Baaghi TV

Category: سیاست

  • ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت ایک بار پھر بلند سطح پر، گزشتہ چند دن سے ملکی سیاست کی صورتِحال بدلی تو تحریکِ انصاف کے قائدین اور رہنماؤں کی بھی ٹون جو کہ دس اپریل 2022 سے ہی بدلی ہوئی تھی، اس میں شدت آگئی۔۔۔

    اعظم سواتی جو کہ ٹوئٹر پر اداروں اور مختلف ریاستی شخصیات کو اپنی شست پر لیے بیٹھے تھے خود قانون کی شست پر آگئے۔۔۔ تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی کےخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ سیکشن 20 کے تحت درج کیا گیا ہے ،جس میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 131/500/ 501، 505 اور 109 کی شقیں بھی شامل ہیں، اور ایف آئی آر کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا مدعی ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان ہے، ان کے خلاف مقدمے کا اندراج انکوائری کی تکمیل پر عمل میں لایا گیا ہے۔۔۔

    اعظم سواتی کوایف آئی اے سائبر کرائمز کی جانب سے رات گئے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ان کے متنازعہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کواشتعال دلانےجیسےالزامات ہیں۔۔۔

    ایسے ہی بیانات دینے پر پہلے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ٹھیک ٹھاک قانونی کاروائی بھگت چکے ہیں اور اسی کیس میں کورٹ کی تاریخیں بھگت رہے ہیں۔۔۔

    اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے موقع عمران خان سے اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”ملک کو بنانا ری پبلک بنادیا ہے، شرم آنی چاہیے۔”

    ادھر ایک جلسے میں عمران خان صاحب ذومعنی لب و لہجے میں اداروں کی تضحیک اور ان پر تنقید کرتے ہیں اور دوسرے جلسے میں کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ادارے بھی میرے ہیں اور پاکستان بھی میرا۔۔۔۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟

    اور مردان جلسہ میں خان صاحب کا پارہ بھی بلند نظر آیا، خان صاحب نے جلسے میں کہا کہ

    ” جو بھی ان چوروں کو این آر او دے رہا ہے وہ اس ملک کا غدار ہے، اگر مجھ پر مقدمات بنانے اور جیلوں میں ڈالا تو میں زیادہ زور سے مقابلہ کروں گا۔۔۔ میں کرپٹ ہوتا تو آج دم دبا کرنواز شریف کی طرح ملک سے بھاگ ہوا ہوتا۔۔۔۔سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی گڑبڑ کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔۔۔اعظم سواتی کو بھی برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، تمام اداروں سے کہتا ہوں کہ غلط فہمی میں نہ رہیں کہ تشدد کرکے عزت کروالیں گے۔۔۔”

    خان صاحب کبھی جیل بھرو تحریک کی بات کرتے ہیں تو کبھی جیلوں میں ڈالنے والوں کو دھمکا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں ہم آئین اور ریاست کا احترام کرتے ہیں اور کبھی آئین اور ریاست کے زمہ داران کو غدار کہہ رہے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بیانات اور بیانیے میں اتنا تضاد اور کنفیوژن کیوں ہے؟

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کردی گئی ہے، تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے درخواست دائر کی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی 62(1) ایف کی تحت نااہلی کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے، وہ اپنے سرکاری دوروں کے دوران اشتہاری اور سزا یافتہ ملزمان سے ملاقاتیں کر تےرہے ہیں، مزیدکہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو احتساب عدالت نے دس سال قید اور 80 لاکھ جرمانہ کی سز ا سنا رکھی ہے جبکہ بیرون ملک دوروں میں شہباز شریف بطور وزیراعظم حسین نواز ، سلمان شہباز اور اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی، لہذا انہیں نااہل کیا جائے۔

    یہ سب ملک اور قوم کو کہاں لیکر جائے گا اور کب یہ سیاسی مقدمہ بازی، غداری کے فتوے لگانا اور الزامی سیاست اختتام پذیر ہوگی؟؟؟

  • "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    چوک پر بیٹھا گدا گر، مجھے دیکھتے ہی لنگڑاتے ہوئے میری جانب بڑھا۔ "اللہ کے نام پر دے دو، ٹانگ سے معذور ہوں۔ اللہ آپکو خوش رکھے”۔ گدا گر نے قدرے جذبات سے کہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔ میں نے کہا ٹانگ کو کیا ہوا ہے۔ ماما پھلا بولا! "ہوا کچھ نہیں ، بس سیاست کررہا ہے”۔ سیاست کیا مطلب؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ۔ "فراڈ کر رہا ہے۔ یہ معذور کوئی نہیں ہے، مانگنے کے لیے بس معذور بنا ہوا ہے” ۔ ماما پھلا اسے گھورتے ہوئے بولا۔ خیر میں نے اسے پچاس روپے کا نوٹ تھما دیا ۔ اگلے روز اسی معذور گدا گر کی ٹانگ کی بجائے بازو کی معذوری دیکھ کر مجھے اس کی سیاست سمجھ آنے لگی۔

