Baaghi TV

Category: سیاست

  • اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    تم اقتدار کی ہوس اور انا کی جنگ لڑ لو۔
    عوام کی خیر ہے,گزر ہی جائے گی۔
    کہتے ہیں یہ حکمران عوام کی جنگ لڑتے ہیں بھٹو نے اقتدار کے لیے پھانسی دے دی اقتدار نہ چھوڑا. نواز شریف نے اقتدار نہ چھوڑا نااہل ہو گیا ماں مر گئی جنازے پہ نہ آیا بیوی مر گئی اس کی میت دیکھنے نہ آیا تابوت بھیج دیا ۔عمران خان دعائیں کرتا رہا کہ میرے حریف میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں اور جب عدم اعتماد آگئی تو ملکی سلامتی کو اداروں کو داو پر لگا دیا۔عمران خان نے جھوٹ بول کر امریکی خط کا شوشہ چھوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ تو بنا لیا مگر دنیا بھر میں اپنے ملک کو بدنام کر گیا ۔اپنے اداروں کو بدنام کر گیا ۔فرض کریں اگر یہ سچ بھی تھا تو پہلے آپ اپنی خارجہ پالیسی تو مضبوط بناتے اپنے ملک کو مضبوط بناتے ۔اتنا مضبوط کہ آپ جس ملک سے قرضہ لیکر اپنا ملک چلا رہے ہو ۔اس سے پنگا لینے کے بعد آپ کو اس سے قرضہ نہ لینا پڑے آپ نے پوری دنیا میں امریکہ امریکہ کر کہ خود کو ہی بدنام کیا آج عمران خان بھی حاکم ہوتا تو کوئی ملک آپکو قرضہ نہ دیتا۔کیونکہ اقتدار کی ہوس میں آپکی دس گز لمبی زبانیں آپ کی سیاسی ساکھ تو خراب کرتی ہے ساتھ ساتھ دنیا کو آپکا معیار بھی دکھاتی ہے کہ پلے نہی دھیلا تے کردی میلا میلا

    کچھ لوگ کہتے ہیں بھٹو برا ہو سکتا نواز شریف برا ہو سکتا لیکن عمران خان بہت اچھا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی عوام کا بہت خیال رکھا شاید وہ عوام حریم شاہ اور فرح گوگی تھی ۔کیونکہ عمران خان ہی تھا جس نے مہنگائ کی شروعات کی۔پانچ سال جو پہلے جو بجلی کا یونٹ پانچ روپے تھا وہ سترہ روپے کیا عمران خان نے ۔پٹرول جو پچپن روپے تھا ستر روپے کیا عمران خان نے ۔یہ عمران خان ہی تھا جس نے بجلی اور پٹرول کے معاہدے کیے آئ ایم ایف سے۔

    یہ عمران خان ہی تھا جس کا کہنا ہے کرسی مل جاے ورنہ ملک تین ٹکرے ۔کرسی مل جاے ورنہ فوج تباہ ہو جاے گی کرسی مل جاے ورنہ عوام لٹ جاے گی ۔کرسی مل جاے ورنہ اس ملک میں کوی بھی میری طرح مخلص لیڈر نہیں آے گا ۔بس ایک بار کرسی مل جاے لانگ مارچ دھرنوں سے ملکی ساکھ کو نقصان ہونا شروع ہو جاے گا ۔بس کرسی مل جاے پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔کرسی مل جاے پھر جنرل باجوہ جیسا نیک ایماندار دنیا میں کوی نہیں اور پاک فوج جیسی عظیم فوج کسی ملک پاس نہیں۔

    یہ عمران خان ہی تو تھا کہ جب کراچی پی آئی اے حادثہ کا شکار ہوا پائلٹ سواریاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا تو جناب نے سارا ملبہ پی آئی اے کے افسران پہ ڈال کر بہادری کی رقم قائم کر دی کہ پی آئی اے میں تمام افسران پائلٹ کی جعلی ڈگریاں ہے۔اور ان کو پی آئی اے سے نکال دیا گیا ۔لیکن پھر کیا ہوا کہ تمام ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا جو اب تک لگی ہوئی ہے اور جب تحقیقات کی تو دو کے سوا کسی کی ڈگری جعلی نہ تھی ۔

    یہ عمران خان ہی تھا جو گراونڈ میں کہتا تھا کہ فوج کے خلاف خلاف نہ بولو فوج ہے تو ملک ہے پھر اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے فوج کے خلاف گالی گلوچ کرواتا تھا ۔بعد میں اسی سوشل میڈیا ٹیم کو ملنے کے لیے پشاور بھی بلوا کر شاباش دیتا تھا ۔یہ عمران خان ہی تو تھا جو اپنے لانگ مارچ کو جہاد اور صحابہ انبیاء کرام کی جنگوں سے ملوا کر اپنے انصافین کو گھروں سے نکلنے کا جوش و جزبہ دلواتا رہا اور پھر جب وقت آیا تو مزاکرات کر کے راتوں رات پتلی گلی سے نکل گیا۔

    ۔کیونکہ عمران خان اور اس کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بڑا گیمر بندہ پاکستان میں کوئی نہیں لیکن یہ سوچ ہے ان کی۔ ملک کرکٹ کی پچ نہیں ہے نہ ہی ملک دس چوکوں چھکوں سے چلتے ہیں کیونکہ یہ ملک ہے کرکٹ نہیں ۔کہ جہاں بلا میرے ہاتھ میں ہے تو بس میرے ہاتھ میں رہے بس میں ہی کھیلوں گا۔ کیونکہ میں کرکٹ کا چیمپئن ہوں دنیا مجھے چاہتی ہے۔۔لیکن یہ بھول جانا اس سے پہلے بھی یہاں تخت نشین کوی اور تھا اس کی بھی یہی سوچ تھی۔۔

    کاش عمران خان وہ لیڈر ثابت ہوتا جو پانچ سال پہلے اوپزیشن میں تھا ۔سچا کھرا سنہرے خواب دکھانے والا۔۔۔چوروں اور ڈاکووں سے پیسہ واپس لانے کے دعوے کرنے والا۔۔
    پر کیا ہے کہ خان بھی تو سیاست دان ہی نکلا ۔۔اور سیاست دان عوام سے کیے اپنے وعدے پورے ایسا بھلا کیسے ممکن تھا۔
    حنا سرور

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان اقتدار سے گئے تو واقعی خطرناک ہو گئے پاکستان کے لیے ۔پاکستانی قوم کے لیے ۔اداروں کے لیے

    یو ٹرن خان کے نام سے مشہور عمران نیازی اقتدار میں آنے تو قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا ۔آئی ایم ایف کے پاس گئے لیکن خود کشی نہ کی. امریکہ جا کر کشمیر فروشی کی اور اسلام آباد میں ایک دن کشمیر کے لیے ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہ کر منافقت کی حد کر دی۔ دوست ممالک کو ناراض کیا .خارجہ پالیسی اتنی کمزور تھی کہ کبھی ترکی ناراض تو کبھی سعودی عرب کبھی ایران کبھی چین اور دعوے اتنے بلند و بالا جو کھوکھلے ہی رہے۔ کرکٹر عمران نیازی نے سمجھا وزیر اعظم بن کر یہاں بھی سب کو فتح کروں گا لیکن انکی اپنی وکٹیں گرتی رہیں کابینہ ایک بار نہیں درجنوں بار بدلی۔ مشیر بدلے وزیر بدلے لیکن عوام کی حالت نہ بدلی ۔بزدار کے حوالے پنجاب کر کے پنجاب کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا بیورو کریسی میں تبادلے ہر ماہ ہوتے رہے جو کام کرتا اسکا تبادلہ کر دیا جاتا فرح کے نام پر کرپشن کا بازار گرم کیا ۔ مشیر ملک لوٹتے رہے لیکن نیازی کا سارا زور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو جیلوں میں بھجوانے پر رہا ۔ڈالر مہنگا ہوتا چلا گیا مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا پھر حالات نے پلٹا کھایا اور عمران خان آئین شکن بنے ۔عمران نیازی کا نام تاریخ آئین شکن کے طور پر یاد کرے گی ۔کرسی اتنی عزیز کہ اپنوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے باوجود بھی وزیراعظم کی کرسی سے چپکے رہے ۔جب کرسی گئی تو عمران خان کا دوہرا معیار سامنے آنے لگا اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے اداروں کے خلاف ٹرینڈ کروائے گئے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ اداروں کو دھمکیاں دی گئیں افواج پاکستان کے افسران کی کردار کشی کی گئی ۔خفیہ خط والا بھانڈا پھوٹا تو جان سے مارے جانے کا انکشاف کیا حکومت نے سیکورٹی دینے کو کہا تو پھر بہادر عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ سے پشاور چھپ کر جا بیٹھے ۔اور اداروں کی کردار کشی کے علاوہ ملکی سالمیت کے خلاف بیان دینے لگے۔ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کو اب کسی دماغی ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہے یا پھر انہیں تین روز کے لئے صرف تین روز کے لیے رانا ثناء اللہ کے حوالہ کیا جائے تو انکا علاج ہو سکتا ہے۔عمران خان کی اداروں کے خلاف مہم سیاست میں شدت پسندی اراکین اسمبلی کو دھمکیاں سب ریکارڈ پر ہیں آئین شکنی کے ساتھ توہین عدالت بھی کرتے رہے اور بہادر اتنے کہ اب لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

