Baaghi TV

Category: سیاست

  • پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)صوبہ پنجاب میں چف سیکرٹری کی فرائض منصبی سرانجام دینے سے معذرت اور سرکاری محکموں بشمول پولیس و سول انتظامیہ کی لاغر کارکردگی نہ صرف وزیراعلٰی پنجاب بلکہ تحریک انصاف کے بلند وبانگ نعروں کا پول کھول رہے ہیں۔ انتظامیہ کی پرائس کنٹرول میں عدم دلچسپی پولیس کے اعلی افسران کی عوامی مسائل اور کرپشن روکنے اورکرائم کنٹرول میں ناکامی محکمہ مال ، محکمہ زرعت ، محکمہ ورکس اینڈ کنسٹرکشن ، اینٹی کرپشن اور دوسرے لا تعداد محکموں میں اپنے اپنے شعبوں میں مفلوج پن اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملات اوپر سے خراب ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بروقت بھرتی میں عدم دلچسپی سے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء اساتذہ کا راہ دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا یہ واویلا کہ انہیں صوبے سے تبدیل کیا جائے کیونکہ ان کے کاموں میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے اور غیر مناسب سفارشیں کی جاتی ہیں اس بیان سے اور عملی طور پر فیلڈ میں گڈ گورننس کا فقدان ان مافیاز اور قبضہ گروپوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ اس وقت حکومت سے بھی طاقتور ہیں۔

    تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی ملک میں جنگ لڑنے کا دعویٰ کررہی جبکہ پنجاب میں مکمل طورپر لینڈ مافیا ، قبضہ مافیا ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز ، ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔ صوبہ پنجاب کی سرکاری مشینری کا غیر فعال ہونا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد جیسے حساس ترین شہروں میں قبضہ مافیا کی طرف سے اسلحہ کی نمائش اور انسانوں کا قتل عام اعلیٰ پولیس افسران اور انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر تجارتی مراکز کا روپ دھار چکے ہیں۔ عوام کو قبضہ مافیا ، بڑے بڑے لینڈز مافیا ، ڈاکوؤں اورقانون شکن کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔

    اگر مقتدر حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب کے اس خوفناک منظر نامے اور اسلام آباد جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر توجہ نہ دی تو ملک جو پہلے ہی دوبارہ دہشت گردی کی لہر اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وطن عزیز میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہو گا؟ پاک فوج کے جوانوں کا افغانستان کے بارڈر پر شہید ہونا ان سول انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران کو کیوں نظر نہیں آتا ؟

  • ضمنی انتاخابات  کی تاریخ ایک بار پھر تبدیل

    ضمنی انتاخابات کی تاریخ ایک بار پھر تبدیل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی الیکشن میں اعلان کردہ تاریخ کو 12ربیع الاول کے دن آنے پر 16اکتوبر کو الیکشن کرانے کا دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے
    باغی ٹی وی ،شیخوپورہ(محمدطلال )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے 4 حلقوں میں 9 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا،این اے 157 ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 209 خانیوال، پی پی 241 بہاولنگر میں پولنگ 9 اکتوبر کی بجائے 16 اکتوبر کو ہوگی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ تبدیلی عید میلادالنبی کی وجہ سے کی ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق 16 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی 8 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر پولنگ 16 اکتوبر کو ہوگی

  • کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔

    کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔

    کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔

    یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔

    یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔

    1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔

    جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔

    وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔

    آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔

  • شریکا 2030!!! — عارف انیس

    شریکا 2030!!! — عارف انیس

    پچھلے دنوں پڑوسیوں نے چپکے چپکے ایک کام کیا. میچ تو وہ ہار گئے. لیکن دوسری طرف بڑی چھلانگ مار دی.

    حال ہی میں، انڈیا نے برطانیہ کو دنیا کی پانچویں بڑی مالی طاقت کے رتبے سے ہٹا کر، یہ پوزیشن خود سنبھال لی ہے. اب تو لگتا ہے شاید ملکہ جی نے اسی بات کو دل سے نہ لگا لیا ہو. ہندوستان کی جی ڈی پی 3.535 ٹرلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے. اس کوارٹر میں اقتصادی گروتھ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ 13.5 فیصد ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک ہندوستان، جرمنی اور یورپ کو بھی پچھاڑ چکا ہوگا، اور امریکہ اور چین کے بعد تیسری مالی عالمی طاقت کی پوزیشن پر براجمان ہوگا.

    یاد رہے کہ اس فروری میں گوتم اڈانی 143 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے اور امیزان کے جیف بیزوس کو دوسرے نمبر سے پھسلوانے ہی لگا ہے.

