Baaghi TV

Category: سیاست

  • عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    اگر سیاسی اور جماعتی وابستگی سے ھٹ کر ذرا دیکھیں تو ارض پاکستان بہت گھمبیر حالات سے گزر رھا ھے جو آج حالات چل رھے ھیں وہ کچھ ماہ قبل بڑی حد تک کنٹرول کر لیئے گئے تھے.

    میں اس دن ھی بہت خوش تھا جب او ائی سی کا اجلاس پاکستان میں منعقد ھوا تھا امت مسلمہ کے تمام نمائندگان اپنے بڑے بھائی پاکستان میں جمع تھے اور دنیا میں ایک نیا اتحاد طلوع ھونے والا تھا امت کی زبوں حالی اور مظلومیت کا دور چھٹنے والا تھا عالمی سطح پہ پاکستان کا ایک زبردست سوفٹ امیج پروان چڑھ رھا تھا پاکستان کورونا وار سے بچ کر اپنے پاؤں پہ کھڑا ھو رھا تھا.

    امریکہ کے غلامانہ تعلقات کی بجائے روس کے دوستانہ ماحول کو پروان چڑھایا جا رھا تھا انٹرنیشنل لیول پہ مہنگائی کا وار تھا پاکستان اس سے بھی نبرد آزما تھا کہ یک لخت میرے ملک کو کسی کی نظر کھا گئی ایک رات میں ھی کایا پلٹ دی گئی جو تخت پہ تھے ان کو فرش پہ بٹھا دیا گیا اور جو مجرم تھے جو اشتہاری تھے ان کو مسندوں پہ بٹھا دیا گیا جن پہ کرپشن کے بلنڈر تھے ان کو دودھ سے نہلا دیا گیا ان کے ھر جرم سے ھر گناہ سے اعراض کر لیا گیا ملک کی پرواہ کیئے بغیر دنیائے عالم کے تعلقات کی پرواہ کیئے بغیر بس ایک نامعلوم سازش کے تحت میرا ملک کئی دھائیوں پیچھے زبردستی دھکیل دیا گیا ۔

    اس گھپ اندھیری رات میں مسائل اور وسائل سے الجھی عوام میں جو امید کی کرن بن کر نکلا وھی عوام کے دلوں کا بادشاہ بنا ۔ جب گذشتہ جنرل الیکشن میں پی ٹی ائی نے الیکشن جیتا تو ھارنے والوں نے سیدھا اسٹیبلشمنٹ پہ الزام دھر دیا لندن سے ویڈیو خطاب تک کیئے گئے جگہ جگہ یہی الفاظ دھرائے گئے کہ مجھے کیوں نکالا اور یہ بیانیہ بری طرح فلاپ ہو گیا ۔

    اب جب کہ یہی ستم عمران خان کے ساتھ دھرایا گیا تو وہ بجائے رونے دھونے اور مظلوم شہید بننے کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے عوام کو کسی حد تک شعور دلانے میں کامیاب ھوتے نظر آ رھے ھیں عوام میں بیداری کی ایک لہر دوڑ پڑی ھے وہ تیس سالہ تجربہ کار ٹیم کے ھاتھوں دوبارہ لٹنا نہیں چاھتے وہ نہیں چاھتے کہ ھم پہ وہ کبھی دوبارہ مسلط نہ ھوں جنہوں نے ھمارے خون پسینے سے کمائے مال سے اپنی کئی کئی نسلوں کے مستقبل کو سنوار دیا جنہوں نے کرپشن زدہ مال کو بچانے کیلئے کئی کئی کہانیاں گھڑیں مگر ھر کہانی کو عوام ںے بری طرح مسترد کر دیا.

    ان سب باتوں کا ثبوت آپ دیکھ سکتے ھیں دو دن قبل ھونے والے ضمنی الیکشن میں جہاں پہ پی ڈی ایم نامی کثیر الجماعتی اتحاد ایک طرف اور عوام میں شعور اور بیداری پیدا کرنے والا لیڈر ایک طرف اکیلا تھا اور عوام نے بڑے سیاسی اتحاد کو مسترد کر دیا اب تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی کوئی رولا نہیں اب تو لاڈلے بھی کوئی اور ھیں اب تو وفاق بھی پی دی ایم کا سندھ بلوچستان بھی پی ڈی ایم کا مگر رزلٹ PDM کیلئے انتہائی افسوناک ھے پی ڈی ایم والے سر پکڑے بیٹھے کہ مرضی کے اور پسندیدہ حلقے تھے مقتدر اور بیرونی طاقتوں کی آشیرباد بھی ھمارے ساتھ پھر ھم ریجکٹ کیسے ھو گئے؟

    تو میں بتلائے دیتا ھوں کہ پہلے عوام میں اندھی تقلید تھی عوام تیس سال اپنا مستقبل تمہارے ھاتھوں تباہ ھوتے دیکھتی رھی مگر شاید اب ایسا نہ ھو جو عوام میں ازادی کے نعرے کے ساتھ اتر جائے پھر عوام کے دکھوں کا مداوا کر لے عوام کے دلوں کا ترجمان بن جائے پھر اس کے خلاف کوئی آڈیو ویڈیو بھی کام نہیں کرتی یہ نوشتہ دیوار ھے ان تیس سالہ تجربہ کاروں کیلئے کہ اب شاید عوام فنکاریاں ہسند نہیں کرے گی نا کہانیاں اور نا دل بہلا دینے والے جھوٹے بیانیے قبول کرے گی.

    اگر عوام کی حمایت لینی ھے تو قربانیاں دینی پڑیں گیں عوام آپ کی قربانی نہیں مانگتی عوام تو وہ مانگتی جو آپ نے عوام کا لوٹ کر کھا چکے عوام تو چاھتی جو لوٹ چکے ھو وہ میرے ملک کو واپس کر دو میرے ملک پہ رحم کر دو عوام تو اپنی اور ملک کی دولت واپس مانگتی ۔۔۔ بے شک عدالتوں نے آپکو ایون فیلڈ کیس سے بری کر دیا پی ڈی ایم کے سرکردہ رہنما اس وقت ھر کیس سے بری کر دیئے گئے مگر عوام کی عدالت میں آپ مجرم ھیں آپ چور ھیں.

