Baaghi TV

Category: سیاست

  • گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    حکومت جا رہی ہے کہ نہیں اس سے ہٹ کر ایک چیز جو کنفرم ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کے ستارے گردش میں ہیں ۔ حالانکہ بہت سے ستارہ شناس اور علم الاعداد والے اس بات سے متفق نہیں مگر کپتان کے پاس ایسا لگ رہا ہے کہ باولنگ کی تمام ورائٹی ختم ہو چکی ہے ۔ وہ جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر
    ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔

    مگر کل جو اہم تعیناتی کے حوالے سے انھوں نے قوم کے سامنے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے ۔ وہ صاف اشارہ ہے کہ کپتان اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ نہ ہی وہ عثمان بزدار کی قربانی دینے کو تیار ہیں نہ ہی وہ سب سے سینئر کو تعینات کرنے کو راضی ہیں ۔ اس سے پہلے ہمارے کپتان جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو بھی اپنے جلسے میں بیان کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے جو پاک فوج اور اہم عہدوں پر تعینات شخصیات پر پی ٹی آئی کی جانب سے تنقید کی گئی ۔ پھر نیوٹرل ہونے کو گالی بننا ۔ تو یہ تمام چیزیں بہت کچھ بیان کر رہی ہیں کہ موڈ چل کیا رہا ہے ۔ ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز مریم نواز نے موقع دیکھ کر اچھی پوائنٹ سکورننگ کر لی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ چاہتے ہیں کوئی آپ کی گنتی پوری کرکے دے، آپ کو اکیلا میدان میں رکھے، میڈیا کو مینج کرے کوئی یہ کرنے پر تیار نہیں تو آپ جانور کہہ رہے ہیں۔ نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے،  یہ تو اچھی بات ہے کوئی آئین کی پاسداری کررہا ہے تو ویلکم کرنا چاہیے۔۔ بہرحال وزیر اعظم کی کرسی میں طاقت تو بہت ہوتی ہے اور اب محسوس یہ ہو رہا ہے کہ وہ اس طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے والے ہیں ۔ بس یہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزرنے کی دیر ہے ۔ ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ جس تواترسے ان کے مشیر رنڈی اور دلے لفظ کی تشہیر کر رہے ہیں ۔ پنجابی زبان کو بدنام کررہے ہیں۔ اس سے کپتان کے میرٹ کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

    ۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا سچاجذبہ اگر اُن میں ہوتا تو اپنے اِس بازاری ترجمان کو فوری طورپر وہ فارغ کردیتے۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ یہاں سے تڑی لگاتے ہیں آگے سے بھی ویسا ہی ردعمل سامنے آجاتا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے رمیش کمار نے کہا ہے کہ حکومت کی پارٹی میں باغی ارکان کی تعداد 35 ہو چکی جبکہ منحرف ارکان میں سے کوئی بندہ واپس نہیں جائے گا۔ ہم میں سے زیادہ تر سینئیر سیاست دان ہیں کوئی ایسی ویسی صورت حال ہوئی تو نشست سے استعفیٰ دے دیں گے۔۔ احمد حسین ڈیہڑ نے کہا مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگایا گیا میں نے 40کروڑ روپے کی زمین مفت ریسکیو 1122 کو دے دی جبکہ میرے گھر پر غنڈہ بریگیڈ سے حملہ کرایا گیا۔ بات عزت کی ہے،کیا باپ ایسے ہوتے ہیں کہ بیٹی کے گھر میں بندے گھسا دیں۔۔ نور عالم خان نے کہا ہمیں گالیاں دینے کے بعد حکومت کس منہ سے ہماری واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے، عمران خان اگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھتے، شیرُو کتے کی نظر سے نہ دیکھتے تو یہ حالات نہ ہوتے۔۔ منحرف اراکین کے درعمل سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بات صرف عزت کی ہے ۔ جو کپتان سے کسی اور کو تو دور کی بات ۔۔۔۔ اپنے ہی ایم این ایز کو نہیں نہیں دی گی ۔ یوں اب وہ بدلہ لینے کے لیے کپتان کی عزت تار تار کرنے پر تلے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ میرے خیال سے حکومت اگر ہوش کے ناخن لے اور شیخ رشید ، فواد چوہدری ، شہباز گل جیسوں کو کچھ عرصے کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں پر یورپ بھیج دے تو معاملات زیادہ آسانی سے حل ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔

    ۔ پھر چوہدری نثار کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے ایک بے پرکی اڑائی گئی تھی کہ وہ پتہ ن ہیں کتنے ایم این ایز اور کتنے ایم پی ایز کے ساتھ 27کو پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلیں گے تو اس حوالے سے ان کی اپنی جماعت کے وفاقی وزیرغلام سرور خان نے کہا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے چوہدری نثار علی خان سے متعلق خبریں بلاجواز ہیں ۔ ایسی خبریں بے مقصد اور بے بنیاد ہیں ۔۔ یعنی چوہدری نثار والا فارمولا بھی نہیں لگ رہا ۔ منحرف اراکین کی گھر واپسی بھی نہیں ہو رہی ۔ خرید وفروخت کا کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں لایا جا رہا ۔ اس عدم اعتماد کو بیرونی سازش ثابت کرنے کے تمام فارمولے بھی ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ دنیا کیا ہر پاکستانی جانتا ہے کہ چلو بھٹو نے تو ایٹم بم بنایا، اسلامک بلاک بنانے کی کوشش کی ۔ عمران خان نے امریکی مفادات کو کون سی زک پہنچائی ہے جو وہ کپتان کے دشمن ہوجائیں ۔ الٹا اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا کر ریاست کے پیروں میں بیڑیاں ڈلوادی ہیں ۔ وزیر اعظم کے خلاف جب ان کی جماعت کے ارکان کی بغاوت سامنے آ چکی ہے، اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کے فیصلے کر رہے ہیں تو پھر پتا نہیں کیوں وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ابھی تک تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین کیے بیٹھے ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی پلاننگ سامنے آگئی ہے کہ پہلے وفاق،پھر پنجاب،چیئرمین سینٹ اورآخرمیں خیبر پختونخوا حکومت گرائینگے۔ جبکہ مخبریاں یہ بھی ہیں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بھی ہٹایا جائے گا ۔ ۔ پھر چڑیل نے گن کر بتایا ہے کہ ایک بال پر تین وکٹیں گرانے والے کی اپنی پچاس وکٹیں گر چکی ہے۔ جبکہ یہ مزید گرتی جا رہی تھیں ۔ یہ تو دوسری جانب سے کہا گیا کہ بھائی بس ۔۔۔ ہمارے پاس گنجائش ختم ہوچکی ہے کہ اور لوگوں کو اپنی پارٹی میں نہیں رکھ سکتے ۔ ۔ اس لیے یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ ہی اس وقت کیا جب انھیں یہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے اور ان کے ووٹ ڈلوانے میں کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم اس طرح کا جمہوری روایات اور اقدار کا حامل فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ حکومت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح پر تکیہ کیا ہوا ہے میری جتنی بھی قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے ان کی رائے میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہ صرف ووٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ ان کے ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو بطور پارٹی لیڈر یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کے خلاف پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی بنا پر defection clause لاگو کرنے کے لیے سپیکر کو خط لکھ سکتے ہیں۔ سپیکر اس خط یا یادداشت کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کو ان ارکان کی نااہلی کے ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔

    ۔ اسکے بعد بھی الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس پر کیا فیصلہ دیتا ہے کہ ان ارکان کو نا اہل قرار دیتا ہے یہ ان کو بدستور اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کی ہدایت کر تا ہے۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو یہ والے قانونی ماہرین کی شاید سہولت میسر نہیں ہے ۔ اس وقت وہ صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ۔۔۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ گیم از اور

  • اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    پارٹی شروع ہوگئی ۔۔۔۔ اس وقت جو خبریں چل رہی ہیں اس سے لگ یہ ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا جنازہ تیار ہے اب بس دفنانا باقی ہے ۔ یہ جنازہ نکلتا سندھ ہاوس سے دیکھائی دے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی ایم این ایز اس جنازے کو کندھے دیتے دفنانے جائیں گے ۔

    ۔ کیونکہ صرف ایم این ایز ہی نہیں بلکہ تین وفاقی وزراء کے بارے بتایا جا رہا ہے کہ وہ بھی ٹوٹ چکے ہیں ۔ یوں ثابت ہوچکا ہے کہ پوری کی پوری پارٹی لوٹا پارٹی تھی ۔ اتنی بڑی تعداد میں تو ن لیگ کے بندے نہیں ٹوٹے جب ان کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا ۔ یوں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جو حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا ہوچکا ہے ۔ ۔ ابھی تک سندھ ہاؤس میں موجود تحریک انصاف کے10 ارکان قومی اسمبلی کے نام سامنے آگئے ہیں ۔ جبکہ یہ تعداد دودرجن سے زائد بتا جا رہی ہے ۔ ۔ میرے خیال سے اس کے بعد پی ٹی آئی کا اتحادیوں سے گلہ کرنا بنتا نہیں ہے کہ وہ حکومت کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کی تو اپنی پوری کی پوری پارٹی میں بھونچال آیا ہوا ہے ۔ ابھی عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت میں ہے ۔ جب یہ حکومت میں نہیں ہوں گے توسوچیں پی ٹی آئی کا کیا حال ہوگا ۔ ۔ پھر جس طرح بلا کسی خوف و خطر یہ ایم این ایز سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح یہ میڈیا کو انٹرویوز دے رہے ہیں ۔ جس طرح کھل کر یہ باتیں کررہے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیل اتنی پکی ہوچکی ہے کہ یہ ایم این ایز اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

    ۔ کیونکہ نہ یہ فواد چوہدری اور شیخ رشید کی دھمکیوں سے ڈرے ہیں اور نہ ہی اب حکومت اس قابل رہی ہے کہ ان کو بھلا پھسلا کر واپس پی ٹی آئی کے کیمپ میں لا سکے ۔۔ اب عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ایم این ایز کو de seatکیا جائے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک تو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا نہیں ۔ کسی ایم این اے نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی نہیں تو سزا کیسے دی جا سکے گی ۔ یعنی کہ صرف ان کا ارادہ تھا تو اس پر سزا دے دی جائے ۔ میرے حساب سے اگر ایسا کوئی فیصلہ حکومت کرتی ہے تو ان کو آئینی اور قانونی لحاظ سے مزید ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

