Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا نہ کرے ہم پر قہر نازل ہو قرآن پاک کا مطالعہ کریں جن قوموں پر قہر نازل ہوا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں حکومتیں اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی کرتے ہیں حکومتیں، انتظامیہ فلڈ وارننگ پر نظر رکھتی ہیں۔ ایک ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے انسانوں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ دعائیں دینے والے اور بددعائیں دینے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ پاکستان میں یہ آفت کا قہر کیا غریب اور بے بس لاچار عوام پر ہی آتا ہے۔ کیا یہ قہر مخصوص طبقے کے لئے رہ گیا ہے ہر گز نہیں ۔ یہ خدا پاک کا قہر نہیں بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے خدا پاک اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ ان سیلابی ریلوں کو روکا جا سکتا ہے ملک میں ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔

    بھارت نے پانچ ہزار ڈیم بنا دیئے۔ بنگلہ دیش نے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے اور اس طرح کے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ جنگلات اور پانی دو ایسی قدرتی طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ادارے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے پورا ملک بڑے بڑے لینڈ مافیا کے حوالے کر دیا وہ جنگلات کاٹ کاٹ کر ہائوسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بحث کی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ گرین ہائوس کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین سامنا کرنیوالے سرفہرست دس ممالک میں ہوتا ہے ۔ کلاڈیا ویب نے لکھا ہے کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز پاکستان میں پگھل رہے ہیں۔ کلاڈیا ویب نے کہا اس کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں ملک کی سیاسی قیادت، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہے کیا کہا جائے جنہوں نے اپنے محل تو محفوظ کر لئے مگر پاکستان جو بائیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے اس گھر کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ڈیم بنانے کی طرف توجہ دی نہ جنگلات کے تحفظ کے لئے کچھ کیا۔

    سیاسی قیادت نے یارانے لینڈ مافیا اور ٹمبر مافیا کے ساتھ ہیں بیورو کریسی اور سول انتظامیہ خاموش تماشائی ہے قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اس وقت ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری اور سازشی اور اب دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر ملک و قوم کی کون سی خدمات سرانجام دے رہی ہیں؟ ایک دوسرے کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ملک کو سنوارنے اور عوام کو ایسی آفات سے بچانے کی منصوبہ بندی کون کرے گا؟ ڈیم کون بنائے گا؟ جنگلات کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے۔

  • پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی معیشت اگر آزاد نہ ہو تو پھر اس کی قومی سیاسی و سفارتی آزادی بڑی حد تک بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ملک میں معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اس پر شور و غل بہت ہے لیکن اس کا حل کسی کے پاس نہیں 2013ء میں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے حل تلاش کر لیا تھا مگر خفیہ ہاتھوں نے ان کو اپنی مدت پوری ہی نہیں کرنے دی ملکی معاشی ماہرین کو یاد ہوگا اس سلسلے میں نوازشریف نے معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا تھا جس سے پاکستان آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہا تھا وہ ایسے اقدامات اٹھانے جا رہے تھے جس کی وجہ سے کشکول اٹھانے کی ضرورت ہی نہ رہتی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی اس سلسلے میں ٹاسک سونپا گیا تھا توانائی کے بحران پر قابو پانے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پالیسی ترتیب دی جا رہی تھی اور اس بات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی آئی ایم ایف کی ضرورت باقی نہ رہے۔

    نوازحکومت نے حکومتی اخراجات کم کرنے پر زور دیا وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کردیا گیا کابینہ میں شامل وزراء کے صوابدیدی فنڈ بھی ختم کر دیئے گئے اخراجات میں چالیس فیصد کمی کر دی گئی برآمدات کو بڑھانے پر زور دیا اور درآمدات کو کنٹرول کرنے پر زور دیا ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی تھیں جس سے پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو مگر اس ملک اور قوم یک بدقسمتی کہہ لیجئے کہ ہمیشہ کی طرح ایک سازش کے ذریعے ان کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور آج ہم پھر آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے ہیں قرضہ لے کر ہم ایک دوسرے کو مبارکباد ے رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی کشکول نہ توڑ سکی آج پی ڈی ایم کی حکومت بھی کشکول توڑنے میں ناکام رہی ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر ساری توانائیاں قرض لینے پر لگائی جا رہی ہیں