    اس وقت تک آپ الیکشن نہیں جیت سکتے جب تک آپ عوام کی عدالت میں بری نہیں ھو جاتے عمران خان کو دنیا کی ھر عدالت مجرم قرار دیدے مگر وہ عوام کی عدالت میں بری ھے عوام کی نظر میں ھیرو ھے عوام کے اذھان و قلوب میں آزادی کا نشان ھے اسی لیئے وہ ھر میدان میں کامیاب ھو رھا ۔۔۔

    میں دعوت دیتا ھوں ان شکست زدہ لوگوں کو کہ خود کو عوام کی عدالت میں پیش کریں عوام میں سرخرو ھو جاؤ گے تو پھر تمہاری جیت مبارک ھو جائے گی۔

  • ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر لکھی تھی کہ انگلش فلموں میں ولن ہمیشہ انتہائی طاقتور اور ہیرو ایک عام آدمی ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے آپ اس وقت ہارتے ہیں جب آپ خود ہار تسلیم کرتے ہیں اس لئے وہ آخری وقت تک پرامید رہتا ہے لگاتار ناکامیوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتا اور جیتنے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں رہتا ہے جب اسے قسمت سے موقع ملتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو کامیابی میں تبدیل کر لیتا ہے ۔

    یاد رکھیں یاد صرف فلم کا اختتام ہی رہتا ہے اور فلم کے اختتام میں حاصل کی گئی ایک کامیابی کی بنیاد پر لوگ اس کی ساری ناکامیوں کو بھول کر اسے ہیرو کا درجہ دیتے ہیں لیکن یہ ایک کامیابی حاصل کرنے کے پیچھے اس کا جوش، جذبہ اور انتھک محنت ہوتی ہے اس لئے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر شخص میں ایک ہیرو بننے کی صلاحیت ہے صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسی کام کو ناممکن نہ سمجھیں راستے کی مشکلات سے بددل نہ ہوں ۔

    پاکستان کی سیاست میں ناممکن کو ممکن بنانے والی شخصیت کا نام ہے عمران خان، جنہوں نے سیاست شروع کی تو اپنی الگ سیاسی جماعت بنائی لوگ ان پر ہنسے کہ ایک نوآموز سیاست دان پرانی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں کیسے اپنا مقام بنائے گا یہ عنقریب اپنی جمع پونجی لٹا کر سیاست سے تائب ہو جائے گا یا پرانی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پر بیعت کر لے گا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ اس نوآموز سیاست دان نے تمام پرانے سیاست دانوں کی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور اپنی انتھک سیاسی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے بلند ترین سیاسی مقام وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز ہوا ۔

    جس وقت پی ڈی ایم کی جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنا وزیراعظم منتخب کرایا تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب عمران خان پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہو گئے ہیں لیکن وہ رجیم چینج کا بیانیہ لے کر دوبارہ عوام کی عدالت میں گئے اور عوام کو قائل کیا کہ ان کی حکومت کی تبدیلی کی وجہ خراب طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی سطح پر بات چیت کرنا ہے اور ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی بات پر انہیں واضح انکار کرنا ہے ۔

    پی ڈی ایم کو قوی امید تھی کہ وہ مہنگائی کو قابو کر کے رائے عامہ کو اپنے حق میں کر لیں گے لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ ایسا نہ کر سکے اسی دوران پنجاب کے ضمنی انتخابات آ گئے جس میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ان کے پاس رہنی تھی اپنا نگران وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود پی ڈی ایم ضمنی انتخابات ہار گئی اور تخت پنجاب ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔

    شکست کا بدلہ لینے کے لئے پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی کی ان نشستوں سے پی ٹی آئی اراکین کے استعفیٰ قبول کئے جہاں وہ کم ووٹوں سے انتخابات جیتے تھے تاکہ ان نشستوں کے ضمنی انتخابات میں وہ تمام جماعتوں کا مشترکہ امیدوار کھڑا کر کے تحریک انصاف کا مقابلہ کریں اور انہیں شکست دے کر بتائیں کہ اب تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اس وجہ سے عوام نے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیا ۔

    عمران خان نے کمال چالاکی سے پی ڈی ایم کی سیاسی چال انہی پر الٹ دی اور تمام حلقوں سے ضمنی انتخاب خود لڑنے کا اعلان کر دیا یہ ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ تھا جس میں ناکامی کی صورت میں تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچ سکتا تھا لیکن عمران خان نے رسک لیا اور ضمنی انتخابات میں سات میں سے چھ حلقوں میں فتح حاصل کر کے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کیا جبکہ ساتویں حلقے میں انتخابی بےضابطگیوں کے واضح ثبوت ہونے کی وجہ سے اس حلقے کے انتخابی نتائج کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ۔

    ضمنی انتخابات کے نتائج نے عمران خان کی رجیم چینج کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جبکہ پی ڈی ایم کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچایا ہے جس کا انہیں آنے والے انتخابات میں معلوم ہو گا ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد امید ہے کہ اب عمران خان کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور شاید مقتدر حلقوں نے ابھی تک گلے شکوے دور کرنے کے لئے ان سے رابطے بھی کر لئے ہوں ۔

    اس سارے عمل میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب کا سیاسی کردار بھی ناقابل فراموش ہے آپ نے سیاسی فہم کا ثبوت دیتے ہوئے اس وقت مقتدرہ سے تعلقات قائم رکھے جب آپس میں شدید بداعتمادی کی فضا قائم تھی اور آپ نے تحریک انصاف اور مقتدرہ کے درمیان بداعتمادی کو دور کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان خلیج دور ہوئی اور آپ نے تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یہ باور کرایا کہ ملکی مفاد میں فیصلے فرد واحد یا ایک سیاسی جماعت تنہا نہیں کر سکتی بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور آپس کے تعلقات دیرپا ثابت ہوں امید ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں فتح کے ثمرات تحریک انصاف کو عنقریب حاصل ہوں گے ۔

    عمران خان نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ ہیرو بننے کے لئے مضبوط بیک گراؤنڈ نہیں چاہیئے ہوتا اگر آپ میں جذبہ اور لگن ہو، آپ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ہارنے پر بددل ہونے کے بجائے جیتنے کے لئے اگلی مرتبہ زیادہ جذبے سے میدان عمل میں آنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو آپ ٹیم پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں اور پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں ۔

    بقولِ شاعر

    تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    کل ہونے والے ضمنی انتخابات میں سابق وزیراعظم اور چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے عوام میں جو بیانیہ بنایا تھا۔ کل کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے اس بیانیے کی جیت کو نہ صرف ثابت کیا۔ بلکہ اس بیانیے کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔

    17 جولائی کے پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں جیت کی بعد تحریک انصاف ، پنجاب میں حکومت واپس لینے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