    ۔ دوسری جانب شیخ رشید نے بھوکلاہٹ میں سندھ میں گورنر راج لگانے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ اب پتہ نہیں شیخ صاحب عمران خان کے خیر خواہ ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ ایسا ہوجاتا ہے تو یہ سیدھا سیدھا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا ۔ مت بھولیں پی ڈی ایم نے لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب کرنا ہے اور اس لانگ مارچ میں پیپلزپارٹی بھی شامل ہے ۔ اپوزیشن تو خوش ہوگی کہ اگر عمران خان سندھ میں گورنر راج لگا دیں ۔ ۔ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سندھ ہاؤس میں موجود ارکان قومی اسمبلی کی فہرست آئی بی کی جانب سے پیش کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے راجہ ریاض، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، نورعالم خان، ریاض مزاری، باسط بخاری، احمد حسن ڈیہڑ، ‏نزہت پٹھان اور وجیہہ اکرم بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں۔۔ اس سے پہلے عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کچھ ارکان پارلیمنٹ کے مسنگ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مانیٹرنگ کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ سویلین حساس اداروں کو ارکان پارلیمنٹ کی لوکیشن، کال ڈیٹا اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کا کہا گیا ہے۔ عمران خان نے سویلین حساس اداروں کو سندھ ہاؤس کی بھی سخت مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ۔ اس نئی بنتی صورتحال پر وفاقی وزیر فواد چوہدری ، اسد عمر ، حماد اظہر نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس بھی کی ۔ جس میں فواد چوہدری بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے تھے کہ جہازوں میں بھر کر لوگوں کا لایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ وہ جہانگیر ترین کے جہاز کا ذکر کرنا بھول گئے ۔ وہ نہ اڑتا تو حکومت نہ بنتی ۔ وزراء نے اعلان کردیا ہے کہ ان ایم این ایز کے خلاف
    63Aکے تحت جلد کاروائی کی جائے گی ۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں ۔ ہر حوالے سے ان کی تیاری مکمل ہے ۔ سندھ ہاؤس کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں سندھ ہاؤس کی چار دیواری پر خاردار تارلگانے کا کام جاری ہے۔ سندھ ہاؤس کے تینوں داخلی راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف کے باغی اراکین میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ کیونکہ اب تو جیسے ڈوبتے ہوئے جہاز سے لوگ چھلانگیں لگاتے ہیں وہ وقت آگیا ہے ۔ ان خبروں کے بعد تو کسی کے ذہن میں کوئی شک تھا بھی ۔۔۔ تو دور ہوگیا ہے کہ حکومت نے اب بچنا نہیں ۔

    ۔ میرے خیال سے کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کو اب بھی یقین ہو کہ حکومت بچ جائے گی ۔ عنقریب لگ یوں رہا ہے کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہونے والے ہیں ۔ یوں اب آپ کپتان کے منہ سے سنیں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟

  • سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی دیگ اس وقت اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چولہے پر چڑھی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی اپنی مرضی کے مصالحے اور اشیاء اس میں ڈالتا جا رہا ہے ۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ قورمہ بن رہا ہے ، بریانی پک رہی ہے یا پھر متنجن ۔۔۔

    ۔ اس تمام سیاسی ہلچل میں شہباز شریف نے ایک نیا فارمولہ دے دیا ہے کہ ہمیں پانچ سال کیلئے قومی حکومت بنانی چاہیے مگر قومی حکومت میں پی ٹی آئی شامل نہ ہو۔ پتہ نہیں یہ تمام اپوزیشن کی مشترکہ سوچ ہے یا پھر صرف شہباز شریف کی سوچ ۔۔۔ ۔ بہرحال جب سے ایمپائر نیوٹرل ہوا ہے کپتان کی حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک ایک کرکے روز کوئی نہ کوئی پیادہ یا تو داغا دے رہا ہے ۔ یا پھر کپتان کو ایک لمبی لسٹ تھما رہا ہے کہ یہ پوری کرو تو ساتھ دوں گا ۔ ۔ مگر کپتان بھی کپتانوں کے کپتان ہیں وہ روز جلسے کررہے ہیں ۔ دھمکیاں اور تڑیاں لگا رہے ہیں ۔ یوں ملکی موسم کے ساتھ سیاسی موسم بھی تیزی سے گرم ہوتا جا رہا ہے ۔

    ۔ تازہ تازہ سوات کے جلسے میں عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں لوگ نوٹوں کے بیگ لے کر ضمیر خریدنے بیٹھے ہیں۔ اب اتنے وثوق سے جب وہ یہ عوام کے سامنے دعوے کر رہے تھے تو ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایف آئی اے ، نیب ، اینٹی کرپشن یا دیگر اداروں نے بھنگ پی ہوئی ہے جو ان کو نہیں پکڑ پا رہے ہیں ۔ اور کپتان کس بنیاد پر روز کسی نہ کسی کی پگڑی اچھال رہے ہیں اور جب ایسے ہی اشارے یا باتیں ان سے منسوب کی جاتی ہیں یا پھر مخالفین ان کے گھر یا ذاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں تو کپتان کے تمام کھلاڑی یوں اچھالنا شروع کر دیتے ہیں جیسے ابلتے ہوئے انڈے اچھلتے ہیں ۔ ۔ دوسرا اگر کپتان کے اردگرد سب ہی بے ضمیر لوگ ہیں جن کی نوٹوں کی بوریاں دیکھ کر رالیں ٹپکنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ تو پھر کپتان نے کون سی ٹیم بنائی ہے اور کپتان کی وہ دور اندیشی کہاں گئی ۔ جو وہ قوم کو بتایا کرتے تھے ۔ کہ ان سے بہتر ٹیم کوئی بنا ہی نہیں سکتا ۔ دراصل جیسا حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا بھی ہے ۔ اب سے پہلے تو صرف خفیہ کالوں کی کرامات تھیں ۔ جب سے یہ ٹیلی فون نمبر بند ہوئے ہیں ۔ تب سے ہی یہ حالت ہوئی ہے کہ بقول شیخ رشید پانچ سیٹوں والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ پھر کپتان جو کہہ رہے تھے کہ قوم پر لازم ہے کہ برائی کے خلاف کھڑی ہو، الیکشن کمیشن سے بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آئین میں ہارس ٹریڈنگ کی اجازت ہے؟۔ یہ جو الیکشن کمیشن کو للکار رہے تھے ۔ کوئی ثبوت تو دیں جس پر وہ کاروائی کرسکے ۔ کیا خالی بیانات اور جلسوں میں تقریروں کو ہی ثبوت مان لیا جائے ۔ ۔ پھر اگر وہ سچے ہیں بھی تو سوال یہ ہے کہ کپتان نے پہلے لوٹوں کو پارٹی میں اکٹھا کیوں کیا ۔ اور جب ان کی اصلیت ان کو معلوم ہوگئی ہے تو پھر یہ ایکشن کیوں نہیں لیتے ۔ باتیں کرنا بہت آسان ہے سچ اور حق کے ساتھ کھڑے ہونا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ مسئلہ کرسی کا ہے ۔ کپتان نے کرسی کی خاطر جتنے یوٹرن لیے ۔ تمام دنیا جانتی ہے ۔ اب بھی جتنے جتن کپتان اس کرسی کو بچانے کے لیے کررہے ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہوگئے ہیں۔

    ۔ یہ جو کپتان سمیت باقی کھلاڑیوں کو مزاحمتی سیاست کرنے کا بخار چڑھا ہوا ہے تو سچائی میں انکو بتا دوں کہ پی ٹی آئی مزاحمتی جماعت نہیں ہے۔ ذرا تلاش کیجیے، کتنے ایسے ہیں جو جیل جا سکتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے گرفتاریاں برداشت کرسکتے ہیں ۔ عمران خان خود بھی ابھی تک جیل نہیں گئے۔ پھر ان کے ساتھ سیاسی لوگ نہیں ہیں، سب چوری کھانے والے دیہاڑی باز ہیں۔ ان سب نے عمران خان کو تب جوائن کیا تھا جب سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ اگلی باری عمران خان کی ہے۔

    ۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی مزاحمتی سیاست نہیں کی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی سیاسی نظریہ ہے۔ اقتدار میں گورا ہو، کالا ہو، داڑھی والا ہو یا کلین شیو ہو، یہ لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت ہی ان خطوط پر ہوئی ہے کہ ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرنا اور وہ نسل در نسل یہی سیاست کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس لیے اقتدار ختم ہونے کے بعد عمران خان کا ساتھ دینا ان کے منشور کے خلاف ہے ۔۔ سچ یہ ہے کہ بیساکھیاں ہٹ گئیں تو اپنے ارکان بھی ریت کے ذروں کی طرح مٹھی سے نکلنے لگے ہیں اور اتحادیوں کی نہ صرف آنکھیں بدل گئیں ہیں بلکہ انھوں نے آنکھیں دکھانا شروع کردیں، پہلے حکومت کا کھل کر ساتھ دینے سے گریز کیا،پھر اپوزیشن سے پینگیں بڑھانے لگے اور اب تو انھوں نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ۔ عمران خان پرلے درجے کے بے اصول ہیں۔ انھوں نے اپنے مفاد اور اقتدار کے لیے قانون، ضابطہ، اقدار، اخلاق اور جمہوری روایات سمیت ہر چیزکو روند ڈالا ہے۔ کپتان تقریروں میں تو پنجابی فلموں والے سلطان راہی بن جاتے ہیں مگر عملی طور پر وہ اپنے مفاد کے لیے جھکنا تو کیا، مکمل طور پر لیٹ جاتے ہیں۔۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنے چارسالہ اقتدار میں ملک کی معیشت کوبرباد کردیا ہے۔ بلکہ لوگ چینخ رہے ہیں کہ ستر سالوں میں اس سے بری گورننس نہیں دیکھی۔ پولیس، انتظامیہ، ایف آئی اے، ایف بی آر، نیب اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے جس طرح اس دور میں استعمال کیا گیا ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔۔ پھر جتنی کرپشن اس دور میں بڑھی ہے اس سے پہلے ایسی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ کرپشن کے الزامات کی زد میں آنے والے وزیروں اور مشیروں کو جیسے اس دور میں تحفظ دیا گیا کیا کبھی ایسا پہلے ہوا ہے ۔ ۔ میرا سوال ہے کہ مجھے کوئی ایک ادارہ بتا دیں جہاں بغیر رشوت کے آپ کا کام ہوجائے ۔ کپتان نے اپنے ہر دوست کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا ۔ اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی ۔ ۔ آج اگر عام پاکستانی دو وقت روٹی کھائے تو بجلی اور گیس کے بل ادا نہیں کرسکتا، بل ادا کرے تو دوائیوں کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتا۔ کسان بے چارے کھاد کی تلاش میں رُل گئے ہیں ۔ مگر آج بھی کپتان زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی جھوٹی کہانیاں سنا رہا تھا ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے بڑے بڑے علماء پر مغرب زدہ محمد علی جناح کواس لیے ترجیح دی تھی کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، جو کہا اس پر عمل کر کے دکھایا۔ کپتان کی طرح نہیں جو یوٹرن کو لیڈر کی خوبی سمجھتا ہو۔

    ۔ کپتان کا موجودہ غصہ اُن کے اندرونی اضطراب، گبھراہٹ اور فرسٹریشن کی غمازی کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے وزرائے اعظم اقتدار سے محروم ہوئے ہیں ۔ مگر انھوں نے ایک باوقار طریقے سے اقتدار چھوڑا۔ ہاؤس کی اکثریت یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تھی مگر ایک معمولی بات پر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انھیں توہین عدالت پر سزا دے کر معزول کردیا اور وہ کوئی واویلا مچائے بغیر پرائم منسٹر ہاؤس سے باہر آگئے۔۔ نوازشریف کو ایوان کی دوتہائی اکثریت حاصل تھی مگر جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہ میں سپریم کورٹ کے بینچ نے انھیں تاحیات نااہل قراردے دیا، مگر وہ پرسکون رہے۔ نہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کال دی اور نہ ہی اسپیکر کو کوئی غیر آئینی اقدام اُٹھانے پر مجبور کیا، مگر اب تو لگتا ہے کپتان نے حکومت اور اقتدار کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ وہ ایوان کی اکثریت کھو ہوچکے ہیں،زیادہ تر اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اپنے بہت سے ارکان باغی ہوچکے ہیں۔۔ اس صورت میں اُن کے لیے باوقار راستہ یہ تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیتے یا مڈٹرم الیکشن کا اعلان کردیتے۔ اس سے ان کی سیاسی ساکھ اور عزت بچ سکتی تھی مگر لگتا ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ اپوزیشن اپنا آئینی حق استعمال کررہی ہے مگر پرائم منسٹر غصے اور فرسٹریشن میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ سیاسی مخالفین کی نقلیں اُتار رہے ہیں اور انھیں توہین آمیز القاب سے نواز رہے ہیں۔

