Baaghi TV

Category: سیاست

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    آزادی صحافت کا مطلب ذمہ داری صحافت ہے صحافت کو ملی و قومی اقدار کا پابند بنانا اور اس پر سختی سے کاربند رہنا صحافیانہ ذمہ داری کا اولین تقاضا ہے۔ قومی تقاضوں کا سودا کرنا اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا اور اپنے صفحات اور اسکرین پر اخلاقیات کا جنازہ نکال دینا کسی طور بھی آزادی صحافت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    بدقسمتی سے صحافیوں نے قومی فریضہ کو پس پشت ڈال کر سیاسی جماعتوں کے بیانیے پر چلنا شروع کر دیا ہے صحافی گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ملک اور قوم کے مسائل کو پس پشت ڈال کر قصیدے لکھنا اور بولنا شروع کر دیا جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوتا ہے۔ جو کچھ آج ہو رہا یا ماضی میں ہوتا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، پاک فوج اور میڈیا ہے جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا کا کوئی ادارہ ہو یا کوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو جاتا ہے یعنی میڈیا نے اپنی حیثیت اور وقار کو خود ہی ختم کر دیا۔ قارئین اور سامعین نہ تو کسی کی تنخواہ دیکھتے ہیں نہ کسی کا عہدہ و الفاظ دیکھتے ہیں اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    آج صحافی گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا اور صحافی جو ماضی میں قیادت کے فرائض انجام دیتے تھے قومی مسائل اور تحریکوں میں قائدانہ کردار اداکرتے تھے آج گروپوں میں تقسیم ہو کر سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کےقائدین کے فلسفوں پر چل کر اپنا وقار اور عزت دائو پر لگا رہے ہیں۔

    میڈیا بدنام ہو رہا ہے کہ میڈیا یکطرفہ ہو گیا ہےبعض صحافیوں نے تو کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اندھا دھند کام شروع کیا ہے۔ ہمیں اس ملک کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی معاملات اور ریاستی مفادات کو سامنےرکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا۔

    ملک کا سیاسی مستقبل اور ملک کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے جڑا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں کا انتخاب کرنا چھوڑ دیں سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔

    اقتدار اور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا۔ شداد کی جنت نہ رہی ، فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پہلی قسط
    حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
    کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
    "I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
    مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
    آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
    16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
    1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

  • سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    چند دن قبل سے اب تک سوشل میڈیا پر ایک ہی نام چھایا ہوا ہے جو ہے ،ام حرم عربی میں ام کے مطلب ہیں ماں اور حریم کا مطلب ہے قابل احترام،( خانہ کعبہ کی چار دیواری کو بھی کہتے ہیں) یعنی کہ قابل احترام کی ماں
    آزادی اظہار رائے کا ہر کسی کو قانونی،اخلاقی حق حاصل ہے

    راقم جنوری 2011 سے سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور اللہ کو گواہ بنا کر بتا رہا ہے کہ ان 11 سالوں میں ایک ہزار کہ لگ بھگ فیسبک اکاؤنٹس بلاک ہوئے جس کی وجہ تھی لفظ جہاد،حافظ س عید،ل شکر ط یبہ و کشمیر ایک ایک دن میں بعض مرتبہ پانچ پانچ بار اکاؤنٹ اڑے

    خیر جب جب نیا اکاؤنٹ بنایا فیسبک نے نیا اکاؤنٹ بنتے ہی ایک ہی آئی پی ایڈریس ہونے کے باعث گزشتہ فرینڈز کو خود ہی ریکوسٹ بھیجیں ان میں ام حریم بھی شامل ہےام حریم نے 2016 میں فیسبک جوائن کیا اور تاحال ساتھ ایڈ ہے-کئی بار ان سے بحث و مباحثہ بھی ہوا جس میں خاص ٹاپک تھا کسی بھی فرد کی اسقدر چاپلوسی کرنا اور اس سے اتنی امیدیں رکھنا اور منہج سلف سے حکمران کی اسقدر تعریف کرنا جائز ہے کہ ناجائزجی ہاں یہ سب باتیں ام حریم سے ہوتی تھیں وہ اس لئے کہ ام حریم ایک بلا کی یوتھیہ عورت تھی-

