Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ
    عمران خان نے انتخابات میں صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر یو ٹرن لیا ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرائیکیوں کو عمران خان صوبہ دلوائیں گے یہ زمینی حقائق کے خلاف ہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ و سجادہ نشین دربارحضرت خواجہ فرید کوٹ مٹھن شریف خواجہ غلام فرید کوریجہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے الیکشن 2018میں صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر یو ٹرن لیا کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرائیکیوں کو عمران خان صوبہ دلوائیں گے یہ زمینی حقائق کے خلاف ہے،انہوں نے کہاکہ بلوچ رہنما سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی عمران سے اتحاد تھا، بلوچ اور پشتون قوم پرست کارکنوں پر عمران خان کے دور حکومت میں مظالم اور مسنگ پرسن میں اضافہ ہوا ،پاکستان میں شدت پسند سوچ کے لئے سیاسی مواقع زیادہ ہیں، عمران خان پاکستان میں طالبان سوچ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور طالبان خان کے نام سے مشہورہوئے، شدت پسند سوچ کے حامل لوگ عمران خان کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور عمران ان عناصر کو فعال کر کے اداروں اور عدالتوں کو بلیک میل کر کے مرضی کے فیصلے کرانا چاہتے ہیں ،اگر ہارس ٹریڈنگ غلط اقدام تو ق لیگ کے ساتھ بھی ہارس ٹریڈنگ غلط ہے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کی حمایت کرتے ہیں عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے خود عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں جنگ گروپ کے سربراہ اور صحافیوں کو جیلوں ڈالا گیا اور آزادی صحافت کے خلاف کالے قانون بنائے، منی مارشل لا لگایا اور کرپشن کے نام پر کامیاب ہوئے اور کرپشن میں اضافہ ہوا آئین اور قانون کی بالادستی کی حمایت کرتے ہیں، کمزوروں کی آواز بلند کرتے رہیں گے مظلوم چاہے زبان کی بنیاد پر ہوں یا مذہب یا جنس کی بنیاد پر ان کو آئینی حقوق ملنے چاہئیں۔

  • مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں اور حریف مخالفت پر اتر آتے ہیں.

    کل کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں یہ بات کھل کر سامنے آئی.. آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر بادشاہ گر بن کر سرخ رو ہو گئے.

    مسلم لیگ کو وقتی سہی لیکن دوبارہ وزیر اعلیٰ کی سیٹ مل گئی. پی ٹی آئی کو بھی عدالت کے ذریعے انصاف ملنے کی امید ہے.اس سارے معاملے میں اگر کوئی جماعت خسارے میں رہی تو وہ مسلم لیگ قاف ہے.

    چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے آپس کے اتحاد اور سیاسی فراست کی وجہ سے وہ ہر حکومت کے لئے لازم و ملزوم تھے. پیپلزپارٹی نے ان کو قاتل لیگ کہا اور انہیں نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا.. پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا اور پہلے سپیکر اور اب وزیراعلیٰ کے لئے اپنا امیدوار منتخب کیا.

    مسلم لیگ ان کو پرویز مشرف کے سہولت کار اور مسلم لیگ کی تقسیم کے ذمہ دار قرار دیتے رہے اور ابھی مخلوط حکومت میں دو وزارتیں اور اگر پرویز الٰہی مان جاتے تو انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آفر بھی تھی.

    اس سب کی وجہ صرف چوہدریوں کا آپس میں اتفاق تھا جو کہ آصف علی زرداری نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اس نااتفاقی کی اصل وجہ سیاسی اختیار نوجوان نسل کے ہاتھ دینا ہے.

    چوہدری سالک کا جھکاؤ ن لیگ کی طرف ہے جبکہ چوہدری مونس الٰہی کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے بڑے چوہدری معاملات کو آپس میں افہام تفہیم سے حل کرتے تھے ایسے ہی یہ بھی کرتے لیکن خون گرم ہونے کی وجہ سے دونوں اپنی انا کے اسیر رہے اور آخر ان کی ضد خاندان کی تقسیم کا باعث بنی.

    عہدے وقتی ہوتے ہیں جبکہ خون کے رشتے ازلی ہوتے ہیں. نوجوان نسل نے رشتوں پر عہدوں کو فوقیت دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ بزرگوں کی سیاسی میراث کے اہل نہیں.

