باغی ٹی وی :جنوبی وزیرستان(نامہ نگار)جنوبی وزیرستان میں پی ٹی آئی کے چیئرمین زبورشاہ کی سرپرستی میں پروقارتقریب کاانعقاد،تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف جنوبی وزیرستان کے صدرحاجی افسرخان محسودتھے۔تقریب میں جنوبی وزیرستان کوپی ٹی آئی کا گڑھ بنانے کے عزم کااعلان۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین زبور شاہ کی سرپرستی میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی پی ٹی آئی کے صدر حاجی افسر خان محسود تھے۔اس موقع پر حاجی افسر خان محسود نے چیئرمین زبور شاہ کی پاکستان تحریک انصاف کیلئے خدمات کوبے حد سراہا۔ پروگرام کے اختتام پر چیئرمین زبور شاہ نے حاجی افسر خان محسودکو سوئنر پیش کیا۔ پروقارتقریب میں معززین علاقہ نے کثیرتعداد میں شرکت کی اورپاکستان تحریک انصاف کوجنوبی وزیرستان میں مضبوط وفعال بنانے کاعزم کیا۔

Category: سیاست
-

جنوبی وزیرستان کو پی ٹی آئی کا گڑھ بنائیں گے .حاجی افسر خان محسود
-

خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو .تجزیہ :شہزاد قریشی
مہنگائی،بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں اضافہ،ذمہ دار کون،تجزیہ :شہزاد قریشی
سیاسی گلیاروں میں ان دنوں ہاہا کار مچی ہے۔ دھڑا دھڑ آڈیو اور ویڈیو سامنے آرہی ہیں۔۔ سیاستدان اسے ایک دوسرے کیخلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ اگر عمران خان جذباتی ہیں تو شہبازشریف بھی جذباتی انسان ہیں۔ ایک سابقہ وزیراعظم ہیں اور دوسرے موجودہ وزیراعظم۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ دونوں کی آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ ایک پورے لائو لشکر کے ساتھ مرکز میں حکومت کر رہے ہیں اور دوسرے صوبوں میں حکومت کر رہے ہیں۔ دونوں کو سیاست سے فرصت نہیں ملتی عوام کو چوروں، ڈاکوؤں، منشیات فروشوں، لینڈ مافیا کے سپرد کر گیا ہے۔ مرکز کی پولیس کو پروٹوکول اور عمران کے خلاف مقدمات بنانے کی فرصت نہیں جبکہ پنجاب میں من پسند ،سفارشی پولیس افسران کو تعینات کرنے میں عوام کو وزیراعلیٰ اور ان کے ہمنوا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔راولپنڈی انتہائی حساس ترین شہر ہے یہ شہر بھی اب محفوظ نہیں دن دہاڑے، ڈکیتی، قبضے، سرعام منشیات فروشی۔ اس حساس ترین شہر کا مقدر بن چکی ہیں۔ انقلابی باتیں کرنا بہت اچھی بات ہے مگر ان باتوں کا عوام کیا کرے اگر قوم سکھ کا سانس نہیں لیتی تو ان انقلابی نعرے اور باتیں کرنے والوں کو اپنے انجام کی خبر ہونی چاہئے۔ پنجاب میں تھانوں کی بولیاں لگ رہی ہیں تجربے کار اور کرائم پر کنٹرول کرنے والوں کو پولیس لائن جبکہ سیاسی پشت پناہی اور ناتجربہ کار لوگوں کو ان کی من مرضی کے تھانوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان ہیروئن اور آئس کے عادی بن رہے ہیں۔ مہنگائی بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں بلاشبہ اضافہ ہو رہا تاہم پولیس کی بھی کوئی ذمہ داری ہے۔
راولپنڈی سمیت پنجاب میں بڑھتے ہوئے سنگین جرائم کو دیکھ کر یہ بات لکھنے پر مجبور ہوں کہ پنجاب حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ بلاشبہ ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا علاج ممکن نہیں یہ مایوسی ہے اور مایوسی گناہ ہے اس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو روانہ کیا کہ وہ گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے دن رات ایک کریں گزشتہ رات گئے میں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں جاگ رہا ہوں اور کام کر رہا ہوں گزشتہ حکومت نے ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا تھا تھوڑا وقت درکار ہے امید ہے ملک کی معیشت بحال ہو جائے گی قوم مایوس نہ ہو قوم کے بنیادی مسائل اسی وقت حل ہونگے جب معیشت مستحکم ہوگی۔ قارئین خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو مایوس چہروں پر رونق دوبارہ آئے عوام سکھ کا سانس لیں۔ عوام کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی کی خرید و فروخت میں آسانی پیدا ہو۔
-

اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان
ان دنوں وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب لندن میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے بڑے بھائی اور قائد جناب نواز شریف صاحب کے ساتھ نومبر میں ہونے والی متوقع تعیناتی کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں وہیں وہ محترم جناب اسحاق ڈار صاحب کی پاکستان واپسی، سینٹ کا حلف اٹھانے اور اس کے بعد وزیر خزانہ تعیناتی کے بارے میں بھی مشورہ کر رہے ہیں ۔
بظاہر اسحاق ڈار صاحب کی واپسی کی وجہ مفتاح اسماعیل صاحب کی وزیر خزانہ کے طور پر عوامی غیر مقبولیت، غم و غصہ اور ناکامی ہے لیکن پاکستانی سیاست شطرنج کے کھیل کی طرح ہے جس میں پیادے بادشاہ کو بچانے کے لئے خود کو قربان کر دیتے ہیں اور ان کی اس قربانی پر بادشاہ ان کا شکرگزار نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے ۔
شہباز شریف صاحب کے سامنے حکومت سنبھالتے ہی دو چیلنج تھے ایک نواز شریف اور اسحاق ڈار کی ملک میں باعزت واپسی کی راہ ہموار کرنا اور دوسرا چیلنج خراب معاشی صورتحال کو قابو کرنے کے لئے انتہائی سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے لیکن ان کے اثرات پاکستان مسلم لیگ پر نہ آنے دینا ۔
معیشت کو قابو کرنے کے لئے مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور بتایا گیا کہ وہ اسحاق ڈار صاحب سے معیشت کو چلانے کے حوالے سے راہنمائی لیں گے لیکن پھر کچھ عرصے کے بعد یہ خبریں اڑائی گئیں کہ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار میں اختلافات ہو گئے ہیں اور مفتاح اسماعیل صاحب اپنی مرضی کے مطابق معاشی منصوبے بنا کر ان پر عمل کر رہے ہیں ۔
اس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور عوامی رائے مسلم لیگ کے انتہائی مخالف ہو گئی تیل بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے بےپناہ اضافے کی وجہ سے لوگ عمران خان کے دور میں ہونے والی مہنگائی کو بھول گئے اور مسلم لیگ کے موجودہ دور سے بہتر پی ٹی آئی کے دور حکومت کو کہنے لگے ۔
ایسے عالم میں ایک مخصوص طبقے نے لوگوں کو اسحاق ڈار فارمولے کی طرف متوجہ کیا کہ وہ جیسے بھی ہو مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کو قابو میں رکھتے تھے جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن بوتل میں بند رہتا تھا لیکن پہلے پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ساتھ ان کے فارمولے سے اختلاف کیا اور ڈالر پر سے چیک ختم کر کے اسے بے لگام کر دیا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اس کے بعد مفتاح اسماعیل نے بھی اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں اور تجربے سے اختلاف رائے کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں دوبارہ سے مہنگائی کا طوفان آ گیا ۔
مسلم لیگ کی حکومت نے پہلے مفتاح اسماعیل کے ذریعے سخت معاشی فیصلے کئے جن کی وجہ سے وہ بطور وزیر خزانہ عوام میں غیر مقبول ہو گئے اور اب جب ان فیصلوں کے ثمرات ملنے کا وقت آ رہا ہے تو وہ بطور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو واپس لا رہے ہیں تا کہ ان ثمرات کا کریڈٹ اسحاق ڈار کو ملے اور انہیں دوبارہ عوامی مقبولیت حاصل ہو جائے اور رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہو جائے اس طرح مسلم لیگ کی حکومت نے معیشت کی بحالی کا اپنا ہدف بھی حاصل کر لیا اور اسحاق ڈار کی پاکستان میں باعزت واپسی کا ہدف بھی حاصل کر لیا ۔
شہباز شریف نے پنجاب میں اپنے دور حکومت کے دوران ریکارڈ وقت میں بےشمار ترقیاتی منصوبے مکمل کر کے عوام میں انتہائی مقبولیت حاصل کر لی تھی اکثریت کا خیال تھا کہ 2013 میں وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت بننے کی وجہ پنجاب میں شہباز شریف کے ترقیاتی کام اور مقبولیت تھی اور ان کا خیال تھا کہ اگر شہباز شریف کو وفاق میں موقع دیا گیا تو وہ پورے ملک میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی کام کرائیں گے ۔
جبکہ نواز شریف کے بارے میں رائے عامہ یہ تھی کہ وہ چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی کی نہیں سنتے اور ان کی عوامی غیر مقبولیت کی وجہ ان قریبی ساتھیوں کے غلط مشورے ہیں اور اگر شہباز شریف پنجاب میں ترقیاتی کام نہ کرتے تو پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد مسلم لیگ دوبارہ حکومت میں نہیں آ سکتی تھی اس کے علاوہ ان کی مقتدرہ سے ہمیشہ لڑائی ہوتی ہے جبکہ شہباز شریف مقتدرہ کے لئے قابل قبول ہیں ۔