    عمران خان کے دور حکومت میں جو ہوا اسے پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔ڈالر کا مہنگا ہونا۔ آٹے کا بحران چینی کا فقدان پٹرول کے لیے لمبی لائنیں ادویات کی قلت خود ساختہ مہنگائی سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈالنے کو عوام کبھی نہیں بھول پائے گی۔ پچاس لاکھ گھر جو عمران خان نے بنائے وہ بھی قوم نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کے دور میں کرائم میں اضافہ عثمان مرزا کیس نور مقدم قتل کیس وہ بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ سعودی عرب کا عمران خان سے قرض واپس مانگنا ترکی کا ناراض ہونا قوم نہیں بھول پائے گی۔ سارا دن سخت دھوپ میں مزدوری کرنے والے مزدور کو شام کے وقت اسی روپے کلو آتا اور ایک سو ستر والا گھی ساڑھے چار سو روپے میں خریدنے کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح کے کارناموں کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے مشیروں کی کارستانیاں بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ شہزاد اکبر کے دعوے بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے وزیروں کی جانب سے ایک روٹی کھانے کے مشورے کو قوم نہیں بھول پائے گی . عمران خان کے لانگ مارچ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کو قوم نہیں بھول پائے گی ۔مسلح افراد کی لانگ مارچ میں شرکت اور عمران خان کی اعتراف کو قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے ملکی سلامتی اداروں کے خلاف بیانات قوم نہیں بھول پائے گی۔ بلکہ اب تو عمران خان کو نظر آ گیا ہو گا جو بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے ساتھ ہوا. فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے تاخیری حربوں کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ ملک ٹوٹنے کے بیان کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کی جانب سے اپنے محسنون کی کردار کشی اپنے دوستوں کو بلاوجہ گرفتار کروانے مقدمہ بنانے کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔غرضیکہ عمران خان کا ایک ایک کارنامہ قوم یاد رکھے گی اور جب بھی الیکشن ہوئے قوم عمران خان کے ساتھ حساب برابر کرے گی.عمران خان جس کو اللہ نے عزت دی تھی اس عزت کو خاک میں ملانے کا ہاتھ بھی عمران خان کا ہی ہے۔ کرسی کے لالچ میں اتنے اندھے ہو گئے کہ ملک دشمنی پراتر آئے اور شاید اس وقت عمران خان کے ہوتے ہوئے کسی اور ملک دشمن کی ضرورت نہیں .قوم اب عمران خان کے دعوے یوٹرن ۔جھوٹ سب جان چکی اور قوم کو بھی اب انتظار ہے اگلے الیکشن کا جس میں قوم عمران خان کا ڈٹ کر محاسبہ کرے گی۔ پاکستانی قوم ایک خود دار قوم ہے عمران خان اگر قوم کے ساتھ سچ بولتے تو قوم انکے ساتھ تھی لیکن انہوں نے وہ کام شروع کر دیئے جو ملک دشمنوں کے تھے ایسے میں قوم کسی بھی ایسے شخص کو آگے نہیں آنے دے گی جو پاکستان میں رہتے ہوئے ملک دشمنی پر اتر آئےگا نہیں یقین تو الطاف حسین کو دیکھ لو جس کے ایک اشارے پر پورا کراچی بند ہوتا تھا آج کوئی کراچی میں اسکا نام لینے کو تیار نہیں عمران خان سوچ سمجھ لیں مکافات عمل ہوتا ہے اور اب وہی دن عمران خان پر آنے والے ہیں پھر عمران خان اکیلے ہی ہوں گے مشیر وزیر کوئی نہیں ہو گا کچھ پہلے ساتھ چھوڑ گئے مزید بھی چھوڑ جائیں گے اور عمران خان تنہا رہ جائیں گے پھر ایک ہی راستہ بچے گا کہ عمران خان کر کٹ اکیڈمی کھولیں اور قوم کے بچوں کو کرکٹ سکھا کر ثواب دارین کمائیں اور اب وزیر اعظم کی کرسی کو بھول جائیں

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے ؟

    ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیاں مذاکرات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے پروگراموں میں تبصرہ نگار اور تجزیہ نگاروں سے یہ سوال اس لیے بار بار کیا جارہا ہے کیوں کہ اس سے قبل بھی مذاکرات کی کوششیں ہوچکی ہے تاہم ماضی کے مذاکرات کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اس بار مذاکرات جس انداز اور اعلی سطح پر جاری ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

    کابل میں طالبان حکومت کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسلسل کوششیں ہوتی رہی جس میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے تاہم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ گزشتہ چار ماہ میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حملوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا وزیرستان اور باجوڑ میں افغانستان سے متصل بارڈر ایریاز میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی اور حکومتی حکام نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے بار بار افغان حکام سے شکایت کی تاہم حملوں میں کمی نہ آسکی۔

    چودہ اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے فضائیہ نے خوست اور کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان نے براہ راست افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہو۔

    ان فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا اور حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششیں تیز ہوگئی۔ کیوں کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دھانی طالبان حکومت دنیا بشمول پاکستان کو کراچکی ہے جس کے بعد اب افغان طالبان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس مشکل کا کوئی حل نکالیں کیوں کہ اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل اس سلسلے میں بار بار اپنی رپورٹوں میں افغان سرزمین ٹی ٹی پی کے جنگجووں کی موجودگی کا ذکر کرچکی ہے۔

    پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مختلف عمائدین نے اس سلسلے میں کابل کے کئی دورے کیے جس کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہوا۔

    اس بار مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ دونوں جانبین سے اعلی حکام مذاکرات کا حصہ ہے دونوں جانبین سے اعلی حکام براہ راست مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ ثالث کا کردار کرنے والے بھی بڑے اہم رہنما ہے جس میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی قابل ذکر ہے۔

    میرے اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکراتی عمل کو بڑھانے کے لیے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے علاؤہ افغان وزیر اعظم ملا حسن اخند اور وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں اور مذاکراتی نشستوں کا باقاعدہ حصہ بنے ہیں۔

    مذاکرات کے کامیابی اور پیش رفت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس بار سابقہ فاٹا اور پختونخوا کے مختلف علاقوں کے عمائدین پر مشتمل 133 سے زائد افراد کا جرگہ بھی اس سلسلے میں کردار ادا کررہے ہیں تاکہ قبائلی عمائدین کو نا صرف اعتماد میں لیا جائے بلکہ ان علاقوں میں امن کا پیغام ان کے ذریعے دیا جائے کہ امن و امان کا قیام اور مذاکرات سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔

    حکومت پاکستان کے ملٹری اور سیاسی حکام اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات میں دو کامیاب راؤنڈ کے بعد سیز فائر میں توسیع اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 53 افراد پر مشتمل قبائلی جرگہ یکم جون کو کابل بھیجا گیا جس میں تمام قبائلی علاقوں کے نمائندوں کے علاؤہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے وزرا بھی شامل ہے۔
    یکم جون کو ابتدائی نشست ہوئی جب کہ دوسری نشست 2 جون کی صبح 10 بجے رکھ دی گئی ہے جس کا سب سے اہم موضوع دائمی یا طویل سیز فائر کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    فاٹا سے پاک فوج کی انخلاء، مالاکنڈ ڈویژن میں نظام العدل کا نفاذ، تمام قیدیوں کی رہائی سیمت، دیگر اہم ایجنڈا پوانٹس ہے جو ٹی ٹی پی کی جانب سے رکھے گئے ہیں جب کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی سے ہتھیار ڈالنے، آئین کو تسلیم کرنے سمیت دیگر اہم موضوعات مذاکرات کا حصہ ہے جس پر بات چیت ہورہی ہے اب تک کسی بھی ایجنڈا پوائنٹ پر اتفاق نہیں ہوا ہے تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بڑے پوائنٹس کا حل نکالا جائے گا کیوں کہ ٹی ٹی پی کے بعض مطالبات ایسے ہے جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے افغان طالبان کوشاں ہے کہ درمیانی راستہ نکالا جائے۔

  • ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ہائبرڈ وار ریاست کے امور کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم کی جاتی ہے, دشمن براہ راست پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین مہمان نواز ہیں نہ صرف زبردست ناشتہ کرواتے ہیں بلکہ ان کی چائے کے بھی کیا کہنے, دشمن نے بزدلوں کی طرح چھپ کا وار کرنے کا ایک اور حربہ آزمایا ہے جو ففتھ جنریشن وار کے نام سے جاننا جاتا ہے, جس کا مقصد ہے کہ ریاست کے اداروں خلاف اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے, دشمن ایک عرصے سے مختلف  ہتھکنڈوں کے ذریعے سے پاکستان کے دفاعی اداروں پر حملہ آور رہا ہے,  کبھی لسانیات کی سوچ کے تحت وطن عزیز کو نقصان پہنچایا تو کبھی چھوٹے اور بڑے صوبے کی بات کی,  کبھی مسنگ پرسن کا چورن فروخت کیا تو کبھی فرقہ وارانیت کا زہر گھول کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی

    ظاہر ہے دشمن یہ کام بذات خود نہیں بلکہ ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے, سب جانتے ہیں کہ دفاعی لحاظ سے افواج پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی فوج ہے اس تناظر میں دشمن سمجھتا ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے, جسے کمزور کرکے ناپاک عزائم میں کامیاب حاصل کی جاسکتی ہے, اس لئے وہ کچھ ناپختہ زہنوں کو اپنی جانب راغب کرکے اپنے بنائے تماشے میں استعمال کر رہا ہے. سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی ٹوئٹر ایکٹویٹی سے کون واقف نہیں ہے, وکالت سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ ایسی غیر اخلاقی حرکات اور الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جو پاکستانی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے, محترمہ کو نا * نہ* جانے کس بات پر افواج پاکستان سے شدید بغض ہے, ان کی غیر مہذب پوسٹس پر ان کی والدہ انہیں متنبے بھی کر چکی ہیں مگر انہوں نے اپنی والدہ کی ایک نہ سنی اور پاک فضائیہ کے سربراہ کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی اور ان کے گھر کی لوکیشن تک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردی, اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت تو عام آدمی نہیں دیتا  ہے جبکہ وہ وکیل ہیں اور با اثر قابل خاتون کی دختر ہیں مگر افسوس ان کی شخصیت میں کوئی مثبت اثر نظر نہیں آتا ہے.

    ایمان مزاری اپنی تربیت کی دھجیاں بکھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں, کبھی ٹوئٹر پر اپنا خاندانی پس منظر بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے سستی شہرت کی خاطر مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی نظر آتی ہیں, جس کا مقدمہ کوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج ہوا تھا, جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق ایمان مزاری معزز وکیل ہے, نوجوان ہیں اس لئے کچھ جذباتی ہیں,  انہوں نے اس مقدمے کو مزید آگے نہ چلنے دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا, سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر جذباتی وکیل کوئی کیس عقل کے دائرے میں رہ کر لڑ سکتا ہے? اس لحاظ سے تو ان کی ذہنی کیفیت خاصی مشکوک ثابت ہوتی ہے, کیا ان کی ڈگری نظام عدل کے لئے موزوں ہیں؟

    ایمان مزاری کی جانب سے پاک فوج کے خلاف پے در پے بے بیناد الزام تراشی کے تحت وار کرنے پر 27 مئی  2022 کو پاک فوج نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے, ایمان مزاری کے خلاف جج ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے, ایف ائی آر کے متن کے تحت بارہ مئی کی شام پانچ سے چھ بجے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے پاک فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف سرعام من گھڑت، بے بنیاد الزامات لگائے, 
    آرمی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
    جان بوجھ کر دیے گئے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اینڈ فائل میں اشتعال دلانا تھا۔
    یہ اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا جو ایک سنگین جرم ہے۔
    یہ بیان دینا پاک فوج کے افسروں، جوانوں کو حکم عدولی پر اکسانے کے مترادف ہے۔
    پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔
    متعلقہ قوانین کے تحت ایمان مزاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاک فوج کی جانب سے پہلی بار ایف آئی آر کا اندراج کر کے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے, یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ فوج عدلیہ کا احترام کرتی ہے, اس کے ساتھ ہی انہیں پاکستان کے نظام عدل پر پورا بھروسہ ہے,

    سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اور سول سوسائٹی پاک فوج کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کریں گے جیسے وہ  دیگر معاملات میں کرتے ہیں امید کی جا رہی تھی کہ عدالت حسب سابق ایمان مزاری کو معصوم, جذباتی, نوجوان, خاتون, یا وکیل ہونے کریڈٹ دیکر کلین چیٹ نہیں دئیگی بلکہ اب کی دفعہ انہیں باقاعدہ قانون کے دائرہ میں لاکر ان سے بازپرس کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق ایسی مثال قائم کی جائے گی, جس کے اثرات مثبت اور باوقار ہونگے, مگر فی الحال ایسا نہیں ہوا بلکہ ایمان مزاری کو محض ایک ہزار کے مچلکے کے عوض نو جون تک عبوری ضمانت مل گئی

    جیسے ہی ایمان مزاری پر ایف آئی آر  درج ہونے کی خبر آئی, ان کی جانب سے ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ نے عبوری ضمانت کی درخواست عدالت میں پیش کی, جو فوری  منظور ہوگئی, جس کے تحت عدالت نے 9 جون تک ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روک دیا,بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کیطرف سے دی گئی ضمانت قانون کی خلاف ورزی ہے, ایف آئی آر ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت ہے۔ عام آدمی کی طرح افواج پاکستان بھی وطن عزیز کے نظام عدل سے انصاف کے حصول کی منتظر ہے

  • جمہوری احتجاج میں جمہور کا مفاد کہاں ؟تحریر: کنول زہرا

    جمہوری احتجاج میں جمہور کا مفاد کہاں ؟تحریر: کنول زہرا

    اس بات میں تو دو رائے ہیں ہی نہیں کہ  احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم احتجاج کی نوعیت کو  دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ اجتجاج عوامی حقوق کی فراہمی کی خاطر ہے یا اقتدار کی رسائی کے لئے عوام کو استعمال کیا جارہا ہے, بد قسمتی سے کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی بھی احتجاج آج تک عوامی مسائل کے حل کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ اقتدار کے ایوان میں براجمان ہونے کے لئے عوام کا وقت اور پیسہ ضائع کرایا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کا کبھی یہ موقف ہوتا تھا کہ حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے مگر فیصلے سٹرکوں پر نہیں ہوتے ہیں,  شاہراہیں بلاک کرنے سے عوام کو تکلیف ہوگی, یہ عمران خان ہی تھے جو ملک کے اچھے امیج کی باتیں کیا کرتے تھے, کہا کرتے تھے, ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں تو صرف وزیراعظم آفس سے گھر اور گھر سے آفس آنے جانے کے لئے باہر نکلتا ہوں تاکہ عوام پریشان نہ ہو مگر جب سے ان کی حکومت گئی ہے, انہوں نے ملک کی سٹرکوں کو مسلسل بلاک کرنے کو اپنا جمہوری حق سمجھ لیا ہے جبکہ اس سے جمہور یعنی عوام کو شدید دقت کا سامنا ہو سکتا ہے, خان صاحب کو سوچنا چاہیں عوام کے اپنے بھی تو ذاتی کام ہوسکتے ہیں, آپ نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو ایسا کیا دیا کہ لوگ آپ کے خاطر تکالیف کو برداشت کریں, آپ کےساتھی شیخ رشید انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ہماری کارگردگی کی وجہ سے ہماری سیاست تو ختم ہوگی تھی, رجیم چینج نے عمران خان کو مقبول کیا, عمران خان بطور وزیراعظم نہ غربت کم کرسکے نہ ہی عوام کو روزگار دینے میں کامیاب ہوپائے,

