Baaghi TV

Category: سیاست

  • ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    ہیلتھ کئیر کمیشن سے ایک گزارش :محمد نورالہدیٰ

    دانتوں کا علاج ایک مہنگا ترین علاج ہے۔ دانت کا معمولی سا مسئلہ بھی کم خرچ میں حل ہو جائے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کم وسائل کا حامل فرد دانت کے علاج کا صرف سوچ ہی سکتا ہے۔ بالخصوص اس میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق دانتوں کا علاج کرنا بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بیشتر ہسپتالوں اور بالخصوص کلینکس پر اس امر کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ ایسے میں جو ہسپتال کم آمدن والے افراد کا خیال کرتے ہوئے دانتوں کے علاج کی سہولت دیتے ہیں، یقینا قابل قدر ہیں۔
    گذشتہ دنوں میری ننکانہ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور علی رضا سے ملاقات ہوئی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بات ہوئی تو بتانے لگا کہ اس نے ایک ایسا ہسپتال ”دریافت“ کیا ہے جہاں اس جیسے غرباء کا دانتوں کا مفت یا انتہائی سستے داموں علاج ہوتا ہے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اسے بڑے عرصہ سے دانتوں کا مرض لاحق تھا۔ یہ مرض بڑھتا جا رہا تھا اور وہ چیک کروانے سے صرف اس لئے ڈرتا تھا کہ جانتا تھا دانتوں کا علاج بہت مہنگا ہے اور اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اس پر خرچ کر سکے۔ پھر اس کے علاقے میں سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک میڈیکل ڈینٹل کیمپ لگایا گیا۔ معلوم ہوا دانتوں کا فری چیک اپ کریں گے۔ اس نے خوشی خوشی اس کیمپ سے استفادہ کیا جہاں سے کچھ مسافت پر قائم سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کر دیا گیا، اس کا مفت علاج ہوا، اور آج وہ اس مرض سے شفا پا چکا ہے۔

    میں نے سرور فاؤنڈیشن کے صحت کے اس پراجیکٹس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان ہسپتالوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران دانتوں کے 12 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ جبکہ 1400 کے قریب مریض ایسے ہیں جنہیں اس علاج پر خصوصی سبسڈی دی گئی۔ گذشتہ ایک سال میں مذکورہ طرز کے کم و بیش 37 میڈیکل کیمپس مختلف اضلاع میں لگائے گئے جن میں دانتوں کے ابتدائی علاج اور بعد ازاں سرور فاؤنڈیشن ہسپتال ریفر کرنے کے بعد مفت یا سبسڈائز بنیادوں پر علاج کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مجموعی طور پر 26 ہزار کے قریب مریضوں نے ان میڈیکل کیمپس سے استفادہ کیا۔ استفادہ کرنے والے مریضوں کو سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے فلورائیڈ تھراپی اور مفت لیبارٹری ٹیسٹوں سمیت ادویات بھی بلامعاوضہ فراہم کی گئیں، جبکہ ٹیڑھے دانتوں کے حامل بچوں کو بریسز (Braces) لگا کر ان کا مکمل علاج کیا گیا۔
    قابل ذکر امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں سرور فاؤنڈیشن نے ہسپتال قائم کئے ہیں، وہاں کوئی دندان ساز تو دور کی بات، دانتوں کا علاج ہی میسر نہیں۔ جہاں کوئی تھوڑی بہت سہولت ہے بھی، وہاں ماہر ڈاکٹر اور مطلوبہ آلات ناپید ہیں۔ اگر موجود بھی ہیں تو ہائی جینک اصولوں کا خیال رکھ کر استعمال نہیں کئے جاتے۔ دوسری جانب مریض کو اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی کہ کون سا انسٹرومنٹ کس حالت میں اسے لگایا جا رہا ہے۔ آپ نے مختلف بیماریوں سے آگاہی کے بہت سے میڈیکل کیمپ لگے دیکھے ہوں گے، لیکن دانتوں کے حوالے سے میڈیکل کیمپ ڈھونڈنے پر بھی مشکل سے ہی ملیں گے۔ یہ اعزاز کم ہی لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ سرور فاؤنڈیشن نے میڈیکل کیمپس کے ذریعے لوگوں کو اورل ہیلتھ بارے آگاہ کیا کہ افراد جب تک اورل ہائی جین نہیں ہوں گے، کینسر اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریاں انہیں گھیرتی رہیں گی …… اسی طرح اپنے سکولوں میں بھی بچوں کو دانتوں کی احتیاط بارے آگاہی دی جا رہی ہے۔

