Baaghi TV

Category: سیاست

  • موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    سعودی عرب پلاسٹک ویسٹ زیرو کرنے کے لئے شہریوں سے پرانے فونز لے رہا ہے اور ان کو ری فربش کرکے کم آمدنی والی جگہوں میں بچوں کو تعلیمی مقاصد کے لئے دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    اومان 2040 تک مکمل طور پہ ڈیجیٹل ملک بننے جا رہا ہے وہیں امارات اور قطر وغیرہ اس بات کا اعادہ رکھتے ہیں کہ اپنے ملک کو ٹورازم اور تیل کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی سپورٹ کریں۔

    دہلی میں اس سال سے آپ ب فارم سے لیکر ڈومیسائل تک ایپلی کیشن پہ ایک کلک کیساتھ گھر بیٹھے انہیں بنوانے کی سروسز لے سکتے ہیں۔ دہلی کے تمام سکول اس وقت ڈیجٹلائز کئے جا چکے ہیں یا جا رہے ہیں۔ وہیں دہلی میں آپ 200 یونٹ سے کم بجلی بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    کینیا کی سپیس ایجنسی 2017 میں بنی اور اس سال وہ چین کیساتھ خلائی اسٹیشن پہ جائے گی جہاں وہ مختلف طرح کی تحقیقات میں حصہ لے گی۔ یاد رہے یہ پروگرام 2008 میں لانچ کردہ کینیا وژن 2030 کا حصہ ہے۔ اس کے تحت کینیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھنے کا قدم شامل رکھتا تھا اور اب واقعی آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ دنیا کے کچھ ان ممالک کے پیرا میٹر ہیں جنہیں ہم چنگڑ، چوڑہا یا پھر جاہل سمجھتے ہیں اور یہ سب بہت کچھ اچیو کر رہے ہیں۔

    جبکہ ہمارے ہاں ایک خاندان تیس سال حکمرانی کرنے کے بعد دل کے مرض کے علاج کے لئے لندن جاتا ہے سرجریوں کے لئے لندن جاتا ہے سرکاری تفریحات کے لئے لندن جاتا ہے وہیں دوسرا خاندان جو آزادی سے لیکر اب تک سندھ پر قابض ہے اس کا سربراہ بیمار ہو کر پرائیوٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے اسکے لئے ائیر ایمبولینس تیار کھڑی رہتی ہے کہ کہہں باہر علاج کے لئے نا جانا پڑ جائے وہیں اسی کے ایک شہر میں ایک عورت اپنا بچہ لئے رو رہی ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ڈاکٹر نہیں مل رہا ہے۔

    مہنگی بجلی کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کے ملازم بے روزگار ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد پچاس لاکھ بتائی جا رہی ہے اور ان کو بے روزگار کرنے والے کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے روزگار نہیں پیدا کئے تھے۔ شائد عمران خان ان پچاس لاکھ ٹیکسٹائل کے ملازموں کو سرکاری دفاتر میں پٹواری یا چپڑاسی بھرتی کرتا تب ہی یہ روزگار کہلواتے۔ روز کا ملک میں ایک ہی رونا ہے کہ ہمیں دو خاندان اور ایک ادارہ کھا گیا اور یہ اگلے سو سال تک جاری رہے گا۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان:ٹکٹ کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم

    ڈیرہ اسماعیل خان:ٹکٹ کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم، ایک دھڑاسمیع اللہ علیزئی کوٹکٹ دینے کے حق میں تودوسرے دھڑے نے سمیع اللہ علیزئی کو ٹکٹ دینے پر جمعیت کے بائیکاٹ کااعلان کردیا،مبینہ ذرائع کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں امیدوارصوبائی اسمبلی سمیع اللہ علیزئی جمعیت علماء اسلام کی جانب سے حلقہ سٹی ٹو میں ٹکٹ کے امیدوارہیں جس کی وجہ سے جمعیت دودھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک دھڑاکھل کر سمیع اللہ علیزئی کی حمایت کررہاہے جبکہ دوسرادھڑااس کی کھلم کر مخالفت کررہاہے اورقائد جمعیت مولانافضل الرحمان کو اس حوالے سے آگاہ بھی کردیاگیا ہے۔جمعیت کی جانب سے واضح اشارہ اور حمایت نہ ملنے کی وجہ سے سمیع اللہ علیزئی ان دنوں سخت پریشانی سے دوچارہے اس لیے اس نے حلقہ سٹی ٹو میں ٹکٹ کے حصول کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئررہنماوسابق وزیرخارجہ محمودشاہ قریشی سے رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے مگرپی ٹی آئی قائد عمران خان سمیع اللہ علیزئی کی دوغلی سیاست سے بخوبی باخبر ہے اوراسے ٹکٹ دینے پر تحفظات کااظہارکیاہے۔حلقہ سٹی ٹومیں اپنے دورمیں سمیع اللہ علیزئی نے علاقے کی تعمیر وترقی اورعوام کی خوشحالی کیلئے کوئی کام نہ کیے اورکروڑوں روپے کے فنڈزبندربانٹ کیے جس کی وجہ سے حلقہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔سمیع اللہ علیزئی کی دوغلے پن اورمفاد پرستی کی سیاست کی وجہ سے اسے ڈیرہ کی سیاست میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتاہے اورکوئی بھی پارٹی اسے ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔حلقہ سٹی ٹو کی عوام اورجمعیت علماء اسلام کے مقامی رہنماؤں نے قائدجمعیت مولانافضل الرحمان سے سمیع اللہ علیزئی کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر نظرثانی کرنے کامشورہ دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ سٹی ٹومیں قائد جمعیت کسی مخلص قیادت کوپارٹی ٹکٹ دیں تاکہ اس کی کامیابی میں اپناکرداراداکریں۔

  • ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جوناگڑھ برصغیر کی پانچ سو باسٹھ ریاستوں میں سے ایک تھی جو انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ سے برطانوی سامراج کے زیرِ تسلط آگئیں- یہ شاہی ریاستیں اپنے اندرونی معاملات کے نظم و نسق کے حوالے سے آزاد تھیں لیکن دفاع اور خارجی معاملات برطانوی حکومت کی ذمہ داری تھی- برٹش انڈیا کی 562 ریاستوں میں جو نا گڑھ آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی جبکہ مسلمان ریاستوں میں دوسرے نمبر پہ تھی – 1947 کے تقسیمِ ہند کے قانون کے مطابق تمام ریاستوں کو تین آپشن دیئے گئے کہ پاکستان سے الحاق کرلیں یا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں یا پھر چاہیں تو آزاد حیثیت میں رہیں- اس وقت جوناگڑھ کے نواب سر مہابت خانجی نے گورنر جنرل آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ الحاقی دستاویز Instrument of Accession پر دستخط کئے اور 15 ستمبر 1947 کو جوناگڑھ باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا اور سٹیٹ ہاؤس آف جوناگڑھ پہ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا – نواب آف جوناگڑھ جناب نواب مہابت خانجی نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی کونسل،

    (جس میں مسلمان اورہندو سب شامل تھے،)

    کی رضامندی سے کیاتھا-

    جیسا کہ بھارت نے برطانوی حکومت کی ملی بھگت سے ہر جگہ سیاسی طاقت کو اپناتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیریں اور جارحانہ اقدامات کئے اِسی طرح جوناگڑھ پہ بھی عالمی قوانین کے خلاف جارحانہ اقدام کیا اور 9 نومبر 1947ء کو بھارت نے مختلف افواہیں پھیلاتے ہوئے جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا- جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی اور مظالم کے سبب بہت سے مسلمان ہجرت کر کے کراچی آ گئے- تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے میجر کے- ایم- اظہر کو جونا گڑھ بھیجا مگر ان کا سامنا پہلے سے موجود قابض بھارتی افواج سے ہوا- محدود وسائل کے سبب پاکستان وہاں زیادہ فوج نہیں بھیج سکتا تھا کیونکہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے باعث پہلے ہی پاک بھارت جنگ چل رہی تھی-

