Baaghi TV

Category: سیاست

  • آزادی پاکستان  ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    آزادی پاکستان ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    خون کی وہ لکیر جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے علیحدہ وطن کا نقشہ کھینچا اور جن کے صدقے میں ہم آزاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں۔

    آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جنھوں نے کچھ کھویا ہوتا ہے یا جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کے جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔

    کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہیے کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔

    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔

    ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔

    14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے,پورا سال قوم پرستی فرقہ پرستی اور لیڈر پرستی میں بٹے یہ لوگ آزادی کے دن پاکستان کا پرچم ہاتھ میں پکڑے گلی گلی نعرے لگا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے فرض ادا کر دیا ہمارا کام گاڑی بائیک پہ بیٹھ کر محلے کے دو چکر لگانا اور باجے بجانا تھا بس.جبکہ 14 اگست کو سڑکوں پہ ڈھول تھاپ پہ جشن منانے والو کو آزادی کے وقت کی تصویریں دیکھاٸیں تو ان کو پتہ چلے کہ یہ دن ناچنے کا نہیں بلکہ شکرانے کے نوافل ادا کا دن ہے ،وہ آزادی جس کو ہم نے فراموش کر دیا غور سے دیکهیں ہم نے آزادی کیسے حاصل کی تهی.

  • ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    بہت عرصہ پہلے ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام آتا تھا "man vs wild” ، اس میں ایک شخص کو کسی قسم کے حفاظتی انتظامات اور زندہ رہنے کے لئے درکار اشیاء کے بغیر صحرا، جنگل، پہاڑوں کی چوٹیوں، برفانی علاقوں اور ویرانوں میں الغرض جہاں کسی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہو چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے ساتھ اس کی ٹیم کے دو یا تین ممبران ہوتے تھے جن کا کام صرف اس کی مشکلات سے مقابلہ کرنے کی کوشش، دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی صلاحیت اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کسی قسم کی مشکل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقررہ وقت میں مقررہ جگہ پر صحیح سلامت پہنچنے کی عکس بندی کرنا تھا تا کہ وہ لوگ جو مشکلات میں پھنس کر ناامید ہو جاتے ہیں ان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی امنگ پیدا ہو.

    بظاہر جو سیاسی حالات نظر آ رہے ہیں اس وقت نوجوان نسل تحریک انصاف کے سحر میں گرفتار ہے، رہی سہی کسر مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے پوری کر دی ملک کے معاشی حالات ساڑھے تین سال میں جتنے خراب ہوئے انہوں نے چند مہینوں میں اس سے زیادہ خراب کر دیئے، عوام کے ذہن میں ایک تاثر مسلم لیگ نے بڑی محنت سے بنایا تھا کہ شہباز شریف "بہترین ایڈمنسٹریٹر” ہیں لیکن ان چند مہینوں میں ہونے والی خراب معاشی صورتحال اور غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار نے یہ تاثر ختم کر دیا لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ملک میں معاشی بحران تھا تو آپ تحریک عدم اعتماد کیوں لائے جب اسمبلی تحلیل ہو گئی تھی تو نئے الیکشن کی طرف کیوں نہیں گئے اور عوام سے فریش مینڈیٹ کیوں نہیں لیا ۔

    اس ساری صورتحال کا تحریک انصاف نے فائدہ اٹھایا اور عوام میں اپنا "رجیم چینج” کا بیانیہ مقبول کرایا، لوگوں کو یہ باور کرایا کہ ملک کی معاشی صورتحال ہمارے دور میں بہتری کی طرف گامزن ہو چکی تھی لیکن "رجیم چینج "کی وجہ سے حکومت تبدیل ہوئی اور ملکی ترقی کر ریورس گئیر لگ گیا وفاقی حکومت کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے جلتی پر تیل گرتا گیا اور مسلم لیگ کی مقبولیت میں کمی اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا ۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ فی الحال الیکشن کی صورت میں اپنے مقبول عوامی بیانیے کی وجہ سے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اب "man vs wild” کی طرح تحریک انصاف (الیکشن میں کامیابی کی صورت میں) اداروں کے لئے دستیاب ٹول(اوزار) بن گئی ہے، جس کو صحیح استعمال کر کے ہم ملک کو دوبارہ معاشی ترقی کی پٹری پر چڑھا سکتے ہیں، یاد رہے کہ اوزار بذات خود کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ یہ اسے استعمال کرنے والے کاریگر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس اوزار کا مثبت استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نفع بخش بناتا ہے یا منفی استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نقصان دہ بناتا ہے، ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسے کسی کام کی حمایت نہیں کرے گی جو ملکی مفاد کے خلاف ہو اور ان کی حب الوطنی کسی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔

    اس وقت ہم معاشی بحران کا شکار ہیں اس سے نکلنے کی صورت صرف یہ ہے کہ مضبوط سیاسی حکومت ہو اور پالیسیوں کا تسلسل ہو، مضبوط سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی افراتفری کا خاتمہ ہو گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا تو وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں گے اس کے علاوہ اس سیاسی جماعت کے پاس پانچ سال کا وقت ہو گا تو وہ شروع کے سال میں سخت معاشی فیصلے بھی بآسانی کر لے گی جس کے ثمرات عوام کو وہ اپنی حکومت کے آخری سال میں دے کر عوامی حمایت حاصل کر لے گی اور پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے آنے والی حکومت کو نئے سرے سے پالیسیاں نہیں بنانا پڑیں گی اور یہی وقت حکومت دیگر ملکی امور میں صرف کر لے گی۔

    اگر "man vs wild” میں ایک شخص کسی قسم کی بیرونی مدد کے بغیر مشکلات سے بخیر و عافیت نکل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے تو ہمیں قدرت نے ہر طرح کے وسائل سے نوازا ہے ہم بھی متحد ہو کر ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اپنی ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ ہم ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر اکثریت کی رائے کو اہمیت دیں جیسے پاکستان ایک فرد واحد کی جدوجہد سے نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد سے حاصل ہوا ایسے ہی ہم بحیثیت قوم ترقی بھی اجتماعی جدوجہد سے ہی کر سکتے ہیں، اس وقت تحریک انصاف کو بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہو گئی ہے اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اعتماد میں لے کر مستقبل کے فیصلے کئے جائیں تا کہ باہمی اعتماد پیدا ہو جس کے خوشگوار اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مرتب ہوں گے ۔

  • آزادی کے75سال:تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک داستان

    آزادی کے75سال:تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک داستان

    آزادی کے75سال
    آج پاکستانی قوم اپنےعزمِ عالیشان سے مُنسلِک سُنہری تاریخ کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہے۔ وہ عَزم جِس کی بنیاد تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک ہے۔ آزادی لہو کا خراج مانگتی ہے،آزادی کے ان75سالوں میں ہم نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا۔