    حسب سابق کی طرح اس بار بھی لکھ رہا ہوں کہ جھوٹ بولنے اور لکھنے والے پر اللہ کی لعنت ہوام حریم ایک خاص یوتھئیہ تھی ہاں یہ ایک خاص بات نوٹ کی کہ ام حریم نے کبھی بھی ن لیگ کی حمایت نہیں کی اور نا ہی ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے والی کسی بھی جماعت یا فرد کو سپورٹ کیا- 2018 میں ام حریم عمرہ کرنے گئی تو اس نے عمران خان کے لئے حرم میں دعا کی کہ اللہ تو اس سے اپنے دین کا کام لے کر اسے کامیابی سے ہمکنار فرما جس پر اس نے پوسٹ بھی لگائی تھی ،قابل غور بات ہے کہ ابھی وہی عورت عمران خان کو بری لگی کیونکہ وہ عورت پہلے ایک محب وطن اور موٹیویشنل لکھاری بھی ہے-

    چند روز قبل عمران خان صاحب نے ٹی وی پر خطاب کے دوران ام حریم بارے اظہار نارضگی کیا کیونکہ ام حریم نے گزشتہ دنوں فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل کی کاپی کرکے دو ملین ڈالرز پی ٹی آئی کو ملنے کا تذکرہ کیا تھا اور اپنی وال پر پوسٹ لگائی تھی- حیرت کی بات ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی ام حریم پی ٹی آئی سے برآت کرچکی تھی اور پہلے کی طرح آرٹیکلز لکھ رہی تھی جس کی سمجھ آتی ہے کہ ام حریم ایک محب وطن بھی ہے

    مذید حیرت کی بات یہ کہ اتنے سالوں پی ٹی آئی کے حق میں دن رات ایک کرکے لکھنے والی ام حریم کو کسی نے آج دن تک نا جانا نا پہچانا اور نہ ہی اسکا نام سنا مگر ایک تنقید کرتے ہی عمران خان ٹیلیویژن پر آکر ام حریم کا تذکرہ کر رہا ہے- کمال ہے بھئی یہ تو وہ بات ہوئی کہ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ یعنی جب تک ام حریم پی ٹی آئی کی سپورٹر رہی تب تک جائز تھا جب اس نے تنقید کی تب ناجائز ہو گیا؟عمران خان کے اس خطاب سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ عمران خان صاحب عوامی مسائل پر بہت دور تک نظر رکھتے ہیں اور خان صاحب کو لمحہ با لمحہ اپڈیٹ کیا جاتا ہے مگر حیرت کی بات ہے جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی تب خان صاحب کہاں تھے؟جب قوم نے ڈاکٹر عبد القدیر رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں خان صاحب کی شرکت نا کرنے پر رنج کیا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟ جب واقعہ ساہیوال ہوا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟جب ڈاکوؤں لٹیروں کے ہاتھوں قوم لٹ رہی تھی اور انصاف کیلئے آوازیں دی جا رہی تھیں تب عمران خان صاحب کہاں تھے؟جب بلیک مارکیٹنگ مافیا اب موجودہ حکومت کی طرح خان صاحب کے دور حکومت میں بھی بے لگام تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟کیا خان صاحب بس اپنی تنقید پر ہی قوم سے رابطہ فرماتے ہیں؟خان صاحب پاکستان کی بیٹی ام حریم سوال تو کرے گی –

    یہ تو ایک ام حریم ہے یہاں پوری قوم آپ سے سوال کر رہی ہے کہ خان اپنے دور حکومت کا حساب دیجئے اور بلا وجہ لوگوں کو پٹواری ،جیالہ اور پالشی کہنا بند کیجئے کوئی کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت کے بغیر محب وطن شہری بھی ہو سکتا ہے سو خان صاحب پاس کر یاں برداشت کر-

  • سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تبدیلی آگئی ہے سے لے کر سلیکٹڈ تک اور سلیکٹڈ سے امپورٹڈ تک اور اب فارن فنڈنگ سے لے کر ممنوعہ فنڈنگ تک پاکستان بطور ریاست اور 22 کروڑ عوام کہاں کھڑی ہے؟ المیہ یہ ہے کہ اس دوران ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ملک و قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔ معیشت روبہ زوال ہے۔ عوام پر مہنگائی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔ کیا اس کو جمہوریت کا نام دیا جائے؟ پارلیمنٹ ہاؤس میں بغیر اپوزیشن کے اجلاس ہو رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے؟ نجی ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسوں کی بہار ہے پریس کانفرنسیں کرنے والوں کے گھروں میں بہار ہے مگر عام آدمی کے گھروں میں موسم خزاں ہے۔ ہوس زر اورہوس اقتدار نے ان کے ضمیر مردہ کر دیئے ہیں دولت اس طبقے کا سب سے بڑا نظریہ بن چکا ہے