    سیاست کا مطلب فراڈ ہی ہے، گدا گر کے بعد اس مطلب کو ہمارے سیاستدانوں نے بھی درست ثابت کر کے دیکھایا۔گجنی فلم جس کا ہیرو "شارٹ ٹرم میموری لاس” جیسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، اور اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ شاید وہ بھارتی فلم پاکستانی سیاستدانوں پر بنائی گئی تھی ۔

    کیونکہ ہر سیاستدان بھول جاتا ہے کہ کل اس نے کیا کہا تھا ؟ عوام سے کیے وعدے تو سیاستدانوں کو کبھی یاد نہیں رہتے۔ اپنی ہی باتوں سے مکر جاتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان تو اپنی باتوں سے اس قدر پھرے کہ مخالفین نے ان کا نام ہی "یو-ٹرن” رکھ دیا۔ عمران خان اپوزیشن میں رہ کر کہا کرتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہے۔ جب اپنی حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈالتے رہے۔

    حکمران جماعت یعنی ن لیگ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ زرداری، جسے لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھیسٹنا تھا ، اب اسی کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹے جارہے ہیں۔ جب تحریک انصاف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اسے عوام کی جیبوں پر ڈاکا کہا گیا۔ اور جب اپنی حکومت آئی تو گجنی فلم کے ہیرو کی طرح یہ بات بھول کر ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مشکل معاشی فیصلہ کہا۔

    مولانا فضل الرحمان بھی گجنی بننے سے ہرگز پیچھے نہیں رہے۔ حرام اسمبلی کے نعرے شاید "شارٹ ٹرم میموری لاس” کی وجہ سے بھول چکے ہیں، آج کل اسی لیے اسمبلی میں حکمران جماعت کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

  • سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان اور ان کے مداحوں کو ریس میں اکیلے دوڑنے کا شوق ہے وگرنہ جتنی تنقید عمران خان سے پہلے اور دیگر سیاستدانوں اور حکمرانوں پر ہوئی ہے عمران خان پر اس کا عشر عشیر بھی تنقید نہیں ہورہی، لیکن اہلیانِ عمران خان کو درد ذہ سب سے زیادہ ہے۔

    اہلیان عمران خان, میں تو یہی کہوں گا ورنہ ان کو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کس گھٹیا لقب سے یاد کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ کہ وہ قطعی پارلیمانی اور صحافتی اقدار کے خلاف ہے جبکہ ہماری تربیت ہمیں اس برے فعل سے ہمیشہ روکتی ہے۔

    جی تو اہلیان عمران خان کو نجانے کیوں یہ خبط سوار ہوگیا ہے دماغ پر کہ خان صاحب کا پسینہ عطر خاص ہے اور خان صاحب دنیا کے ہینڈسم ترین اور معصوم عن الخطاء انسان ہیں, او بھئی نکل آؤ اس سحر سامری سے اور غلو و انتہا پسندی سے بچو ورنہ جب بت پاش پاش ہوتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے کی آواز اور تکلیف تادم مرگ پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    خان صاحب سب کچھ بہت اچھے سے جاننے کا دعوی کرتے ہیں مطلب دنیا کی جس چیز, جس جگہ اور جس شخص کا نام لے لو جھٹ خان صاحب فرماتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا لیکن افسوس صد افسوس کہ خان صاحب بنیادی اخلاقی اور تعمیرِ کردار کی بابت کچھ نہیں جانتے اور یہی ان کا مشن ہے کہ قوم کی نوجوان نسل بھی ان اصولوں سے بہرہ ور نہ ہوسکے۔

    کوئی خان صاحب سے جتنا بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر سوال کرلے, اہلیان عمران خان کی دم پر نجانے کہاں سے نادیدہ پاؤں دھرا جاتا ہے کہ پھر گھنٹوں بلکہ دنوں تک سوشل میڈیا پر نحیف سی چیاؤں چیاؤں سننے کو ملتی رہتی ہے اور سوشل میڈیا والز پر آؤ تو لگتا ہے کہ گھر کا فلش اوور ہوگیا ہو اور چہار سو بول و براز پھیلا ہو۔

    چلیں حامد میر, سلیم صافی, غریدہ فاروقی اور ثناء بچہ کی حد تک اہلیان عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ یہ بغض عمران میں مبتلا ہیں اور لفافہ لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن مبشر لقمان صاحب پر پی ٹی آئی اپنی گھٹیا کیمپین کو کس طرح جسٹیفائی کرسکتی ہے؟

