Baaghi TV

Category: سیاست

  • حکومت کے چار سال.تحریر و تحقیق ،ارم شہزادی

    حکومت کے چار سال.تحریر و تحقیق ،ارم شہزادی

    جولائی 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چار سال ہوجائیں گے ان چار سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت عام لوگوں کے لیے کیا کرپائی یا کتنی زندگی آسان کر پائی اس کا جائزہ ضروری ہے۔ چالیس سال نواز، زرداری کی حکومت نے کیا اقدامات کیے اور اس حکومت نے کیا اقدامات کیے یہ جاننے کے لیے ان اقدامات کا گزشتہ حکومتوں کے اقدامات سے موازنہ ضروری ہے۔ ہم لوگوں نے عام طور پر یہی دیکھا اور سنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے، ترقی رک گئی ہے اور پاکستانی پاسپورٹ کی عزت نہیں رہی۔پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہےعمران خان جس نے ہالینڈ کی حکومت سے احتجاج کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی نماٸش کو روکا جائے اور رکوایا اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔احتجاج صرف اپنے ملک کی توڑ پھوڑ تک محدود تھا۔عمران خان پہلا وزیر اعظم ہے جس نے دنیا کو بتایا کہ خودکش دھماکے سب سے پہلے مسلمانوں نے نہیں ہندووں نے شروع کیے ‏اور دہشتگردی کو اسلام سے جوڑنا غلط ہے۔

    عمران خان واحد لیڈر ہے جس نے دنیا کو بتایا کہ اسلام شدت پسند یا لبرل نہیں ایک ہی ہے جو ہمارے نبی محمد ﷺ کا ہے۔
    عمران خان نے دنیا بھر کے فورمز پر جا کے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھاٸی۔ اور اس کا مؤثر فائدہ بھی ہوا ہے۔ کہ ان ممالک نے آزادی رائے کے نام پر مسلمانوں کے جذبات جو مجروح ہوئے ہیں اسکے پیش نظر آئندہ اس قسم کے اظہار رائے کی ممانعت کی ہے۔

    کرونا کی وجہ سے سری لنکا میں مرنے والے لوگوں کی لاشیں جلائی جارہی تھیں لیکن عمران خان نے جا کر سری لنکا حکومت سے ناصرف بات کی بلکہ مسلمانوں کو دفنانے کی اجازت بھی لے کر دی۔عمران خان واحد حکمران ہے جس نے پوری دنیا کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آذادی اظہار کے پیچھے چھپ کے آپ ہمارے نبی کی گستاخی نہیں کر سکتے۔ آزادی رائے کے نام پر مقدس ہستیوں کی توہین نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان نے سب مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی۔۔ ‏سعودیہ اور ایران جو کہ عرصہ دراز سے ایک دوسرے سے دور اور مخالف تھے ان کی صلح کرانے کی کوشش کی۔انکو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ عمران خان نے فحاشی کے خلاف آواز بلند کی۔

    عمران خان نے ختم نبوت کو بچوں کے سلیبس میں شامل کروایا۔ جس ختم نبوت سے ن لیگ نے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی وہ اب بچوں کے سلیبس میں واضح الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔عمران خان نے رحمت العالمین کانفرنس شروع کرواٸی۔ اس سے پہلے سرکاری سطح پر ایسی تقریبات نہیں ہوتی تھیں۔مدرسے کے بچوں کو بلکل معاشرے سے کٹ کر رکھا جاتا تھا جسکی وجہ سے انکے اندر احساس محرومی تھی عمران خان نے پہلی بار مدرسے کے بچوں کے لیے آواز اٹھاٸی کہ انہیں بھی دنیاوی تعلیم دی جاٸے تاکہ وہ بھی دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ عمران خان نے کہا کہ ترقی کرنی ہے تو سیرت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم پر عمل کرو اور اس مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر Phd کرانا شروع کی۔