    مہنگائی کم ہونے کی تاریخ بتا کر ہر بات نئی ڈیٹ دیکر عوام کا صبر آزماتے رہے تو پھر کیوں عوام سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے پھر سے اقتدار میں لاؤ, یہ ہی عمران خان تھے جو کہتے تھے کہ اگر میں کامیاب نہ ہوسکا تو سیاست چھوڑ دونگا تو جناب بتائیں اور ناکامی کسے کہتے ہیں آپ نے چار سال تک عوام کو صرف میٹھی گولی دی, ان کی امیدوں پر پانی پھیرا, پھر آپ کا ہی کہنا ہے کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہیں تو جناب پھر کیوں عوام سے اپنی غلامی کروا رہے ہیں, کیا عوام آپ کے غلام ہیں کہ آپ ان کے لئے ان ہی سے سٹرکیں بند کروا کر اپنے اقتدار کا راستہ صاف کریں, کیا اس ملک کے نوجوان آپ کے نوکر ہیں کہ وہ آپ کے لئے موسم کی تمازت برداشت کرکے اپنا وقت برباد کریں,  آخر کیوں پاکستان کے عوام آپ کے لئے خوار ہو, صرف اس لئے کہ آپ دوبارہ اقتدار میں آکر اپنی بیگم کی سہیلی کو صوبہ پنجاب تحفے میں دیدیں, آپ کہتے ہیں کہ عوام قربانی کے لئے تیار ہوجائیں, کیوں کیا اس ملک کے عوام کا خون اتنا سستا ہے کہ آپ کے لئے بہایا جائے, خان صاحب آپ احتجاج کریں, بصد شوق کریں مگر ملک کی جڑوں کو کمزور مت کریں,  پاکستان کی سلامتی اور اس کا وقار آپ کے اقتدار سے بہت اہم ہے, آپ نے اس ملک کے چار سال اپنی ناتجربہ کاری کے تحت برباد کردئیے, آپ پہلے وزیراعظم بننے کے آداب سیکھیں, یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ واقعی معتبر ہیں, الله نے آپ کو بہت صلاحتیوں سے نوازا ہے, ان میں نکھار لائیں اپنے دماغ سے سوچ کر سب سے  ان لوگوں کو اپنے قریب کریں جو واقعی تحریک انصاف کے ہیں, امپورٹڈ حکومت نامنظور کہہ کر امپورٹڈ لوگوں کو اپنے سے دور کیجئے

    پاکستان ایک طویل عرصے سے مختلف مشکلات کا شکار ہے, عمران خان کے آنے سے عوام کو بہتری کی امید ہوئی تھی مگر وہ پورے نہ اترے شاید اسی لئے بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ان کے حق میں ثابت نہ ہوسکا چیئرمین تحریک انصاف نے حقیقی آزادی کے نعرے کے ساتھ25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے,ان کا دعوی ہے کہ وہ  25 لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع کریں گے اور جب تک حکومت انتخابات کا اعلان نہیں کر دیتی جب تک ان کا قیام اسلام آباد کی سٹرکوں پر ہی ہوگا
    بعض سیاسی حلقے عمران خان کی جانب سے مقررہ کردہ احتجاجی تاریخ پر حیران ہیں کہ آخر کیوں  25  مئی کی ہی تاریخ منتخب کی گئی جبکہ اس تاریخ کو بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کو سزا سنانا چاہتی ہے, اس حوالے سے گذشتہ روز یاسین ملک کی کمسن بیٹی عمران خان سے گذارش بھی کرچکی ہے کہ عمران انکل اپنے لانگ مارچ کی ڈیٹ آگے کرلیں اور  25  مئی کو میرے بابا کے حق میں آواز بلند کریں,25  مئی کو ہی پاکستان کے معاشی بحالی کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہونگے اور عمران خان مجھے اقتدار میں واپس لاو کا اسٹیج سجا رہے ہونگے

    پاکستان جس کے بہت سے ایشوز ہیں, جیسے کہ ممکنہ معاشی, اور  غذائی بحران کا خدشہ, غربت اور بے روزگاری کے مسائل, موسمی تبدیلی کے معاملات, قلت آب, بچوں اور خواتین پر تیزی سے بڑھتے پرتشدد واقعات سمیت دیگر بنیادی اور معاشرتی مسائل جن کا فوری حل ضروری ہے مگر ہمارے یہاں ان خالصتا عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا, بلکہ اقتدار میں رہنے دو, اقتدار میں لیکر آؤ کے مفادات پرست موضوعات پر عوام کی بنیادی ضروریات کا مذاق اڑایا جاتا ہے.

  • عمران خان کی معاشی ٹیم کی ناتجربہ کاری، رل گئی عوام بیچاری

    عمران خان کی معاشی ٹیم کی ناتجربہ کاری، رل گئی عوام بیچاری

    سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں اکثر کہا کرتے تھے میں سیاسی مخالفین کو رلاؤں گا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کی معاشی ٹیم نے اعداد وشمار کے ایسے گورکھ دھندے میں عوام کو الجھائے رکھا کہ آج غریب آدمی ناکوں چبانے پر مجبور ہوچکا ہے ،عمران خان ملک کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم کا اعزاز حاصل ہے کہ جن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی محاذ ہوا کرتا ہے مگر عمران خان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا کہ وہ ملک کی معیشت کی کایا پلٹ دیں گے، مرجائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، قرضے کم کریں گے، مہنگائی کا خاتمہ کریں گے مگر وقت نے ثابت کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کے تمام دعوے بس نعروں کی حدتک محدود تھے۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے عمران خان کے دعوے
    پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، مہنگائی سے لے کر قرضوں کے حجم میں اضافے تک کئی معاشی چیلنجز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور عمران خان نے اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے ساڑھے تین سال کے عرصہ میں وزیر خزانہ اسد عمر, حفیظ شیخ اور شوکت ترین کی صورت میں تین وزرائے خزانہ بدل ڈالے۔