    یہ ایک تاریخی امر ہے کہ بھارت کا ان ریاستوں پر قبضہ پہلے سے طے شدہ تھااور اس عمل میں انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور اُن کی اہلیہ کا کردار بھی اہم تھا جبکہ رہی سہی کسر بھارت نے پاکستان کے محدود وسائل اور انگریز جرنیل کے ماتحت فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستوں پر قبضہ کر کے نکال دی- ریاست جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ بھارتی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم (اکھنڈ بھارت) کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ابتدا ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا بھی ثبوت ہے یہ حقیقت حیدر آباد دکن اور جموں و کشمیر پر بھی غیر قانونی قبضے سے واضح ہوتی ہے-مزید برآں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کردار پر بھارتی وزیر اعظم کے اعترافی بیان سے بھارت کی اینٹی پاکستان پالیسی کا تسلسل واضح ہوتا ہے-

    بد قسمتی سے ابتدا میں پاکستان نے جوناگڑھ کا مقدمہ لڑا لیکن جوں جوں وقت گزرا، یہ مسئلہ محض کتابوں تک محدود ہوتا گیا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب کتابوں میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل اس مسئلہ سے آگاہ نہیں ہو رہی- عالمی نظام میں سر اٹھا کر جینے کے لئے قوموں کی خودداری بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس لئے ہمیں ہر قیمت پر اپنے قانونی حصے جونا گڑھ اور شہ رگ جموں و کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے اور انہیں بھارتی غیر قانونی و غیر اخلاقی تسلط سے نکالنا ہے-

    قائد اعظم خود ایک قانون دان تھے اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے- نواب آف جوناگڑھ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ اور الحاق کی وجہ قائداعظم کا ریاستوں کے حکمرانوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کے حق دینا بھی تھا- جبکہ دوسری طرف بھارت ریاستوں کے حکمرانوں کو دھمکا کراپنے ساتھ الحاق پر مجبورکر رہاتھا- لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کئی ریاستوں کو مختلف طریقوں سے مجبور کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں- ماؤنٹ بیٹن نے آن دی ریکارڈ یہ بات کی کہ ’’اگر میں 15 اگست کو ریاستوں کی ایک ٹوکری لے آؤں تو کانگریس ہر وہ قیمت دینے کو تیارہو گی جو میں لینا چاہوں گا ‘‘۔ اسی لیے کانگرس نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل آف انڈیا تسلیم کر لیا تھا –

    کشمیر اور جونا گڑھ کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ کشمیر کے بھارت سے نام نہاد الحاق کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ اپنی ریاست کا دارلحکومت چھوڑ کر بھاگ چکا تھا اور عملاً ریاست پر کنٹرول کھو چکا تھا اور عوام اس کے خلاف تھی مزید یہ کہ آج تک بھارت نے کشمیر کی الحاقی دستاویز کو بھی ظاہر نہیں کیا جبکہ جونا گڑھ کے نواب نے ریاستی کونسل کی رضا مندی کے ساتھ پاکستان کےساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اورباقاعدہ دستخط شدہ الحاقی دستاویز پاکستانی حکومت کے حوالے کی جس پہ دو خود مختار ریاستوں (پاکستان و جوناگڑھ) کے قانونی سربراہان (گورنر جنرل آف پاکستان و نواب آف جوناگڑھ) کے دستخط ہیں –

    الحاقی دستاویز ایک قانونی معاہدہ ہےجو دو ریاستوں کے مابین طے پاتا ہے اور کسی بھی علاقہ پہ کنٹرول کے لیے قانونی حیثیت رکھتا ہے-
    یہ الحاقی دستاویز بین الاقوامی قانون کے تحت ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے- اگرجونا گڑھ کی قانونی حیثیت کا بین الاقوامی قوانین کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے- ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز کے مطابق’ معاہدہ‘ سے مراد دو یا دو سے زائد ریاستوں کے مابین طے پایا جانے والا ایسا معاہدہ ہے جو تحریری شکل میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو ۔ پھر ویانا کنونشن آن لأ آف ٹریٹیز یہ بھی کہتا ہے کہ وہ معاہدہ جو مذکورہ فریقین کے مابین ہوگا اس کی حیثیت’’عالمی‘‘ ہوگی اگرچہ وہ ایک دستاویز پہ مشتمل ہو یا متعدد ضمنی و متعلقہ دستاویزات پہ مشتمل ہو –