    ۔ عمران خان جس راستے پر چل رہے ہیں وہ انارکی اور تباہی کاراستہ ہے۔ اس پر چل کر نہ ان کی حکومت بچے گی اور نہ سیاست۔ کیونکہ کپتان کا ماننا ہے کہ ایمپائربغیر نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دوں گا ۔ ۔ عمران خان ہر صورت اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں،اس طرح کا رویہ اور بیانات فاشزم کو پسند کرنے کا اظہار ہے جس کے نتیجہ میں جمہوری نظام کا مستقبل خطرہ میں نظر آرہا ہے۔ ۔ غلطیاں ان کی اپنی ہیں یہ سیاست میں بھی اناڑی ثابت ہوئے ہیں ۔ یہ جو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی ہے اسکا حکومت کو فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔۔ کیونکہ اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا موقع مل گیا ہے۔ اگر قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلا لیا جاتا تو شاید اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو منانے کا اتنا وقت نہیں ملتا۔اب ہر گزرتا دن عمران خان کی سیاسی طاقت کو کمزورکر رہا ہے۔۔ اس وقت تمام اشارے عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کی طرف ہی نظر آرہے ہیں۔ باقی وقت بتائے گا کہ کیا وہ کوئی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں ہیں کہ نہیں۔

  • حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    ۔ ایک طرف کپتان روز ٹی وی پر آکر اپوزیشن کو للکار رہے ہیں۔ اور اپنے ورکرز کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جبکہ لگتا یہ ہے کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر 172لوگ پورے ہوتے تو فورااسمبلی کا اجلاس بلا لیتے ۔ اور دس لاکھ لوگ ڈی چوک میں اکٹھے کرنے کا حکم صادر نہ فرماتے۔اب کل جو مولانا نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اس کے بعد سے حالات کسی بھی رخ جا سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپوزیشن اور حکومت دونوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اپنے پلانز کو ملتوی کردیں ۔ مگر یہ ملتوی ہوتے دیکھائی نہیں دیتے ۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ 23مارچ کے بعد سے پورے ملک میں ایک دھما چوکڑی لگنے والے ہے ۔ لگی ہوئی تو ابھی بھی ہے ۔ کیونکہ کپتان کیا ان کے وزیروں کی زبانیں بھی بند نہیں ہورہی ہیں ۔ ان کے منہ سے مسلسل ایسی آگ نکل رہی ہے جس کے شعلوں کی لپیٹ میں پورا کا پورا سسٹم رول بیک ہوسکتا ہے ۔

    ۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورت حال ووٹنگ والے دن اور ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو اپنے ارکان قومی اسمبلی اوراتحادیوں کو پارلیمنٹ ہاوس جانے سے ہر حال میں روکنا ہے جبکہ اپوزیشن کو تحریک انصاف کے باغی ارکان اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو ہر حال میں پارلیمنٹ ہائوس لانا ہے۔ فی الحال حکومت نے تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنانے اور اپوزیشن نے تحریک کو کامیاب بنانے کے لئےہر حربہ استعمال کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔ تحریک کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم عمران خان سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے اور تحریک کی ناکامی کی صورت میں اپوزیشن نے احتجاج کو گلی محلوں تک لے جانے کا پلان کررکھا ہے ۔ اسی طرح تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے بھی تصادم کے غیر معمولی حالات پیدا ہونے کے امکانات ہیں اور ووٹنگ کے بعد بھی غیر متوقع واقعات رونما ہو سکتے ہیں ۔

    ۔ حکومت کا تو دعوی ہے کہ وہ دس لاکھ لوگ لے ہی آئیں گے ۔ مگر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی بات کی جائے تو مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کو مشورہ دیا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ن لیگ کے قافلےکی قیادت مریم نواز کریں اورلاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچیں۔ جبکہ شہباز شریف اسلام آباد میں لانگ مارچ کے قافلے کا استقبال کریں۔ پھر یہ بھی تجویز ہے کہ جنوبی پنجاب کےکارکنان کولاہور میں جمع ہونےکی کال دی جائے ۔ باقی سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان سے بندوں کو لانے میں بھی مولانا خود بڑے کاریگر ہیں ۔ وہ پہلے بھی تن تنہا بڑے کامیاب دھرنے اسلام آباد میں دے چکے ہیں یوں اگر حکومت دس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرے گی تو پی ڈی ایم بھی کم تعداد میں بندوں کو اسلام آباد نہیں لائے گی ۔ یوں اگر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ان جلسوں کی کالز واپس نہیں لی جاتیں ۔ تواسلام آباد میں خدشہ ہے کہ وہ نہ ہوجائے جو کسی بھی جمہوریت پسند شخص کا سب سے بڑا ڈر ہوتا ہے ۔

    ۔ پھر آج عمران خان نے اورسیز کنویشن سے خطاب میں بھی ایک بار پھر اپنی طرف سے خوب چوکے چھکے لگائے ہیں ۔ حالانکہ اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ دور کی بات ان کے اپنے بھی ان کے ساتھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ بہرحال آج انکا فرمانا تھا کہ آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان اب اکھٹے ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، اگر ان تینوں نے ملک بچانا ہے تو بہتر ہے عمران خان کے ساتھ ڈوب جائیں۔ وہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے قوم کو ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بھلادیں۔ ن لیگ نے تقریباً 20 سال یہ کہا کہ آصف علی زرداری پاکستان کا کرپٹ ترین شخص ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا نام ’ڈیزل‘ بھی ن لیگ نے رکھا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کپتان کے جال میں پھنس گئے ہیں، ان کی عدم اعتماد تو ناکام ہوگی ہی 2023 کے الیکشن سے بھی یہ لوگ گئے۔۔ دوسری جانب وزیروں کو جب اپنی بات بنتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے تو انھوں نے بھی اپنے ٹوکے چھریاں پھر باہر نکال لی ہیں ۔ ۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کس مائی کے لعل میں کلیجہ ہے کہ دس لاکھ کے مجمع سے گزر کر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس جائے۔۔ تو شیخ رشید کا فرمانا تھا کہ امپائر پاکستان کے ساتھ ہیں اور جنہیں پاکستان کی فکر ہے وہ ان کو سمجھا رہے ہیں کہ اپنے معاملے افہام و تفہیم سے حل کریں۔ اپوزیشن کا اوپر والا خانہ خالی ہے، یہ ساری سامراجی سنڈیاں ڈی چوک میں فارغ ہو جائیں گی۔۔ جبکہ پرویز خٹک نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت الگ الگ نہیں، ان دونوں نے ایک ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ عمران خان بہت زیادہ پراعتماد ہیں، سیاسی جماعتوں کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، جس نے جانا ہے استعفیٰ دے دے، ورنہ اس طرح حلقے کے عوام سے دغا ہوگا۔

    ۔ پھر اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے خودکش بمبار بن کر ملک اور مذہب کے دشمنوں کے بیچ میں جاکر خود کو اڑانے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس سے پہلے وزیر اعظم نے آصف زرداری کو بندوق کے نشانے پر رکھنے کی بات کی تھی۔ اہم منصب پر ہوتے ہوئے ایسے بے مقصد بیانات دینا میری سمجھ سے باہر ہے ۔ پر ایک چیز ہے کہ اس وقت کپتان اور اسکے کھلاڑی شدید گھبرائے ہوئے ہیں ۔ ۔ میں نے گزشتہ دو تین مصروف دن اسلام آباد میں گزرے ہیں جس میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا ۔ یوں میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ کپتان یا ان کے وزیر جو مرضی کہیں مگر اسلام آباد میں خبریں کپتان اور ان کی ٹیم کے لیے اچھی نہیں ہیں ۔ ۔ اس وقت تمام لوگ عمران خان اور انکی ٹیم سے بدلہ لینے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں اور اس وقت اپوزیشن جماعتوں سمیت اکثر اتحادی بغیرکسی شرط کے حکومت کا مکو ٹھپانا چاہتے ہیں ۔ وجہ جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب ان چار سالوں میں اتنی زبان درازی ہوئی ہے کہ اب جس جس کو موقع مل رہا ہے وہ اپنا اسکور settleکرنا چاہتا ہے ۔ سب عمران خان اور ان کی ٹیم کو سبق سیکھانا چاہتے ہیں ۔ اب صرف سیاست نہیں ہو رہی ہے معاملہ ذاتیات تک پہنچ چکا ہے کیونکہ عمران خان نے مسلسل اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھا ہے ۔ گرفتاریوں اور پرچوں کے علاوہ بھی ان کے
    followersاپوزیشن والوں کے گھروں تک پہنچے ہیں ۔ یوں جو گند ان چار سالوں میں ڈالا گیا تھا اب اس کا حساب دینے کا وقت قریب دیکھائی دے رہا ہے ۔ کیونکہ کل میں نے مولانا سے ایک سوال کیا کہ اگر عمران خان آپ سے رابطہ کریں تو کوئی بات چیت ہوسکتی ہے معاملات حل ہوسکتے ہیں تو ان کا صاف جواب تھا کوئی چانس ہی نہیں ہے ۔ ۔ یوں جیسے ترین گروپ کو ٹارگٹ کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ اب جب ان کو موقع مل رہا ہے تو یہ بھی کاری ضرب لگانے کو تیار ہیں ۔ جبکہ صرف ترین گروپ ہی نہیں ق لیگ کے اکثریتی اراکین نے بھی عدم اعتماد پر اپوزیشن کا ساتھ دینے کی تجویز دے دی ہے ۔ پھر یہ جو سب اتحادی ہیں انھوں نے ایک اور چیز بھی مل کر طے کرلی ہے کہ اپوزیشن کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ اور اگر حکومت کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ ۔ ویسے خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت وفد کی آصف زرداری سے ملاقات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے تمام نکات پر اتفاق کرلیا ہے ۔ یعنی ان کے بھی معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    ۔ پھر اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کیلئے وزیراعظم کی بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ آپ دیکھیں وہ شخص جو کسی سے تعزیت کرنی ہو تو تب بھی لوگوں کو وزیر اعظم ہاوس بلا کر کیا کرتا تھا ۔ اب پارلیمنٹ لاجز جاکر مدد مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ یوں کپتان جی ڈی اے اور بی اے پی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے خود پارلیمنٹ لاجز گئے ۔ حالانکہ فہمیدہ مرزا، غوث بخش مہر اور ذوالفقار مرزا کے حوالے سے بتا دوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آصف زرداری کے کہنے پر حکومت کے خلاف ووٹ ڈال دیں ۔ مگر اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ کپتان کو مجبورا ان کے در کی خاک بھی چھانی پڑی ہے ۔ جبکہ سنا ہے کہ خالد مگسی نے جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کپتان کی اس confrontationکی سیاست سے متفق نہیں ۔ دیکھا جائے تو تحریک انصاف کا سیاسی بیانیہ دم توڑ چکا ہے ۔۔ میری نظر میں جس طرح عمران خان نے عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے ۔ اور جیسے یہ کنویشن اور جلسے کر رہے ہیں اس سے واضح تاثر ہے کہ وہ اگلے الیکشن کی تیاریوں میں جت گئے ہیں ۔ عدم اعتماد کی تحریک کا ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ انکے خلاف کامیاب ہی ہوگی ۔ یوں سرکاری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں کیونکہ میری چڑیل کے مطابق کپتان کے پاس اب صرف 140 سے 145ووٹ ہی بچے ہیں ۔ اس لیے لوگوں نے برملا کہنا شروع کر دیا ہے کہ ڈر کے کھڑی ہے پی ٹی آئی ۔۔۔

  • سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں عجیب و غریب سیاسی صورت حال ہے۔یوکرین اور روس معاملات کے بعد تو سیاسی دنیا میں مزید ایک گفتگو کی فزا بن رہی ہے اور چائنہ میں کورونا پھر سے نمودار ہو رہا ہےاور صیہونی سربراہ نے طیب اردوگان سے ملاقات کی ہے۔ دوسری طرف ہمارا پڑوسی بھارت غلطی سے میزائیلیں بھیج رہا ہے دنیا میں تقریباً ہر دوسرے سیاست دان اور حکمران کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    اب آتے ہیں وطن عزیز پاکستان کی سیاست میں۔تحریک انصاف اقتدار والی جماعت ہے،پیپلزپارٹی موجودہ وقت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سب سے زیادہ سرگرم ہے۔منہگائی اور غربت نے لوگوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے جب بھی مہنگائی ہوتی ہے اس کا ذمہ دار حکمراں جماعت کو ٹھرایا جاتا ہے سو اسی طرح تحریک انصاف مہنگائی کی ذمہ دار ہے اس کے علاوہ تحریک انصاف میں گروپس کی موجودگی نے جماعت کو کھوکھلا کر دیا۔یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف کو اپنے آپ سے خطرہ ہے۔

    اب ایک نظر اپوزیشن پر تحریک لبیک صوبہ پنجاب کی بڑی دینی جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے جس کی اتحادی بننے کے لیے تحریک انصاف اور ق لیگ بے تاب ہیں پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ق لیگ کو ترجیح دیں گے جب یہ بن جائے گی تو وہ یقیناً ن لیگ،پیپلزپارٹی کے خلاف ہی بنے گی کیوں کہ تحریک انصاف پہلے ہی گھر جانے کے موڈ میں ہے۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا فضل الرحمان ایک جمے ہوئے سیاستدان ہیں۔وہ اس وقت ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔جمیعت وفاق میں پیپلزپارٹی کی اتحادی ہے تو صوبے میں ان کی مخالف۔ کافی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم،پیر سائیں پاگارا،فہمیدہ مرزا اور جی ڈی اے کے دوسرے اتحادی دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے اقتدار کا صفایا کریں گی مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ دیہی سندھ میں وفاقی اتحادی پیپلزپارٹی اور جمیعت آمنے سامنے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ہر بیان پر ردعمل کوئی دے رہا ہے تو وہ جمیعت والے ہیں۔پیپلزپارٹی کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اسے جمیعت سے خطرہ ہے اس لیے مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری نے اسیمبلیوں میں استعفے دینے سے گریز بھی کیا۔پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے وفاقی اقتدار کے لیے اسے ایک صوبے کی مزید ضرورت ہے شاید اس کی نظریں بلوچستان پر ہیں کیوں کہ پنجاب میں پہلے ہی ق لیگ،ن لیگ اور لبیک کے نام ہو چکی ہے۔ایم کیو ایم کا سندھ کی وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کا خواب شاید 2023 میں پورا ہوتا ہوا دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا۔

    خیبر پختونخواہ اوربلوچستان میں بھی سیاسی سرگرمیان تیز ہیں۔بلوچستان کے دارالحکومت میں پشتون سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا پے جمال کمال خان کی وزارت کو چھیننے میں بھی پشتون سیاست کا حصہ تھا،بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی منزل بھی غیر واضح ہے۔خیبر پختونخواہ میں جمیعت کی بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد جمیعت کو ایک مزید صوبے کی تلاش ہے شاید ان کی نظریں سندھ پر ہیں۔پر زیادہ خوش ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ ابھی یہاں بھٹو زندہ اور پائندہ ہے۔

    سیاست کی جنگ میں کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں سب کی کانپیں اپنی اپنی جگہ ٹانگ رہیں ہے

  • لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    ۔ اس وقت لندن اور لاہور میں ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں ۔ اندازہ ہے کہ یہ ملاقاتیں رنگ لے آئیں تو تبدیلی اسلام آباد میں ہوگی ۔ ۔ کیونکہ لندن میں بدھ کو علیم خان کی نواز شریف سے اور جمعرات کو جہانگیر ترین سے ملاقات ہوگئی ہے ان ملاقتوں میں کیا طے ہوا ؟۔ کل پاکستان ایک اندھے کنوایں گرتا گرتا بچا ہے ۔ جو کچھ پارلیمنٹ لاجز میں جو کچھ ہوا صورتحال مزید بھی خراب ہوسکتی تھی ۔ مگر حکومت نے ہوش کے ناخن لیے اور ممبران اسمبلی سمیت تمام گرفتار لوگوں کو رہا کر دیا ۔ یوں مولانا فضل الرحمان نے ملک بھر میں احتجاجی کال واپس لے لے ۔ ورنہ رات سے ہی دیکھائی دینا شروع ہوگیا تھا کہ جمعہ کے روز پورا ملک بند ہوگا ۔ ۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا ایک آڈیو پیغام بھی چل رہا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکریہ کہ پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا، کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں۔ اب کارکنوں کی رہائی کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔۔ دوسری جانب شہباز گل کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بندوں کو چھڑوانے کے لیے معافیاں مانگتے رہے۔ جے یو آئی کے کارکنوں اور ایم این ایز کو آج صبح شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

    ۔ جو بھی جیتا یا ہارا اس بحث سے ہٹ کر اچھی بات یہ ہے کہ لڑائی جھگڑا خوش اسلوبی سے ٹل آگیا ہے ۔ اب خبریں یہ ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک تک پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے معاملات رینجرز اور ایف سی دیکھیں گی ۔ ۔ دوسری جانب لندن سے اہم خبر سامنے آگئی ہے ۔ عبدالعلیم خان کی نواز شریف سے خفیہ ملاقات ہوگئی ہے ۔ یوں اب یہ خفیہ نہیں رہی ہے ۔۔ تفصیل اسکی کچھ یوں ہے کہ ملاقات نواز شریف کے گھر پر مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجےہوئی، یہ تین گھنٹے طویل ملاقات تھی۔ ۔ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے بھی ملاقات میں موجود تھے۔ جبکہ لندن میں ہی موجود پی ٹی آئی رہنما جہانگیرترین ملاقات میں موجود نہیں تھے۔۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت وزیراعلی پنجاب کو تبدیل کرنے سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں شخصیات نے نمبرنگ کیساتھ ساتھ تحریک عدم اعتماد وزیراعلی پنجاب کے خلاف لانے سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا۔۔ علیم خان نے نواز شریف کو بتایا کہ ان کے ساتھ تین سال میں کیا ہوتا رہا اور انکی اپنی جماعت پی ٹی آئی نے ان کو کس طرح نشانہ بنایا۔ ۔ پھر ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ علیم خان نے پی ٹی آئی ایم پی ایز کو بھی ن لیگ کے ٹکٹ دینے کا کہا ہے ۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ پھر ن لیگ کے لوگوں کا کیا بنے تو اس حوالے سے فارمولہ یہ طے ہوا ہے کہ جو بھی لوگ دونوں جانب سے رہ جائیں گے ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جائے گا ۔ ۔ جبکہ علیم خان کی ن لیگ میں شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔۔ اب جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کا اکٹھے ایک دو روز میں پاکستان آنے کا امکان ہے، دونوں شخصیات پاکستان واپس آکر پاور شو کریں گی اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی جائے گی۔۔ جبکہ ق لیگ کی جانب سے اطلاعات ہیں کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں وہ اعلان کر دیں گے کہ وہ کس کا ساتھ دیں گے ۔ جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ صورتحال مزید واضح ہوجائے گی ۔۔ پھر اس حوالے سے طارق بشیر چیمہ نے دعویٰ کیا ہےکہ وزرا نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم عثمان بزدار کو بدلنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے سوال کیا کہ ایسا کب ہوگا؟ جس پر وزرا نے بتایا کہ پہلے وفاق کی عدم اعتماد گزرجائے۔۔ ذرائع کے مطابق طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے کہا کہ کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہے، کیسے یقین کر لیں کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ اپوزیشن کی جانب سے ہمیں وزیراعلیٰ کی پیشکش ہے مگر حکومت کی طرف سے ہمیں لولی پاپ ہے۔۔ طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو چیزیں سیریس لینا چاہئیں، انہوں نے انڈر 16 ٹیم میدان میں اتاری ہوئی ہے،ہمیں اگلے 48 گھنٹو ں میں فیصلہ کرنا ہے۔ پارٹی میں حتمی فیصلے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ۔ کل عمران خان کے دورہ لاہور کے دوران بھی اس حوالے سے پہلے خبریں یہ ہی سامنے آئیں ۔ کہ عثمان بزدار کو ہٹا دیا جائے گا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ عمران خان کسی صورت عثمان بزدار کو ہٹانا نہیں چاہتے ہیں ان کے خیال میں گھر جائیں گے تو اکٹھے جائیں گے اور حکومت کریں گے تو اکٹھے کریں گے ۔ اگر بہت ضروری بھی ہوا تو پھر بھی نیا وزیر اعلی پی ٹی آئی سے ہی ہوگا ۔ اس سلسلے میں کل عمران خان نے جس جس سے بھی ملاقات کی اس کو یہ ہی باور کروایا کہ آپ میرے ساتھ ساتھ عثمان بزدار کے ساتھ بھی کھڑے ہوں ۔ ۔ یوں پی ٹی آئی کی جانب بتایا یہ جارہا ہے کہ فی الحال اس کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک پر ہے اور وہ بزدار ایشو سے بعد میں نمٹے گی۔۔ پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے بات کی جائے توق لیگ کے ساتھ جیسے ہی علیم خان اور جہانگیر ترین واپس پہنچ کر اعلان کریں گے اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں ۔ البتہ جس طرح کے بیانات اور ملاقاتوں کی خبریں ق لیگ کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ عثمان بزدار کا گھر جانا طے ہے ۔ میرے حساب سے علیم خان اور جہانگیر ترین جتنا آگے جا چکے ہیں۔ یہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کو اپنوں نے مروانا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ ویسے تو عثمان بزدار بھی کافی ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ترین گروپ کے بندے توڑنے کے بھی دعوے کیا جا رہا ہیں اس حوالے سے پوری خبر یہ ہے کہ جن کے حوالے سے دعوی کیا جا رہا ہے ۔ دراصل یہ لوگ علیم خان سے رابطے میں تھے ۔ ترین گروپ کے چھبیس یا ستائیس لوگ پورے ہیں ۔ دوسرا جو ایک اور دعوی حکومت نے کیا کہ چارسے پانچ ایم پی ایز ہم نے ن لیگ کے بھی توڑ لیے اور عمران خان سے ان کی ملاقات بھی کروادی ہے ۔ یہ تو چار لوگ وہ ہی ہیں جو کافی عرصے سے ن لیگ سے منحرف ہیں اور عثمان بزدار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی کرسی کی بات کی جائے تو ق لیگ کی طرح ایم کیو ایم بھی کنفیوز دیکھائی دیتی ہے ۔ ایک جانب وہ حکومتی اتحادی ہیں مگر اگلے الیکشن پر بھی ان کی نظر ہے اس لیے خبریں یہ ہیں کہ ایم کیو ایم والے پیپلز پارٹی سے یقین دہانیاں مانگ رہے ہیں۔۔ کہا جارہا ہے کہ آصف زرداری نے چوہدریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرے گی اور جتنا ممکن ہو سکا اتنے مطالبات پورے کرے گی۔ پھر جی ڈی آے اور باپ والوں کو بھی زرداری صاحب نے قابو کیا ہوا ہے ۔۔ شاید اسی لیے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے بعد آصف زرداری کو اپنا ٹارگٹ نمبرون قراردیا ہوا ہے۔

