Baaghi TV

Category: سیاست

  • اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔

    ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟

  • تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    سال دوہزار چودہ وہ سال ہے جب پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ اور لاک ڈاؤنز کی سیاست کا باقاعدہ آغاز ہوا اور تب سےآج کے دن تک ہم اس منحوس طرز سیاست سے نبردآزما ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں کو پکڑ کر جلا دوں گا, مار دوں گا, بھگادوں گا وغیرہ وغیرہ کا شورو غل بلند کرکے حکومتوں اور ریاستوں کے کیے کی سزا عوام کو دینا کہاں کی سیاست اور جمہوریت ہے؟

    خان صاحب کے اچھے اورکرزمیٹک فیصلوں اور کاموں کی سراہنا کرنا اچھی بات ہےلیکن یاد رہے خان صاحب بھی ایک عوامی لیڈر ہیں جنہیں اپنے برے فیصلوں اور کاموں کا جواب دینے کے لیے عوام کی عدا لت میں آنا ہی پڑے گا۔

    سال دوہزار چودہ کا دھرنا ہمیں 547 ارب میں پڑا تھا اور ملا کیا۔۔۔ گھنٹا؟

    ایک بڑا قومی سانحہ دیکھا اور تب اس دھرنے کا اختتام ہوا لیکن دھرنا اور لانگ مارچ سیاست نے جو پنجے تب سے اس ملک پر گاڑے ہیں اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تب سےآج تک ناصرف تحریک انصاف بلکہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے دھرنا اور لانگ مارچ سیاست کو ایک طلسماتی منتر سمجھ لیا ہے کہ جب جب حکومت اور ریاست کو انڈر پریشر لانا ہے تو عوام کا جینا دوبھرکردو اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردو۔

    اب کل توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے موجودہ مدت کےلیے نااہل قرار دے دیا تو آدھے گھنٹے کے اندر اندر پورے ملک کی عام شاہراؤں اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر تحریک انصاف کے عام سپورٹرز نےاحتجاج کے نام پر جو ہلڑ باز اور طوفان بدتمیزی برپاکیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

    اور اگر تحریک انصاف نے یہی سلسلہ آگے بھی جاری رکھا تو یقینا اس بار ملک 547 ارب کو بھول جائے گا کیونکہ اس دفعہ بات ملک کے ڈیفالٹ پر ہی ختم ہوگی کیونکہ ہماری حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ ہم اب ہلکا سا بھی جھٹکا برداشت نہیں کرسکتے۔

    دھرنا اور لانگ مارچ کی سیاست سے آج تک کیا فائدہ حاصل ہوا ہے؟

    سوائے توڑ پھوڑ, گالم گلوچ, تصادم اور ملکی معشیت کو نقصان پہنچانے کے اس لغو انداز سیاست نےکیا دیا ہے؟

    اور کل ہی ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک اکثریتی سیاسی پارٹی کے کارکنان نے ریڈلائن لائن کراس کی اور فوج کے چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی بیہودہ نعرےبازی کی اور ملک کا تماشہ بنانے کا بھارتی میڈیا کو ایک اور سنہری موقع دیا۔

    بھارت جو کہ ہمارا ازلی دشمن ہے اس کے پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف تین بنیادی مشن یا ایجنڈے تھے جو کہ اب تقریباً پورے ہوچکے بیشک ملک ایف اےٹی ایف کی گرےلسٹ سےنکل چکا ہے۔

    1-پاکستانی معشیت کا بیڑا غرق کرنا۔
    2-افواج پاکستان اور عوام کی محبت ختم کرنا۔
    3-دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنا۔

    کیا بھارت کے یہ تین مشن مکمل نہیں ہوگئے؟

    اس کا سہرا بالترتیب آصف ذرداری, نواز شریف, مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے سربندھنا چاہیے کہ ان چار نفوس نے عرصہ بیس بائیس سال میں پاکستان اور اس کی عوام کو بھارت اور اقوام عالم کے سامنےپلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا کہ لو بھئی جو کرنا ہے کرلو۔

    خیر ملک اس طرح کی سیاست کا متحمل نہیں لیکن ہماری مقتدرہ و سیاسی اشرافیہ کو یہ بات اب بھی سمجھ نہیں آرہی۔ اللہ ہی پاکستان کی حفاظت کرے ورنہ ہم نےتو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    ایک ایسے وقت میں جب ملکی معیشت تنزلی کی جانب گامزن ہے، سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں قیامت خیز تباہی ہوئی، لوگ پینے کے پانی کو ترس گئے، پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کی قدر اتنی بڑھا دی کہ غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا محال ہو چکا ایسے میں تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ ، احتجاج کی کال ملکی معیشت کو مزید زمین بوس کرے گی، یہ وقت احتجاج کا نہیں بلکہ میثاق معیشت کا ہے،پاکستان کوبچانے کا ہے، پاکستان کی سیاسی صورتحال مستحکم ہو گی تو معیشت بھی مستحکم ہو گی لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان کا ایجنڈہ ہی یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر عدم استحکام سے دو چار کیا جائے