    ہمارے ارد گرد کئی علی رضا موجود ہیں، جنہیں علاج کی ضرورت ہے مگر آگاہی کے فقدان اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس حق سے محروم ہیں۔ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ طرز کے مفت میڈیکل کیمپوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد اور ہسپتالوں میں بالخصوص کم وسیلہ طبقے کا خیال رکھتے ہوئے علاج کی مناسب سہولت دینا از حد ضروری ہے …… یہ امر بھی ضروری ہے کہ ہیلتھ کئیر کمیشن ہسپتالوں اور کلینکس کے بے لگام نرخوں پر توجہ دے اور مفاد عامہ میں مناسب نرخ متعین کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالے۔ طبی مراکز اور متعلقہ ادارے ان بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہوں گے تو علی رضا جیسے، محدود آمدنی والے کئی افراد، جو ہوش ربا اخراجات کے ڈر سے علاج کروانے سے ڈرتے ہیں، وہ بھی بے فکر ہو کر، یہ حق استعمال کر کے صحت مند زندگی کی جانب لوٹ سکیں گے۔

  • عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان کی سیاسی آمریت

    عمران خان سیاستدان بن گئے، جمہوریت کا دعویدار لیکن سیاسی آمر سے کم نہیں، حکومت ملی تو پاکستان کی اپوزیشن سب سے بڑا مسئلہ تھی جو اب حکومت میں آ چکی

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی روز میں 33 بل منظور کروانا،اور اپوزیشن کو مکمل نظر انداز کرنا یہ عمران خان کی سیاسی آمریت کی ہی نشانی ہے

    سب خواب چکنا چور تب ہوئے جب اسوقت کی اپوزیشن نے حکومت میں آتے ہی عمران خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ای وی ایم سمیت اہم بل کی ترامیم واپس لے لیں

    عمران خان وزیراعظم بنے تو اقتدار میں آ کر انہوں نے اپوزیشن کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا، پاکستان کی معیشت کی تباہی انہیں نظر نہ آئی البتہ بڑے بڑے دعوے کر کے اقتدار میں آ کر ان پر زیرو فیصد عمل کیا اور یہی وجہ انکے اقتدار سے نکالے جانے کی بنی، کیونکہ عمران خان جو بولتے ہیں وہ کرتے نہیں، اور جو کرتے ہیں وہ بولتے ہیں، اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کے دعوے اور وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اس پر عمل میں آسمان زمین کا فرق ہے،وہ عمران خان جو حکومت میں آنے سے پہلے بات کرتا تھا کرسی ملتے یکدم ہی اسکے عمل میں تبدیلی آ گئی، ریاست مدینہ کا نام لے کر من مانی کی گئی، کرپشن کے ریکارڈ بنائے گئے، دھوکہ دہی کی گئی اور بار بار نام ریاست مدینہ کا ہی لیا گیا

    عمران خان حکومت میں رہتے ہوئے اپنی پسند کی قانون سازی کرتے رہے اور کرواتے رہے، اپوزیشن پر الزامات، گرفتاریاں،جیلوں میں ڈالنا، پھر طیبہ کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے اپوزیشن پر بے جا مقدمات بنوانا، فرح گوگی کے ذریعے کرپشن یہ کپتان کے محبوب مشغلے رہے، کپتان کی خواہش تھی کہ اپوزیشن کسی نہ کسی طرح جیلوں میں ہی رہے اور وہ اپنی مرضی کی قانون سازی کرتے رہیں اور انہوں نے کی بھی سہی ،پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یا انکی مشاورت کے بغیر بل پاس کروائے گئے تو کبھی مرضی کے‌صدارتی آرڈیننس لائے گئے لیکن عمران خان شاید یہ بھول گئے تھے کہ سدا اقتدار انکا نہیں بلکہ حکومت نے جانا بھی ہے اور رخصتی کے بعد انکی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کو بلڈوز بھی کیا جا سکتا ہے