    ۔ میں اس سلسلے میں یاد کروادوں کہ آصف زرداری نےانتخابی طاقت کےباوجودبلوچستان میں مسلم لیگ ن کےخلاف ہواکا رخ موڑا تھا ۔ پھر موجودہ دور میں جیسے سینٹ میں یوسف رضاگیلانی کو منتخب کروایا۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔۔ یوں عمران خان اب سمجھتےہیں کہ تحریک عدم اعتمادکے ماسٹر مائنڈ آصف زرداری ہیں اوروہ یہ بھی سمجھتےہیں کہ زرداری ٹیبل پرچیزوں کوبدل سکتے ہیں۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چودھری وزیراعظم سے زیادہ آصف زرداری پر اعتماد کرتے ہیں۔ ۔ اگرچہ ترین گروپ، ق لیگ اور ایم کیو ایم والے اپوزیشن کی طرف مائل نظر آ رہے ہیں اور حکمران جماعت کے مخالفین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔۔ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو پی ٹی آئی حکومت کا شیرازہ بکھیرتی جا رہی ہے۔ کیونکہ ایک منظم طریقے سے اپنے اپنے وقت پر ہر عمل ہوتا جا رہا ہے۔۔ مثالیں آپکو دے دیتا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ یہ بات کھل کرسامنے آچکی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی سپورٹ کے عوض ن لیگ نے حکومت سے منحرف اراکین کو اگلے عام انتخابات میں ٹکٹ کی یقین دہانی کروادی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور ہوگا ۔ مگر کیا آپ نے سوچا کہ یہاں بھی ن لیگ کی صفوں میں کوئی کھلبلی نہیں مچی، کسی نے ناراض ہو کر کسی پریس کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا اور پارٹی میں کوئی فارورڈ گروپ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہے اور حکومت کی جانب سے اٹھارہ سے بیس کروڑ روپے فی حمایت لینے کا الزام حکومت اس کی قیادت پر لگارہی ہے۔ تاہم حکومت اس الزام پر کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور عوام مہنگائی اور بیڈ گورننس سے اس قدر تنگ ہیں کہ حکومت کے اس الزام کا کوئی اثر نہیں لیا ہے اور میڈیا کاموڈ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ ۔ اپوزیشن کی تیسری بڑی شخصیت مولانا فضل الرحمٰن کا ٹکٹ چلا ہے نہ پیسہ، البتہ تیل میں ڈبوئی ہوئی لاٹھیوں کے بیان نے کام کردکھایا ہے۔ جبکہ عملی مظاہرہ اس کا ہم گزشتہ روز دیکھ چکے ہیں ۔ یوں متحدہ اپوزیشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔

    ۔ دوسری جانب عمران خان اس وقت agitationکی سیاست جانب بڑھتے دیکھائی دے رہےہیں ۔ کیونکہ حکومت نے ڈی چوک پر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جبکہ شہباز گل کا کہنا ہے کہ خان کسی وقت بھی آپ کے سامنے ایک ایسا سچ لائے گا کہ ان ضمیر فروشوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، پوری قوم انہیں جوتے مارے گی۔۔ اس حوالے سے پورا سچ یہ ہے کہ کپتان نے آج سے پہلے جتنے بھی میچ کھیلے ہیں اس میں اس کو ایمپائر کی مدد حاصل رہی ہے یہ پہلی بار ہے کہ ان کو اپنے زور بازو پر یہ میچ کھیلنا پڑ رہا ہے ۔ اوپر سے یہ میچ بھی ٹیسٹ میچ ہے۔ پھر گروانڈ میں موجود تماشائی یعنی عوام بھی اس بار ٹیم سے بدظن دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ مخالف کمیپ سے سیاست کے بڑے ہی منجھے ہوئے کھلاڑی میدان میں موجود ہیں جو کپتان کی تیزی سے ان سوئنگ اور آوٹ سوئنگ ہوتی گیندوں کو بڑی مہارت سے باونڈری لائن کے باہر پہنچا رہے ہیں ۔ یوں میچ اس وقت ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔

  • عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج کل وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی خبر سامنے آتی ہی رہتی ہے ۔ اس عدم اعتماد نے شاید عمران خان صاحب کو اپنے کچھ خاص لوگوں کے اصلی رنگ بھی دکھائے ۔ اس پورے عدم اعتماد کی تحریک کو بریک آ کر ان ہی کچھ ممبرانِ اسمبلی کی ہاں یا ناں پر لگی ہے جو میرے خیال سے جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ یہ وہی چند لوگ ہیں جو مشرف صاحب کے بعد ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن اور اب موجودہ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفادار بنے تھے ۔ تازہ ترین مثال ندیم افضل چن صاحب کی ہے جو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی برائیاں کی اور اب معاون حکومت کا عہدہ واپس لیے جانے کے بعد دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو ان کو پاکستان تحریک انصاف میں برائیاں نظر آنے لگی ۔ چن صاحب اور ان جیسے اور موسمی پرندے جمہوریت کے نام پر بدنما داغ ہیں ۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان بھی جمہوری لوگوں نے ہی پہنچایا ہے ۔

    عمران خان صاحب کی ایک بہت بڑی ناکامی یہ ہے کہ موجودہ حکومت عام لوگوں کی نظر میں صرف اس لیے ناکام ہے کیونکہ مہنگائی کا جن اس حکومت سے آج تک قابو نہ ہو سکا ۔ شاید جو اقدامات اس حکومت نے کیے ان کا ثمر آمدہ چند سالوں میں نظر آئے مگر "مہنگائی” نے حکومت کے سب اچھے اقدامات پر بھی پردہ ڈال رکھا ہے ۔ دوسری بڑی غلطی اس حکومت میں شاید نااہل لوگوں کو ملنے والے اعلی عہدے تھے ، حکومتی وزراء میں سے چند ایک کے سوا اپنا کام اس طرح نہ کر پائے جس کے دعوے کیے گئے تھے ۔ معاونین کے نام پر غیر منتخب نمائندوں کی ایک ایسی فوج وزیر اعظم کے ارد گرد بھارتی کی گئی جس نے وزیر اعظم اور ان کے منتخب نمائندوں میں نفرت کا نہ صرف بیج بویا بلکہ پروان بھی چڑھایا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین اور علیم خان صاحب ، اعظم خان کا رونا روتے نظر آئے ۔ شاید عمران خان صاحب کو اب یہ سمجھ آ گئی ہو گی اور ان کو مان بھی لینی چاہیے کہ اپنی حکومتی ٹیم بناتے وقت ان سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ تیسرا بڑا مسئلہ وزراء حکومت کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی بھی رہی جس نے اپوزیشن کے تمام دھڑوں کو اکھٹے لا کھڑا کیا ۔

    اپوزیشن اس وقت اس بات پر متفق ہے کہ عمران خان صاحب کو وزیر اعظم نہیں رہنا چاہیے – پر سوال یہ ہے کہ نیا وزیراعظم ہو گا کون ؟ اس کے پاس اختیارات کیا ہونگے ؟ ملک جس نہج پر ہے یا جو حالات اس وقت بین الاقوامی سطح پر ہیں ان میں کیا عدم اعتماد درست اقدام ہو گا ؟ 24 سال بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد کے موقع پر یہ سیاسی لڑائی کہیں وطن عزیز کو 2009 والی پوزیشن میں نہ لے جائے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر کوئی حقیقی معنوں میں جمہوری جماعت ہوتی تو شاید یہ دن دیکھنا ہی نہ پڑتا ۔ جب تک وارثتی سیاست ہو گی تو پھر ذاتی لڑائیاں بھی جمہوریت و جمہور کے نام پر لڑی جائیں گی ۔

    رہی سہی کسر انصار السلام کے رضاکاروں کی پارلیمنٹ لاجز میں موجودگی نے پوری کر دی ۔ پوری دنیا میں شاید ایسی مثال کہیں نہ ملے کہ منتخب نمائندوں کی حفاظت کے لیے ایک مذہبی و سیاسی جماعت کی عسکری ونگ میدان عمل میں آ جائے ۔ شاید یہ تحریک عدم اعتماد کو پرتشدد بنانے کی کوشش ہے ۔عمران خان صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو یہ بات سمجھنا ہو گی اب ان کو ہر بات ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ۔ خود وزیر اعظم صاحب کو اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ وزیر اعظم ریاست کا سربراہ ہوتا ہے ۔ باقی وزیر اعظم کوئی بھی ہو ، پاکستان زندہ باد رہنا چاہیے کیونکہ لوگ آتے جاتے رئیں گے پر ملک قائم رہے گا انشاء اللہ ۔

  • کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    ۔ ملک میں سیاسی ہلچل اور سیاسی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر پانچ منٹ بعد کوئی نہ کوئی بریکنگ نیوز آرہی ہے ۔ کوئی نہ کوئی گروپ ، اتحادی ، حکومتی ارکان یا اپوزیشن لیڈر پریس کانفرنس کر رہا ہے ۔ یوں کراچی سے پشاور تک اور کوئٹہ سے لاہور تک اسلام آباد میں تخت بدلے جانے کی خبریں گردش میں ہیں ۔
    ۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی بات کریں تو دھمکیاں دینے سے وہ باز نہیں آرہے ہیں لگ یوں رہا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ڈرانا چاہ رہے ہیں مگر اپوزیشن مزید تگڑی ہوکر سامنے آرہی ہے ۔ بلکہ دیکھائی یوں دیتا ہے کہ اپوزیشن اب عمران خان کے ہر حملے کا جواب ان کی ہی زبان ، انکے ہی انداز اور ان کے ہی طریقے میں دینے کے لیے مکمل تیار ہے ۔
    ۔ کراچی کے بعد آج لاہور میں عمران خان نے دوبارہ اس بات کو دوہرایا ہے کہ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد سب کا حساب چکتا کر دوں گا۔ پنجاب میں پیدا ہونے والے حالات پر بھی قابو پا لیں گے، تمام ارکان میرا ساتھ دیں گے، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔۔ کیونکہ میرے کپتان نے اپنی جارجانہ انداز بیان سے گرما گرمی خوب بڑھا دی ہے تو آج پارلیمنٹ لاجز میں موجود اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کی سکیورٹی کیلئے جے یوآئی کی سکیورٹی تنظیم انصارالاسلام کے سکیورٹی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے ۔۔ پھر انصار الاسلام کے کارکنوں کی موجودگی پر اسلام آباد پولیس نے آپریشن کرکے متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔ پولیس جے یو آئی کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو بھی گرفتار کر کے لے گئی جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے اپنے کارکنوں کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جو کارکن اسلام آباد نہ پہنچ سکے وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں کو جام کردیں۔۔ کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے ارکان کے لاپتہ کیے جانے اور سکیورٹی پر خدشات ظاہر کیے تھے جس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انصار الاسلام کے کارکن اپوزیشن کے تمام ارکان کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔

    ۔ اب اس پر شہباز گل سمیت دیگر تو خوب سیخ پا ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اس معاملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا یہ سیکورٹی لیپس ہے۔ بلکہ آئی جی اسلام آباد کوکوس رہے تھے۔ بہرحال آئی جی اسلام آباد نے اسکا فوری نوٹس لے کر کئی پولیس افسران معطل کر دیے ۔۔ مگر ن لیگ کی مریم اورنگ زیب اور دیگر اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ جب کھلے عام دھمکیاں دی جائیں گی تو ہم اپنے ارکان کی سیکورٹی کابندوبست تو کریں گے ۔ ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عمران خان اگر مزید ایک دو دن ایسے بیانات دیتے رہے تو معاملات کس نہج تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ خود ان کی اپنی حکومت اور پارٹی کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ کیونکہ بیانات دینا ، ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنوانا کچھ اور چیز ہے اور عملی طور پر گراونڈ پر حالات کچھ اور معاملہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے عمران خان کی اس وقت عوامی حمایت ویسی نہیں ہے جیسے 2018کے الیکشن سے پہلے تھی اور اس چیز کو ہی اپوزیشن سب سے زیادہ کیش کررہی ہے ۔ مگر عمران خان اب بھی اپنے پرانے اسٹائل میں ہی اپوزیشن کو ڈیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اب وہ حکومت میں ہیں اور دیگر جماعتیں اپوزیشن میں ہیں ۔ ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو بلاول بھٹو زرداری نے دھواں دار پریس کانفرنس کی ہے ۔ جس میں وہ کافی غصہ میں بھی دیکھائی دیئے ۔ مگر غصے کے باوجود انھوں نے کسی نازیبا لفظ کا استعمال نہ کیا ۔ مگر چھوڑا انھوں نے کسی کو نہیں ۔۔ گزشتہ روز کی کپتان کی دھمکیوں کا بڑا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے باور کروا دیا کہ اگر بندوق کی بات ہوگی تو چلائی تو کبھی نہیں مگر ایسا نہیں کہ وہ چلا نہیں سکتے ۔ بلاول نے یہ بھی یاد کروایا کہ عمران خان کے والد اکرام اللہ نیازی کو کرپشن الزامات پر نوکری سے نکالا گیا ۔ پھر اس بات کو بنیاد بنا کر انھوں نے کہا کہ۔ عمران خان کو شرم نہیں آتی، اپنی والدہ کے نام پر اسپتال کے پیسے پر ڈاکا ڈال کر اپنی پارٹی چلائی، امریکی عدالت نے آپ کے خلاف فیصلہ سنایا ہے لیکن آپ دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہو۔۔ پھر بشری بی بی کو بھی نہیں چھوڑا اور کہا کہ میں نے کبھی بھی خاتون اول کے بارے میں کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی لیکن خاتون اول کی کرپشن کے بارے میں جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں کوئی ٹرانسفر اور پوسٹنگ اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک خاتون اول کو پیسے نہ دیے جائیں۔
    ۔ جبکہ مولانا کے حوالے سے کہا کہ ہمارا مولانا کی فیملی سے 1971 سے سیاسی اختلاف ہے لیکن میں نے کبھی بھی مولانا فضل الرحمان کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کی۔ آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ مولانا فضل الرحمان کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔

    ۔ بلاول کے بعد اپوزیشن کی جانب سے دوسرا بڑا حملہ ن لیگ کی طرف سے ہوا ۔ مریم نواز نے عمران خان شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری جماعت کے بخیے ادھڑ رہے ہیں اور اس کی ذمہ دار نہ اپوزیشن ہے اور نہ کوئی ملکی یا غیر ملکی سازش۔ اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں، آپ کی گندی زبان ہے، آپ کا تکبر اور غرور ہے اور اپنے ممبران کو احترام نہ دینا ہے۔ اب بہت دیر ہو چکی۔ آپ کی خالی دھمکیاں اب کسی کام کی نہیں۔
    ۔ غصہ، اشتعال، دھمکیاں، گالیاں، زبان درازی، گھبرا گئے ہو نا ۔۔۔
    ۔ تم نے پاکستان کو تباہی و بربادی کے گڑھے میں پھینک دیا ہے ۔
    ۔ مزید سازش کا واویلا کر کے تم قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
    ۔ تمہارا کارنامہ یہ ہے کہ تم نے پاکستان کو اندرونی طور پر تباہ و برباد اور بیرونی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ اپنا انجام دیکھ کر گھبراؤ نہیں- ڈرامہ بازی بند کرو۔۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے زرا شائستہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اپنا انجام نظر آنے لگا ہے جس کے باعث وہ چور چور کا واویلا مچا کر غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ گھٹیا سیاست کر رہے ہیں ۔ ۔ تو اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی نے اپنی تقاریر میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ ان کے ساتھیوں کو چاہئے کہ جب کچھ ایسا کہنے لگیں ان کے منہ پر ٹیپ لگا دیں ۔ ۔ دراصل آج بلاول اور مریم سمیت دیگر نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ جو سمجھتے ہیں اپوزیشن ڈر جائے گی اور پیچھے ہٹ جائے گی۔ ایسا نہیں ہوگا ۔ اور اگر عمران خان اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی کوشش کریں گے تو رہتے وہ خود بھی شیشیے کے گھر میں ہی ہیں باقی بھی پتھر مارسکتے ہیں۔۔ دیکھا جائے تو گزشتہ کئی روز سے عمران خان کافی جارحانہ انداز میں اپوزیشن کو باونسرز مار رہےتھے ۔ مگر آج اپوزیشن نے بھی میدان عمل میں آکر کپتان کو چوکے چھکے لگا دیے ہیں۔ ۔ کیونکہ جس طرح آج اپوزیشن نے آکر حملہ کیا ہے اب عمران خان اپنے بیانات کے حوالے سے بیک فٹ پر نہ گئے تو نقصان زیادہ ان کا ہی ہوگا ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ پیچھے نہیں جائیں گے بلکہ مزید غصہ دیکھانے کی کوشش کریں گے ۔ مگر اس بار حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں ۔ ۔ کیونکہ جب بلاول یا مریم یا شہباز یا مولانا ۔۔۔۔ عمران خان کی بیگم بشری بی بی ، والد گرامی ، شوکت خانم ہسپتال اور انکی بہن پر بات کریں گے تو یہ چیزیں پھر میڈیا پر بھی ڈسکس ہوں گی ۔ اور جب یہ وہاں ڈسکس ہوں گے تو یہ چیزیں عمران خان کو بہت دکھی کریں گی ۔ ۔ مراد سعید سے پریس کانفرنس کرواکر اس کو کور اپ کرنے کی کوشش تو کی ہے ۔ مگر یہ مراد سعید کے بس کی بات نہیں کیونکہ اپوزیشن کی تمام لیڈر شپ نے خود سامنے آکر عمران خان کو جواب دیا ہے ۔

    ۔ یوں اپوزیشن صرف ڈرائنگ روم کی سیاست میں ہی نہیں عمران خان کو ٹف ٹائم دے رہی ہے بلکہ بیانیہ کی جنگ میں بھی خوب رگڑا لگا رہی ہے ۔ اس وقت دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بھی ضرورت ہے کہ وہ لوگ جو کپتان کی وفاداری کادم بھرتے تھے ۔ خاص طور پر عمر ایوب ، خسرو بختیار ، غلام سرور ، اعظم سواتی ، اعجاز شاہ ، فخر امام وغیرہ ۔۔۔ ایسی ناموں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ یہ بالکل منظر سے غائب ہیں ۔ اب یہ نہ تو کوئی پریس کانفرنس کررہے ہیں ۔ نہ ٹی وی شوز میں جارہے ہیں ۔ ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یہ وہ کردار ہیں۔ جو موسم بہار ہو تو سب سے آگے یہ ہوتے ہیں اور جب موسم خزاں کا ہو تو یہ اردگرد تو دور کی بات یہ بھی شائبہ نہیں ہونے دیتے کہ یہ اس مشکلات میں گھیری سیاسی جماعت کے وزیر ہیں ۔۔ آخر میں یہ بھی بتا دوں کہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی ایک ہی حملہ میں دو وکٹیں گرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔ ۔ پھر ترین گروپ میں تنازعات کی بہت سے خبریں گردش کررہی ہیں ۔ اس میں پی ٹی آئی والوں کی زیادہ کارستانی ہے ۔ حالانکہ صورتحال یہ ہے کہ ق لیگ کی دوبارہ انٹری کے بعد ممکن ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلی ق لیگ کا ہو ۔ اور اسپیکر ترین گروپ کا یا پیپلزپارٹی کا ۔ آج اس حوالے سے بھی تمام چیزیں تقریباً فائنل ہوجائیں گی ۔ ۔ میری چڑیل کے مطابق جس طرح اپوزیشن نے پلاننگ کی ہے اگر ویسا ہوگیا تو ۔ نیا صدر پیپلزپارٹی سے ، اسپیکر جے یوآئی ف سے ، وزیر اعظم ن لیگ سے اور وزیر اعلی ق لیگ سے آتا دیکھائی دے رہا ہے ۔

  • سیاسی سونامی تبدیلی کو بہا لے جائے گا ؟؟ تحریر: نوید شیخ

    سیاسی سونامی تبدیلی کو بہا لے جائے گا ؟؟ تحریر: نوید شیخ

    مائنس عمران خان اور مائنس عثمان بزدار کی ہوا چل پڑی ہے اور اس بار لگتا ہے کہ جتنے مرضی کالے بکروں کی بلی چڑھا دی جائے معاملات حل نہ ہوں گے۔ کیونکہ اپوزیشن بڑی ہی پراعتماد ہے ۔ نمبر گیم کے حوالے سے جو اطلاعات آرہی ہیں وہ حکومتی کیمپوں کے لیے بہت ہی خوفناک اور درد ناک دیکھائی دیتی ہے ۔۔ آج پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن کے تین بڑوں آصف علی زرادری ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے جہاں حکومت کو خوب رگڑا لگایا وہاں یہ بھی دعوی کیا کہ ہم ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے۔