  • سیاستدانوں کی سیاست پر اب تو جمہوریت بھی شرما گئی۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں کی سیاست پر اب تو جمہوریت بھی شرما گئی۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں کا اپنے سیاسی مقاصد کے لئے دست و گریبان ہونا کوئی نئی بات نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ سیاستدانوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے کیا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے سیاستدان ایک دوسرے کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے میں اپنا وقت ضائع کرتے ، ہوس اقتدار کی خاطر ان کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں اس شور شرابے میں نقصان جمہور کا ہوتا ہے۔ اس شور شرابے میں عمران خان کو ایک سیاسی قوت بنا دیا گیا یا بنایا جا رہا ہے۔ پی پی اور نوازشریف کی جماعت کے لوگوں کو عوام میں اور بین الاقوامی سطح پر چور ڈاکو بنا دیا گیا اور یہ کام گزشتہ کئی سالوں سے جاری تھا ۔ پھر عمران خان نے ان دو جماعتوں کیخلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا کہ یہ دو خاندان چور اور ڈاکو ہیں۔ ان حالات میں جمہوریت مستحکم ہو تو کیسے ہو؟ پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیسے ہوگی؟ عوام کس پر اعتماد کرے اور کس پر نہ کرے؟ اب تو بات غداری اور نااہلی سے بھی آگے چلی گئی ہے عمران خان کو دہشت گرد ی کے مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطنی اور جیلوں میں بند کر دیا گیا سزا سے لے کر نااہل کرد یا گیا کئی وزیراعظم نااہل ہو چکے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ آخر کب یہ کھیل جاری رہے گا؟ آخر ملک کے سیاستدان کب ٹھیک ہوں گے کون ان کو سمجھائے گا؟

    عمران خان کو اب الیکشن کمیشن نے نااہل کر دیا ۔کیا عمران کی سیاست ختم ہو گئی ؟عمران اور ان کی جماعت ایک حقیقت ہے اس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ وہ سیاست کے گلیاروں سے باہر نہیں ہو سکتا۔ عمران خان کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔کیا بھٹو کو پھانسی دے کر بھٹو کی جماعت کو ختم کر دیا گیا؟ نوازشریف کو پابند سلاسل اور نااہل کر کے نوازشریف کی جماعت کو ختم کر دیا گیا؟ نوازشریف بیرون ملک ہیں ۔تادم تحریر ان کی جماعت یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ وہ کب واپس آئیں گے اور آئیں گے بھی یا نہیں اور اگر آئیں گے تو جیل جائیں گے ۔ان کیخلاف مقدمے جو بنائے گئے وہ کس طرح ختم ہوں گے ان کے لئے کون سا قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اپنے انجام سے باخبر ہونے کے باوجود بے خبر سیاستدانوں کو کب ہوش آئے گا قوم کب تک یہ تماشے دیکھے گی سیاستدانوں کی سیاست پر اب تو جمہوریت بھی شرما رہی ہے۔ اگر اسی طرح قومی لیڈروں کو داغدار کر دیا گیا جس طرح ماضی میں کیا گیا تو وطن عزیز میں جمہوریت پر عوام کا اعتماد نہیں رہے گا۔ آخر اس طرح کے کھیل تماشے کب تک ہوتے رہیں گے؟

  • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،پاک بھارت ٹاکرا،شائقین کرکٹ پرجوش

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،پاک بھارت ٹاکرا،شائقین کرکٹ پرجوش

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،پاک بھارت ٹاکرا،شائقین کرکٹ پرجوش

    پاک بھارت ٹاکرا
    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،شائقین کرکٹ پرجوش
    دوسرے مرحلے میں پاک بھارت میچ کل اتوار کو دن ایک بجے ہو گا ، دونوں ٹیموں نے بھر پور تیاری کر رکھی ہے اور فتح کے لئے پرامید ہیں

    پاک بھارت ٹاکرا
    شائقین کرکٹ کو مل سکتی ہے بری خبر بھی
    میلبرن کے موسم کے حوالہ سے کہا جاتا ہے کہ اتوار کو بارش ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے پاک بھارت کا میچ متاثر ہو سکتا ہے

    پاک بھارت ٹاکرا
    رواں برس چوتھی بار ہو گا پاک بھارت ٹیم کا آمنا سامنا
    پاک بھارت کے مابین رواں برس تین میچ ہو چکے جس میں سے دو پاکستان اور ایک بھارت جیت چکا ہے کل فتح کس کا مقدر بنے گی؟ سب منتظر ہیں

    آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد اب پاکستان کا بھارت کے ساتھ ٹاکرا کل اتوار 23 اکتوبر کو ہو گا

    پاکستانی ٹیم بھرپور متحرک ہے، بھارت کے ساتھ ٹاکرے کے لئے پاکستان کی قومی ٹیم نے میلبرن میں جم ٹریننگ کی کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور بولنگ کی پریکٹس کی ٹریننگ سیشن کے دوران کپتان بابر اعظم نے مینٹور میتھیو ہیڈن سے مشاورت بھی کی ،ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے مابین میچ میلبرن میں کھیلا جائے گا، میچ کا آغاز دن دو بجے ہو گا، دونوں ٹیموں نے تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں اور جیت کے لئے پرجوش ہیں تا ہم فیصلہ تو میدان میں ہی ہو گا .شائقین کرکٹ کے لئے بری خبر یہ بھی ہے کہ پاک بھارت میچ بارش سے متاثر ہوسکتا ہے

    قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی سربراہی میں میدان میں اترے گی جبکہ بھارتی ٹیم کی سربراہی روہت شرما کریں گے قومی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں آصف علی، کپتان بابر اعظم، فخر زمان، حیدر علی، خوشدل شاہ، شان مسعود، افتخار احمد، محمد نواز، شاداب خان، محمد حارث، محمد رضوان، حارث رؤف، محمد حسنین، محمد وسیم، نسیم شاہ، شاہین آفریدی، شاہنواز دھانی اور عثمان قادر شامل ہیں ،بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں کپتان رویت شرما، کے ایل راہول، سوریا کمار یادیو، ویرات کوہلی، دیپک ہودا، ہارڈک پانڈیا، روی چندرن اشون، دنیش کارتک، رشبھ پنت، ارشدیپ سنگھ، بھونیشور کمار، محمد شامی، محمد سراج، روی بشنو، یوزیندرا چاہل، شاردل ٹھاکر، اکسر پٹیل، ہرشل پٹیل شامل ہیں

    رواں برس چوتھی بار پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی، اس سے قبل رواں برس دو میچ پاکستان اور ایک بھارت جیت چکا ہے اب کل کون جیتے گا اس پر شائقین کرکٹ کو انتظار ہے، دونوں ممالک میں پاک بھارت ٹاکرا موضوع بحث بنا ہوا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی اہلیت رکھتی ہیں

    پاک بھارت ٹاکرے پر بات کرنے سے قبل آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کو دیکھا جائے تو اس میچ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،بلے بازوں کی فہرست میں ٹاپ تین بیٹرز میں سے دو کا تعلق پاکستان اورایک کا بھارت سے ہے پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان اگر پہلے اور کپتان بابر اعظم تیسری پوزیشن پر ہیں توان دونوں کے درمیان بھارتی بلے باز سوریا کمار یادیو موجود ہیں دونوں ٹیموں کے بیٹنگ آرڈر کو دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین اوپنرز ہیں اور بھارت کے پاس مستند مڈل آرڈر، بھارت کی ٹاپ آرڈر کی ناکامی اور پاکستان کے مڈل آرڈر کے مسائل مشترکہ ہیں

    پاک بھارت ٹاکرے سے قبل قومی کرکٹر شاداب خان کا کہنا ہے کہ امید ہے بھارت کے خلاف جیسا حالیہ دنوں میں کھیلتے آ رہے ویسا ہی کھیلیں گے،نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شاداب خان کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ کا پہلا میچ ٹورنامنٹ میں ٹون سیٹ کرتا ہےبھارت کے خلاف میچ میں ہمیشہ پریشر میچ ہوتا ہے جب کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ہم بھارت کے خلاف میچز جیتنے لگے ہیں لہٰذا امید ہے بھارت کے خلاف جیسا حالیہ دنوں میں کھیلتے آرہے ویسا ہی کھیلیں گے بڑا میچ جیت کر ٹیم کو اعتماد ملتا ہے بھارت کے خلاف پہلے میچ کے لیے ہر کوئی پرجوش ہے بطور آل راؤنڈر کھیل کے تینوں شعبوں کو انجوائے کرتے ہیں، جہاں ٹیم کو ضرورت ہوتی ہے وہاں کھیلتے ہیں اچھی ٹیم کو چیمپئن بننے کے لیے پریشر صورتحال میں غلطیوں پر قابو پانا ہوگا

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سابق ٹیسٹ کرکٹر معین خان نے پاکستان ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کے حوالہ سے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی ٹاپ ٹیم میں سے ہے اگر پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ جیتنا ہے تو بھارت کے ٹاپ بیٹرز کو آؤٹ کرناہوگا اگر بارش کے باعث میچ چھوٹا ہوگیا تو پاکستان ٹیم اس کنڈیشن کا فائدہ زیادہ اٹھائے گی اور ٹیم بھارت کے خلاف زیادہ خطرناک ثابت ہوگی بولرز کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ موسم کی صورتحال سے ضرور فائدہ اٹھائیں جب تک کوئی بھی بولر گیند آگے نہیں پھینکے گا ٹیم کو فائدہ نہیں ہوگا