    17 نومبر 2021 وہ دن ہے جب عمران خان کی حکومت نے ایک دو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 33 بل پاس کروائے، اپوزیشن احتجاج کرتی رہی لیکن عمران خان جو ہمیشہ اپنی ہی کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اپوزیشن کی خواہشات کے برعکس ایک ہی روز میں 33 بل پاس کروا کر ایک ریکارڈ بنایا ، اس قانون سازی کے لئے ایم کیو ایم نے حکومت کو بلیک میل بھی کیا تھا اور بعد میں پھر ایم کیو ایم عدم اعتماد کے وقت ساتھ بھی چھوڑ گئی تھی،33 بل جو پاس کئے گئے تھے ان میں سے ای وی ایم کا بل سے زیادہ اہم تھا اور تحریک انصاف اسکو بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی،۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ، انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت میں تقریر کی ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی اصول و ضوابط 1973 سے متعلق سیکشن 10 اسپیکر قومی اسمبلی کو پڑھ کر سنادیا کہا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اگر کوئی قانون منظور کروانا ہو تو اس کیلئے 222 ووٹ کی ضرورت ہے ورنہ وہ قانون منظور نہیں ہوتا تا ہم اسوقت کے سپیکر نے انکی نہ سنی اور بل پاس کرتے گئے

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد آئی، کامیاب ہوئی اور عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے اسکے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان حکومت کے اتحادی بنے، ایم کیو ایم بھی دوبارہ اتحادی حکومت کا حصہ بن گئی،ایسے میں عمران خان نے جو بل ای وی ایم کے حوالہ سے پاس کیا تھا موجودہ حکومت نے اس میں ترمیم کر لی اور اب الیکشن ای وی ایم پر نہیں ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن کو بھی ای وی ایم پر تحفظات تھے،26 مئی کو رواں برس ہونے والے اجلاس میں ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم ہوئیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اسمبلی میں سب کو مبارکباد دی، تحریک انصاف تو اسمبلی میں موجود ہی نہیں کیونکہ انہوں نے استعفوں کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور تنخواہیں پھر بھی لے رہے ہیں، ای وی ایم کے بارے میں کہا جا رہا ہےکہ جن ممالک نے ای وی ایم کا استعمال کیا وہ بھی اسکو روک چکے ہیں، کیونکہ ای وی ایم سے شفاف ووٹنگ کسی صورت نہیں ہو سکتی، ای وی ایم سسٹم کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور کچھ بھی نتائج آخر میں دیئے جا سکتے ہیں

    تحریر:ریحانہ

  • ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی )پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے بارے میں چہ مگوئیوں سے بلند و بانگ پیشگوئیوں سے خدارا اجتناب برتنا اشد ضروری ہے۔ کسی بھی جماعت سیاستدانوں ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبرز کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں اعلیٰ فوجی قیادت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں پر سے پرہیز کرنا چاہئے اور پیمرا کو ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرز صحافت پر یکسر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کا تقرر پاکستان کے وسیع تر مفاد اور دوررس پالیسیوں کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے جس پر قیاس آرائیوں اور ذاتی پسند نا پسند سیاسی وابستگیوں اور تجزیاتی پوائنٹ سکورنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔

    میرا پٹواری میرا اے سی میرا ڈی سی میرا ایس ایچ او کا راگ الاپنے والے نام نہاد رہنمائوں ۔نام نہاد صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسی حساس تقرریوں پر بیان بازیوں اور زبان درازیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو تماشہ بنائیں۔مقتدر اور فیصلہ ساز اداروں کو چاہیے کہ ایسی اوچھی حرکات اور خلاف ورزی کے مرتکب ٹی وی چینل اور شخصیات کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی کو ملکی سلامتی اور قومی ساکھ کے ساتھ کھیلنے کی کسی کو جرآت نہ ہو۔