    جونا گڑھ کی الحاقی دستاویز:

    (۱) ایک عالمی معاہدہ ہے-

    (۲) دو ریاستوں کے مابین طے پایا گیا ہے-

    (۳) تحریری صورت میں موجود ہے-

    (۴) بین الاقوامی قانون کے مطابق طے پایا-

    ایک مستند و تاحال قابلِ عمل دستاویز کی صورت میں ہے-

    لہٰذا جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز ایک بین الاقوامی معاہدہ کی تمام شرائط پہ پورا اترتا ہے-مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے- ایک عالمی معاہدے کی قانونی حرمت ہوتی ہے جس کا احترام ہر قوم پہ واجب ہے جیسا کہ ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز 1969 میں اس بات کا اعادہ کیا گیا- آرٹیکل 26 ‘پیکٹا سنٹ سروانڈہ کے مطابق دو فریقین کے مابین معاہدہ طے پا جانے کے بعد دونوں فریقین پہ لازم ہے کے وہ اس معاہدہ پر نیک نیتی سے عمل درآمد کریں-

    بین الاقوامی قانون میں عالیجاہ نواب آف جونا گڑھ کی ایک منفرد حیثیت ہے- داخلی اور بین الاقوامی قوانین میں نواب آف جو نا گڑھ ’’جلاوطن مگر خود مختار ” کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اپنے حقوق ہیں یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی ریاست کا اقتدار کھو چکا ہو لیکن اس کے پاس اس مقصد کیلئے قانونی دستاویزات موجود ہوں اِسے عوامی اور آسان زبان میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک اراضی کی لیگل رجسٹری تو آپ کے نام پہ ہو مگر عملاً اس پہ قبضہ کسی قابض قوت کا ہو، لہٰذا قانونی مالک اس جگہ کے آپ ہوں گے قبضہ بھلے کسی کے پاس ہوگا – اس لحاظ سے دیکھا جائےتو عالمی قوانین کے تحت نواب آف جوناگڑھ آج بھی جونا گڑھ کے قانونی حکمران ہیں -لیکن ان کی قانونی حیثیت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں- جو ان کے ساتھ کئے گئے قانونی معاہدہ کے تحت ہے- یہی وجہ ہے کہ جونا گڑھ کا علاقہ پھر سے پاکستان کے نقشہ میں متنازعہ علاقہ کے طور پر موجود ہے-

    جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز پاکستان کے لیے ایک بائنڈنگ کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کا کیس قانونی طور پر بہت مضبوط ہے- یہ باعث افسوس ہے کہ جب جونا گڑھ پر قبضہ ہوا، ہم نے احتجاج بھی کیا اور اقوامِ متحدہ میں بھی گئے مگر بعد میں اس معاملے کو آگے نہیں بڑھا سکے- اسی طرح بنگلہ دیش کی صورت میں بھارت نے سازشوں سے ہمارے ملک کے حصے پر قبضہ کر کے الگ ملک بنایا-ہم توجہ ہی نہیں کرتے کہ بھارت ابتداء ہی سے ہماری سرزمین کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے- بدقسمتی سے ہم جونا گڑھ کو بھول چکے ہیں حتیٰ کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس کے لیے جگہ مختص کی گئی لیکن اس پر بھی سیاسی قابضین مسلط ہوگئے- جونا گڑھ کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے ہمیں جونا گڑھ پر تفصیلی کتب شائع کرنی چاہیں- نوجوان نسل کو اس مسئلہ سے لازمی طور پر آگاہ رکھنا چاہئے جو اسی صورت ممکن ہے کہ اس مسئلہ کی تاریخ ہمارے نصاب میں شامل ہو- اسی طرح جونا گڑھ کو پاکستان کے ہر نقشے میں ظاہر کرنا چاہئے- پاکستان کو اس مسئلہ کوعالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیئے تاکہ عالمی برادری بھی اس مسئلہ سے آگاہ ہو-