    عمران خان حکومت کی معاشی پالیسیوں اور گورننس کا بہت بُرا حال اور ہر گزرتے دن کے ساتھ معاملات خراب سے خراب رہے خان صاحب کہا کرتے تھے کہ میں انہیں رُلائوں گا۔ اُن کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو رلانا تھا لیکن ساتھ ساتھ عوام کو بھی بری طرح رلایا خان صاحب نے جو وعدے کیے تھے، برسر اقتدار آنے کے بعد حقیقت میں سب اُس کے برعکس کیا اور عام آدمی کے لئے معاشی صورتحال ایک ڈراؤنے خواب کی سی رہی، ملکی معیشت پر بات کریں تو سوچ کے دماغ کی شریانیں پھٹنے لگتی ہیں کہ پاکستان کا کیا بنے گا اور اگر اس اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی پاور کا معاشی طور پر گراوٹ کا یہ سفر اسی تیزی سے جاری رہا تو ہماری کیا حالت ہو گی؟ تبدیلی والوں کی حکومت آنے کے بعد تو مہنگائی کم ہونی چاہئے تھی، گیس بجلی، پٹرول سستا ہونا چاہے تھا لیکن ایسا کیا ہوا کہ چور ڈاکو چلے بھی گئے لیکن تبدیلی والے ’’ایمانداروں‘‘ نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ غریب غریب تر ہو گیا، غربت پہلے سے بڑھ گئی، نوکریاں ملنے کی بجائے ہاتھ سے جانے لگیں۔ جب ملکی معیشت کی بات کریں تو قرضے پاکستان کی تاریخ میں اتنے نہیں بڑھے جتنے پی ٹی آئی کی حکومت کے ساڑھے تین برسوں میں بڑھ چکے تھےسابق وزیر اعظم عمران خان کے مطابق معاشی حالات بہتر ہو چکے تھے لیکن پھر کورونا کی وبا آئی اور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا۔وزیر اعظم نے یکم اپریل کو ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومت کی معاشی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے شہباز شریف آ کر کیا کرے گا؟ سارے خطے میں سب سے سستا پٹرول ہم بیچ رہے ہیں، ہم نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا۔ سب سے زیادہ بر آمدات اور ترسیلات زر ہمارے دور میں ہوئیں۔اور حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کے دور میں ریکارڈ نوکریاں پیدا ہوئیں۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے لیبر فورس سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران55 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں یعنی ہر سال 18 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں۔لیکن پاکستان کے سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کا خاتمہ قریب ہو تو اس وقت ایسا دعویٰ سیاسی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے تاہم اس وقت حقائق سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی شرح نمو کو جیسے زیادہ پیش کر رہی ہے اور افراطِ زر کو کم سطح پر دکھا رہی ہے اسی طرح حکومت زیادہ ملازمتوں کے پیدا ہونے کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہےتحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیاں مجموعی طور پر انتظامی ناکامی اور نا اہلی کا شکار رہیں۔ ‘بنیادی معاشی اعشاریے وہی ہیں جو چالیس سال سے چلے آ رہے ہیں، ان میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔انتظامی ناکامی کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘جب مانگ میں اضافہ ہونا تھا تو کہا گیا کہ جو باہر سے کارگو آنا تھا وہ نہیں آ رہا جس سے بحران شدید ہو گیا تحریک انصاف نے کسی بھی گذشتہ حکومت کے مقابلے میں سب سے زیادہ قرضے لیے۔ ‘یہ ان کی مجبوری بھی تھی، کیوں کہ پہلے سے لیے جانے والے قرضوں کی واپسی کے لیے اور پیسہ چاہیے اور اب آنے والی کو ان سے بھی زیادہ قرضہ لینا پڑے گا کیوں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ قرضوں سے ہی ملک چلے گا

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2007-08 کے اختتام سے مالی سال 2017-18 کے اختتام تک پاکستان کے کُل قرض میں 49 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور وہ 46.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 95.2 ارب ڈالر ہو گیا۔ بظاہر تو یہ سو فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔

    اس 49 ارب ڈالر میں سے پیپلزپارٹی کے دور میں یعنی 2008 سے 2013 کے درمیان 14.7 ارب ڈالر جبکہ سال مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں 34.3 ارب ڈالر قرض لیا گیا جبکہ وزارت اقتصادی امور کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کا حجم گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے جو مالی سال 2019 میں 10 ارب 59 کروڑ ڈالر سے مالی سال 2020 میں 10 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچا اور پھر مالی سال 2021 میں 14 ارب 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور اس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے 7 مہینوں میں 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا وفاقی بجٹ 22-2021 میں غیر ملکی قرضوں کے لیے سالانہ بجٹ کا ہدف 14.088 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا اور حکومت نے پہلے 7 ماہ میں 12.022 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔

    عمران خان کی حکومت نے مالی سال 2021 میں کُل 14 ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کے 43 ماہ کے دوران بیرونی ذرائع (پاکستانیوں کے علاوہ) سے مجموعی غیر ملکی قرضہ 47 ارب 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
    پی ٹی آئی حکومت نے اپنے اس دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے اور سب سے زیادہ کرپشن کی گئی پنجاب میں عثمان بزدار کی کرپشن سے کون واقف نہیں ہے اب پتہ چلتا ہے کہ عمران خان جو ہمیشہ کہتے تھے کہ "سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے "وہ سیاستدانوں کےلیے تھا کہ کرپشن کرو موج کرو گھبراو نہیں” اور دوسرا مشہور جملہ بولتے تھے کہ "میں انکو رلاونگا اصل میں وہ سیاستدانوں کو نہیں بلکہ عوام کو رلانے کی بات کیا کرتے تھے، دیر آید درست آید کے مصداق اب عام آدمی بھی سمجھ چکا ہے کہ عمران خان کے پاس محض نعروں، دعووں اور وعدوں کے سوا عوام کو دینے اور ڈیلیور کرنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔

  • یوٹرن کا بے تاج بادشاہ

    یوٹرن کا بے تاج بادشاہ

    یوٹرن کابے تاج بادشاہ

    قیام پاکستان کے بعد سے ملک کی سیاست میں کافی نشیب و فراز آئے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور عام آدمی کے شب وروز بدلنے کے لئے بیشتر سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے محض بلندوبانگ نعروں اور وعدے وعیدوں پر ہی اکتفا کرنا مناسب سمجھا جس کے نتیجے میں عام پاکستانی کے لئے ترقی و خوشحالی محض ایک سہانا خواب ہی رہا۔
    2018ء کے انتخابات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کامیابی حاصل کرکے ملک کا اقتدار سنبھالا، یہ اقتدار عمران خان کی 23 سالہ سیاسی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔عمران خان نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھتے ہوئے سیاست کا آغاز کیا تو انہوں نے ملک میں نوجوان اور متوسط طبقے کی قیادت کو سامنے لانے اور ملک میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا تھا، اس کے علاوہ عمران خان سیاست کے آغاز سے ہی ملک کی نام نہاد اشرافیہ کے اقتدار میں آنے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں ‘باریاں’ لگانے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
    سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کچھ ایسے اقدامات کئے جو ان کے برسوں کے سیاسی کیریئر کے دوران کئے گئے اعلانات اور بیانات سے متصادم تھے، ابتدا میں ناقدین نے ان اقدامات کو عمران خان کا واضح یو ٹرن قرار دیا اور بعد ازاں عمران خان نے خود تسلیم کیا کہ ان کی جانب سے مذکورہ معاملات میں یو ٹرن لینا ملک و قوم کے مفاد میں تھا اور ایسا انہوں نے جان بوجھ کر کیا۔وہ ہمیشہ اپنے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے اور متعدد بار کہا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی، عمران خان کے مذکورہ بیان کے بعد ان پر مخالفین کی تنقید میں اضافہ ہوا۔
    عمران خان نے اپنے یوٹرن بیانات سے نئی سیاست کا آغاز کیا اور یہ ثابت کردیا کہ لیڈر اپنی بات سے "پھر” بھی سکتا ہے اور سیاسی لیڈر کے قول وفعل میں تضاد معمول کا حصہ ہے۔