    مزید برآں وال سٹریٹ جرنل میں آشکار کیے گئے خدشات پر اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی جرآت کسی کو نہ ہو۔

  • پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    حملے کے بعد کیوں عمران خان کسی بھی انکوائری کمیٹی کو اپنے الزامات کے ثبوت نہیں دینا چاہتے؟

    عمران خان کیوں میڈیکو لیگل رپورٹ بنوانے سے کترا رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو گولیوں کے ٹکڑے لگے ہیں تو پہلے 4 گولیوں کا جھوٹ کیوں بولا گیا؟

    عمران خان جن پر الزام لگا رہے ہیں انہیں استعفے کا کہہ رہے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں خود پر لگنے والے الزامات پر کیوں استعفیٰ نہیں دیتے تھے؟

    اپنے دور حکومت میں سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف تقریریں کرتے تھے تو اب لوگوں کو کیوں اسی بات کی ترغیب دے رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو 24 ستمبر سے ہی پتہ تھا کہ ان پر حملہ ہونا ہے تو کیوں انہوں نے اپنی اور سپورٹرز کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں؟

    عمران خان نے DW کو انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان کے پاس circumstantial evidence ہے۔ کیا صرف ایسے ثبوت سے وہ الزام پر الزام دھر رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کی مرضی کی بنی انکوائری کمیٹی نے بھی الزامات کو غلط قرار دے دیا تو کیا عمران خان جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ترک کریں گے؟

    عمران خان کیوں فوج سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ نیوٹرل ہونے کی بجائے وہ انہیں دوبارہ حکومت کی کرسی پر بٹھائے؟

    کیا پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ نافذ ہے؟ اگر نہیں تو عمران خان سے معمولی اختلاف کرنے والے کو پارٹی سے کیوں نکال دیا جاتا ہے؟

    کیا عمران خان کو اپنی پارٹی میں صرف "یس مین” چاہئیں؟ اگر نہیں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی کارکن کی رکنیت کیوں منسوخ کی جا رہی ہوتی ہے؟

    کیا پی ٹی آئی میں کسی کو اتنا بھی حق نہیں کہ عمران خان کی بات سے اختلاف کرے یا مختلف نقطہ نظر پیش کرے؟

    کیا پی ٹی آئی اختلاف رائے رکھنے والے ممبران کی ممبرشپ منسوخ کر کے جمہوری اقتدار کے برعکس عمل پیرا ہے؟

  • سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملے نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنا رُخ پاکستان کی طرف موڑنے پر مجبورکردیا۔ ملکی سیاست میں انتشار مزید گہرا ہو رہا ہے۔پاکستان مخالف قوتیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں جشن کا سماں ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں رہنے کی جنگ میں مصروف ہیں اس وقت ملک کہاں کھڑاہے.

    عوام کس حال میں ہیں اس سے بے خبر سیاستدان ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جس کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں پنجاب میں گورنر راج لگے یا عمران خان کو گرفتار کرنے پر پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا اگر عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے توخیبر پختونخوا میں حالات خراب تر ہو سکتے ہیں پاک افغان سرحد اور پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت انتشار مزید پھیلانے میں اپنا کردارادا کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔

    ملکی سلامتی اور بقا کے لئے سیاسی جماعتیں ضد ،انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں حکومت اور عمران خان اس ملک اور عوام کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ، پیپلزپارٹی میں موجود سنجیدہ سیاستدان ، مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جومذاکرات کرے اورملک کو مزید انتشار کی سیاست سے بچانے میں کردارادا کرے۔ ملک کے وقاراور سلامتی کی خاطر یہی ایک راستہ ہے سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور ہٹلر کا راستہ ہے۔

    قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ چوراہوں جلسے ،جلوسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے خدا کی پناہ۔ اس ملک کی خاطر ضد، ہٹ دھرمی کو دفن کریں ۔ دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

