Baaghi TV

Category: سیاست

  • پشاور دھماکہ اور بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    پشاور دھماکہ اور بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    جب سے آسٹریلیا کا دورہ پاکستان کا اعلان ہوا تھا تو ہمارے دشمن تو اسی دن سے سازشیں کرنے میں مصروف ہوگئے تھے ۔ پہلے ای میلز کا سہارا لیا گیا ۔ مگر جب یہ فارمولا کامیاب نہ ہوا تو آج ایک بار پھر پاکستان کو لہو میں نہلا دیا گیا ۔ پشاور قصہ خوانی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں اب تک پچاس سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں ۔ جبکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ بتایا جارہا ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ شدید زخمی بھی ہیں ۔ ۔ عینی شاہدین کے مطابق کالے لباس میں ملبوس خودکش حملہ آور نے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر پانچ سے چھ فائر کیے اور پھر تیزی سے مسجد کے اندر داخل ہوا ۔ اور منبر کےسامنے پہنچ کر خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا ۔ دھماکے کے بعد مسجد کے ہال میں ہر طرف انسانی اعضا پھیل گئے۔ ایک افراتفری کا عالم اور قیامت خیز منظر تھا ۔ ۔ یہ بہت ہی افسوس ناک سانحہ ہے کیونکہ مت بھولیں چوبیس سالوں کی کوشش کے بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے اتنے برسوں تک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہی پاکستان کا دورہ نہیں کیا تھا۔

    ۔ اس دھماکے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ۔ مسجد اور نماز جمعہ کو ہی نشانہ بننا خاص پلاننگ کا حصہ لگتا ہے ۔ اور آج ہی آسٹریلیا پاکستان ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ آپکو یاد ہو تو آسٹریلیا کے ٹور سے پہلے نیوزی لینڈ کا ٹور بھی میچز شروع ہونے سے پہلے ہی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کینسل ہوا تھا ۔ وہ پاکستان آکر واپس چلے گئے تھے ۔ جبکہ انگلینڈ نے بھی طے شدہ دورہ پاکستان ملتوی کردیا تھا۔۔ ہمارے لیے آج یہ ایک تاریخی دن تھا ۔ کیونکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان یہ سیریز کرکٹ سے بڑھ کر تھی۔ حالیہ سیریز سے دنیا کو مثبت اور مضبوط پیغام جانا تھا۔ مگرحکومت کی کوتاہی کے سبب اب دنیا بھر کے میڈیا میں یہ ہیڈ لائنز بننے کے بجائے کہ آسٹریلیا چوبیس سال بعد پاکستان میں کھیل رہی ہے ۔ ہیڈ لائنز یہ چل رہی ہیں کہ پاکستان میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے میں پچاس سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ پھر بھارتی میڈیا تو اس سانحہ کو ایسے رپورٹ کر رہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم فورا ٹور کینسل کرکے گھر واپس چلے جائے ۔ ۔ دراصل یہ ہمارے دشمنوں کی جانب سے آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان محفوظ نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جو کام حکومت نے کرنے تھے وہ کیوں نہ کیے گئے ۔ جب معلوم تھا کہ یہ کرکٹ سیریز پاکستان میں بے اتنہا مشکلات اور کوششوں کے بعد شروع ہو رہی ہیں تو پورے ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ کیوں نہ گئ ۔ کیوں صرف آسٹریلیا کی ٹیم کو تو خوب سیکورٹی دی گئی مگر باقی ملک اللہ بھروسے چھوڑ دیا گیا ۔ کیا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ دشمن کہیں اور بھی حملہ کرکے یہ ٹور کینسل کروانے کی سازش رچ سکتا ہے ۔ چلیں ٹور نہ بھی کینسل ہو تو کم ازکم ہم کو بدنام کروانے میں تو کامیاب ہوجائے گا ۔

    ۔ ان سوالوں کے جواب اس حکومت کو دینا ہوں گے ۔ کیونکہ سالوں کی کوششوں سے سرزمین پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ آخر کیوں عمران خان کے دور میں یہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے ۔ ایسا کیا ہے جو اس دور میں حکومت کر نہیں پارہی ہے ۔ ۔ یاد کروادوں آج کے سانحہ کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز پشاور کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور سکیورٹی کے لیے مسجد کے گیٹ پر دو کانسٹیبل تعینات تھے۔ عین شاہدین کے مطابق بھی دہشتگردوں کا ان سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ ۔ مگر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پشاور دھماکے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ بھی جاری نہیں ہوا تھا۔۔ یوں ایک بار پھر حکومت ، عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ اور وزیر اعلی محمود خان کی جانب انگلیاں اٹھ گئی ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر بھی سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے ۔ کہ کیوں اس کو سفارشات کو لاگو نہیں کیا جاتا ۔ کیونکہ حکومت کے لیے میڈیا سے لے سیاسی مخالفین اور پیکا آرڈیننس تو بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ مگر نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گردی پنپ رہی ہے ۔ ۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر کیوں ہم معاملات کو سیریس نہیں لیتے ۔ ایسا واقعہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک سب بڑے سر جوڑ کر بیٹھے ہوتے ۔ اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کا آپریشن اسٹارٹ ہوچکا ہوتا ۔ ۔ شیخ رشید یہ سریز شروع ہونے سے پہلے تو بہت بلند وبانگ دعوے کررہے تھے ۔ مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ دشمن تاک میں بیٹھا تھا ۔ صرف بیانات اور باتوں سے معاملات حل ہوتے تو چاہیے کیا تھا ۔
    ۔ لگتا یوں ہے کہ پورا ملک سیاست میں مگن تھا ۔ حکومت کو ملکی سیکورٹی اور عالمی معاملات سے زیادہ اپنی کرسی بچانے کی فکر تھی ۔ اب بھی حکومت کوئی خاص سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ ہمیشہ کی طرح گنگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے عمران خان نے پشاور دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی وہ ہی رٹا رٹایا بیان جاری کردیا ہے کہ پشاور دھماکا سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سازش کون کررہا ہے ۔ دشمن ہے کون ۔ البتہ شیخ رشید نے بھی چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔ مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی کوئی بھی واقعہ ہوجائے فورا انکوئری رپورٹ طلب کرلی جاتی ہے ۔ اسکے بعد اس رپورٹ کا کیا بنتا ہے ۔ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے کہ نہیں ۔ کبھی قوم کو کچھ معلوم نہیں ہوپاتا ۔ مگر جن کے پیارے جاتے ہیں ۔ کبھی ان سے جا کر پوچھیں ان پر کیا گزرتی ہے ۔ ۔ پھر وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم عمران خان کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی پر بریفنگ بھی دی ہے ۔ تو وزیر اعلی کے پی کے محمود خان ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور دیگر نے بھی مذمت کرکے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کیوں سر جوڑ کر نہیں بیٹھ رہی ہے ۔ آخر کیوں دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے کہ وہ جب چاہیں لاہور ہو، پشاور ہو ، کوئٹہ ہو ، کراچی ہو ۔۔۔ حملہ کرکے پاکستان کو destablize کردیں ۔ ۔ پتہ نہیں اسکے بعد بھی عمران خان بضد رہیں گے یا اپنی سوچ کو بدلیں گے ۔ کہ دہشتگرد بات چیت کی زبان نہیں سمجھتے ان کو ان زبان میں جواب دینا ضروری ہے ۔ آپ نے ایک بار بات چیت کی آفر کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے ۔ اب ریاست پاکستان کو ان سے آہنی ہاتھوں سے ڈیل کرنا ہوگا اور جب تک اس پاک سرزمین پر ایک دہشتگرد موجود ہو چین نہیں بیٹھنا چاہیئے ۔ جن جن ہمسایہ ممالک میں انکی محفوظ پناہ گاہیں ۔ ان سے بات بھی کرنی چاہیے کہ یا تو وہ خود ان کا قلع قمع کریں یا پھر پاکستان کو خود کوئی کاروائی یا کوئی اور طریقہ نکالنا چاہیے ۔

    ۔ پھر اوپر سے لے کر نیچے تک جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی بیرونی دشمن دشمن کا راگ الاپانا شروع ہوجاتا ہے ۔ مگر اس دشمن کو کبھی دنیا کے سامنے ایکسپوز کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ کبھی ہمارا فارن آفس ، ہمارا میڈیا اس دشمن کا غلطی سے بھی نام نہیں لیتا ۔ جبکہ بھارت میں کوئی پٹاخہ بھی چل جائے تو تعین بعد میں ہوتا ہے کہ یہ کس نوعیت کا ہوا ہے مگر الزام سب سے پہلے پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے ۔ ۔ وزیر اعظم عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ رشید اور اداروں کو vigilant ہونا ہوگا کیونکہ اس وقت ملک سیاسی افراتفری کا بھی شکار ہے ۔ اور بلاول بھٹو ایک بڑا لشکر لے کر اسلام آباد جا رہے ہیں ۔ جس میں ہزاروں لاکھوں لوگ موجود ہیں ۔ اگر دہشتگرد لاہور ، بلوچستان اور پشاور میں نماز جمعہ کے دوران حملہ کر سکتے ہیں تو بلاول بھٹو اور انکے لانگ مارچ کو سیکورٹی دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ مت بھولیں ایسی صورتحال میں دشمن تاک میں بیٹھا ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ احتجاج کرنا ، جلسے جلوس اور لانگ مارچ کرنا ہر کسی کا جمہوری حق ہے۔ سیکورٹی دینا حکومت کا کام ہے ۔ مت بھولیں یہ soft target ہیں ۔ خدانخواستہ یہاں کچھ ہوگیا تو دشمن پاکستان کو بڑانقصان اور بڑے مسائل کا شکار کرسکتا ہے ۔ اسی طرح اور بھی چیزوں اور دیگر مقامات پر فورا سیکورٹی ہائی الرٹ کردینی چاہئے جو دہشتگردوں کے لئے آسان ٹارگٹ ہو ۔ پھر یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلین کرکٹ بورڈ کو فوراengageکرلے ۔ ساتھ ہی ہمارے فارن آفس کو بھی چاہیے کہ وہ آسٹریلوی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ کرے ۔ صورتحال سے خود آگاہ کرے ۔ ان کی کرکٹ ٹیم کو جو سیکورٹی اور سہولیات دی جارہی ہیں اس بارے پھر سے آگاہ کرے ۔ کیونکہ پشاور سانحہ کو لے کر بھارتی میڈیا نے تو پراپیگنڈہ بھی شروع کر دیا ہے ۔ اس وقت بھارت کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یہ دورہ آسٹریلیا کینسل ہوجائے ۔ ۔ یاد رکھیں غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ۔ جو ہوگیا اس سے آگے نکل کر سوچنا ہوگا ۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی کامیابی صرف ایک ہی ہے کہ آسٹریلیا کا یہ ٹور خیر خیریت سے ہوجائے ۔ پورے ملک میں دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو ۔ اگر حکومت ، ادارے اور قوم ملک کر کام کریں تو یہ ناممکن نہیں ۔

  • اور عمران خان جھک گئے، تحریر: نوید شیخ

    اور عمران خان جھک گئے، تحریر: نوید شیخ

    آخر کار وہ خبر آگئی ہے جس کے بعد کپتان ، حکومت ، وزیروں اور مشیروں کے دل کی دھڑکن تیزی سے مزید تیز ہوتی جارہی ہے ۔ اس وقت اپوزیشن اپنی کاری ضرب لگانے کو مکمل تیار ہے ۔ کیونکہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں جس میں پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیارکر رکھی ہے۔ یوں تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کے لیے ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے جس کے لیے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے چیمبر کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔

