کوئی فرد، کوئی جماعت کوئی ادارہ ریاست سے مقدم نہیں ہے. ریاست ہے تو یہ جماعتیں، شخصیات اور ادارے ہیں. ریاست کی بنیاد شخصیات پر نہیں بلکہ آئین اور نظریات پر ہوتی ہے. اکتہر میں ہمارے پاس دنیا کی کرشماتی شخصیات تھیں لیکن ملک دو لخت ہوا تھا وجہ یہ تھی کہ نظریہ پاکستان پر کمپرومائز ہوا تھا.
ریاست کی بقاء، ترقی اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب ریاست کے سبھی ستون اور عناصر اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے اپنے ذمہ کام کو سر انجام دیں. آپ جو مرضی کرلیں ورلڈ بینک کے پاس چلے جائیں یا آئی ایم ایف سے معاہدے ہوجائیں پاکستان کے مسائل کا حل بھی ان معاہدوں میں نہیں ہے.
کرپشن کا ناسور وطن عزیز کو بری طرح سے جکڑ چکا ہے. اربوں کی کرپشن کرنے والے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں. وہ سارے جو نظریاتی طور پر ملک کو کھوکھلا کرتے رہے وہ حاکم بنے بیٹھے ہیں. قائد کے اسلامی نظریاتی پاکستان کا تشخص بری طرح سے مجروح ہوچکا ہے. ریاست پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی جو تھوڑی بہت عزت تھی وہ بھی مٹی میں ملائی جاچکی ہے.
چند چہرے و خاندان جو عشروں سے سیاست پاکستان کے ٹھیکدار بنے ہوئے ہیں ان کے پاس ملکی مسائل کا نہ حل ہے اور نہ وطن عزیز کے لیے کچھ بہتر سوچنے کا وقت ہے. ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہوتا رہا ہے جبکہ ان خاندانوں کے بزنس، جائدادوں اور مال و دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے.
وطن عزیز پاکستان کو ضرورت ہے تو نئے نظام اور نئے چہروں کی جو مخدوم نہیں بلکہ خادم ہوں. جو ذاتی کاروبار کرنے نہیں بلکہ پاکستان کی خاطر سیاست میں آئیں. جن کا اوڑنا بچھونا مغرب نہیں بلکہ پاکستان ہو. ایسے لوگوں کی پاکستان کو ضرورت ہے کہ جن کی سیاست، نظریات اور افکار کا محور و مرکز تل ابیب یا واشنگٹن نہیں بلکہ مکہ و مدینہ ہوں.
محمد عبداللہ
Category: سیاست

چاک گریباں از محمد عبداللہ

عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا
عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا
حالیہ سیاسی بحران میں، سابق اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم ڈپٹی سپیکر نے عدم اعتماد کا ووٹ مسترد کر دیا اور عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کیں لیکن پھر سپریم کورٹ قانون کی علمدراری کے لئے میدان میں آئی اور تاریخی فیصلہ دیا ،سپریم کورٹ نے عمران خان کے غیر آئینی اقدام کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق عدالت آزاد ہوگی۔ "آزاد عدلیہ” کیا ہے اس کا بہتر اندازہ حاصل لگانے کے لیے عدالتی آزادی کے بنیادی اصولوں کا استعمال کریں۔عدالت کو "خودمختار” کہا جاتا ہے ایک جج کا انتخاب منصفانہ طریقے سے کیا جاتا ہے، اور وہ اپنا کام اس طریقے سے کرتا ہے جو انصاف کے اصولوں کے مطابق ہو۔ جہاں جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جہاں حکومت کا انتخاب انتخابی عمل سے ہوتا ہے جبکہ عدلیہ قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں آئین کی محافظ ہیں جو بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہیں۔
درحقیقت سیاسی جماعتیں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر سیاست کرتی ہیں جب بھی فیصلہ ان کے حق میں نہیں آتا۔لہٰذا مختصر یہ کہ یہ عدلیہ نہیں بلکہ کمزور سیاسی نظام ہے جو عدم استحکام اور انتشار پیدا کرتا ہے۔عدلیہ ان سیاسی مسائل کا حصہ بننے سے گریز نہیں کر سکتی کیونکہ اس میں آئین اور قانون کی حکمرانی شامل ہے اور عدلیہ آئین کی محافظ ہے۔ ملک کی عدالتی تاریخ بتاتی ہے کہ جج آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے بغیر کسی خوف اور حمایت کے فیصلے کرتے ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے بنچ نے آئینی تباہی کو ٹال دیا۔ جب سے یہ ملک بنا ہے پاکستان میں انصاف کا مستحکم نظام موجود ہے۔قانون کی حکمرانی برقرار ہے اور عدلیہ آزاد ہے۔ آزاد عدلیہ ہی ملک کے لئے اچھے فیصلے کر سکتی ہے اور قانون و آئین شکنوں کو سزا دے سکتی ہے

تحریک عدم اعتماد کے اثرات
تحریک عدم اعتماد کے اثرات
یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی دن تھا جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قومی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے صدر کو وزیراعظم کا مشورہ بھی واپس کر دیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ کروں تو حتمی فیصلہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے اسے جمہوریت اور عدلیہ کی فتح قرار دیا کیونکہ عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کیا اور نظریہ کو دفن کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سب نے دیکھا کہ اپوزیشن حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور بعد میں نے اسمبلی کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔اب پی ٹی آئی کے حامی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاس کیا آپشن رہ گئے ہیں، اپوزیشن کے اقدام کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے ہے۔ تاہم، شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ تنقید کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی اب بھی اسمبلی میں نمبر گیم کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ اب تک متحدہ اپوزیشن عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیت منا رہی ہے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا اور اسے حکومت کی تبدیلی قرار دیا گیا۔