    ماضی کا ذکر کیا جائے توعمران خان کے بہت سے ایسے یوٹرن ہیں، جواخبارات کی شہہ شرخیوں کا حصہ بنے، ذیل میں اسی سے پیوستہ کچھ ایسے ہی شاہکار یوٹرن کا مختصر احوال آپ کی یاد دہانی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے، بس پڑھتے جائیں اور سر پیٹتے جائیں۔جی ہاں عمران خان کے منظور نظر اور ق لیگ کے سینئر رہنما پرویز الہی کے بارے میں عمران خان نے ایک زمانے میں یہ فرمایا تھا کہ پرویز الہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے،عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے نہ صرف اس ڈاکو کوپنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنادیا بلکہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد بھی کردیا۔ عمران خان کا کہتا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارچوہدری اس ملک کی امید ہیں، تاہم اختلافات سامنے آنے پر وہ اپنے بیان سے ہی دستبردار ہوگئے اور اس پریوٹرن لیتے ہوئے کہاکہ افتخار چوہدری بھی دھاندلی زدہ اور کرپشن میں ملوث ہیں۔ایک وقت تھا جب عمران خان کہتا تھا کہ میں شیخ رشید جیسے شخص کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں ،اس پر خان صاحب نے یوٹرن لیاپھراسی شیخ رشید کو پہلے وفاقی وزیرریلوے اور اس کے بعدوزیرداخلہ بنادیا۔سال 2013 کے انتخابات کے تناظر میں عمران خان نے نجم سیٹھی پر پینتیس پنکچر کا الزام لگایاتھالیکن بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی بیان تھا۔عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا اور اگر ایسا کیا تو خودکشی کرلوں گا، تاہم اس پرعمران خان نے یوٹرن لیا اورپاکستان کوعالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے شکنجے میں کس دیا۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہاتھاکہ پیٹرول، گیس، بجلی سستی کروں گا ،جبکہ یوٹرن کی بدولت پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کیا گیا،انہوں نے میٹروبس کوجنگلہ بس کہاتھااورکہاتھاکہ میٹرو بس نہیں بنائوں گا ،عمران خان نے اپنے اعلان کے برعکس یوٹرن لیکر پشاور میں ایسی ہی ایک بس سروس بناڈالی،انہوں ارشادفرمایاتھاکہ ڈالر مہنگا نہیں کروں گا پی ٹی آئی کی حکومت میں روپے کی بے قدری ہوئی اور ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہواجواس وقت دوسوروپے سے بھی تجاوزکرچکاہے۔ خیر عمران خان صاحب کی معاشی تباہ کاریوں پر لکھنے کو تو الگ کالم درکار ہے یہاں بات کرلیتے ہیں یوٹرن کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے یو ٹرن کی توصیف میں آسمان کے تارے توڑ لانے سے قطع نظر یو ٹرن لغوی اور سماجی لحاظ سے احمقانہ عمل ہوتا ہے اور کمزور ذہن کے جذباتی فیصلوں کے بعد کسی بڑی مصیبت سے ڈر کر اپنے کہے سے پھر جانے اور قول وفعل کے تضاد کو کہتے ہیں۔ اس کو کسی بھی صورت ایک اچھی صفت قرار نہیں دیا جا سکتا مگر کیا کیجئے کہ نیا دور ہے،ہماری سیاست میں نئی اخلاقیات مرتب ہو چکی ہیں، بات کے جواب میں گالی دینا سیاست کا بنیادی اصول بن چکا ہے۔ دلیل سے بات کرنے والے کو احمق کہا جاتا ہے اور مہذب شخص کو بزدل کہا جانے لگا ہے۔ سیاست کے میدان میں فوٹو شاپ کے ذریعے کئے گئے کمالات ترقی اور یو ٹرن، نظریۂ ضرورت کے بعد اگلا نظریہ ٹھہرا۔ مان لیا، اس کے علاوہ چارہ ہی کیا ہے؟ پچھلے کئی سالو ں سے مانتے ہی آرہے ہیں۔

  • کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کل رات گئے جو عمران خان نے پشاور میں پاور شو کیا ہے کتنی تھی کتنی نہیں تھی اس بحث سے ہٹ کر ایک اچھی تعداد تھی اور بڑا جلسہ تھا اس چیز کو ماننا چاہیے مگر اس میں صوبائی حکومت کے وسائل کا بھی بے دریغ استعمال ہوا ۔ محمود خان خود سارے انتظام وانصرام دیکھتے رہے ۔ ۔ مگر عمران خان نے کچھ باتیں کیں جن کے بارے حقائق جاننا بہت ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے، وہ اپنے غیرت مند عوام کو بے غیرتوں کے خلاف کھڑا کریں گے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ اس سلسلے میں کپتان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کیونکہ فی الحال تو کپتان کے اپنے حواری ملک سے بھاگے ہوئے ہیں بھاگنے کی تیاری میں ہیں ۔ فرخ گجر سے لے کر زلفی بخاری کے کارنامے قوم کو زبانی یاد ہوگئے ہیں ۔ اس سلسلے میں لطفیے تک چلانا شروع گئے ہیں کہ کپتان آخری "گھڑی” تک "ہار” نہیں مانوں گا ۔ اس میں گھڑی محمد بن سلمان والی ہے اور ہار توشہ خانے والا ہے ۔

    پھر کپتان نے کہا کہا کہ جو بھی یہ سوچتا تھا کہ باہر سے امریکہ کی امپورٹڈ حکومت یہ قوم تسلیم کرلے گی تو کو ساری قوم نے سڑکوں پر نکل کر بتایا ہے کہ انہیں امپورٹڈ حکومت منظور نہیں ہے۔۔ مگر اس سلسلے میں حقائق یہ ہیں کہ دنیا تواس حکومت تسلیم کر رہی ہے چین روس ، یورپ اور مشرق وسطی کے بردار اسلامی ممالک سمیت ترکی ہر طرف سے مبارکبادیں آرہی ہیں ۔ سب شہباز شریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور جو گرم جوشی چین دیکھارہا ہے اس سے تو تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سی پیک کو چلانے میں سریس نہیں تھی ۔ ۔ پھر عمران خان نے شہباز شریف کے خلاف40 ارب روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں، ہم اس کو اپنا وزیر اعظم نہیں مانیں گے۔ ۔ اب یہ بات ہی بچوں والی ہے ۔ اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہے ۔ آپ دیکھیں کہ چیئرمین نیب تو انھوں نے ایک ویڈیو جاری کرکے قابو کیا ہوا تھا ۔ نیب میں یہ کچھ ابھی تک ثابت نہیں کرسکے ہیں صرف شہباز شریف نے باقیوں جیسے پیپلز پارٹی والوں کے خلاف بھی ۔ پھر شہباز شریف کے حوالے سے کپتان کو چاہیے کہ وہ شہزاد اکبر کو کٹہرے میں لائیں کیونکہ براڈشیٹ والی مثال ہمارے سامنے ہے کہ قوم کے ٹیکس کا پیسہ بھی ضائع ہوا ۔ الٹا برطانیہ کی عدالتوں سے شہباز شریف کو کلین چیٹ ملی ۔

    ۔ پھر عمران خان نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں چھ کروڑ سمارٹ فون ہیں، ہمارے نوجوانوں کے منہ کوئی بند نہیں کرسکتا، شہباز شریف ہمارے نوجوانوں کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، کان کھول کر سن لیں ، جس دن ہم نے کال دے دی تو تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔۔ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کی کال پریہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے یہ اداروں کے خلاف جو بھونڈی کمپین چلائی جا رہی تھی اس کا قلع قمع ہورہا ہے ۔ جس میں کبھی جنرل مرزا اسلم بیگ کی فیک آڈیو وائرل کرکے اداروں کو بدنام کیا جاتا ہے تو کبھی یہ افواہیں وائرل کی جاتی ہیں کہ جرنیلوں کے درمیان عمران خان کو لے کر اختلافات ہوگئے ہیں ۔ فوج ایک ڈسپلن ادارہ سب ڈسپلن کے پابند ہیں ۔ ایسے پراپیگنڈے کرواکر یہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔ ابھی بھی پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا کے زریعے خوب جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں ۔ جب یہ لوگ پکڑے گئے تو یہ بھی پراپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ ان کی جماعت کے نہیں یہ ٹی ایل پی کے لوگ اداروں نے پکڑے ہیں ۔ جس کی ٹی ایل پی نے سختی سے تردید کی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے بارہ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جب کہ نو ملزمان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ اگر عمران خان کو لگتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے تو قانون جنگ لڑیں عدالتیں کھولی ہوئی ہیں ۔

    پھر عمران خان نے نیوکلیئر پروگرام کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کے اداروں سے سوال پوچھا۔ کہ تمہارا نیوکلیئر پروگرام ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے، تم ان چوروں کے ہاتھوں میں ہماری سالمیت دے رہے ہو، کیا تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے۔۔ تو اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ نیوکلیئر پروگرام کسی ادارے کا نہیں اس ملک وقوم کا ہے ۔ پھر اس نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد بھٹو نے رکھی تھی ۔ جب اس نے کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے ۔ جس کی پاداش میں اس کو سولی پر چڑھنا پڑھا تھا ۔ اسکے بعد ضیاالحق اس کو لے کر آگے بڑھے ان کا طیارہ کریش ہوگیا مگر وہ اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ اس کے بعد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تھے جس کی پاداش میں ان کو اپنے خاندان سمیت جلاوطنی کاٹنی پڑی ۔ پھر میزائل پروگرام کی بنیاد بے نظیر بھٹو نے رکھی ۔ ساتھ ہی گزشتہ پینتالیس سالوں سے یہ ہی دو جماعتیں اور ادارے نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت بھی کررہے ہیں اور اس کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں ۔ تو عمران خان کو بتاتا چلوں کہ یہ جھوٹ کسی کو بتائیں یا سمجھائیں ۔ یہ بات کرکے دراصل عمران خان نے اداروں کو ٹینشن دینے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں پیغام جائے کہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ۔ یہ اپنی سیاست کی خاطر ملک کے ساتھ دشمنی پر اتر آئے ہیں ۔