    ان گُزرے سالوں میں ہم پر دہشت اور خوف مُسلط کرنے ہمیں تقسیم اور کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی مگر پاکستانی قوم اور اِس کے محافظوں دشمن کے سامنے سینہ سَپر رہے۔Terrorism سےTourism کے اس طویل سفرمیں قوم اور افواجِ پاکستان نے اپنے خُون سے امن کی ایک لازوال داستان رقم کی ہے۔

    جدید سامانِ ضرب و حرب سے لیس، ہماری مسلح افواج دفاعِ وطن کی ضمانت ہیں۔

    قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پاکستانی قوم نے لازوال قربانیاں دے کر وطنِ عزیز کی اپنے خون سے آبیاری کی ہے۔ پوری قوم نے سیکورٹی فورسز کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے۔ جس کا اعتراف اقوامِ عالم نے کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک Hard Earned Successہے جس میں 46ہزار سے زائد مربع کلو میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروایا گیا۔ اس دوران 18ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے، 449ٹن بارودی مواد کو تلف کیا گیا۔

    سوات سے دہشتگردی کےخاتمے تک کا مرحلہ ہو یا2005کا زلزلہ،2010کا سیلاب ہو یا سانحہAPSپشاور، فروری2019کی بھارتی جارحیت ہو یا پھر صدی کی مہلک ترین وَبا کرونا، پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے مل کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ کمانڈر کلبھوشن ہو یا وِنگ کمانڈر ابھی نندن،سربجیت سنگھ ہویا چندو بابو لال افواجِ پاکستان نے دُشمن کی ہر ساز ش کو ناکام بنا کر ہمیشہ قوم کاسر فخر سے بُلند کیا ہے۔

    27فروری کا دِن ہماری تاریخ میں ایک اور روشن باب ہے جس پر ہر پاکستانی کو بجا طور پرفخر ہے۔ مسلح افواج نے عِلاقائی امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام کے لئے 163قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جو عالمی امن اور سلامتی کے لئے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔

    سبز ہلالی پرچم میں موجود سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ہماری اقلیتی برادری نے وطن کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔وطنِ عزیز کو درپیش ہر کٹھن گھڑی میں یہ صف اول میں اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ افواجِ پاکستان میں اقلیتی جانثاروں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے دِفاع وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔سر وکٹر ٹرنر، Robert Cornelius، چندو لال، فاسٹن ایلمر،سیسل ایڈورڈ گِبن، جمشید نُسرنجی مہتا کے ساتھ ساتھ، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، رانا بھگوان داس، جگدیش چن آنند، پروفیسر ڈاکٹر بھوانی شنکر چوہدری، ونگ کمانڈرMervyn Middlecoat اور اَنگنت گُمنام ہیروز کو جنہوں نے پاکستان بنانے اور اِس کے دِفاع کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔

    پا ک فوج میں ترقی پانے والے لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر اَنیل کُماراورلیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر کیلاش کُمار کی مثال دُنیا کےسامنے ہے۔ اہل وطن، بَجا طور پر اَپنے اقلیتی بھائیوں اور بہنوں پر فخر کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان نے کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دیں۔

    ہاکی کے میدان میں بریگیڈئیر محمد ظہیر اختر نے CISMمقابلوں کے دوران برونز کا تمغہ، نائب صوبیدار محمد عمران نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے،2چاندی اور 1کانسی کا تمغہ، نائب صوبیدار رضوان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے اور1چاندی کا تمغہ جبکہ نائیک کاشف علی نے ڈھاکہ میں ساؤتھ ایشن گیمز کے دوران سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

    باکسنگ کے میدان میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ برکت حسین اور صوبیدار ریٹائر صفدر حسین نے ایک ایک سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ محمد صداقت نے 5سونے،1چاندی اور3کانسی کے تمغے، ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ نادر خان نے2سونے اور2چاندی، مس نسیم حمید نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1چاندی، صوبیدار ظفر اقبال نے کولمبو اور ڈھاکہ میں 2سونے اور2چاندی کے تمغہ جبکہ نائب صوبیدار بشارت علی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغے حاصل کئے۔

    غوطہ خوری کے مقابلوں میں مس لیانہ ساون نے بھارت میں 1سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ، مس کرن خان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 1سونے،1چاندی اور4کانسی کے تمغے جبکہ مس بسمہ خان نے بھارت میں 1چاندی اور4کانسی کے تمغے اپنے نام کئے۔ریسٹلنگ کے مقابلوں میں سپاہی اظہر حسین نے 1سونے اور1چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ سکواش کے میدان میں عباس شوکت نے1سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

    Volleyballکے مقابلے میں کرنل ریٹائرڈ قیصر مصطفی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغہ اپنے نام کئے۔جوڈو کراٹے کے کھیل میں مس فوزیہ ممتاز نے ڈھاکہ اور بھارت میں 2سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ جبکہ مس سارہ ناصر نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1کانسی کا تمغہ جیتا۔کبڈی کے کھیل میں پاکستان آرمی کی ٹیم نےAsian Beach Games 2016میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔Machine Rowingکے مقابلوں کے دوران نائب صوبیدار مقبول علی نے3ایشین سونے کے تمغے اپنے نا م کئے۔

  • ریاست مدینہ کا دعویدار کرسی کی محبت میں جھک گیا،تحریر، نوید بلوچ

    ریاست مدینہ کا دعویدار کرسی کی محبت میں جھک گیا،تحریر، نوید بلوچ

    کرسی کی محبت بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے ۔ اقتدار ہاتھ میں آتا ہے تو انسان خود کو زمینی خدا سمجھنے لگتا ہے۔ اسے مضبوط کرنے کا ہر حربہ اپنایا جا تا ہے ۔ وہ عام لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اپنا ہر حکم ان پہ صادر کرتا ہے اور جو حکم عدولی کرتا ہے ، جو آگے سر نہیں جھکاتا اسے سزا دی جاتی ہے ۔اس کےلیےزمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ لیکن اقتدار کی کرسی آج تک کسی کی سگی نہیں رہی ۔ آج جو پنچھی ایک منڈیر پہ بیٹھے ہیں کل کو کہیں اور بیٹھیں ہونگے۔ آج یہ ایک کے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہو گی ۔ آج جو حکومتی بینچ بجا رہے ہیں کل کو حذب اختلاف کی کرسیوں پر سوگوار بیٹھے ہونگے ۔ اور جب کرسی ہاتھ سے جاتی دکھائی دے گی تو ہاتھ پاوں ماریں گے لیکن حاصل کچھ نہیں ہو گا۔

