Baaghi TV

Category: سیاست

  • یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پی ٹی آئی کی باقیوں کی نسبت کچھ چینخیں زیادہ نکل رہی ہیں ۔ کیونکہ جو اسکینڈل بشری بی بی یا فرح گوگی یا عثمان بزدار کے زبان زد عام ہیں ۔ اس نے عمران خان کے صادق وامین ہونے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ جب سے گینگ آف بنی گالا سامنے آیا ہے ۔ ان کی وردات اور دیہاڑیاں سامنے آئی ہیں ۔ ماضی کے مسٹر ٹین پرسنٹ ، سسلین مافیا اور گاڈ فادر بہت چھوٹے لگنے لگے ہیں ۔ ‏عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو اینٹی کرپشن پنجاب نے سرکاری منصوبوں میں رشوت لینے کے الزام میں طلب کر لیا گیا ہے۔بشریٰ بی بی کے بھائی کو سرکاری زمین پرقبضےکے الزام میں اینٹی کرپشن نے طلب کرلیا

    اینٹی کرپشن کی عثمان بزدار کے ماموں کیخلاف تحقیقات

    فرح گوگی کو 10 ایکڑ پلاٹ کی غیرقانونی الاٹمنٹ، 2 افراد گرفتار

    عثمان بزدار کے چار بھائیوں نے اینٹی کرپشن عدالت سے عبوری ضمانت کرالی

    ۔ اب اس کا حل تحریک انصاف نے یہ نکالا ہے کہ سوشل میڈیا اتنا گند اچھالا جائے ۔ مخالفین سمیت کسی ادارے کو نہ چھوڑا جائے ۔ اس کا ایک ثبوت تو ہم بشری بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی لیک آڈیو میں سن ہی چکے ہیں ۔ کہ غداری کا تمغہ بانٹو ۔۔۔ ۔ عمران خان اس ہی فارمولے پر لگے ہوئے ہیں کہ سوشل میڈیا کی مدد سے منٹوں میں سچا جھوٹا اور جھوٹا سچا بن جائے ۔ مگر یہ زیادہ دیر تک نہیں چلنا ۔ کیونکہ ایسے ہی آڈیوز یا ویڈیو منظر عام پر آتی رہیں تو ان کا دفاع ممکن نہیں ہے ۔ اس بشری بی بی والے ایپی سوڈ میں بھی غور کریں تو پہلے کہا گیا کہ یہ فیک ہے ۔ پھر شیریں مزاری نے پوری پریس کانفرنس کرڈالی کہ کسی کا فون ٹیپ کرنا جرم ہے خاص طور پر وزیر اعظم کا ۔ اس سے ایک چیز تو ثابت ہوگئی ہے کہ یہ آڈیو اصلی ہے ۔ اور جو چیزیں مستقبل قریب میں منظر عام پر آنے والی ہیں وہ بھی اوریجنل ہی ہوں گی ۔ پر کیوںکہ دھندہ ہے اب چاہے یہ گندا ہی ہو۔ یہ گینگ ایسے ہی چلتا تو رہے گا ۔ کم ازکم اپنی اپنی جان بچانے کے لیے بشری بی بی ، عثمان بزدار ، فرح گجر اور احسن جمیل کے ایک دوسرے کے ہمدرد ہی رہیں ۔ سب سے بڑھ کر اس گینگ کے سربراہ عمران خان عزت و شہرت کیا ان چیلوں کی جان بچانے کی خاطر پوری پارٹی بھی قربان کرسکتے ہیں ۔

    کیونکہ لالچ ، ہوس ، حرص جب دماغ پر سوار ہوجائیں ، تو کچھ بھی ممکن ہے ؟؟؟

    ۔ اسی لیے یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی سے شادی کیوں کی ؟؟؟ کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں یہ بات بہت ہی انہونی معلوم ہوتی ہے کہ ایک عورت جس کے بچے جوان اور وہ اپنے شوہر سے خوش اسلوبی سے طلاق لے اور پھر کسی دوسرے بندے سے شادی کر لے ۔ پر اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔

    ۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ء
    کو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