مخلوط حکومت بننے کے بعد شہباز شریف کی کارکردگی دیکھ کر لوگوں کی ان کے متعلق خوش فہمیاں دور ہو گئیں ہیں جتنی تیزی سے ان کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے لوگوں نے انہیں اللہ کا عذاب کہنا شروع کر دیا ہے جو کہ بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مسلط ہوا ہے، ابھی حالیہ بیرونی دوروں کے دوران شہباز شریف صاحب کی دوسرے ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے دوران حواس باختگی پر ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ان کی حرکات دیکھ کر وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بین الاقوامی سطح کے لیڈر ہیں یا کسی گلی محلے کے ۔
اب ان کے حامی سر عام کہتے ہیں کہ شہباز شریف صوبائی لیڈر ہیں اور نواز شریف وفاقی اور بین الاقوامی لیڈر، اس لئے اب وہ وقت دور نہیں رہا جب نواز شریف کو ملک میں واپس بلانے کے لئے آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں گی اور اسحاق ڈار کے بعد نواز شریف کی بھی الیکشن سے پہلے وطن واپسی ہو جائے گی یعنی شہباز شریف صاحب اپنے دونوں چیلنج پورے کر لیں گے ۔
آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کا دارومدار اسحاق ڈار کی کارکردگی پر ہے اس وقت معیشت کی بحالی کے لئے جتنے مشکل فیصلے کرنے تھے وہ مفتاح اسماعیل کے ذریعے کر لئے گئے ہیں اب اگر اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ بن کر ڈالر کی قیمت کو قابو کر لیا اور اسے انتہائی کم سے کم سطح تک لانے میں کامیاب ہو گئے تو لوگ سب بھول کر اسحاق ڈار اور مسلم لیگ کے گیت گانے لگ جائیں گے اور مہنگائی قابو کرنے کے لئے اگلے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیاب کرانے کی ہرممکن کوشش کریں گے اور اگر اسحاق ڈار ایسا نہ کر سکے تو پھر اگلے الیکشن میں عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولے گا ۔
-

وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بنے پاکستانی قوم کی آواز:تحریر:محمد فیصل ندیم
وطن عزیز میں اس وقت تباہی کا عالم ہے سیلاب کی وجہ سے پاکستانی قوم کا جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کرنے کے لئے ایک طویل وقت درکار ہے جس وجہ سے پاکستان میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہونے جا رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ حکومت کو بد نام کرنا بھی ہے بجائے ایسے حالات میں سیاستدانوں کو عوام کے کام آنے کے وہ آپسی چپقلش میں مبتلا ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے اراکین تو ایک طرف اس پارٹی کے چیئرمین عمران خان صاحب بھی اپنی کرسی کے چکر میں جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایک دفعہ بھی سیلاب متاثرین کے پاس گئے اور نہ ہی ان کی کوئی مالی امداد کی اور 500 ارب اکٹھا کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتے رہے۔ جبکہ اس نازک صورتحال کے پیش نظر حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نہ صرف حکومتی خزانے سے سیلاب متاثرین کی مدد کی بلکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو گھر بھی بنوا کر دینے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی قوم کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب نے ازبکستان کے صدر شوکت مریوئیف کی دعوت پر ازبکستان کے شہر سمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈ آف سٹیٹ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان اور مبصر ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ ایس سی او تنظیموں کے سربراہان اور دیگر خصوصی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈ آف اسٹیٹ، کونسل کا سب سے اعلی فورمہے جو تنظیم کی حکمت عملی،مستقبل اور ترجیحات پر غور اور ان کی وضاحت کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم جنوبی اور وسطی ایشیا کی ایک اہم بین علاقائی تنظیم ہے۔