    جبکہ اس ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی تحریک اور عام انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔ انتحابات کے نتائج سے یہ لگ رہا ہے کہ عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں۔ جبکہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔ مگر ہر الیکشن کا اپنے ڈائینامکس ہوتے ہیں۔ اسی لیے قبل از وقت کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

    کل کے فواد چوہدری کے بیان سے تو یہی لگتا ہے کہ تحریک انصاف اب پہلے سے زیادہ قبل از انتخابات کےلئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔
    اس جیت سے بظاہر تو تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تاہم عمران خان کا بیانیہ اس جیت کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔

    یہ تو بات تھی اس بیانیے کی جس میں عمران خان کی جیت ہوئی ہے۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے ایک اور بیانیہ بھی عوام میں بیچا۔

    اور وہ بکا بھی۔۔ وہ بیانیہ تھا کہ "الیکشن کمیشن جانبدار ہے”۔ اگر الیکشن کمیشن جانبدار ہوتا تو کیا عمران خان چھ نشستوں پر جیت پاتے؟۔ بالکل بھی نہیں ۔ عمران خان کی جیت نے عمران خان کے اس بیانیے کا ہرا دیا۔الیکشن نتائج سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا غیر جانبدار ہونا بھی ثابت ہوگیا ہے ۔ عام انتخابات میں عمران خان، کم از کم یہ بیانیہ تو نہیں اپنا سکتے کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے۔

    لیکن کیا پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت قبل از وقت انتخابات کروائے گی؟۔ بالکل بھی نہیں۔ ضمنی انتخابات نے عمران خان کو مقبول ترین لیڈر ثابت کر دیا۔ پی ڈی ایم کی حکومت جب تک عمران خان کے بیانیے کو کمزور نہیں کر دے گی۔ تب تک وہ عام انتخابات نہیں ہونے دے گی۔

  • پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    ایک مرتبہ میں رات گئے راولپنڈی (فیض آباد) سے گوجرخان آ رہا تھا موسم سرد تھا اور سونے پر سہاگہ بارش بھی ہو رہی تھی میں جس بس میں سوار تھا اس میں دیگر مسافروں کے علاوہ ایک نائیکہ اور اس کے ہمراہی ایک لڑکی بھی سوار تھی جسے وہ اپنے کسی کرم فرما کے پاس چھوڑنے جا رہی تھی دوران سفر وہ عورت مسلسل دو اشخاص سے فون پر رابطے میں رہی اور بے دھڑک اونچی آواز میں ان سےفون پر باتیں کرتی رہی جس کی وجہ سے اس عورت کے پیشے اور سفر کا مقصد معلوم ہوا ۔

    پہلا شخص جس سے وہ رابطے میں تھی اس نے ایئرپورٹ چوک (کرال چوک) میں اسے ملنا تھا عورت فون پر بضد تھی کہ بارش کی وجہ سے وہ ان کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ بے بی کا میک اپ خراب ہو جائے گا اس لئے اگر وہ وقت سے وہاں پہنچ گئے تو ٹھیک ہے نہیں تو وہ گوجرخان دوسرے شخص کے پاس بے بی کو لے کر چلی جائے گی قصہ مختصر وہ شخص وقت پر نہ پہنچ سکا اور عورت گوجرخان چلی گئی بعد میں فون پر شکوے شکایتیں بھی ہوئے لیکن جیت نائیکہ کے موقف کی ہی ہوئی، بس کے مجھ سمیت تمام مسافروں نے اس تمام صورتحال پر کوئی ردعمل نہ دیا بس ان کی ٹیلیفونک گفتگو سن کر قیاس کے گھوڑے دوڑاتے رہے البتہ میں اس بات پر بہت عرصہ حیران رہا کہ وہ عورت کیسے اتنے لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر بے خوف ہو کر دیدہ دلیری سے ایسی باتیں کرتی رہی۔

    پی ڈی ایم نے جب تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو اس بات پر میں بہت حیران تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے جبکہ اس وقت ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے مشکل معاشی فیصلے کرنے ہیں جن کی وجہ سے حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی آنی ہے تو پی ڈی ایم کیوں تحریک انصاف کی حکومت کو تبدیل کر کے ان کی بلا (مشکلات) اپنے سر لینے لگی ہے تو اس کی تین وجوہات تھیں جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کو مجبوراً جلد بازی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنی پڑی تھی جبکہ دو دیگر ضمنی وجوہات اور تھیں اگر وہ بھی پوری ہو جاتیں تو لوگوں کی توجہ ان کے اصل مقصد سے ہٹ جاتی اور عام انتخابات میں پی ڈی ایم کو اس کا فائدہ ہوتا ۔

    پی ڈی ایم کی حکومت تبدیلی کی پہلی اور اصل وجہ یہ تھی کہ ان کہ خلاف جتنے بھی عدالت میں کیس تھے ان کے فیصلے آنے والے تھے، پی پی پی اور مسلم لیگ کی قیادت کو یقین تھا کہ یہ فیصلے ان کے خلاف آئیں گے اور شاید وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو جائیں یا انتخابات کے دوران جیل میں قید ہوں، دوسری وجہ الیکشن کمیشن میں ہونے والی اصلاحات اور بائیو میٹرک مشینوں کے بارے میں پی ڈی ایم کا خیال تھا کہ ان کی وجہ سے وہ الیکشن ہار جائیں گے چنانچہ انہوں نے حکومت میں آ کر الیکشن اصلاحات ختم کر دیں اور دوبارہ پرانے طریقے کے مطابق الیکشن کے انعقاد کا حکم دیا جبکہ تیسری وجہ انہوں نے نیب قوانین میں تبدیلی کر کے انہیں اپنے حق میں کیا جس کی وجہ سے انہیں عدالتوں سے ریلیف ملا۔