    عمران خان نے مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کی۔ جسکا سب سے زیادہ مذاق بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔ جبکہ بقاء اسی میں ہے کہ وہ تمام اقدامات کیے جائیں جو اسلامی معاشرے کے لیے ضروری ہیں جس کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا ہے۔ اور وہ اقدامات یا راہنما اصول صرف مدینہ کی ریاست سے ہی مل سکتے تھے۔‏پاکستان کو سپر پاور نہیں بلکہ فلاحی ریاست بنانے کی بات کی۔ کیونکہ فلاح ریاست ہی سپر پاور ہوتی ہے۔ مغرب میں سلمان رشدی گستاخ کے بعد ہر کچھ وقت کے بعد گستاخی ہوتی رہی۔ اس کو ہمیشہ کیلیے بند کروانے کیلیے عمران خان نے تمام مسلمان سربراہان کو خط بھیجے کہ آو ملکر یہ معاملہ اٹھائیں۔ ‏تاکہ حل ہو سکے اور ہمیشہ کیلیے یہ گستاخی کا سلسلہ بند ہو سکے۔ 47 سال بعد کامیاب سفارتکاری کے باعث OIC کا کامیاب اجلاس پاکستان میں منعقد کروا دیا جس سے پر دنیا اور عالم اسلام میں پاکستان پر اعتماد مزید بہتر ہوا بھارت کو 27 فروری 2020 کو اپنی پاور دیکھائی اور اس کی غلط فہمی دور کی کہ پاکستان کمزور نہیں ہے بلکہ پرامن ہے لیکن اگر کسی نے آمن خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‏عمران حکومت نے بھارت کو کشمیر پر بھرپور طریقے سے ننگا بھی کیا گیا اور عالمی فورمز پر بھارت کے خلاف لابنگ بھی کروا گئی۔ اس سے پہلے صرف آم کی ٹوکریاں دی جاتی تھیں اور ساڑھیوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ لیکن عمران خان نے بتایا کہ مسلہ کشمیر حل۔کیے بغیر نا تو خطہ میں امن ممکن ہے اور ناہی دوستی۔کئی دہائیوں بعد امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امریکا کو کسی نے ذلیل بھی کیا اور مزید اڈے دینے سے انکار بھی کیاہے تو وہ عمران خان ہے ورنہ اس سے پہلے امریکہ کے لیے پاکستان بلکل امریکہ کی کالونی نظر آتا تھا۔ جب چاہا ڈرون پھینک دیا جب چاہا اندرونی انتشار پھیلا دیا۔ زبانی مذمتی بیان جاری ہوجاتا تھا لیکن عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔وہ صرف عمران خان نے اٹھایا۔‏مزید امریکی جنگ کا حصہ بننے سے بھی انکار کیا اور اسکی سخت مخالفت بھی کی۔امریکا کو اس خطے سے اوٹ بھی کر دیا اور نقصان بھی نہیں ہوا۔بھارت نے اپنے اڈے بنارکھے تھے افغانستان میں جہاں سے براہ راست پاکستان میں دہشتگردی بھی کرواتا تھا اور دہشت گردوں کو کنٹرول بھی کرتا تھا امریکہ کےبعد یہ بھی بھاگ نکلا کیونکہ افغانستان میں زمین تنگ ہو گئی اور اربوں۔ ڈالرز کی انویسٹمنٹ بھی ڈوب گئی۔