    ۔ اپوزیشن کے اس تیار کیے گئے مسودے میں کہا گیاہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اورغیریقینی صورتحال ہے۔ خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جب کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔۔ رانا ثنااللہ توبڑےconfidence سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ کیونکہ چوہا رپورٹس ہیں کہ اپوزیشن نے حکمران جماعت کے 24 ارکان کی حمایت حاصل کرلی ہے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو 16 پیپلز پارٹی کو 6 اور جے یو آئی کو 2 حکومتی ارکان نے ہاں کہہ دی ہے۔ یقینی طور پر انھوں نے آئندہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کے بدلے ووٹ اپوزیشن کو دینے کے لیے حامی بھری ہوگی اب اگر یہ چوبیس لوگ اپوزیشن کے ساتھ چلتے ہیں تو عمران خان کا گھر جانا یقینی ہے کیونکہ نمبر گیم میں حکومت کو 17
    ووٹوں کی برتری ہے ۔ پر ان چوبیس لوگوں کی بدولت نمبر گیم میں اپوزیشن اوپر آجائے گی اور ساتھ اگر حکومتی اتحادی اپوزیشن کا ساتھ نہ بھی دیں تو تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونا ناممکن نہیں ۔ ۔ اپوزیشن نے مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے دوبارہ بھی رابطے کیے ہیں۔ ان تینوں جماعتوں کے کل 17 ارکان ایوان میں موجود ہیں صرف ان تینوں جماعتوں کا ساتھ بھی مل گیا تو اپوزیشن کو ایوان میں سادہ اکثریت سے زیادہ ووٹ مل جائیں گے۔

    ۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو تو بہت ہی زیادہ پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں انھوں نے تو آج وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے پانچ دن کی مہلت تک دے دی ہے ۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ہمارے نمبر پورے ہو چکے ، ایوان میں ہر ایم این اے عدم اعتماد میں ہمارے ساتھ ہے۔۔ یوں اس نئی پیش رفت کے سبب سیاست کے میدان میں خوب تیزی چل رہی ہے ۔ عون چوہدری نے بھی اعلان کر دیا کہ جلد جہانگیر ترین وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ ۔ پھر طارق بشیر چیمہ کے بعد آج پرویز الہٰی نے کہا دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ پرویز الہٰی کا کہنا تھاکہ ہانڈی میں سامان چلا گیا دھواں اٹھنے کے بعد پہلا ابالا آتا ہے۔ پہلا ابالا آ جائے پھر آپ کو بتائیں گے۔ اتنی بڑی ہانڈی چڑھی ہے کچھ تو نکلے گا۔۔ صحافیوں کی جانب سے جب پرویز الٰہی سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کا جانب سے بھی وزیراعظم کو گھبرانا نہیں ہے کا پیغام ہے؟ اس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قہقہہ لگایا اور کہا عمران خان بالکل بھی گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ ۔ جبکہ مولانا ہوں یا بلاول یا ن لیگی رہنما سب اس چیز پر بھی متفق دیکھائی دیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہے ۔ کسی کو کوئی فون کال نہیں آرہی ہے ۔ ۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کا دکھ لگتا ہے سب سے زیادہ حکومت کو ہے ۔ اس بات کا اندازہ وزیروں کے بیانات سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔ جہاں گیٹ نمبر چار کے پرانے کھلاڑی شیخ رشید احمد کوئی سگنل نہ ملنے پر گھبرائے گھبرائے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ تو فواد چوہدری اپنے لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ادارے حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں ،نیوٹرل نہیں ہوتے۔ اسی لیے خبریں یہ ہیں کہ حکومت نے اپنی تمام ترامیدیں آئی بی سے وابستہ کر لی ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ جو ناراض لوگ راضی نہیں ہونگے شاید وہ تحریک عدم اعتماد کے روزغائب کردئیے جائیں کیونکہ اس روز ایوان میں اکثریت ثابت کرنا حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہوگی۔ اس سلسلے میں باخبر زرائع کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی فہرستیں بن چکی ہیں اور ان پرکڑی نظربھی رکھی جارہی ہے۔ پھر جیسا کہ میں نے آپکو اپنے گزشتہ روز بتایا تھا کہ لندن میں نواز شریف کی دولوگوں سے اہم ملاقات میں اہم معاملات طے ہوگئے ہیں تو ایک روز بعد ہی نواز شریف نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پرگرین سگنل دے دیا ۔

    ۔ پھر جو دوسری بڑی اور اہم خبر ہے کہ اپوزیشن کے تینوں بڑوں کا تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد فوری انتخابات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی فوری انتخابات کی بجائے آئینی مدت پوری کرنے پر بضد تھی اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی آئینی مدت پوری ہونے کا چارٹر آف ڈیمانڈ دیا تھا۔ ایم کیو ایم اور ق لیگ فوری انتخابات پر راضی نہیں تھیں اور پیپلز پارٹی حکومتی اتحادی جماعتوں کے مؤقف کی حامی تھی۔ تاہم اب اس سلسلے میں معاملہ افہام وتفہیم سے طے ہوگیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں میں ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کو فوری انتخابات پر قائل کر لیا گیا ہے۔۔ اس بات کی تصدیق گزشتہ روز بلاول بھٹو نے جیو ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں بھی کردی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ آنے والا سیٹ اپ مختصر مدت کا ہوگا، نئے آنے والے سیٹ اپ کا واحد مینڈیٹ شفاف انتخابات ہو گا۔۔ یعنی ملک میں قبل ازوقت الیکشن کا چاند کسی بھی وقت نمودار ہوسکتا ہے ۔ ۔ ویسے عمران خان کی بھاگ دوڑ سے بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ اسی لیے وزیرِ اعظم عمران خان سے مسلم لیگ ق کی قیادت کی آج ایک اور ملاقات ہو گی۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان ق لیگ کے رہنما وفاقی وزیر مونس الٰہی سے ون آن ون ملیں گے ۔ چڑیل کے مطابق شاید کوئی ڈپٹی پرائم منسٹر کی کہانی ہے ۔ کل تو یہ بھی چڑیل نے بتایا تھا کہ عین ممکن ہے کہ اپوزیشن کے پے در پے حملوں کے سبب ایک دو دن میں ہی حکومت پنجاب میں تبدیلی کی نوید سنا دی جائے اور صوبے کی چابیاں ق لیگ کو تھما دی جائیں گے ۔ ۔ دیکھا جائے تو اس وقت عمران خان حکومت بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار دیکھائی دیتے ہیں ۔ آپ دیکھیں یک دم حکومت اب پیکا آرڈیننس سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے ۔ ۔ یہ سیاسی منظر اس لئے ابھرا ہے کہ حکومت نے پونے چار برسوں میں وہ وعدے پورے نہیں کئے جو اس نے اقتدار میں آنے سے پہلے کیے تھے کہ اب خوشحالی آئے گی برس ہا برس سے درپیش مسائل سے نجات ملے گی بنیادی انسانی حقوق کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی جائیں گی۔
    ۔۔۔ سٹیٹس کو ۔۔۔ کو ختم کر دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

    ۔ اب جب صورتحال خراب ہوئی ہے۔ عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ آمرانہ طرز عمل سے پورے ملک میں ایک کہرام کی سی کیفیت ہے۔ پہلے حکومت نا نا کرتی رہی ہے ۔ اب ان کو احساس ہوا ہے کہ ان کے پیروں سے تو زمین سرکنے والی ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں خان صاحب کی آنکھ دیر بعد کھلتی ہے یہ سلسلہ انہیں بہت پہلے شروع کرنا چاہیے تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ سیاسی تعلقات کو مضبوط بناتے کچھ ان کی مانتے اور کچھ اپنی منواتے مگر انہوں نے خوشامدیوں کو نوازا باقی ہرکسی کو نظر انداز کیا۔ جب کبھی وہ ناراض ہوئے اور انہوں نے گلے شکوے کیے تو ہمیشہ رعونت سے دیکھا گیا۔ اب جب اپوزیشن والے حکومت کے گلے تک پہنچ گئے ہیں تو حکومت کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اپنے آپ کو بدلہ جائے ۔ ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ عمران خان اب بھی ان کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے مگر انہیں سمجھایا گیا کہ وہ سیاست کریں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ صورتحال کو غور سے دیکھا جائے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے لہذا وزیراعظم کو اپنا رخ ادھر ادھر موڑنا پڑا ہے۔ جھکنا پڑا ۔ اپنے آپ کو بدلنا پڑا ۔ ۔ ورنہ انا اتنی بڑھ چکی تھی کہ اتحادی تو دور کی بات اپنے جماعت کے ناراض لوگوں کو کپتان منہ نہیں لگانا چاہتے تھے ۔ الٹا ان کو بھی سبق سیکھنا چاہتے تھے یہاں تک کہ ایک شخص بارے تو ان کی خواہش تھی کہ یہ بھی جیل میں جائے ساتھ اس کا فرزند بھی جیل کی ہوا کھائے ۔ مگر ایسا ہونہ سکا ۔ ۔ مجھے ویسے بہت حیرت ہے کہ صرف چار سالوں میں عمران خان کو اپنی کرسی سے بڑی محبت ہو گئی ہے۔ وگرنہ وہ تو خود جانتے ہیں کہ اب عوام کی خدمت کا وقت گزر چکا ہے۔ ۔ یاد رکھیں جب عوام کے ذہنوں میں کسی حکمران سے متعلق یہ خیال بیٹھ جائے کہ وہ ان سے مخلص نہیں تو پھر اس کے ریلیف کسی کام کے نہیں ہوتے۔ باقی ان کے اردگرد لوگ چاہے اپنی جماعت کے ہوں یا پھر اتحادی وہ ان کا کردار اور اخلاق باخوبی دیکھ چکے ہیں ۔ ۔ یقینی طور پر جب ایمپائر کی جانب سے کوئی پریشر نہیں ہوگا تو یہ سب کپتان کے بارے اپنے تجربات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں گے ۔ فی الحال یہ تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی یا ناکام ۔ مگر حکومت کی ضرور ہوائیاں اُڑی ہوئی ہیں ۔

  • لانگ مارچ،عدم اعتماد،حقوق مارچ،بنے گا کیا؟ نوید شیخ

    لانگ مارچ،عدم اعتماد،حقوق مارچ،بنے گا کیا؟ نوید شیخ

    وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب میں جہاں فارن پالیسی کی تبدیلی کی جانب بڑا اشارہ دیا۔ تو دوسری جانب فارن پالیسی کے حوالے سے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ روس کے امراء کے اکاونٹس فریز کرنے کا مطلب ہے اس کی فارن پالیسی کمپرومائز ہوگی۔ اس لیے جن لیڈروں کے اثاثے باہر ہیں انہیں ووٹ نہ دیں کیونکہ آزاد فارن پالیسی کمپرومائز ہوتی ہے۔