    اس کے علاوہ پہلی ضمنی وجہ معیشت کی بحالی تھی پی ڈی ایم کی قیادت کی مجبوری تھی کہ حکومت تبدیلی کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ کوئی اور مقصد بتائیں تو انہوں نے تحریک عدم اعتماد کی وجہ خراب معاشی صورتحال بتائی اور مشکل معاشی فیصلے کر کے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کو اپنا ہدف قرار دیا، اس وقت ان کے مدنظر یہ تھا کہ پہلے مفتاح اسماعیل سے مشکل معاشی فیصلے کرا کے الیکشن کے نزدیک اسحاق ڈار کو لا کر عوام کو کچھ معاشی ریلیف دے کر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر کے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جائے تو اسحاق ڈار نے وطن واپس آ کر وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال لیا ہے شروع میں ڈالر کی قیمت کم بھی ہوئی تھی لیکن اس کمی کا فائدہ ابھی عوام تک نہیں پہنچا اور اشیائے خورد و نوش اسی طرح مہنگی ہیں شاید آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا اثر مہنگائی پر بھی پڑے اور اشیائے خورد و نوش سستی ہو جائیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کی دوسری ضمنی وجہ نومبر میں ہونے والی اہم تعیناتی کو قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی مرضی کے بندے کی تعیناتی کرنا چاہتی ہے تاکہ بہترین ورکنگ ریلشن شپ قائم ہو اور اس کا فائدہ عام انتخابات میں بھی ہو لیکن مسلم لیگی قیادت کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں مسئلہ ہمیشہ اپنی مرضی کے بندے سے ہی ہوا ہے اس کے علاوہ بظاہر لگتا نہیں کہ وہ تعیناتی کرنے میں خودمختار ہوں گے بلکہ امید ہے کہ وہ صرف ہدایات پر عمل کریں گے اور سب سے آخری بات کہ ادارے کا سربراہ کبھی بھی شخصیات کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ ملکی مفاد میں ادارے میں مشاورت کر کے پالیسی بناتا اور اس پر عمل درآمد کرتا ہے اس وجہ سے تعیناتی چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت کرے لیکن یہ یقین رکھیں کہ ادارے صرف ملک و قوم کے وفادار ہیں ۔

    اب تحریر کے شروع میں بیان کردہ واقعے اور تحریک عدم اعتماد میں مماثلت بیان کرتا ہوں جیسے گاڑی میں سفر کرتی نائیکہ کو معلوم تھا کہ کام میں شرم کس بات کی اس لئے اس نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر ڈھٹائی سے اتنے لوگوں کے درمیان اپنا پیشہ، اپنے ساتھ موجود لڑکی سے اپنا رشتہ اور سفر کا مقصد ٹیلیفونک گفتگو میں بیان کر دیا یعنی عزت پر پیسے کو ترجیح دی ایسے ہی پی ڈی ایم کی قیادت نے بھی عزت کے بجائے پیسہ بچانے کا فیصلہ کیا اور اپنے خلاف چلنے والے کیس ختم کرنے کے لئے عوامی ردعمل کی پرواہ کئے بغیر ہر حد تک گئے اور ثابت کر دیا کہ نائیکہ اور ان کی نظر میں اہم عزت نہیں بلکہ پیسہ ہے، یعنی گندہ ہے پر کیا کریں دھندہ ہے.

  • بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    کہا جاتا ہے کسی بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو بھی میری قبر میں ایک دن لیٹے گا اسی آدھی بادشاہت انعام میں دی جائے گی. ہر ایک کی نگاہیں راہ پہ لگی تھیں کہ اب کون اس اعلان کو قبول کرتا ہے. کہیں سے ایک بزرگ نے سنا کہ بادشاہ آدھی بادشاہی دینے لیے تیار ہے اور امتحان ایک رات کا ہے اور پھر میری کل ملکیت یہ ایک گدھا ہی تو ہے. سو اس نے بھی ڈبل شاہ کی طرح سوچا اور پھر یہاں تو انویسٹمنٹ بھی کچھ نہ تھی.

    دربار شاہی میں پہنچا اور آداب بجا لانے کے بعد عرض کی عالیجاہ بندہ ناچیز حاضر ہے.

    اسے خصوصی امتحان کے لیے لیجایا جائے، بادشاہ کی طرف سے جواب آیا.

    رات کا اندھیرا چھا چکا ہے ہر طرف بلا کی خاموشی ہے. کتوں کا غوغا اور الوؤں کی آوازیں ہیں. تھوڑی سی سرسراہٹ بھی صور فیل کی مانند تھی.

    اچانک سے دیوقامت منکر نکیر(مصنوعی) کمرے میں حاضر ہوجاتے ہیں.

    منکر نکیر: تم نے یہ گدھا کس طرح حاصل کیا؟

    پیسے کہاں سے لائے، کس ذریعے سے کمائے تھے؟

    تم نے فلاں وقت بوجھ زیادہ ڈالا اور چارہ کم کیوں دیا؟

    فلاں رات تم نے گدھے پر ظلم کیوں کیا؟ ساری رات سوال و جواب میں گزری اور کیفیت یہ تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن. گویا یہ قیامت کا دن تھا.

    الغرض ڈھیروں سوال اور بے چارہ سادہ بزرگ…

    صبح ہوئی تو وہ میدان سے یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ. سوچا ایک گدھا ہے اور اتنے سوال آدھی بادشاہی ملی تو کیا حال ہونا ہے. الأمان والحفیظ

    اگر ایک نظر ملکی سیاست پر ڈالیں تو حیران و پریشان ہوجائیں گے. سال کی طرح 365 سیاسی جماعتیں ہیں اور ہر ایک ملک کو اوج ثریا پہ پہنچانے کے دعوے رکھتی ہے.؛ ور جو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں وہ صرف باریاں تبدیل کررہے ہیں.

    ملکی معیشت کہاں پہنچی ہے؟

    تعلیم کا معیار کس قدر بلند ہے؟

    انصاف کی فراہمی کتنی بہترین ہے؟

    ملکی وقار و دفاع کتنا مضبوط ہے؟

    لیکن اس بارے میں کسی کو ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے. البتہ ہر ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ضرور رہنا چاہتی ہے. اور جواب دہی کا خوف اس گدھے والے سے بھی کم ہے. جو اتنی کم ذمے داری کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے اور حکمرانی کو ہلاکت جان سمجھتا ہے.

    اور یہی احساس ذمے داری سے عاری رویہ ہے کہ ہر چیز تباہی کا شکار ہے. اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ہم سے زیادہ مضبوط معیشت کے مالک ہیں. بدقسمتی سے حکومتوں کی آنیاں جہانیاں لگی ہوئی ہیں اور اس زاویے پہ سوچنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے.

    ہر الیکشن میں بلند بانگ دعوے اور وہ دعوے ہی رہتے ہیں. منصبوں کا افتتاح ہی اپنی سیاسی جدوجہد کا حاصل سمجھا جاتا ہے. ہر ایک حکومت آئی ایم ایف سے مضبوط مذاکرات کی خواہاں رہتی ہے. کبھی عرب ممالک تو کبھی چین اور آئی ایم ایف تو ان کا کامل پیر ہے.