    یارو، جب میزائل اور بم وغیرہ مقابلے کے بنا لیے تو مالی مسل بنانے میں کیا حرج ہے؟ میں انتظار کرتا رہا کہ شاید اس بڑی خبر پر کوئی لکھے گا، مگر لگتا ہے اپن کا انٹیلی جنشیا، ایشیا کپ دیکھنے میں مصروف تھا.

    ہندوستان میں ابھی بھی جہالت، بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن سے چالیس کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں. مگر نظر آ رہا ہے کہ اگلے بیس برس میں وہ خط غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے. اور یہ سب "معجزہ” پچھلے تیس برس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے.

    مسئلہ تو یہ ہے کہ آج ہم سمت بدلتے ہیں تو تیس برس بس پکڑنے میں لگ جائیں گے. مگر تیس برس بھی ٹھیک ہیں، چالیس برس ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

    کرکٹ کے علاوہ، ہم کیوں کھیل سے باہر ہوتے جا رہے ہیں؟ منگتے ہونا یا دھمکی دینے کے علاوہ اپن کے پاس اور کیا کچھ ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ ملتی جلتی مذہبی شدت، ایسی ہی فرسودہ بیوروکریسی، کٹا پھٹاانفراسٹرکچر اور بھرپور کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ، پڑوسی لوگ کدھر جا رہے ہیں اور ہم کدھر جارہے ہیں؟

    کدھر جارہے ہو، کدھر کا خیال ہے؟

    آپ کیا کہتے ہیں؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہم مالی سپر پاور بننے کی، ایشین بلی یا لگڑ بگڑ بننے کی بس کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ ابھی، اسی وقت کیا، کرنا ضروری ہے؟

    صبح صبح مورال ڈاؤن کرنے اور مشکل سوال پوچھنے پر معافی!

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔

  • للی بٹ کا جادو!!! — عارف انیس

    للی بٹ کا جادو!!! — عارف انیس

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی موت کے بعد کئی زاویوں سے بات چیت چل رہی ہے. للی بٹ (Lilibet) ، ان کا نک نیم تھا. بہت سے دوستوں نے برطانوی سامراج پر تبرا کیا، جو بنتا بھی ہے کہ سارے سامراج انسانی خون اور ہڈیوں پر استوار ہوتے ہیں. ان کی ذاتی زندگی پر بھی پھبتیاں کسی جارہی ہیں کچھ دوست لیڈی ڈیانا کو ان پر ترجیح دے رہے ہیں. کچھ کو کوہ نور ہیرا یاد آرہا ہے. کچھ اس امر پر پشیماں ہیں کہ وہ کلمہ پڑھے بغیر دنیا سے چلی گئیں. میں چونکہ لیڈرشپ کی سائنس کا طالب علم ہوں تو اسی حوالے سے ان کی زندگی کا جائزہ لوں گا.کہا جاتا ہے کہ طاقت کی سب سے اونچی سیڑھی پر شور موجود نہیں ہوتا. ملکہ اس کا جیتا، جاگتا ثبوت تھیں.

    بہت کم دوستوں نے ملکہ کے اثر اور لیڈرشپ پر بات کی ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ متعلق بات ہے. بی بی سی نے جب سرخی چھاپی کہ "ملکہ کی موت پر تاریخ رک گئی” تو شاید کسی کو مبالغہ لگے مگر برطانیہ اور فرسٹ ورلڈ کی حد تک ایسا ہی ہے. اس امر پر کم غور کیا گیا کہ جب الزبتھ ملکہ بنیں تو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر سورج ڈھل چکا تھا اور دوسری جنگ عظیم میں اس کی ہڈیاں چورا بن چکی تھیں. یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ کی شادی کا لباس بھی کچھ عوامی عطیات جمع کر کے بنایا گیا تھا. للی بٹ نے جو تاج پہنا تھا وہ بہت بھاری اور کئی جگہوں سے چبھنے والا تھا.

    انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایک کانسپٹ "سافٹ پاور” ہے کہ جنگی سازوسامان اور فوج کی ہیبت کے علاوہ کس طرح اقوام اپنی زبان، ثقافت اور موسیقی سے دنیا میں اپنا مصالحہ بیچتی ہیں. یاد رہے کہ برطانیہ تقریباً سو سال سے عالمی طاقت کے سٹیج پر اپنی جگہ کھو چکا ہے، تاہم گزشتہ دس برس میں کئی مرتبہ دنیا میں سب سے بڑی سافٹ پاور رہنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے. سچی بات تو یہ ہے کہ اس اعزاز کا ٪80 کریڈٹ ملکہ برطانیہ کو جاتا ہے. کچھ محققین کا خیال ہے کہ برطانوی شاہی خاندان کی موجودگی، ہر برس دس ارب پاؤنڈز کے برابر رقم، سیاحوں، طالب علموں اور دیگر اثر و رسوخ سے برطانوی خزانے میں جانے کا باعث بنتی ہے. یعنی اگر ہاتھی ہے بھی سہی تو سفید ہاتھی نہیں ہے.