    ۔ تو دوسرا سب سے بڑا ایشو جو انھوں نے قوم کے سامنے رکھا وہ پیکا ایکٹ تھا ۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا سمیت مین سٹریم میڈیا میں اپنے گھر اور شوکت خانم کے حوالے سے کھل کر اس قانون کا دفاع کرنے کی کوشش کی ۔ یہ بھی کہا کہ میڈیا میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں ۔ پھر تین اخباروں کی ہیڈ لائنز میں جادو ٹونے کا آزاد کشمیروزیراعظم کی نامزدگی کے حوالے سے ذکر کیا۔ ۔ میڈیا پرعمران خان کے غصے کے حوالے سے بس یہ یاد کرواں گا کہ یہ ہی میڈیا عمران خان کا سب سے بڑا سپورٹر تھا اور جو جو کچھ میڈیا ن لیگ اور پیپلزپارٹی بارے رپورٹ کر چکا ہے ۔ اس کا عشر عشیر بھی میڈیا نے عمران خان اور ان کی پارٹی بارے نہیں کیا ہے ۔ ۔ پھر انٹرنیشل حالات ، کرونا اور سابق حکومتوں کے ساتھ موازنہ کرکے ملک میں مہنگائی کا دفاع کرنے کی کوشش کی ۔ اس پر ویسے شکر ادا کرنا چاہیے کہ کم از کم عمران خان نے یہ تو مانا ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے ۔ پھر یہ لاجک جو ہر دوسرا وزیر اور مشیر دیتا رہتا ہے مگر اس حوالے سے یہ نہیں بتاتا کہ جن ممالک کی مثال دی جاتی ہے وہاں تنخواہ per hourکے حساب سے ملتی ہے جو حکومت نے مقرر کی ہو ۔ پاکستان کی طرح نہیں کہ جو minimum wageحکومت نے مقرر کی ہو ۔ وہ کہیں implement ہی نہ ہوتی ہو ۔ یہ بھی بتایا کہ ٹیکس کولیکشن چھ ہزار ارب سے زیادہ ہوئی ، ایکسورٹس میں تمام ریکارڈ توڑے ۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ ریکارڈ قرضے کیوں لیے گئے یہ نہیں بتایا کہ جی ڈی پی کیوں نیچے کی جانب گامزن ہے ۔ یہ نہیں بتایا کہ اتنی ٹیکس کولیکشن ہورہی ہے تو پھر ہم کیوں دنیا بھر میں کشکول لیے پھر رہے ہیں ۔ کسانوں کے حوالے سے بھی بتایا کہ گندم ، چاول ، مکئی اور گنا کی ریکارڈ فضل ہوئی ۔ مگر اپنی ہی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ گندم روس سے لیں گے ۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں ۔ ویسے یہ بھی نہیں بتایا کہ یوریا اور دیگر کھادیں کیوں کسان کو ڈبل ٹرپل قیمت پر مل رہی ہیں ۔ مگر عمران خان کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ کسان بہت خوشحال ہے ۔۔ مگر اس سب کے باوجود اچھی چیز یہ ہے کہ عمران خان نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود بجلی اور تیل کی قیمتیں کم کر دی ہیں ۔ جس میں پانچ روپے بجلی اور دس روپے تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ تک ان قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ۔۔ احساس پروگرام کے تحت جو بارہ ہزار ملتے تھے اس کو چودہ ہزار کر دیا ہے ۔ ۔ یہ بھی اعلان کیا کہ جو بھی انڈسٹری میں پیسے لگائے گا اس سے کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا ۔ ۔ IT Start ups پر بھی capital gain tax ختم کردیا ۔ ۔ گریجوٹ نوجوان کے لیے تیس ہزار روپے کی انٹرن شپ کا اعلان کیا ۔ ۔ کامیاب جوان پروگرام میں سود کے بغیر قرضے دینے کا بھی کہا ۔ ۔ کسانوں اور گھر بنانے کے لیے بھی سستا قرضہ دینے کا اعلان کیا ۔ ۔ عمران خان کے مطابق یوں اگلے دوسال میں چار سو سات ارب روپے کے قرضے دیے جائیں گے ۔ ۔ آخر میں صحت کارڈ کے حوالے سے اعلان کیا کہ مارچ کے آخر تک پنجاب کے ہر گھرانے کے پاس صحت کارڈ ہوگا ۔ جس سے کوئی بھی علاج کے لیے دس لاکھ تک رقم استعمال کرسکے گا ۔ ۔ اللہ کرے عمران خان نے جن مثبت چیزیوں کا اعلان کیا ان پر عمل درآمد ہوجائے تو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔

    ۔ ملکی سیاسی منظر نامے کی بات کی جائے تو یہ فروری کا پورا مہینہ خبروں اور ملاقاتوں کے حوالے سے بھرپور تھا ۔ اب مارچ کا مہینہ بھی کچھ کم دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ایک جانب بلاول کی قیادت میں پیپلز پارٹی وفاق پر دھاوا بولنے جا رہی ہے تو دوسری جانب شاہ محمود قریشی اورعلی زیدی کی قیادت میں پی ٹی آئی سندھ حکومت پر دھاوا بولنے جارہی ہے ۔ اسی لیے میڈیا پر آجکل کافی رونق میلا لگا ہوا ہے۔ تقاریر کی بھرمار ہے جھنڈوں اور پارٹی ترانوں کی تکرار بھی شروع ہوگی ہے ، شہر شہر بلاول بھٹو کا کنٹینر گھوم رہا ہے، تو پی ٹی آئی کا قافلہ بھی اندرون سندھ روان دواں ہے ۔ جیالے لہو گرماتے، بازو لہراتے آگے بڑھتے نظر آرہے ہیں ۔ تو کپتان کے ٹائیگر پیپلزپارٹی کو للکارتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ساتھ ہی ہر کوئی ایک دوسرے کو گھر جانے کے مشورے دیتا بھی دیکھائی دیتا ہے ۔ جیسا آج عوامی لانگ مارچ کے حیدر آباد پہنچنے کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم ملک میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کریں ،ہم تیار ہیں ، وزیراعظم خود مستعفی ہوجائیں ورنہ جیالے اسلام آباد آرہے ہیں، انہیں گھر بھیج دیں گے۔ تو شاہ محمود قریشی نے جیکب آباد میں پی ٹی آئی کے سندھ حقوق مارچ میں کہا کہ بلاول پنجاب جاسکتے ہیں توکیا میں سندھ نہیں آسکتا۔ سندھ کا خزانہ کیوں خالی ہوگیا؟ اسی کا حساب لینے آئے ہیں۔ جبکہ ایک دن پہلے انھوں نے کہا کہ ھم سب کو مل کرتیر کو توڑنا ھے۔ سندھ کو جوڑنا ھے۔ ۔ اس کے علاوہ تحریک عدم اعتماد کی بات کی جائے توکوئی حتمی بات تو نہیں کی جاسکتی ہے مگر اپوزیشن رہنماوں کی چہروں اور باتوں میں بلا کا اعتماد دیکھائی دیتا ہے دوسری جانب حکومتی کمیپوں میں گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہیں ۔ ۔ ویسے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے خبر یہ ہے کہ اپوزیشن کے تین بڑے آصف علی زرداری ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور اس حوالے سے بنائی گئی رپورٹ پر تینوں رہنما غور کریں گے ۔

    ۔ اسی حوالے سے شہبازشریف نے کہا ہے کہ نمبر گیم پر دن رات کام ہو رہاہے ، تحریک عدم اعتماد کیلئے ٹائم فریم نہیں دے سکتے ۔ جہانگیر ترین سے ملاقات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا ، پیکا ایکٹ کے خلاف قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن کی ہدایت کر دی ہے ۔ اس حوالے سے شک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اپوزیشن کسی نہ کسی بہانے اجلاس بلوائے گی اور وردات تحریک عدم اعتماد کی ڈال دی جائےگی ۔ کیونکہ اس حوالے سے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر بھی تزین وآرائش کا بہانہ بنا کر اجلاس نہ بلانے سے گریز کررہے ہیں ۔ بلکہ اسپیکر اسد قیصر پہلے کہہ بھی چکے ہیں کہ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ تزئین و آرائش کا کام پانچ مارچ تک مکمل کرا لیں۔ ۔ پھر اس وقت یوں لگا رہا ہے کہ لاہور میں پاکستان کی تمام سیاست سماء چکی ہے ۔ کیونکہ کراچی اور بلوچستان کے رہنما اور قائدین بھی لاہور میل ملاقاتوں کے لیے مسلسل آرہے ہیں ۔ ۔ اس سلسلے میں کوئی حکومت کے خلاف عدم اعتماد چاہتا ہے تو کوئی حکومت کے ساتھ رہنے کے لئے منت سماجت کرتا ہے۔ ۔ پھر ایک در ایسا ہے جہاں ہر کوئی ماتھا ٹیکنے جا رہا ہے ۔ میرا اشارہ چودھری برادارن کی طرف ہے ۔ یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر حکومت نہ گری تو بھی چوہدریوں کا ہاتھ ہوگا اور اگر گر گئی تو بھی چوہدری سب سے بڑا فیکڑ ہوں گے ۔ ۔ مگر خالی یہ ایک ہی در ایسا نہیں ہے جو حکومت کو گھر بھیج سکتا ہے ۔ ایک اور شخص بھی ایسا ہے جو پی ٹی آئی کو وفاق سمیت پنجاب میں گھر بیٹھا سکتا ہے ۔ اسکا نام جہانگیر ترین ہے ۔ اور یہ آجکل لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ اب ان کی روانگی کو لے کر پھر سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ سازشی تھیوریاں اور پتہ نہیں کیا کیا چل رہا ہے۔ ساتھ ہی یاد کرواتا چلوں ان سے پہلے ایک اہم عسکری شخصیت بھی برطانیہ گئی تھی ۔ اب لندن میں بیٹھے صحافی دوست تو جہانگیر ترین کی بیماری کے تانے بانے بھی نواز شریف سے جوڑ رہے ہیں۔ اندازے یہ ہی لگائے جارہے ہیں کہ ان کی پاکستان واپسی پر حالات واضح ہوجائیں گے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔

  • ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے …تحریر: نوید شیخ

    ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے …تحریر: نوید شیخ

    سب سے پہلے تو اپنے تمام تر ریاستی جبر اور حکومت زور کے باوجود محسن بیگ کی آج ضمانت منظور ہوگی ہے ۔ کیونکہ جس طرح پولیس نے میڈیکل رپورٹ تبدیل کی ۔ ڈی وی آر پولیس کی موجودگی میں ایف آئی اے لے گئی، گرفتاری کے بعد بھی بار بار محسن بیگ کے گھر پر جو چھاپے مارے گئے اس کے بعد بھی ضمانت ہوجانا اس چیز کا ثبوت ہے کہ حکومت تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کچھ بھی ثابت نہ کرسکی ۔ میں اس معاملے پر صرف گزشتہ سماعت کا ذکر کروں گا جس میں محسن بیگ کو جب عدالت پیش کیا گیا تو اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ بیگ صاحب آپ کے پاس کوئی ویڈیو ہے عمران خان کی؟ جس کے جواب میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہ ویڈیو تو نہیں ہے صرف اتنا کہوں گا کہ خان تُو تو گیا۔ پاکستانی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا معاملات طے پا گئے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا سوال جو زہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کس کے کس سے معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    فی الحال جو دیکھائی دے رہا ہے کہ معاملات طے ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت قطعی طورپرغیر جانبدار یعنی نیوٹرل ہوچکی ہے ۔ جوکہ اپوزیشن کی تیزیوں اور اتحادیوں کے ساتھ میل ملاپ سے بھی دیکھائی دے رہا ہے ۔ امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد مارچ کے دوسرے ہفتے میں پیش ہو جائے۔ گزشتہ رات مونس الہی کی اسد قیصر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے پہلے تو یہ ہی اطلاعات تھیں کہ مسلم لیگ ق اور ترین گروپ کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے نہ صرف آمادگی ظاہر کی ہے بلکہ چوہدری پرویز الٰہی کو اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کو بھی اس پر جلد آمادہ کر لیا جائے گا۔ آئندہ دو تین دن میں شہباز شریف نے اس حوالے سے جواب بھی دینا تھا۔ مگر جیسے پہلے ایک اہم موقع پر مونس الہی نے تقریر کرکے اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھیرا تھا اب پھر سے انھوں نے اسپیکر اسد قیصر سے کہا ہے کہ سیاسی بات چيت اور مشاورت جاری ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ کیا گيا ہے، وہ اپنے وعدوں کے پابند ہیں اور مکمل احترام کریں گے۔