    ۔ اس وقت عمران خان اپنی حکومت کو بچانے کی خاطر مسلسل ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ۔ ملاقاتوں ، ٹیلی فونز ، نئے وعدوں اور آفرز کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ کپتان کو وکٹ کے دونوں جانب کھیلنا پڑ رہا ہے کیونکہ بیک وقت پنجاب اور وفاق پر حملہ ہوچکا ہے ۔ اسی لیے بہت سوں کے خیال میں پاکستان تبدیلی کی جانب گامزن ہوگیا ہے ۔۔ فی الحال آج جو نئی صورتحال بننے کے بعد پہلا قدم کپتان نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ اپنے حامی یوٹیوبرز کو بلا کر عالمی سازش والا بیانیہ تشکیل دینا شروع کردیا ہے ۔ پھر شہباز گل نے پوری کی پوری پریس کانفرنس ہی اسی ایک پوائنٹ پر داغ دی ہے ۔ ۔ مگر اس سازشی تھیوری کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے بھی تابڑ توڑ حملے کردیے ہیں انکا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ چن دیا ، کیا یہ غیر ملکی سازش ہے ۔ حکومت کی چینی ،ادویات ، مالم جبکہ ،پشاور میٹرو اور بلین ٹری منصوبہ میں کرپشن کیا بین الاقوامی سازش ہے ، اس سے زیادہ احمقانہ بات نہیں ہو سکتی ۔ خارجہ محاذ پر جنہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا انہیں ناراض کردیا گیا ۔ عمران خان نے سی پیک میں کرپشن کے بے جا الزامات لگا کر چین کو ناراض کیا ۔ یورپی یونین کے خلاف بیان دیا ۔ ۔ اس وقت عمران خان کے حامی خاص طور پر ٹویٹر پر اس سازشی تھیوری پر یقین کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر بہت سے لوگ اس پوائنٹ سے متفق نہیں یہاں تک کہ بہت سے حکومت کے حامی صحافیوں کی رائے بھی آج کچھ تبدیل دیکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ سب سے پہلے پنجاب کی بات کی جائے تو ایک کیچڑی پکی دیکھائی دیتی ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ کنفوژین ہی کنفوژین ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ عثمان بزدار کے نام پر راضی نہیں ۔ ق لیگ اور عثمان بزدار علیم خان کو قبول نہیں کرناچاہتے ۔ تحریک انصاف کے اپنے سینئر وزراء کو بھی بزدار قبول نہیں ۔ یوں جس کو بھی عمران خان ناراض کریں گے وہ اپوزیشن کے دروازہ کھڑا سکتا ہے ۔

    ۔ فی الحال عثمان بزدار کی جانب سے دیا گیا استعفی وزیراعظم عمران خان نے قبول نہیں کیا ہے اور کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس پر عثمان بزدار کا کہنا تھاکہ استعفے سے معاملات حل ہوتےہیں تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیتا ہوں۔ عمران خان اور پارٹی کے ساتھ ہوں اور رہوں گا۔ ۔ جبکہ بزدار کے حوالے سے کپتان نے پھر یہ بات دہرائی ہے کہ عثمان بزدار ایک آسان ٹارگٹ ہیں، جو وزیراعلی کے امیدوار ہیں صرف انہیں عثمان بزدار برا لگتا ہے۔۔ اس پر جہانگیر ترین گروپ نے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ ہمارا ایک ایک رکن متفق ہے کہ مائنس عثمان بزدار سے آگے بات چلے گی۔ یعنی پہلے عثمان بزدار کو گھر بھیجیں پھر بات کریں گے ۔ اس حوالے سے نعمان لنگڑیال نے اعلان کیا ہے کہ ترین گروپ متحد ہے۔ ہم نےعبدالعلیم خان کوبھی بتادیاکہ وہ جہانگیرترین کےفیصلوں کےپابندہوں گے، تمام اختیارات جہانگیرترین کے پاس ہیں، ان کے فیصلے سے کسی کواختلاف نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں دو بڑی جماعتوں کے بعد ترین گروپ کی تیسری بڑی اکثریت ہے۔۔ اس حوالے سے یہ بھی خبریں ہیں کہ علیم خان لندن جا رہے ہیں ۔ دنیا نیوز کی دعوے کے مطابق جہاں ان کی جہانگیرترین کے علاوہ نواز شریف سے بھی ملاقات متوقع ہے ۔۔ وفاق کی بات کی جائے تو حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے اپوزیشن کے آٹھ لوگ توڑ لیے ہیں ۔ اورانھوں نے وزیروں سے ملاقاتیں کرکے معاملات طے بھی کر لیے ہیں ۔ ۔ بہرحال اپوزیشن نے اپنے لوگوں کو تین ہفتے کے لیے اسلام آباد سے نہ جانے کی ہدایت کردی ہے ۔ بلکہ تنبیہ کردی ہے کہ غیرحاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ۔ ساتھ ہی حکومت کی جانب سے پکڑ دھکڑ کی صورتحال سے بچنے کے لیے مختلف سینیر لوگوں کی سربراہی میں گروپس بنا دیے گئے ہیں جس کے بعد وہ اپنے اپنے گروپ کے ایم این ایز کے ذمہ دار ہوں گے کہ وہ غائب نہ کیے جاسکیں ۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے اپنے لوگوں کو زیادہ وقت پارلیمنٹ لاجز میں رہنے کی ہدایت بھی کر دی ہے ۔ واٹس ایپ گروپس بھی تشکیل کروادیے گئے ہیں ۔ جس کے بعد اب سے روزانہ کی بنیاد پر ان کی حاضری بھی لگوائی جائے گی ۔ ۔ اپوزیشن کے دعووں کے مطابق ان کے پاس 28سے زائد پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے ساتھ ایک اتحادی بھی ہے ۔ ذرائع کا کہناہےکہ آئی بی کے توسط سے تحریک انصاف کے 28 ممبران کے نام وزیراعظم کے علم میں ہیں۔ پھر چڑیل کی یہ بھی مخبریاں ہیں کہ اپوزیشن نے 197 سے 202 ارکان قومی اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کل کراچی کا ایک روزہ دورہ کررہے ہیں جہاں وہ ایم کیوایم سے ملیں گے ۔ لگتا یہ ہی ہے کہ ہر حال میں ایم کیو ایم کو راضی کیا جائے گا ۔ ۔ پھر عمران خان کی اٹارنی جنرل آف پاکستان سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے متعلق قانونی نکات پر بریفنگ دی ہے ۔ اس حوالے اڑتی اڑتی خبر ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی بات بھی کارڈز پر موجود ہے ۔ ۔ اس وقت وزیروں اور عمران خان کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ پریشانی کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ جہاں عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت کہیں نہیں جارہی بلکہ مزید تگڑی ہو کر آئے گی۔ تو دوسری جانب فرماتے ہیں اپوزیشن کے پیچھے ایک نہیں کئی بیرونی ہاتھ ہیں، ارکان کو 18، 18 کروڑ کی آفرز کی جارہی ہیں میں نے ارکان سے کہا ان سے پیسے لیں اور غریبوں میں بانٹ دیں، جواب میں ہماری بھی حکمت عملی تیار ہے، کپتان ایک دم اپنی حکمت عملی نہیں بتاتا، نومبر بہت دور ہے، جب وقت آئے گا تو فیصلہ کریں گے۔

    ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ کے قافلے کو اسلام آباد پولیس نے ٹی چوک پر روک لیا جس کے بعد بلاول بھٹو بھی راستے میں رک گئے۔۔ اطلاعات کے مطابق جس کنٹینر پر بلاول بھٹو سوار ہیں اس سے پیچھے موجود گاڑیوں کو مختلف مقامات پر رکاوٹیں لگا کر روکا گیا جس کے بعد بلاول نے بھی آگے بڑھنے سے انکار کردیا ہے ۔۔ اس حوالے سے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنوں کو جگہ جگہ رکاوٹیں لگا کر روکا گیا ہے، فیض آباد بلاک کریں گے، ڈی چوک بھی جائیں گے۔۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں عمران خان کر کیا سکتے ہیں ۔ تو اس جواب یہ ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ بے انتہا اختیارات سمیت فنڈز، وزارتیں اور دینے کو بہت کچھ ہے ۔ کیونکہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے میں کافی دن ہیں تو کرنے کو تو وہ بہت کچھ سکتے ہیں ۔ جیسے نیب کا استعمال ، ایف آئی اے کا استعمال ، پولیس کا استعمال وغیرہ وغیرہ ۔ پھر حکومت کے پاس ابھی بھی بہت سی ای ٹی ایمز ایسی ہیں جو آج مارکیٹ میں نکل آئیں تو روپے تو دور کی بات ڈالرز کی ریل پیل ہوسکتی ہے ۔ اس سے پھانسا پلٹ سکتا ہے ۔ خاص طور پر جو بلوچستان سے سینیٹرز پی ٹی آئی نے الیکٹ کروائے ہیں وہ میدان میں نکل آئے تو بہت سے لوگوں کی زندگی بھر کی دیہاڑیاں بھی لگ سکتی ہیں ۔ اس لیے ممکن ہے کہاگر بات چیت سے معاملات نہ حل ہوئے ۔ تو آنے والوں دنوں میں گرفتاریاں بھی ہوں ۔ اغواء بھی ہوں ۔ بندے بھی غائب ہوں ۔ کیونکہ بلاول کے لانگ مارچ کو روک کر کپتان نے سنگنل دے دیا ہے کہ وہ confrontationکے موڈ میں ہیں ۔

    ۔ میرے حساب سے کپتان کے پاس safe exit کا ایک ہی آپشن ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ دیں ۔ اور قبل ازوقت الیکشن کروا دیں کیونکہ دونوں صورتوں میں حکومت جاتی دیکھائی دیتی ہ۔ اس میں ہی کپتان کی عزت ہے ۔ ورنہ جتنا یہ زور لگائیں گے یا زبردستی کریں گے تو اتنا ہی کام خراب بھی ہوگا ۔ ۔ یاد رکھیں ماحول کی کشیدگی ہمیشہ اپوزیشن کے حق میں جاتی ہے جبکہ ٹھہراؤ ہمیشہ حکومت کے لئے ساز گار ثابت ہوتا ہے۔ یہ تاثر دینے سے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی ہزاروں لاکھوں افراد موجود ہیں۔ تو یاد رکھنا چاہیے اتنے ہی لوگ اپوزیشن کے پاس بھی ہیں ۔ ۔ یاد رکھیں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب کپتان کے اپنے کرم ہیں ۔ کیونکہ جب آپ پارٹی سمیت حکومت کو ڈکیٹر شپ کی طرز پر چلائیں گے جب آپ اپنے اردگرد صرف خوشامدی رکھیں گے ۔ جب آپکو صرف ہاں میں ہاں ملانا پسند ہو۔ جب آپکو میڈیا سمیت کسی قسم کی تنقید گوارا نہ ہو۔ اوپر سے آپ کی کارکردگی صفر ہو ۔ تو پھر یہ سب کچھ جمہوریت میں نہیں چل سکتا ۔ پھر جب آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں اخلاقی جواز کے بغیر حکومت نہیں چلتی ۔

  • شین اور میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا  ،تحریر:نوید شیخ

    شین اور میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا ،تحریر:نوید شیخ

    ن میں سے شین اور شین میں سے میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا !!!