    سوشل میڈیا پر مرتب کی گئی ایک فہرست کے حساب سے، ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم نے 96 سالہ زندگی میں، مندرجہ ذیل تاریخی ساعتوں سے گزریں.

    طاعون سے
    چیچک سے
    دوسری جنگ عظیم کے دوران
    کوریا کے جنگ کے دوران
    ویتنام کی جنگ کے دوران
    لینڈ رورو اور رینج روور کے بننے والے عرصے کے دوران
    کنکورڈ جہاز کے شروع ہونے کے وقت
    کنکورڈ کے خاتمے کے بعد
    جرمنی میں نازی حکومت کے دوران
    برلن کی تباہی کے دوران
    برلن کی تقسیم کے وقت
    برلن کی یکجائی کے وقت
    اسرائیل کی تخلیق کے وقت
    فلسطینیوں کی اُن کے علاقوں سے بے دخلی کے وقت
    1956 میں تین مغربی قوتوں کے مصر پر حملہ کے وقت
    1973 میں ہونے والی جنگ کے دوران
    سرد جنگ کےعرصے میں
    ایران اور عراق کی جنگ کے دوران
    پہلی خلیجی جنگ کے دوران
    صدام حسین کے زوال کےوقت
    سوویٹ یونین کے خاتمے اور ریاستوں کا شیرازہ بکھرنے کےوقت
    برطانیہ کے یورپی یونین شمولیت کے وقت
    برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کےوقت
    اپالو 1 سے 17 کے درمیانی عرصہ کے دوران
    ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی آزادی کے وقت
    15 برطانوی وزرائے اعظم کی حکومتوں کے دوران
    چارلس اور ڈیانا کی ازدواجی زندگی
    چارلس اور کامیلا پارکر
    اینڈریو اور فیرگی
    ہیری اور میگن
    اور انہوں نے اپنے اس وقت میں بھگتا دیے
    15 امریکی صدر
    7 سعودی بادشاہ
    48 اطالوی وزرائے اعظم
    اقوام متحدہ کے 10 سیکریٹری جنرل
    22 عدد پاکستانی وزرائے اعظم
    13 عدد پاکستانی صدور
    تیسری، چوتھی اور پانچویں فرانسیسی ریپبلک
    انٹرنیٹ
    ایپل ٹی وی
    نیٹ فلیکس
    کووڈ 19 ( کورونا وائرس)

    میں سب سے زیادہ متاثر اس امر سے ہوں کہ ملکہ برطانیہ نے انسانی ترقی اور تبدیلی کے سب سے تیز اور تند سالوں میں اپنے آپ کو تبدیل کیے رکھا اور شاہی خاندان جیسے فرسودہ ادارے کو مرنے نہیں دیا. آج بھی برطانیہ میں 65-70 فیصد افراد شاہی خاندان سے محبت کرتے ہیں اور گوروں کی مشہور زمانہ جمہوریت سے محبت اور اختیار سے نفرت کے باوجود اس وقت تاش کے پتوں کے علاوہ برطانوی بادشاہ بھی باقی ہے.

    حال ہی میں نیٹ فیکس پر ڈرامہ "THE CROWN” نے باہر کی دنیا کو شاہی خاندان کے اندر کے مناظر دکھائے اور لوگوں کو نظر آیا کہ شاہی تاج بھی پہننے والے کو کہاں کہاں چبھتا ہے. میں ٹاپ کمپنیوں کے سی ای اوز کو کوچ کرتا ہوں تو انہیں یہ ڈرامہ سیریز دیکھنے کی ترغیب دیتا ہوں، انفلوئنس اور ایگزیکٹو پریزینس کے حوالے سے شاید اس سے بہتر چیز نہیں بنی.