    ۔ پھر آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید کو بتایا .مجھے بشارت ہوئی ہے کہ تم خاوند سے طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ شادی کر لو۔ شادی کے بعد عمران خان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ یہ وزیراعظم بن جائیں گے اور پاکستان کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا اورخاوند نے پاکستان کے سنہرے دور کےلئے اپنی 30 سالہ رفاقت توڑ دی۔ ۔ پھر وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ خاور فرید مانیکا کا بھی فرمانا ہے کہ ہماری طلاق کی وجہ ناچاقی نہیں تھی کوئی روحانی ایشو تھا۔ ہم اس اعتراف کو خواب یا بشارت کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان نے کیا ترقی کرنی تھی ۔ مانیکا خاندان ، گجر خاندان اور بزدار خاندان کی تمام محرومیاں دور ہوگئی ہیں اور اب عمران خان کا اصل خاندان یہ ہی بشری ، فرح ، بزدار ، گجر اور مانیکا گینگ ہی ہے ۔ کیونکہ آج تک عمران خان نے اپنی علیمہ باجی کو ڈیفنڈ نہیں کیا مگر فرح گجر پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔ اور بشری بی بی کی خاطر تو پورا ایک قانون لانے کو تلے بیٹھے تھے ۔ کہ کوئی ان کے بارے بات نہ کرسکے ۔

  • سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مجھے پتہ ہے کس طرح یہ سازش ہوئی کون کون سازش میں ملوث ہے ۔ مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو سب کو بے نقاب کر دے گی۔ دیوار سے لگایا تو سب بتا دوں گا۔ خان صاحب شاید کسی آنے والے انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں تادم تحریر وہ ڈراتے ہیں لیکن وہ کس کو ڈرا رہے ہیں یہ پتہ نہیں چل سکا۔ ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی کو دیکھ کر کوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا خان صاحب کے ارد گرد بھی ایسے ہی لوگ دکھائی دے رہے ہیں جو انقلابی نہیں۔ عمران خان ملک کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں بھٹو کے عدالتی قتل سے لے کر نوازشریف کی وزارت عظمیٰ تک سفرنامے کا مطالعہ کریں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں غور و فکر کریں اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی کریں۔ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتے رہیں۔ صاف و شفاف الیکشن کی صدائیں لگاتے رہیں۔ عوام کے دکھوں کا ذکر کرتے رہا کریں ہر الیکشن میں یہی عوام لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ کا استعمال کرتی ہے۔ ملکی سیاست میں نظریات دفن ہو چکے نظریاتی سیاست کرنے والے سیاستدان فانی دنیا سے رخصت ہو گئے یقین نہیں آتا تو بھٹو کا عدالتی قتل جو ایک زخم، خلش اور درد بن کر عوام کے دلوں اور دماغوں میں اتر گیا تھا

    پیپلزپارٹی کی رگوں میں طویل عرصے تک دوڑتا رہا آج بھٹو کی میراث پر قابض پارٹی کی قیادت اس سے کسی خاندانی رشتے کی دعویدار تو ہو سکتی ہے بھٹو کی تصویر چھاپ کر اور بھٹو خاندان کی قربانی کے مرثیے پڑھ کر مفادات دولت و طاقت کی اندھی ہوس کے بازار میں بھٹو کے نام کو نیلام کیا جا رہا ہے۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بدترین دشمنوں نے بھی کرپشن کا الزام لگانے کی کبھی جرات نہیں ہوئی۔ نوازشریف کو تین بار اقتدار سے الگ کر دیا گیا خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا طیارہ اغوا اور نہ جانے کون کون سے مقدمات بنائے گئے۔ نوازشریف کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ نوازشریف اور ان کی بیٹی کو نااہل کر دیا گیا آج بھی نوازشریف لندن میں اپنے بیٹوں کے پاس ہیں جس طرح بھٹو پر جب زوال آیا تو بڑے بڑے نامور سیاستدانوں نے پذیری ٹولے کی طرح آنکھیں پھیر لیں بھٹو کو اکیلا چھوڑ دیا اسی طرح نوازشریف کی جماعت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں۔ عمران خان ملکی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں پارلیمنٹ ہائوس کا رخ کریں اپوزیشن کریں اقتدار کے مزے وہ لوٹ چکے اب اپوزیشن کا کردار ادا کریں کے پی کے آزاد کشمیر کے دورے کریں۔ ملک میں معاشی بحران ہے قرضوں پر چل رہا ہے کبھی کبھی آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف بیان دیا کریں۔