    اپنے اثاثے گروی رکھو، قومی مفادات پہ کمپرو مائز کرو اور ہر بار ڈو مور پر عمل کرتے رہو. اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں تو تمہاری عزت خاک میں ملادیں. نہ بھی کانوں پہ جوں رینگتی ہے اور نہ ہی رگ حمیت بھڑکتی ہے. بس لفظی توپ خانے سے فائر ہوتے ہیں اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی رہتی ہے.

  • ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ‘بس نام رہے گا اللہ کا’، قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں کامیابی کے بعد عمران خان کی انسٹا گرام پر پوسٹ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 8حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے 6 میں کامیابی حاصل کرکے 2018 کے عام انتخابات میں 5 نشستیں جیتنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔۔۔ اتوار کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے8 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سے 7 حلقوں میں عمران خان امیدوار تھے اور انہوں نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

    اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات میں عمران خان نے این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کراچی سے کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ انہیں این اے 237 ملیر پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بیک وقت 5 حلقوں سے الیکشن لڑ چکے ہیں، انہیں 4 میں فتح اور ایک پر شکست ہوئی تھی۔۔۔

    اس بڑی فتح کے بعد تحریک انصاف کے ووٹر اور سپورٹر کل سے جشن ِفتح کے سرور میں ہیں اور پی ٹی آئی قائدین بشمول عمران خان کی چال ڈھال میں مزید اعتماد اور مستقبل کی فتح کا پختہ یقین جھلک رہا ہے۔۔۔

    جبکہ تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم میں کہیں صفِ ماتم بچھ گئی ہے اور کہیں رویوں میں درشتی کی جھلک نظر آرہی ہے، ایک تذبذب کی کیفیت میں ہیں کہ 6 نشستوں پر ہار کا غم کریں یا 2 نشستوں پر جیت کا جشن منائیں؟

    مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ اور حنا پرویز بٹ کی سنیں تو جیت کے شادیانے اور عمران خان کو دیتے طعنے سنائی دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب تمام جماعتوں کے اتحاد کو ضمنی الیکشن میں شکست پر نواز شریف بہت رنجیدہ ہیں اور ان کا شدید اظہار برہمی نظر آتا ہے۔۔۔ شکست کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی جبکہ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم پارٹی قیادت کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں اور بدترین شکست پر فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔۔

    اوردوسری جانب عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔۔۔ چاہتا ہوں نواز شریف واپس آئیں اور میرے ساتھ مقابلہ کریں،یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں،نواز شریف اور زرداری 90 کی سیاست کر رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ملک بدل چکا ہے، نواز شریف اور زردای کا وقت ختم ہو چکا ،جو مرضی کر لیں شکست ان کے حصے میں آئے گی.”

    لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے عمران خان کا مزیدکہنا تھاکہ

    "ملک کے مسائل کا ایک ہی حل ہے ، صاف اور شفاف الیکشن، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت ٹھیک نہیں ہونے لگی، یہ ملک کو نہیں سنبھال سکتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، اب بھی کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے الیکشن کا اعلان کرنے کا، اگرالیکشن کا اعلان نہیں کریں گے تو میں مارچ کا اعلان کروں گا۔۔۔میں وقت دے رہا ہوں، ہم نے جلسے کیے ہیں اور دکھادیا ہے کہ عوام کہاں کھڑی ہے، سری لنکا میں کیا ہوا ؟ سری لنکا ڈھائی کروڑ کا ملک ہے اور یہ 22 کروڑ کا ہے، جب عوام سڑکوں پر آجائے گی تو اس کی گارنٹی نہیں کیا نتیجہ آئے گا۔”

    اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ لانگ مارچ سے اگر مارشل لگ گیا تو؟ اس پر سابق وزیراعظم نے کہاکہ

    "فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے وقت تومارشل لاء نہیں لگا۔”

    اس پر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ

    ” آپ کے ضمنی الیکشن میں جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو غیر آئینی کام کا لائسنس مل گیا ہے، اگر آپ نے غیر آئینی کام کیا اور جتھہ کلچر یا اسلام آباد پر چڑھائی کی تو آپ کو پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دیا جائےگا، اگر آپ یہ راستہ کھولیں گے تو پھر آپ یہ بھول جائیں کہ صرف آپ کو اس راستے پر چلنا آتا ہے، الیکشن حاصل کرنے ہیں تو ٹیبل پر آئیں پارلیمنٹ آئیں۔۔۔ آپ کو نہیں پتا کہ آپ نےکیا کرنا ہے، ہمیں پتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کرنا ہے، ہم جمہوریت اور رول آف لا کا تحفظ کریں گے، آپ ملک میں افرا تفری چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس رویے کو روکیں گی، یہ رویہ قابل مذمت ہے، یہ فتنہ فساد ہے۔۔۔”

    اور کل پاکستان کی عدالتوں میں تین اہم کیسز کی کاروائی بہت دلچسپ رہی، اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ملا ریلیف، ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا دلائل سننے کے بعد مسترد کردی گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور بغیر ثبوت کے انہیں اشتہاری قرار دینے پر اینٹی کرپشن پنجاب پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔۔۔اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں عمران خان کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے،جس پر عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے 31 اکتوبر تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی ہے، یاد رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی کل تک حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

    یہ سب ملک و قوم کو کس جانب لیکر جائے گا اور نتیجہ کیا نکلے گا اس کا فلحال کوئی اندازہ لگانا بہت مشکل اور قبل از وقت ہے لیکن ملک پر جس طرح ڈیفالٹ کے کالے سائے منڈلا رہے ہیں انکے رہتے ہمارے سیاستدانوں اور انکی حامی عوام کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تاکہ ملک کسی درست سمت پر گامزن ہوسکے۔

    دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، کیا عمران خان اور پی ڈی ایم کی نوک جھوک کوئی نیا رنگ اختیار کرتی ہے ؟ کیا ملک کے ادارے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک کو ممکنہ بحران سے بچا سکیں گے؟