    ۔ اس وقت پی ٹی آئی والوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ
    ۔ چل کیا رہا ہے ۔
    ۔ ہو کیا رہا ہے ۔
    ۔ اور ان کا بنے گا کیا ؟؟؟

    ۔ کیونکہ ایک جانب پنجاب میں اپنوں اور مخالفوں دونوں نے مل کر سیاسی محاذ مزید گرم کر دیا ہے ۔ تو اسلام آباد میں بھی تمام اپوزیشن جماعتوں کے بڑے حملے کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ تیسرا بلاول کا لانگ مارچ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کو پہنچنے والا ہے ۔ یوں جو بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا تھا، وہ لگتا ہے کہ بکھر رہا ہے ۔ پنجاب میں کھپ کچھ زیادہ دیکھائی دے رہی ہے اور ق لیگ نے شاید ٹرین مس کردی ہے ۔ اب معاملات کسی اور طرف جاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اسی حوالے پرویز الٰہی نے مشورہ دیا ہے کہ حالات تیزی سے حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں، جو پہلے فیصلہ لیتا ہے سیاست میں اس کوبرتری حاصل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا اہم اجلاس ہوگیا ہے ۔ جس میں علیم خان نے جہاں جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت اختیار کی وہاں بڑے اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں ۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا جہانگیر ترین اور علیم خان کا ہدف صرف پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہوگی؟
    یا
    پھر پی ٹی آئی کا بڑا حصہ اب جہانگیر ترین اور علیم خان مل کر چلائیں گے ۔ یعنی عمران خان کی جانب سے جس ڈر سے ان دونوں کو سائیڈ لائن کیا گیا تھا کہ یہ پارٹی کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ویسا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ وزیر اعظم کے رابطہ کار بھی ایکٹو ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانےکیلئے جدوجہد شروع ہوگئی ہے ۔ چڑیل کے مطابق پرویز الٰہی یا ق لیگ کے امیدوار کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ حتمی نتیجہ ایک دوروزمیں سامنےآجائے گا۔

    ۔ عبد العلیم خان نے بھی نئی پرانی ساری باتیں کردی ہیں کہ اگر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو ہم سب مل کر فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دینا ہے ۔ پنجاب میں جیسی حکومت ہے اس پر تشویش ہے۔۔ پھر لندن سے خبر یہ ہے کہ ڈاکٹرز نے جہانگیرترین کو سفر کی اجازت دے دی ہے ۔ جلد وہ پاکستان پہنچ جائیں گے ۔ ۔ کپتان کے لیے مشکل صورتحال یہ بھی ہے کہ وہ ابھی تک جہانگیر ترین گروپ کو ہی نہیں منا پائے تھے کہ ان کے سابق بااعتماد ساتھی اور جہانگیر ترین کے ہم پلہ فنانسر علیم خان نے گروپ شکیل دیدیا ہے ۔ ۔ یوں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ مرکزو پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اپوزیشن تحریک کا باقاعدہ حصہ بن جائیں ۔۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عمران حکومت کا اصل بحران اندرونی ہے۔ تحریکِ انصاف کے الیکٹ ایبلز حکومت کی خراب کارکردگی پہ بہت ناراض ہیں اور اُنہیں اپنے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ کچھ تو پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں۔ لیکن جتنی درخواستیں ہیں اتنی اسامیاں خالی نہیں۔ جہانگیر ترین اورعلیم خان کے ہم خیالوں کے گروپ کے سامنے آنے کی اہم وجہ بھی یہ ہی معلوم ہوتی ہے ۔۔ اب اس مشکل صورتحال میں حکومت کی پلاننگ ذرا چیک کریں ۔ سپیکرقومی اسمبلی کا پلان یہ ہے کہ حکومتی خرچے پر اپوزیشن کے ایم این ایز کو یورپ اور امریکہ کے دورے کروائے جائیں۔ خود حساب لگالیں کہ جہاں اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے لوگوں کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا ہے تو یہ ملک سے باہر بھیجنے کی پلاننگ کر رہے ہیں ۔ ویسے میرے حساب سے جس بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کے اپنے اندر اکھاڑ پچھاڑ دیکھائی دے رہی ہے ۔ ان کو چاہیے کہ اپنے ایم این ایز کو یورپ اور امریکہ کے ٹور کروائیں ۔ ۔ دوسری جانب پرویز خٹک اور شبلی فراز اپوزیشن کے پندرہ سے زیادہ ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ فرض کریں یہ ٹھیک بھی کہہ رہے ہوں تو نمبر گیم اس وقت پندرہ سے اوپر جا چکی ہے ۔ ۔ اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کو چیلنج ہے کہ تم لوگ کہتے ہوکہ ہمارے پندرہ لوگ تمہاری طرف چلے گئے ہیں، ایک نام بتاؤ میں تمہیں سولہ لوگوں کے نام بتاتا ہوں۔ پھر ان کا دعوی ہے کہ حکومت کے قریبی وزرا بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔

    ۔ آپ دیکھیں کل آصف زرداری سے پی ٹی آئی بلوچستان کے سابق صدر سرداریارمحمد رند نے ملاقات کی ہے ۔ اس سے پہلے ندیم افضل چن پھر سے جیالا بن گئے ہیں ۔۔ اس اہم سیاسی موڑ پر اگر کوئی پارٹی مستعدی سے کھیلی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے۔ جس کے ایک co chairmanآصف علی زرداری اسلام آباد میں بیٹھے تمام تر سیاسی جوڑ توڑ میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، تو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو ایک زبردست لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ کر رہے ہیں۔ ۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ بری طرح فلاپ ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے حیدرآباد میں جلسے میں شاہ محمود قریشی نے شرکت نہیں کی۔ پھر وفاقی وزیر اسد عمر بھی جلسے میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے حیدرآباد پہنچے لیکن وہ بھی اسٹیج پر آئے، ہاتھ ہلایا اور چلے گئے۔ جانا بنتا ہی تھا کیونکہ خالی کرسیوں سے توبندہ خطاب نہیں کر سکتا ۔ جبکہ ارباب غلام رحیم بھی کارکنوں سے ناامید نظر آئے اور حیدرآباد والوں کو بے مروت کہا۔

    ۔ جب ایمپائر نیوٹرل ہوتا ہے تو ٹیموں کو اپنے زور بازو پر کھیلنا پڑتا ہے۔ دکھانا پڑتا ہے کہ ان کے پاس کھیل کھیلنے کی کتنی مہارت ہے اور وہ ایک مشکل صورت حال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ لیکن وہ کھلاڑی کسی مشکل سے کیا نکلے گا جس نے اپنے غلط فیصلوں سے پوری ٹیم کو ایک بڑی مشکل میں دھکیل دیا ہو۔ شاید یہ حالات کی نزاکت کا ہی تقاضا ہے کہ عمران خان کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے ۔ کیونکہ کل میلسی میں جو کچھ انھوں نے کہا وہ ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی تقریر تھی جس کے ہاتھ میں جب کچھ نہیں رہا تو وہ ایک جانب اپنے سیاسی مخالفین کو تو دھمکیاں دے ہی رہا تھا مگر دوسری جانب امریکہ اور یورپ کو برا بھلا کہنے کا مقاصد صرف ایک تھا کہ جب کپتان گھر جائیں تو وہ اور انکے لوگ کہہ سکیں کہ ہماری خلاف عالمی سازش ہوئی تھی حالانکہ کون نہیں جانتا کہ اگر اتنے ہی بڑے یہ انقلابی تھے تو لابنگ فرمز کے زریعے کون کوشش کرتا رہا ہے کہ جوبائیڈن ان کو صرف کال ہی کرلے ۔ ویسے فون کال والا رونا دھونا تو ہم کپتان کی ہر دوسری تقریر اور انٹرویو میں سنتے رہے ہیں ۔ یہ تو کچھ نہیں جو عوام کو دنیا میں دو کیمپوں والی سیاست کا بتا کرگمراہ کررہے تھے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ امریکی خوش نودی کے لیے جب سے یہ حکومت آئی اس نے سی پیک کو کھڈے لائن لگا دیا ۔ امریکہ پھر بھی راضی نہیں ہوا ۔

    ۔ اب عمران خان کی اس بلاجواز بیان بازی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا ہوگا ۔ یاد رکھیں امریکہ یا یورپ ہم کو دھمکی نہیں لگائیں گے ۔ بس جیسے پہلے عمران خان کے روس پہنچنے پر اسٹیٹ بینک کو جرمانہ کیا ہے ویسے کسی مد میں ہم کو مزید مجبور کردے گا ۔ یہ جو خوشیاں منا رہے تھے کہ ہماری ٹیکسٹائل پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے ۔ وہ سب یورپ کی منڈیوں کے مرہون منت ہے ۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی بدولت ہے ۔ اس سلسلے میں ایک بھی پابندی لگی تو سمجھیں ہم پھر سے زیرو پر آجائیں گے ۔ مت بھولیں کہ دو دن پہلے برطانیہ نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔ حالانکہ شیرقومی سلامتی کو برطانوی حکومت نے خود دورے کی دعوت دی تھی۔

    ۔ پھر گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی صدر کے قومی سلامتی مشیر Jack Salonنے ایک خصوصی ٹیلیفون کال میں مشیرقومی سلامتی معید یوسف کو پاکستان کے روسی جارحیت پر خاموشی کے نتائج سمجھانے کی کوشش کی ۔ لیکن عمران خان نے جواب میں امریکہ کو دوبارہ شٹ اپ کال بھجوا دی ہے ۔ امریکہ یورپ کے ساتھ پاکستانی معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، اب کوئی معجزہ ہی پاکستان کو امریکہ اور یورپ کے جوابی رد عمل سے بچا سکتا ہے ۔ ۔ کپتان باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتے ہیں ۔ مگر سچائی یہ ہے مانگنے والے ہاتھ مار نہیں سکتے ۔ عمران خان نے ملک کو اتنے قرضوں میں پھنسا دیا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کو بھی کاٹ چکے ہیں ۔ آسان الفاظ میں جب آپ کشکول لے کر در در کے چکر لگا رہے ہوں تو پھر ایسی تقریریں اس ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتی ۔ اپنی سیاست کی خاطر یوں ملکی خارجہ پالیسی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مثال میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی آپ دیکھیں شہباز گل جیسے ترجمان بھی اس پر قوم کو بتا رہے ہیں کہ عدم اعتماد انٹرنیشنلی سپانسرڈ پلان ہے ۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نہیں عالمی طاقتیں لارہی ہیں اپوزیشن والے تو صرف کرائے کے بروکر ہیں ۔ پتہ نہیں حکومت کے ادارے اور ایجنسیاں کیا کر رہے ہیں اس سلسلے میں کہ حکومت کے خلاف ایک عالمی سازش ہو رہی ہے اور ان کو کچھ پتہ نہیں ۔ مگر وزیر اعظم کے ترجمان کو پتہ لگ گیا ہے ۔ ویسے میری سمجھ سے باہر ہے کہ جب اپنے پر بات آتی ہے تو ثبوت مانگتے ہیں کسی اور پر بات تو ہو بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ اتنے سینئر ترجمان سے ایسی خالی خولی بیان بازی جچتی نہیں ۔ کیونکہ سوال تو پھر پی ٹی آئی پر بھی بنتا ہے کہ جب اسلام آباد میں 126دن کا دھرنا دیا تھا تو اس وقت ان کو کون سی عالمی طاقت مدد فراہم کر رہی تھی ۔ ۔ دراصل عمران خان کی حکومت آخری ہچکولے لے رہی ہے، تحریک عدم اعتماد میں ان کو اپنی شکست واضح نظرآرہی ہے ، ان کو سمجھ نہیں آرہا کہ کس طریقے سے اس بحران سے نکلیں۔