    پاک بھارت ٹاکرے سے قبل بھارتی کپتان بھی پاکستان سے میچ جیتنے کے خواہاں ہیں، بھارتی کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیں چیلنج کرے گی باولنگ چلے گی یا بیٹنگ یہ تو کل پتا چلے گا پر ہمیں فیلڈنگ پر بھی توجہ دینی ہے پاکستان کی باولنگ کے ساتھ ان کے بیٹرز کو آوٹ کرنا ہے ہم لوگ اچھی تیاری کے ساتھ آئے ہیں میلبرن کے موسم کا کچھ کہہ نہیں سکتے، چالیس اوورز ہو یا بیس یا پھردس بھارت ٹیم تیار ہے، کوشش ہے کہ بطور کپتان ٹیم کو فتح دلواوں پاکستان ٹیم اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے،پاکستان بھارت میچ پریشر نہیں چیلنج ہوتا ہے

  • اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    اعتزاز احسن کیخلاف پیپلز پارٹی میں ہی مخالفت
    بینظیر دور حکومت میں اہم عہدوں پر رہنے والے اعتزاز احسن کیخلاف پارٹی میں موجودہ سیاسی تناظر میں مخالفت شروع ہوئی پارٹی سے نکالنے کی قرارداد اجلاس میں منظور کی گئی

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    تحریک انصاف کی سینئر رہنما اعتزاز کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت
    سوشل میڈیا پر تنقید کے دوران فرح حبیب نے نامورسیاستدان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ ہماری پارٹی میں آنے کے لیے راستے کھلے ہیں

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    افواہوں، پراپیگنڈے کے دوران خود میدان میں آ گئے
    اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم بنانے کی آفر کی گئی تب نہیں چھوڑی تو اب کیوں چھوڑوں گا

    اعتزاز احسن وہ سینئر سیاستدان اور نامور وکیل ہیں جو بغیر کسی لگی لپٹی کے سب کچھ کہہ دیتے ہیں،وہ پیپلز پارٹی میں بے نظیر بھٹو کے بھی انتہائی قریب رہے، وہ بینظیر دور حکومت میں وزارت داخلہ اوروزارت قانون کے اہم ترین عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں اب موجودہ سیاسی حالات میں اعتزاز احسن نے بیان دیا جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں، اعتزاز احسن کیخلاف پیپلز پارٹی میں ہی ایک دھڑا کھڑا ہو گیا تھا، پنجاب میں انہوں نے اعتزاز احسن کے خلاف نہ صرف قرار داد اجلاس میں منظور کی بلکہ پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ اعتزاز احسن کو پارٹی سے نکالا جائے،

    اعتزاز احسن پاکستان کے سینئر سیاستدان اور انکا سیاست پر تبصرہ ہمیشہ زیرک ہوتا ہے، وہ دوسروں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنوں پر بھی تنقید کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ انکی مخالفت کرتے نظر آئے، اسی صورتحال کو دیکھ کر تحریک انصاف کو بھی موقع مل گیا اورفرح حبیب نے اعتزاز احسن کو پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دے ڈالی، فرح حبیب کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن ورکرز کے رول ماڈل ہیں وہ اپنی پارٹی میں کھل کر اختلاف کرتے ہیں جب کہ (ن) لیگ اورپیپلزپارٹی میں بادشاہی ہے کسی کی جرات نہیں اختلاف کرےاعتزازاحسن پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو آجائیں، ہماری پارٹی میں آنےکے لیے ہر اچھے بندے کے لیے راستے کھلے ہیں

    سوشل میڈیا پر بھی اعتزاز احسن کے بیان کو لے کر اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ رہے ہیں ، اعتزاز احسن دو روز تک خاموش رہے اور سارا معاملہ دیکھتے رہے تا ہم بعد ازاں انہوں نے خاموشی توڑی اور واضح کر دیا کہ جمہوریت میں اختلافات تو ہوتے ہیں لیکن ان اختلافات کو لے کر پارٹیاں نہیں چھوڑی جاتیں، اعتزاز احسن نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس امکان کو رد کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں گے