    ۔ دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گيا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں مونس الٰہی نے اسد قیصر کو یقین دلایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن سے تعاون کی یقین دہانی کا غلط تاثر دیا جا رہا ہے، اپوزیشن رہنماؤں سے مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کی ملاقاتیں سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ اس بیان کے بعد جو چیز سمجھ آئی ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن ان کے ساتھ ساتھ اتحادی بھی کچھ کم نہیں وہ بھی کریز کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں ۔ اور ریٹ لگوارہے ہیں کہ کہاں سے بہتر آفر ملتی ہے ۔ اور ڈیل مزید سے مزید بہتر ہوتی ہے تو کرلیا جائے ۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہوچکی ہے تو یہ اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے ۔ مسئلہ صرف ڈیل کا ہے کہ کون کتنی اچھی ڈیل سے اتحادیوں کو نواز سکتا ہے ۔ فی الحال جو اپوزیشن کا پلان ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ پہلے پیپلزپارٹی کو دینے پر مسلم لیگ ن آمادہ تھی لیکن اب پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اگر پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو دی جائے تو وزیراعظم مسلم لیگ سے ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف چونکہ پہلے تحریک اعتماد لانے پر اتفاقِ رائے ہوچکا ہے۔ اس لیے ممکنہ طور پر اسپیکر قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کی طرف سے ہوسکتا ہے۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا تو طے ہے لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے پر بھی بات چیت ہورہی ہے اور مبینہ طور پر ایسا ہونا بھی نہیں ہے۔

    دوسری طرف مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کا بھی امکان ہے۔ یہ فیصلہ نہایت اہم ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اثرات تحریک عدم اعتماد وغیرہ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ کب ہوگا کیسے ہوگا کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ اتنی رازداری میں نے پہلے نہیں دیکھی ۔ حالانکہ اس بار تو لگتا ہے کہ حکومت کی اپنی ایجنسیاں بھی چوہا رپورٹس نکلوانے میں ناکام ہوگی ہیں ۔ دراصل اس کی وجہ ہے ۔ کہ اپوزیشن آپ میں بھی اور جس سے بھی ملاقات کررہی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر۔۔ کررہی ہے ۔ ٹیکنالوجی جیسے فون ، واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے کہ کہیں کوئی چیز ٹیپ نہ ہوجائے ۔ اس لیے اصل پلان ہے کیا اور یہ کب سامنے آئے گا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے ۔ اب تک جتنی بھی چیزیں سامنے آئی ہیں یہ حالات اور خبروں کو دیکھتے ہوئے تجزیہ ہے یا پھر اندازے جو کہ غلط بھی ہوسکتے ہیں ۔ مگر یہ غلط ہو یا صحیح اپوزیشن کے میل ملاپ نے حکومت کی راتوں کی نیند اڑ کر رکھ دی ہے ۔ کم ازکم اب یہ اپنے ایم این ایز ، ایم پی ایز اور اتحادیوں کی بات بھی سننے پر مجبور ہوچکی ہے۔ اور ان کے کام کرنے کو بھی راضی دیکھائی دیتی ہے ۔ ۔ یہاں تک کہ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ حکومت ایم کیو ایم کو گورنر سندھ اور مزید ایک وزارت دینے تک کو راضی ہے ۔ ایسی ہی عمران خان صاحب پنجاب میں عثمان بزدار تک کی قربانی دینے کو تیار ہیں ۔ کہ وزارت اعلی پنجاب کا تاج دینے سے ق لیگ راضی ہوتی ہے تو ان کو کرلیا جائے ۔ پر اگر حکومتی اراکین یا اتحادی حکومت سے راضی نہیں ہوپاتے تو ذرائع کے مطابق پلان یہ ہے کہ حکومت کے یہ اراکین اسمبلی اجلاس میں جو عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے بلایا جائے گا اس میں اپنے استعفے پیش کریں گے ۔ عین اسی وقت اپوزیشن وزیراعظم سے کہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ پھر وزیراعظم کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا مشکل ہو جائے گا۔ مگر اس فارمولے میں قباحت یہ ہے کہ اسپیکر اسمبلی استعفی کو قبول نہ کرے ۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حکومتی ممبران اس دن غائب ہوجاتے ہیں یعنی اسمبلی پہنچ ہی نہیں پاتے ۔ اور اپوزیشن اتحادیوں کے ساتھ نمبر گیم کو پورا کرکے وار کردے ۔

    مگر اس حوالے سے بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حکومت یہ سب کچھ کرنے دے گی۔ کیونکہ اجلاس کے بارے میں پہلے سے ہی کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی ہال کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے، اس لیے وہاں اجلاس کا انعقاد مشکل ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ آئینی طور پر اسمبلی کا اجلاس کہیں اور منعقد ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس تحریک کو پیش کرنے کیلئے اجلاس بلانے کی تاریخ مقرر ہونے کے فوری بعد یا اس سے قبل بڑے پیمانے پرگرفتاریاں شروع کردے۔ جن میں بعض اہم شخصیات بھی شامل ہوسکتی ہیں تاکہ عدم اعتماد کی تحریک وغیرہ تک بات ہی نہ پہنچ سکے۔ لیکن اس سے اپوزیشن کو مزید کھیلنے اور حکومت کے کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔۔ یوں اگر حالات کو دیکھا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دنوں نے اپنی تیاری پوری رکھی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن متحرک ہے تو سو ہم بھی نہیں رہے۔ ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ صدر پاکستان کے موخذاے ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد اور دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب کے خلاف عدم اعتماد ایک ساتھ پیش کر دیا گیا تو پھر سب کا جانا طے ہوگا ۔ ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے یا حکومتی جماعت کے اراکین کے استعفے پیش ہو جائیں تو حکومت کے پاس وہ کون سا آپشن ہے جس کی بنا پر وہ تیار ہے ۔ تو وہ آپشن صرف ایک ہی ہے کہ وزیراعظم کو چونکہ پارلیمنٹ کی طرف سے اعتماد حاصل نہیں اس لیے وہ اسمبلی توڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جس کے بارے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے تقریبا تمام ہی جید صحافی رپورٹ کرچکے ہیں کہ کپتان نے چپکے سے دو فائلوں پر دستخط کرواکررکھ لیے ہیں ایک کسی اہم تعیناتی بارے ہے تو دوسری قومی اسمبلی سے متعلق۔۔۔ ۔ پر یاد رکھیں اصل کھیل تو تب شروع ہوگا جب یہ حکومت گھر جائے گی ۔ ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے پوری فلم تو باقی ہے ۔

  • دنیا پھر سے دوبلاکس میں بٹ گئی، تحریر: نوید شیخ

    دنیا پھر سے دوبلاکس میں بٹ گئی، تحریر: نوید شیخ

    یوکراین اور روس کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت پیوٹن نے روسی فوجیوں کو یوکرائن علاقوں میں داخل ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ ۔ تو یوکرائن کی سیکیورٹی کونسل نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ ساتھ ہی یوکرائنی وزیر خارجہ نے یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ مغربی ممالک یوکرین کو روس کے خلاف اسلحہ کی ترسیل مزید تیز کریں۔ ۔ حالات کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر یوکرائن نے روس میں رہنے والے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور اپنے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ روس نہ جائیں۔۔ یوکرائن کے اردگرد اگر صورتحال کی بات کی جائے تو اسکی سرحد پر جمع روسی فوجیں، ٹینکوں، توپ خانوں، ہوائی جہازوں سے لیس ہیں اور انھیں بحریہ کی مدد بھی حاصل ہے۔۔ یوں یوکرائن کے گرد جمع فوجیوں کی تعداد کے اندازوں میں یوکرینی سرحد، بیلاروس اور مقبوضہ کریمیا میں موجود فوجیوں کے علاوہ نیشنل گارڈز، ملکی گارڈز اور مشرقی یوکرائن میں روسی حمایت یافتہ باغی بھی شامل ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے برطانیہ کے وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ روس کی کل افواج کا 60 فیصد حصہ یوکرائن کی سرحد اور بیلاروس میں موجود ہے۔ یوکرائن کے وزیر دفاع نے ان فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 49 ہزار بتائی ہے۔۔ آپکو یاد ہو تو گذشتہ ہفتے روس کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ اس کی کچھ افواج نے جنوبی اور مغربی فوجی اضلاع میں اپنی مشقیں مکمل کر لی ہیں اور وہ اب واپس بیرکوں میں جا رہے ہیں۔ لیکن نیٹو نے کہا ہے کہ اس نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیکھا ہے۔ ۔ پھر سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی یونٹ اب چھوٹے گروپوں میں بٹ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ سرحد کے قریب جنگلوں میں درختوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی روسی افواج کو ایسی تمام سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں جو حملے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ان سہولیات میں فیلڈ ہسپتال، مرمتی ورکشاپس، اور کیچٹر ہٹانے والا ساز و سامان شامل ہے۔ ۔ پھر روس نے سکندر میزائل راکٹ لانچر اور سپیشل آپریشن فورسز اور ایئر ڈیفنس کے نظام کو بھی تعینات کردیا ہے۔۔ اس کے علاوہ روس پوری دنیا میں، بحراوقیانوس سے لے کر بحرالکاہل تک بحری مشقوں میں مصروف ہے۔ ان مشقوں میں اسکی بحریہ کے چالیس جنگی اور معاون جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ طیارے اور دس ہزار فوجی شامل ہیں۔ جو روسی جنگی جہاز انگلش چینل سے گزرا تھا وہ بھی Black Sea اور Sea of ​​Azu میں موجود ہے۔ یہ جہاز ٹینکوں اور آرمرڈ گاڑیوں کو میدان جنگ تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔Black Sea میں موجود نو جنگی جہاز کروز میزائل سے لیس ہیں۔ اس کے چار بحری جہاز جو کروز میزائل سے لیس ہیں وہ Caspian Sea میں موجود ہے۔

