیں ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی ڈیفالٹ کیا نہ کرے گا۔ مگر سیاسی انتشار اور ہوس اقتدار نے سیاستدانوں کو ملک کے وقار اورعزت کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ موجودہ حالات میں فہم وفراست اور سوچ بوجھ کا مظاہرہ بنا سکتا ہے ۔ باقی تمام راستے غلط ہیں جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہاہے وہ راستہ جمہوری نہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا ، وی لاگرز کوبھی وطن عزیز کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا قوی مفادات اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا ۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالادستی ، منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں پر چلنا چھوڑ دیں ملک وقوم کی خاطر انتقامی سیاست کو دفن کریں ملکی بقا و سلامتی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردارادا کریں۔

  • وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    تحریک آزادی ہند میں کلیدی اور قائدانہ کردار دینی قیادت کا تھا جو بدقسمتی سے پاکستان میں ایک خاص متعصب گروہ کے سبب پس منظر میں چلا گیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دراندازوں نے ہندستان پر قبضہ کیا تو مزاحمت کار افراد کی قیادت دینی پس منظر کے حاملین نے کی ، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان مزاحمت کاروں میں ہر مذہب و طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے ، یعنی مسلمان اور غیر مسلم ۔

    اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے جلد بعد عسکری مزاحمت اپنے اختتام کو پہنچی اور ہندستان پر انگریزوں کا قبضہ مستحکم ہوتا چلا گیا ، حتیٰ کہ ہندستان میں انگریز کسی حد تک پرسکون طور پر حکومت کرنے لگے ۔

    لیکن آزادی کی تڑپ قلب و اذہان میں زندہ تھی ، سو یہ عسکری جدوجہد سیاسی تگ و تاز میں بدل گئی جس کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ انگریزی حکومت میں رہتے ہوئے ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کیے جائیں ۔ ابتداء میں کانگرس کے مقاصد بھی محض نئے حاکموں کا اعتماد حاصل کرنا اور ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا تھا ، جو بعد میں آئینی طور پر شہری حقوق کے حصول میں بدل گئے اور جب انگریز پہلی جنگ عظیم میں الجھ کر کچھ کمزور ہوئے تو اہداف آزادی کی تحریک میں بدل گئے ۔۔

    حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم میں باوجود فتح کے انگریزوں کی معاشی حالت کی خرابی اور عسکری کمزوری نے مکمل آزادی کی لگن مقامی سیاسی جماعتوں میں پیدا کر دی ۔۔۔یعنی یہ ان کو اب ممکن نظر آنے لگا ۔

    مسلم لیگ کا قیام ابتدائی طور پر صرف اسی نظام میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا تحفظ تھا اور ابتدا میں کانگرس سے الگ کوئی سیاسی اہداف بھی نہ تھے اور اس کو چیلنج بھی نہیں کر رہے تھے لیکن جلد ہی وہ متحارب جماعت بن گئی ۔۔۔۔بدقسمتی سے تحریک پاکستان سے پہلے محض تحریک آزادی کو فوکس کیا جائے تو مسلم لیگ کا کوئی نمایاں کردار دکھائی نہیں دیتا ، یہی وجہ تھی کہ آزادی کی لگن اور تڑپ کے حاملین مذہبی رہنما لیگ سے دور ہی دور تھے ۔۔۔۔۔اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی ہمارے پاکستان میں تحریک آزادی جیسا کوئی بھولا ہوا باب ہو جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

    یہ چند لائنیں ہرگز اس تاریخ کا احاطہ نہیں کر سکتیں لیکن اختصار مطلوب ہے ۔۔۔۔

    مسلم لیگ کی سیاست تو۔ انیس سو چھے میں شروع ہو گئی تھی ، لیکن اس کا فوکس بہت محدود تھا جس میں صرف مسلم حقوق کی بات تھی ہندوستان کی آزادی سے زیادہ اس کی سیاست کانگرس کا مقابلہ بن کر رہ گئی تھی ، جو بعد میں مطالبہ پاکستان کے بعد مزید ہی یک نکاتی ہو گئی ۔۔۔۔اب مسلم لیگ کا اول و آخر مقصد ہندوستان سے دو علاقوں کو الگ کر کے پاکستان بنانا تھا جبکہ اس کے مقابل کانگرس پورے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی ۔۔۔

    یہاں درست نادرست کی بحث نہیں کر رہا صرف دونوں جماعتوں کی سوچ و فکر اور اہداف کا احاطہ کرنا مقصود ہے ۔