    2014 کا سارا دھرنا اور اس وقت خان صاحب کو ملی میڈیا ہائپ میں 90% تک مبشر لقمان صاحب کا ہاتھ تھا۔ بہت سے میرے جیسے لوگ تب عمران خان کی طرف راغب ہوئے تو اس میں مبشر لقمان اور اے آر وائے نیوز پر ان کے پروگرام کھرا سچ کا بہت اہم کردار تھا۔۔۔ مطلب خان صاحب کی تمام تر سیاسی جدو جہد کو اگر 2014 سے پہلےاور بعد میں تقسیم کریں تو پہلے کی کارکردگی اور شہرت کے مقابلے میں بعد کی کارکردگی اورشہرت ان کی سیاست میں بہت اہم ہے کیونکہ بعد کی شہرت اور عوامی شعور جس پر خان صاحب کا کلیم ہے کہ وہ انہوں نے دیا سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ جتنا ایکسپوز مبشر لقمان صاحب نےن لیگ اورپیپلز پارٹی کو کیا خان صاحب کا کام تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے دیگر صحافیوں کی طرح خان صاحب اور ان کے ہمنوا تب مبشر لقمان صاحب کے بغیر اندھے بہرے اور گونگے تھے کہ جب مبشر لقمان صاحب رات کو سٹوری کرتےتو اگلےدن بشمول خان صاحب پوری پی ٹی آئی قیادت اور سوشل میڈیا وہی سٹوری بیان کرکے مخالفین کو دھول چٹا رہے ہوتے۔

    آج ایک ادھوری وفاقی حکومت گنوا کر خان صاحب دن بھر سڑکوں کی دھول چاٹ کر رات کو "ناراض دوستوں” سے "پیچ اپ” کی سکیمیں بناتے ہیں جبکہ ان کے اہلیان عمران خان سوشل میڈیا پر فی سبیل اللہ "سگِ بنی گالا” کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور خان صاحب کی طرح ان کے محسنین اور سابقہ دوستوں کو سوال اور اعتراض کرنے کی پاداش میں ذلیل و رسوا کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن قوم یاد رکھے کہ جو شخص مطلبی اور خودغرض ہوتا ہے وہ مطلب نکلنے پر یہی کچھ کرتا اور کرواتا ہے حو خان صاحب اور ان کی قوم یوتھ کرتی پھر رہی ہے۔

    خان صاحب آپ پیر کامل بننے کی کوشش میں حد لانگ رہے ہیں یہ مت کریں, ریڈ لائن صرف ایک ہی تھے, ہیں اور تاقیامت رہیں گے اور وہ ہیں آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن کی خاطر ماں باپ قربان کرنا اور اولاد سے سرف نظر کرنا فرض کیاگیا ہے بذبان اللہ۔

    خان صاحب اپنے اہلیان کو لگام دیں وگرنہ ڈھول کا پول کھل گیا تو آپ اپنا گریباں چاک کرنے اور عوام میں جاکر سچے ہونے کا دعوی کرنے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

    اکڑ, غرور اور تکبر خواہ بری شہ پر ہو یا اچھی پر۔۔۔ اللہ کو یہ حرکت سخت ناپسند ہے۔ پوری قوم کو سیرت کےاسباق بعد میں رٹوائیےگا, پہلے اہلیان عمران خان کو اس پر عمل کی تلقین کریں۔

    سوشل میڈیا کو ایک گٹر بنانے میں جتنا کردار پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرز اور ایکٹیوسٹس نے ادا کیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔۔۔ اور خود یہ اس گٹر کے اکلوتے مالک اور چوڑے بن کر سارا دن چوڑے والی آکڑ دکھا دکھا کر شرفاء کی پگ اچھالتے رہتے ہیں۔

  • "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے” — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان جمہوریت کے دعویدار ہیں۔ اور جمہوریت پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے تو الیکشنز کا رونا رو رہے ہیں۔ کہ ہمیں یہ امپورٹڈ حکومت نا منظور ہے۔ ایکشنز کروائے جائیں اور جمہوری طریقے سے عوام جسے منتخب کرے ،اسے ہی حکومت ملنی چاہیے۔

    مگر جمہوریت ، جمہوریت کا راگ الاپنے والے عمران خان اور ان کے حامی آزادی اظہار اور پریس کی آزادی جیسی جمہوری اقدار کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ جو عمران خان کے حق میں بولے وہ صحافی کہلائے اور جس نے زرا سی بھی عمران خان پر تنقید کر دی تو صاحب! وہ لفافی ہوتا ہے۔

    آج کل عمران خان کے حامی ٹوئیٹر پر سیئنر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے خلاف غداری اور لفافی کے ٹرینڈز چلا رہے ہیں۔میں بھی مبشر لقمان کے تجزیوں اور تبصروں پر اختلاف رائے رکھتا ہوں۔ مگر اختلاف رائے کا مطلب گالم گلوچ نہیں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مبشر لقمان یا کسی اور صحافی کی بات اچھی نہیں لگ رہی تو نہ سنیں یا اختلاف کریں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اور جمہوریت سب کو اظہار رائے کی آزادی تو ضرور دیتی ہے۔ مگر کسی شہری کی رائے پر اختلاف کی بجائے گالم گلوچ کی ہرگز نہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں عمران خان یو ٹرن لیتے رہے ہیں۔ عمران خان کے دور میں ان کے وزرا نے دل کھول کر کرپشن بھی کی ہے۔ مبشر لقمان بھی یہی سب چیزیں بتا رہے ہیں۔ بلکہ ثبوت بھی دیکھا رہے ہیں۔فیصل واوڈا کی غیر ملکی شہریت ہو یا خسرو برادران کی کرپشن ، توشہ خانہ یا سابق وزیر اعلی عثمان بزدار گروپ کی کرپشن ، مبشر لقمان ان سب معاملات پر تجزیے اپنے یو ٹیوب چینل پر کر رہے ہیں۔ اور ثبوت بھی دے رہے۔