    سیاسی جماعتوں کا ٹکٹیں دینے کا معیار دولت ہی ہو وہاں کرپشن کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ وطن عزیز کے ہر ادارے کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ملک میں اتنا زوردار انتشار پیدا کر دیا ہے کہ جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے ۔ ایک دوسرے کو ڈاکو چور کہنے والوں سے سوال ہے کہ 75 سالوں میں اس ملک سے بجلی اور گیس کا بحران ختم کیوں نہیں ہوا کیا اس ملک کا عام آدمی اقتدار پر قابض رہا؟

    اس وقت پورا ملک ذہنی دبائو کا شکار ہے۔ ملکی معیشت ہمارے سامنے ہے ہر چند کے آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو چکا مگر حکمرانوں اور بالخصوص وزیرخزانہ میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی قسط معاہدے کے مطابق جلدی منگوا سکے۔ اس کے لئے ملک کے چیف آف آرمی سٹاف کو فون کرنا پڑا۔ موجودہ سیاسی انتشار ملک میں لیڈر شپ کا فقدان بھی ہے۔ کہاں مفتی محمود (مرحوم) کہاں ، مولانا فضل الرحمن، کہاں بے نظیر بھٹو اور کہاں آصف علی زرداری، کہاں نوازشریف اور کہاں شریف شریف، کہاں ولی خان اور کہاں آج کی اے این پی ، کہاں نواب زادہ نصر اللہ کہاں مولانا عبدالستار خان نیازی، کہاں قاضی حسین احمد، آج پاکستان سیاسی انتشار اور بحران کی اصل وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے جس پارلیمنٹ ہاؤس میں بینظیر بھٹو جیسی عالمی سیاسی شخصیت اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہو اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے خدا کی پناہ کہاں سیاسی قدر آور سیاسی شخصیات اور کہاں آج کی پارلیمنٹ ۔

  • عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ملکی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو امریکہ مخالف بیانیہ آزمایا ہوا فارمولا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اسی فارمولے پرعوام سے ووٹ حاصل کرتی رہیں ۔ جب بھی کسی حکومت کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تو وہ سیاسی جماعت امریکہ اور اسٹیبلشمنت کو نشانے پرلیتی ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی وہی فارمولا اپنایا ۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا المیہ رہا ہے جب انکے مفادات کی بات آتی ہے تووطن عزیز کے سیاسی ومذہبی اداکار اخلاقی اورجمہوری اقدار کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرز سیاست نے سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ۔ اس کی مثال پیپلزپارٹی کی دی جا سکتی ہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو کررہ گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چل کر ملک کی مقبول ترین جماعت مسلم لیگ(ن) جس کی آبیاری نواز شریف نے کی تھی بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کو شکست دینا ناممکن تھا ۔ شہبازشریف اور اُن کے قریبی چند ساتھیوں کی طرز سیاست کی وجہ سے اس جماعت کو پنجاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہباز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کو عارضی فائدے تو مل گئے لیکن ان کی جماعت کو شدید دھچکا لگا ۔

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آمدہ قومی انتخابات میں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے نئی حکمت عملی تیار کرلی اور اس نئی حکمت عملی کے کرداروں میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہی ہیں بلاشبہ چوہدری خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مگر پنجاب کی وزارت اعلی چوہدری پرویز الہی کے پاس ہے جو مسلم لیگ (ن) کے لئے سیاسی طور پر اچھا شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ پنجاب کو فتح کرنے کے لیے اور آمدہ قومی انتخابات میں کامیابی کے لئے شہباز شریف اوران کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں کوئی بھی ایسی کرشماتی شخصیت نہیں جو عمران خان کے بیانیے پر حاوی ہو سکے ۔ اگر نواز شریف وطن آتے ہیں تو شاید کوئی اس جماعت کو کامیابی حاصل ہو، مریم نواز نے اس جماعت کی مقبولیت کو بچانے کی بہت کوشش کی اور کررہی ہے تاہم نواز شریف آج بھی پنجاب میں مقبول ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    حکومت پی ڈی ایم کی ہے لیکن معاشی بحران مہنگائی کا ملبہ نواز لیگ پر پڑ رہا ہے اس بحران کو حل کرنے کے لیے نواز شریف کے پاس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجود تھے مگر شہباز شریف ان کی پاکستان آمد کا راستہ ہموار کرنے میں ناکام رہے ۔ رہی بات عوام کی جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں عوام کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

  • گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے اتار چڑھاو ہیں کے سیاست کے طالبعلم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اس سوچ میں ہوتے ہیں کے کونسا سسٹم ملک عزیز میں چل رہا ہے، برصغیر میں ایک وقت میں جہاں گاندھی جیسا زیرک سیاست دان تھا تو دوسری جانب قائد اعظم سواسیر کی شکل میں سامنے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انکے پیشرو اس قابل ہی نا تھے کے وہ گاندھی یا قائد کی وراثت کو آگے لے جاتے جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    خیر بات کرتے ہیں پاکستان کی تو حالیہ لاٹ میں موجود سیاست دانوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے برابر ہے مطلب ” اللہ دے اور بندہ لے”

    پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کردار ہمیشہ سے ہے عدلیہ کا رہا ہے، بطور سیاست کے طالبعلم کے احقر ہمیشہ عدلیہ کو ایک ایسے مقام پر دیکھتا رہا جس کے باے میں بات کرنا یا غلط سوچنا بقول لکھاری

    ” اس مقام پر فرشتوں کے پر جلتے ہیں”

    لیکن 1947 سے لے کر تا دم تحریر الحمداللہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو ہی پاکستان کی سیاست میں رائج کیا، اور ہمیشہ وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا جیسے ایک وقت میں یورپ چرچ کے طابع تھا ویسے ہی مقننہ ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے طابع رہی بلکہ حالیہ دنوں میں تو کسی بھی قسم کی قانون سازی کی سہولت بھی مقننہ سے لے کر عدلیہ نے اپنے پاس رکھ لی اور دے پر دے فیصلوں کے بعد یہ کہتے نظر آئے کے اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط تھا تو اسکو درست کرنے کا ہمیں پورا اختیار حاصل ہے، خیر” دروخ با گردن راوی” سانوں کی تے تینوں کی۔۔۔

    ویسے آجکل جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ بطور صحافی یا ٹی وی پروگرام پروڈیوسر گزشتہ 9 سال سے دیکھ رہے ہیں، اگر سہوا کچھ قلم سے الفاظ تحریر بھی ہو جائیں تو ڈر لگ جاتا ہے کے کہیں تو ہین عدالت کے مرتکب نا ہو جائیں، کہیں کسی ادارے کا فون نا آ جائے کہیں ہتک سیاسی کے ذمرے میں نا آ جائیں اور اگر ان تما م سے بچ جائیں تو توہین مذہب اور توہین ریاست کی انتہائی گہری اور لمبی چوڑی کھائی سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔

    میرا یار بوٹی اکثر مجھے کہا کرتا ہے کے اگر تم چاہتے ہو کے لوگ تمہاری بات سنیں تو کچھ نا بولو، چاہتے ہو کے لوگ تمہارے کہے پر عمل کریں تو کچھ نا لکھو، پہلے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ بات کی سمجھ آ تی جا رہی ہے، لیکن میرا یار خاص ایجنٹ ایکس ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہے کے انسان جب تک زندہ ہے اسکو کھرک رہتی ہے ۔۔۔۔ آگے آپ سب سمجھ دار ہیں
    بات تو کہیں کی کہیں نکل گئی ، قصہ مختصر یہ کے ” گھسن نیڑے یا رب نیڑے” ویسے تو اس وقت ملک میں عدلیہ ہی سب سے ہاٹ فیورٹ ہے یار لوگ اسکی کے فیصلوں پر لڈیاں ڈالتے ہیں اور ساجا، ماجا گاما اپنا ساڑ نکالتے ہیں، لیکن جو بھی ہے ہر دو فریق جو کبھی فاعل، یا مفعول کی حالت میں رہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد اپنا بابا اوپر رکھنے کے لئے تکڑی والے بابا کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب تکڑی والے بابا کی مرضی وہ جسکی روٹی میں سے حصہ نکال کر خود کھا لے یا دوسرے پلڑے میں رکھ دے، اس معاملے میں کبھی میرا یار بوٹی خوش ہوتا ہے یا پھر میرا یار ایجنٹ ایکس نہال، لیکن ہر دوصورت میں ہمارے پاس بیچنے کے لئے منجن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    لیکن اگر بات حق و سچ کی ہو تو میرا ہیرو تمہارا ولن ، مطلب جو چیز میرے حق میں ہو وہ ہی سچ ہے اور باقی سب جھوٹ، اب اگر حالیہ حالات کو دیکھا جائے تو تمامتر ملکی سیاسی جماعتیں ، تمامتر ہائیکورٹس و سپریم کورٹس کی بار کونسلز ، اور 12 ججز ایک جانب لیکن ہم خیال تکڑی والے بابے سمیت ایک سیاسی پارٹی ایک جانب۔