    ۔ عوام کے مسائل سے کوسوں دور یہ سیاسی بازیگر اقتدار کے حصول کے لئے ایک اندھی اور بے ہودہ لڑائی میں برسرپیکار ہیں۔ ملک و قوم کو مقروض بنا کر یہ کون سی ملکی خدمت سرانجام دے رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ عالمی دنیا پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے دل کھول کر امداد دے رہی ہے امید ہے کہ یہ امداد ان ہاتھوں تک پہنچے گی جن کے گھر بار، مال مویشی اس سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں ۔

  • چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    ڈیرہ غازی خان چوٹی زیریں ، ممبرقومی اسمبلی سردار محمدخان لغاری نے بے حسی کی انتہاکردی اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے پانچ منٹ بھی نہ نکال سکے ،ووٹرپھٹ پڑے، ویڈیو دیکھئے

  • پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔

    اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔

    حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔

    ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

    عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔

    اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔

    اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.

  • آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس وقت وطن عزیز کی بدنصیب عوام ایک طرف سیلابی ریلوں میں بہہ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے سیلاب میں عوام چلا اٹھے ہیں۔ مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگا رہے ہیں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی۔ موجودہ پی ڈی ایم کی حکوت نے اس کو اذیت ناک بنا دیا ہے ۔اگر پچھلی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سارا وقت کرپشن ڈھونڈنے میں لگا رہا اب پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کو ناک آئوٹ کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ معیشت کس طرح بحال کی جائے عوام کے دکھوں کا مداوا کس طرح ہوگا اس پر توجہ اور غور و فکر کرنا سیاستدانوں نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔

    سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے ،پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے بالخصوص ملک کے وزرائے اعظموں کو عبرت کا نشان بنانا شروع کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ ہی ملک کے وزرائے اعظم عبرت کا نشان بنتے رہے۔ بھٹو اور اس کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیا گیا نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطن اور بھارت کا یار قرار دیا گیا اور اب اس ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا کیا۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں ایک دوسرے کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سیاستدانوں نے اب ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    دوسری طرف میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے جو سیاستدان ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشتگرد قرار دیتے ہیں وہ آزاد میڈیا کے دوست ہو نہیں سکتے۔ میڈیا قومی فریضہ ادا کرے تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی سلامتی، جمہوری اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید ہیں ۔ سوال یہ ے کہ اگر یہ امید بھی ختم ہو گئی تو اس بدنصیب عوام کا کیا ہوگا۔ جس کو دال، روٹی، بجلی گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اور سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے ساتھ اور جمہور کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جمہوری اداروں کو بچانے ، ملک کی بقا و سالمیت کی فکر کرنے عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    حکومت اور مقبولیت کا نشہ ہمارے سیاستدانوں کا اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبورکر جاتے ہیں اور پھر بعد میں اس کو جوش خطابات کا نام دیا جاتا ہے ۔ جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے ۔ جلسوں ،چوراہوں ، گلی ، محلوں اور سوشل میڈیا پر قومی سلامتی ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے بارے میں ا پنے جوش و جذبات کو کنٹرول رکھنا ہی دانشمندی ہے ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت تک وطن عزیز پر دہشت گردوں اورا نتہا پسندوں کی لپیٹ میں تھا ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں خوف و ہراس کے سائے منڈلا رہے تھے بازاروں کی رونقیں ختم ہو گئی تھیں بھارت سمیت کئی عالمی طاقتیں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ایسے میں پاک فوج نے ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن شروع کیا اور ملک سے دہشت گردی ا ور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔

    پاک فوج ،پولیس اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز اور قوم کو خونخوار پنجوں سے آزاد کروایا بلاشبہ سول سوسائٹی نے بھی قربانیاں دیں۔ فوج میں غازیوں کی کمی نہیں شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ پولیس کے افسران اور نچلے درجے کے شہداء کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔ سابق سی پی او راولپنڈی احسن یونس نے اپنے دور تعیناتی راولپنڈی میں ان شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد کی اور ان کی بڑی بڑی تصاویر پولیس لائن میں لگائیں۔ اسی طرح کراچی ، لاہور اور دیگر صوبوں میں بھی ۔ اس ملک کی سلامتی اور اس قوم کو زندہ رکھنے میں ان شہیدوں کا بڑا کردار ہے ۔ وطن کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا کوئی شمار اور بدلہ نہیں دیا جا سکتا ۔ حکمرانوں سمیت اپوزیشن ہوش کے ناخن لیں جمہوریت چل رہی ہے تو اسے چلنے دیں۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت سے محرومی کی سازش کا حصہ نہ بنیں۔ سیاستدانوں کی ہی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا رہا اور پھر اس کا انجام کیا ہوتا رہا ۔ ملک کے جو حالات ہیں جس لائن کو سب کراس کررہے ہیں ان حالات میں ملک کا کوئی ادارہ لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں نہیں رہ سکتا۔

  • نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    نئی سیاسی جماعت کیا ملکی مسائل کا حل — نعمان سلطان

    ہم دوست آپس میں ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو نئی سیاسی جماعت کے قیام اور اس کی انتخابات میں کامیابی کا ذکر چھڑ گیا بظاہر دیکھا جائے تو پاکستان میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ہے، پاکستان تحریک انصاف نے بھی تقریباً پینتیس سال کی جدوجہد کے بعد اپنا سیاسی مقام حاصل کیا، (کس طرح حاصل کیا یہ تحریر کا موضوع نہیں لیکن میرے خیال میں سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں کو کشادہ دل اور حالات کے مطابق دفاعی یا جارحانہ حکمت عملی سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کر سکیں) ۔

    پھر انہیں میں نے پڑوسی ملک( بھارت) کی مثال دی وہاں بھی سیاست میں پاکستان کی طرح ہر قسم کی خرافات رائج تھیں اور دردِ دل رکھنے والے لوگ وہاں بھی پریشان تھے ایسے میں وہاں سماجی خدمات کے حوالے سے انتہائی مشہور شخصیت "انا ہزارے” نے اصلاحات کے لئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کر دی اور ان کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے سیاست دان کافی حد تک ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو گئے ۔

    بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ شریک ان کے شاگرد یا بھگت "ارویند کیجری وال” نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے مطالبات جائز اور لوگوں کے دل کی آواز ہیں اسی وجہ سے ہمیں بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے لیکن ان مطالبات کی منظوری کے لئے ہم سیاست دانوں کے محتاج ہیں یعنی ایک اچھے کام کے لئے بھی ہمیں برے لوگوں سے منظوری لینی پڑے گی چنانچہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود سیاسی طاقت حاصل کریں اور لوگوں کو ڈائریکٹ فائدہ دیں۔

    انا ہزارے نے ان کے خیالات کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم سماجی کارکن ہیں اگر سیاست میں آ گئے تو ہمارے اخلاص پر سوالیہ نشان آ جائے گا لیکن ارویند کیجری وال اپنی دھن کے پکے تھے انہوں نے "عام آدمی پارٹی ” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جھاڑو کا انتخابی نشان حاصل کیا کہ ہم ملکی سیاست کا گند صاف کریں گے، پہلی مرتبہ دہلی میں مخلوط حکومت بنائی اتحادیوں کے بلیک میل کرنے پر اسمبلی توڑ دی عوام کی عدالت میں گئے اور اکثریت حاصل کر کے دوبارہ حکومت بنائی ۔

    انہوں نے اپنے دور حکومت میں بے شمار عوامی خدمات کے منصوبے شروع اور مکمل کئے، سرکاری ملازمین کو صحیح معنوں میں عوام کا خدمت گزار بنایا، عوامی شکایات کے ازالے کی فوری کوشش کی جس کی وجہ سے وہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں بھی واضح برتری حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے اور اب پنجاب کے عوام کو بھی امید ہے کہ دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اصلاحات ہوں گی۔

    ارویند کیجری وال نے نظریاتی اختلافات پر احترام کے ساتھ انا ہزارے سے اپنے راستے جدا کر لئے، انا ہزارے نے انہیں کہا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہیں بھی انا ہزارے کا نام اور تصویر استعمال نہیں کرنی انہوں نے ایسا ہی کیا، چند ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد شروع کی جو کہ ان کے اخلاص اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے کی وجہ سے دن بدن کامیاب ہو رہی ہے، اور امید ہے اگر وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو ایک دن پورے بھارت میں عام آدمی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی حکومت بھی بنا لے گی۔