    حقوق کی جنگ جب الگ وطن کے حصول میں بدل گئی تو بھی مذہبی افراد کی اکثریت متحدہ ہندوستان کی حامی تھی ، لیکن حالات جوں جوں کشیدہ ہو رہے تھے ، مسلم لیگ کی مقبولیت اور تعداد بڑھ رہی تھی ۔اور یہ تقسیم ، توڑ پھوڑ و آمد سارے مسالک میں تھی ۔

    اب اہم ترین بات یاد رکھیئے کہ دونوں طرف کے لوگ اسلام ، ملک اور قوم کے ساتھ مخلص تھے اور انتہائی دیانتداری سے اپنے نظریات پر ڈٹے ہوئے تھے ، دوسرے لفظوں میں یہ ایک اجتہادی اختلاف تھا جس میں دونوں فریق اخلاص پر قائم تھے ۔

    اس لیے کسی جماعت کے ساتھ رشتہ ہرگز باعثِ فخر نہیں ہے ۔ہاں جب کبھی ہندستان کی پچھلی نصف صدی سے جاری توڑ پھوڑ کا عمل ختم ہو جائے گا اور ٹوٹی کشتی پار لگے گی تو تاریخ کا طالب علم دو ٹوک فیصلہ کر سکے گا کہ کون سا فریق حق پر تھا اور کامیاب رہا ؟
    ابھی تو سفر جاری ہے ، اور بحث کے نکات و دلائل موجود ۔۔۔۔ہاں میری نظر میں متحدہ قومیت والوں کے دلائل کا پلڑا بھاری ہے ۔

    کل سے ہمارے اہل حدیث احباب میں بعض شخصیات کے حوالے سے بھی ایک بحث جاری ہے کہ کون کون سا بزرگ کس جماعت کا حامی تھا اور کون مخالف ۔

    لمبا موضوع ہے ، لیکن مختصراً بتاتا چلوں کہ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی تو مسلم لیگ کے اتنے شدید حامی تھے کہ مولانا ابوالقاسم فاروقی لکھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو جیسے مسلمان سمجھنے میں بھی مشکل کا شکار ہوتے تھے کہ مسلم لیگ میں شامل نہ ہوں ۔۔۔۔یہاں مبالغہ ان کے مزاج کی شدت کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے ۔

    جبکہ مولانا اسماعیل سلفی تو آخر دم تک کانگرسی سوچ یعنی متحدہ ہندوستان کے حامی تھے ۔

    مولانا داؤد غزنوی البتہ پاکستان بننے سے قریب سال بھر پہلے مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ یہ حالات کا جبر تھا جس کی تفصیل کا محل نہیں ہے ۔

    مولانا ثناء اللہ امرتسری پہلے کانگریس کے حامی تھے اور ساتھ ہی ساتھ جمیتہ علمائے ہند کے نائب صدر تھے ، اور جمیعت علمائے ہند کا سیاسی موقف واضح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں نہ قابلِ بحث ۔۔۔۔۔البتہ امرتسر میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے آل انڈیا اجلاس کی میزبانی اور صدارت بھی آپ نے کی تھی جو تقسیمِ وطن ہندوستان سے صرف سال بھر پہلے ہوا ، جبکہ انیس سو پینتالیس میں تو مولانا جمیت علمائے ہند کے نائب صدر تھے ۔۔۔۔یعنی یہ اکھاڑ پچھاڑ سب آخری سو برسوں میں ہوئی کہ جب تقسیم ہند ہونا صاف دکھائی دینے لگا اور سلامتی کا راستہ کچھ اور نظر نہ آ رہا تھا ۔

    چلتے چلتے یاد آیا کہ مولانا کا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا جو فسادات میں شہید ہوئے ، مولانا کا پریس لٹ گیا ، قیمتی لائبریری کو آگ لگا دی گئی ۔۔۔لٹے پٹے پاکستان آئے ، آ کر مسجد چینیاں والی میں قیام کیا ، مولانا میر سیالکوٹی ، مولانا داؤد غزنوی اور غالباً مولانا عطاء اللہ سب آپ کے گرد بیٹھے ان کے دکھ میں غم زدہ تھے۔ ۔۔۔۔۔محفل پر غم کے بادل تھے مولانا کی حالت کے سبب کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔مولانا ہی بولے "ابراہیم یہ تھا تمہارا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔”

    یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ اہل حدیث جماعت کے اس دور میں اور بھی بڑے بزرگ تھے جو اس وقت اساطین علم و فضل تھے اور ان کی اکثریت کو مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں تھا.