    یہی حال عمران خان کا تھا۔ حصول اقتدار سے پہلے ان کے تیور الگ تھے ۔ ان کے نزدیک جمہوریت میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام تھے ۔ ان کے نزدیک پاکستان کے سارے مسائل کا حل تحریک انصاف کی حکومت آنے میں نہاں تھا۔ اور پھر ان کی حکومت بھی آ گئی ۔ جس طرح حکومت آئی اور جیسے جہاز بھر بھر کر بنی گالا کو سیاسی رن وے بنایا گیا اس فسانے کو کسی اور دن چھیڑیں گے ۔ حکومت ہاتھ میں آئی تو پتہ چلا کہ جس ملک کو ٹھیک کرنے کا نوے دن کاخواب دکھایا گیا اس کی تعبیر ہی ممکن نہیں ۔ پھر ہونا کیا تھا ، تجربات پر تجربات کیے گئے ۔ پہلے اسد عمر کو لایا گیا جب ان سے کچھ نہ بنا تو تین اور تجربے کیے گئے لیکن معیشت کی صورتحال پھر بھی جوں کی تو ں ہی رہی ۔ جس آئی ایم ایف کے پاس جانا ملک کی عزت میں کمی تصور کیا جاتا تھا، اس کے پاس سب سے زیادہ بار جایا گیا ۔ ریکارڈ قرضے لیے گئے لیکن معیشت کی حالت جوں کی توں ہی رہی ۔اس پہ ستم یہ کہ ہمیں آئی ایم ایف سے وعدہ شکن حکمران کا ایک لقب بھی مل گیا ۔ اس کے بعد وقت بدلا اور حالات نے انگڑائی لی ۔

    پی ڈی ایم نام کا ایک سیاسی اکٹھ ہوا جس کا مقصد ملک کو عمران حکومت سے چھٹکارا دینا تھا۔ لانگ مارچ ہوئے ، آزادی مارچ ہوئے ، مہنگائی مارچ ہوئے اور سال کی مشقت کے بعد پی ڈی ایم اپنے عزائم میں کامیاب ہوئی۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ لیکن عمران خان نے اقتدار کو طول دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور وہی ہوا۔ اسد قیصر اور قاسم سوری کی شکل میں دو پیادے میدان میں اتارے گئے اور ان سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کوئی چال کامیاب نہ ہوئی ۔ الٹا ان پہ وعدہ شکن کے بعد آئین شکن کا بھی ٹھپہ لگ گیا ۔ جو تاریخ کے اوراق کی زینت بنے گا اور ہمیشہ تحریک انصاف کے تاریک ماضی میں یاد کیا جائے گا۔

    یہ کرسی ہی کی لالچ ہے جو انسان کو آئین تک سے کھلواڑ کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔ طاقت کے نشے میں چور انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جو وہ قدم اٹھانے جا رہا ہے اس کا مستقبل میں کیا انجام ہو سکتا ہے ۔ اس سے ملک کے عوام کس کرب سے گزریں گے ۔ اور پھر وہی ہوا۔ اس سارے سیاسی سرکس کی وجہ سے نقصان صرف عام عوام کو اٹھانا پڑا۔ معیشت کا حال بد سے بدترین ہوتا چلا گیا۔ ڈالر کا ریٹ آسمانوں پر پہنچ گیا ۔ لوگ گھریلو استعمال کی چیزیں تک خریدنے سے قاصر ہو گئے ۔ ملک میں ڈیفالٹ کا خطرہ اتنا بڑھ گیا کہ معیشت پر نظر رکھنے والے اداروں نے ہمیں عنقریب ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر لا کر کھڑا کر دیا ۔

    اس کے باوجود بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ عمران خان اقتدار حاصل کرنے کےلیے ایک بار پھر وہی کام کر رہے ہیں جو انھوں نے 2011 سے شروع کیا۔ یعنی ایک ایسی سیڑھی کی تلاش جو با آسانی اقتدار تک پہنچا دے۔ وہ ایک بار پھر سے اپنے سارے سیاسی اصولوں کو پیروں تلے روند رہے ہیں ۔ جس امریکی سازش کا اتنا واویلا مچایا گیا ، جس امریکی سازش کے بیانیے سے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں حریفوں کو چاروں شانے چت کر دیا گیا۔ اب اسی امریکہ سے پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں ۔

    ملک کے دو بڑے صوبوں میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ان دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ امریکی سفیروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں ۔ پرویز الہیٰ امریکہ سے بہترین تعلقات رکھنے کا بیان بھی داغ دیتے ہیں ۔ ایک اور حیران کن بات یہ بھی ہے کہ امریکہ کے قونصل جنرل پرویز الہیٰ کے دربار پر ان کے وزیر اعلیٰ بننے کی مبارکباد دینے کےلیے حاضری دیتے ہیں ۔ اب آپ خود بتائیں کہ جو آپ کی حکومت کے دشمن ہوں وہ آپ کو منصب سنبھالنے کی مبارکباد کیوں دیں گے۔ کیا دال میں کچھ کالا ہے یا پوری دال ہی کالی ہے ؟

    بات یہیں تک نہیں رہتی بلکہ اب تو یہ چہ مہ گوئیاں بھی ہونے لگ گئی ہیں کہ جب امریکی سفیر کی خیبر پختونخواہ انٹری ہوئی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے وچولے کا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان اور امریکی سفیر کی ٹیلی فون پر بات کرائی۔اس سے بڑا انکشاف کل رات ہوا۔ کل مبینہ طور پر کچھ دستاویزات سامنے آئیں جن میں تحریک انصاف نے ایک کمپنی کو پیسے دیے اور ان کے ذمے یہ کام سونپا گیا کہ وہ امریکی صدر جوبائیڈن سے تحریک انصاف کے خراب تعلقات بہتر کرنے میں مدد کریں ۔

    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی عمران خان اپنے ایک قریبی ساتھی کو امریکہ سے صلح صفائی کا کہہ چکے ہیں اور جب یہ بات سامنے آئی تو نہ تو اس کی تردید کی گئی اور نہ تصدیق۔ خاموشی کا مطلب مشرقی معاشرے میں عمومی طور پر ہاں سمجھا جاتا ہے ۔ اگر یہاں بھی اس کا مطلب ہاں ہے تو مبارک ہو آپ کو۔ ریاست مدینہ کا دعویدار ایک بار پھر کرسی کی محبت میں گھٹنے ٹیک چکا ہے ۔ ریاست مدینہ کا داعی ایک با ر پھر اپنے سارے اصولوں کی بھینٹ چڑھا چکا ہے ۔ اور نہ جانے کتنوں کی بھینٹ چڑھانی باقی ہے ۔:

  • مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    جب بھی کسی جماعت کی حکومت آتی ہے وہ دوسری جماعت کیلئے ایک نئی اور لمبی فہرست بنا لیتی ہے کہ اس کو کس کس طرح اور کہاں کہاں سے ڈسنا ہے کہ وہ دوبارہ برسرِ اقتدار میں نہ آسکیں اور ہم ہی ہمیشہ کیلئے اس آرام دہ سلطنت کی کرسی پر بیٹھے رہیں جس کرسی کو ہمارے خلفاء راشدین نے اپنے لیے بوجھ اور ذمہ داری سمجھا۔ آج کے حکمران جیسے ہی اقتدار میں آتے یا اقتدار پہ قابض ہونے کے قریب ہوتے ہیں تو پہلے سے ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے ہیں کہ فلاں کو نہیں چھوڑے گے فلاں نے یہ کیا تھا تو اس کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے رکھیں گے ایسے جملے ہر جماعت اپنے اقتدار میں آنے سے پہلے یا اقتدار میں دہراتی ہے اور اسی طرح ان جماعتوں کے چاہنے والوں پر بھی قربان جاؤں جب ان کے نظریات کے حامی کوئی جماعت آتی ہے تو ان کو بڑی خوشی ہوتی کہ اب بڑا مزہ آئے گا اب انکی خیر نہیں ہے پچھلے تمام بدلے اب ان سے لیں گے وغیرہ وغیرہ