  • آئینہ ان کو دکھایا

    آئینہ ان کو دکھایا

    آئینہ ان کو دکھایا
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    کئی دنوں سے پاکستان کے سینئر صحافیوں اور خاص طور پر سینئرصحافی اور اینکرپرسن مبشر لقمان کے خلاف پی ٹی آئی کے گماشتوں نے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے ،جس طرح کی وہ زبان استعمال کررہے ہیں وہ ان کی اور ان کے لیڈر اوران کے حسب نسب کی گواہی دی رہی ہے کہ ان لوگوں کاتعلق کس قبیل سے ہے ،سب سے زیادہ یہ لوگ اس بات پر زور دیکر ٹویٹرپرٹرینڈز لانچ کررہے ہیں اور بے ہودہ زبان استعمال کررہے ہیں کہ "مبشرلقمان نے ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویودیا اورمبشرلقمان یہودی ایجنٹ ہے "اس کا جواب تو مبشر لقمان خود اپنے یوٹیوب ویلاگ میں دے چکے ہیں ۔آئیے تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھتے ہیں کہ یہودی ایجنٹ کون ہے ۔؟
    سب سے پہلے حکیم محمدسعیدکاذکر کرلیتے ہیں اگرکسی اورکانام لیتے تو آپ اے سیاسی عداوت کانام بھی دے سکتے ہیں،مگر سابق گورنر سندھ، ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید شہید کی عمران خان سے کونسی سیاسی دشمنی تھی.؟حکیم محمد سعیدشہیدنے اپنی شہادت سے دو سال قبل 1996 میں اپنی کتاب "جاپان کی کہانی "شائع کی اور اس کتاب میں سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے عمران خان کی یہودیت نوازی کا پردہ مکمل طور پر چاک کردیا تھا۔ حکیم محمد سعید اس یہودی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 13، 14 ، 15 پر لکھتے ہیں۔ بیرونی قوتوں نے ایک سابق کرکٹر عمران خان کا انتخاب کیا ہے، یہودی میڈیا نے عمران خان کی پبلسٹی شروع کردی ہے، سی این این اور بی بی سی عمران خان کی تعریف میں زمین و آسماں کے قلابے ملا رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کو کروڑوں روپے دیئے جا چکے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان بنائے، برطانیہ جس نے فلسطین کو اسرائیلی ہاتھ میں دے کریہودی ریاست بنانے میں مکمل تعاون کیا وہ ایک طرف عمران خان کو آگے بڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف آغا خان کو ہوائیں دے رہا ہے۔حکیم محمد سعید شہید آگے سوال اٹھاتے ہیں، میرے نوجوانو!کیا پاکستان کی اگلی حکومت یہودی الاصل ہوگی ؟؟یہ وہ دور تھا؛ جب عمران خان سیاست کا ” س ی ا س ت ” یاد کررہا تھا،
    مگر اس حکیم الوقت نے اس مرض کو بروقت بھانپ لیا تھا جو پاکستانی قوم کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا اور شائد یہی وہ حق و سچ کی جرات کا نتیجہ تھا کہ حکیم محمد سعید کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ حکیم محمد سعیدشہید کے علاوہ پروفیسر اسرار احمد نے تیس سال پہلے کہا تھا اور نام لے کر کہا تھا جس کی ویڈیوز موجود ہیں کہ عمران خان کو یہودی لابی لے کر آئے گی اور وہ پاکستان کو تباہ کرنے آئے گا۔
    یہ مولانا فضل الرحمن کا بیان نہیں ہے بلکہ کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ تکبیر کے 1997 کی رپورٹ ہے جوآج سے 25سال قبل شائع ہوئی پڑھ لیں،ہفت روزہ تکبیر نے لکھا ہے کہ عمران خان جیسے تھرڈ کلاس شخص کے ساتھ سر جیمر گولڈ اسمتھ جیسے کٹر یہودی ارب پتی شخص کے اکلوتی لاڈلی بیٹی کی شادی محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں کے اس نظریے اور فلسفے کا تسلسل ہے کہ کسی بھی شخص کو خوبصورت دوشیزائوں کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے،عمران خان کے پاس لندن کے 4 مہنگے ترین نائٹ کلبوں کی تاحیات ممبر شپ تھی جہاں پر عام شخص جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، انہی کلبوں میں سیتا وائٹ جیسی یہودی امیرزادیوں کے ساتھ عمران خان تعلقات بناتا تھا
    عمران خان کو جس عالمی یہودی کلب کی تعاون حاصل ہے اس کے کل دس ارب پتی ممبران ہیں جبکہ گولڈ اسمتھ اس کلب کا مضبوط رکن ہے، یہ کلب اتنا موثر ہے کہ اس نے یورپین بلاک بننے کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جس کے لئے انہوں نے دو ارب برطانوی پانڈز بھی جمع کیا تھا،عمران خان ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پاکستانی جذباتی قوم کے سامنے ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے تھے اسی وجہ سے اس بدنام زمانہ یہودی کلب کے نظریں عمران خان پرٹھہرگئیں، جب عمران خان نے 1996 میں اپنی جماعت بنا کر الیکشن میں اترے تو ان کواکمپین چلانے کے لئے خصوصی ہیلی کاپٹر دیا گیا جس کا سارا خرچہ اسی کلب نے ادا کیا۔
    اب ذرا 15جولائی 2017ء کا روزنامہ خبریں دیکھ لیجئے روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق لکشمی میتل کے داماد امیت بھاٹیا، پیٹر وِردی،نربھے لال وانی، ذلفی بخاری اور یہودی عطیہ دہندہ جیمی ریوبن کا پاکستان تحریک انصاف کو فنڈنگ کرنے کا انکشاف ہوا ہے لیکن ذرائع کے مطابق اِسکا ریکارڈ پاکستان میں موجود نہیں،عمران خان نے 150,000 پائونڈ موصولی کی باقاعدہ تصدیق تو کی تھی مگر اِن انڈین اور اسرائیلی ذرائع کے نام راز میں ہی رکھے ،خفیہ رکھی گئی اِس عشائیہ تقریب میں انڈین اور اسرائیلی سفارتخانے کے سفارتکاروں نے شرکت کی تھی ،مگرجانچ پڑتال اور بے نقاب ہونے سے بچنے کیلئے بیانات کو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے،تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کی نمایاں شخصیات اور یہودی کاروباری شخصیات ،جنہوں نے عمران خان کو پارٹی کیلئے عطیہ دیا،انڈین اور اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ سے مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی انڈین ذرائع، یو کے اور یو ایس اے سے لئے گئے عطیات کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