    اعتزاز احسن نے میڈیا سے تفصیلی بات کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی ان کا خاندان ہے اور عمران خان ان کا دوست، سیاسی اختلاف پر کسی کو برا بھلا کہنے یا رانا ثنا جیسی زبان استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتے پٹیاں ابھی بھی چل رہی ہیں کہ اعتزاز احسن بنی گالہ میں بیٹھے ہیں عمران خا ن سرگودھا اور میں یہاں لاہور میں ہوںمیرا پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں یہ واویلا مچایا جا رہا ہے کہ مجھے پارٹی سے نکالنا چاہئے پی ٹی آئی سے مجھے نگران وزیر اعظم بنانے کی بات ہو رہی ہے، کہاجاتارہا کہ پارٹی دشمن رویے کے خلاف مال روڈ پر مظاہرہ ہورہا ہے یسے انداز گفتگو میں یقین نہیں رکھتا کہ سیاسی اختلاف ہو تو جو برا کہنا چاہیں کہہ دیں ،کیا اگر سیاسی اختلاف ہو تو رانا ثنا اللہ کی زبان استعمال کرنا شروع کر دیں، جب وکلا کی تحریک چلا رہا تھا تب بھی کہا جاتا تھا کہ یا پیپلز پارٹی چھوڑ دیں، میرا جواب تھا کہ پیپلز پارٹی چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی وکلا تحریک، میرے تعلقات پارٹی کے ساتھ اس وقت بھی شائستہ تھے اور رہنے چاہئے،مجھے دو مئی 2007 کو پیپلز پارٹی چھوڑنے کا پیغام پرویز مشرف سے ملا،پرویز مشرف نے کہا آپ وزیر اعظم بنیں، میں تب بھی تیار نہیں تھا

    اعتزاز احسن نے اپنا موقف واضح کر دیا ، پی ٹی آئی کے یوتھیوں کو انتظار تھا کہ وہ اب عمران خان سے جا ملیں گے لیکن انکی امیدوں پر پانی پھر گیا، ممکنہ طور پر اعتزاز احسن پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے ٹویٹر پر گالیاں کھانے کے لئے تیار رہیں…

  • مظلومِ سیاست عمران خان اور آڈیو لیکس سکینڈل — زوہیب علی چوہدری

    مظلومِ سیاست عمران خان اور آڈیو لیکس سکینڈل — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان میں ہر بندہ مظلوم ہے اور سب سے زیادہ ہمارے سیاستدان مظلوم ہیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ مظلوم ہیں ہمارے خان صاحب ۔۔۔ کیونکہ انہوں نے سیاست میں مظلومیت کے لگ بھگ 26 سال گزار دیے ہیں جن میں سے چار سال وہ پاکستان کے مظلوم وزیراعظم بھی رہے۔۔۔ وہ مظلوم کیوں ہیں اور وہ کن کے ظلم کا شکار رہے؟۔۔۔ یہ سوال جواب طلب ہے۔۔۔

    لیکن پھر بھی اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بس جب جب انہوں نے کسی پر بھروسہ کرکے کوئی عہدہ دیا، کسی کو عوام سے عزت دلائی اور کسی کو اپنا ہمراز و ہمنوا بنایا اور ان سب کی جانب سے جب خان صاحب کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا تب خان صاحب نے جو غم و غصے اور دکھ کا اظہار عوامی سطح پر کیا وہ بیانات ہی سن پڑھ لیں تو تشفی ہوجاتی ہے کہ جی بلکل خان صاحب ایک زیرک اور ذہیں مگر مظلوم سیاستدان ہیں۔۔۔

    جیسے کہ چار سال ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور آج جب خان صاحب حکومت میں نہیں اور انکی آڈیو لیکس باہر آرہی ہیں جن میں ملکی سیاست، سفارت اور بلخصوص دفاعی معاملات سے متعلق انتہائی سیکرٹ باتیں ہیں تو خان صاحب نے روایت برقرار رکھتے ہوئے بڑی خوبصورتی سے مظلومیت کارڈ نکال لیا ہے۔۔۔

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ” آڈیو لیکس کے ذریعے پاکستان کی قومی سلامتی کی رازداری کو عالمی سطح پربےنقاب کیا گیا ہے”۔۔۔آڈیو لیکس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ” بحیثیت وزیراعظم میرے فون کی محفوظ لائن بگ کی گئی، آڈیو لیکس قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہیں”۔۔۔

    اس کے علاوہ خان صاحب نے آڈیو لیکس کی صداقت جانچنے کے حوالے سے عدالت جانے کا جو عندیہ دیا تھا آج اس پر عمل کردیا ہے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کے ساتھ آج عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے تاکہ مظلومیت کے رنگ پھیکے نہ پڑ جائیں۔۔۔ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کو غیر قانونی قرار دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔۔۔ لیکن یہاں ہمارے پیارے خان صاحب نے مظلومیت کی انتہا کردی کہ نام نہیں لیا کہ کون ذمہ دار۔۔۔