    افسوس ان جماعتوں اور ان کے حامی خیالات چاہنے والوں پر، آج اگر وطن عزیز کی نازک حالت کو اگر دیکھا جائے جس میں ہمیں دوست ممالک سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں، آئی ایم ایف سے قرضے لینے پڑتے ہیں، ہر دوسری چیز امپورٹ کرنی پڑتی ہے ایسی کوئی چیز اس پیارے وطن عزیز میں نہیں بنائی جاتی جس سے ہمارے خزانے کو سہارا ملا، ہمارا وطن پاکستان ایک زراعتی خطہ جس سے ہم اپنی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک کی بھی ضروریات پوری کر سکتے ہیں لیکن بصد افسوس کہ ہم زراعتی خطہ ہونے کے باوجود ہم گندم دھاگہ، چینی، تیل اور دالیں و سبزیاں سمیت چیزوں کو امپورٹ کرتے ہیں اور ان جملہ تمام مسائل کے باوجود ہمارے حکمران ایک دوسرے کے مدمقابل ہے اور ایک دوسرے پر غداری اور طرح طرح کے فتوؤں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں، وطن عزیز میں جنگل کا قانون سا ماحول بنا دیا گیا ہے جس میں بغیر کسی تعارف و تحقیق کے کسی پر بھی کوئی فرد جرم ڈال کر اس کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے صرف و صرف اپنی ذاتی انا اور بقا کی خاطر کسی انسانیات کی پرواہ کیے بغیر اس کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے 25 مئی کو جو ہوا تھا جس میں سفید پوش گھروں کی دیواریں پھلانگی گئی، لوگوں کو بغیر کسی تحقیق کے مارا پیٹا گیا اور ان کو صرف اس بنیاد پر ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کا تعلق کسی دوسری جماعت سے تھا اور آج پھر تمام تر وطن عزیز کے مسائل کے باوجود صرف و صرف ایک دوسرے کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دی جا رہی ہے کہ فلاں پنجاب میں گھسے گا تو فوراً پکڑا جائے گا تو فلاں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوگا تو وہ کسی جرم میں شامل ہوجائے گا، شہباز گل کا بیان ہماری دفاع کے بارے میں بالکل سو فیصد غلط ہے اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا اس کو جس طرح پکڑا گیا کیا یہ کسی آئینی معاشرے میں ایسا ہوتا ہے؟ ایسے لگتا ہے ہم کسی جنگل میں رہ رہیں جس میں جس کا جی چاہتا ہے وہ دوسرے کو نوچ لیتا ہے اور اپنی بھوک کو میٹا لیتا ہے، نہ کسی کو آئین کی فکر نہ کسی قانون کی بس سب ہی اپنے آپ کو آئین اور قانون سمجھتے ہیں اور قانون کو ہاتھ میں لیے ہر بندہ اپنے اختیار میں اسکی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

  • آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی  امان اچ رکھے

    آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے

    مجھے شروع سے ناول پڑھنا بے حد پسند تھا کیونکہ میری دلچسپی محض قصہ کہانیوں تک محدود تھی لیکن پھر مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کتابیں تو ویسے بھی پڑھتی ہیں لیکن آپ کی سوچ صرف فروئی قصہ کہانیوں تک ہی محدود ہے لہذا آپ سیاست کو پڑھیں اسکے جواب میں میں نے انہیں کہا "آپ مجھے کچھ ایسی کتابیں بھجوا سکتے جو کسی دلچسپ اور بہادر انسان کے بارے میں لکھی گئیں ہوں” پس انہوں نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں لکھی گئی متعدد کتابیں بھیج دیں، یقین مانیں یہ کتابیں اتنی دلچسپ تھی کہ ان کے سحر میں میں ڈوبتی چلی گئی اور یوں مجھے سیاست کے بارے میں مزید جاننے کی دلچسپی پیدا ہوگئی بہرحال آج میں قارئین کی نظر ذولفقارعلی بھٹو کا ایک دلچسپ واقعہ پیش کرنا چاہتی ہوں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی قیوم نظامی اپنی کتاب "جو دیکھا جو سنا” میں الطاف حسین قریشی کی زبانی غریبوں اور بے بس لوگوں سے بھٹو کی محبت کا ایک واقعہ جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بیان کرتے ہیں.
    یہ تقریبا 1975 کے موسم سرما کی بات ہے، جب وفاقی حکومت کے ایک آفیسر الطاف حسین اس وقت کے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دورہ پر گئے ہوئے تھے۔

    جس بنگلے میں الطاف کو ٹھہرایا گیا تھا اس کے ساتھ والا بنگلہ کمشنر ہاؤس تھا، الطاف روزانہ صبح سویرے مختلف علاقوں کے دورے پر نکل جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آجاتے لیکن ایک شام جب وہ رہایش گاہ پر واپس آیا اور رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے سے بنگلہ کے گیٹ تک چہل قدمی کر رہے تھے تو رات نو بجے کے قریب ہوٹر کی آواز سنی، چوکیدار سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وزیراعظم بھٹو دورے پر آج ہی آئے ہیں اور وہ کمشنر ہاؤس میں قیام پذیر ہیں لہذا اس وقت وہ کسی سرکاری عشائیہ سے واپس آ رہے ہیں۔

    1044277

    الطاف حسین کہتے ہیں کہ: میں گیٹ پر کھڑا ہوگیا اور چند لمحوں میں وزیراعظم کی گاڑی گیٹ کے قریب پہنچ گئی چونکہ گاڑی کو ساتھ والے گیٹ کے اندر جانا تھا اس لیے اس کی رفتار بھی بہت کم تھی لہذا گاڑی جب میرے قریب سے گزری تو میں نے ویسے ہی ہاتھ ہلا دیا حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ اتنا اندھیرا ہے بھلا اس میں وزیراعظم مجھ پر کہاں توجہ دیں گے لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب وہ گاڑی گیٹ پر ہی رک گئی اور ان کا ملٹری سیکرٹری گاڑی سے اتر کر میری طرف قدم اٹھانے لگا۔