    اگر ثبوت جھوٹے ہیں تو بھیا! کہو کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے۔ اور ثبوت جھوٹے ثابت کرو۔ معاملہ عدالت لے کر جاؤ۔ مگر یہ تو جھوٹا پن اور کم ظرفی ہے،کہ اپنے سوشل میڈیا کو یہ کہہ کر ٹرینڈز پر لگا دیا جائے کہ "ارسلان بیٹا! غداری سے لنک کر دو”۔ ٹوئیٹر مبشر لقمان کے خلاف ٹوئیٹس سے بھرا پڑا ہے ۔

    مگر مبشر لقمان بولے جا رہا ہے۔ رکنے کا نام تک نہیں لے رہا۔”ارسلان بیٹا مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”۔ کہنے کی بجائے مبشر لقمان کو ملک پاکستان نے جو اظہار رائے کی آزادی جیسا حق دیا ہے،اسے قبول کیجیے۔

  • کرپشن ،بدعنوانی، تحریر :ارم شہزادی

    کرپشن ،بدعنوانی، تحریر :ارم شہزادی

    ہمارے زہن میں کرپشن کے معنی صرف وہ لوٹ مار ہے جو سیاست دان، بیوروکریٹ ،ججز، اعلیٰ عہدیداران ،میڈیا ہاوسز بڑے پیمانے پر کرتے ہیں جبکہ کرپشن تو وہ ناسور ہے جو ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور بدقسمتی سے ہم اسے کرپشن مانتے بھی نہیں ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ کرپشن کی یہ قسم سب سے زیادہ بری ہے جو ہم اپنے بچوں کے زہنوں میں ڈال رہے ہیں اور یہی بچے بڑے ہوکر مہا کرپٹ بنیں گے۔ یعنی ہم اپنے لیے خود جہنم کا ایندھن تیار کررہے ہیں۔ کرپشن صرف کروڑوں یا اربوں کی نہیں ہوتی ہر وہ پیسہ بنانے کا زریعہ جو ہمارے قابلیت سے مطابقت نہیں رکھتا وہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ہے۔ کرپشن رشوت کی وہ شکل ہے جس میں رشوت کھانے والا اپنے لاکھوں میں کسی مجبور سے دس ہزار ہتھیا کر ڈال کر تمام پیسہ حرام کرنے والا ہے۔ہم سمجھتے ہیں انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والا کروڑوں کی کرپشن کرتا ہے تو صرف وہی کرپشن ہے جب کہ نچلے لیول پے بیٹھا رجسٹرار چند سو بھی کسی غریب سے لینے سے گریز نہیں کرتا ہے لیکن وہ اسے کرپشن نہیں مانتا جبکہ وہ اتنا ہی کرپٹ ہے جتنا کہ کروڑوں لینے والا بس پہنچ پہنچ کی بات ہے۔ دوکاندار مہنگائی کا شور کرتے ہوئے سامان کا نرخ زیادہ لیتا ہے جبکہ ناپ تول میں کمی کرتا ہے، سامان میں ملاوٹ کرتا ہے یہ بھی کرپشن ہے۔ اپنا کام ایمانداری سے نا کرنا لیکن تنخواہ پوری لینا یہ بھی کرپشن ہے۔ رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا اور پھر اس نوکری سے جائز ناجائز زرائع استعمال کرکے پیسہ بنانا یا غریبوں کو لوٹنا یہ بھی کرپشن ہے۔