    اس تیاری سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روس نے پانی اور خشکی میں حملہ کرنے والے جہازوں کو کریمیا کے مشرق اور مغرب میں تیار کر رکھا ہے۔ یوں روس یوکرائن پر مشرق، شمال اور جنوب سے چڑھائی کرتے ہوئے پورے ملک کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے ۔ ۔ مگر کئی فوجی ماہرین سمجھتے ہیں کہ یوکرائن پر بڑے حملے اور اس کے بعد اس پر مکمل یا کچھ حصوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے روس کو اس سے زیادہ فوجیوں کی ضرورت ہو گی جو اس نے اس وقت جمع کر رکھی ہیں۔۔ کیونکہ یوکرائن نے بھی اپنی فوج بنا لی ہے اور اس کے علاوہ روس کو عوام کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔ اسی حوالے سے امریکی فوج کے چیف آف سٹافmark milley کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی تعداد کے پیش نظر صورت حال انتہائی ہولناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور شہری علاقوں کے گلی کوچوں میں لڑائی ہو سکتی ہے۔
    ۔ پھر مغربی ملکوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا لڑاکا دستوں کو یوکرائن بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور روس کی کارروائی کے خلاف صرف اقتصادی پابندیوں ہی کا سہارا لیا جائے گا۔۔ نیٹو ملکوں نے یوکرین کو مدد کا یقین دلایا ہے لیکن وہ صرف فوجی مشیروں، ہتھیاروں اور فوجی ہسپتالوں تک ہی محدود ہے۔ اس وقت پانچ ہزار فوجی بلکان کی ریاستوں اور پولینڈ میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ چار ہزار مزید فوجیوں کو رومانیہ، بلغاریہ، ہنگری اور سلواکیہ بھیجے جانے کا امکان ہے۔۔ روس کے رہنماؤں کے پاس دوسرے ممکنہ اقدامات میں غالباً یوکرائن کی فضاؤں میں پروازوں پر پابندی، بندرگاہوں کا محاصرہ اور جوہری ہتھیاروں کی ہمسایہ ملک بیلاروس میں تعیناتی شامل بھی ہوسکتے ہیں۔۔ روس یوکرائن پر سائبر حملے بھی کر سکتا ہے۔ یوکرائن کی حکومت کی ویب سائٹ جنوری میں بیٹھ گئی تھی اور فروری کے وسط میں یوکرائن کے دو سب سے بڑے بینک حملوں کی زد میں آئے تھے۔۔ پابندیوں کی بات کی جائے تو اس حوالے سے مغربی ممالک کا شدید ردِ عمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ امریکہ ، یورپ سمیت دیگر اتحادیوں نے پہلے مرحلے میں روس پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں ۔ سب سے بڑی ڈویلپمنٹ اس سلسلے میں یہ ہے کہ جرمنی نے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے ۔ ۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ مالیاتی منڈیوں تک روسی رسائی کو محدود کر دے گا۔۔ پھر ایک بیان میں آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ تمام شراکت داروں سے مل کر روس کیخلاف کھڑے ہوں گے، پابندیوں میں کچھ روسی افراد پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ روس پر سفری اور مالیاتی پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔۔ جبکہ جاپان نے بھی روس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی بانڈز کے اجراء پر پابندی اور بعض روسی افراد کے اثاثوں کو منجمد کیا جائے گا۔۔ تو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل Antonio Guterres نےروس کے حالیہ اقدامات کو یوکرائن کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ ۔ پھر روس پر مالی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ اب مغربی ممالک کی جانب سے روس میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے دو روسی بینکوں VEB اور روسی ملٹری بینک پر تجارتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے اہم روسی شخصیات اور خاندانوں کے اثاثوں پر بھی پابندیاں متوقع ہیں۔ ۔ پھر امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ پابندیاں روس کے یوکرائن پر حملے کی شروعات ہیں، روس سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں لیکن امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو یوکرائن کی حدود کے ہر انچ کا دفاع کریں گے۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یوکرائن کا ایک بڑا حصہ الگ کرنے کا اعلان، روسی حملے کا آغاز ہے، اس لیے یوکرائن کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھیں گے۔۔ ساتھ ہی جوبائیڈن نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرائن کے خلاف مزید اقدامات کیے تو امریکہ روس پر پابندیاں بڑھاتا رہے گا۔ یعنی ان پابندیوں سے روسی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جائے گا۔

    ۔ پابندیوں کا انتہائی قدم روس کے بینکنگ نظام کو بین الاقوامی Swift ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے امریکی اور یورپی معیشتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔۔ دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ روس ابھی بھی مغربی ممالک کے ساتھ ۔۔۔ سفارتی حل ۔۔۔ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن روسی شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ۔ اس تمام بحران نے بھارت کو بھی کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ تاریخی طور پر انڈیا یوکرائن کے معاملے پر ہمیشہ روس کے ساتھ رہا ہے مگر 2014 کے مقابلے میں اب حالات مختلف ہیں۔ کیونکہ لداخ والے معاملے کو ذہن میں رکھیں تو انڈیا کوچین کے مقابلے میں نہ صرف روس کی بلکہ امریکہ اور یورپ کی بھی ضرورت ہے۔ مگر روس اور مغرب کے دیگر ممالک اس وقت یوکرائن کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کسی فریق کی حمایت کر سکتا ہے نہ ہی خاموش تماشائی بنا رہ سکتا ہے۔ کیونکہ ایک جانب بھارت کے معاشی مفادات ہیں تو دوسری جانب فوجی معاملات میں روس پر انحصار ہے۔ ۔ پھر انڈیا اور امریکہ کے تعلقات 2014 کے مقابلے میں مضبوط ہوئے ہیں۔ اب وہ امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔ اس لیے دہلی پر پہلے سے زیادہ دباؤ ہے۔ اس لیے روس یوکرائن کا تنازعہ جیسے جیسے مزید بڑھے گا تو یہ انڈیا کے لیے بہت بری صورتحال ہو گی۔۔ اس وقت بھارت کسی کے حق میں بھی کو ایسا بیان نہیں دے رہا ہے جس سے اس کی غیرجانبداری ثابت ہو۔ یوں انڈیا کواڈ اتحاد کا واحد ملک ہے جو روسی جارحیت کو نظرانداز کر رہا ہے۔۔ دوسری جانب روس پر مغربی پابندیوں کا انڈیا کے فوجی معاہدوں پر سخت اثر ہوگا۔ یاد رکھیں امریکہ نے اب تک روس سے ایس 400 میزائل خریدنے پر انڈیا پر اپنے CAATSA قانون کے تحت پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔۔ دراصل روس کے یوکرائن کے دو خطوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کے بعد اب اس کا اگلا اقدام یورپ کے پورے ۔۔ سکیورٹی ڈھانچے ۔۔۔ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

  • طبل جنگ بج گیا ، دنیا نئی معاشی بحران کی جانب گامزن،تحریر: نوید شیخ

    طبل جنگ بج گیا ، دنیا نئی معاشی بحران کی جانب گامزن،تحریر: نوید شیخ

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ روس اس وقت دنیا بھر میں talk of town بن چکا ہے ۔ وجہ اس کی یہ نہیں کہ پاکستان اس تنازعہ میں کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ دورہ شروع ہونے سے صرف ایک دن پہلے ہی حالات اس تیزی سے بدلے ہیں ۔ کہ اب مشرق اور مغرب کی نظریں ہم پر لگ گئی ہیں کہ ہم اس تنازعہ میں کیا موقف اپناتے ہیں۔ کیونکہ اپنی کمزرویوں کے باوجود بہرحال ہم ہیں تو ایک ایٹمی طاقت اور مسلمان دنیا کا ایک اہم ملک ۔

    ۔ اس وقت جہاں روسی صدر پیوٹن نے اپنے پتے شو کروادیے ہیں تو دوسری جانب یوکراین کے وزیر دفاع نے اعلان کردیا ہے کہ جنگ کے لیے تیار رہیں جس میں سختیاں بھی ہوں گی نقصان بھی ہوگا لیکن ہمیں درد کو برداشت کرتے ہوئے خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہے۔ دراصل انھوں نے طبل جنگ بجا دیا ہے ۔ کیونکہ ان کی انتہائی جذباتی پوسٹ نے سیکیورٹی اہلکاروں کے لہو کو گرما دیا ہے ۔۔ یوں یہ کہنا ہے کہ یوکرائن کے بحران نے ایک نیا رخ اِختیار کرلیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔۔ اب یوکرائنی وزیر دفاع کے بیان کے بعد عین ممکن ہے کہ عمران خان کے دورہ روس کے دوران ہی روس اور یوکرائن کی جنگ چھڑ جائے ۔ اس لیے پاکستان کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سفارت کاری اور statesmanship کا بھی امتحان ہے ۔ کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے مفادات میں فیصلہ کیا جائے ۔ کیونکہ پاکستان خود سفارتی محاذ پر بہت سے اہم مسائل کا شکار ہے ۔ جہاں ایک جانب ایف اے ٹی ایف کا معاملہ ہے تو بھارت کی مسلسل جارحیت کا بھی سامنا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا معاملہ بھی آپکے سامنے ہے ۔ پھر ایک جانب امریکہ ہے تو چین کی صورت میں امریکہ کے سامنے خطے میں ایک اور طاقت موجود ہے۔ سی پیک کی شکل میں چین گوادر تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی بدحالی کا بھی براہ راست اثر ہم پر ہے ۔ پھر نیٹو کی شکل میں پورا یورپ اس تنازعہ کا اہم فریق ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہماری زیادہ تر ایکسپورٹس کا دارومدار یورپ اور امریکہ کی منڈیاں ہیں ۔ اسکے علاوہ ہم آئی ایم ایف کے چنگل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس سے آزاد ہونا ممکن نہیں دیکھائی دیتا۔ یوں وقت کا تقاضا ہے کہ عمران خان اور ریاست پاکستان کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت صرف اور صرف اپنے مفادات کا سوچے ۔

    ۔ اب دیکھنا ہے عمران خان روس سے کیا لے کر آتے ہیں۔ اور کیا دے کر آتے ہیں ۔ ۔ دوسری جانب تجزیہ کیا جائے تو یوکرائن روس کے مقابلے میں ایک کمزور بچہ دیکھائی دیتا ہے ۔ پر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کمزور بچے کی پشت پر بہت بڑے بڑے پہلوان کھڑے ہیں ۔ جو نہ اس بچے کو پیچھے ہٹتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی گرنے دینا چاہتے ہیں ۔ ۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس فروخت کرنے والا ملک روس ہے۔ اس کے بعد قطر اور ناروے کا نمبر ہے۔ پھر سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والا ملک امریکا ہے۔اس کے بعد روس اور سعودی عرب کا نمبر ہے۔۔ روس یورپ کی پینتیس فیصد گیس ضروریات پوری کرتا ہے۔سب سے بڑا خریدار جرمنی ہے۔اس کے بعد اٹلی ، ترکی ، آسٹریا ، فرانس ، پولینڈ ، ہنگری اور سلواکیہ کا درجہ ہے۔ روسی گیس کے خریداروں میں بلجیئم ، ڈنمارک ، فن لینڈ ، ہالینڈ ، برطانیہ ، یونان ، سوئٹزر لینڈ ، بوسنیا ، کروشیا ، بلغاریہ ، چیک جمہوریہ ، سلووینیا ، سربیا اور رومانیہ بھی شامل ہیں۔یوں صرف گزشتہ سال روس نے چار سو نوے بلین ڈالر کی اشیا دنیا کو فروخت کیں۔ جس میں بڑا حصہ تیل اور گیس کا تھا ۔ ۔ یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ روس یوکرین جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ تو ان دونوں کا تو نقصان جو ہوگا سو ہو گا۔ مگر اس جنگ کے بدلے اگر یورپ اور امریکا روس کا معاشی بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ جس کے واضح اشارے مل رہے ہیں تو پھر روسی تیل، گیس اور غلہ بھی باقی دنیا تک نہیں پہنچتا۔ اور پابندیوں کے بعد جب خام تیل کی قیمیتں مزید اوپر جائیں گی تو سوچئے کہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کا کیا ہوگا جو پہلے ہی تیل ، گیس اور اناج کی بڑھتی قیمتوں کے سبب معاشی طور پر دیوالیہ ہوا پڑا ہے ۔

    ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی صرف خبروں کی بنیاد پر ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت
    97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ عالمی ادارے Fidelity انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ پھر لندن اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔۔ آسٹریلیا نے حالات کے پیشِ نظر یوکرائن میں اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے اُنہیں وطن واپس بھیجا جائے گا۔ تو بھارت نے بھی اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کو یوکرائن سے نکالنے کے لیے آج صبح خصوصی پرواز روانہ کر دی ہے۔۔ فی الحال روس کے گزشتہ روز کے اعلانات کے درعمل میں برطانیہ نے روس کو خبردار کیا ہے اور روس کے پانچ بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ۔ توکہا جا رہا ہے کہ امریکا بھی آج کسی وقت روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔۔ پھر امریکا مغربی میڈیا اور خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے روس کو جارح ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ۔ تنازعہ کی جڑ یہ ہے کہ امریکا یوکرین کو نیٹو ممالک کی تنظیم میں شامل کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ اپنے دور مار ایٹمی میزائل یوکرائن کی سر زمین پر نصب کر کے روسی سلامتی کو براہ راست خطرے میں ڈال دے جس کی روس کبھی بھی اجازت نہیں دے گا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکا کی عالمی بالا دستی خطرے میں ہے۔ یاد کریں 15 اگست 2021 کو کابل سے امریکی فوج کے انخلاء پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ امریکا اب عالمی طاقت نہیں رہا۔ روس ، چین اسٹرٹیجک اتحاد بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ۔ ایک وقت تھا کہ امریکی سازشوں نے سویت یونین اور چین میں دشمنی پیدا کر دی تھی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکا کبھی دنیا کی واحد سپر پاور نہ بن سکتا۔ اس طرح چین کو سوویت یونین سے دور کر کے امریکا نے سوویت یونین کو افغانستان کے پہاڑوں میں گھیر کر آسانی سے شکست دے دی۔

    ۔ اب تو صورتحال بالکل مختلف ہے کہ امریکی اتحادی بھی اسے عالمی طاقت ماننے کے لیے تیار نہیں تو دوسری طرف چین امریکی ماہرین کے مطابق اگلے چند سالوں میں امریکا کی جگہ لیتے ہوئے دنیا کی نمبر ون معاشی طاقت بننے والا ہے۔ دوسری طرف روس ہے جو جنگی میدان میں امریکا کے لیے بڑا خطرہ بننے والا ہے۔ امریکی جریدے scientific american کی رپورٹ کے مطابق مستقبل کی لڑائی میں روس کی نئی صلاحیتوں کو روبوٹک ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنیوالے حملوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ جس میں فضائی اور خلائی حملوں سمیت میزائل شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس کئی اہم جنگی شعبوں میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ۔ بات یہ ہے کہ روس اور چین نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ کس طرح امریکا نے ماضی میں دونوں ملکوں میں اختلافات اور دشمنی پیدا کر کے دنیا پر غلبہ پایا۔۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ امریکا ہر اس ملک کا دشمن ہے جو اس کی عالمی بالا دستی کو چیلنج کر سکتا ہو۔ چاہے وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہو یا عسکری معاشی معاملات میں۔ مگر دیوار پہ لکھا سچ یہ ہے کہ امریکا کی اس طویل بالا دستی کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ ۔ اسی طرح حالیہ سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی کا رویہ امریکہ کے رویے سے مختلف ہے اور جرمنی کے اَہم معاشی مفادات کارفرما ہیں۔ اَمریکہ کے نزدیک روسی صدر پیوٹن کے سیاسی اور معاشی عزائم کو روکنا اولین ترجیح ہے جِس کے لیے مغرب کے سامنے روس کے عزائم کو ایک بڑھتے ہوئے خطرہ کے طور پر پیش کرنا ہے جِس کا اِس وقت سدِباب ناگزیر ہے جبکہ یورپ خاص طور پر جرمنی کو گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے گیس درکار ہے۔

    ۔ پھر جرمنی اور روس کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون سے بھی امریکہ، یوکرائن سمیت چند یورپی ممالک ماضی کے تلخ تجربات کی وجہ سے خائف ہیں۔ ۔ اسی لیے امریکہ اپنے سٹریٹجک مفادات پر ضرب لگنے کے خطرات کے پیشِ نظر روس اور جرمنی کے مابین ہونے والے گیس منصوبے کو آپریشنل ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ یوکرائن کے موجودہ بحران کے جنم لینے سے بھی پہلے امریکہ نے اس منصوبے پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ صدر بائیڈن کی اِنتظامیہ نے مئی 2021 میں دو اَہم پابندیاں ختم کردی تھیں ۔ ۔ اپنی بات میں اس پوائنٹ پر ختم کروں گا کہ چین اور روس کا اسٹرٹیجک اتحاد امریکی عالمی بالا دستی کے لیے موت کا پیامبر ہے۔

  • کرپشن اور پاکستان، تحریر:عبدالوحید

    کرپشن اور پاکستان، تحریر:عبدالوحید

    کسی بھی ترقی یافتہ ممالک میں سیاستدانوں پر جب معمولی کرپشن کے الزامات لگتے ہیں تو فوری مستعفی ہو جاتے ہیں
    مگر یہاں کے سیاست دانوں کی بات ہی کچھ اور ہے ۔اس ملک کے سیاست دان اپنی کرپشن کا کھل کر دفاع کرتے ہیں اور خود کو بہت بڑا فاتح سمجھنے لگ جاتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہوا ۔ کرسٹیان وولف جرمنی کے صدر تھے ۔اور وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ۔اور یہ انکشاف ہوا کہ نجی سفر کے دوران ان کے ہوٹل کا کرایہ ان کے کسی دوست نے ادا کیا تھا جو کہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔اور ساتھ ہی کرسٹیان وولف نے اپنے مکان کے لیے رعایتی شرائط پر قرض لینے کا بھی الزام تھا ۔ ان الزامات کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور ان پر دباؤ ڈالا ۔ کرسٹیان وولف نے سبکی سے بچنے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور صدر نے اپنے بیان میں کہا ان واقعات کی وجہ سے مجھ پر عدم اعتماد کا دھچکا لگا ہے اس لیے میں صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔

    ایسے کئی واقعات ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے سربراہان پر لگے اور انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔ لیکن پاکستان میں جس طرح کی لوٹ مار ہورہی ہے اس پر کسی کو شرمندگی تک محسوس نہیں ہوتی ۔ موجودہ دور کی بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتوں کے تمام تر بڑے لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں اور بہت سے لوگوں پر کرپشن ثابت بھی ہوچکی ہے اور اس بنیاد پر انہیں جیل بھی ہو چکی ہے لیکن وہ کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی اور اپنے کرپشن کا بڑھ چڑھ کر دفاع کرتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔

    کرپشن کسی بھی ملک کے لیے ناسور ہوتا ہے جس سے ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب جاتا ہے ۔کرپشن چاہے مالی ہو اخلاقی ہو اس حقیقت سے کون منکر ہوسکتا ہے کہ قومی خزانے کی چوری ملک کی مالی وسائل کی لوٹ مار ایسا ناسور ہے جو ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت پورے معاشرے میں ایک خطر ناک حد تک ناسور سرائیت حاصل کر چکی ہے ۔ پوری قوم رشوت اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کرتی نظر آتی ہے کرپشن ایک ہمہ جہت سماجی برائی ہے ۔ جب طبقات میں سماجی توازن برقرار نا رہے اور معاشی ناہمواری بڑھتی چلی جائے ۔ تو اعلیٰ اقدار ، سماعت ، مساوات انصاف ،احترام ، آدمیت ،اور انسان دوستی کا فروغ ملنا بند ہو جاتا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافے سے چوری ، قتل ،ڈاکے ،دہشت گردی کے جارحانہ رویوں اور اخلاق سوز سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔معاشرے میں صحت مند مقابلہ کا رحجان کم ہو جاتا ہے ۔ نااہل اور بد دیانت افراد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور موجودہ حالات میں مصائب کاٹھیں مارتا ہوا سمندر ملک کو چاروں طرف سے گھیرے ہوا ہے ۔ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی مسائل کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ جن کا شمار ناممکن کے قریب ہے ۔ جناح کے اس پاک سرزمین کو بد دیانت ، چور ، نااہل اور کرپٹ سیاست دانوں نے گھیر رکھا ہے ۔ ملک کو آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔ اس کرپشن کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے اس ملک میں نئے قوانین متعارف کراۓ جائیں جوکہ انتہائی سخت ہوں اور کرپٹ سیاست دانوں ، بیوروکریسی کو سخت سے سخت سزا دی جائیں تاکہ یہ دوسروں کو معلوم ہوسکے ۔ کرپشن کی سزا موت ہے ۔اس طریقے کرپشن ختم ہوسکتی ہے ۔ اگر اس کرپشن کا کوئی ادراک نہیں کیا گیا تو آئندہ آنے
    والی نسل ان لوگوں کو کھبی معاف نہیں کرے گا ۔
    جو حکمرانی کے تخت پر فائز ہیں اور جو فائز رہے ہوں۔

  • امریکہ کی افغانستان میں واردات، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کی افغانستان میں واردات، تحریر: نوید شیخ

    کیا آپکو معلوم ہے کہ امریکہ کیسے اپنے سے چھوٹے ملکوں اور کمزور قوموں کو سرنگوں رکھنے کے لیے اپنے مالیاتی اداروں کا استعمال کرتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لیے وہ تمام قانونی اور اخلاقی جواز بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اپنی
    supermacy بارے ہی سوچتا ہے ۔ اس سلسلے میں انسانی کیا ہر قسم کے حقوق کو بھی بھول جاتا ہے ۔

    ۔ ایسی ہی واردات امریکہ نے افغانستان کے حوالے سے ڈالی ہے جس پر افغانی تو امریکہ کو کوس ہی رہے ہیں پر اب دنیا کے بڑے بڑے ممالک امریکہ کو اس بھونڈی حرکت پر خوب لعن طعن بھی کررہے ہیں اور اس کو اسکی اصلیت بھی دیکھا رہے ہیں ۔ آج کا یہ وی لاگ اس ہی بارے میں ہے ۔ ۔ اس وقت دیکھائی یوں دیتا ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ افغانستان مسلسل ایک Caosکا شکار رہے ہیں حالانکہ پورے افغانستان میں امن آگیا ہے۔ گارنٹی مل چکی ہے کہ ان کی سرزمین کسی کےاور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگا ۔ عورتوں سمیت جتنے بھی حقوق کا انھوں نے مطالبہ کیا وہ مان لیے گئے ہیں ۔ مگر پھر بھی ان کے اپنے ہی پیسے ان کو نہیں دیے جا رہے ہیں ۔ جبکہ اس وقت افغانستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی بھوک وننگ کا شکار ہوچکی ہے ۔ اقوام متحدہ بھی اس خدشہ کا اظہار کرچکا ہے کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر انسانی حقوق کے champions کو باقی سب کچھ تو دیکھائی دیتا ہے مگر افغانیوں کی یہ حالت زار دیکھائی نہیں دیتی ۔ لگتا یوں ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کے حالات کبھی ٹھیک نہ ہوں ۔