    لندن کے اولڈ پارک لائن میں واقع نوبو ریسٹورنٹ کے پی ٹی آئی، یوکے کے لیڈر ذلفی بخاری کے زیراہتمام اپریل کو فنڈریزنگ کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ عمران خان کی جانب سے اپریل کو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا گیا کہ یہ فنڈز نمل کالج کیلئے تھے۔لیکن ذرائع جنہوں نے خفیہ عشائیہ میں شرکت کی تھی ،نے تصدیق کی ہے کہ فنڈریزنگ پی ٹی آئی کیلئے تھی اور تین انڈین نے تقریب سے خطاب بھی کہاتھا کہ پاکستان میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا ذکر عمران خان کرتے ہیں۔بعدازاں عمران خان نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ میں ذلفی بخاری اور انکے دوستوں کانمل کالج کیلئے 150,000پائونڈ کے تعاون پر شکرگزارہوں لیکن یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دوست کون تھے جنہوں نے یہ پیسہ دیا۔پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق 150,000 پائونڈ صرف امیت بھاٹیا، جیمی ریوبن، پیٹر وردی اور لال وانی سے موصول ہوئے جبکہ100,000 پائونڈ اسکے علاوہ ہیں جو ا س رات جمع کئے گئے جس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔جس رقم کو ذلفی بخاری نے سنٹرل لندن میں عمران خان کیلئے پراپرٹی کے بزنس میں انوسٹ کردیا۔انہیں ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 2014کے دھرنے میں ذلفی بخاری نے350,000 پائونڈ عطیہ کئے تھے جب عمران خان نے فنڈز کے لئے اپیل کی تھی۔یہی انڈین شخصیات اور ریوبن فیملی تھی جن کا گولڈ سمت سے تعلق ہے نے دھرنے کیلئے رقم کا بندوبست کیا۔ایک عطیہ دہندہ کا کہنا ہے کہ عشائیہ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں تین انڈین سفارتکار شامل تھے جب کہ دو سنیئر سفارتکار اسرائیلی سفارتخانہ یو کے سے تھے ،جو سفارتکاروں کی کار میں ہی پہنچے تھے۔ پی ٹی آئی کو رقم مہیا کرنے والوں کی سیاسی معاملات میں دلچسپی ہے اور یہ اپنے رابطوں اور تعلقات کو آئندہ اپنے کاروبار میں اثرانداز ہونے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں
    امیت بھاٹیا اور لکشمی میتل کو انڈین پرائم منسٹر کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔انہیں افراد نے نریندر مودی کے استقبالیے کا اہتمام کیا تھا جب مودی نے یوکے میں چند عرصہ قبل دورہ کیا۔انہیں آر ایس ایس اور بی جے پی کا اہم سپانسر بتایا جاتا ہے ،جب کہ انہیں مودی کی ریلیوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ذلفی بخاری اور ذاک گولڈ سمیتھ کے یہی قریبی دوست ذاک گولڈ سمیتھ کے ہمراہ دو ہفتے قبل اسرائیل کا مودی کی موجودگی میں دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انہوں نے کاروباری معاہدوں میں دستخط بھی کئے۔ اِن افراد کو اِس دورے میں یہودی کاروباری ٹائی کون جیمی ریوبن کا ساتھ رہا ،جس کے بھائی نوبو کے عشائیے میں بھی موجود تھے۔ اور وہاں ذلفی بخاری کے ذریعے عمران خان کو عطیہ بھی دیا تھا۔
    اندرونی ذرائع کے مطابق لکشمی میٹل کے داماد امیت بھاٹیا اور ذلفی بخاری نے تحریک انصاف کے ممبران یا لیڈرز کو عشائیہ تقریب میں شریک نہ ہونے دیا اور بڑی احتیاط برتتے ہوئے محدود چنی ہوئی مخصوص شخصیات کو ہی مدعو کیا،تقریب میں آڈیو ویڈیو کی ریکارڈنگ ممنوع تھی،یوکے میں انیل مسرت بھی پی ٹی آئی اور انکے سیاستدانوں کو سپانسرز کرنے کے حوالے سے بہت مقبول ہیں ، جبکہ انیل مسرت انڈین کاروباری شخصیات، بالی وڈ کی نمایاں ہستیاں سمیت بی جے پی لیڈرز کے اعزاز میں تقاریب کو سپانسرز کرتے ہیں۔ان تقاریب کے انتظام و اہتمام میں انہیں اپنے بھائی نائیب مسرت کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انیل مسرت کے سگی بہن نے برطانوی نژاد انڈین کاروباری شخصیت سے شادی رچا رکھی ہے جو بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
    عمران خان کو فنڈزیورپ اور امریکہ کی یہودی اور بھارتی لابی مہیا کرتی ہے- اسکے لندن کی گولڈ سمتھ جرمن یہودی خاندان سے روابط ہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے لندن کے میئر کے انتخابات میں پاکستانی نزاد صادق خان کے مقابلے میں اپنے سابق سالے کنزرویٹیو پارٹی کے امید وار زیک گولڈ سمتھ جو کہ ایک کنزرویٹو ہے اور پرو اسرائیل ہے کی انتخابی مہم چلائی تھی ۔
    10 جون ، 2016 لندن کے نو منتخب میئر صادق خان نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں اپنے حریف زیک گولڈ سمتھ کی حمایت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ انھوں نے اس حقیقت کے باوجود کہ زیک گولڈ سمتھ نے انتخابات کے دوران میرے خلاف نسل پرستی اوراسلامو فوبیا سمیت ہر حربہ اختیار کیا اور ووٹروں سے جا جا کر کہا کہ صادق خان مسلمان اور پاکستانی ہے اس لئے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا میرے مقابلے میں زیک گولڈ سمتھ کی حمایت کیوں کی؟۔جس کا آج تک خان صاحب نے جواب نہیں دیا ۔
    سابق وزیراعظم عمران خان کے دورحکومت میں اکتوبر2018 ء تاریخ میں پہلی بار ایک اسرائیلی طیارے نے اسلام آباد میں لینڈ کیا جس کی خبرایک اسرائیلی اخبار ‘ہارٹیز’ کے مدیر ایوی شراف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دی ،اس ٹویٹ کے بعدیہ پتہ چلا کہ ایک طیارہ پاکستان آیا اور دس گھنٹے کے بعد ریڈار پر دوبارہ نمودار ہوا۔پروازوں کی آمدورفت یا لائیو ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر اس پرواز کے اسلام آباد آمد اور دس گھنٹے بعد پرواز کے ثبوت موجود ہیں۔ اسرائیلی صحافی کے بقول اس طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز ایک چالاکی دکھائی۔ان کے مطابق یہ طیارہ تل ابیب سے اڑ کر پانچ منٹ کے لیے اردن کے دارالحکومت عمان کے کوئین عالیہ ہوائی اڈے پر اترا اور اترنے کے بعد اسی رن وے سے واپس پرواز کے لیے تیار ہوا۔اس طرح یہ پرواز جو تل ابیب سے اسلام آباد کے روٹ پر جانے کے بجائے اس ‘چھوٹی سی چالاکی’ کی مدد سے تل ابیب سے عمان کی پرواز بنی اور پانچ منٹ کے اترنے اور واپس پرواز کرنے سے یہ پرواز عمان سے اسلام آباد کی فلائٹ بن گئی۔اس آمد اور روانگی پر کئی قیاس آرائیاں ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے سوالات بھی کئے کیونکہ ایک ‘اسرائیلی طیارے’ کی پاکستان آمد نے یقینا بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ادھر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے ذریعے کہلوایاگیاکہ کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے۔
    پی ٹی آئی نے امریکہ میں لابنگ کرنے کیلئے فرم ہائرکی ہوئی ہے ،جوبائیڈن ایک فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کررہا تھا۔ سوال جواب کے سیشن میں اسی امریکی فرم کے نمائندے کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سوال اٹھایا گیا، جس کو پی ٹی آئی نے لابنگ کے لئے ہائر کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فرم پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کیخلاف زبردست مہم جوئی میں شریک کار رہی ہے-یہ ہیں وہ حقائق جو پاکستان کی عوام سے اوجھل ہیں،اب پاکستان کی سمجھ دارغیورعوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے یہودیوں کاایجنٹ کون ہے۔۔۔؟

  • غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کی مخدوش معیشت کو سنبھالا دے کر ترقی کرتی ہوئی معیشت میں بدلنے کا بیڑہ اسحاق ڈار کے ذمے لگانا نہ صرف میاں محمد نواز شریف بلکہ ذمہ داران ریاست کا بہترین فیصلہ ہے۔ سینیٹر اسحا ق ڈار وزیر خزانہ نے بگڑی معاشی صورت کو درست سمت گامزن کرنے کی حامی بھر کے ملک اورعوام پر احسان کیا ہے جس کو سنجیدہ کاروباری اور عوامی حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا رحجان اور سٹاک ایکسچینج میں بلندی کی روش کسی معجزے سے کم نہیں پاکستان کو سری لنکا کی معیشت سے تشبیہہ دینے والے نابلد و ن اکام سیاسی اور معاشی پنڈتوں کو منہ کی کھانی پڑی اسحاق ڈار نے وطن عزیز کو معاشی گرداب سے نکالنے کی اٰمید کو زندہ کردیا۔

    ان کے سامنے آئی ایم ایف سمیت تمام بین الاقوامی مالیاتی فورمز کے ساتھ پاکستان کا کیس لڑنا ہے جبکہ ملکی سطح پر مائکرو اکنامکس کو نئے سرے سے منظم کرنے سے لے کر میگا اکنامکس، سمال انڈسٹری سے لے کر بڑی صنعتوں کی ترقی پٹرولیم کی قیمتوں میںکمی جیسے چیلنجز ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جو ملک کی ماضی قریب کی ابھرتی معیشت سے کھلواڑ کھیل گئے ان کو ہوش کے ناخن لے کر معاشی ترقی کے لئے ساز گارسیاسی وسماجی ماحول فراہم کرنے میں مدد دینی چاہئیے اور وسیع تر قومی مفاد میں معاشی استحکام کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیئے ایک ساز گار سیاسی وسماجی ماحول ہی معاشی ترقی کو پنپنے دے گا۔

    دفاعی اور کاروباری ترقی کے شعبوں ملک ایک بار پھر اقوام عالم میں دوبارہ ابھرتی ہوئی معاشی قوت کا مقام حاصل کرے گا۔ معاشی ترقی کا سنبھالا بلاشبہ دفاع پاکستان کا ضامن ہوگا ۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جوغیر سنجیدہ وغیر دانشمندانہ تجربات کئے گئے اٰن کو دہرانے سے گریز کیا جائے ۔ادھر حکمران جماعت کے وزراء اور مشیران کو بھی چاہیے کہ وہ نہ صرف بے بنیاد پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں بلکہ ا پنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں عوام رابطہ مہم کے ذریعے عوامی مسائل کو حل کریں اور اپنے آپ کو اسلام آباد کےایوانوں کی زینت ہی نہ بنائے رکھیں ۔ غرور اور تکبر کی حدوں کو کراس کرنے سے گریز کریں۔

  • پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    یوں تو پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا سرخیل بننے کی چاہت ہر سیاستدان کو ہی رہتی ہے لیکن ملک کی حالیہ سیاسی نورا کشتی پر نظر دورائیں تو فلحال ایک ہی سیاستدان ایک ہی مقبول چہرہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جبکہ مدمقابل جس مشن کے تحت حکومت کے آخری سال اقتدار میں آئے تھے وہ اس مشن کی تکمیل میں ایک ساتھ مصروف ہیں ۔ ۔۔

    اس ساری صورتحال میں دونوں جانب سے ملک و ریاست کے ذمہ دار ادارے چکی کے دو پاٹوں میں سیاستدانوں کی سیاسی ضرورت کے تحت پس رہے ہیں۔۔۔

    ادارے آیئنی حدود میں رہ کر کام کریں یا ملک کے سیاستدانوں کو آیئنی حدودکا تعین کریں، دونوں صورتوں میں ادارے سیاستدانوں اور انکے چاہنے والوں کے درشت لہجے اور شاکی رویے کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔

    عدالتوں سے جس سیاستدان کے حق میں فیصلے آجائیں وہ حق کی فتح کا جھنڈا تھامےاور دو انگلیاں دکھاتا ہوا باہر آتا ہے اور مخالفیں کو بری طرح تنقید کا نشانہ بناتا ہے جبکہ جس سیاستدان کے خلاف فیصلے آجائیں وہ عدالتوں اور اداروں کو نشانے پر رکھ لیتا ہے اور اسکی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    عام آدمی کو جب سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں سمجھ میں نہیں آتی تو وہ بھی نظام کو کوس کر اپنے سیاسی لیڈر کی جے جے کار کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقی آزادی کے نعرے بلند کرتا ٹرک کی بتی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔

    اس ہفتے میں دو خبریں آئیں جن کے بعد ملکی سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آیا، ایک طرف باوجود گرفتاری کی تیاری اور شدید خواہش کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے اور دوسری جانب اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورکے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے ہیں۔۔۔

    دونوں طرف حق کی جزوی اور مکمل فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور نعرے لگ رہے ہیں، لیکن عوام کا سنجیدہ حلقہ ہونق بنے سراپا سوال ہے کہ اگر سبھی سیاستدان اور سیاسی جماعتیں حق کی علمبردار اور سچی ہیں تو پھر پاکستان کی عوام ہی باطل اور جھوٹی ہے؟؟؟؟