    2018 کے اوائل میں بھی حالات ایسے ہی تھے جب اس وقت کے بابے نے چن چن کر تمامتر ممکنہ رکاوٹوں کو یا تو جیل کی ہوا کھلائی یا انکو اس قابل ہی نا چھوڑا کے وہ کسی ایک مطلب ایک کے مقابلے میں نا آ سکیں ، وہ سابقہ بابا جی اپنے ہر فیصلہ کے بعد کسی کوفیض یاب کرنے کے بعد کہا کرتے تھے کے انکے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور جب کوئی ناہنجار انکے سامنے انکے ہی کسی پرانے فیصلہ کا حوالہ دیا کرتا تھا تو اسکی کھنچائی کر دی جاتی تھی کے تم ہوتے کون ہو میرے سابقہ فیصلے کو میرے سانے دہرانے والے اس وقت اس فیصلہ کی ضرورت تھی اب نہیں

    ایک وہ وقت تھا اور اب ایک یہ وقت ہے جب قاضی القضاء اس بات کو خود ہی دہرانے پر مجبور ہو گئے ہیں کے وہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار و متقی ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ وقت کی ضرورت ہے ابھی حالیہ دنوں میں جب انکو کہا گیا کے جناب اپکا سابقہ فیصلہ یہ تھا تو انہوں نے فرمایا بے شک وہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ اس وقت ضروری تھا اور اب جو فیصلہ دے رہا ہوں وہ اس وقت کی ضروت ہے۔۔۔
    بقول میرے منشی کے ” بگے نک آلے کتورے دی جوٹھ حلال اے”

    اور تکڑی والے بابا جی کے حالیہ معرکتہ آلارا فیصلہ کے بعد سامنے آئی۔۔۔

    اب بابا جی نے بنواس لے لیا ہے اور سوہنا ہر سو یہ گاتا پھر رہا ہے ۔۔

    گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے

  • مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی
    ایک طرف ملک بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے اور دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتیں ہائے اقتدار ہائے اقتدار کا کھیل کھیلنے میں تمام حدوں کو عبور کر گئی ہیں۔ ذرا سوچئے وہ ریاست جس کے قومی خزانے سے اقتدار کے مزے لوٹے ، قومی خزانے سے قرضے لئے پھر اربوں معاف کروائے۔ کرپشن اور کمیشن سے اپنے محل نما گھر تعمیر کئے۔ آج ایک ایٹمی طاقت کی ریاست معاشی بحران انتہائی نازک دور سے گزر رہی تو قرض لینے معاف کرانے ، اقتدار کے مزے لوٹنے والے، وی وی آئی پی پروٹوکول لینے والے۔ ان سیاستدانوں نے ریاست کو معاشی بحران سے نکالنے کے بجائے نجی ٹی وی چینلز پر ٹویٹ کے ذریعے پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کو تسلی دینے کے بجائے سری لنکا کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔

    اس بیان بازی کو دیکھ کر اگر ملک کے سرحدوں کے محافظ ملکی سلامتی کے محافظ چیف آف آرمی اسٹاف نے قرض کی قسط جلدی جاری کرانے کے لئے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے تو اس پر تنقید کرنے والے نوشتہ دیوار پڑھیں۔ کروڑوں ڈالر پارٹی فنڈوں کے سکینڈل اربوں ڈالر کے اثاثے، چھپانے والے سیاسی خود ساختہ لیڈر، کھربوں ڈالر رکھنے والے صنعتکار اور بڑے بڑے تاجر اپنی آنکھیں کھولیں قرض اتارو ملک سنوارو کے حقیقی جذبے کے ساتھ برسرپیکار ہوں اور سٹیٹ بنک کے خزانے کو بھر دیں۔

    وطن بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ایک ایٹمی طاقت ہے وقت آن پہنچا ہے کہ ہر پاکستانی خواہ وہ بیرون ملک مقیم ہے یا وطن عزیز میں صاحب استطاعت ہے قومی خزانے میں بے دریغ عطیات جمع کروائے۔ فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ خواہ کسی بھی جماعت نے لی ہو منجمد کر کے قومی خزانے میں شامل کر لی جائے ۔ کرپشن میں ملوث پائی جانیوالی شخصیات سے رقوم وصول کی جائیں اور ان اقدامات کی نگرانی تمام سیاسی جماعتوں کے قابل اعتماد اور ایماندار نمائندوں کی مشترکہ حکومت کے ذریعے کرائی جائے اور کرپشن سے پاک حکومت اور حکومتی مشینری کو بروئے کار لاکر ملکی تعمیر و ترقی کے لئے نئے جذبے کا آغاز کیا جائے آج پاکستان کو بطور ریاست ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن لوگوں کو 1947ء میں ایک الگ اسلامی و فلاحی ریاست کی ضرورت تھی اور انہوں نے بابائے قوم کی آواز پر لبیک کہا قربانیاں دیں آج وطن عزیز کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی پرواز ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.

    ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح چلتی رہی تو خدانخواستہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. آسان ترین الفاظ میں ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ میں عدم توازن کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

    یعنی فرض کریں آپ کے ذرائع آمدنی (ایکسپورٹ) سے آپ پچاس(50)روپے کماتے ہیں اور آپ کے خرچے(امپورٹ) ستر(70) روپے ہیں تو آمدنی اور خرچ میں بیس(20) روپے کا فرق ہے.اب اس فرق کو دور کرنے کے لئے یا تو آپ کو اپنی آمدنی بڑھانی پڑے گی یا اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو پھر آپ کو مجبوراً قرضے لے کر یہ فرق پورا کرنا پڑے گا.

    اب مسئلہ یہ ہے کہ قرض کوئی اللہ واسطے تو دیتا نہیں ہے تو وہ آپ کو بیس(20) روپے قرض سود پر دے گا اور سود بھی آپ کی طلب اور مجبوری کے مطابق زیادہ سے زیادہ لے گا. تو آپ اپنے خرچے کم نہ کرنے اور ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا خمیازہ ہر مہینے کا خسارہ بیس(20) کے بجائے پچیس (25) روپے ہر مہینے بھگتیں گے.

    یہ اضافی پیسے آپ اپنی آمدن میں سے ہی دیں گے اس لئے آپ کی آمدن اور خرچ میں فرق بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اتنے مقروض ہو جاؤ گے کہ قرض کی قسط بھی مزید قرض لے کر ادا کرو گے اور یہاں سے قرض دینے والا اپنی مرضی کی شرائط پر آپ کو قرض دے گا اور لازمی بات ہے کہ وہ شرائط قرض دینے والے کے مفاد میں ہوں گی

    اور جب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ بھی موجود نہ رہے تو آپ ہاتھ کھڑے کر دیں گے یعنی یہ تسلیم کر لیں گے کہ میں کنگال ہو گیا ہوں یا ڈیفالٹ کر گیا ہوں اور قرض دینے والا آپ کی گروی رکھی تمام اشیاء اور اثاثے ضبط کر لے گا اس وقت یہی صورت حال وطن عزیز کی بن رہی ہے ہم بھی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ موجود ہے.

    اس خطرے کی بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑھنے والی ڈالر کی قیمت اور اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے خودبخود قرضے اور اس کے سود میں ہونے والا اضافہ ہے. اس وقت ہماری معیشت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی محتاج ہے آئی ایم ایف نے قرضے کی شرائط طے کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی حکومت سے مذاکرات کی شرط اور عرب ممالک سے ملنے والے قرض سے مشروط کر دی ہے.

    یعنی اس وقت ہم ایک چکر میں پھنس گئے ہیں اور اس چکر سے نکلنے کا راستہ سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کر کے ملنے والا ہے. ایک مستحکم سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں پھیلی غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی جسکی وجہ سے ڈالر کی مصنوعی طور پر بڑھی قیمت کم ہو کر مستحکم ہو جائے گی جس کا اثر ہمارے قرضے اس کے سود اور مہنگائی پر بھی پڑے گا اس کے علاوہ ہمیں مزید قرضہ بھی ملے گا جس سے وقتی طور پر معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی.

    اس کے بعد ہماری پہلی ترجیح آمدن اور خرچے میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے توازن پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہماری آمدن نہیں بڑھ سکتی ہمیں تھوڑا عرصہ امپورٹڈ اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور حکومتی سطح پر ہر ممکن سادگی اپنا کر اور تمام سرکاری یا سیاسی افراد کی تنخواہوں کے علاوہ مفت سہولیات ختم کر کے عوام کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنی نیک نیتی کا عملی ثبوت فراہم کرنا ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم آج ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خلوص نیت سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کریں تو عنقریب دنیا میں ہماری کوششوں کی دوسرے ملکوں کو مثالیں دی جائیں گی.