    ۔ اسی حوالے سے چین نے بڑا ہی تگڑا بیان دیا ہے اور وہ کھل افغان عوام کی حمایت میں بول اٹھا ہے ۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں چین نے امریکہ کو ڈاکو قرار دے دیا ہے ۔ اور شاید کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے ۔ ۔ دراصل چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے منجمد سات ارب ڈالر کے فنڈز کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے صدارتی حکمنامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد نصف رقم ۔۔۔ ساڑھے تین ارب ڈالر۔۔۔ افغانستان کے عوام کی انسانی مدد جبکہ بقیہ ساڑھے تین ارب ڈالر گیارہ ستمبر کے حملوں کے متاثرین میں تقسیم کرنے کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ صدارتی حکمنامے کے مطابق امریکی انتظامیہ نیویارک کے فیڈرل ریزور میں منجمد افغان اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکے گی اور ان اثاثوں میں ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کی فلاح اور افغانستان کے مستقبل پر خرچ کیے جا سکیں گے۔ مگر یہ باقی ماندہ پیسے خرچ کیے جانے ہیں اس حوالے سے بھی اسٹوری میں twist ہے جو آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔ ۔ فی الحال امریکی پستی کی اس سطح پر آ گئے ہیں کہ کمزوروں کی امانتیں بھی ہڑپ کرنے پر اتر آئے ہیں۔۔ کیونکہ یہ جو پیسہ منجمد ہے وہ بنیادی طور پر ان پیسوں پر مشتمل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر افغان عوام کی مدد کے لیے عطیہ کی گئی تھی۔

    ۔ گذشتہ سال اگست کے مہینے میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بہت سی غیر ملکی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے افغانستان کے مرکزی بینک کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا جن کی مجموعی مالیات دس ارب ڈالر بنتی ہے اور ان میں سے سات ارب ڈالر صرف امریکی شہر نیویارک میں موجود ہیں۔ جبکہ دو ارب ڈالر یورپ اور باقی متحدہ عرب امارت میں بھی منجمد ہیں۔ طالبان نے بارہا امریکہ اور غیر ملکی حکومتوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فنڈ جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ وہ افغانستان کی بدحال معیشت کو سہارا دے سکیں اور انسانی بحران سے بچ سکیں۔۔ حقیقت میں یہ جو افغانستان کی امانت چرائی گئی ہے اس کا کوئی بھی شہری ہائی جیکرز میں شامل نہیں تھا۔ پھر افغانستان کی آدھی آبادی نو ستمر کے بعد پیدا ہوئی۔ جن میں سے بہت سے دو وقت کی روٹی کے لیے گردے بیچنے پر مجبور ہیں۔ حالت یہ ہے کہ پورے پورے خاندان زندہ رہنے کے لیے اپنے گردے بیچ رہے ہیں اور یہ امریکی ٹی وی voice of america کی اپنی رپورٹس میں دیکھا جا رہا ہے ۔ مگر کسی امریکی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ۔ ۔ امدادی گروپس اور بین الاقوامی ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ قریب 23 ملین افراد کو۔ جو افغانستان کی نصف آبادی بنتی ہے۔ سخت بھوک کا سامنا ہے جبکہ نو ملین یا 90 لاکھ افراد قحط سالی کے کنارے تک پہنچ چکے ہیں۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ لوگ خوراک خریدنے کے لیے ذاتی اشیا بیچنے، گھر کو گرم رکھنے کے لیے فرنیچر تک جلانے اور یہاں تک کہ پیسوں کے لیے اپنے بچے تک فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    ۔ پھر طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی زیادہ تر افغان حکومتی اہلکاروں کو دو ماہ سے ان کی تنخواہ نہیں ملی تھی۔ اس کے بعد سے قریب نصف ملین افغان اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ دوسری طرف ملک سے باہر موجود افغانوں کو وطن میں اپنے رشتہ داروں کو رقوم بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی ایک وجہ بینکوں کی طرف سے افغانستان کے ساتھ کاروبار میں ہچکچاہٹ ہے اور ان کو ڈر ہے کہ امریکی پابندیوں کی زد میں نہ آجائیں ۔۔ سچ یہ ہے کہ نو گیارہ کے سب سے زیادہ متاثرین افغانستان میں رہتے ہیں۔ اگر وہ ہرجانہ وصول کرنے کے قابل ہوتے تو آج ہر امریکی اپنے بچے بیچ رہا ہوتا۔ حقائق یہ ہیں کہ نو ستمبر ہائی جیکنگ میں جن افراد نے براہ راست حصہ لیا یا بلاواسطہ مدد کی۔ ان میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔۔ اس پر سوال تو بنتا ہے کہ اگر متاثرین کو ہرجانا دلوانا ہی تھا تو سب سے موزوں ملک سعودی عرب ہی تھا کہ جس نے امریکہ میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ۔ اس سلسلے میں چینی وزارت خارجہ نے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ افغان عوام کی رضا کے بغیر امریکا نے افغان اثاثوں پر فیصلہ کیا۔ ۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ ترجمان Wang Wen Bin نے کہا کہ امریکی فیصلے سے پھر ثابت ہوا کہ امریکا اپنے دعوؤں کے برعکس کمزوروں کا دفاع نہیں کرتا۔۔ ثابت ہوا امریکا اپنے فیصلے صرف اپنی بالادستی کے لیے کرتا ہے۔ ۔ افغان عوام کے مجرم امریکا کو افغان عوام کی مشکلات بڑھانی نہیں چاہئیں۔ ۔ امریکا کا یہ عمل ڈاکوؤں کے طرز عمل سے مختلف نہیں ہے۔۔ پھر چین نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو افغان عوام کے تمام اثاثے غیر منجمد کرنے چاہئیں اور افغانستان سے یک طرفہ پابندیاں جلد ہٹانی چاہئیں۔ امریکا کو افغانستان میں انسانی بحران کم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ۔ افغانستان کے اثاثوں سے متعلق امریکی فیصلے پر پاکستان بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے ۔ کہ اس سے افغان عوام مزید مشکلات کا شکار ہوں گی ۔ مگر شاید امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا یا پھر ان کی خواہش ہی یہ ہے کہ افغانی بحران کا شکار رہیں ۔ ۔ اس حوالے سے طالبان حکومت نے بھی اس امریکی فیصلہ کو چوری اور اخلاقی انحطاط کی نشانی قرار دیا ہے۔

    ۔ افغانستان کے سابق سیاستدانوں ، عوام ، اکیڈمکس اور دیگر نے بھی اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی بہت سے افغانوں نے لکھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن مشکلات میں گھرے افغان شہریوں کا پیسہ چُرا رہے ہیں اور یہ کہ اس عمل کا امریکا میں دہشت گردی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہے منجمد شدہ اثاثوں کی اس طرح تقسیم افغان معیشت کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔۔ افغان پالیسی کے تجزیہ کار اور محقق محسن امین کا کہنا ہے کہ یہ افغان شہریوں کو ان کی اپنی ہی رقم انسانی مدد کے نام پر دی جانا ہے جبکہ ان کی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔۔ افغان طالبان نے اس حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ اگر افغانستان کےسات ارب ڈالر کے اثاثے بحال نہ کیے تو امریکا سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کریں گے۔۔ ماضی میں بھی طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا مسائل کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔۔ تاہم امریکی حکومت نے نہ تو اب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی طالبان اور ان کے سینیئر رہنماؤں پر لگی پابندیوں کا خاتمہ کیا ہے، جو القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے تناظر میں لگائی گئی تھیں۔ انہی پابندیوں کے سبب یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ افغانستان میں رقوم منتقل کرنا یا اس کے سے ساتھ کاروبار کرنے سے مشکل پیش آ سکتی ہے۔۔ امدادی گروپ اور دیگر ادارے بھی امریکی حکومت اور محکمہ خزانہ سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ کاروباری افراد اور حکومتوں کو یقین دہانی کے خطوط لکھے کہ اگر وہ افغانستان میں کاروبار کرتے ہیں تو انہیں کسی طرح کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ایک جانب اثاثے منجمند ہیں تو دوسری جانب کوئی بھی افغانستان میں investmentکرتے ہوئے ڈر رہا ہے کہ پابندی نہ لگ جائے ۔

    ۔ پھر یہ بھی بہت بڑی دونمبری ہے امریکہ کی جانب سے ۔ کیونکہ نو ستمبر کے متاثرین کو پیسے دینے کے باوجود بھی وہ یہ آدھا پیسہ ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے ۔ کیونکہ متوقع عدالتی فیصلہ میں اگر ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کو دینے کی منظوری دی جاتی ہے تو بھی ساڑھے تین ارب ڈالر امریکہ ہی میں رہیں گے اور دہشت گردی کے متاثرہ امریکی شہریوں کی طرف سے دعوؤں سے مشروط رہیں گے۔ اس حوالے سے امریکہ نے کہا ہےکہ اس حکمنامے سے افغان عوام تک یہ پیسہ پہنچانے کی راہ ہموار کی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ طالبان کے ہاتھ نہ لگے۔ یعنی یہ تمام پیسہ بھی امریکہ کمپنیوں یا این جی اوز کے ذریعے ہی افغان عوام کو دیا جاسکے گا ۔ اب یہ افغانیوں تک پہنچتا ہے کہ نہیں اسکی کوئی گارنٹی نہیں ۔ دیکھا جائے تو جو چین نے امریکہ کے لیے ڈکیٹ کا لفظ استعمال کیا یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ جس ملک پر آپ نے مسلسل بیس سال جنگ مسلط کیے رکھی ۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی جان لی ۔ ہر طرح کا اسلحہ وبارود ان پر آزمایا۔ یہاں تک کہ پورے ملک کو کھنڈر میں تبدیل کردیا ۔ اب اگر آپ اس کو ملنی والی امداد کے پیسے بھی کھا جائیں تو ڈاکو کہنا بھی انتہائی چھوٹا لفظ ہی دیکھائی دیتا ہے ۔

  • باری عمران خان کی ہے ، تحریر: نوید شیخ

    باری عمران خان کی ہے ، تحریر: نوید شیخ

    گزشتہ روز وہ ملاقات ہوہی گئی جس بارے حکومت منتیں مرادیں مانگ چکی تھی ۔ دعائیں کر رہی تھی کہ کسی طرح یہ رک جائے ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔ یوں کل شہباز شریف اور ق لیگ کے درمیان بات چیت کے تین دور ہوئے ۔ اس سے پہلے چوہدری برادران کی مولانا سے ملاقات ہوئی تھی تو اس کے دو دور ہوئے تھے ۔ جس آپ کل کی ملاقات کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