    پھر کپتان نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوجاتا ہم نے سڑکوں پر رہنا ہے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ سوال یہ ہے کہ اتنی ہی زور کا الیکشن آیا ہوا تھا تو تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کروادیتے۔ تب تو اپوزیشن کا مطالبہ بھی تھا کہ الیکشن کراو۔ اس وقت آپشن تھی ۔ اب وقت گزر چکا ہے ۔ ۔ پھر عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ججز سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کو عدالتیں لگائی گئیں۔۔ یہ بہت ہی گندی عادت ہے عمران خان کی یہ ہر کسی کو متنازعہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ اس حوالے سے بڑا واضح ہے کہ جب عدالتی احکامات کو نہیں مانیں گے ۔ جب آپ آئین کو توڑیں گے ۔ جب آپ ایک فاشسٹ جماعت کی طرح کہیں گے کہ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرواں گا تو پھر عدالت نے تو اپنے حکم پر عمل درآمد کے لیے کھولنا ہی تھا ۔ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک آئین وقانون کے تحت چلتا ہے ۔ ان کی مرضی منشا اور خواہشات کے تحت نہیں ۔

    پھر کپتان نے سفید جھوٹ بولا کہ مجھے یہ قوم 45 سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، حالانکہ پی ٹی وی حملہ کیس سب کو یاد ہے ۔ بجلی کے بل جو جلائے گئے وہ بھی ہم کو یاد ہے ۔ ۔ عمران خان نے اس بار بڑی غلطی کر دی ہے اور اداروں سمیت ہر کسی سے پنگا لے لیا ہے جس کا خمیازہ ان کو لازمی بھگتنا پڑے گا ۔ اس حوالے سے آنے والے دنوں میں آپ کو بہت کچھ صاف دیکھائی دے گا۔ ۔ کیونکہ عمران خان اپنی سیاست کی خاطر لوگوں کی عزتیں اچھالنے اور ہر طرح کے گھناونا کھیل کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ جو سیاست میں تشدد اور نفرت کابیچ عمران خان بو رہے ہیں اس کا رزلٹ ملے گا ۔ ابھی تو کپتان حملے کر رہے ہیں جب مخالفین کریں گے تو تب پتہ چلے گا کہ کپتان کا عزم کتنا کو پختہ ہے ۔

  • "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    عمران خان ایک چھوٹی سی کوشش ضرور تھی لیکن عقیدہ نہیں تھا. عقیدہ اللہ رب العزت کی ذات ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے. وہ ذات اپنے بندوں کا نہ ساتھ چھوڑتی ہے اور نہ مایوس ہونے دیتی ہے. جہاں تک بات عمران خان کی ہے تو دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی عمران خان سے کئی ایک اختلافات تھے، بیڈگورنس، کمزور پلاننگ اور چلے ہوئے کارتوسوں کے ساتھ میدان میں اتر کر سبھی کو ہی للکار دینا یہ سیاسی خودکشی ہی تھی جو خان نے کی اور اس کا نتیجہ بھی توقعات کے مطابق نکلا.
    یار لوگ یا تو اس پورے سسٹم کو سمجھتے نہیں ہیں یا پھر عمران خان کو کچھ زیادہ ہی اوتار سمجھ بیٹھے تو اب رخصت ہوا تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے ہیں. ہم نے نہ خان سے زیادہ توقعات باندھی تھی نہ ہم اتنے مایوس ہیں، ہاں دلگرفتہ ضرور ہیں کہ وہ ہوا کا اک تازہ جھونکا ثابت ہوا بھلے افکار سے ہی، اس نے غیرت و قومی حمیت کا درس دیا، سامراج اور یورپ کی ذہنی غلامی سے نکلنے کی ایک کوشش کی جس کا خمیازہ بھگت کر وہ واپس بنی گالا اور اپوزیشن بنچوں پر جاچکا ہے.
    پاکستان کا نظام سیاست چند ایک خاندانوں، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور دیگر کئی فیکٹرز کے چنگل میں اس بری طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ جو موجودہ نظام کی بھول بھلیوں سے آکر اس کو بدلنا چاہے گا اس کا حشر عمران خان ہے. آپ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں افراد سازی کریں، فقط اپنی ہی مضبوط ٹیم تیار کریں، اپنی پلاننگ اول دن سے زمینی حقائق کی بنیاد پر کریں. اقتدار کے لیے کوئی بھی کندھا استعمال کریں گے تو وہ کندھا وقت آنے پر آپ کو جھٹک دے گا.
    ہم امریکہ و روس کے فاتح ضرور ہیں لیکن امریکہ یورپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ہمت و حمیت ہمارے مقتدر لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے بھلے ہی ساری عوام "مرگ بہ امریکہ” کے راگ الاپے. یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکنز ادارے اور لابیز دنیا بھر میں حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں اس کے باوجود وہ بھی مات کھاتے ہیں اور کئی بار کھا چکے ہیں.
    اپنے مایوس لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ مایوسی سے نکلیں، نہ یہ دھرتی بانجھ ہوئی ہے اور نہ ہی مملکت خداداد پاکستان کو کچھ ہوا ہے. لاکھوں قربانیوں کے بعد رمضان المبارک میں اللہ رب العزت کے اس تحفے کا مستقبل یہ نہیں ہے کہ فقط خان کی ہار پر آپ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں. عمران خان ہرگز بھی آخری امید نہیں تھا، وہ پہلا قطرہ تھا جو آئندہ والوں کی راہیں متعین کرگیا ہے کہ دریا میں اگر مگرمچھوں سے بیر پالنا ہے تو آپ کن چیزوں سے لیس ہونے چاہیں.
    باقی جہاں تک موجودہ سیاسی گدھ ٹولے کی بات ہے تو ان مفاد پرستوں سے کسی کو کوئی امید نہیں ہے یہ گِدھوں کا وہ گروہ ہے جو مردار کھانے کے لیے جمع ہوا ہے کل تک یہ سب ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹ رہے تھے آج اقتدار کے لیے باہم شیر و شکر ہیں. نہ کل یہ عوام اور ریاست پاکستان کے سگے تھے اور نہ ہی آج ان کے دل میں عوام اور ریاست کا درد ہے.
    پاکستان کی قوت آپ سے ہے. قیام پاکستان کی واضح مثال ہمارے سامنے ہے. اس وقت بھی سیاسی وڈیرے، مذہبی وڈیرے اور دیگر عوام بانی پاکستان محمد علی جناح کے خلاف تھے لیکن عام مسلمان جب کھڑا ہوا تھا گوکہ قربانیاں دینی پڑی تھیں لیکن پاکستان ملا تھا کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا.
    آج استحکام پاکستان کے لیے بھی آپ کو اٹھنا ہوگا. متحد ہونا ہوگا اور اس گندی سیاست کی بساط لپیٹ کر صاف ستھری انبیاء کرام والی سیاست کو رواج دینا ہوگا. وہ سیاست کہ جس میں خدمت انسانیت ہو، جس میں مظلوم کے ساتھ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا ہو، جس میں نیکی کی بنیاد پر تعاون ہو اور جس میں عوام اور ریاست کی خیرخواہی ہو.
    اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

    محمد عبداللہ

  • سرپرائیز کون دے گا، کپتان یا اپوزیشن، تحریر: نوید شیخ

    سرپرائیز کون دے گا، کپتان یا اپوزیشن، تحریر: نوید شیخ

    اوآئی سی کا اجلاس اور یوم پاکستان پریڈ ختم ہوگی تو سیاست کی گاڑی پھر سے چوتھے گیئر میں چلنا شروع ہوجائے گی ۔ بالکل ویسا ہی ہوا ہے ۔

    ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ، عمران خان ، چوہدری نثار ، مریم نواز ، بلاول بھٹو، عثمان بزدار ، آصف زرداری ، فضل الرحمان ، پرویز الہی ، علیم خان ، جہانگیر ترین، جنرل فیض حمید، نواز شریف ، عامر لیاقت ، خالد مقبول صدیقی، جسٹس قاضی فائز عیسی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے منسوب خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں ۔ بھانت بھانت کے تجزیہ اور پیشن گوئیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ ہر کوئی اس وقت جاننا کی تگ ودو میں لگا ہوا ہے کہ ۔ حکومت جا رہی ہے کہ نہیں ۔
    ۔ اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں کہ نہیں ۔۔ منحرف اراکین اپوزیشن کے ساتھ ہی ہیں کہ نہیں ۔ ۔ قبل ازوقت الیکشن ہورہے ہیں کہ نہیں ۔۔ اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہے کہ نہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے فوج کی بات کریں تو آج ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نیوٹرل ہیں ۔ ۔ فوج مداخلت کرے تو بھی نہ کرے تو بھی برا بھلا سننے کو ملتا ہے، نوجوان سوشل میڈیا کی طرف نہ دیکھیں،جو چیزیں آرہی ہیں، وہ حوصلہ افزاءنہیں، یہ بڑی تباہی ہے،ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ آپ آرمی چیف اور پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگائیں بلکہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں، سندھ اور بلوچستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں جو ترقی چاہتے ہیں، بار بار ایک ہی طرح کے لوگوں کو ووٹ دیں گے تو مسائل کس طرح حل ہوں گے؟ ۔ میڈیا کے لوگوں کے استفسار پر ان کاکہناتھاکہ گھبرائیں نہیں، کچھ ایسا نہیں ہوگا جس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں ۔ وہ یوم پاکستان کی پریڈ کے اختتام کے موقع پر میڈیا اورسندھ، بلوچستان اور فاٹا کے نوجوانوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے۔ پھر ڈان نیوز کے مطابق انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آنیوالے دنوں میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اگلا آرمی چیف فاٹا اور بلوچستان سے بھی ہو۔

    ۔ آخر میں انھوں نے پھر دہرایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ منتخب نمائندے ہی فیصلہ کریں کہ اس ملک کے لیے کیا بہتر ہے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ تو جو خبر آج انصار عباسی نے دی تھی جس کا صبح سے بہت چرچا چل رہا تھا ۔ اس بیان کے بعد چیزیں بالکل واضح ہوگئی ہیں کہ فوج کسی بھی معاملے میں کوئی بھی اور کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ پھر عمران خان نے خود بھی آج کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی شہباز شریف کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں ۔ یوں اب یہ تمام معاملہ ٹیبل کی بجائے عدالتوں اور سڑکوں پر ہی جاتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پھر جو آج کی دوسری سب سے بڑی خبر سامنے آئی ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کا بیان ہے ۔ جس پر میں اپنے گزشتہ وی لاگ میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں مگر اب اس حوالے سے کچھ پیش رفت سامنے آگئی ہے جو آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہے ۔۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں چوہدری نثار سے ملاقات کی بات کی تھی لیکن اب رپورٹ ہوگیا ہے کہ چوہدری نثار نے ماضی قریب میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تردید کی ہے ۔ یہ ملاقات کچھ عرصہ پہلے نہیں بلکہ ساڑھے تین سال پہلے ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ وفاق میں ہے نہ کہ پنجاب میں ۔۔۔ یاد رکھیں چوہدری نثار ایم این اے نہیں ہیں ۔ پھر اگر کپتان ان کو لیں گے تو ان کے اپنے وفاقی وزیر غلام سرور خان کی جانب سے بہت سخت درعمل آنے کی امید ہے ۔ یوں یہ بیل تو مجھے منڈیر چڑھتی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ ۔ جہاں اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں ۔ اپنے پچاس کے قریب لوگ منحرف ہوچکے ہیں تو ہر کسی کے زہن میں سوال آرہا ہے کہ کیسے عمران خان کوئی سرپرائز دے دیں گے ۔ استعفی نہیں دیں گے ۔ تو اس حوالے سے اندازہ یہ ہی ہے کہ وہ کوئی سیاسی اور آئینی بحران نہ پیدا کردیں یا پھر وہ اہم تعیناتی کے حوالے سے قبل ازوقت فیصلہ کردیں ۔ میری چڑیل کے مطابق ان دونوں صورتوں میں کپتان کے مخالفوں کی تیاری پوری کر رکھی ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو ن لیگ نے سجی دیکھا کر کھبی مار دی ہے ۔ اس سلسلے میں جو لانگ مارچ ن لیگ نے24کو شروع کرنا تھا اور 25کو اسلام آباد پہنچنا تھا ۔ اب وہ 26کو ماڈل ٹاون سے شروع ہوگا اور 27 کو اسلام آباد پہنچے گا ۔ مت بھولیں
    27کو ہی عمران خان دس لاکھ لوگوں کا جلسہ کر رہے ہیں ۔ یوں ایک دو دن میں اسلام آباد نیا battle ground ہوگا ۔ ۔ ساتھ ہی اگر اہم تعیناتی کپتان قبل ازوقت کرتے ہیں تو پھر اینڈ گیم ہے ۔ ۔ شاید اسی لیے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کے اندر بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے ۔ پارٹی کے اندر یہاں تک ڈسکس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان کو تبدیل کرکے اگر حکومت بچائی جا سکتی ہے تو بچا لی جائی ۔ میری چڑیل کے مطابق کچھ اہم تحریک انصاف کے لوگ اس فارمولے پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ یاد ہوتو گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے کراچی سے بانی رکن نجیب ہارون کا بھی مائنس ون پربیان آیا تھا ۔ اگر غور کریں تو یک دم کچھ وزیر اور مشیر منظر سے غائب ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ یہ سوچ اس وقت پی ٹی آئی میں پنپ رہی ہے کہ کم ازکم پارٹی کو تو بچایا جائے ۔ مگر عمران خان کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں اوروہ بھپرے ہوئے شیر بنے ہوئے ہیں اور ایک بھی غلطی کا خمیازہ ملک سمیت سب سے زیادہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت بھگتنا پڑے گا ۔ ۔ یاد رکھیں کبھی بھی ایک منتخب وزیر اعظم شور نہیں مچائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل کیوں ہوگئی ہے ۔ سیاست میں مداخلت کیوں نہیں کر رہی ہے ۔ ٹیلی فون کالز کیوں بند کر دی گئی ہیں ۔ پر سلیکٹڈ ضرور ایسا ہی کرے گا ۔۔ آپ دیکھیں پوری اپوزیشن اور قوم نیوٹرل ہونے پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو شاباش دے رہی ہے لیکن عمران خان کبھی انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی منت ترلہ کرتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں کہ میں پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ سرپرائز دوں گا ۔

    ۔ عمران خان کو صرف اس بات پر غصہ ہے کہ وہ آئین پر عمل کیوں کررہے ہیں اور ماضی کی طرح میرے لیے تمام الزامات اپنے سر کیوں نہیں لیتے؟ ۔ اگر یاد ہو تو عمران خان اپنی ہر دوسری تقریر میں ایک چیز ضرور دہراتے ہیں کہ میں نے تو زندگی میں سب کچھ حاصل کر لیا ہے پیسہ شہرت مجھے کیا ضرورت جب چاہوں آرام سے باہر جاکر مزے کی زندگی گزار سکتا ہوں۔ ۔ مگر اب ان کے ایکشن اور اقدامات سے واضح ہو گیا کہ اقتدار اُنہیں ہر شےسے زیادہ عزیز ہے۔ ۔ پھرعمران خان نے جو کہا تھا کہ جانور نیوٹرل ہوتا ہے ۔ اس کا جواب آج بلاول نے دینے کی کوشش کی ہے انکا مالاکنڈ جلسے سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہمارا وزیر عظم جنگل کا قانون چاہتا ہے ، ہمارا وزیر اعظم جانور ہے ۔ ہم کوئی غیر جمہوری طریقہ استعمال نہیں کریں گے،میں گیٹ نمبر چار کو نہیں کھٹکٹاوں گا۔ وزیر اعظم اپنے بچوں کو اردو سکھائیں ۔ سازش سازش کا واویلہ مچانے والے خود ایک سازش ہیں ۔ ۔ دیکھائی یہ رہا ہے کہ کپتان جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔

    ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔ ۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم ایسا نہیں کریں گے ۔ ۔ کیونکہ اس وقت کپتان صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ، ٹائیگروں ۔۔۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ کہانی ختم ہوچکی ہے ۔