کئی سیاسی تجزیہ کار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لیٹر گیٹ کا معاملہ حقیقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ذمہ دار عہدے سے کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کی تردید نہیں کی۔لہٰذا، ایک بات یقینی ہے ایک خاص قسم کی سازش تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بہت سے مواقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو لیٹر گیٹ کے معاملے پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر کے دوران کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی اور اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی غیر ملکی سازش کی تصدیق ہوئی تو وہ پریمیئر شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ لیٹر گیٹ سکینڈل پر تشویش ہے۔ میں اسے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا سیاسی سٹنٹ کہوں گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی جمہوریت میں اپنی سیاسی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کیوں اور کیسے ناکام رہی؟
میرے خیال میں پہلے تو یہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہوا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بزدار حکومت سویلین بیوروکریسی کو تبدیل کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں نے اسے سیاسی پختگی کا فقدان اور حکومتی امور چلانے میں تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری قرار دیا۔دوسرا، یہ مہنگائی، ناقص گورننس، اصلاحات کا فقدان، عمران خان کی اشتعال انگیز سیاست، اور بہت سے سماجی مسائل تھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزارت دفاع میں اہم تقرریوں کے معاملات تھے جنہیں کسی نہ کسی طرح حکومت نے غلط طریقے سے سنبھالا تھا۔ اسی طرح خراب معاشی حالات بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے کمزور ہونے کی ایک وجہ تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ان کو سیاسی الزامات قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔
فی الحال، پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کھو بیٹھی اور متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھال لیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سیاسی صورتحال کی وجہ سے بدل رہی ہے، بین الاقوامی کرنسی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بیرونی ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام کے منتظر ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو کئی علاقائی مسائل پر سفارتی طور پر شامل کر سکیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی اور آئندہ جو کچھ ہے وہ آنے والی حکومت کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔
قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بنائی گئی حکومت تقریباً دس چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے لیے حکومتی امور کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔۔مسائل کی بات کی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو حل کرنا ہوگا۔ گورننس سے مہنگائی تک، امن و امان سے لے کر دہشت گردی تک، معاشی بحران سے آئی ایم ایف تک، اور بہت کچھ۔ کاش نئے وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’بھکاری سلیکٹرز نہیں ہو سکتے‘ آخر میں ایک اور بات جو سیاسی نظام کے لیے طنزیہ ہے وہ یہ کہ ایک شخص جو عدالتوں سے ضمانت پر رہا اور جس کے کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جیسا کہ لیڈر اپنی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پاکستان میں ایک فرد ہونے کے ناطے ہر ایک کو اپنے ضمیر پر نظر ثانی کرنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا لیڈر کون ہوگا اور کوئی بھی قوم بین الاقوامی میدان میں اپنی عزت کیسے پیدا کرتی ہے۔

آئین کی پاسداری اور سربلندی کا عہد
یہ ایک حقیقت ہے کہ افواج پاکستان نہ صرف ملکی دفاع کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اس کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن کے حصے کے طور پر علاقائی اور عالمی امن کے لیے قربانیاں دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ حال ہی میں افریقی ملک کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دیتے ہوئے پاک فوج کے افسران اور جوان فضائی حادثے میں شہید ہو گئے۔ پاک فوج ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور ریاست کے خلاف کسی بھی انتشار کو روکنے کے لیے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتی ہے۔