    جونا گڑھ ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اس تاریخ کو بھلاتے جارہے ہیں – ہمارے بچے اور نوجوان جونا گڑھ کے بارے میں نہیں جانتے باوجود اس کے کہ جوناگڑھ پہ پاکستان کا قانونی حق ہے- چین ، ہانگ کانگ حاصل کرنے کے لیے100 سال تک جدو جہد کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ اس مسئلہ سے متعلق آگاہی پیدا کر کے ہم تاریخ میں موجود غلطی کو درست کر سکتے ہیں بھارت نے فوجی مداخلت سے جونا گڑھ پر قبضہ کیا تھا اور اس فوجی مداخلت میں نہ صرف گاڑیاں بلکہ ٹینک بھی استعمال کئے گئے۔

  • شرقپور ضمنی انتخابات حلقہ پی پی139 پاکستان تحریک انصاف فائنل راؤنڈ کے لیے تیار

    شرقپور ضمنی انتخابات حلقہ پی پی139 پاکستان تحریک انصاف فائنل راؤنڈ کے لیے تیار

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل شرقپور شریف(محمد طلال سے)ضمنی انتخابات حلقہ پی پی 139 پاکستان تحریک انصاف سیاسی معرکے کے فائنل راؤنڈ کے لیے مکمل طور پر تیار اور حلقہ کی عوام میں سیاسی بیداری کو اجاگر کرنے کی طرف تیزی سے گامزن چوہدری شرافت ورک، چوہدری ریاض ورک،چوہدری یوسف ورک، چوہدری خورشید ورک اور چوہدری شرجیل ورک کے زیر انتظام قلعہ صاحب سنگھ میں شاندار سیاسی کارنر میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار صاحبزادہ میاں محمد ابوبکر شرقپوری صاحب،جناب صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری صاحب (سابق MPA)سعید احمد ورک (سابق MPA)، چوہدری ظریف احمد کھرل،چوہدری خلیق احمد کھرل، حافظ غضنفر ورک،اشفاق ورک،چوہدری اظہر حسین چھٹہ، بابا ارشد چھٹہ، رانا گوگا کو مدعو کیا گیا اہلیان علاقہ کی جانب سے رہنماؤں اور مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اہلیان علاقہ نے ووٹ کی طاقت سے علاقے میں رائج بوسیدہ سیاسی بساط کو پلٹنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ وہ صاحبزادہ میاں محمد ابوبکر شرقپوری صاحب کی قیادت میں علاقے کی فلاح وبہبود ترقی اور اپنی نسلوں کی خوشحالی اور موجودہ حکومت سے نجات حاصل کر کے رہیں گے حلقہ پی پی 139 میں امپورٹڈ نمائندہ نے چار دفعہ علاقے کا مینڈیٹ چوری کرنے اور میگا پراجیکٹس کو ہائی جیک کرنے کے سوا کچھ نہیں کیاجو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مخالف حریف شرقپور شریف کی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے

  • سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا .تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں ایسے ایسے ناٹک آج کل کئے جا رہے ہیں جس سے جمہوریت، آئین، قانون، پارلیمنٹ اور بائیس کروڑ عوام اور پاکستان بطور ریاست بھی حیران ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ سائفر جو سٹیٹ ٹو سٹیٹ ایک دستاویز ہوتا ہے اور یہ وزارت خارجہ جو ریاستی ادارہ ہوتا ہے اس کے ذمہ داروں کے پاس ہوتا ہے اس کو لے کر سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا ہے۔ سیاستدان اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں اعلیٰ پولیس افسران، سول بیورو کریسی، سول انتظامیہ کے افسران لینڈ مافیا اور بڑے بے پراپرٹی ٹائیکون کی پشت میں قائد کے پاکستان کی زمینوں پر قبضے میں ملوث ہیں۔