2001 میں قائم ہونے والی ایس سی او شنگھائی اسپرٹ میں درج اقدار اور اصولوں کو برقرار رکھتی ہے جس میں باہمی اتحاد باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کا حصول شامل ہے۔ مجموعی طور پر ایس سی او کے رکن ممالک دنیا کی تقریبا نصف آبادی اور عالمی اقتصادی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ امن و استحکام کو فروغ دینے اور اقتصادی تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں بہتر روابط کی تلاش کا ایس سی او کا ایجنڈا اقتصادی رابطوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے اپنے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان ایس سی او کے مختلف میکانزم میں اپنی شرکت کے ذریعے تنظیم کے بنیادی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان میں ہونے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا جس پر رکن ممالک نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے اور حکومت پاکستان ممکنہ حدتک اس صورتحال سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز نے ہمیشہ کی طرح روایت قائم کرتے ہوئیوزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے دورہ ازبکستان پر باتیں گھڑتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود آپ کا یہ دورہ کامیاب رہا۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے جس طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں لگاتار اپنی پاکستانی قوم کی بات کی اس طرح سے آج سے پہلے کوئی بھی پاکستانی قوم کی آواز نہ بنا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بھی ملاقات کی جس میں روسی صدر نے پاکستان کو پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں فوڈ سکیورٹی، تجارتی سرمایہ کاری اورتوانائی کے دفاع سمیت باہمی فائدے کے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق بھی کیا گیا۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزا سے ملاقات میں تجارت اور معیشت میں تعلقات کو مضبوط بنانے، سڑک اور بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی رابطے کے فروغ سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاکستان جو اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے مزید سیلابی تباہ کاریوں نے بھی رہتی کسر نکال رکھی ہے۔اس وقت روس کی جانب سے گیس کی فراہمی کی یقین دہانی پاکستان کے لیے بہترین تحفہ ہے کیونکہ ہمارے یہاں بجلی اورگیس کا بحران بہت زیادہ ہے اور روس کا یہ تحفہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے زراعت کے حوالے سے بھی معاہدہ کر چکا ہے جسے زرعی شعبے میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔اگر ہم رقبے کے اعتبار سے دیکھیں تو شنگھائی تعاون تنظیم ممالک دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا کے 77 فیصد زمینی رقبے کے مالک ہیں جب کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں ازبکستان، قازقستان اور تاجکستان تیل و گیس کے وسیع ذخائر رکھنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔ اس لیے شنگھائی تعاون تنظیم سے زراعت سمیت مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون، معاہدوں اور سرمایہ کاری کے فیصلے سے پاکستان میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
سمرقند کانفرنس تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے ماحول میں انتہائی نازک وقت میں ہو ئی۔ سمرقند اجلاس میں کثیر الجہتی تعاون کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔اس کانفرنس ایک اہم واقعہ روسی صدر ولادی میر پوتن اور چینی صدر کے درمیان طے شدہ ملاقات ہے۔سلامتی اور استحکام سے متعلق مسائل، توانائی اور خوراک کے بحران اور اقتصادی تعاون جیسے موضوعات سربراہی اجلاسوں میں دیگر موضوعات پر غالب رہے۔ اراکین کے درمیان تنازعات سے قطع نظر، SCO نے بہت سے معاملات پر تعاون کے لیے ایک مفید فورم فراہم کیا ہے۔وزیرِاعظم پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں نہ صرف پاکستانی قوم کی آواز بنے بلکہ پاکستانی قوم کے لیے ایسے کام کر آئے ہیں جس کا فائدہ پاکستانی قوم کی نسلیں آنے والے وقت میں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔وزیرِ اعظم پاکستان نے 4سال میں برباد ہونے والے ملک کو واپس 4ماہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے جسکا پاکستانی قوم جتنا شکر ادا کرے کم ہے۔ اگر پاکستان کے خادم شہباز شریف کو آگے 5سال بھی مل جاتے ہیں تو یقینََا پاکستان کا جتنا بھی نقصان ہوا ہے وہ پورا ہو جائے گا اورہمارا ملک ایک بارپھر سے ترقی یافتہ ممالک کی فہرستمیں شامل ہو جائے گا۔