حال ہی میں جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک میجر اور ایک جوان شہید ہوگئے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں 7 اہلکار شہید جب کہ مقابلے میں 4 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ وطن کے دفاع اور تحفظ کے لیے پاک فوج کے بے پناہ جذبے اور قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہماری سیاسی قیادت ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ خوش آئند پیش رفت ہے کہ ملک کی عسکری قیادت نے پاکستانی افواج کو ملکی سیاسی معاملات سے لاتعلق رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا اور سیاستدانوں سے کہا کہ وہ اپنے تنازعات اور مسائل اپنے اپنے فورم پر حل کریں۔ کچھ قوتوں نے ملک کے ریاستی اداروں کی توڑ پھوڑ کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جس کا حکومت اور اداروں نے فوری اور سخت نوٹس لیا اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ریاستی اداروں اور عوام میں تقسیم پیدا کرنے کی پروپیگنڈہ مہم کا بھی نوٹس لیا گیا اور واضح پیغام دیا گیا کہ پوری فوج آئین اور قانون کی پاسداری کر رہی ہے۔ملکی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ خب دار کرنے کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن شیطانی مہم جاری ہے۔ اس ساری صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔پاک فوج ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے ہمہ وقت چوکس اور تیار ہے۔ عوام کی حمایت ہی فوج کی طاقت کا ذریعہ ہے اور اس کے خلاف کسی قسم کی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ بے بنیاد بدتمیزی اور الزام تراشی کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے جو کامیاب نہیں ہو گی۔تاہم، ایسے الزامات کو روکنا چاہیے جو اداروں اور بین الاقوامی تعلقات کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن یا کسی بھی سیاستدان کو قانونی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے قانون کے خلاف مہم چلانے کا حق حاصل ہے لیکن حد سے تجاوز کرنا ملکی نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے قومی مسائل پر پریس بریفنگ ایسے وقت میں دی گئی جب کچھ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے ملکی قیادت کے بارے میں گھناؤنا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف بعض قومی معاملات پر بعض سیاسی جماعتیں ایسے تبصرے کر رہی ہیں جس سے اداروں کا امیج خراب ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس صورتحال میں میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس سے عوام میں واضح پو گیا ہے کہ یہ محض الزامات ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کے سیاسی دھڑے معزز سابق فوجیوں کے جعلی آڈیو پیغامات اپ لوڈ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسلح افواج پر بے جا تنقید سب سے زیادہ اقتدار جانے والی پارٹی کی جانب سے کی جا رہی ہے اور جھوٹ، پروپیگنڈہ میں اپنے لیڈر کی طرح انکے کارکنان نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی، پروپیگنڈہ اتنا کیا جاتا ہےکہ شاید اسکو لوگ سچ ماننے پر مجبور ہو جائیں، افواج پاکستان ملکی دفاع کی ضامن ہیں، ملکی سلامتی کے اداروں پر بے جا تنقید کرنا دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل ہے، پاکستان جن حالات میں ہے ایسے میں پاک فوج کے شانہ بشانہ چلنے کی ضرورت ہے ، سیاست تو ہوتی ہی رہے گی لیکن خدارا اپنے سیاسی مفادات کے لئے اداروں کو بدنام کرنے والا کام چھوڑ دیں،
ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام
فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ
سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا
عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم
عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔
القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف
سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے
سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟
اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔
ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔
گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔
محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔
محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔
جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”
یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔
چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات
اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا
بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔
بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .
دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.
حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔

ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے عدلیہ کا کردار اہم
عدالت قانون کی بیوروکریسی ہے۔ جب آپ کسی جج یا مجسٹریٹ کو عدالت میں بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں، تو آپ درحقیقت 1000 سال کے قانونی ارتقاء کا نتیجہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ عدلیہ کو آزاد، غیر جانبدار اور ریاستی اداروں سے نکلنے والے کسی بھی قسم کے دباؤ سے پاک ہونا چاہیے۔ عدلیہ کا بنیادی مقصد تمام لوگوں کو بغیر کسی امتیاز کے انصاف تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنا ہے۔عدلیہ کو پاپولسٹ قوتوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور پاپولسٹوں کے ہاتھوں آئینی اقدار کی بے حرمتی سے بچانا چاہیے عدلیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن، سیاسی بحران کی صورت میں جس سے ملک کے اندرونی استحکام کو خطرہ ہو، وہ ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے آئین کے دائرہ کار میں از خود نوٹس لے کر مداخلت کر سکتا ہے۔