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟

  • کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    آج سیاست میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں مُنہ پھٹ ہیں اور سیاسی بدتمیز ہیں جس سے سیاسی زندگی بدصورت ہو گئی ہے۔ ملکی سیاست نظریاتی لوگوں میں رائج رہی جو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے سیاست کرتے رہے جس طرح روز مرہ کھانے پینے کی چیزوں ادویات میں ملاوٹ ہو چکی ہے اسی طرح آج کی سیاست مین بھی ملاوٹ نمایاں نظر آتی ہے اور سیاست میں ملاوٹ جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہے ۔ اور پھر جس ملک میں اقتدار کا نشہ سر چل کر بولے وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون اور آئین کی بالادستی کیسی ۔ قانون کی حکمرانی صر ف نعروں تک محدود ہو کر رہ جائے ۔ وہاں لینڈ مافیا ۔ قبضہ مافیا کاراج ہوتا ہے جس ملک میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکتوں حکومتوں کی تبدیلی کے فیصلے کریں سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالا دستی کیسی ؟ پھر ایسے میں عوام کی اکثریت صدا بلند کرتی ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ کاروباری فریاد کرتا نظر آتا ہے کہ وہ تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں کاروبار بند ک ارخانے بند ہوتے ہیں دکانوں کے سامنے عوام سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں ۔

    ملک عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج بناد یا گیا مزدور بھوکے مررہے ہیں ۔ بجلی نایاب۔ بجلی ،گیس ،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ۔ تخت نشین عوام کا خون چو رہے ہیں آخر یہ ملک میں کیا ہورہا ہے عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے حکومت کس کی ہے کون چلا رہا ہے کہاں سے فیصلے ہورہے ہیں۔ آج جو کچھ ملک اور عوام کے ساتھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں؟ جس ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے سودے بازیاں ہوں وہاں جمہوریت کیسی ؟اقتدار کے سوداگروں نے ملک اور عوام دونوں کو عالمی دنیا میں بدنام کرکے رکھ دیا آج عالمی دنیا میں ہمارے ملک اور ہماری جمہوریت کا مذا ق اڑایا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ مین توبلدیاتی انتخابات نے ہلا کر رکھ دیا ہے اور الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان ہے جو کچھ بلدیاتی انتخابات میں اور جو نجی ٹیلی ویژن پر دکھایا کیا آمدہ قومی انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے کیا الیکشن کمیشن لااینڈر آرڈر کے ادارے اسی طرح بے بس ہوں گے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟معیشت کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ عوام پر ہر روز مہنگائی کے حملے ہو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی آپس کی لڑائیاں ایک بہت بڑا فریب ہے ۔ آخر کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا۔ کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہا ور ہیرو بن کر مقبول ہونا چاہتا ہے ۔ انہیں عوام کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں۔

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟

    بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟
    صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خآن نے عثمان بزدار کو اپنا وسیم اکرام پلس کہا اور صوبہ پنجاب کو ایک ایسے انسان کے حوالے کر دیا جس کو صرف فائلیں پڑھنے پڑھانے کے لیے بھی ملازم چاہیے تھا، انتہائی کمزور انتظامییہ اور کمزور ریاستی رٹ نے صوبہ بھر کی عوام کو ہر وقت اضطراب میں رکھا حتی کہ عمران ریاض خان جیسے پرو پی ٹی آئی صحافیوں نے بھی مختلف موقعوں پرعثمان بزدار کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے لائے جس میں مانیکا خآندان کے کرتوت شامل تھے لیکن عمران خان اپنی ضد پر قائم رہے اور یوں آہستہ آہستہ عمران خان کے اتحادی ساتھ چھوڑنے لگے جس کے نتیجے میں پنجاب بھی نون لیگ عمران خان سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

    پنجاب میں ضمنی الیکشن کی آمد آمد ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہیں تو دوسری طرف تحریک لبیک اچھا خآصآ ووٹ بینک لینے والی ہے ان حالات میں پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات میں سیٹیں نکالنا مشکل ہو چکا ہے تو اب کھل کر آئی ایس آئی کے آفیسرز پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے اگر واقعی کوئی ثبوت ہیں تو عدالت جائیں اور کیس کریں لیکن اس طرح اپنے اداروں پر الزامات لگانا وہ بھی ثبوتوں کے بغیر سمجھ سے باہر ہے۔