-

پیر محل : جماعت اسلامی نے باقاعدہ طور پر مشاورتی کونسل کی تشکیل کر دی ۔
باغی ٹی وی : پیرمحل (وقاص شریف نامہ نگار)جماعت اسلامی نے پیر محل کے لئے باقاعدہ طور پر مشاورتی کونسل کی تشکیل کر دی ۔
تفصیلات کے مطابق: جماعت اسلامی پاکستان نے پیر محل کے لئے باقاعدہ طور پر مشاورتی کونسل تشکیل دے دی ہے اس سلسلے میں راؤ ظفر اقبال ریٹائرڈ تحصیلدار کو گروپ لیڈر بنا دیا گیا ہے مشاورتی کونسل کی توثیق چیرمین رانا عابد خان نے کر دی ہے ۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جاوید قصوری نے گروپ لیڈر کی دستار بندی کی ۔ جماعت اسلامی تحصیل پیرمحل کے امیر رانا غلام عباس نے رابطہ کرنے پر ایکسپریس سندیلیانوالی کو بتایا کہ جماعت اسلامی میونسپلٹی ۔ بلدیاتی ۔ صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدواروں کی نامزدگی کرے گی اور ہر پلیٹ فارم پر جماعت اسلامی ایک ملک گیر سیاسی جماعت ہونے کے ناطے اپنے امیدوار سامنے لائے گی ۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی جو کہ ایک مذہبی اور سیاسی جماعت ہے ملک بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے اور منظم جماعت کے طور پر اپنی خصوصی حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے -

چونیاں . کپتان 26 سال سے عدلیہ کی آزادی کےلئے کوشش کر رہا ہے،اعظم جھولے لعل
باغی ٹی وی : چونیاں (عدیل اشرف سے ) .کپتان 26 سال سے عدلیہ کی آزادی کےلئے کوشش کر رہا ہے، عدلیہ کے فیصلے پر ایمپورٹیڈ حکومت کو منہ کی کھانی پڑی ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور چیئرمین مارکیٹ کمیٹی محمد اعظم جھولے لعل نے صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ 14 کرپٹ جماعتوں کا ٹولہ جو اپنے اپنے مفادات اورکرپشن لوٹ مار کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے جو ملک سے لوٹی ہوئی دولت کے تحفظ اور کیسسز سے جان بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں ۔یہ سب مل کر بھی عمران خان سے خوف زدہ ہیں۔جن کی عوام میں کوئی ساکھ ہی نہیں رہی مائنس ون کا فارمولا اس ایمپورٹیڈ اور کرپٹ حکومت کا صرف خواب ہو سکتا ہے جس کی تعبیر کے لیے ان کو ایک اورجنم چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک حقیقی لیڈر ہے جس کو شکست دینا پی ڈی ایم کے بس کی بات نہیں امپورٹیڈ حکومت کو مشورہ دیتا ہوں اب بھی ہوش کے ناخن لیں اور فوری شفاف غیر جانبدار اور منصفانہ الیکشن کروانے کا اعلان کریں ۔محمد اعظم جھولے لعل کا مزید کہنا تھا کہ قائد کی کال پر پی ٹی آئی کا جم غفیر سڑکوں پہ نکلے گا ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف پر امن احتجاج ریکارڈ کروائے گا اس موقع پی ٹی آئی سینئر رہنما چوہدری محمد ندیم اشرف جٹ ،چوہدری،فیاص گڈو،رانا مبشر وکیل ،حاجی محمد ارشد ،رانا محمد آکرم ،محمد علی رحمانی کونسلر ودیگر کارکنان بھی موقع پر موجود تھے
-

نفیراورجبری بھرتی سے بچنے کے طریقے!!! — ستونت کور
گزشتہ روز روسی صدر پیوٹن کی طرف سے یوکرین میں حالیہ ہزیمت و پسپائی کے بعد کیے گئے Partial Mobilization کے اعلان نے پورے روس میں کشیدگی کا سماں پیدا کردیا ہے اور روسی نوجوان کسی بھی قیمت پر اس یقینی موت یا معذوری سے بچ کر نکلنا چاہتے ہیں پھر چاہے انہیں عجلت میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر زمینی یا فضائی راستے سے روس چھوڑنا ہی کیوں نہ پڑ جائے چنانچہ گزشتہ روز سے اب تک روس کے سب ہوائے اڈے اور سرحدی کراسنگز ان بیسیوں ہزار لوگوں سے اٹی پڑی ہیں کہ جو جبری بھرتی اور یوکر– ین جنگ میں جھونک دیے جانے سے بچنا چاہتے ہیں !!
لیکن۔۔۔۔۔
ہر شخص نہ تو فضائی راستے سے ملک چھوڑ سکتا ہے نہ ہر شخص زمینی راستے سے روس نامی زندان سے نکل سکتا ہے ۔
چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ نفیر سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل ایک انگلش تحریر لکھ چند یوکرینی دوستوں کو بھیج دوں اس ہدایت کے ساتھ کہ اسے روسی زبان میں ترجمہ کرکے ٹیلی گرام، ویکے ، کوب یا دیگر سوشل میڈیا کے زریعے روسی صارفین تک میں وائرل کرنے کا بندوبست کر لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ روسی عوام کو بھرتی ہونے اور یوکرین جنگ میں حصہ لینے سے بچایا جاسکے اور یوکرینی عوام کو ان سے محفوظ رکھا جا سکے ۔