    جب یہ ملک کے وزیر اعظم تھے تب ان کو خبر تھی نا کہ جی آفس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ وغیرہ وغیرہ ہوتی ہے اور وہ کون کرتے ہیں؟ تب ہی کیوں نا اس پر سخت یا ضروری اقدامات کیے کہ آج آڈیو لیکس کی خفت مٹانے کی ایسی کوششیں کرنی پڑ رہی ہیں؟
    خان صاحب سے پہلے بھی وزرائے اعظم اور صدور رہے ہیں جن کے ادوار میں آفس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ وغیرہ وغیرہ ان کی موجودگی اور رخصتی کے بعد معمول کی ہی کاروائی رہی ہے، کوئی لیکس یا سیکیوریٹی بریچ جیسا واقع اس طرح رونما نہیں ہوا جیسے خان صاحب کی دفعہ ہوا یا ہو رہا ہے حالانکہ پورے دور حکومت میں خان صاحب اور انکی پارٹی کی جانب سے ایک صفحے والی کہانیاں بھی سنائی جاتی رہیں۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ خان صاحب

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
    صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

    کہ مصداق اسی طرح مظلومیت، الزام تراشی اور اداروں سے نادیدہ تصادم کی سیاست کرتے کرتے دوبارہ اقتدار کا راستہ سیدھا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوں؟

    ایک طرف ملک میں سیاسی اور معاشی بحران کے کالے سائے لہرا رہے ہیں، دوسری جانب ملک کی مکسچر اور کمزور ترین حکومت مردہ گھوڑے میں روح پھونکنے کی سبیلیں کر رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر نئی بساط بچھ رہی ہے اور تمام قوتیں اپنے مہرے سیٹ کر رہی ہیں اور پاکستان جیسا اہم ملک اس منظر نامے میں اپنی جگہ طے کرنے سے جزوی طور پر قاصر ہے۔۔۔ ملکی اور عالمی سطح پر حالات کیا رخ اختیار کریں گے

  • کرونا کے بعد سنبھلتی معیشت پھر بھی مہنگائی بے روزگاری کا خدشہ

    کرونا کے بعد سنبھلتی معیشت پھر بھی مہنگائی بے روزگاری کا خدشہ

    چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس نے نہ صرف دنیا بھر میں انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ معاشی طور پر بھی اتنا کمزور کر دیا کہ معیشت اب بھی سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی

    پاکستان میں تو مہنگائی ہے ہی سہی دنیا کے دیگر ممالک امریکہ برطانیہ فرانس میں بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے اور عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ کرونا کے دوران لاک ڈاون صنعتوں کی بندش سے بے روزگاری بھی ہوئی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی وجہ بنا۔

    کرونا وبا آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے لیکن معیشت کو سنبھلنے میں وقت لگے گا ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے آن لائن کام میں اضافہ ہوا ۔ آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ ملا تاہم بے تاہم اسکے باوجود بے روزگاری اب بھی موجود ہے۔ اور اسکے ساتھ ساتھ مہنگائی نے بھی غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے

    پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور ابھی تک اس شرح میں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ۔ پٹرول ۔سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بجلی گیس مہنگی، اشیائے خورونوش کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔پاکستان میں اگرچہ مکمل لاک ڈاون نہیں لگایا گیا تھا اسکے باوجود پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ۔

    عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح 2018 کے بعد سے آج ریکارڈ سطح پر ہے کرونا کے بعد کاروبار کھلا اور توانائی سمیت دیگر بہت سی چیزوں کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تیل کی قیمت سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی اور تیل ہی اشیا کی ترسیل کے لئے استعمال ہوتا ہے اسلیے اسکا اثر ہر چیز پر پڑا ہے
    پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا بعد ازاں معمولی کمی تو ہوئی لیکن خاطر خواہ کمی نہ ہو سکی

    کرونا کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے کرونا کم ہونے کے باوجود بے روزگاری اسی طرح موجود ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر روزگار کے اضافے کے مواقع بہت کم ہیں اور کام کی شرح بحال ہونے میں مزید ایک سے دو سال لگیں گے ۔رواں برس عالمی سطح پر کم از کم 20 کروڑ افراد کے بے روزگار رہنے کی توقع کی گئی تھی اور صورتحال اسی طرح ہے بے روزگاری کی وجہ سے بھی غربت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    بے روزگاری اور مہنگائی کے حوالہ سے پاکستان کے لیے بھی اچھی خبر نہیں ہے آئی ایم ایف نے پاکستان میں رواں برس مہنگائی اور بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں برس پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے عالمی سطح پر مہنگائی 8.8 فیصد تک پہنچنے جبکہ پاکستان میں 19.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان میں بیروزگاری 6.2 سے بڑھ کر 6.4 فیصد تک جاسکتی ہے