حال ہی میں، پاکستان میں کچھ آئینی اور سیاسی بحران دیکھنے میں آیا جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اسمبلی میں غیر آئینی حکم دے کر عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی طور پر ناکام بنا دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے آئینی آرٹیکل کا حوالہ دیا جس کے تحت انہیں پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم اس اقدام نے ملک کو شدید بحران میں ڈال دیا۔ اس سلسلے میں عدلیہ نے مداخلت کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ اسی طرح، عدلیہ اور جمہوری اخلاقیات دونوں میں علامتی تعلقات ہیں جہاں جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے تاکہ انتخابات اور عوام کی مرضی سے حکومت کا انتخاب کیا جائے، جو آئین اور قانون کی حکمرانی کے نفاذ کے لیے کام کرتا ہے۔پاکستان میں 1973 کے آئین کے مطابق عدلیہ ریاست کا انتہائی اہم ستون ہے جس کا کام آئینی اقدار پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن، یہ پارلیمانی بالادستی کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
ہماری عدلیہ کا دوسرا کام عوام کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔دونوں جماعتوں نے سیاسی اور آئینی عمل کو آسان بنانے کے بجائے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی جس سے پارلیمانی کارروائی میں عدالتی مداخلت کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن عدلیہ کا شکریہ جس نے آئینی حدود میں رہ کر سمجھدار اور ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا۔ اسی طرح یہ پہلا موقع نہیں جب عدلیہ کی مداخلت نے ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال کو دور کیا۔ ہم نے ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں عدلیہ ملک کے آئین کو بچانے کے لیے آئی۔
بدقسمتی سے کچھ ریاست دشمن عناصر محض اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں سیاسی افراتفری عدلیہ کی مجموعی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثال کے طور پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ سیاسی مقدمات عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کو کم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کسی کو سمجھنا چاہیے کہ عدلیہ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سیاسی سیٹ اپ کا حصہ ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں آئین اور قانون کی حکمرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ملک کے سیاسی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے عدالتی نظام سے مجموعی دباؤ کو کم کرنے کے لیے عدلیہ کے ساتھ تعاون کریں۔چنانچہ جب ہم عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو ڈپٹی سپیکر کے فیصلے سے متعلق حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے کام کر رہی ہے جو کہ ملک میں عدالتی آزادی کے لیے نیک شگون ہے۔ حکومت کو ہماری عدالتی اخلاقیات کو مضبوط کرنا چاہیے اور کسی سیاسی بحران یا عدالتی سرگرمی کے لیے عدالتی برادری کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ اگر حکومت عدلیہ کو مزید سیاسی استحکام فراہم کرے تو ملک کی عدالتی کارکردگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔
ملک میں عدالتی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ کچھ میڈیا عناصر بھی اپنے حمایتیوں کی تعریف کرنے کے لیے ملک کی مجموعی عدالتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ میڈیا برادری عدالتی کارروائی کو تعصب کی نظر سے نہ دیکھے۔ وہ عدالتوں کے تنقیدی فیصلوں پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن مثبت اور پختہ انداز میں۔ ملک کے سیاسی، میڈیا اور علمی برادری کے تعاون کے بغیر عدالتی نظام چل نہیں سکتا۔ ریاستی اداروں کو آگے آنا چاہیے اور عدلیہ اور اس کے فیصلوں کے خلاف پروپیگنڈہ بند کرنا چاہیے۔ عدلیہ پر جانبدارانہ تنقید سے عدلیہ کی آزادی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل
بیرونی جبر سے ریاست کی نظریاتی اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کووِڈ-19 کے انتہائی سنگین حالات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی تعزیرات کے گھمبیر خطرے کے درمیان ملک کے معاشی بحران کو حل کرنے میں مسلسل بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مستقل ادارہ جاتی ناکامی۔ فوج قومی سلامتی کے سوچنے والے آلات کے طور پر تیار ہوئی ہے اور اس نے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں تیار کی ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی اور فوجی حکمت عملی اس کی بنیادی بنیاد بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تنظیمی صلاحیت اور چستی نے اسے مسئلہ حل کرنے والی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی قیادت کی طرف سے ظاہر کی گئی نااہلی اور صلاحیت کی کمی نے فوج پر سول کام کے شعبے میں شامل ہونے کا بوجھ ڈالا ہے، خاص طور پر بحرانوں کے دوران۔ وبائی مرض کے دوران، جب کہ پوری دنیا بحرانوں کی زد میں تھی، پاکستان کی فوج نے حکمت عملی کی قیادت کی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) کے ایک نئے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنایا۔ فوج کی تنظیمی اور انتظامی مہارت کو اچھی طرح استعمال کیا گیا، اور ایک جدید ترین فوری لیکن پائیدار حل سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف غریبوں میں خوراک اور طبی آلات کی تقسیم میں حصہ ڈالا بلکہ CoVID-19 کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم بھی چلائی۔