    الطاف حسین مزید کہتے ہیں کہ: میرے قریب ٹہرے جونیئر افسر یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے اور بھاگ کر اندر چلے گئے بہرحال ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اور پوچھا "آپ الطاف قریشی ہیں؟” میرے اقرار پر کہنے لگا "آپ کو وزیراعظم صاحب بلا رہے ہیں ” لہذا میں ان کے ساتھ گاڑی کے پاس گیا تو ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولا اور کہا "آو بیٹھو ” مجھے بھٹو صاحب کی آواز آئی لہذا میں سلام کرکے بیٹھ گیا۔

    گاڑی کمشنر ہاوس میں داخل ہوئی بھٹو نیچے اترے اور مجھے ساتھ لے کر کمرے میں چلے گئے، اور بیٹھتے ہی پوچھا "یہاں کیسے؟” میں نے بتایا تو پوچھا "کیا دیکھا؟” میں نے جوابا عرض کیا "غربت، افلاس اور انتظامیہ کی بے حسی ” کچھ لمحے وہ مجھے گھورتے رہے اور پھر سب کو کمرے سے باہر نکال کر مجھے کہنے لگے صبح پونے آٹھ بجے آ جاو اور ہم آٹھ بجے یہاں سے نکلیں گے اور تم جہاں چاہو مجھے لے کر جاؤ اور وہ سب کچھ دکھاؤلیکن کسی سے یہ بات مت کرنا تاکہ کسی کو اس پروگرام کا علم نہ ہو، میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

    الطاف قریشی کے مطابق: میں نے بھٹو سے پوچھا اندھیرے میں آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟ جبکہ ہمیں ملے ہوئے دو سال ہو گئے تو بھٹو کہنے لگے کہ اوے تو تو مجھے جانتا ہے نا کے میں اپنے ساتھیوں کو قبر کے اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں۔ اور پھر کہا چل اب جاؤ صبح سویر آ جانا اور کسی کو علم نہیں ہونا چاہئے. میں جی سر کہتے ہوئے بھٹو صاحب سے ہاتھ ملا کر باہر آ نا چاہا تو بھٹو صاحب نے ملٹری سیکرٹری سے اس دوران کہا کہ یہ الطاف صبح پونے آٹھ بجے آئے گا اور ہم ناشتہ ایک ساتھ کریں گے۔ میں باہر نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ میں بہت اہم آدمی ہو چکا ہوں کیونکہ ہر کوئی مجھ سے پوچھنے لگا وزیر اعظم سے کیا باتیں ہوئیں؟ نصراللہ خٹک اس وقت وزیر اعلی سرحد تھے وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ بس یونہی میری اور میرے بچوں کی خیر خیریت پوچھ رہے تھے وہ مطمئن نہ ہوئے، لیکن میں جان چھڑا کر ساتھ والی کوٹھی میں آ گیا جہاں میرا قیام تھا۔

    الطاف کے مطابق: اگلے دن میں پونے آٹھ بجے کمشنر ہاؤس ڈیرہ پہنچ گیا، وہاں بھٹو نے مجھے اندر بلوایا وہاں وزیر اعلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے تمام بڑے بڑے انتظامی افسر موجود تھے، بھٹو نے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کیا ان کا ناشتہ جوس کا ایک گلاس، آدھا انڈہ اور ایک سلائس کے ساتھ کپ چائے تھا۔

    سوا آٹھ بجے اٹھے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ ہمیں لے کر باہر نکلے اور ایک بڑی جیپ میں پیچھے بیٹھ گئے۔مجھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا اور انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ صرف اور صرف میری یعنی الطاف حسین کی ہدایت پر عمل کرے اور اسی طرف جائے جس طرف میں جانے کو کہوں جبکہ سکواڈ کو بھول جائے۔ لہذا میں نے سوچ کر فیصلہ کیا اور یوں ہم ٹانک کی طرف روانہ ہوگئے اب تو مجھے معلوم نہیں لیکن سن 1975 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تقریبا کوئی پانچ یا سات میل دور سڑک کے دونوں طرف ایسے ریتلے میدان جیسے کوئی صحرا ہو ۔

    الطاف حسین کہتے ہیں: میں نے دیکھا شہر سے تقریبا پندرہ میل دور داہنے ہاتھ، ریتلے میدان میں ایک جھونپڑی نظردکھائی دی لہذا میں نے گاڑی رکوائی اور پھر ہم سب نیچے اترے اور ریت میں چلتے ہوئے اس جھونپڑی کی طرف روانہ ہوگئے، آگے آگے بھٹو ان سے دو قدم پیچھے میں اور پھر باقی لوگ تھے۔

    ہم جھونپڑی کے باہر پہنچے تو وہاں ریت پر لکڑیاں جلائے اوپر ٹین کا بڑا سا توا رکھے ایک بوڑھی خاتون روٹیاں پکا رہی تھی اس نے اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشانی میں چلا اٹھی ، میں نے آگے بڑھ کر اسے بتایا کہ اماں ” وزیراعظم آئے ہیں ” اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے پھر کہا کہ اماں ” بادشاہ بھٹو آئے ہیں "اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے دوبارہ کہا کہ” اماں! بادشاہ بھٹو آئے ہیں”وہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور بھٹو صاحب نے آگے بڑھ کر اس میلی کچیلی اماں کو گلے لگا لیا۔

    الطاف کہتے ہیں کہ: میں نے وزیر اعظم بھٹو کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، آ میڈا "بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے ” (اردو ترجمہ: آو میرے بادشاہ رب آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے) اس نے ڈیرے وال یا سرائیکی زبان میں کہا۔

    بھٹو نے آس پاس دیکھا اور اماں سے سرائیکی زبان میں کہا "اماں بکھ لگی ہے،” روٹی ڈے سیں ؟ ( ماں بھوک لگی ہے، روٹی دوگی؟) اس نے جواب دیا: "ہا میڈا سائیں میڈا پتر ” ( جی ہاں میرا بیٹا) پھر اماں روتے ہوئے بھاگ کر اندر گئی اور میلی کچیلی چٹائی لائی اور وزیر اعظم بھٹو کو ریت پر بیٹھنے کو کہہ کردوبارہ اندر گئی اور ایک کالی سلور کی دیگچی اٹھا لائی اور اسے چولہے پر رکھ دیا، پھر سلور کی ہی پیالی میں ساگ نما چیز ڈالی اور "میڈے کول ایہو کجھ ہے سائیں” (میرے پاس یہی کچھ ہے) کہتے ہوئے چنگیر میں پڑی روٹی اور وہ سالن بھٹو کے آگے رکھ دیا۔

    بھٹو نے اماں سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اور کون رہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو اور بارہ سالہ پوتا رہتا ہے، بیٹا مزدوری کرنے ڈیرے گیا ہوا ہے، بہو پانی لینے چارکوسوں دور گئی ہوئی اور پوتا ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گیا ہوا۔