  • شہر قائد میں بلدیاتی انتخابات کا مسلسل التوا

    شہر قائد میں بلدیاتی انتخابات کا مسلسل التوا

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں بلدیاتی حکومت کرونا وبا پھیلنے کے دنوں میں ختم ہوئی تھی تب سے اب تک کراچی میں بلدیاتی انتخاب نہیں ہو سکے، کراچی میں پہلے مرحلے کے الیکشن ہوئے تو دوسرے مرحلے کے الیکشن کو مسلسل ملتوی کیا جا رہا ہے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہو رہے ہیں، پہلے بارشوں ،سیلاب کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہوئے تو اب سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے سیکورٹی اہلکار متاثرہ علاقوں میں ریلیف و ریسکیو میں مصروف ہیں اسلئے الیکشن ملتوی کئے جائیں، الیکشن کمیشن کا اس پر خصوصی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جاتے ہیں اور 15دن بعد الیکشن کمیشن کا اجلاس دوبارہ ہوگا ،وفاقی حکومت کے خط کے بعد سندھ بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کیا 15 دن کہ بعد ہونے والے اجلاس میں بلدیاتی الیکشن کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا کراچی میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو شیڈول تھے

    سندھ ہائیکورٹ میں کراچی کی مقامی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ الیکشن بروقت کروائے جائین ،سندھ ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کا حکم دیا تھا تا ہم سندھ حکومت کی درخواست پر الیکشن ملتوی ہوئے تو جماعت اسلامی، تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں نے شدید احتجاج کیا، تحریک انصاف کا موقف ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کا ملتوی ہونا سندھ حکومت اورالیکشن کمیشن کی طرف سے آئین کی کھلی توہین ہے، حالیہ ضمنی انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو شکست نظر آ رہی تھی اسلئے الیکشن ملتوی کروا دیئے

    جماعت اسلامی نے بلدیاتی الیکشن ملتوی ہونے پر چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کا بھی اعلان کیا، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان نے چیف الیکشن کمشنر کو اختیارات دیئے ہیں، چیف الیکشن کمشنرکی پوزیشن یہ نہیں کہ وہ کسی سے پوچھیں کہ الیکشن کرانا ہے یا نہیں،آپ ایک کمزورچیف الیکشن کمشنر ہیں،آپ کومستعفی ہوجانا چاہیے جب بھی بلدیاتی الیکشن ہوگا، بھرپور حصہ لے کر اور جیت کر کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنائیں گے، کراچی میں صوبائی حکومت کی مداخلت سے ملتوی ہونے والے بلدیاتی انتخابات پر سینیٹ کی سب سے توانا آواز مشتاق احمد خان نے تحریک التوا جمع کروا دی۔ جس میں کہا گیا کہ ایوان میں بلدیاتی انتخاب ملتوی ہونے پر بحث کروائی جائے

    سندھ کی صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں الیکشن کے لئے تیار ہے، سیلاب کی وجہ سے ہمیں الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست دینا پڑی،سندھ واحد صوبہ ہےجہاں پچھلی دفعہ بلدیاتی حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی جبکہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتوں کو4 سال تک معطل رکھا

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

  • بھارت کی نظر میں پاکستانی جمہوریت — نعمان سلطان

    بھارت کی نظر میں پاکستانی جمہوریت — نعمان سلطان

    ہم نصاب میں پاک بھارت تعلقات میں خرابی کی وجہ مسئلہ کشمیر بتاتے اور پڑھاتے ہیں اور یہ درست بھی ہے کیونکہ فی الحال اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اور کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہے۔

    البتہ اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لئے دیگر تنازعات جیسے پانی کی تقسیم کا تنازعہ یا ایک دوسرے کے ملک میں ریاست سے باغی جماعتوں کی حمایت اور درپردہ ان کی امداد کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔

    دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں اگر دونوں ممالک میں مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکل آئے تو یہی دفاعی بجٹ عوام کی فلاح و بہبود اور معیشت کی بہتری پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔

    اس وجہ سے دوست ممالک کی طرف سے دونوں اطراف کے ممالک پر مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے زور دیا جاتا ہے جس کے لئے دوست ممالک سنجیدہ کوششیں بھی کرتے ہیں۔

    اکثر ایسی باتیں بھی سننے میں آتیں ہیں کہ دونوں ممالک بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ گئے ہیں لیکن پھر دونوں اطراف جمود چھا جاتا یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جاتا کہ بہتری کی طرف گامزن تعلقات ایک دم انتہائی کشیدہ ہو جاتے۔

    پاک بھارت مذاکرات نتیجہ خیز کیوں ثابت نہیں ہوتے،
    آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

    ایک ویڈیو دیکھی جس میں نریندر مودی صاحب واضح کہہ رہے ہیں کہ میں دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان سے ملا وہ سب اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کون ہے ۔