    ۔ میرے خیال سے اگر عمران خان کسی کی فون کال کروانے میں ناکام رہے تو یہ کل والی ملاقات کامیاب ہوگئی ہے ۔ اور آنے والے دو سے تین ہفتوں میں اس ملاقات کا رزلٹ بھی سب کے سامنے آجائے گا ۔ ۔ کیونکہ ملاقات کے پہلے دور میں دونوں جانب کی قیادت شریک ہوئی۔ ۔ دوسرے دور میں شہباز شریف، چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی شریک ہوئے۔ ۔ تیسرے دور میں شہباز شریف، شجاعت حسین، پرویزالٰہی، سعد رفیق، ایاز صادق بھی شریک ہوئے، بعد ازاں رانا تنویرکو بھی ملاقات میں شریک کرلیا گیا۔ یہ جو تین دور ہوئے ہیں اس حوالے سے میرے اندازہ ہے کہ ق لیگ کی جانب سے بھی فرمائشوں اور مطالبوں کی ایک لمبی لسٹ ہوگی ۔ کیونکہ حکومت جیسی بھی ہو اسکی قربانی دینا آسان نہیں ہوتا ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ نے اس بات کی یقین دہانی مانگی ہوگی کہ ان کے خاص حلقے جیسے گجرات وغیرہ سے ن لیگ اپنے امیدوار بلدیاتی الیکشن اور جنرل الیکشن میں نہ کھڑے کرے ۔ پھر یہ بھی طے کیا ہوگا کہ اگر اب وہ اپوزیشن کی مدد کرتے ہیں تو مستقبل میں حکومت میں ان کو کیا کردار دیا جائے گا ۔ کیا پتہ ان کی سب سے بڑی خواہش کہ وزارت اعلی پنجاب کا تاج ایک بار پھر ان کے سر پر سجے یہ بھی زیر بحث آیا ہو ۔ کیونکہ سیاست ممکنات کا نام ہے ۔ اس میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ میرے حساب سے جوبات مجھے سمجھ آتی ہے کہ ن لیگ کا زیادہ فوکس اسی لیے پی ٹی آئی کے اندر نقب لگانے تھا ۔ کیونکہ اس سے اتحادیوں کی فرمائشوں کو بھی پورا نہیں کرنا پڑنا تھا۔ اور مقصد بھی بآسانی حاصل ہوسکتا ہے ۔ مگر دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ اتحادیوں کو بھی توڑ لیا جائے تو کام پکا ہوجائے گا ۔ کیونکہ تحریک عدم اعتماد بڑا ہی سوچ سمجھ کر اور جب نمبر گیم پوری ہوجائے تو پھر لانی ہوگی ۔ یقینی طور پر حکومت بھی اپنے ہاتھ پاوں مار رہی ہوگی ۔

    ۔ خیر اب تو بہت دیر ہو چکی اور انہوں نے تین سال میں ملک کا وہ بیڑہ غرق کر دیا ہے جو تین دشمن ممالک مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے، نہ جنگ میں اور نہ زمانہ امن میں۔ حکومت چلانے میں بھی عمران خان کرکٹ کے میدان والے طریقے آزماتے رہے ہیں جس سے مزید انتشار پھیلتا رہا ہے۔ اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ انہوں نے کچھ دن پہلے دکھایا جب دس وزیروں کی نمبرنگ کر کے وفاق کے باقی پینتالیس وزیروں مشیروں کو چیخنے پر مجبور کر دیا کہ ہمیں کیوں نکالا؟ یوں میڈیا کی حد تک دیکھا جائے اور حکومت ممبران اسمبلی کے تاثرات کو سنا جائے تو فی الحال لگ تو ایسا ہی رہا ہے کہ اپوزیشن نے معرکہ سر کر لیا ہے اور عنقریب رزلٹ مل جائے گا ۔

    ۔ اس حوالے سے خواجہ آصف تو کہہ رہے ہیں کہ لگتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بجائے عام انتخابات ہو جائیں گے۔ ۔ اسلیے وزیر اعظم عمران خان سمیت تمام وزراء کافی غصے میں دیکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں عمران خان نے اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے مسائل کی جڑ کو اٹھارویں ترمیم قرار دے دیا ہے ۔ تو شہباز شریف کی چوہدری برادران سے ملاقات کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی شہباز شریف کو چائے پلائیں گے، اس سے زیادہ انہیں ق لیگ سے کچھ نہیں ملے گا۔ اب یہ وہ بات انھوں نے ایسے وثوق سے کی ہے جیسے فواد چوہدری ق لیگ کے بھی ترجمان ہوں ۔ ۔ اسلیے لوگ اب کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کے لیے زندگی کا سب سے مشکل دور گزر رہا ہے کیونکہ خبریں بالکل اچھی نہیں ہیں ۔ اور عنقریب شاید آپکو عمران خان کے منہ سے سننا پڑے جائے کہ مجھے کیوں نکالا ؟؟؟۔ پھرایک اورجانب میں آپ سب کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے دور میں یوسف رضاگیلانی کی حکومت کو چار ہونے کوآئے تو وہ گھر گئے ۔ پھر نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔ اور اب عمران خان کو بھی چار سال ہونے والے ہیں ۔ ۔ جس کے باعث وزیراعظم کو واقعی راتوں کو نیند نہیں آ رہی ہوگی۔ کیونکہ جو ان کے بیانات آرہے ہیں وہ اقتدار سے نکلنا نہیں چاہتے۔

    ۔ سچ یہ ہےکہ ۔۔۔ آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ ۔۔۔ ٹی وی پروگرام میں یا روز کسی نہ کسی بہانے میڈیا پر آکر عمران خان ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر اپنے سیاسی مخالفین پر ملبہ ڈالنے کے حربے اب تک استعمال کررہے ہیں ۔ جبکہ ملک میں پارلیمانی نظام کے تحت عمران خان وزیراعظم بنے ہیں، اس نظام میں آئین نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت کا تعین بھی کر دیا ہے، اسی کا نام جمہوریت ہے۔ مگر عمران خان ، شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کرتے تو قومی اسمبلی کا ایوان نامکمل ہے اور موجودہ نظام حکومت ڈکٹیٹرشپ کی ایک بدترین صورت میں ملک پر مسلط ہے۔ شہبازشریف کو اپوزیشن لیڈر نہ ماننا، آئین پاکستان سے انحراف کے مترادف ہے۔۔ وزیراعظم عمران خان طالبان ہوں یا پھر پشتون تحفظ موومنٹ والوں سے تو ملاقات، مذاکرات اور ہاتھ ملانے کو تیار ہیں، جو مالی اور اخلاقی جرائم کے ساتھ ساتھ قتل، ڈاکہ زنی اور دہشت گردی جیسے جرائم میں ملوث ہیں، مگر اپوزیشن کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لئے نہیں۔۔ یاد رکھیں شہباز شریف کو برطانوی عدالتوں سے بھی کلین چیٹ مل چکی ہے اور پاکستان میں احتساب عدالت نے صاف پانی کیس میں شہباز شریف اور شریک ملزموں کو بری کردیا ہے ۔ مگر دوسری طرف حکومتی وزراء اس بات پر تالیاں بجا رہے ہیں کہ شہبازشریف پر منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد ہو رہی ہے اور 18 فروری کو گویا وہ گرفتار ہو جائیں گے۔ ویسے اس وقت عمران خان سمیت ہر وزیر کی یہ ہی خواہش ہے کہ تمام اپوزیشن کو جیلوں میں ڈال دیا جائے ۔ حالانکہ دعوی انکا یہ ہے کہ یہ نیوٹرل ایمپائروں کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں ۔ ۔ پھر پیپلزپارٹی والے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ آصف زرداری کا تیس برسوں سے احتساب ہو رہا ہے ثابت کچھ بھی نہیں ہوا نہ ہی کسی مقدمے میں انہیں سزا ہوئی ہے اب یہ ہے تو شرم ناک بات ان اداروں کے لیے جنہوں نے آصف زرداری کو بار بار گرفتار کیا بلند بانگ دعوے کئے، مگر سزا نہ دلوا سکے یہی حال شہباز شریف کا بھی ہے نیب کے تفتیش کار ان کی کرپشن کے ایسے قصے سناتے ہیں کہ چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، لیکن ثابت کرنے کی باری آتی ہے تو نیب والے ہاتھ کھڑا کر دیتے ہیں۔56 کمپنیاں اور صاف پانی کیس کی مثال سامنے ہے کیسے کیسے انکشافات نہیں کئے گئے احد چیمہ جیسے دست راست کو بھی پکڑ لیا گیا تھا ٹی وی چینلوں کے ذریعے ثبوتوں کے انبار لگا دیئے جاتے تھے، مگر سب نے دیکھا کہ نیب نے خود ان کے کیسوں کو ختم کر دیا شہباز شریف کو کلین چٹ دے دی اس کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی ۔ پھر ان کے ختم ہوتے ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس سامنے آگیا ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس بار نیب تفتیش کو فرد جرم تک لے آیا ہے ورنہ وہ راستے میں ہانپنے لگتا ہے۔

    ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف پر نیا حملہ صرف حکومت کو خوش کرنے کے لئے ہے جیسا کہ اب حکومتی وزراء شہباز شریف کے خلاف ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ منی لانڈرنگ کیس کا فیصلہ ہونے تک شہباز شریف کو اسمبلی میں خطاب بھی نہ کرنے دیا جائے تو پھر احتساب کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ یہ صرف دکھاوے کا ہے اور سیاسی تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ دیکھا جائے تو حکومت پر تنقید کرنا اور حکومت کا قبلہ درست رکھنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ موجودہ حکومت اپنی ناقص کارکردگی اور عوام کو کچھ بھی اچھا ڈلیور نہ کرنے کے باوجود چار سال پورے کرنے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ عمران خان آج صرف شہباز شریف ، بلاول اور مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک گفتگو ہی کرلیں تو میرے خیال سے انکا جانا ٹھہر جائے ۔ مگر جب انسان اقتدار کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیتا ۔ طاقت کا نشہ اس کا ذہنی توازن خراب کردیتا ہے ۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا ہے کہ عمران خان ایسا کرکے ایک اچھی مثال قائم کرنے کی کوشش کریں گے ۔ یاد رکھیں تنقید کرنا میڈیا اور اپوزیشن کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ تنقید اور پروپیگنڈے کا تعین حکمران نہیں ۔ مہنگائی اور دیگر مسائل میں پھنسے ہوئے غریب، مزدور، کسان اور عام عوام کرتے ہیں۔ جو بھی ان کے حقوق کی بات کرے گا، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور حکمران اس تنقید کو پروپیگنڈے کا نام دے کر ملک کی اپوزیشن اور میڈیا کو دبانے کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال سے اپوزیشن کے خلاف تحریک انصاف کے چور، ڈاکو اور لٹیرے کے نعروں میں اب کوئی دم خم نہیں رہا ۔ کیونکہ جو الزام سابق حکمرانوں پر لگایا جا رہا تھا، اس سے بڑے الزام موجودہ حکمرانوں پر لگ چکے ہیں۔ یوں اب الزامات کے جواب دینے کی باری عمران خان کی ہے

  • اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی اجتماع ارکان برائے انتخاب ناظم مقام گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اراکین کے علاوہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے حصوصی شرکت کی
    اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ نے اراکینِ چارسدہ جمعیت سے استصواب رائے کے بعد سیشن 2022-23 کے لیے چارسدہ کالج کے طالب علم نسیم الرحمٰن کو ناظم منتخب کیا اور ان سے اپنے ذمہ داری کا حلف لیا
    اسی طرح ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اراکین سے مشاورت کے بعد فیصل خان کو انچارج شعبہ تنظیم و ترتیب و اہتمام دفتر، محمد اشفاق کو ناظم علاقہ کالجز، ذاکر اللہ کو ناظم علاقہ وسطی، مصباح اللہ کو ناظم علاقہ شمالی، ملک عبید کو ناظم تنگی سرکل جبکہ وحید اللہ کو صدر بزم شاہین مقرر کرکے ان سے ان کی زمہ داریوں کا حلف لیا
    اس موقع پر محمد اشفاق، ذاکر اللہ اور مصباح اللہ پر مشتمل 3 رکنی پلاننگ کمیٹی بنائی گئی جو چارسدہ میں جمیعت کے کام کے وسعت کے حوالے سے احباب اور ماہرین سے ملاقات کریگی
    ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کو حقیقی معنوں میں طلباء کا ہراول دستہ بنائیں گے