اس طرح کی موثر اور ہم آہنگی کی کوششوں کی بدولت پاکستان نے نہ صرف کووِڈ 19 کے بعد کی صورتحال سے بہت مؤثر طریقے سے نمٹا ہے بلکہ ایک آنے والے معاشی المیے کو بھی ٹال دیا ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ NCOC کے پاکستان ماڈل کا بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گہرائی سے مطالعہ اور تعریف کی گئی۔ بل گیٹس نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایسی اہم کوشش پر NCOC کو سراہا۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC) بنا کر ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے دوران اسی طرح کی حکمت عملی کو حرکت میں لایا گیا اور بڑی کوششوں کے بعد خطرہ ٹل گیا۔1993 میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے سونا اور تانبا نکالنے کے لیے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جسے ریکوڈک معاہدہ کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں، یہ ثابت ہوا کہ کینیڈین کمپنی کے ساتھ معاہدہ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس دوران کمپنی نے پاکستان کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل پر مسئلہ کو انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) کو بھیج دیا اور پاکستان کے خلاف 11.5 بلین ڈالر جرمانے کا مطالبہ کیا۔اتنی بڑی رقم پہلے سے نقدی کی کمی کا شکار پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ ایک عام علم ہے کہ فوج نقصان کو سنبھالنے اور کم کرنے کے لیے اوور ڈرائیو میں گئی۔
سخت کوششوں کے بعد نہ صرف خطرہ ٹل گیا بلکہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان نہ صرف 11.5 بلین ڈالر کا جرمانہ معاف کروانے میں کامیاب ہوا بلکہ اسی کمپنی کو بلوچستان میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی آمادہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع میسر آئیں گے۔ 2008 میں، پی پی پی کی حکومت نے کارکی کراڈینیز الیکٹرک یوریٹین (KKEU) کو رینٹل پاور پروجیکٹ سے نوازا تھا۔ لیکن یہ 231 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہا جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار تھا، حالانکہ کمپنی کو صلاحیت کے چارجز کے طور پر 9 ملین ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے۔
2013 میں، KKEU نے تقریباً 16 ماہ تک کراچی بندرگاہ کو چھوڑنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے اپنے جہازوں کو ہونے والے نقصانات یا قدر میں کمی کی مد میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگتے ہوئے ICSID کو منتقل کیا۔ ترکی کی کمپنی نے بعد میں 2017 میں مقدمہ جیت لیا اور پاکستان پر 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ شکر ہے، 2019 میں، ریاستی اداروں نے فوج کی سفارتی حکمت کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا اور جرمانے میں 1.2 بلین ڈالر کی بچت کی۔چمالنگ کول مائنز کی ملکیت کا تنازعہ بھی پاک فوج کی ثالثی سے حل ہو گیا جس کی مالیت 12 ارب ڈالر ہے۔
جنوری 2006 میں، کوئٹہ میں قائم 41 ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے متحارب فریقوں کو اکٹھا کرکے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ایک پہل شروع کی۔ میرس، لونس اور ٹھیکیداروں کو فوج کی ثالثی پر مکمل اعتماد کرنا تھا۔ جب سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، 1.5 ملین ٹن کوئلے کی کھدائی ہو چکی ہے جس سے پاکستان کو 37 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ 2007 تک، کانوں نے بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے لیے 55,000 ملازمتیں پیدا کیں۔پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی بھی CPEC کے تقریباً 62 بلین ڈالر کے منصوبوں کو ہموار چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔
فوجی اہلکار اس منصوبے کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوریڈور کو حکومت کے منصوبے کے مطابق تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فلیگ شپ پروجیکٹ کے تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا گیا ہے۔ فوجی انجینئر اس راہداری کے حصوں کی تعمیر میں مصروف ہیں، جہاں سڑک موجود نہیں ہے اور فوج نے اس کی حفاظت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔اس کے علاوہ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) پہلے ہی CPEC کے مغربی روٹ کے حصے کے طور پر بلوچستان میں 870 کلومیٹر کے روڈ نیٹ ورک میں سے 556 کلومیٹر مکمل کر چکی ہے۔
بلوچستان کے پراجیکٹس پر FWO کے 12 یونٹ بھی تعینات کیے گئے تھے اور FWO علاقے کی تنہائی اور ناہمواری کے حالات کے پیش نظر لاجسٹک خدشات کے باوجود مشکل لیکن چیلنجنگ کام کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ناقابل تسخیر ہے۔
پاکستانی فوج طویل عرصے سے قومی تعمیر کے کاموں میں شامل رہی ہے جس میں شاہراہ قراقرم جیسی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ ڈیموں کی مرمت؛ آبپاشی کی نہروں کی صفائی؛ مردم شماری کا انعقاد؛ اور انتخابات کا انعقاد۔ اس کے علاوہ، فوجی سفارت کاری اور اس کی مذاکراتی صلاحیتوں نے متعدد مواقع پر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کی تنظیمی طاقت، اس کی چستی اور اس کے محنتی دفتری کیڈر نے اسے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ قومی سطح کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کی ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، پاکستان کی فوج حکومت پاکستان کی مدد کرنے پر فخر کرتی ہے۔ اور مشکلات سے قطع نظر، اس نے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کے لیے بہت سے اسٹریٹجک چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔

میاں اکبر خاندان کے جانشین ، تحریر: ممتاز اعوان
میاں عمران مسعود ملک کی ضرورت ہیں جنہوں نے اپنی جوانی، اور تمام قیمتی سال ایک مربوط نظام تعلیم، اور نوجوانوں کی بہتری کے لیے انتھک محنت سے صرف کیے ہیں۔ آپ نے اپنا آغاز اس وقت کیا جب آپ کی عمر صرف 25 سال تھی، اپنے شہر کی خوف سے فتح تک نمائندگی کی، آپ زندگی کے کٹھن نشیب و فراز سے گزرے، 4 بار ایم پی رہے جن کی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں تھی۔
آپ نے اپنے خاندان کے قاتلوں کو غیر مشروط معاف کر دیا جس میں کسی قسم کا کوئی مالی مفاد نہیں تھا۔ آپ کے اس عمل نے باقیوں کے لیے ایک مثال قائم کی، یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
آپ نے اس تجدید دوستی کو اپنے کسی سیاسی فائدے کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا۔ آپ ہمیشہ حسنِ اخلاق کے ساتھ کھڑے رہے۔پارلیمانی سیکرٹری صحت سے لے کر چیئرمین ٹاسک فورس ایجوکیشن، اور ایک معروف وزیر تعلیم تک، یہ سب کچھ اب VC-ship تک پہنچ کر آپ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ ایچ ای سی کے رکن رہے، حکومت کے درمیان خلیج کو کم کرنے اور نجی یونیورسٹیوں کی بہتر کارکردگی کے لیے انتھک کوشش کی۔
آپ ایک ایسا اثاثہ ہیں جن کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ اب 10 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ آپ نے یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کو لگاتار اس کے وائس چانسلر کی حیثیت سے آگے بڑھایا۔ آپ نے اس ادارے کو اپنی محنت اور لگن سے چار چاند لگا دیے۔
تمام حکومتوں کو ان سے مشورہ لینا چاہیے اور سائنس اور تعلیم کے اس شعبے میں ان کے تجربے کو ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ گجرات میں ایک یونیورسٹی کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں آپ کا حصہ رہا ہے۔ آپ نے گجرات شہر کی ثقافت کو بدلنے میں مدد کی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے 40 سال اس خوبصورت مقصد کے لیے دیے اور اب بھی مزید دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم آپ کے لازوال جوش اور ولولہ انگیز جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی دیانتداری اور مقصدیت کا خلوص ان کے خوش آئند عزائم کا خاصہ رہا ہے۔
آپ نوجوانوں کے لیے روشنی کا مینار اور بہت سے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے. آپ نے کئی مواقع پر اپنے ملک اور محکمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے دور دور کا سفر کیا۔ البتہ یہ منفرد اور بے مثال ہے۔ آپ بیرون ملک کئی کانفرنسوں میں کلیدی مقرر رہے ہیں۔میاں عمران مسعود نے جو قابل ذکر کانفرنس اٹینڈ کیں ان میں ایک ماؤنٹ ٹریبلنٹ کانفرنس ہے ،کینیڈا کا ایک ایسا علاقہ ہے جو برف پوش ہے، وہاں کانفرنس ہوئی تھی، دنیا کے کئی ممالک کے صدور اس کانفرنس میں آئے تھے، بل کلنٹن بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے ، وہاں پر مختلف ممالک کا تذکرہ ہوا اور جب کلنٹن نے مختلف افریقی ممالک کا ذکر کیا لیکن کشمیر کا ذکر نہ کیا ، جب کانفرنس ختم ہوئی تو پاکستان کے وفد میں شامل میاں عمران مسعود آگے لپکے اور بل کلنٹن سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا اچھا ہوتا کہ آپ کشمیر کا بھی ذکر کرتے جس پر بل کلنٹن نے کہا کہ مجھے کشمیر کا ذکر کرنا چاہئے تھا جو مجھ سے رہ گیا، اس کانفرنس میں میاں عمران مسعود نے پاکستان کی بھر پور انداز میں نمائندگی کی تھی،میاں عمران مسعود بیرون ممالک میں بھی پاکستان کا چہرہ بنے رہے، انہوں نے ہمیشہ پاکستانیت پر بات کی، یہ سب کچھ اب سامنے آنا چاہیے۔ آپ نے دوستی، اعتماد، حب الوطنی، اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے تصور پر اعتبار کیا، ایک بیمار معاشرے میں جہاں دھوکہ دہی، عیب جوئی اور ہیکلنگ روز کا معمول بن گیا ہے۔ آپ ایک اثاثہ ہیں، جن پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ آنکھ بند کر کے آپ نے ثابت قدمی کے ساتھ انمول شراکتیں پیش کیں، اور درمیانی دھارے میں گھوڑوں کو کبھی نہیں بدلا۔ آپ نے ضربیں لگائیں لیکن سینہ تان کر کھڑے رہے۔ آپ کا ماضی آپ کے امید افزا کل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نئے اور آنے والے سیاستدانوں کے لیے آپ کی شخصیت قابل تحسین ہے۔ آپ بغیر کسی مراعات کے اپنی پارٹی اور عوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔
سیاسی منظر نامے کو ایسے بے لوث لوگوں کی ضرورت ہے۔ گجرات کو فخر ہے کہ ایسا بیٹا اس عقیدتمندانہ مٹی سے ہے۔ آپ اپنے شہر میں، آپ ملکی سطح کے حلقوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کسی بھی فعال جمہوریت کی بنیاد ہے۔ آپ اپنی پارٹی کے ساتھ وفادار رہے۔ وہ پارٹی جس نے حال ہی میں طوفان کا سامنا کیا۔ آپ انتہائی مشکل وقت کے باوجود سختی سے ڈٹے رہے۔ اکبر خاندان اور چھوٹے لوگ آپ کے نئے خواب اور وژن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ اپنے زیادہ تر ہم عصروں کے برعکس، آپ نے خاندان کی چاندی اس شہر کی خدمت کے لیے دے دی جس سے آپ کا تعلق تھا، جس کے لیے آپ کو کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی دل آزاری ہوئی۔