    تو دوستوں نظریات کی بنیاد پر اخلاص کے ساتھ سفر شروع کرنا شرط ہے، اگر آپ الیکٹیبلز کو ناگزیر سمجھتے رہے تو جو پاکستان میں عمران خان کے ساتھ ہوا وہی آپ کے ساتھ ہو گا، ہم لوگ اصل میں زینے کے بجائے لفٹ سے اوپر جانے کے قائل ہیں جبکہ سال کا سفر مہینے میں نہیں البتہ کچھ مہینوں میں طے ہو سکتا ہے ابتدا ہمیشہ تھوڑے سے ہی کی جاتی ہے پھر اپنی محنت، کام سے لگن اور اخلاص کی وجہ سے اس تھوڑے کو زیادہ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جیتنے کے لئے سب سے پہلے دل سے ہار کا خوف ختم کرنا چاہیے کیونکہ مقابلہ ہمیشہ بہادر کرتے ہیں ۔

    تو اگر آپ میں بھی اخلاص ہے اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ کی اپنے علاقے میں اچھی ساکھ ہے تو آپ اپنی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے تو انفرادی طور پر اپنے علاقے سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں لوگوں کو اپنی انتخابی مہم میں قائل کریں کہ "آزمائے ہوئے کو آزمانہ بے وقوفی ہے "اس طرح اگر چند اچھے لوگ بھی الیکشن جیت کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں چلے گئے تو وہ وہاں مل کر اپنا نظریاتی گروپ بنا لیں۔

    اور جہاں تک ممکن ہو اپنے حلقے کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کریں یہ ان کا اخلاص ہی ہو گا جو اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کے لئے مددگار ہو گا منزل پر پہنچنے کے لئے ابتدا پہلا قدم اٹھانے سے ہوتی ہے تو آنے والے انتخابات میں یا انفرادی حیثیت میں انتخاب میں حصہ لیں یا کسی مخلص امیدوار کی کامیابی کے لئے جان توڑ کوشش کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر کسی مخصوص طبقے کو نہ نوازے بلکہ تمام اہل علاقہ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے۔

  • ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ہم بھکاری نہیں ایٹمی طاقت ہیں — نعمان سلطان

    ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر علاقوں میں سیلاب آیا ہوا ہے، درد دل رکھنے والے احباب محکمہ موسمیات کی بروقت پیش گوئی کے باوجود نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ کرنے یا جن علاقوں میں حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہو وہاں سے لوگوں کے بروقت انخلاء نہ کرانے کی وجہ سے تنقید کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بروقت مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا بہت زیادہ جانی یا مالی نقصان ہوا ہے ۔

    آپ نے اکثر بازار میں بھکاری دیکھے ہیں جو ہٹے کٹے بھکاری ہوں انہیں لوگ امداد دینے سے زیادہ غیرت دلاتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمھیں صحت کی نعمت سے نوازا ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیوں نہیں کرتے اس کے برعکس جو بھکاری جسمانی طور پر معذور ہو یا اس کی بظاہر حالت قابل رحم ہو وہ اگر دست سوال دراز نہ بھی کرے تو لوگ اسے روک کر خود امداد دیتے ہیں، اسی لئے اگر کوئی جسمانی طور پر صحت مند بھکاری ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی معذور بچے یا فرد کو اپنے ساتھ نتھی کر کے اس کی قابل رحم حالت کی بنیاد پر بھیک مانگے اور لوگ بھی بغیر کوئی سوال جواب کرے ایسے شخص کو امداد دے دیتے ہیں ۔

    ہم ملک پاکستان کے شہری اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا پاس اسلامی بم ہے ہم امت مسلمہ کے خودساختہ ٹھیکیدار اور محافظ ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ اگر ہمیں امداد نہ ملے تو ہمارے پاس ایک یا دو مہینے کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جن کے ہم خودساختہ محافظ اور ٹھیکیدار ہیں وہ بھی ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں اور ہمیں امداد یا بھیک انتہائی ذلیل کر کے اپنی من پسند شرائط پر دیتے ہیں اور ساتھ طعنہ دیتے ہیں کہ ایٹمی طاقت تو بن گئے ہو اور معاملات میں کیوں نہیں خود کفیل ہوتے ہو۔

    ہٹے کٹے بھکاری کی طرح ہمیں بھی ہماری ظاہری حالت کی وجہ سے امداد نہیں ملتی جبکہ ہڈحرامی کی وجہ سے ہم خود محنت مزدوری کر نہیں سکتے اس لئے ہم بھی صحت مند بھکاری کی طرح کوئی معذور، جسمانی طور پر لاغر اور قابل رحم جسمانی حالت والا بچہ دھونڈتے ہیں اور ہمارا وہ بچہ یا ساتھی قدرتی آفات ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی قدرتی آفت آنے کا ہمیں بروقت معلوم ہو بھی جائے تو ہم وہ وقت اس آفت کا سدباب کرنے کے بجائے اس آفت کی بنیاد پر اقوام عالم سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرنے اور اس امداد سے اپنے اکاؤنٹ بھرنے میں صرف کرتے ہیں ۔