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    پنجاب کی ناراض عوام کے غصے کو چھپانے کے لیے پی ٹی آئی لیڈران اداروں کے خلاف مہم چلا کراپنی نااہلی کو چھپانا چاہتے ہیں لیکن عوام سمجھ چکی ہے کہ کھوکھلے نعروں کے پیچھے چھپ کر اداروں پر حملے کرنے والوں کے پاس ادنی سا بھی ثبوت ہوتا تو عدالت پہنچ چکے ہوتے۔ کب تک پاکستان میں ایسے چلتا رہے گا کہ جب تک حکومت نہ ملے دھاندلی اور مل جائے تو ادارے اچھے، عمران خان جو یوٹرن خان بھی ہیں ،اپنے مفادات کے لئے ملکی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانا چاہتے ہیں، عمران خان صاحب ملک ہے تو آپ ہین، خدارا ہوش کریں، ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے قبل اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی پارٹی کے اندر جھاڑو پھیریں، لوٹوں کو ملا کر حکومت بنائی تھی وہ لوٹے چلے گئے تو اس میں اداروں کا کیا قصورہے، اسوقت لوٹے نہ لیتے اپنی پارٹی میں اور سادہ اکثریت نہیں تھی تو حکومت نہ بناتے

  • پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام سنتے آئے اور اب شیر آیا شیر آیا کے مصداق ملک واقعی اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ایک ہم اور ہمارے حکمرانوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی عملی اقدامات اٹھائے؟ کیا حکمرانوں ، اعلیٰ بیورو کریسی کے افسران، اعلیٰ اور نچلے درجے کے پولیس افسران ، سول انتظامیہ کے افسران ، ریونیو کے افسران، نے کرپشن سے توبہ کر لی؟ کیا ملک کی بڑی مچھیلوں نے رضاکارانہ طور پر زیادہ ٹیکس دینے کا اظہار کیا؟ کیا ملک میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران نے اپنی ضرورت سے زیادہ تنخواہ کم لینے کے جذبے کا اظہار کیا؟ کیا ہم نے گھاس کھا کر وطن کی آن بچانے کا عہد کیا؟

    ان تمام سوالات کا جواب اگر نہیں میں ہے تو ہم جس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں وہ ایک بھیانک انجام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ء کے عرصے میں جب یورپ میں معاشی بحران آیا تو جرمنی کے تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کو درخواست کی کہ ان پر ٹیکس زیادہ لگایا جائے حال ہی میں کینیڈا میں ایک شعبے کے ملازمین نے حکومت سے استدعا کی کہ ان کی تنخواہیں ان کی ضروریات سے زیادہ ہیں کم کی جائیں آج ملک میں کروڑوں کے پلاٹس، لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے موجود ہیں اعلیٰ انتظامی اور تکنیکی پوسٹوں پر سفارشی بنیادوں پر تعینات کئے جا رہے ہیں وزارتوں اسمبلیوں میں اور تکنیکی شعبوں میں محکمہ انکم ٹیکس و مالیات میں کرپٹ رشتہ داروں کو کھپایا جاتا ہے اور رونا رو رہے ہیں کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں اعلیٰ سیاستدانوں ، حکمرانوں ، مقتدر عہدوں پر فائز افسران سے لے کر تمام دفاتر میں براجمان چھوٹے بڑے ملازمین تک اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاکر حلف برداریاں آن ریکارڈ کریں کہ وہ بابائے قوم کے اقوال کے مطابق حقیقی طور پر ملک و قوم سے وفادار رہیں گے اور کوئی کرپشن ، اقربا پروری، سفارش نہیں کریں گے اور اس کے بعد آئی ایس آئی اور آئی بی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے تمام وزراء، مشیران، سول و ملٹری افسران کی کڑی نگرانی کی جائے اور ملکی مفاد کیخلاف کام کرنے کے مرتکب عہدیداروں کے لئے سخت سزائیں دی جائیں ایسا نظام لایا جائے تاکہ کوئی بھی پاکستان کے ستقبل سے کیلنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں اس کارخیر میں سب کا کردار ہے۔