یہ ایک دلچسپ تحریر ہے چنانچہ سوچا اسے معلومات افزاء تحریر کے طور پر اردو میں بھی پوسٹ کردوں ۔۔۔ یاد رہے اس پوسٹ میں مخاطب بس روسی عوام ہیں ۔
تو بات کرتے ہیں نفیر اور جبری بھرتی سے بچنے کے طریقوں کی :
✓ روس رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تاہم اس کی آبادی رقبے کے تناسب سے بہت کم ہے ۔۔ روسی مشرق بعید ، قفقاز، سائبریا اور کوہِ یورال کا اکثر علاقہ انتہائی کم آباد ہے جہاں کئی کئی سو مربع کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں ہزاروں چھوٹے بڑے گاؤں اور بستیاں موجود ہیں ۔۔۔ بھرتی سے بچنے کے لیے روپوشی ایک بہتر راستہ ہے ۔ قفقاز میں روپوش ہونے کا ایک فایدہ یہ بھی ہے کہ اس راستے انسان جارجیاء، آرمینیا یا آذربائیجان بھی فرار ہو سکتا ہے ۔
تاہم۔۔۔۔ یہ سب علاقے سخت سرد ہیں اور یہاں روپوش ہونے کے لیے انسان کا سخت جان ہونا ضروری ہے۔۔۔ تاہم یہ ناممکن بھی نہیں لاکھوں لوگ ان خطوں میں آباد ہیں۔✓ روسی فوج میں بےپناہ کرپشن ہے ۔ لیفٹیننٹ سے لے کر جنرلز تک 99٪ افسران کرپٹ ہیں ۔۔۔ چنانچہ ڈرافٹنگ کے وقت متعلقہ افسر کو بھاری رشوت کھلا کر خود کو کانسکرپشن کے لیے ‘ناٹ ریکمنڈڈ’ یعنی غیر موزوں قرار دلایا جا سکتا ہے۔۔۔ اس مقصد کے لیے اگر رقم نہ ہو تو بائیک ، موبائل کچھ بھی فروخت کرکے رقم کا انتظام کرنا چاہیے۔
✓ اگر بوجوہ کسی افسر کو دام میں لانا ممکن نہ ہو تو پھر میڈیکلی خود کو Unfit قرار دلوائے جانے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں ۔۔۔ مثلاً اگر بازو یا ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو ڈرافٹنگ سے بچا جاسکتا ہے ۔ تاہم قصداً ایسا کر پانا اکثر لوگوں کے لیے بہت مشکل ، تکلیف دہ اور مہنگا سودا ثابت ہوسکتا ہے ۔
✓ کورونا وائرس یا ملیریا بھی ایک بہتر آپشن ہے ۔ جس کے لیے خود کو مچھروں یا پھر کورونا کسی مریض سے اتنے کانٹیکٹ میں لانا ہوگا کہ مرض منتقل ہوجائے ۔۔۔ ہیضہ اور ٹائیفائڈ سمیت دیگر چند آپشنز بھی موجود ہیں۔
✓ یا پھر اگر اداکاری کے ماہر ہوں تو خود پر جنون ، شدید ڈیپریشن ، توڑ پھوڑ اور اینزائٹی کی سخت علامات طاری کر لیں ۔۔۔ اتنی کہ کوئی سائیکیٹرسٹ بھی آپ کو متعلقہ مرض یا امراض میں مبتلا قرار دے دے اور اس کی میڈیسنز تجویز کردے ۔۔۔ سائیکٹرسٹ کی پرسکرپشن اور ادویات امید ہے جبری بھرتی سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکیں گی ۔
✓ یا پھر ڈرافٹنگ کے وقت کیے جانے والے طبی ٹیسٹوں کو ٹیمپر کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔ مثلاً
یورن ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینے کے لیے واش روم جائیں تو کسی پِن وغیرہ سے بازو میں چھوٹا سا زخم لگا کر خون کے ایک دو قطرے اس سیمپل میں شامل کر دیں ۔۔ ٹیسٹ میں جب یورن سیمپل کے اندر خون کی نشاندہی ہوگئی تو آپ کو بھرتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
یا پھر ۔۔۔۔
منشیات کا استعمال نہ بھی کرتے ہوں تو عارضی طور پر حیش، اوپیم سمیت کوئی بھی ایسی ڈرگ کا استعمال شروع کر دیں کے جو خون کے ٹیسٹ یا بریتھلائزر میں واضح طور پر آجائے ۔۔۔ کوئی بھی فوج کسی عادی چرسی موالی کو ایک حساس ترین جنگ میں نہیں جھونکا چاہے گی ۔✓ یاد رہے کہ کوئی جرم کرنے اور جیل میں جانے سے آپ بھرتی سے نہیں بچ سکتے کیونکہ روس میں سب سے پہلے جیلوں میں بند قیدیوں کو ہی سب سے پہلے جنگ کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے ۔
✓ ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈرافٹنگ پر تعینات متعلقہ افسر کو بلیک میل کیا جائے مثلاً اگر اس کا اتا پتا معلوم ہو تو یہ دھمکی دی جا سکتی ہے کہ تم بھی ڈیوٹی پر ہوگے اور میں بھی بھرتی ہو جاوں گا مگر پیچھے اپنے خاندان کی خیر منا کے رکھنا پھر۔ کیونکہ میں کسی کی ڈیوٹی لگا کر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔ اگر افسر کا حدود اربعہ معلوم نہ ہو تو پھر یہ طریقہ کریں کہ چند ساتھیوں سے مل کر ایک ساتھی اسے رشوت دے کر اپنی بھرتی روکے اور اس کا ویڈیو یا تصویری ثبوت لے کر باقی ساتھی اسے بلیک میل کریں کہ ” عین حالت جنگ میں تم رشوت لے کر بھرتی رکواتے پکڑے گئے ہو اب یہ ثبوت افسران بالا کو پہنچ گئے تو کورٹ مارشل الگ ہوگا اور طویل قید الگ۔۔۔ اس لیے شرافت اسی میں ہے کہ ہم سب کی بھی بھرتی رکواؤ۔”.