    اسلام آباد راولپنڈی کے جنگلات، زرعی زمینوں، سرکاری زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ حوس زر میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں موت بھی یاد نہیں۔ عام آدمی کے دکھوں اور ان پر جو عذاب ہیں کوئی سروکار نہیں۔ جب ہر طرف محرومی مجبوری کا راج ہو محکمومی کا راج ہو تو سیاست کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ جس آئین کو لے کر سیاستدان عدالتوں کا رخ کرتے ہیں اس آئین میں عام آدمی کے حقوق کیا اس کے بارے میں بھی درج ہے کیا کبھی کسی سیاستدان نے ان آئین کی شقوں پر عمل کرنے پر زور دیا؟

    یہ سیاسی لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے۔ خودمختاری اور سالیمت کی باتیں بھی فریب ہے۔ پاکستان کا قیام تو بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا بدقسمتی سے اس انقلاب کا قائد دنیا سے رخصت ہو گیا آج قائد کے پاکستان کو صوبہ سندھ سے لے کر خیبر تک پراپرٹی ٹائیکون چلا رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے اخراجات ،بڑے بڑے محل نما گھر تحفے میں دیئے جاتے ہیں سیاستدان نے سیاست کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا اعلیٰ پولیس افسران، اعلیٰ انتظامی افسران، بیورو کریسی کی تعیناتیاں، بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون کی منشا پر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں وطن عزیز کے بے چارے عوام جن کا کوئی والی وارث نہیں بڑے بڑے پیٹ والوں نے ان کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے رونا صرف سیاسی ابتری کا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طاقتور نے مظلوم کا خون نچوڑا ہے کسی غریب مظلوم اور درماندہ کی رسائی نہ دفتر میں نہ پولیس کے ہاں نہ دربار میں نہ سرکار میں۔ یہ مخلوق خدا ہے اس پر ظلم نہ کیجئے ورنہ خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے۔

  • جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست حیرت زدہ ہے یہ ملک میں کیا تماشا جاری ہے انتہائی حساس معاملات کو گلیوں‘ چوراہوں‘ جلسے‘ جلوسوں میں زیر بحث لایا جارہا ہے۔ کہانی سلیکٹڈ سے شروع ہو کر امپورٹڈ تک اور اب حساس ترین معاملات کو موضو ع بحث بنا کر کون سی خدمت سرانجام دی جارہی ہے؟ ملکی فضائوں میں سائفر ہی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ عالمی دنیا بھی حیران ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے سیاستدانوں کو کیا ہوگیا سیاسی جنگ لڑتے لڑتے حساس معاملات پر لڑنا شروع کردیا۔ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

    مہنگائی‘ غربت‘ بے روزگاری‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ صحت کے مسائل‘ گندگی کے مسائل و عوامی مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ پنجاب کی عوام پر تو دوہرا عذاب ہے ان کو ڈاکوئوں‘ چوروں‘ رسہ گیروں‘ قبضہ مافیا‘ لینڈ مافیا کے سپرد کردیا گیا ہے۔ مغلیہ دور میں محلوں میں خوشامدی اور مسخرے ہوا کرتے تھے آج کے دور میں سیاستدانوں کی خوشامد اعلیٰ پولیس افسران اور سول انتظامیہ کرتی ہے۔ منافع بخش پوسٹنگ کے لئے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنا‘ صرف سیاستدانوں کی ہاں سے ہاں ملانا ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر اور راولپنڈی جو حساس ترین شہر ہے جرائم میں اضافہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ پر سوالیہ نشان ہے؟ آئی جی پنجاب بھی بے بس نظر آتے ہیں

    مقتدر حلقے کو اسلام آباد راولپنڈی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر فوری نوٹس لینا ہوگا ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کو جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم تو پولیس اور انتظامیہ کا کام ہوتا ہے لیکن جب پولیس بے بس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بن جائے تو پھر مقتدر حلقوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ وطن عزیز کے سیاستدانوں کو سائفر سے فرصت ملے تو خطے کے حالات پر بھی توجہ دیں افغانستان میں دوبارہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس کے اثرات اس پورے خطے میں پڑ سکتے ہیں۔ پاک فوج کی ساری توجہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں بالخصوص افغان بارڈر پر ہے ملک میں سیاسی تماشے سے فرصت ملے تو امن و امان کی صورت حال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا -سید منظور گیلانی

    ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا -سید منظور گیلانی

    نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار
    باغی ٹی وی ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز ) نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کا اجلاس جنت پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ جنت منزل میں ہوا جس کی صدارت چئیرمین این ڈی اے اقبال ڈار اور چئیرمین پی پی ایم سید منظور گیلانی نے کی ملک کی موجودہ صورت حال بجلی مہنگائی ملک کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید منظور گیلانی نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاست کا وقت نہیں ہے ملک کو مضبوط کرنے کا وقت ہے سیاست ستر سال سے کر رہے ہیں اور آگے بھی کرتے رہے گے لیکن آج ہمیں ایک پاکستانی بن کر ملک کا سوچنا چاہیے یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمیں اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا اس موقع پر اقبال ڈار نے کہا کہ ملک کی قومی سلامتی سب سے اہم ایشو ہے ہمیں قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے کام کرنا چاہیے آپس کی لڑائی میں ملک کا نقصان ہو رہا ہے اس موقع پر وائس چئیرمین شیراز الطاف نے کہا کہ ہم خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں ہم اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود آج بھی عوام کی خدمت بے لوث کر رہے ہیں اور کرتے رہے گے جنت پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل صدام حسین پڈھیار نے کہا ملک میں بجلی کے بلوں نے نہ صرف گھریلوں بلکہ کسانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر نظر ثانی کرے اور غریب عوام کو ریلیف دے اجلاس میں شعیہ پولیٹیکل پارٹی کے سید نو بہار شاہ ,خاکسار تحریک سے ڈاکٹر شجرہ , جمعیت علماء پاکستان ,عوامی فلاحی پارٹی اور استقلال پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور آنے والے دنوں میں ملک بھر کے دوروں کو حتمی شکل دی

  • صفدرآباد ۔ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے اور این آر او کے متلاشی تھے- رانا وحید احمد خاں

    صفدرآباد ۔ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے اور این آر او کے متلاشی تھے- رانا وحید احمد خاں

    باغی ٹی وی : صفدر آباد (رانا شہباز نثار) پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر pp143 رانا وحید احمد خاں کہ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے۔ این آر او کے متلاشی تھے جو انہیں مل گیا عوام مہنگائی سے مر رہی ہے جس کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدامنی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ رانا وحید احمد خاں نے مزید کہا کہ عمران خان نے پہلے بھی کوئی ڈیل نہیں کی اب بھی نہیں کریں گے عمران خان واحد لیڈر ہے جو اپنی قوم کو خود دار اور بااختیار دیکھنا چاہتا ہے۔ عمران خان ہی قوم کی امیدوں کی آخری کرن ہے۔

  • زومبیز — ریاض علی خٹک

    زومبیز — ریاض علی خٹک

    سترہویں صدی میں جب جنوبی افریقہ کے غلاموں کو براعظم امریکہ لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحری جہاز پہلے جزائر ہیٹی آتے تھے. اس جزیرے کے لوگ جب جہازوں سے ان زندہ لاشوں کو اترتے دیکھتے طویل بحری سفر اور غیر انسانی سلوک کے بعد بے ترتیب قدموں سے ایک قطار میں چلتے ان غلاموں کو وہ زومبی کہتے تھے.

    فلم انڈسٹری نے بعد میں زومبی کو ایک مخلوق منوا کر اسے شہرت دی. ایسی لو بجٹ فلمیں بھی صرف زومبی دکھا کر کامیاب ہوئیں جن میں نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ اچھا نہ ہدایتکاری کا کوئی کمال لیکن زومبی کا کردار ہی ایسا تھا کے لوگوں نے جوش و خروش سے ان کو دیکھا.

    ان ڈبہ فلموں کا ہی کمال ہے کہ زومبی کو ایک عقل سے عاری قابل نفرت بے وقوف سا کردار بنا کر ایسا پیش کیا گیا کہ یہ زومبی صرف انسانی گوشت و خون کے پیاسے ہیں. یہ نہ اناج کھاتے ہیں نہ مال مویشیوں کو کچھ کہتے ہیں ان کی کوئی انسانی ضرورت ہے. بس یہ سب آدم خور ہیں.