    بھٹو صاحب نے نوالہ منہ میں ڈالا تو ان کے آنسو نکل آئے سرکاری فوٹوگرافر تصویر لینے لگا تو وزیر اعظم نے کہا ” اگر اس روٹی میں ملی ہوئی ریت کی تصویر آ سکتی ہے تو میری تصویر کھینچو”۔ انہوں نے چار پانچ نوالے لیے اور پھر گھور کر نصراللہ خٹک اور دوسرے وزراء سمیت سرکاری افسروں کو انتہائی درشتی سے کہا ” آو ذرا کھا کر دکھاؤ یہ روٹی اور پھر کہا "میرے لوگوں کو روٹی نہیں ملتی اور ملتی ہے تو صرف ریت والی لہذا تم شرم کرو، خدا کا خوف کرو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟ ظالموں کچھ تو حیا کرو، جو آتا ہے خود کھا جاتے ہو، ارے کھاؤ لیکن کچھ تو ان کو بھی دو۔

    بھٹو صاحب نے اس اماں کوایک بار پھر گلے لگایا، جیب میں جو کچھ تھا نکال کر اسے یہ کہہ کر دے دیا کہ اپنے پوتے کو میری طرف سے دے دینا اور اسے سکول بھیجو تاکہ وہ ایک دن بڑا آدمی بنے، پھر وزیر اعلی کو کچھ ہدایات دیں اور ہم لوگ وہاں سے واپس چل دیئے۔

    امید ہے کہ قارئین کو بھٹو کی ایک بوڑھی ماں سے ملاقات کی یہ مختصر کہانی پسند آئی ہوگی لہذا آج بھی ہمیں ایک ایسے رہنماء کی ضرورت ہے جو غریب اور عام عوام سے دکھاوے کی ہمدردی نہ رکھتا ہو بلکہ دل سے صرف اور صرف عام عوام سے مخلص ہو.

  • جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    شیخ رشید راولپنڈی کی سیاست کی رونق ہیں لال حویلی سے کئی مرد و زن نے سیاست سیکھی ہے 1980 کے دور سے شروع ہوجاؤں تو کئی راولپنڈی کے سیاسی چہرے میرے سامنے آجاتے ہیں لال حویلی لال حویلی نہیں سیاسی مکتب گاہ کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاک فوج اور عدلیہ کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ان کے اس بیان سے سیاسی جماعتوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔ پاک فوج اور اس سے جڑے قومی سلامتی کے ادارے اور عدلیہ متنازع نہیں سیاستدان متنازع ہورہے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ کی حمایت ریاست کی حمایت ہے قومی خود مختاری وطن عزیز کی سالمیت کی حمایت ہے۔ قوم اپنے جوانوں کو کیسے بھلا سکتی ہے جو اپنے گھروں سے دور ہمارے گھروں کے راستے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے ان کا راستہ روکتے روکتے رزق خاک ہوگئے۔ یہ جوان قوم کا غرور ہیں اپنے اداروں پر قوم غرور کرتی ہے۔

    ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے انہیں جانیں نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرنا چاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کررہی ہیں قوم کو نفسانفسی میں ڈال کر ملکی اداروں کے خلاف سازش کررہی ہیں انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس منصوبے میں کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ کئی افراد شامل ہوگئے ہیں۔ منصوبہ ساز یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ پاکستان نہ تو عراق ہے نہ لیبیا نہ شام نہ افغانستان ملک کے بعض سیاستدانوں کا گورکھ دھندہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تاہم جن کو آتا ہے انہیں خوب آتا ہے ایک طرف مکار اور چالاک دشمن نے اپنے تمام محاذ وطن عزیز کے خلاف کھول رکھے ہیں دوسری طرف اندرون ملک میں انتشار کی سیاست کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہ وش کریں خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جارہے ہیں۔