    ان حالات میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ چوہدریوں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلا غلط فیصلہ کیا اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کو بروقت نہ سدھارا تو مسلم لیگ قاف کا شیرازہ بکھر جائے گا.

  • سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    کل پنجاب اسمبلی میں ایک بڑا سیاسی دنگل ہوا اوربالآخر تخت پنجاب کا فیصلہ ہو ہی گیا۔ آخر وقت تک صورتحال بالکل مختلف تھی ، پاکستان تحریک انصاف والے خوش تھے۔ اور پھر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے رولنگ دے کر ساری بازی ہی پلٹ دی ۔سارے اندیشے ، ساری تدبیریں ، سارے دعوے بیکار ہوگئے

    بحر حال معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے ،تحریک انصاف کے لوگ نہیں جانتے تھے کہ جس سیاسی چال کا سہارا انھوں نے آج سے چار مہینے پہلے لیا تھا، جس سیاسی چال پر وہ اترا رہے تھے۔ جس سیاسی چال سے انھیں یہ وہم ہوا تھا کہ ہم اقتدار کی کرسی بچا لیں گے۔ کل انھیں اس سے بھی بڑی سیاسی چال سے شکست دی جائے گی۔ انھیں نہیں پتا تھا آج سے چار دن پہلے جس جیت کے وہ شادیانے بجا رہے ہیں اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ مکافا ت عمل ایسا ہی ہے۔ جب انسان کا کیا اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہاں اخلاقیات کے سارے سبق بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جو وقت پہ بہتر سیاسی چال چلے وہی بازی گر ہے اور جس کا اس شطرنج کے کھیل میں وزیرزیادہ شاطر ہے وہی مقدر کا سکندر

    اب آگے کی ساری صورتحال مجھے کافی بھیانک نظر آ رہی ہے۔
    کل کے اسمبلی اجلاس سے پہلے ہی عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہ آیا تو نتائج اچھے نہیں ہونگے۔ اور وہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ رات احتجاج کی کال دی گئی اور رات سے ہی لوگ سڑکوں پر ہیں۔ سپریم کورٹ رجسٹری کے سامنے نعروں سے شروع ہونے والے اس جتھے کا پورے ملک میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے پنجا ب کے تمام بڑے شہروں میں رینجرز تعینات کرنے کی بھی درخواست کر دی ہے۔مختلف ویڈیوز بھی موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگ گاڑیوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد میں صورتحال اس سے زیادہ سنگین ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا ہےاور اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کسی کارکن کی گاڑی تک جلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں ملک پاکستان کی صورتحال کافی سنگین مراحل میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مخالفین پر الزامات کے ساتھ ساتھ اب اداروں پر لفظی حملوں کا جو سلسلہ سست روی کا شکار ہو چکا تھا اب اس میں بھی تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ اس کی پہلی جھلک تو آج ہی دیکھ لی ہے۔ فواد چوہدری نے لفظی گولہ باری کی ابتدا کر دی ہے۔ اداروں کے منہ کو خون لگا ہے جیسے بیان تو دیتے ہی تھے اب یہ بھی کہ دیا کہ ادارے مزید پاکستان کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ تو یہ معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگاڑ کی جانب گامزن ہیں۔لیکن اس وقت سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ اس ساری سیاسی جنگ اور الزامات کی سیاست کے درمیان پس کون رہا ہے؟ اس سیاسی محاذ آرائی کے درمیان بچے کس کے بھوک سے مر رہے ہیں؟ حکمرانوں کے پاس شاید اس سوال کا جواب نہ ہولیکن میرے پاس اس کا جواب ہے

    اس ساری سیاسی صورتحال، لڑائی جھگڑوں اور معرکہ آرائی کے درمیان نقصان صرف پاکستان کا ہو رہا ہے۔ پس صرف غریب رہا ہے۔ بچے صرف غریب کے بلک رہے ہیں۔ اس کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ اس کے لیے زمین دن بدن تنگ پڑتی جا رہی ہے او ر حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ اپنی سیاست بچانے کےلیے کروڑوں روپے کے مہنگے ہوٹل بک ہو رہے ہیں۔ غریب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت کیا جنگ جاری ہے۔ اسے صر ف دووقت کی روزی سے مطلب ہے۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ اس کے بچے رات کو بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ وہ جب رات کو مزدوری کر کے گھر واپس لوٹے تو اس کی جیب میں اگلے دن کے راشن کے پیسے موجود ہوں۔اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