    اسی لئے سیلاب آنے کی بروقت اطلاعات کے باوجود ہم نے اس کے تدارک کے لئے رسمی انتظامات کئے اور ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا جبکہ ہم اپنی سیاست بچا رہے تھے سیلاب میں گھرے متاثرین سے زیادہ اہمیت ایک اکیلے شہباز گل کو دی جا رہی تھی کیوں کہ اس نے رہا ہو کر ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا اور معاشی طور پر خودمختار کرنا تھا اس سارے عمل کے دوران لوگوں کی توجہ متاثرین سیلاب سے ہٹا کر متاثرین سیاست کی طرف لگا دی گئی ۔

    اپنی ذمہ داریوں کا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں جبکہ اس دوران بین الاقوامی برادری کو سیلاب متاثرین کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا اور امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی امداد سیلاب متاثرین کے لئے دے دی اور شاید بعد میں دس لاکھ ڈالر کی مزید امداد دی یا دس لاکھ ڈالر کی امداد قدرتی آفات سے نبٹنے کے لئے پہلے سے مختص تھی اور اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر مزید امداد دی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب ہمیں امداد مل گئی ہے اور سیلاب کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    تو اس امداد کے ذریعے حکومت اب پورے دل سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوشش کرے گی اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے گی اور بچنے والے پیسوں سے اپنے اردگرد موجود مستحق لوگوں کی امداد کرے گی جو ہر اچھے وقت میں ان کے ساتھی ہیں اس اب کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں بھکاری نہیں لیکن اگر قدرت کسی کے دل میں رحم ڈال اور وہ ہمیں ہدیہ دے تو ہم ہدیہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ہدیہ قبول نہ کرنا کفران نعمت ہے ۔

  • سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    سیاسی ڈائری — نعمان سلطان

    عمران خان نے شہباز گل پر جنسی تشدد کا الزام لگا دیا، جنسی تشدد کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے ملک میں اسے مخصوص تناظر میں دیکھا جاتا ہے جبکہ نازک اعضاء کو اذیت پہنچانا بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اور ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کے راہنما کی طرف سے ایسا الزام یہ بتاتا ہے کہ اب مفاہمتی سیاست ختم کر کے جارحانہ سیاست شروع کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے اور پاکستانی سیاست آنے والے دنوں میں مزید غلیظ ہو گی_

    یہ ایسا الزام ہے جو مسلم لیگ کی جلدی جلدی جان نہیں چھوڑے گا شہباز گل کی گرفتاری اور ان پر تشدد کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں فتح کے بعد انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں پنجاب کا صوبائی وزیر داخلہ بنا دیا جائے تاکہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران جو لوگ بھی پی ٹی آئی کے کارکنان پر تشدد میں ملوث رہے ان کے خلاف کارروائی کر سکیں _

    لیکن ان پر ہی تشدد کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا عمران خان نے رجیم چینج کے بیانیے پر جس طرح عوام میں جوش اور ولولہ پیدا کیا تھا شہباز گل والے واقعے سے اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان مزید متحرک ہو گئے ہیں اور اس سارے معاملے میں حکومتی وزراء کے بوکھلاہٹ والے بیانات سن کر لگتا ہے کہ شہباز گل والے معاملے میں ان کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا_

    وہ میڈیا پر بیٹھ کر خود تسلیم کر رہے ہیں کہ "شہباز گل وہ طوطا ہے جس میں عمران خان کی جان ہے”، ان بیانات کو لے کر عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت عمران خان کو جھکانے یا بلیک میل کرنے کے لئے اب انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے اور حکومت اپنے اقدامات سے خود پی ٹی آئی کو مظلوم اور خود کو ظالم ثابت کر رہی ہے _

    انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی ملنے والے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد گجرات کے پہلے دورے پر انہوں نے کنجاہ اور جلال پور جٹاں کو تحصیل بنانے کا اعلان کر کے وہاں کے لوگوں کو اپنے حق میں کر لیا اس کے علاوہ متعدد سکول، کالج اور ہسپتال اپ گریڈ کرنے کا حکم دیا جبکہ تمام ڈویژن میں سیف سٹی نظام لانے کا اعلان کیاان اقدامات کی وجہ سے ان کی اپنے علاقے میں سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی جبکہ ایجوکیٹرز کی 16000 خالی سیٹوں پر بھرتی کے اعلان کی وجہ سے انہیں سرکاری ملازمین کی مزید حمایت حاصل ہو گئی_

    مسلم لیگ کی موجودہ معاملات میں نالائقی کھل کر سامنے آ رہی ہے سیاسی معاملات میں وہ عمران خان کے بیانیے کا مقابلہ نہیں کر پا رہے جبکہ انتظامی معاملات میں پرویز الٰہی کے انقلابی اقدامات ان کے لئے سردرد بنے ہوئے ہیں مسلم لیگ میں موجود ایک گروپ نے بڑی محنت سے عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی سے زیادہ قابل ہیں بس انہیں موقع نہیں مل رہا اور اب موقع ملنے پر وہ اپنی قابلیت کے ایسے جوہر دکھا رہے ہیں کہ مسلم لیگ میں موجود ان کے حمایتی ملک اور جماعت کی بہتری کے لئے اب نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔

    اصل میں شہباز شریف صاحب ون مین آرمی مشہور ہیں وہ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں جبکہ نواز شریف صاحب اپنے اردگرد موجود لوگوں سے ان کی قابلیت کے مطابق کام لیتے تھے اس وجہ سے ان کے اردگرد موجود لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نواز شریف کے لئے اہم ہیں جبکہ شہباز شریف صاحب سے انہیں شکایت ہے کہ وہ انہیں ان کی قابلیت کے مطابق مقام نہیں دے رہے_

    وہ سوچتے ہیں جب سب اچھے کاموں کا کریڈٹ شہباز شریف کو ملنا ہے اور بعد میں انکوائریاں ہم نے بھگتنی ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنی جان کو عذاب دیں سیاسی جب تک اقتدار میں ہیں عیاشی کرتے ہیں اپوزیشن میں ہوں تو انکوائری ہونے کی صورت میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں جبکہ دوبارہ حکومت میں آ کر اپنے خلاف بنے کیس ختم کر لیتے ہیں جبکہ ہمیں حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا الٹا باقی نوکری بھی کھڈے لائن اور انکوائریاں بھگتنے میں گزرتی ہے_

    اگر شہباز شریف صاحب محکموں سے کام لینا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمین کو اعتماد اور تحفظ دیں کہ ان کے احکامات اور منظوری پر سرکاری جو بھی کام کریں گے ان کی ذمہ داری وزیراعظم اٹھائیں گے اور وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ان کی قابلیت کے مطابق اہمیت دیں نہیں تو وہ ساری عمر پچھتائیں گے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیر اعظم بن کے انہوں نے ایک گناہ بےلذت کیا _

  • مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    مولانا اسعد محمود، مشرف دور اور ایم ایم اے — نعمان سلطان

    14 اگست کی مناسبت سے منعقد کی گئی ایک تقریب جس میں رنگا رنگ موسیقی کے پروگرام پیش کئے گئے، اس تقریب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کی شمولیت اور ناچ گانے کے دوران تقریب کا بائیکاٹ نہ کرنے کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، پاکستان میں "مفتی قوی” جیسے بھی افراد موجود ہیں لیکن ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں وہ جیسے اندر سے ہیں ویسا ہی خود کو بیان کرتے ہیں، لیکن ایسی جماعت جو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا دعویٰ کر رہی ہو اور تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں کے دوران موسیقی کے استعمال اور عورتوں کی بے پردگی پر شدید تنقید کرتی ہو، اس کے مولانا فضل الرحمن کے بعد متوقع سربراہ کی طرف ایسی حرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے پیش نظر اسلام نہیں اسلام آباد ہے اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے وہ ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔

    ویسے مذہبی جماعتوں کے اکابرین کی طرف سے ہونے والی یہ پہلی منافقت نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ان کے قول و فعل کا تضاد سامنے آیا لیکن افسوس ہماری کمزور یاداشت یا اندھی عقیدت کہ ہم پھر دوبارہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ان نام نہاد مذہبی اکابرین سے دھوکہ کھاتے ہیں، حالانکہ پرویز مشرف کے دور میں تمام مذہبی سیاسی جماعتیں لوگوں کے سامنے بے نقاب ہو چکی تھی، لگے ہاتھوں آپ کو تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے اکابرین کا وہ واقعہ بھی بتا دیتے ہیں تا کہ نوجوان نسل کو معلوم ہو کہ کیسے یہ لوگ ہمیں اسلام کے نام پر لوٹ رہے ہیں ۔