    سیاستدان جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ملکی اداروں ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ اور کمزور کرنے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس جشن آزادی پر عہد کریں کہ وطن عزیز کو معاشی دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    تیسری وآخری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    واضح رہے کہ مشرف ہی کے دور میں پاکستان میں گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔افغانستان پر حملے کے وقت مبینہ طور پر بہت سے القاعدہ دہشتگرد افغان سرحد عبور کر کے شمالی وزیرستان میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں شروع میں ہی داخل ہونے سے روکا جاتا کیونکہ پھر انہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرناپڑا، جس کی زد میں سویلین عوام بھی آئے۔ ان آپریشنز کا سلسلہ 2004میں شمالی وزیرستان سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، خیبر ایجنسی تک پھیل گیا۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں نمودار ہونے والے نئے چیلنج نے ان آپریشنز کو سوات، دیر اور بونیر تک پھیلادیا۔ اس جنگ نے پاکستان کے پرامن قبائلی علاقوں میں انتشار پیدا کیا ۔جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند سالوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں بیگناہ قبائلی شہریوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور مردوخواتین اپاہج ہوئے۔جنرل مشرف کے حکم پر 26اگست 2006کوڈیرہ بگٹی میں ایک غار پر میزائل حملے میں اکبر بگٹی کو ماردیاگیا۔ اس قتل نے بلوچستان میں وہ آگ لگائی جس کے شعلے آج بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے۔لال مسجد آپریشن نے جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت کو سب سے بڑا دھچکا لگایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سربراہ نے طلبہ کو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر ابھارا تھا اور اس کا سد باب لازمی تھی لیکن پہلے تو لال مسجد میں اسلحہ بھرا جاتا رہا اور یہ سکیورٹی کی سطح پر بڑی ناکامی ہی تھی کہ اس مدرسے میں اتنا اسلحہ جمع کر لیا گیا کہ کئی دن تک فوج کا آپریشن جاری رہا تب جا کر لال مسجد clear ہو سکی۔ اس آپریشن کے حوالے سے بھی چودھری شجاعت کے مطابق بات چیت کے ذریعےحل نکالا جا چکا تھا لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ فوج کو آپریشن کا حکم دے دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مشرف نے محض اس لئے کیا کہ امریکہ اور چین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں اور لال مسجد میں اسلحے کو بلا روک ٹوک جمع ہونے دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مغرب کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نہ ہوں تو یہاں دہشتگرد قبضہ کر لیں گے۔ 28جولائی 2007 کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تقریبا ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں150 افرادکو موت کی نیند سلادیاگیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ)سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی محترمہ بے نظیربھٹو دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔27دسمبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیربھٹو لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آبادجا رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیربھٹو کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں محترمہ بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے فوراََ بعد راولپنڈی فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ کو پانی کے ذریعے دھو کر چمکا ڈالا۔ ان کا یہ عمل آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
    2018کے عام انتخابات میں سابق کرکٹرعمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سمیٹی اس طرح 17اگست 2018 کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 10 اپریل 2022 تک بطور وزیراعظم رہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی طرف سے عدم اعتمادکی کامیابی پرعمران خان کووزیراعظم ہائوس سے نکلناپڑا ۔ درحقیقت دو دہائیوں پر مشتمل اپنے سیاسی سفر میں انہوں نے لچک دکھانے، عہد کی پاسداری کرنے یا اصولوں کی پیروی کرنے کے فن کو کبھی نہیں سیکھا۔ وہ عمدگی کے ساتھ اکسانے والے، مقبول بیانئے کو قائم کرنے اور عوام کے خوابوں کی پہچان رکھنے کے ماہر تو رہے تاہم ان میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہ تھی۔ 2018 میں ان کی اقتدار میں آمد کرپشن، نوجوانوں میں بیروزگاری کا مسئلہ حل کرنے اور دنوں میں معیشت کی بحالی کے بلند بانگ وعدوں سے مامور تھی۔ بدقسمتی سے ناقص حکمرانی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے یہ وعدے کبھی پورے نہ ہو سکے۔
    آخر کارعمران خان کو اس بنا پر یاد رکھا جائے گا کہ وہ معاشی چیلنجزکا مقابلہ نہ کرسکے ،عوام کو مہنگائی کے سونامی کے سپردکردیا،ہوشربامہنگائی نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل دیا، اس پر توجہ دینے کے بجائے وہ حزب اختلاف کو نشانہ بناتے رہے۔عمران خان حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ، داخلی و بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں اور آئی ایم ایف کے معاشی بیل آٹ پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ۔ آخر میں اپنی حکومت کے خلاف خاص کر گنجان آباد اور سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں پائی جانے والی ناراضگی کا رخ موڑنے کے لیے عمران خان نے یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کی بائیڈن حکومت نے ملک میں انتقال اقتدار کے لیے پاکستان کی حزب اختلاف سے مل کر سازش کی ہے اورنیاپاکستان بنانے کیلئے اورنعرے کااضافہ کیا”کیاہم غلام ہیں۔۔؟”عوام کواس نعرے سے مسلسل بیوقوف بنارہاہے جبکہ درپردہ امریکہ سے اپنے معاملات طے کررہاہے رواں ماہ جس کی جھلک خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ محمود خان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیراعلی محمود خان نے امریکی سفیر کو صوبے کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں کے پی حکومت سے تعاون اور اشتراک پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔محمود خان نے کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس ملاقات سے قبل امریکی سفیر نے محکمہ صحت کے پی کو یو ایس ایڈ کے تحت 36ہیلتھ وہیکلز حوالے کرنے کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہیلتھ وہیکلز فراہمی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان نے امریکی سفیرسے گاڑیاں لیکر عمران کے بیانیہ کیاہم امریکہ کے غلام ہیں کواُڑاکررکھ دیاہے ۔اس ملاقات نے رجیم چینج کے غبارے سے بھی ہوانکال دی ہے۔عمران خان ہروقت اپنے مخالفین کوچورچورکہنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسی چورچورکے شورمیں الیکشن کمیشن کاممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ بھی آگیا ہے جس میں لکھاگیا ہے کہ پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوچکاہے، پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014میں دائر کیاتھا،الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ برس بعد سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،الیکشن کمیشن نے 21جون کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،فیصلے کے مطابق تحریک انصاف پارٹی نے عارف نقوی اور 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے جبکہ 8 اکانٹس کی ملکیت ظاہر کی اور 13 اکانٹس پوشیدہ رکھے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط ڈکلیئریشن جمع کرایا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اکائونٹس چھپائے، بینک اکائونٹس چھپانا آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے،13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکائونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008سے 2013تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے جبکہ ان کے پاس فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔
    اب وفاق میں سابقہ اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کی حکومت ہے جس کے وزیراعظم میاں محمدشہباشریف ہیں جوابھی تک عوام کوکچھ ڈیلیورکرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ضروریات زندگی کی تمام اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہرہوچکے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات مہنگی،گھی ،دالیں ،سبزیاں،آٹااورادویات اتنامہنگی ہوچکی ہیں کہ دیہاڑی دارمزدورسے زندہ رہنے کاحق بھی چھین لیاگیاہے۔1947سے 2022تک اس مملکت پاکستان کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے گئے۔ کرپشن دھونس دھاندلی اوربے ایمانی نے قائداعظم کے پاکستان کی معیشت کوتباہ و بربادکردیا ہے ،ایوب خان کے دورمیں 20گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں لیکن اب ان کی تعداد22ہوچکی ہے،ان کرپٹ خاندانوں کی وجہ سے مملکت پاکستان اتنامقروض ہوچکا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ،پاکستان پر جتنابھی قرض ہے وہ کسی عام پاکستانی نے نہیں لیااورنہ ہی کوئی کرپشن کی ہے اورنہ ہی قرض لی گئی رقم عام پاکستانی پر خرچ کی گئی ، قرض لی گئی تمام رقوم یہ22خاندان مختلف حیلوں بہانوں سے ہڑپ کرتے آرہے ہیں ۔یہ سب ڈاکولٹیرے حکمران جنہوں نے پاکستان کی ہرایک چیز بیچ کھائی ہے ،ان لوگوں کی دولت میں روزبروزاضافہ ہورہالیکن میراملک پاکستان مزید قرضوں کے بوجھ میں دبتاجارہاہے ،یہ انہی لوگوں کی اولادیں ہیں جن کے بارے میں میرے قائد حضرت قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایاتھاکہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔(ختم شد)

  • فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا
    باغی ٹی وی رپورٹ.سابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کیایاد رہے کہ عمران خان کے دعوے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ڈس انفو لیب بذات خود ایک ادارہ ہے جو فیک خبروں کے نیٹ ورک کو ایکسپوز کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر2019 میں ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 65 سے زائد ممالک میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس ہیں جو انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔ریسرچ گروپ ‘ڈس انفو لیب’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویب سائٹس انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔یہ ویب سائٹس امریکہ، کینیڈا، بیلجیئم اور سوٹزرلینڈ سمیت 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جا رہی ہیں۔ عالمی خبروں کی کوریج کے علاوہ ان میں سے بہت سی ویب سائٹس کشمیر کے تنازعے میں پاکستان کی کردار کشی کی غرض سے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز تیار کر کے چلاتی ہیں۔جبکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا.