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

    افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

    پاکستان جیو اکنامکس کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے غیر ملکی سفارت کاری کے تمام ممکن راستوں پر عمل کر رہا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے لیے غیر معمولی خارجہ پالیسی اقدامات اٹھا کر، پاکستان دنیا کے سامنے یہ ثابت کر رہا ہے کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے وہ شریک اسٹیک ہولڈر ہے۔ اس سلسلے میں چین میں افغانستان کے دوستوں کا اجلاس ہوا جس میں پانچ نکاتی مشترکہ بیان میں ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کی اور ایران، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان ،پاکستان کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا ایجنڈا افغانستان کے مسائل پر پڑوسیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا اور افغان عوام کو مستحکم کرنے اور ان کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، مستقبل کے مسائل سے بچنے کے لیے افغانستان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اجلاس میں شریک ممالک نے افغانستان کی آزادی، علاقائی خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام کا اظہار کیا۔ پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شرکاء نے ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے وعدوں کو ایمانداری سے پورا کریں۔اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا اور سی پیک کی توسیع کو افغانستان تک بڑھانے پر آمادگی کا اظہار کیا، یہ علاقائی روابط کے ذریعے افغانستان کو اس دھارے میں شامل کرنے کے لیے چینی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان اور چین افغان عوام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو کوویڈ 19 وبائی امراض اور سماجی انتشار کا شکار ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں عدم استحکام نہ صرف اس ملک کی عوام بلکہ خطے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر افغانستان سیاسی، اقتصادی طور پر غیر مستحکم رہا تو اس کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔بدقسمتی سے، طالبان اس طرح کا برتاؤ نہیں کر رہے ہیں جس طرح دنیا ان سے برتاؤ کی توقع کر رہی ہے، عالمی برادری کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے طالبان اب بھی اپنی ہی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں جیسا کہ حال ہی میں لڑکیوں کو اسکول کی تعلیم سے محروم کردیا گیا تھا۔طالبان کو کم از کم اپنے نقطہ نظر میں تھوڑا لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو سبھی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کے رویے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن طالبان کو دنیا کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

    علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کو دوبارہ انتشار کا مرکز نہ بننے دیں۔ اس وقت افغانستان کو نظر انداز کرنے سے صورتحال حل نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے، علاقائی ممالک نے افغانستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔

    گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے واضح طور پر افغانستان کا سیاسی حل کا نعرہ لگایا۔امریکہ بھی بالآخر اس راستے پر گیا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے افغانستان میں استحکام آ جائے کیونکہ یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ ہے۔ ایک بار جب چین، پاکستان اور خطے اور عالمی دنیا کے تمام اہم ممالک افغان عوام اور ملک کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو یہ نہ صرف افغان عوام بلکہ خطے بالخصوص ترقی کا باعث بنے گا۔