    یہ صرف اس صور ت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضا قائم ہو جائے۔ جب پاکستان کے نمائندے آپس میں لڑنے کی بجائے ایک جگہ بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کرنا شروع کر دیں۔ جب پاکستان کے سیاستدان مل کر ایک میثاق معیشت پر رضا مند ہو جائیں۔ جب سیاستدان لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کی بجائے انھی لوگوں کے بہتر مستقبل کےلیے سوچنا شروع کر دیں۔ لیکن مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مجھے دور دور تک کوئی ایسے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

    آپ کو اور اس ملک کے حکمرانوں کو پاکستان کی معیشت کا ایک بھیانک چہرہ بتاتا چلوں تا کہ شاید ہم اس سے کچھ سیکھ سکیں اور مستقبل قریب میں کچھ ایسے فیصلے کر سکیں جن سے ملک کا فائدہ ہو۔ آج پاکستان میں روپیہ ایک خطرناک حد تک بے توقیر ہو چکا ہے۔ گردشی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان آج ڈیفالٹ ہونے کی دہلیز پہ کھڑا ہے۔ پاکستان کا اس وقت ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی لسٹ میں چوتھا نمبر ہے اور یہ امکانات دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ڈالر پر سٹے بازی جاری ہے جس سے روپے کی قدر و قیمت میں مزید کمی آتی جا رہی ہے لیکن جو اس کو روک سکتا ہے یعنی پاکستا ن کاسٹیٹ بینک اس کے ممکنہ گورنر کا ابھی تک فیصلہ ہی نہیں ہو سکا۔ تیل اور بجلی قیمتیں مزید بڑھنے کے درپے ہیں۔ اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت آج جن بیساکھیوں پہ کھڑ ی ہے اگر اگلے کچھ عرصے میں چار سے پانچ ار ب ڈالر نہیں ملتے تو ہم اس نہج پر پہنچ جائیں گے جہا ں سے واپسی شاید آسان نہ ہو۔آئی ایم ایف سے ہمیں صرف ایک ارب ڈالر کی قسط ملے گی باقی کے تین چار ارب ڈالر کے لیے ہم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دنیا کی معیشت پر نظر رکھنے والیNews Agency Bloombergکے مطابق آئی ایم ایف نے سعودی عرب سے گارنٹی مانگ لی ہے۔ کیونکہ اس کشتی میں کوئی سوار نہیں ہونا چاہتا جس کے ملاح بھنو ر میں کودنے کو تیار بیٹھے ہوں۔پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کےلیے آئندہ سال میں کم ازکم 41ارب ڈالر درکار ہیں۔ اور یہ کہاں سے آتے ہیں کسی کے پاس سیدھا جواب نہیں ، سٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو دن بدن زوال پزیر ہی ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پہ تیار ہی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان میں مزید نقصان کو مول لیں۔ پہلے ہی ان کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہےاور حالیہ سیاسی بحران کے بعد تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو چکی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار بھی بالکل خطرہ مول لینے کو تیار نہیں اور ہر چھوٹا بڑا کاروبار مندی کا شکار ہے۔ دنیا کی تما م معیشت پر نظر رکھنے والے تمام بڑے ادارے پاکستان کی معیشت کو منفی دکھا رہے ہیں۔ گویا ہم معیشت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے کرنسی بحران میں جکڑے جا چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا ٹھیک جوا ب کوئی دینے کو تیا رنہیں۔

    سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے ہیں؟ اس کا جواب بڑا ساد ہ اور آسان سا ہے۔
    کسی بھی ملک کی معیشت ہمیشہ اس ملک کے حکمرانو ں کے فیصلوں اور ملک میں سیاسی استحکام سے جڑ ی ہوتی ہے۔ اگر ملک کےسیاستدان درست فیصلے کریں گے، سنجیدگی سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ، درست وقت پر درست لوگوں کے ہاتھ میں اکانومی کی باگ دوڑ دیں گے تو معیشت کی سمت بالکل درست ہو گی۔اور اگر ملک میں سیاسی استحکام ہی نہ ہو۔ حکمرانوں کو ٹھیک فیصلے ہی نہ کرنے دیے جائیں تو پھر یہی کچھ ہونا ہے جو ملک پاکستان میں اب ہو رہا ہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صورتحال تو آپ کے سامنے واضح ہے۔ ملک میں پچھلے چھ مہینوں سے جو کچھ ہو رہا ہے ۔ جو سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے کوئی سیاسی جماعت دیوار سے لگے یا نا لیکن معیشت دیوار کے ساتھ لازمی طور پر لگ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ اور بھی بہت سے محرکات ہیں۔ حالات و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ جن میں تحریک انصاف کے دو ر کی معاشی پالیسیاں، ان کا بھاری قرضے لینا۔ اس کے بعد ساڑھے تین سال کے عرصے میں چار بار وزرائے خزانہ کی تبدیلی ، سرکاری پالیسیوں کی بار بار تبدیلی شامل ہیں۔ اور اگر اس سے بھی پہلے چلے جائیں تو پچھلے حکمرانوں کے کچھ غلط فیصلے شامل ہیں۔اب وہ وقت آ چکا ہے جب ہمار ے سیاستدانوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دے کر اس ملک کو لوگوں کی امیدوں کو کچل دینا ہے یا اس ملک کو ہر طرح کے بحران سے نجات دلانی ہے۔ کیونکہ راستے اب صرف دو ہی بچے ہیں۔ اور یہ ہمارے سیاستدانوں نے طے کرنا ہے کہ مزید دست و گریباں ہوتے رہنا ہے اور اس اقتدار کے کھیل کے لیے پاکستان کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دینا ہے یا پھر اپنے سیاسی مفادات کو پیچھے رکھ کر ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنا ہے۔

    آنے والے دنوں میں پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوتا ہے اس بارے میں کسی کو علم نہیں۔ کون منظر نامے پہ نمودار ہوتا ہے اور کون پردے کے پیچھے غائب ہوتا ہے اس کا فیصلہ بھی جلد ہو جائے گا لیکن ہماری دعا یہی کہ جو بھی ہو پاکستان کے لیے بہتر ہو۔ پاکستا ن کی معیشت کے لیے بہتر ہو۔ پاکستان کے عوام کے لیے بہتر ہو۔

  • وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    ملک میں سیاسی جماعتیں و مذہبی جماعتیں جمہوریت، آئین، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتی ہیں تاہم جمہوریت کا قتل سالوں پہلے ہوا اور اس قتل کو رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا گیا جس کا خمیازہ ملک عوام اور خود سیاسی جماعتیں تادم تحریر بھگت رہی ہیں۔ میری مراد بھٹو کی ہے۔ پھر بھی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے سبق حاصل نہیں کیا اور جمہوریت کے قاتلوں کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ آج اگر تحریک انصاف سینہ کوبی کر رہی ہے اور جمہوریت کا نعرہ بلند کر رہی ہے تو تحریک انصاف بھی نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر جشن اور بھنگڑے ڈال رہی تھی آج چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کا خاندان بکھر گیا ہے تو اس خاندان نے بھی آمریت کا ساتھ دے کر نوازشریف کے ساتھ بے وفاقی کی تاریخ رقم کی تھی۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اقتدار کی رسہ کشی میں آمریت کا ساتھ دیا۔ سیاسی جماعتیں و جماعتوں نے گرینڈ الائنس تو بنائے مگر وہ سب ذاتی مفادات اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے بنائے گئے۔ آج ملک میں ایک طرف اگر سیاسی انتشار ہے تو دوسری طرف معاشی زوال جس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے پرویز مشرف کے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

    مسلم لیگ (ن) بھی 2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونیوالی اس پارلیمنٹ کا حصہ تھی جس نے مشرف سے حلف لیا۔ آج آئین کے تقدس کا درس دینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے آئین کی پامالی پر جشن منائے ایک نہیں کئی بار آئین کی پامالی پر نہ صرف جشن منائے بلکہ آئین کی پامالی کرنیوالوں کا ساتھ بھی دیا اور قصیدے لکھنے والوں نے قصیدے لکھے۔ آج بھی وقت ہے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچا لیں ملک میں جمہوریت کی نفی تخلیق پاکستان کی نفی ہے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنا بند کر دیں ملک میں غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے ہی تبدیلی ہو سکتی ہے عوام کو ہی اس کا اختیار دیا جائے کہ وہ ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنائیں۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور قانون کی حکمرانی کا واحد راستہ انتخابات ہیں ۔ایک دوسرے کی حکومت کو سازش کے ذریعے گرانے سے باز رہیں عوام کی منتخب حکومتوں کو گرانا بھی آمریت کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہائوس میں تحریک انصاف سمیت بھٹو اور نوازشریف کی منتخب حکومت گرانے میں کردار ادا کرنے والے معافی مانگیں۔

  • قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ۔ جاری سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ مقتدر حلقوں کی صفوں میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔

    وقت آن پڑا ہے کہ مقتدر حلقے اور سیاسی زعماء سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ماضی کی غلطیوں، غلط فیصلوں، کوتاہیوں کو خلوص دل سے تسلیم کر کے اور کروا کے مستقبل میں اپنی حدود اور قیود کا نئے سرے سے تعین کریں اور فیصلہ کریں ملک میں معاشی استحکام ہو۔ ذاتی پسند ناپسند اپنی مرضی کے ججوں، جرنیلوں، دوسرے اہم اداروں میں تعیناتیوں کی دوڑ میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔ اگر اس وقت بھی اقتدار اور اقرباء کی حوس کو لگام نہ ڈالی گئی اور جج میرا جنرل میرا وزیراعظم میرا وزیراعلیٰ میرا چیئرمین۔ میرا میم ڈی میرا وزیر خارجہ میرا وروزیر خزانہ کی رٹ جاری رہی تو ملک اور عوام کو اس کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    اس وقت ایک اخلاص محبت الوطنی اور سچائی کے جذبے کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھار سے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہرذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تواتر کے ساتھ پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں کو قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ عراق، لیبیا، شام، افغانستان ، آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان ممالک میں قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا گیا عالمی طاقتوں نے کمزور قومی سلامتی کے اداروں کو دیکھ کر ان ممالک کا حشر نشر کر دیا آج یہ ممالک عبرت کا نشان ہیں ان ممالک کو دیکھ کر ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار کی حوس میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنے جن قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی باہوش بھارتی سے پوچھیں تو وہ ڈرتا بھی انہی اداروں سے ہے۔

  • جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ ایک سعی لاحاصل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ ایک سعی لاحاصل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر جوبائیڈن ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ مگر بہت دیر کی مہرباں آتے آتے کے مصداق ہے۔ روس یوکرین جنگ، امریکی معیشت پر اس کے اثرات۔ امریکہ میں اس وقت مہنگائی 40 سال کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر ہے۔ خارجہ محاذ پر یکسر ناکام جوبائیڈن داخلی محاذ پر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں جو بائیڈن کا گراف تیزی سے گر رہا ہے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست یقینی نظر آرہی ہے جو ڈیموکریٹک کے لئے انتہائی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

    مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے اندرون ملک اور عالمی سطح پر کم کرنے کے لئے امریکہ کو سعودی عرب کی مدد ناگزیر ہے۔ امریکی صدر نے انتخابی مہم میں سعودی عرب کو ترک صحافی جمال خشوگی قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اچھوت ملک قرار دیا تھا لیکن روس یوکرین جنگ اور امریکی معیشت تیل کی قیمتوں کے اضافے نے امریکی صدر کو سعودی عرب کے دورے پر مجبور کر دیا۔

    عالمی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے اور عالمی صورتحال کے تناظر میں جو بائیڈن کا دورہ سعودی عرب دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا مگر یہ بھی سچ ہے کہ بائیڈن اپنے دیرینہ عرب حلقوں کو منانے میں بہت دیر کر دی ہے جواب امریکہ کی بہ نسبت روس اور چین پر اعتماد کرنے لگے ہیں۔

    روس اور یوکرین کے تناظر میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں روس کے خلاف ہر اقدام پر خلیجی ملکوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب خلیجی ملکوں کو امریکہ پر اعتبار نہیں رہا کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد امریکی ساکھ میں گراوٹ اور روس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے ایسے میں جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ انتہائی تاخیر سے کی گئی ایک سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے۔