    پاکستان میں مسلکی بنیاد پر تنازعات اپنے عروج پر تھے، ہر شخص کی نظر میں اس کا مسلک ٹھیک اور ان کے مسلکی عالم حق تھے، اہلحدیث، سنی(بریلوی) اور دیگر چھوٹے مسالک کے علماء ایک حدسے زیادہ اختلافات کو بڑھاوا نہیں دیتے تھے، جبکہ شیعہ اور دیوبندی مسالک میں نظریاتی اختلاف عروج پر پہنچا ہوا تھا اور بات منبر و محراب سے بڑھ کر لڑائی جھگڑوں اور مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے تک پہنچ گئی تھی، البتہ ایک شرعی مسئلے میں تمام مسالک کا اتفاق تھا کہ "مخالف فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی ” ۔

    علماء کی بات لوگوں کی نظروں میں حرف آخر تھی اور علماء کی منبر پر کئی گئی تقریروں کی بنیاد پر لوگوں کے ایمان کے فیصلے ہوتے تھے، ان حالات میں اہل دانش کا خیال تھا کہ لوگوں کو اس اندھی تقلید سے نجات دلانا ناممکن ہے، ایسے عالم میں مسند اقتدار پرویز مشرف صاحب نے سنبھالی اور ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا، انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں دینی جماعتوں نے مل کر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    علماء کرام نے خطبات میں عوام سے درخواست کرنا شروع کر دی کہ ووٹ ایک امانت ہے اور امانت کو اس کے اہل (حق دار) کے حوالے کرنا آپ کا شرعی فرض ہے چنانچہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دے کر کامیاب کریں تا کہ وہ کامیاب ہو کر ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں، اس سارے عمل کے دوران تمام علماء کرام نے متفقہ طور پر منبر و محراب کو سیاسی جماعتوں کی ترویج کے لئے استعمال کیا اور انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ بنا دیا۔

    جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو متحدہ مجلس عمل کو بھی معقول تعداد میں قومی اسمبلی میں نمائندگی ملی جبکہ صوبہ سرحد (خیبر پختون خواہ) میں ان کی حکومت بنی، حکومت میں آنے کے بعد متحدہ مجلس عمل کے بارے میں اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے لگی کہ "متحدہ مجلس عمل کے اجلاس کے دوران نماز کا وقت ہونے پر تمام اکابرین نے فلاں(ہر نماز میں امام بدلتا تھا) کی امامت نماز ادا کی "، میں نے جب اپنے مقامی عالم دین (مفتی صاحب) سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے کہ دوسرے فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی تو اب یہ جو تمام فرقوں کے اکابرین ایک دوسرے کی امامت میں نمازیں پڑھ رہے ہیں اور اخبارات میں خود کہہ کر یہ خبریں لگوا رہے ہیں کیا یہ منافقت نہیں۔

    تو انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا یہ مفاد پرست ہوتے ہیں، تو میں نے انہیں کہا کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ یہ سیاسی لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں تو آپ نے انتخابات سے پہلے نماز جمعہ کے اجتماعات میں دین بیان کرنے کے بجائے ان لوگوں کی حمایت میں تقریریں کیوں کیں اور لوگوں کو کیوں کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے انہیں ووٹ دو، وہ دن اور آج کا دن مفتی صاحب مجھ سے ناراض ہو گئے اور دوبارہ کلام ہی نہیں کیا ۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں احکامات دین پر عمل کرنا چاہیے لیکن ان نام نہاد علماء کے بہکاوے میں آ کر لوگوں کے ایمان کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے ہم دنیا میں اللہ کی بندگی کے لئے آئے ہیں اللہ کی مخلوق کا ایمان چیک کرنے کے لئے نہیں، اس لئے آج کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جس نے اس دور فتن میں اپنے ایمان کو سلامت رکھا، باقی یہ نام نہاد علماء اس یقین پر گناہ کرتے رہتے ہیں کہ اللہ سے توبہ کرو تو اللہ معاف کر دیتا ہے پر وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا انہیں آخری وقت میں توبہ کرنے کی مہلت ملے گی بھی یا نہیں ۔