    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر مسلک کی یہی کہانی ہے ۔۔۔۔۔اور جبر یہ ہے کہ ہندستان میں ہر گروہ کے حاملین اپنے اکابرین کو متحدہ ہندوستان کا حامی اور پاکستان میں تحریک پاکستان کا مرکزی کردار ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ ۔۔

    برادران ، یہ وہی حالات کا جبر ہے کہ جس کا سامنا ہمارے بزرگ ستر برس پہلے کر رہے تھے اور ہم آج بھی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    البتہ برادرم فیصل افضل شیخ صاحب کے حوالے سے جو بحث جاری ہے اس میں ان سے تسامح ہوا ، اس مسلم لیگ کو موجودہ مسلم لیگ سے جوڑنا ہرگز درست نہیں ہے ۔بطور مثال اگر آج تحریک انصاف اپنا نام مسلم لیگ رکھ لے تو کیا اسے بھی جناح کی مسلم لیگ کا تسلسل سمجھا جائے گا ؟

    یا مسلم لیگ کے اور بھی گروپ ہیں ، ان کو تو یہ حق دینا چاہیئے …

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہی وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

  • ہم دیکھیں گےلازم ہےکہ ہم بھی دیکھیں گے:فیض احمد فیض کی نظم اورجنرل ضیاء الحق

    ہم دیکھیں گےلازم ہےکہ ہم بھی دیکھیں گے:فیض احمد فیض کی نظم اورجنرل ضیاء الحق

    ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

    فیض نے اپنی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ 1979 میں لکھی تھی۔ اس وقت انھوں نے یہ نظم پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔

    20 نومبر 1984 فیض اس دنیا کو الوداع کہہ گئے اور 1985 میں لاہور کے الحمرہ آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں گلوکارہ اقبال بانو (2009-1935) نے اس نظم کو گا کر اسے امر کر دیا۔ اقبال بانو دلی میں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے اپنا بچپن روہتک میں گذارا۔ 17 سال کی عمر میں وہ پاکستان منتقل ہو گئیں

    یہ 1985 کی بات ہے جنرل ضیاء الحق نے غیر اعلانیہ طور پہ ٹی وی اور ریڈیو پر فیض احمد فیض اور ان کے کام پر پابندی لگا رکھی تھی . جنرل ضیاء الحق کے پاکستان میں نہ صرف فیض احمد فیض بلکہ ساڑھی پہننے پر بھی پابندی تھی- ایسے میں الحمرا ہال لاہور میں 13 فروری 1985 کو فیض احمد فیض کی سالگرہ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اقبال بانو نے انتظامیہ کی ہدایت کے برخلاف سلک کی ساڑھی پہن رکھی تھی یہ گیت گایا تھا
    ” ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے”

    ہجوم تھا کہ ہال کے باہر تک جمع تھا . مجبوراً دروازے کھلے رکھنے پڑے . ہجوم کے اصرار پر لاؤوڈ سپیکر باہر بھی رکھنے پڑے جیسے ہی اقبال بانو نے گیت شروع کیا لوگوں نے اس کے ساتھ گانا شروع کر دیا لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر پولیس نے ہال کی بتیاں بجھا دی لیکن پورے لاہور نے یہ گیت گایا –

    اس گیت کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے۔ آڈیو میں آپ کو لوگوں کا جوش اور ولولہ صاف سنائی دے گا -اس پروگرام کی ریکارڈنگ پاکستان سے سمگل کی گئی اور پھر دنیا تک یہ نظم پہنچی۔گیت کی آڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوح ازل میں لکھا ہے
    جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
    روئی کی طرح اڑ جائیں گے
    ہم محکوموں کے پاؤں تلے
    جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
    اور اہل حکم کے سر اوپر
    جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
    جب ارض خدا کے کعبے سے
    سب بت اٹھوائے جائیں گے
    ہم اہل صفا مردود حرم
    مسند پہ بٹھائے جائیں گے
    سب تاج اچھالے جائیں گے
    سب تخت گرائے جائیں گے
    بس نام رہے گا اللہ کا
    جو غائب بھی ہے حاضر بھی
    جو منظر بھی ہے ناظر بھی
    اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
    جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
    اور راج کرے گی خلق خدا
    جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

  • نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ، تجزیہ ،شہزاد قریشی

    نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ، تجزیہ ،شہزاد قریشی

    پاکستان کی بطور ریاست اور عام آدمی کی جو حالت آج ہے جو عام آدمی پر بیت رہی ہے اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان اعلیٰ عہدوں پرفائز تعینات افسران، امارات اور خوشحالی کی انتہا پر ہیں۔ عوام کو فیک آڈیور اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ سیاسی معیار بدل گئے۔ سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ موجود ہے پارلیمنٹ کی بالادستی غائب ہو چکی ہے۔ قانون موجود ہے قانون کی حکمرانی نہیں۔ آئین موجود ہے آئین پر عمل نہیں۔ سیاست نظریہ ضرورت کی تابع ہو چکی ہے۔

    سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے اور اقتدار کے تابع ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے لینڈ مافیا کا سیاسی جماعتوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ لینڈ مافیا ٹی وی چینلز کے مالکان بن چکے ہیں۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے اسلامی مملکت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک میں نفسا نفسی کا عالم ہے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر نامہ نظر آ رہا ہے۔ فوج نے اگر سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا تمام سیاستدانوں کو خیر مقدم کرنا چاہئے نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ کیسا؟ آئین کے مطابق تعیناتی میں حرج ہی کیا ہے وہ تو ملکی سلامتی کا محافظ ہوتا ہے۔ اس تعیناتی کو لے کر سیاستدان ، سوشل میڈیا، وی لاگرز کا تبصرہ حیران کن ہے۔ ملکی بقا ، ملکی سلامتی ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرےکا احترام کرنا چاہئے۔ ملکی سیاسی رہنمائوں جو ایک طرف جمہوریت، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کا نعرہ ملکی فضائوں میں بلند کرتی ہیں دوسری طرف اس تعیناتی پر ان کی پینترے بازیاں سمجھ سے بالاتر ہے۔ سیاستدانوں کو پرامن، مستحکم، مضبوط پاکستان اور خوشحال عوام کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ سیاستدانوں ، مذہبی رہنمائوں اوردیگر مذہبی حلقوں کو اخلاقی بحران کا پھیلائو ملک کے طول و عرض میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا مظاہرہ کھلے عام سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے یہ قومی زوال کا سبب بن رہا ہے جس کا سدباب ہونا لازمی امر ہے۔

  • پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا  فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کی بنیادوں میں ایک بڑے مذہبی طبقے کا خون پسینہ موجود ہے تاریخ کے اُس موڑ پر جب بتوں کو پوجنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کے درمیان ایک بَرّی لکیر کھینچی گئی کہ جس کی زد میں آ کر بوڑھوں، بچوں،خواتین اور نوجوانوں نے ملک و قوم کے ایمان کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یہ قربانیاں کہنے کو تو نا قابلِ فراموش ہیں مگر حقیقت ہے کہ انہیں بتدریج فراموش کیا جاتا رہا ہے ملک کو حاصل کرنے کے بنیادی نظریات، دینی اخلاقیات، قومی و ملی جذبات جب اگلی نسل میں منتقل ہوئے تو ان کی حدت ماند پڑ گئی، یہ نسل اسلام اور پاکستان کی اس حد تک اہمیت کو نہ سمجھ سکی کہ جس قدر اس سرزمین کو حاصل کرنے والے جانتے تھے یوں ہی یہ دوسری نسل بھی اب بزرگ یعنی با اثر ہوگئی۔

    کوئی اگر اپنے خاندان کا بزرگ ہے تو اس کی قائم کی گئی روایات اس کے مختصر خاندان پر لاگو ہو جاتی ہیں، کوئی علاقے اور برادری کی بااثر شخصیت ہے تو وہ اپنے رسوم و رواج کا اطلاق اپنے اس حلقے پر کرتا ہے، کسی بھی خاندان، حلقے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے سربراہ کی بات بھی اس کی شخصیت کی طرح با اثر ہوتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو! بقول واصف علی واصف “پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر جبکہ بادشاہ کی غلطی غلطیوں کی بادشاہ ہوتی ہے” لہٰذا خاندان کے سربراہ کا تربیت یافتہ ہونا ایک پورے خاندان کے تربیت یافتہ ہوجانے کی نوید سناتا ہے۔۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں دینی رجحانات کے حاملین ناپید ہوتے جا رہے ہیں جبکہ شرعی حدود پھلانکنے اور ہندوانہ رسمیں عام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کے مواقع پر ہندوانہ روایات کا اہتمام، یا پڑھے لکھے حلقے میں تلاوت نعت سے شروع ہونے والی تقاریب میں ناچ گانے، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سرِ عام رشوت وغیرہ ان شرعی جرائم کے چند بنیادی اجزاء میں شامل ہوتے ہیں۔

    اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا اور کوئی راہنما شخصیت یا ادارہ ان با اثر سمجھی جانے والی شخصیات کی تربیت کے لیے نہ متحرک ہوا تو کہیں حقیقی با اثر شخصیات کی سخت گرفت نہ ہو جائے! ایسے افراد اور ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں کہ جو بزنس کلاس، اعلیٰ تعلیم یافتہ کلاس، چھوٹے بڑے سرکاری افسران اور خاندان کے بڑوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دینی تعلیمات و احکامات سے آگاہ کریں۔ اگرچہ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں چند ایک گِنے چُنے دینی ادارے نظر آتے ہیں کہ جو دینی تعلیمات عوام الناس تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسے حالات میں عام نوجوانوں اور افسران بالا کی دینی تربیت کرنے والے اداروں کی اشد ضرورت ہے،