    پاکستان میں اختیارات کس کے پاس ہیں منتخب جمہوری حکومت یا کسی اور کے پاس، تو پہلے پاکستانی آپس میں فیصلہ کر لیں کہ اختیارات کا منبع کون ہے اس کے بعد ہم ان سے نتیجہ خیز مذاکرات کر لیں گے ۔

    نریندر مودی کے یہ الفاظ ہماری جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے اور جب تک ہماری سیاسی جماعتیں ووٹ کی طاقت کے بجائے بیساکھیوں کے سہارے حکومت میں آتیں رہیں گی ہمیں ایسے مزید طمانچے پڑتے رہیں گے۔

    تو ہمیں نریندر مودی کے بیان پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں وہ تو گجرات کا قصائی مشہور ہے ویسے بھی بےعزتی ان کی ہوتی ہے جن کی عزت ہو تو مودی کے بیان کو نظر انداز کریں اور آنے والے انتخابات کے لئے جوڑ توڑ شروع کریں ۔

  • آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    جی ہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک بار پھر عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پرہیں ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقدہ دو دو ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے والے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ہی ریفرنس دائر کر دیا، ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جانبدار ہیں، مبینہ جانبداری کے باعث وہ اس عہدے کے اہل نہیں، چیف الیکشن کمشنر کو اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔۔۔ اب فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔

    لیکن عمران خان اور تحریک ِ انصاف کے دوست قوم کو یہ بھی تو بتائیں اور سمجھائیں کہ جس چیف الیکشن کمشنر کو آپ نے خود تعینات کیا تھا اپنے دورِ حکومت میں وہ جانبدار کیسے؟ اور وہ کس کا جانبدار ہے؟

    کیا اس عہدے پر تعیناتی کے وقت آپ کو معلوم نہیں تھا کہ "بھئی یہ تو جانبدار بندہ ہے”؟

    یہ تو وہی بات ہوئی کہ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔۔۔۔”

    جن نشستوں پر تحریکِ انصاف جیتی وہاں جمہوریت کی جیت اور حق کی فتح جبکہ جن جگہوں پر بہت کم مارجن سے شکست ہوئی وہاں دھاندلی کا الزام اور چیف الیکشن کمشنر جانبدار۔۔۔؟

    ایسے کیسے گلشن کا کاروبار چلے گا کہ آپ میدان میں اکیلے دوڑکے خواہش مند ہیں اور ریفری بھی اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔۔۔

    حقیقی آزادی کی تحریک میں گیم فکسنگ کی اس کوشش کو کیا سمجھا جائے؟

    کیونکہ آج آپ اپنے دور میں تعینات کیے گئے بیشتر عہدیداروں جن میں آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، چیف جسٹس اور اب چیف الیکشن کمشنر تک پر شکوہ کناں ہیں کہ کسی نے آپ کو عدم اعتماد کی تحریک میں ریسکیو نہیں کیا، کسی نے آئین کی مبینہ غلط تشریح کرکے پی ڈی ایم کو فائدہ دیا، کوئی مبینہ مسٹر ایکس وائے زیڈ بن گیا اور اب چیف الیکشن کمشنر بھی آپ کو جانبدار لگ رہا ہے۔۔۔

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ والا یہ رویہ زیب نہیں دیتا لیکن اس کی پرواہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کی جانب سے کب کی گئی ہے؟

    اگر اسی چیف الیکشن کمشنر پر آمادگی ظاہر بھی کی تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ اور چوائس ہی کہاں ہے؟ مطلب کوا سفید ہی ہے۔۔۔۔

    دوسری طرف خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق جماعت اسلامی کراچی بھی چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کرکے برہم ہے۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن ملتوی کرانا پی ڈی ایم کامشترکہ ایجنڈا ہے، الیکشن کرانے والے بھی زرداری ڈاکٹرائن پرچل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اہلکاروں کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی، الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں سے پوچھے، الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مقصد صرف وسائل پرقبضہ برقراررکھناہے۔

    حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ جواز بیان کیا گیا سندھ میں سیلاب کی وجہ سے نفری کم ہے، ہم نے پوچھا کہ بتایا جائے نفری کہاں کہاں لگی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر آپ کی پوزیشن نہیں کہ آپ پوچھتے رہیں، آپ سندھ حکومت کے سہولت کار بن رہے ہیں، بہتر ہے چیف الیکشن کمشنر استغفی دے دیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔

    آئینی اداروں کے پاس کیا اختیارات ہیں اور کس طرح وہ اپنی غیر جانبداری پر عوام اور سیاستدانوں کو مطمئن کرسکتے ہیں اس پر اداروں کو اب مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اداروں پر سیاستدانوں اور عوام کے عدم اعتماد اورغم و غصے کا یہی مومینٹم رہا تو نظام اور ریاست مزید خرابی کے شکار ہو سکتے ہیں۔