    کسی کے گھر دیہاڑی پے لگنا اور آدھا دن چائے اور سگریٹ پینے میں ضائع کر کے پیسے پورے لینا یہ بھی کرپشن ہے۔ بچوں کو سکھا کر جھوٹ بول کر والد سے پیسے نکلوانا دہری کرپشن ہے ایک مالی اور اخلاقی۔ مالی کرپشن کا تو حساب ہوگا ہی لیکن اس میں کچھ لوگوں کو رعایت بھی مل جائے گی کہ اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے اور سربراہ اتنے پیسے نہیں دیتا تھا لیکن جھوٹ سکھانے کا گناہ قبر تک ساتھ جائے گا۔ لاکھوں کمانے والے بھی اور کی تلاش میں اور ہزاروں کمانے والے بھی لیکن پوری پھر بھی نہیں پڑ رہی کیونکہ برکت ہی نہیں ہے اور ناجائز طریقے سے کیا گیا اکٹھا پیسہ نا تو سکون دے سکتا ہے اور ن ہی برکت۔ اس کرپشن اور ناجائز زرائع سے کمانے کی ایک وجہ اسائشات کو ضروریات بنالینا بھی ہے۔ دیکھا دیکھا ایک دوسرے سے اگے نکلنے کی دوڑ میں اخلاقیات کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کھانے کی چیز میں ملاوٹ، پینے کی چیزمیں ملاوٹ، پہننے کی چیز، میں ملاوٹ یہاں تک کہ دوائیوں میں ملاوٹ۔ ہر طریقے سے کمانے والے جب کہتے ہیں نا کہ مہنگائی بہت ہے ہورا نہیں ہوتا خرچہ ہاتھ تنگ ہے تو اس کا مطلب واقعی یہ نہیں کہ یہ سب ہے اس کا مطلب یہ کہ کمائی میں برکت نہیں ہے۔ اور جس کمائی میں برکت نا ہو وہ چاہے ہزاروں میں ہو، لاکھوں میں ہو، یا پھر کروڑوں میں انسان رہتا ہمیشہ روتا ہی ہے۔۔ معاشرے کی بدقسمتی دیکھیں کہ ہم پیسوں کی کرپشن پے بات کرتے ہیں لیکن اخلاق کی کرپشن پے بات نہیں کرتے ہم نفس کی کرپشن پے بات نہیں کرتے ہم محبت میں دھوکہ دینے والے کی جذباتی کرپشن کی بات نہیں کرتے، ہم رشتوں کے تقدس میں ہونے والی کرپشن کی بات نہیں کرتے ایسے ہی تو نہیں سارا معاشرہ زوال کا شکار۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رزقمیں برکت ہو ہماری نسل پرسکون ہو تو انہیں صرف اسائشات پر نا لگائیں بلکہ انکی اخلاقی تربیت کریں انہیں تھوڑا کھلا دیں سستا پہنا دیں لیکن انکی تربیت اور صحبت خراب نا ہونے دیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ حرام رزق پے پلنے والا حلال کام کرے یا آخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ بچوں کو وقت دیں صرف پیسہ نہیں۔ کرپشن کو ایک برائی کے طور پر اپنے بچوں کو پڑھائیں سکھائیں کیونکہ یہ آپ کا صدقہ جاریہ بھی ہیں اور گناہ جاریہ بھی۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    اگر ہم وسعت نظری اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کرنے کا سہرا باندھیں تو بلا شک و شبہ اس کا سہرا پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں اور پارٹی ورکرز کو جاتا ہے کیونکہ 1990 سے آج کی تاریخ تک یہ واحد پارٹی تھی جس کے نمائندوں نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری سٹیجز پر ببانگ دہل مخالفیں جس میں پی پی پی سر فہرست تھی اوراب پاکستان تحریکِ انصاف ہے کو خوب لتاڑا اور ان کے خلاف نازیبا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا

    اب خرابی یہ شروع ہوگئی ہے کہ بات سیاست اور جمہوریت تک رہتی تو کام چل جاتا جیسے گذشتہ تین دھائیوں سے چل رہا تھا لیکن اب تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک قدم آگے جاکر پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ سماج اورمعاشرے کو بھی بد تہذیبی اور بدتمیزی کی ذد پر رکھ لیا ہے۔اب صورتِحال یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کیا تھا وہ بھی تحریک انصاف کو دیکھ کر شرمانے اور گھبرانے لگی ہے۔

    عمران خان جو قوم کی تربیت اور شعور و بالیدگی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے خود ان کا عمل انکی بہت سی باتوں کے متضاد ہے، مخالفین کے نام بگاڑنا، تہمتیں اور بہتان تراشی اور ٹپوری لینگویج کا استعمال کرنا انکوذرا بھی معیوب نہیں لگتا لیکن تسبیح ہاتھ میں پکڑے 24 سو گھنٹے غیبتیں اور چغلیاں کرنے کے بعد قوم اور مخالفین کو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ریاست اور سیرت کی باتیں سنا کر مرعوب کرنے کا فن صرف خان صاحب کے پاس ہی ہے۔

    مسلم لیگ ن نے جس بیہودہ کلچر کی داغ بیل ڈالی تھی تحریکِ انصاف نے اسکو خوب پروان چڑھایا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے سیاستدانوں سے لیکر عام کارکن اور سپورٹر تک ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔چھوٹے بڑے کی تمیز اور زبان سے ادب و اداب ختم ہوجائیں تو پھر انسان اور حیوان میں بس نام اور ہیت کا ہی فرق رہ جاتا ہے لیکن خصائل اور فضائل برابر ہوجاتے ہیں۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    اس وقت ملک میں انارکی اور کلٹ ازم و فاشسٹ ازم کی واحد نمائندہ جماعت صرف اور صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہے جس کے شر سے نا کوئی سیاستدان، نا کوئی سرکاری نمائندہ اور ادارہ اور نا ہی کوئی صحافی محفوظ ہے۔جو بھی عمران خان یا تحریکِ انصاف پر تنقید کردے، اعتراض کردے یا سوال کرلے تو سمجھو اس نے بھڑوں کے چھتے پر وٹا مار دیا ہے کیونکہ چند منٹوں کے نوٹس پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس سوشل میڈیا سائیٹ پر وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