    اس وطن عزیز کی خاطر اور اس عام آدمی کی خاطر جس کو دنیائے سیاست میںکیا تبدیلی ہو رہی ہے ۔ بے خبر ہو کر اپنی مشکلات سے لڑرہا ہے۔عام آدمی سبزی ، دالیں ،گوشت، بجلی ،گیس ،آٹے کی خرید سے جنگ لڑ کر ہار رہا ہے اور ہار چکا ہے عام آدمی کا سیاستدانوں پر اعتماد اٹھ رہا ہے عام آدمی بیزار ہے اس کا اعتماد بحال کرنے میں سیاستدان کردار ادا کریں اگر اس کا اعتماد بحال نہ ہوا تو ذرا سوچئے کیا ہو گا؟

  • نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالم گلوچ‘ ہلڑ بازی‘ بلوہ بندوق کیا کم تھے کہ نازیبا اور فیک ویڈیو کے وار کرکے ملک کے نہ صرف معاشرتی و سماجی اقدار کو پامال کیا جارہاہے بلکہ سیاست اور سیاستدانوں کے زندہ جنازے نکالے جارہے ہیں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں سیاست کے لئے نفرت بھری جارہی ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں سیاسی آزادیوں کے فروغ اور سیاسی پارٹیوں کا استحکام ہی درپیش چیلنجز سے قوموں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی اقدار مضبوط سیاسی افکار ہی کسی قوم کو مضبوط مستحکم معاشرہ اور مضبوط معیشت دیتے ہیں۔ مضبوط معیشت ہی ناقابل تسخیر دفاع کی ضامن ہے

    صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کو کھیل تماشا ناچ گانا گالم گلوچ احتجاج کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگانے سکول کالج بند کرانے تو بنا ہی دیا گیا تھا لیکن سیاستدانوں کی ویڈیو جنگ نے تو ہر باشعور اور سنجیدہ حلقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں اعظم سواتی کی ازدواجی زندگی پر فیک ویڈیو کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی عمر کے بزرگ سیاستدان پرویز رشید کی ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس نے سنجیدہ سیاسی حلقوں میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ پرویز رشید سیاست میں رواداری اور سنجیدگی کا آئی کان ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تمام سیاسی پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی شخصیات کے لباس پر غلاظت کے چھینٹوں سے کون سے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی مشق کی جارہی ہے اور ان حرکات کو قوم کو سماجی انحطاط معاشرتی بے راوہ روی اور سیاسی بانجھ پن کی صورت میں قوم کو مستقبل قریب میں ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مقتدر حلقوں سیاسی جماعتوں اور معاشرتی قوتوں کو یکجا ہو کر ایسی سازشوں کو روکنا ہوگا.

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ؟تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ؟تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملہ منصوبہ تھا؟ سازش تیار کہاں ہوئی اس حملے میں کون لوگ شامل تھے؟ اب ایک نئی بحث کا آعاز ہو گا۔ جے آئی ٹی بنے گی ۔ کمیشن بنے گا، تحقیقات ہوگی ۔ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ چند روز میڈیا ٹویٹر پر بیان جاری ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ قیام پاکستان سے لے کر تاد م تحریر ایسے کئی دلخراش واقعات رونما ہوئے کہاں گئی اُن کی تحقیقاتی رپورٹیں ؟ ملکی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے تھے تب کیا ہوا تھا؟ کراچی پہنچنے تک جہاز میں کم آکسیجن والے سلنڈر کی تحقیقات کا کیا ہوا؟ محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی اُن کی لازوال خدمات اور حب الوطنی کے اعتراف میں غدار وطن کا تمغہ ملنا ۔1951 میں راولپنڈی میں لیاقت علی خان کا قتل اور پھر قتل کرنے والے کا موقع پر ہی قتل۔ پھر بھٹو کو پھانسی ۔ جنرل ضیاء الحق کے جہاز کا فنی خرابی کے باعث کریش ہونا ۔ گورنر سندھ حکیم سعید شہادت کا واقعہ ۔ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا دہشت گردی کا سکار ہونا ۔ نواب اکبر بگٹی پر غداری کا الزام پر شہادت ۔ پھر بے نظیر بھٹو کا بطور وزیراعظم کراچی میں مرتضیٰ بھٹو کا سڑک پر لاش دیکھ کر رونا چیخنا۔ کراچی میں صلاح الدین ممتاز صحافی کا قتل عام ، کراچی سے خیبر تک لاتعداد صحافیوں کا قتل عام ، سابق صدر مشرف دور حکومت میں دہشت گردوں کے ذریعے پاک فوج ، پولیس اور عوام کا قتل عام ۔ یہ سارے واقعات ایک طرف زندگی کی بے ثباتی کی داستان بیان کرتے ہیں تو دوسری طرف زندہ انسانوں کی خود غرضی پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔

    ز ندہ لوگوں کو نظر انداز کرنے سے لے کر مرنے کے بعد اکیس توپوں کی سلامتی دینے تک مجبور اور بے بس عوام کی لاشوں کی بے حرمتی تک کی داستانیں طویل ہیں۔ وطن عزیز مین عشروں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ کچھ دنوں مہینوں تک میڈیا ،سوشل میڈیا پر بحث جاری رہتی ہے اور پھر بس ۔ ہمارا المیہ یہہ ے کہ ہم سانحات کا پس منظر جاننے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کردیتے ہیں۔ عمران خان پر قاتلانہ حملے کا پس منظر کیا پس پردہ کیا ہے آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ان سڑکوں پر ملک کے نامور شخصیات کو قتل کردیا جاتا ہے اب سابق وزیراعظم کو نشانہ بنایا گیا۔ کیا کبھی کوئی آزاد تحقیقاتی کمیشن پورا سچ اس ملک کے عوام کے سامنے لاپائے گا؟

  • عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

    کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

    خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

    اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

    بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

    ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟

  • عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    ملک کا درجہ حرارت بتدریج ٹھنڈ کی جانب گامزن ہے جبکہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت میں انتہا کی شدت اور گرمی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان جی ٹی روڈ پر لفظوں کی گولا باری کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب پیش قدمی کی قیادت کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں مخلوط پارٹی حکومت کے لوگ جوابی لفظوں کی گولا باری میں مصروف ہیں۔

    ساتھ ہی کنٹینرز اور خندقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا منظر بنایا جا رہا ہے جیسے کوئی بیرونی حملہ آور فوج اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آرہی ہے اور رانا ثناء اللہ کسی ریاست کے آخری وارث ہیں۔

    عمران خان نے آج گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف اور آصف علی زرداری مل کر ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں،،میں نواز شریف نہیں جو باہر بھاگ جاؤں گا،سن لو!میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ڈاکو نواز شریف کا استقبال کریں گے،سیدھا جیل پہنچائیں گے،الیکشن لڑیں ،ان کے حلقے میں شکست دوں گا۔۔۔”

    دوسری جانب لندن میں پریس کانفرنس سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "عوام کے ٹیکس کا پیسہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جا رہا ہے، عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے،لانگ مارچ میں لوگ شریک نہیں ہوئے،آخری کارڈ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا،4سال معیشت کو تباہ کیا گیا،مہنگائی عروج پر پہنچائی،اور کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عمران خان کی تباہی سے محفوظ رہا ہو،عمران خان چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔”

    جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ” لانگ مارچ میں 5سے 700لوگ شریک ہیں،،،عوام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کر دیا، صرف ایک مخصوص طبقہ عمران خان کی باتوں میں آ کر گمراہ ہوا،الیکشن جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے،،یہ لانگ مارچ نہیں فتنہ مارچ ہے،آئندہ دنوں میں یہ مزید سکڑ جائے گا، اور فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کا شوشہ تھا۔۔۔”

    خیرہم نے سب سیاستدانوں کی گفتگو سنی اور ان کے مزاج کی گرمی دیکھ لی جو کسی صورت جمہوری اقدار کی آئینہ دار نہیں، عوام بھی ایک حد تک ہی اس گرمی اور شدت کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بہت جلد ملک میں افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی بھی متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ادارے کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ اور ممکنہ چیف پر شکوک و شبہات کے سائے طاری کرنا کیا سود مند رہے گا ؟