    اس پوری کہانی میں وہ کردار چھپ گئے جنہوں نے ان کو زومبی بنایا. جو ان کو ان کی آباد بستیوں سے کھینچ کر بحری جہازوں پر لائے اور زنجیروں سے باندھ دیا. ذہنی غلامی آج ظالم کو تہذیب یافتہ اور مظلوم کو زومبی کہتی ہے. زومبی جن کو مارنا پھر ثواب بنا دیا جاتا ہے. لیکن لازم نہیں ہر دفعہ سامراج کی فلم ہی ہٹ ہو کوئی دن زومبیز کا بھی آئے گا اور تصویر کا دوسرا رخ پھر دنیا دیکھے گی.

  • ایٹمی ملک چلانے والوں کی آڈیوز برائے فروخت — اعجازالحق عثمانی

    ایٹمی ملک چلانے والوں کی آڈیوز برائے فروخت — اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں تو پھر یقیناً حال ہی میں آپ نے پانامہ لیکس کا نام سنا ہوگا ۔اور آج کل آڈیو لیکس کے بارے میں بھی اور لیک ہونے والی آڈیوز کو سن بھی رہے ہونگے۔ملکی تاریخ میں آڈیوز لیکس پہلی بار نہیں ہورہی ہیں،اس سے پہلے بھی آڈیوش اور ویڈیوز لیکس ہوتی رہی ہیں۔ مگر ہم نے کبھی اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی طرف غور ہی نہیں کیا۔

    گزشتہ ہفتے آڈیوز لیکس کا شروع ہونے والا سلسلہ تا حال جارہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیرِاعظم عمران خان سمیت کئی اہم وزرا کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہو چکی ہے۔ "انڈی شیل” کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہیکرز کے ایک فورم پر بنایا گیا۔ اکاؤنٹ بنانے والے ہیکر نے پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس کی آڈیوز کی اپنے پاس موجودگی کے متعلق ہیکرز فورم پر پوسٹ کی۔ جس کی قیمت 180 بٹ کوائن رکھی گئی ۔ یعنی پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس کے لیک شدہ گفتگو کی عالمی مارکیٹ میں بولی لگائی گئی ۔ جی ہاں، جناب ! ایٹمی ملک پاکستان ہے یہ ، یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ اور پھر ہیکر اسے عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے بولی لگاتا ہے۔ مگر ایٹمی ملک بے خبر ہے کہ یہ سب کیسے ہوا ہے۔

    100 گھنٹوں سے زائد کی گفتگو کی ریکارڈنگ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس جگہ کی۔۔۔۔۔۔ ایٹمی ملک کو اپنا سر پیٹ لینا چاہیے۔ دنیا ٹیکنالوجی میں کتنی آگے بڑھ گئی ہے۔ کوئی دشمن ملک کتنی آسانی سے ہمارے رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ سب سوچنے اور اسکا سب کا حل نکالنے کی بجائے آج بھی ہم فقط سیاست میں مصروف ہیں۔

    وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنی اور پرنسپل سیکریٹری کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” یہ معاملہ صرف اُن کی ذات کا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی عزت کا ہے”۔جناب ریاست پاکستان کی عزت وتکریم کو جتنا آپ لوگوں نے پامال کیا ہے۔ اب آپ یہ بات کرتے ہوئے اچھے نہیں لگ رہے۔

    وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس جگہ کی ایسی آڈیوز کا ریکارڈ ہونا اور پھر منظر عام پر آنا۔ ایجنسیوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔

    اگر یہ کام کسی دوسرے ملک کا ہے۔ تو ہم بے خبر کیسے رہے؟۔سیکیورٹی معاملات اور خارجہ پالیسی جیسے حساس امور پر گفتگو جہاں ہوتی ہے ۔اگر وہاں کی سیکورٹی اتنی کمزور ہے۔ باقی ملک کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