اور آخری لیکن سب سے خطرناک طریقہ یہ ہے کہ بھرتی ہو جائیں۔۔ اب اگر تو آپکی ڈیوٹی اندرونِ روس ہی ہے یعنی آپکو یوکرین روانہ کردیے گئے فوجیوں کی ریپیلسمنٹ میں تعینات کیا جا رہا ہے تو روس کے اندر ہونے کی وجہ سے آپ کے زندہ بچے رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔۔۔تاہم۔۔۔اگر آپ کو یوکرین بھیج دیا جاتا ہے تو :
پہلی فرست میں سرنڈر کر دیں۔
سرنڈر کرنے کے بعد یوکرینی فوج کے ” رشین لیجن” کو جوائن کر لیں ۔۔ یہ لیجن ان رووسی فوجیوں پر مشتمل ہے جو یوکرین کے حامی ہیں اور اس جنگ میں یوکرین کی طرف سے متحارب ہیں ۔۔۔رشین لیجن میں شمولیت کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو فی الفور یوکرین کی شہریت مل جائے گی اور آپ کو قیدیوں کے تبادلے میں واپس روس نہیں بھیجا جائے گا اور اس طرح آپ سرنڈر کے جرم کی سزا بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے۔۔۔ مزید یہ کہ رشین لیجن کے سپاہیوں کو فرنٹ لائن پر لڑنا نہیں پڑتا بلکہ ان کا کام دیگر والنٹیئرز کو ٹریننگ دینا ہے ۔
-

برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف
برطانیہ کے شہر Leicester میں ہندو مسلم فسادات کی لہر چل رہی ہے۔۔۔مبینہ طور پر فسادات کا آغاز 28 اگست کو ہونے والے پاک بھارت مقابلے سے ہوا۔۔۔۔برطانوی حکومت بھی شاید پوری طرح انجوائے کر کے حالات قابو کرے گی۔۔۔
میں بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کی اس وحشیانہ سوچ کی مخالف ہوں جس کے تحت پاک بھارت مقابلوں کو بزنس اور میڈیا جنگ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔۔۔۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کھلاڑی اس گھٹیا سوچ سے تنگ باہمی محبت کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔
سادہ اصول ہے۔۔بھارت کو اگر پاک بھارت مقابلوں سے پیسہ کمانا ہے تو باہمی سیریز کرائے۔۔پاک بھات میچز رکھنے کے لیے ٹورنمنٹس کا فارمیٹ خراب کرتے ہیں۔۔غیر منصافانہ گروپس بنائے جاتے ہیں۔۔۔یہ تو وہ زیادتی ہے جو کھیل کے ساتھ کی جا رہی ہے۔۔۔
دوسری زیادتی پاک بھارت میچ کو جنگ کی صورت پیش کرکے ہائپ کریٹ کرنا ہے۔۔اور اس خباثت میں 100 فیصد ہاتھ بھارتی حکومت اور میڈیا کا ہے۔۔۔پھر اگر ایک جانب سے لگاتار اشتعال ہو تو ردعمل فطری ہے۔۔۔مودی حکومت ہندو مسلم خلیج کو بہت بڑھا چکی ہے۔۔۔مودی حکومت میں "مذہب” اہم ترین فیکٹر بن چکا ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے پاک بھارت مقابلوں میں مذہب بھی ٹرولنگ کا موضوع بن گیا ہے۔۔۔
پاک بھارت ورلڈکپ 2021 میچ کے بعد شیخ رشید نے جو بیان دیا اسکو کسی نے سپورٹ نہیں کیا تھا۔۔لیکن کیا شیخ رشید کا بیان نکال دیں تو سب امن ہے۔۔؟آغاز کہاں سے ہوا ہے اور اسے لگاتار ہوا کون دے رہا ہے۔۔؟
سوشل میڈیا پر پاک بھارت میچ سے پہلے اور بعد میں انتہا پسند بھارتیوں کا لب و لہجہ انتہائی گستاخانہ ہوتا ہے۔۔۔باقاعدہ گینگ کی صورت تبصرے کرتے ہیں۔۔ٹرینڈز بناتے ہیں۔۔۔۔مذہب کو ملوث کرنا انکے نزدیک عام بات ہے۔۔۔اِس قسم کے تبصرے ہوتے ہیں کہ خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔
جینٹلمین گیم اب باقاعدہ فساد کا باعث ہے۔۔۔دونوں ملکوں کی سمجھدار عوام کو چاہیے طاقتوروں کے ہاتھوں میں دوبارہ نہ کھیلیں۔۔۔تقسیم برصغیر سے بھی اگر سبق نہیں لیا تو کیا فائدہ۔۔۔۔
-

گوجرخان : بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ملک امریز حیدر کی برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات
گوجرخان بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ملک امریز حیدر کی برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات
گوجرخان( شیخ ساجد قیوم/ نامہ نگار باغی ٹی وی ) خادم اعلی دربار عالیہ کلیام شریف بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ممتاز سماجی شخصیت ملک امریز حیدر گزشتہ دنوں برطانیہ کے دورے پر پہنچ گئے ، ملک امریز حیدر نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گزشتہ دنوں بریڈ فورڈ میں سجادہ نشین کلیام شریف حضرت پیر سائیں شعبان فرید اور دیگر افراد سے ملاقات کی جبکہ وہ اپنے نجی دورے کے دوران پاکستانیوں سے ملاقاتیں کریں گے راولپنڈی کی ممتاز سماجی شخصیت چئیرمین یونین کونسل ملک جہانگیر خان بھی بابائے پوٹھوار ملک امریز حیدر کے ھمراہ تھے -

طارق محمود باجوہ ایک عوامی لیڈر
طارق محمود باجوہ ایک عوامی لیڈر
باغی ٹی وی : صفدر آباد (رانا شہباز نثار) سابقہ MPA طارق محمود باجوہ جو کہ پچھلے دور میں صفدر آباد ،سانگلہ ہل،شاہکوٹ اور ضلع ننکانہ صاحب کے مضبوط سیاسی لیڈر لیڈر ثابت حہوئے جو کہ دو مرتبہ ایک دفعہ ن لیگ کے نشان پر اور ایک دفعہ خرگوش کے نشان پر ایم پی اے منتخب ہوئے اور اپنے تمام شہروں جن میں صفدر آباد،سانگہ ہل، شاہکوٹ سے چیئرمین میونسپل کمیٹی اور ضلعی چیئرمین ننکانہ صاحب بھی اپنے منتخب کروائے اور 2018 کے الیکشن میں NA118 سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور ن لیگ کے امیدوار برجیس طاہر کے71891ووٹ کے مقابلے میں 68995 ووٹ حاصل کئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کے باوجود پی ٹی آئی کے امیدوار 66994 ووٹ لے سکے۔ طارق محمود باجوہ صاحب نے رواں ماہ ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی جن کی شمولیت نے علاقائی سیاست کا رخ ہی تبدیل کر دیا اور جہاں پر طارق محمود باجوہ کی شمولیت سے ضلع ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط ہوئی ساتھ ہی حلقہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر مقابلہ بھی شروع ہو گیا اور پی ٹی آئی پارٹی بھی تقسیم ہو گئی تھی لیکن طارق محمود باجوہ صاحب نے کہا ہے کہ پارٹی جوائن کرنے کا مطلب پارٹی کے فیصلے پر سر جھکانا ہے ٹکٹ نہ ملی تو انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا، پی ٹی آئی کے تمام دھڑوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں سب مل کر عمران خان کے ہاتھ مضبوط کریں، آپسی اختلاف کا کوئی فائدہ نہیں، وہ سانگلہ ہل میں اپنے ڈیرے پر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے.
میں یہاں پر بتاتا چلوں کہ طارق باجوہ اپنے حلقہ کی عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ان کو ملنے کے لیے کسی ٹاؤٹ یا ٹائم لینے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی ان عام آدمی بھی ڈائریکٹ جا کر مل لیتا ہے اور اپنا کام کروا لیتا ہے اور شاید اسی وجہ سے حلقہ کی عوام نے 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے بھاری اکثریت میں ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ باجوہ صاحب کو کسی پارٹی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ پارٹیوں کو باجوہ صاحب کی ضرورت ہے اور پی ٹی آئی میں شمولیت سے ننکانہ صاحب سے پی ٹی آئی کی جیت یقینی ہو گئی ہے اور جہاں تک پارٹی ٹکٹ کے لئے اختلافات کی فضاء پیدا ہو رہی تھی تو باجوہ صاحب کے ٹکٹ کے حوالے سے اس بیان پر پارٹی میں اختلاف بھی ختم ہو جائیں گے۔