    لیڈرشپ کے طالب علموں کو ایک اور شاندار چیز ضرور دیکھنی چاہیے. برطانوی ملکہ یا بادشاہ ہر منگل کو بکنگھم پیلس میں 6:30 کے آس پاس برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہیں. 2013 میں ویسٹ اینڈ پر "THE AUDIENCE” نام کا ڈرامہ بنا جس میں ہیلن مرن نے ملکہ الزبتھ کا شاندار کردار ادا کیا. انہوں نے اپنے ستر برس کے دوران 14 برطانوی وزراء اعظم سے ملاقاتیں کیں جن میں چرچل سے لے کر بورس جانسن تک شامل تھے. سیاست اور لیڈرشپ کے طالب علموں کے لیے یہ ملاقاتیں اور کاروبار حکومت میں مداخلت کیے بغیر ملکہ کی وزراء اعظم کو ایڈوائس، بیش قیمت اور خاصے کی چیز ہیں.

    گزشتہ دس برس میں ملکہ برطانیہ سے دو مرتبہ شاہی تقریبات میں ملاقاتیں ہوئیں، شہزادہ چارلس، سارہ فرگوسن، شاہزادہ ولیم اور شہزادیوں سے کئی مرتبہ ملاقاتیں رہیں. 2 برس قبل جب میں نے سلیمان رضا کے ساتھ مل کر کووڈ کے دوران پورے برطانیہ میں طبی عملے اور دیگر افراد کو کھانے فراہم کرنے کی مہم "ون ملین میلز” چلائی تو اس کے بعد ملکہ برطانیہ کی طرف سے تعریفی خط موصول ہوا، جسے پا کر میں بہت حیران ہوا تھا کہ میرے خیال میں شاہی خاندان کو اس رضاکارانہ مہم سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی. پچھلے دس سالوں میں، میں یہی دیکھ پایا کہ شاہی خاندان کے اس ادارے کی گوند ملکہ برطانیہ ہی تھیں. شاہ برطانیہ کے طور چارلس یقیناً مؤثر رہیں گے، تاہم اس امر کا خطرہ موجود ہے کہ یونائٹد کنگڈم متحد نہ رہ پائے اور سکاٹ لینڈ اگلے کچھ برسوں میں علیحدہ ملک بن جائے.

    خیر اس وقت برطانیہ میں شدید سوگ کا عالم ہے. بکنگھم پیلس کا چکر لگا ہے تو وہاں کئی گوروں اور گوریوں کو دھاڑیں مار کر روتے دیکھا ہے جو گوروں کے ٹھنڈے پن کو جانتے ہوئے، ایک اجنبی سی ساعت ہے. سب سے خاص بات یہ تھی جب کچھ بزرگ گورے، گوریوں سے بات ہوئی تو اس کا مفہوم یہ بنا کہ، برطانیہ ویسے تو دوسری عالمی جنگ میں ختم ہوگیا تھا، تاہم یہ ملکہ کی برکت تھی کہ وہ اپنے پاؤں پر جم کر کھڑا ہوا، اور پاؤنڈ میں طاقت بھی برقرار رہی. اب یہ بزرگ لوگ آنسوؤں سے پریشان تھے کہ اب ملکہ نہیں رہی تو اس "برکت” کا کیا بنے گا؟ بابت ہوتا ہے کہ پیر صرف دیس میں نہیں ہوتے، یا شاید خدمت کرنے والے کسی بھی دیس میں ہوں، انہیں پیر مان لیا جاتا ہے.

    انسانی نفسیات صدیوں سے شاہوں، بادشاہوں اور شہزادیوں کو پسند کرتی ہے کیونکہ وہ ان کی کہانیوں کے مرکزی کردار ہوتے ہیں، جنہیں شاید جان بوجھ کو ابھارا جاتا ہے. تاہم ایسے غبارے دس بیس برس میں پھٹ جاتے ہیں، اگر کوئین الزبتھ ستر برس کی فرماں روائی میں دنیا کے سب سے بے رحم پریس اور تنقید کا سامنا کرتی ہوئی عزت سے رخصت ہوئی ہے تو اس میں لیڈرشپ کے طالب علموں کے لیے کافی کچھ سیکھنے کو موجود ہے.