  • ٹیکس چورکون؟

    ٹیکس چورکون؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    حکومت نے بڑی صنعتوں پر10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کااعلان کر دیا، وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اوراسے کنٹرول کریں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس(تخفیف غربت ٹیکس) لگارہے ہیں ان صنعتوں اسٹیل،سیمنٹ، شوگر، ٹیکسٹائل، آئل اینڈ گیس، آٹو انڈسٹری، ہوا بازی، فرٹیلائزر، بینکنگ، انرجی اینڈ ٹرمینل سیکٹر پرسپرٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سگریٹ پر بھی ٹیکس لگے گا، 2 ہزار ارب روپے ٹیکس غائب ہو جاتا ہے، یہ پہلا بجٹ ہے جس میں اکنامک وژن دیا ہے، مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اسے کنٹرول کریں گے۔شہباز شریف نے ایک اور ٹیکس لگانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ جو افراد سالانہ 15 کروڑ سے زائد کماتے ہیں ان کی آمدن پر1 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جا رہا ہے، سالانہ 20 کروڑ سے زائد پر 2 فیصد، 25 کروڑ پر 3 فیصد، 30 کروڑ سے زائد پر 4 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں دو ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں پاکستان کی اشرافیہ اورامیرلوگ کیسے ٹیکس چوری کرتا ہے؟
    پاکستان میںٹیکس چوری کرنے میں سرفہرست حکمران طبقہ ہے جوپاکستان میں 75سال سے اقتدارمیں ہیں جن میں جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما ئے اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوں کا حصہ ہیں۔ حکمران طبقے کے سیاست دانوں کی اکثریت کا تعلق جاگیردار اور سرمایہ دار گھرانوں سے ہے جوبہت معمولی ٹیکس دیتے ہیں،زراعت پرمعمولی سا ٹیکس ہے، چاروں صوبوں میں جمع ہونے والا یہ ٹیکس کچھ ارب روپے کا ہوتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں زرعی ٹیکس لگایا جائے تو 500 ارب روپے سے 600ارب روپے کاریونیوآسانی سے جمع کیاجاسکتا ہے،یہاں جائیداد کے ٹیکسوںمیں بھی بہت ہیرا پھیری کی جاتی ہے،یہ سیاست دان جوسرکاری ریکارڈ میں اپنے اثاثے طاہرکرتے ہیںان اثاثوں یاجائیدادوں کی مالیت بہت کم لکھواتے ہیں، اگر دس سال پہلے ایک پلاٹ کی قیمت دس لاکھ تھی اور اب اس کی مارکیٹ ویلیو چھ کروڑ ہوچکی ہے تو وہ اپنے اثاثوں میں وہی 10سال پرانی قیمت محکمہ مال کے ریونیوافسران لکھوالیں گے۔ مثال کے طورپروزیر اعلی پنجاب حمزہ شریف نے اپنے گیارہ مکانات کی قیمت صرف تیرہ کروڑ روپے بتائی ہے،حالانکہ یہ بات ہرکوئی جانتا ہے جائیداد یں جتنی پرانی ہوتی جائیں گی ان کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گے لیکن سیاستدانوں کی سرکاری ریکارڈ میں ظاہرکردہ اثاثوں کی قیمتیں وہی برقرار رہتی ہیں ۔
    سوشل میڈیا پر مسلسل ان سیاستدانوں جن میں آصف علی زرداری، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور حمزہ شریف سمیت کئی سیاست دانوں کے اثاثوں کی سرکاری اداروں کو دی جانے والی قیمتوں پر بہت تنقید کی جاتی رہی ہے، مثال کے طور عمران خان نے بنی گالہ کے گھر کی قیمت جبکہ شریف اور زرداری گھرانوں نے اپنی جائیدادوں کی قیمتیں اپنے اثاثوں میں مارکیٹ ویلیو سے بہت کم لکھی ہیں،سوشل میڈیا صارفین برملایہ کہتے رہے ان کے گھروں کی ظاہرکردہ قیمتوں سے ہم تین گنازیادہ رقم دینے کوتیارہیں ،یہ گھر ہمیں دئے جائیں۔ دوسری طرف ماہرین کاکہناہے کہ کہ اگر 1200سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے مارکیٹ کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے تو اربوں روپے حاصل کیا جا سکتے ہیں، اگر یہ ٹیکس پوری ایمانداری سے پورے ملک میں نافذ ہوجائے تو عام آدمی پر جی ایس ٹی لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اُدھرتاجروں کابھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہی تعلق ہوتاہے،اسی سیاسی اثررسوخ اورطاقت کے بل بوتے پر یہ تاجر و مقامی صنعت کار انڈر انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس چوری کرتے ہیں،مثال کے طورپر گارمینٹس اور دوسری صنعتوں سے وابستہ سرمایہ دار اگر ڈسٹربیوٹرز یا ہول سیل سپلائرز کو اپنی پراڈکٹ 50 کروڑ کی بیچتے ہیں تو انوائس میں 25کروڑ ظاہر کرتے ہیں اور ٹیکس پھر 25 کروڑ کے حساب سے دیتے ہیں۔ تاہم ایکسپورٹرکیلئے ایساکرنامشکل ہے،ماہرین کامانناہے کہ ہمارے ملک کے سرمایہ دارسیاستدانوں نے اپنی ہی کوئی کمپنی دوسرے ملک میں کھولی ہے، تو وہ منی لانڈرنگ کر سکتا ہے اور اوور انوائسنگ بھی کرتا ہے،جہاں وہ ڈالرز بھیجتے ہیں اور بعد میں ایکسپورٹ کے نام پر اس پیسے کو وہ وائٹ کر لیتے ہیں۔ایف بی آر کی ویب سائٹس سے ریکارڈدیکھاجائے تو وہاں پیشے میں کئی سیاست دانوں نے زراعت لکھا ہے اور ٹیکس صفر ہے۔ حالانکہ ان پر ٹیکس بھی بہت معمولی ہے وہ یہ تھوڑا ساٹیکس بھی ادا نہیں کرتے جب کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی رہائش سے لے کر گاڑی تک سب ٹیکس فری ہے ،جوعوام کے دئے ہوئے ٹیکس کوشیرمادرسمجھ کرہڑپ کر رہے ہیں اور ہربارعوام سے ہی قربانی مانگی جاتی ہے ،دراصل ایوان اقتدار بیٹھے ہوئے یہ جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوںسے تعلق رکھنے والے نام نہاد بڑے لیڈرجن سے پاکستان قوم کادکھ درد سہانہیں جارہااورجھوٹے ٹسوے بہارہے ہیں یہی مافیا ٹیکس چورہے ،عام پاکستانی بچے کی پیدائش سے لیکر میت کے کفن تک ٹیکس دیتا ہے پھر بھی عام پاکستانی پر الزام ہے یہ ٹیکس نہیں دیتے۔