میاں عمران مسعود کے بھائی میاں ہارون مسعود گجرات کے تحصیل ناظم رہ چکے ہیں اور وہ انگلش کے آتھر بھی ہیں میاں ہارون مسعود نے بھی علاقہ عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انتہائی عاجز عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے اور انکے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھنے والے میاں ہارون مسعود اسی وجہ سے گجرات میں عوامی حلقوں میں مقبول ہیں کیونکہ وہ خود کو عوام میں سے سمجھتے ہیں جب وہ تحصیل ناظم تھے تو انہوں نے گجرات میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا ۔سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ہاوس میں زمیدارہ کالج کو یونیورسٹی بنانے کہ قرارداد پیش کی جو 92 ووٹوں سے منظور ہوئی بعد ازاں اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول گجرات گئے اور انہوں نے زمیدارہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ یوں میاں ہارون مسعود کا اپنے علاقے میں یونیورسٹی کا دیرینہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچا ۔تعلیم دوست خاندان کو نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب سمیت پاکستان بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس میں انکے کردار کا کمال ہے ،میان عمران مسعود، میاں ہارون مسعود دونوں بھائیوں نے انکے بزرگوں کے جو دوست تھے انکو اپنا اثاثہ جانا اور انکی ہر خوشی غمی میں انکا ساتھ دیا، جو محبت ،عزت انکے بزرگوں کی جانب سے انکے دوستوں کو ملتی تھی، اب اس سے کہیں بڑھ کر دونوں بھائی انکی عزت کرتے ہیں اور ہر لمحہ انکے ساتھ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں ، انہوں نے کبھی کسی کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا،
میاں ہارون مسعود کے بیٹے میاں زورین مسعود، میاں اکبر اور میاں عمران مسعود کا بیٹا میاں ہاشم مسعود ایچی سن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک سے بھی ڈگری ہولڈر ہیں اور وہ بھی اب گجرات میں ہی والدین کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ میاں ہارون مسعود کے بیٹے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ان میں بھی عوامی خدمت کا جذبہ والد کی طرح موجود ہے وہ بھی گجرات کی عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور قوی امید ہے کہ وہ اپنے مشن خدمت خلق میں کامیاب ہوں گے کیونکہ جب نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے انسان کی زبان نہیں بلکہ اسکا کردار سب کے سامنے ہوتا ہے اور اس خاندان کا کردار سب کے لیے مشعل راہ ہے
میاں اکبر خاندان اور اس کی اولاد زندہ باد
پاکستان زندہ باد
قدم بڑھاؤ عمران مسعود ہم تمہارے ساتھ ہیں
عمران خان کی حکومت کا خاتمہ
عمران خان کی حکومت کا خاتمہ
عمران خان 2018 میں کرپشن کے خلاف جنگ، پولیس، عدلیہ اور تمام ریاستی اداروں میں اصلاحات لانے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ الیکشن کے بعد 26 جولائی 2018 کو اپنی پہلی تقریر میں عمران خان نے کہا کہ احتساب مجھ سے شروع ہوگا، میں سادگی اختیار کروں گا، پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بناؤں گا، کمزور طبقوں کو اوپر لاؤں گا، گورننس بہتر کروں گا اور کرپشن ختم کروں گا، وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا۔ کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سالوں میں معیشت کی بحالی، مہنگائی پر قابو پانے اور اصلاحات لانے کے وعدے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔ ان کے تین سالہ دور حکومت میں اپوزیشن نے انہیں مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کی خراب حکمرانی کی وجہ سے بے دخل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ اپنے اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے۔ 3 مارچ 2021 کو عمران خان نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ ایک سال بعد مارچ 2022 میں اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن نے عمران خان کو ہٹانے کی کوششیں شروع کر دیں، جب ان کی حکومت کے اتحادی پارٹی چھوڑ کر حکومت کے خلاف اپوزیشن میں شامل ہو گئے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غیر ملکی سازش ہے، ان کے پاس ثبوت کا خط موجود ہے۔اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے عوام کے سامنے خط دکھایا، اسے غیر ملکی سازش کا ثبوت قرار دیا، خط کا مکمل مواد تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔ لیکن عمران خان کے مطابق خط میں ایک پیغام ہے جو مبینہ طور پر اسد مجید کو ڈونلڈ لو کی طرف سے موصول ہوا ہے جو کہ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے امریکی معاون وزیر خارجہ ہیں۔ اپوزیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خط کو اگلے دن سیکیورٹی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کرکے عوام کے سامنے کیوں نہیں دکھایا؟ پاکستان میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق انہیں بیرونی سازش، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکی کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی عمران خان بات کر رہے ہیں۔ عمران خان کو غیر ملکی سازش کا خیال کافی دیر سے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ میں زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے تو انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ان کی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ روک دی اور اپوزیشن کے قانون ساز کو غدار قرار دے دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے امریکہ کے ساتھ سازش کی۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے سے پارلیمنٹ تحلیل کر کے ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا.لیکن متحدہ اپوزیشن کے مطابق عمران خان کی حکومت گرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ان کے اتحادی اور فرنٹ مین کی طرف سے مسلسل بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ان کی پارٹی کے زیادہ تر ایم این اے ان کی حکمرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیا۔ اپوزیشن نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ بہت سے دوسرے عوامل ہیں جو واقعی خان کی پارٹی کی حکومت کے زوال کا باعث بنے جن میں آرمی چیف کی توسیع اور بعد میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے دوران حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر پاکستان میں فوج کے ادارے کو متنازعہ بنانا شامل ہے۔ دوسرا عنصر خارجہ پالیسی بھی ہے اور صوبہ پنجاب کی گورننس اور اس صوبے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تقرری جو پاکستان کا آدھا حصہ سمجھتا تھا۔ عمران خان تمام غیر آئینی اقدامات کرنے کو تیار تھے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو غیر آئینی اقدام اٹھانے سے انکار پر برطرف کر دیا گیا۔ عمران خان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے اور غیر ملکی سازش کا بیانیہ بنا رہے تھے اور ان کا سارا بیانیہ اسی پر مبنی تھا۔ وہ سیاسی شہید بننے کے لیے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، قومی اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے اس نے پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران میں دھکیل دیا۔ انہوں نے اسے سرپرائز قرار دیا لیکن یہ کوئی سرپرائز نہیں تھا، یہ ایک آئینی بحران تھا جس نے پاکستان کو سیاسی بحران میں بدل دیا۔ خان نے تمام اقدامات صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے کیے، اور کچھ نہیں۔ جب عمران خان نے قومی اسمبلی کو تحلیل کیا تو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ’’سو موٹو نوٹس‘‘ لیا، 4 دن کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے پایا کہ وزیراعظم عمران خان کا 3 اپریل کو ہونے والے عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کا اقدام تھا۔ آئین اور قانون کے خلاف ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ غلط تھا اور 9 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کو دوبارہ بلانے اور عدم اعتماد کا ووٹ کرانے کا حکم دیا۔
9 اپریل کو اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کی رہنمائی میں شروع ہوا لیکن خان حکومت نے عدم اعتماد کے ووٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے تمام تاخیری حربے استعمال کیے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ نہ ہو سکے۔ اس چیز نے ایک اور سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی عمران خان کی جانب سے ووٹنگ کے حوالے سے دباؤ کا شکار تھے۔ سپیکر سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند تھے، دوسری طرف ان پر توہین عدالت لگ رہی تھی، اگر وہ ایسا نہ کریں تو۔ پورا دن اسی افراتفری کی زد میں رہا، ووٹنگ نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:30 پر کھول دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بحران سے نمٹنے کے لیے رات گئے کھولے۔ دوسری جانب کسی بھی قسم کی بدامنی سے نمٹنے کے لیے تمام ریاستی ادارے ہائی الرٹ تھے۔ آخر کار قومی اسمبلی کے سپیکر اسدقیصر نے سپیکر شپ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے 11 بجکر 45 منٹ پر اجلاس کی صدارت کی اور اپنا استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنی کرسی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پینل کے رکن ایاز صادق کو دی۔ ایاز صادق نے اگلے اجلاس کی صدارت کی اور تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کا عمل مکمل کیا جس میں 174 ارکان نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا۔ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد سے خان کی تقاریر میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان تقاریر میں قومی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ذاتی اور سیاسی ہٹ دھرمی سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی تقاریر سماجی سطح پر بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بنیں۔ لگتا ہے عمران خان وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو کر واپس کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں۔ عمران خان نے خود اپوزیشن کو متحد ہونے اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی راہ ہموار کی۔پاکستانی عوام عمران خان سے بہت پر امید تھے کہ وہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی امید ٹوٹ گئی، آخرکار انہوں نے پاکستان کو آئینی بحران میں ڈال دیا۔ نئی حکومت شہباز شریف کی قیادت میں بن گئی ہے ،دیکھیں اب آنے والے دنون میں کیا ہوتا ہے؟