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی
    تبدیلی آ گئی سے لے کر انقلاب آرہا ہے تک قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو کون سمجھائے تبدیلی قربانی مانگتی ہے اور سیاست میں ہمیشہ قربانی عوام نے دی ہے ۔ بلاشبہ اس وقت عمران خان نوجوانوں میں مقبول ہیں بہت ہی بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں اور عمران خان اپنے آپ کو سقراط پیش کرنے کی ناکام کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے آ پکو عصر حاضر کا سقراط سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سقراط نے مشروب اجل کیوں پیا تھا؟ وہ بے گناہ تھا مگر مشروب اجل کو منہ سے لگا لینے کا مقصد اس وقت کے عدالتی فیصلے کو قبول اور سرخم تسلیم کرنے کا مقصد ایک ادارے کی عزت اور وقار کو برقرار رکھنا تھا۔ مگر ہمارے آج کے سقراط جلسوں، چوراہوں، گلی محلوں میں اپنے اداروں پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔ وہ پاک فوج ہو، عدلیہ ہو یا پھر صحافی، صحافیوں کو بھرے جلسے میں لفافہ صحافی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    کیا اسے قومی فریضہ کہا جاتا ہے ؟ کسی محب وطن پاکستانی کو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے جلسوں میں پکارا جاتا ہے نوجوان نسل کے ذہنوں میں کیا بھرا جا رہا ہے؟ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں کیا یہ نوجوان نسل کی تربیت ہو رہی ہے؟ہم ایک ایٹمی ملک بھی ہیں اور بہادر قوم بھی اور ہماری فوجی طاقت ملک کے دفاع اور قوم کے دفاع سب کچھ لٹا سکتی ہے کیا ہماری فوج یا بہادر قوم کسی میرجعفر یا میر صادق کو برداشت کر سکتی ہے؟ جو اس ملک و قوم کے لئے خطرہ ہو ہیں ایسا ہرگز نہیں۔

    ملک میں انقلاب کے دلفریب نعرے لگائے جا رہے ہیں کیا انقلاب کی حقیقت جانتے ہیں انقلاب کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ ہر چند کے موجودہ پی ڈی ایم کی حکومت بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی لیکن ہرگز ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میر جعفر یا میر صادق ہیں یا انہیں ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا جائے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، میر جعفر میر صادق، دہشت گرد، ملک کے لئے اگر ایک دوسرے کو خطرہ قرار دیتے رہے تو پھر اس ملک کی عوام اور جمہوریت کا کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں ہم اگر مقروض اور بدحال ہیں تو ہماری بدحالی بدانتظامی کی وجہ سے ہے ۔ اگر سیاستدانوں نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں پھر ہمیں بدل دیا جائے گا ابھی بھی وقت اس وطن عزیز کی اور قوم کی خاطر جمہوریت کو مستحکم کرنے کی خاطر ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کی خاطر، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی خاطر اپنے آپ کو بدل لیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    ارد گرد ممالک کی پالیسیاں بدل رہی ہیں ہم ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشت گرد قرار دے کر کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟

  • سیاست نہیں ریاست اہم ہے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    سیاست نہیں ریاست اہم ہے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    افواج پاکستان داخلی سلامتی کیلئے دن رات ایک کررہی ہے۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں پاک فوج اور سلامتی کے اداروں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ پاک فوج اور ہمارے قومی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب جو سراسر جھوٹ پر مبنی کتاب تھی اس کے ذریعے ہماری مسلح افواج اور آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بلاشبہ ملک میں سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے تاہم سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار سے الگ ہو کر پاک فوج کو اپنا نشانہ کیوں بناتی ہیں؟ اس کو بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ہوس اقتدار کے لئے ملکی سلامتی کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے یہ بات ہمارے سیاستدانوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست اداروں کے بغیر نہیں چلتی ادارے آئین کے پابند ہوتے ہیں وہ اپنا کردار آئینی طریقے سے ہی ادا کرتے ہیں۔ ملک کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاست اور جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے مورد الزام ریاست کے اہم ترین اداروں کو ٹھہرایا اور جمہور سے اپنی گردن بچالی۔ اس طرح کی گفتگو اور الزامات سیاسی بیان تو ہوسکتے ہیں صداقت کا عنصر موجود نہیں ہوتا۔ سیاستدان اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں ۔ پاک فوج عوام کی ہے اور فوج عوام میں سے ہے اور یہ عوام کے اور ملک کے وفادار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو روایتی سیاست کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ملکی سلامتی اور ملک کے مستقبل کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہئے۔ ملک ایک ایسے خطے میں ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفاد وابستہ ہیں یہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے پاکستان میں کوئی نہ کوئی کھیل جاری رکھتی ہیں ان سازشوں پر پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی گہری نظر ہوتی ہے جس سے وہ عوام کو بھی خبردار کرتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی یا پھر ن لیگ یا مذہبی سیاسی جماعتیں ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اداروں اور عدلیہ پر اپنے جلسوں چوراہوں‘ گلی کوچوں‘ سوشل میڈیا پر بے ہودہ بیان بازی سے باز رہیں اور یہ قومی سلامتی اور قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان اداروں کو اپنے آئینی کردار ادا کرنے دیں۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