    تازہ واردات ان کی یہ ہے کہ پاکستان کے مایہ ناز اور انتہائی کریڈیبل اور نامور اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کو نشانے پر لے آئے ہیں، وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب نے ہمیشہ حق اور کھرے سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ ۔ ۔ جب تک خان صاحب صحیح ٹریک پر تھے تو مبشر لقمان صاحب سمیت ہر با شعور اور غیرجانبدار صحافی کے سر آنکھوں پر تھے لیکن جب خان صاحب نے بھی ایک مافیا کی بنیاد رکھ دی اور قوم کے بچوں کو سگ بنی گالہ بنا لیا اور سیاہ و سفید کے مالک بننے کی کوشش کی تو پھر باقی تو تتر بتر ہوگئے کہ کس کو عزت اور جان پیاری نہیں، البتہ مبشر لقمان صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا بیشک کوئی کچھ بھی کہتا اور سمجھتا پھرے حق اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔

    بس اسی جرم کی پاداش میں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس باولے ہوکر ایسے اوٹ پٹانگ ٹرینڈز لا رہے جو کم از کم شعور سے مربوط نہیں۔آج تیسرا دن ہے جب پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس مبشر لقمان صاحب کے خلاف ہر حد کراس کر رہے کیونکہ مبشر لقمان صاحب نے خان صاحب اور انکے ہمنواؤں کے خلاف اپنے چینل کے توسط سے جو نا قابلِ تردید ثبوت دیے ہیں ان سے خان صاحب تو کیا پوری تحریکِ انصاف کو سانپ سونگھ گیا ہے۔۔۔

    اگر مبشر لقمان صاحب جھوٹے ہیں تو تحریکِ انصاف عدالت کا دروازہ کھڑکائے۔۔۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب سچے ہیں اور پی ٹی آئی و سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس جھوٹے ہیں اسی لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس بھرپور اینٹی کیمپین چلا کر چور مچائے شور کی مثال قائم کر رہے ہیں لیکن انکو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے ، مبشر لقمان صاحب ایسے بیہودہ حربوں سے رکنے یا جھکنے والے نہیں۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس بس انتطار کریں اور اپنی خیر منائیں کیونکہ مبشر لقمان ان کے لیے اکیلے ہی کافی ہیں کہ جھنڈ میں تو کتے آتے ہیں جبکہ شیر ہمیشہ اکیلا ہی آتا ہے!!!

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • 90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت سے حوادث کی گواہ ہے جس میں اگر ہم صرف 1990 کی دھائی ہی دیکھ لیں تو پاکستان میں دو سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آئیں ،ایک مرکز میں حکمران تھی تو دوسری ایک صوبہ میں ، اگر صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ اسلام آباد کی جانب جاتا تو گرفتار ہو جاتا اور اگر مرکز ی حکومت کا کوئی نمائندہ صوبائی حکومت کی حدود میں نظر بھی آ جاتا تو اسکو گرفتار کر لیا جاتا۔ یہ بات ہو رہی ہے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی اور انکی 1990 کی دھائی کی سیاست کی ۔۔۔

    اب یہ ایسا کیوں تھا کیا اقتدار کی لالچ تھی یا پاور شئیرنگ کا مسلہ، اس سوال کا جواب آج تک راہ تک رہا ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں تو آج کے دن تک پاکستان میں درجنوں موجود ہیں لیکن سیاست بلخصوص 1990 کی دھائی کی سیاست کی چھاپ آج تک جوں کی توں موجود ہے۔۔۔

    انتقام، انتقام اور بس انتقام۔۔۔ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا بس یہی مطلب سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے خواہ 1990 کی دھائی کی سیاست کو دیکھ لیں یا 2022 کی موجودہ سیاست کو، ہمیں بس سیاسی مقدمہ بازی ہی نظر آتی ہے، شاید اسی لیے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے کہا تھا کہ

    "جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔۔۔

    آج کی تاریخ میں اگر 1990کی دھائی کی سیاست کی مثال سمجھنی ہو تو اپریل 2022 سے آج کے دن تک وفاق اور صوبوں کی سطح پر مختلف واقعات پر نظر دوڑا لیں۔ تازہ مثال ملک کےوزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایک صوبہ، پنجاب جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے آجکل انتظامی طور پر بہت متحرک نظر آرہا ہے لیکن یہاں سوال نہیں بلکہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کا ہی تسلسل تو نہیں؟