  • ڈیرہ ۔ پی پی 288  الیکشن مہم عروج پر، کل عمران خان خطاب کریں گے

    ڈیرہ ۔ پی پی 288 الیکشن مہم عروج پر، کل عمران خان خطاب کریں گے

    ڈیرہ غازی خان : پی پی 288 میں الیکشن مہم عروج پر پہنچ گئی، کل 14جولائی کو عمران خان جلسہ عام سے خطاب کریں گے
    باغی ٹی وی رپورٹ -ڈیرہ غازی خان میں ضمنی انتخابات پی پی 288 میں الیکشن مہم عروج پر پہنچ گئی ہے، کل 14جولائی کو عمران خان جلسہ عام سے خطاب کریں گے، جلسہ سیمنٹ فیکٹری چوک پر ہوگا جہاں کنٹینر لگائے جارہے ہیں ،حلقہ پی پی 288 میں مسلم لیگ ن کے سردار عبدالقادر کھوسہ اور پی ٹی آئی کے سردار سیف الدین کھوسہ آمنے سامنے ہیں اس حلقہ میں کانٹے دارمقابلہ کی توقع کی جارہی ہے ،کارنرمیٹنگز اورانتخابی جلسوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنامشکل ہے کہ جیت کس کامقدر ٹھہرے گی،عمران خان اس حلقہ میں اپنے امیدوار سردارسیف الدین کھوسہ کی الیکشن میں جیت یقینی بنانے کیلئے کل 14جولائی کوجلسہ عام سے خطاب کریں گے جس کیلئے پنڈال سجایاجارہاہے۔ دوسری طرف اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار جوکہ سابق ضلعی چیئرمین ہیں وہ اس حلقہ میں اپنا ووٹ بنک رکھتے ہیں،اس کے علاوہ سابقہ ادوار میں یہ حلقہ این اے 173 کا حصہ تھاجہاں سے سابق صدرسردارفاروق احمدخان لغاری مرحوم الیکشن جیتتے رہے ان کے بعد سردار اویس احمد خان لغاری کا حلقہ انتخاب بھی یہی رہاجہاں سے وہ جیت کرممبرقومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں توسرداراویس احمد خان لغاری نے اس حلقہ میں سردارعبدالقادرخان کھوسہ کی الیکشن کمپین چلانے کیلئے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیااوربھرپور انداز میں اپنے امیدوارکی الیکشن مہم شروع کردی ہے ۔اس سے قبل حلقہ پی پی 288 ڈیرہ غازی خان 2018 کے عام انتخابات میں سردارمحسن عطا خان کھوسہ نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی،سردارمحسن عطا کھوسہ پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان میں شامل تھے جنہوں نے حمزہ شہبازکووزارت اعلیٰ کیلئے ووٹ دیاتھا۔ 2022 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوارسردار عبدالقادر کھوسہ پی ٹی آئی کے ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوارسردار سیف الدین کھوسہ سابق گورنر پنجاب سردارذوالفقار علی خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں اوراس وقت دونوں کھوسہ کزنز میں کانٹے دار مقابلہ ہے ۔پی پی 288قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 190 میں آتا ہے، جہاں پی ٹی آئی کے سردار امجد فاروق خان کھوسہ ایم این اے ہیںحلقہ پی پی 288 کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کافیصلہ 17 جولائی کو ہوگا۔

  • مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سابق وزیراعظم عمران خان کا نعرہ ’’ہم کوئی غلام ہیں ‘‘پر غور و فکر کیا اور اس کے بعد اپنے اوپر اور قوم پر مسلط جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، نام نہاد قومی رہنمائوں پر تو غور کرنے کے بعد یہ خیال آیا کہ ہم بحیثیت قوم آزاد کب تھے؟ جس قوم پر غیر ملکی آقائوں کی جگہ ان کے اپنے آقا مسلط ہو جائیں اس قوم کی آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔سالوں سے اس ملک کے آقا اس ملک کو اپنی میراث اور اس قوم کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ کراچی جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا رہا وہاں پر مسلط پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی شاندار کارکردگی کا نظارہ نجی ٹی وی چینلز نے دکھایا کیا ہی منظر تھا ۔دل ہلا دینے والے واقعات ،پورا شہر پانی میں ڈوبا تھا اور رعایا پانی میں بہہ رہی تھی ۔عوام صبر کریں ،پیپلزپارٹی آمدہ قومی انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی بھی امیدوار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ناکام پاکستان بطور ریاست نہیں اور نہ ہی یہ قوم ہے ناکام ہمارے نام نہاد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے اس کامیاب ملک اور قوم دونوں کو ناکام بنا دیا۔

    مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے وزیر خزانہ کسی بھی ملک کے لئے بڑا اہم عہدہ ہوتا ہے پٹرول ڈیزل اور بجلی گیس وغیرہ کے نرخوں میں جو اضٗافہ ہوا ہے اس نے تو مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے وزیر خزانہ نے پٹرول ڈیزل میں اضافہ کر کے عوام پر جو حملہ کیا ہے ایسا تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا انہوں نے مار کر دھوپ میں ڈال دیا ہے عمران خان کے دور حکومت میں مہنگائی تھی موجودہ وزیر خزانہ نے تو حد عبور کر دی ہے یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے موجودہ وزیر خزانہ وزارت خزانہ کے منصب پر نہ ہوتے تو اچھا تھا۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، میڈیا، ملکی بقا اور سلامتی کے ادارے ہیں انتظامیہ کا حال تو یوں ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا جب جانبدار ہوتا ہے تو وہ ختم ہو جاتا ہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا عوام الفاظ کو دیکھتے اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں موجودہ حالات میں میڈیا کو قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے سیاستدانوں نے ملک و قوم کو گوناگوں مسائل کے طوفان میں غرق کر دیا ہے اسے پانی اور سائے سے محروم کسی ریگستان میں پھینک دیا ہے عمران حکومت آج کے بڑھتے ہوئے مسائل کی بھی ذمہ دار ہے اور آج کے حکمران بھی ۔ سیاستدان عیش کر رہا ہے اور قوم سسک رہی ہے ۔ موجودہ مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟

  • شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ

    شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ

    شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ
    باغی ٹی وی .پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ آج کل شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سیاست دان بننے کے لئے آپ کو گاندھی چرچل بھٹو بننا پڑے گا، آج کے سیاست دان اشاروں پر چل رہے ہیں۔خورشید احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان سیاستدانوں کے فیصلوں سے معرض وجود میں آیا، برصغیر سمیت دنیا میں تبدیلی لانے میں سیاستدانوں کا کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا سنا ہے وہ میڈیا سے آگے نکل گیا ہے۔

  • کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    1965کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاک دھرتی کو ہمیشہ شاد و آباد رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال حوالدار لالک جان کی ہے جنہوں نے کارگل جنگ میں دُشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی جسے وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

     

    کشمیر کی وادی غزر جسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔یہاں کے ہر گاؤں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرتاہے۔

    دُنیا کے بُلند ترین محاذِ جنگ کارگل میں دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں 01اپریل 1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1984میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ ٹریننگ سنٹر بنجی میں ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپ نے1985میں 12این ایل آئی میں رپورٹ کیا۔ پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کی بناء پر آپ یونٹ کی بیشتر ٹیموں کا حصہ رہے۔ آپ کی ڈرل، فوجی ٹرن، جسمانی چستی ہمیشہ مثالی رہی۔ آپ نے یونٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی ویپن کی مہارت کا یہ ثبوت ہے کہ آپ بطور ویپن ٹریننگ انسٹرکٹر ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سنٹر بنجی میں تعینات رہے۔

     

     

    معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ آپ نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر آپ نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

    12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا”کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی“۔

    مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھے۔ اس موقع پر لالک جان نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔

    دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔آپ کے جذبے کا عکاس یہ حمہ آج بھی تاریخ کے سنہرے ورقوں میں تحریر ہے کہ جب آپ کے زخموں کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیپٹن احمد نے واپس جانے کا حکم دیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ”میں ہسپتال میں بستر پر موت کو گلے لگانے سے ہتر میدان جنگ میں دُشمن سے لڑتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا پسند کرتا ہوں“۔

    آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

    کارگل جنگ میں جب دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے حملہ آور ہوا تو منفی30درجہ حرات، یخ بستہ ہوائیں اور جان لیوا زخموں کے باوجود کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرد ِ مُجاہد نے کئی گھنٹوں تک لائیٹ مشین گن سے دُشمن کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن مورچہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور ملک کا دفاع کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

    ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