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    دوسری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    1970کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اس نے قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں میں سے 160 نشستیں جیتیں تاہم مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی کارکردگی کچھ بھی نہ رہی۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں 81 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اس نے مغربی پاکستان کے صوبوں سندھ اور پنجاب میں بھی بڑے بڑے سیاسی امیدواروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ 1970 کے انتخابات میں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتوں کو ناکامی کاسامناکرناپڑا،اس دوران اقتدارکی رسہ کشی اورسازشیں جاری
    رہیں، انتخابات کے بعد سیاسی حالات ناقابل کنٹرول ہو گئے،ذوالفقارعلی بھٹونے اُدھرتم اِدھرہم کانعرہ لگایااور 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آ گیا۔20 دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحیی سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کردیا۔جنرل گل حسن کوچیف آف آرمی سٹاف بنادیا. شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔مشرقی پاکستان میں شکست پاکستانی فوج کو بیک فٹ پر لے آئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل گل حسن بھی ان کے دل سے اتر گئے اور انھیں ایک ایسے چیف کی ضرورت پڑ گئی جو آنکھیں بند کر ان کے ہر حکم کو بجا لائے۔بھٹو نے گل حسن کو برخاست کرنے کا حکم اپنے سٹینوگرافر کے بجائے اپنے ایک سینیئر ساتھی سے ٹائپ کروایا۔ جنرل گل حسن کی برخاستگی کے حکم کے بعد انھوں نے اپنے قابل اعتماد ساتھی ملک غلام مصطفی کھر سے جنرل گل حسن کے ساتھ لاہور جانے کو کہا تاکہ گل حسن سے اس وقت تک کوئی رابطہ نہ ہو جب تک کہ ان کے جانشین کی تقرری کا حکم جاری نہ ہو جائے۔اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممکنہ عہدیداروں کو ایک فرضی اجلاس کے لیے طلب کیا گیا اور انھیں اس وقت تک وہاں رکھا گیا جب تک کہ گل حسن کا استعفی نہیں لے لیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر پولیس تعینات کر دی گئی،گل حسن کے بعد بھٹو نے اپنے قابل اعتماد جنرل ٹکہ خان کو پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔کچھ ہی مہینوں میں بھٹو کا تکبر اتنا بڑھ گیا کہ انھوں نے پارٹی کے سینیئر ساتھیوں کی بھی توہین شروع کر دی۔جب ٹکاخان کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو انھوں نے بھٹو کو اپنے جانشین کے لیے ممکنہ سات لوگوں کی فہرست بھجوائی۔اس میں انھوں نے دانستہ طور پر جنرل ضیا الحق کا نام نہیں رکھا کیونکہ انھیں حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ لیکن بھٹو نے انہی کے نام پر مہر ثبت کی۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ضیا ء نے بھٹو کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔1977 میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احتجاج کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان میں کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، جو کسی کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوے دن کے اندر عام انتخابات کا وعدہ کیا۔ بعد میں انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہو سکا اور جنرل ضیاء کا اقتدار گیارہ برس سے زائد عرصے تک قائم رہا۔ اس دوران چار اپریل 1979 میں قتل کے ایک مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ضیا ء پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔1985 میں ضیا الحق نے سیاسی پارٹیوں کے بغیر پارلیمانی الیکشن کا انعقاد کرایا۔ جنرل ضیا الحق کا اقتدار اگست 1988 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے پر ختم ہوا۔ فوجی صدر اس حادثے میںجاں بحق ہو گیا تھا۔ افغان جنگ،افغان مہاجرین، ہیروئن اورکلاشنکوف کلچرجنرل ضیاء الحق کے دئے ہوئے تحفے ہیں جو آج تک پاکستان کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ 1988میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے2دسمبر1988 میں 35 سال کی عمر میں پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990 میں 20ماہ کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹوکی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990 کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر1993 میں عام انتخابات ہوئے۔ جسمیں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اوربے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھروزیراعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر سردارفاروق احمد خان لغاری نے 1996 میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بے نظیربھٹونے اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دبا ئو کی وجہ سے ایسانہ کر سکیں ،اس بات کوبے نظیر بھٹو کی پاکستان دشمنی تصور کیا گیا۔ان کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات لگے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہوئے۔اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو امریکی امداد سے پرویزمشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے۔بے نظیر بھٹو نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دے دیں گی۔ جس کے بعد وہ پاکستان کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن گئیں۔ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیرخان کو پوچھ گچھ کے لیے امریکا کے حوالے کر دیں گی۔محترمہ کے ان بیانات نے پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کر دیا۔ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کرسی کے حصول کے لیے امریکا اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک گر سکتی ہیں۔پانچ نومبر 1996 کو دوسری بے نظیر بھٹوحکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیااور اس نے ہی ان کو قتل کیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈسکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکا میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران آصف زرداری نے تقریبا دس سال قید میں کاٹے اور 2004 میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا-جبکہ یہ سب الزامات برحق تھے۔۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے مسٹرٹین پرسینٹ مشہورہوئے۔ نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔، امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف سامنے آگیا،یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔اس کتاب کے مطابق 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے سکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ
    ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔ نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پرٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔نواز شریف کی کئی آف شور کمپنیوںسامنے آئیںجن میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیسکول ، نیلسن ، اور شمروک کینام شامل ہیں، لندن میں پارک لین پر چار عظیم الشان فلیٹ بھی سامنے آئے،1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف واضح اکثریت کے ساتھ تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔03 اپریل 2016کو پانامہ لیکس کے اسکینڈل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،صحافیوں کی عالمی تنظیم ICIJ نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا ۔ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس ان کی ملکیت ہیں،پانامہ لیکس کے معاملہ پر ملک میں 6ماہ سے زیادہ عرصہ بحرانی کیفیت طاری رہی ، اپوزیشن وزیراعظم سے استعفے کامطالبہ کرتی رہی،پانامہ سیکنڈل سپریم کورٹ میں پہنچ گیا جس پربالآخر سپریم کورٹ نے 01نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر پانامہ کیس کی سماعت شروع کی اور آخر کار 23فروری 2017کوسپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔اور پھر 20 اپریل 2017کو اپناتفصیلی فیصلہ سنا یا،اس طرح سپریم کورٹ نے کرپشن ثابت ہونے اوراثاثے چھپانے پروزیراعظم نواز شریف کوتاحیات نااہل قرار دے دیا۔
    کارگل وارنے ہی نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف کو یہ اطلاعات دی جا رہی تھیں کہ جنرل مشرف ان کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ 12اکتوبر 1999کو نواز شریف نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان عہدے سے برطرف کیا تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو پابندِ سلاسل کر دیا۔ یہیں سے جنرل مشرف کے نو سالہ دورِ اقتدار کا آغاز ہوتا ہے۔
    2001 میں 9/11کے واقعے کے بعد جنرل پرویز مشرف سے امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کے لئے پاکستانی ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی جنگ میں پاکستانی قوم کو جھونک دیا بلکہ پاکستانی ہوائی اڈے بھی امریکی فوج کے حوالے کر دیے۔ کئی سال پاکستان اس جنگ کی آگ میں جلتا رہااوراب تک مشرف کی چھیڑی ہوئی پرائی جنگ سے نبرد آزما ہے اوراس دوران مشرف نے ایک نعرہ لگایا تھاسب سے پہلے پاکستان ۔
    جنرل پرویز مشرف اپنی کتابIn The Line of Fire میں وہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 2001میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو دہشتگردی کے شبے میں امریکہ کے حوالے کیا۔ یہ انکشافات کتاب کے اردو ترجمے میں موجود نہیں اور جنرل مشرف بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی پاکستانی شہری نہیں تھا لیکن عافیہ صدیقی کا کیس ثابت کرتا ہے کہ ان میں پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل تھے(جاری ہے)