    کیا پاکستان کی عوام اسی طرح سیاسی پارٹیوں کا دنگل اور نورا کشتی دیکھتی رہے گی؟

    کب تک ھم 1990 کی دھائی کی سیاست کے چکر ویو میں پھنسے رہیں گے؟

    لگتا تھا کہ خان صاحب اپنے بلند بانگ دعووں کو تکمیل تک پہنچائیں گے اور پاکستان میں رائج 1990 کی دھائی کی سیاست و جمہوریت کا بدنما داغ دھوئیں گے لیکن ہوا اسکے متضاد مطلب خان صاحب بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کے رنگ میں رنگے گئے جس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ خان صاحب جن کو اپنا اور ملک و قوم کا دشمن سمجھتے اور کہتے تھے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر انہیں استاد مان چکے ہیں؟

    خیر ہم تو عوام ہیں جو اونٹ پر نظریں گڑائے بیٹھے ہیں کہ یہ موا کس کروٹ بیٹھے گا؟

  • عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اندھوں میں کانے راجا ضرور ہیں۔مگر دودھ کے دھلے ہرگز نہیں۔ حقیقی آزادی کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کا یہ درست وقت ہے بھی کہ نہیں؟۔ معیشت پہلے کہاں کھڑی ہے؟۔یہ سوچیے زرا۔کیا خان صاحب کو نہیں پتہ کہ اس وقت سیلاب متاثرین اور مہنگائی اس ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے ؟۔ یقیناَ جانتے ہونگے۔ ان کے علم میں یہ بھی ہوگا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں شدت پسندی پھر سے زور پکڑ رہی ہے۔مگر پوری تحریک انصاف ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی لیول پر لانگ مارچ کی تیاریوں میں جُتی ہوئی ہے۔اور مسائل کے لیے اندھا حافظ جی بنی ہوئی ہے۔

    خان صاحب صوبہ آپکا مالی طور پر ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا ہے۔ تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ۔ مان لیا کہ انقلاب کے لیے ایسی قربانی دینا پڑتی ہیں۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ مگر کیا آپ کو شدت پسند عناصر کا دوبارہ منظم اور متحرک ہونا نظر نہیں آرہا؟ ۔ معیشت کی قربانی تو انقلاب کے نام پر قبول ہے۔ مگر انقلاب کے نام پر شدت پسندی میں شدت سے جانوں کی قربانی کیسے قبول کر لیں ۔آپ کو تو چاہیے تھا کہ اس وقت شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرتے۔ مگر آپ انقلاب کے چکر میں اسلام آباد بند کرنے کے چکروں میں ہیں۔

    "ان تازہ خُداؤں میں بڑا سب سے، وطن ہے”

    یہ قوم آپ سے توقع کیے بیٹھی ہے کہ آپ ہی مسیحا ہیں۔پلیز! اس قوم اور اس وطن کا سوچیے خان صاحب۔اس وطن کا کہ جو

    ہر مومن کا رکھوالا ہمارا وطن
    امت کا ہے سہارا پیارا وطن

    نہ تھا امت کا ہمدرد کوئی
    دے کے قوت رب نے ابھارا وطن

    دریا دیئے، بحروبر دئیے، دئیے حسین گلشن
    خدا نے نعمتوں سے ہے سنوارا وطن

    ان کے آنگن میں بھی سدا بہار رہے
    جان دے کے جنہوں نے نکھارا وطن

    ہو گا اسلام کا غلبہ جہاں میں عامر
    وسیلہ بن کے آئے گا تمھارا وطن

    احتجاج ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ۔ تو پھر وفاقی حکومت کیوں اس احتجاج کو روکنے کے لیے حربے ،حلیے استعمال کر رہی ہے۔ن لیگی حکومت یہ احتجاج روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے تو کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو ہر قیمت پر روکیں گے۔

    خان صاحب!احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے۔ مگر پہلے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی عوام کو تو اسکا حق دیں، جس کے عوض آپ نے ووٹ لے رکھے ہیں۔

  • عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    ہر سال 2اکتوبر کو ، اقوام متحدہ کی قرارداد (جس کی 143 رکن ممالک نے حمایت کی تھی) کے مطابق "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم عدم تشدد کو منانے کا مقصد، امن، برداشت اور عدم تشدد کا فروغ ہے ۔ تاکہ معاشرے میں امن و امان ، محبت اور بھائی چارے کا فروغ ہو۔

    جنوری 2004 میں ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی نے عدم تشدد کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی۔ جسے بھارت میں اس قدر پزیرائی ملی کہ بھارت نے "عالمی یوم عدم تشدد” منانے کی تجویز اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردی۔

    مگر بھارت جیسے جابر اور ظالم ملک کو دیکھ کر یہ بات کس قدر عجیب اور فریب لگتی ہے کہ اس ملک نے عالمی یوم عدم تشدد کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کی تھی۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی یہ دن اپنے سیاسی رہنما گاندھی کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں اور اسے بھارت میں "گاندھی جیانتی”کے نام سے منایا جاتا ہے۔ گاندھی نے کہا تھاکہ

    "حقیقی خوشی وہی ہے۔ جو آپ بھائی چارے کے لیے سوچتے ، کہتے اور کرتے ہیں”۔

    عدم تشدد کے علمبردار گاندھی کا ملک بھارت تو کبھی بھی تشدد ترک کرنے پر آمادہ نظر نہیں آیا۔ بھارت میں مسلمانوں پر منظم تشدد اور قتل و غارت گری سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ بھارت کی کشمیر میں جاری وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ دیکھ کر بھارت کی عدم تشدد کی قرارداد صرف فریب لگتی ہے۔ اپنے حق کےلیے آواز اٹھانے والے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد اور سفاکی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ جموں شہر کی قریبی نہر کشمیریوں کے خون سے سرخ نظر آتی ہے۔

    گائے کے ساتھ نظر آنے والے مسلمانوں پر بھارتی مشتعل ہجوم کا تشدد ، کشمیر میں ظلم وبربریت ، مکر و فریب اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گاندھی کی قوم کی اقوام متحدہ میں عدم تشدد کی قرارداد صرف ایک فریب تھا۔ پوری دنیا میں بھارت کے قرارداد پیش کرنے کی وجہ سے "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” تو منایا جاتا ہے ۔ مگر بھارتیوں نے خود آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔

    بطور معاشرہ ہم بھی ایک پرتشدد معاشرہ ہیں۔ گھروں میں ملازمین پر تشدد ، باس کے دفتر میں خواتین پر جنسی تشدد، سکولوں اور مدارس میں طلب علموں پر تشدد۔۔۔۔ یہی ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ لکھتے ہوئے باچا خان( خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان پختونوں کے ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ انھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کا پرچار کیا۔عدم تشدد کے بارے میں انکا ایک قول بہت مشہور ہے۔”ہماری جنگ عدم تشدد کی جنگ ہے اوراس راستے میں آنے والی تمام تکالیف اورمصائب ہمیں صبر سے جھیلنے ہوں گے”) کا ایک قول پردہ فکر سے بار بار ٹکرا رہا ہے.

    ” اگر آپ نے کسی کو ناپنا یا جاننا ہو کہ وہ کتنا ترقی یافتہ اور عدم تشدد کا علمبردار ہے تو دیکھیں کہ ان کا خواتین کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔”
    اگر ہم اسی قول کے ترازو میں خود کو تولیں تو ہمارے معاشرے کا مجموعی وزن مائنس میں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” سے کچھ سیکھتے بھی ہیں یا اگلے سال بھی یہ معاشرہ ایک پرتشدد معاشرہ ہی ہوگا۔

  • پرویز رشید کی  وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پرویز رشید کی وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پرویز رشید کی وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی
    ووٹ کو عزت کے نعرے اور تحریک سے لے کر لندن روانگی تک مریم نواز کی جدوجہد میں پرویز رشید کی وفاداری اور استواری شریف خاندان مدتوں یاد رکھے گی۔ پرویز رشید ڈان لیکس کی پاداش میں اپنے عہدے سے سبکدوش تو ہوگئے تھے لیکن انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے ہمقدم رہ کر استحکام پاکستان کا بیانیہ زندہ و تابندہ رکھا اور نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد مریم نواز کو سیاسی تنہائی کا احساس تک نہ ہونے دیا اور نواز شریف کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔

    بلاشبہ آج کے دور میں پرویز رشید وفا کا پیکر ثابت قدمی کا مجسم اور بے لوث خدمت اور غیر متزلزل نظریاتی عقیدت کی زندہ مثال ہیں جو اندیشہء سودو زیاں سے پاک سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آج سیاسی گلیاروں میں سیاسی بحرانوں اور عدم استحکام کی بڑی وجہ نام نہاد سیاستدانوں کی لوٹا کریسی ، مفادات پرستی کا رحجان ہے جو اقتدار اورعہدوں کی لالچ میں اپنے ضمیر اور قومی مفادات کا سودا کرنے سے بھی نہیں چوکتے پرویز رشید کی ثابت قدمی اور نواز شریف سے وفاداری بقوول مرزا غالب وفاداری بشرط استواری اصل ایمان مومن ہے ۔

    ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہنگامہ برپا ہے جس امریکہ کا نام لے کر سیاست کی جا رہی ہے ۔ امریکہ کی سیاست میں بھی الزامات کی بھرمار ہے جو بائیڈن اور ٹرمپ کی ایک دوسرے پر الزامات بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بائیڈن کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے ٹرمپ امریکی سیاست میں ثابت کررہے ہیں کہ وہ آج بھی مقبول ترین لیڈر ہین۔ ٹرمپ کا نگریس کی موجودہ دوڑ میں اپنا سیاسی مینڈیٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں بھی عمران خان اپنا سیاسی مینڈیٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہین تاہم پی ڈی ایم ان کے راستے کی دیوار ہے لیکن یہ دیوار اُسی وقت مضبوط ہوگی جب نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے ۔ عمران خان کی مقبولیت کا اسی وقت پتہ چلے گا جب اُن کے مقابلے میں نواز شریف جلسوں سے خطاب کررہے ہوں گے۔