    اب بات کرتے ہیں کہ پہلے کون کونسے ادارے خسارے میں تھے جو اب اللہ کے فضل اور عمران خان کی انتھک محنت سے منافع میں آئے ہیں۔تین سال پہلے 20 ارب ڈالر خسارہ تھا آج 1.8 ارب ڈالر سرپلس فارن کرنسی ریزروز کی بات کریں تو تین سال پہلے کل 7 ارب ڈالرز ، جوکہ آج 27.40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ٹیکس کلیکشن کی بات کریں تو تین سال پہلے 3400 ارب روپے، پچھلے سال 4700 ارب تھی جو 2022 کے لئے ہدف 6400 ارب روپےرکھا گیا ہے اور ان شاء اللہ پورا ہوگا یہ حدف بھی۔تین سال پہلے 19.9 ارب ڈالر، آج 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا بدقسمتی دیکھیں بھارت نے ہمارے تمام سندھ طاس معاہدوں میں لیے گئے دریاؤں پر ڈیم بنائے لیکن ہم 51 سال تک اک بھی ڈیم نا بنا سکے ہمارے ڈیم ایوب دور کے ہیں اسکے بعد کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔اب ما شاء اللہ عمران خان کے دور میں 12 ڈیم پر کام شروع ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی مکمل فوکس تھا اس لیے سارے پاکستان کے لیے یکساں نصاب کے اطلاق پر کام کیا۔ پانچویں جماعت تک بطور سبجیکٹ قرآن پاک کا ناظرہ لازمی قرار دیا چھٹی کلاس سے بارہویں تک بطور سبجیکٹ قرآن پاک کا ترجمہ لازمی قرار ورنہ امتحانات میں کامیابی ناممکن پرائیویٹ سکولز کو بھی اسکا پابند کیا گیا۔ کرونا وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا جہاں ترقی یافتہ ممالک اس کی تباہ کاریوں سے نا بچ سکے وہیں ترقی پذیر ممالک کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لیکن پاکستان نے جس طرح کرونا وبا کا مقابلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔جہاں دنیا کی معیشیتیں سکڑ گیں وہیں پاکستان کی معیشیت اقوام متحدہ اور موڈیز کے مطابق 2022 میں ‏پاکستان کی جی ڈی پی 4•4 ہوگی عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستانی معیشیت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ حکومت سمبھالتے ہی خزانہ خالی ہونے اور بیرونی قرضوں اور انکے سود کی ادائیگیوں کی وجہ سے 3 سال میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور ملکوں سے 36 ارب ڈالرز قرضہ لیا گیا‏جس میں س 29.75 ارب ڈالر قرضہ واپس بھی کیا گیا ہے۔یعنی پچھلی حکومتوں کے لئے ہوئے قرضوں اور انکے سود کو واپس کرنے کے لئے خزانے میں کچھ نہ ہونے کی وجہ سے مزید قرض لینے پڑے ورنہ ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اس وجہ سے ہمارے ایٹم بم اور سی پیک اور ریکوڈک ذخائر کو ‏شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے انڈسٹری کی وجہ سے معشیت میں 18 فیصد اضافہ جوکہ دس سال بعد ممکن ہوا۔ سیمنٹ کی سیل میں 242 فیصد اضافہ ہوا۔گاڑیوں کی سیل میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔موٹر سائیکل کی سیل میں 3 گنا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹریکٹر کی سیل میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب پیسہ پاس ہو۔ کسانوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ چاہے منڈیوں تک رسائی ہو یا اجناس کی پوری قیمت لیکن اس حکومت کی وجہ سے کسان کو 1100 ارب روپے اضافی ملے۔( گنے کی قیمت جو 70 سالوں سے 150 سے بڑھ نہ سکی تھی اسے بڑھا کر 280 روپے من کر دیا اور گندم جو 1300 سے اپر نہ جا سکی تھی آج وہ 2000 روپے من سے تجاوز کر چکی ہے یہ قیمتیں غریب کسان کو فائدہ دینے کے لئے بڑھائی گئیں ‏جس سے 1100 ارب روپیہ کسان زمیندار طبقہ کو زیادہ ملا۔

    کسان کو کسان کارڈ جس کے ذریعے سبسیڈیز براہ راست کسان تک پہنچ جائیں گی۔290 ارب روبے 18 سال میں 534 ارب روپے 3 سال میںپہلے صرف 110 ارب روپے، اب 260 ارب روپے۔احساس پروگرام میں 70 لاکھ خاندانوں کو 12000 روپے دئے گئے اور مزید یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ غریب غرباء مزدوروں کے لئے لنگر خانے بناۓ گئے۔ جنکا مذاق بنایا گیا حالانکہ پوچھیں کسی مزدور سے کہ روٹی پر کتنا خرچہ ہوجاتا تھا اسکی بچت کی گئی۔کھانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں فٹ پاتھوں پر شدید سردی اور شدید گرمی میں سونے والے دور دراز سے شہروں سے آئے غریب ‏مزدوروں بچوں اور عورتوں کو تمام تر سہولیات سے آراستہ پناہ گاہیں بنا کر دیں۔تعلیم پر توجہ دی سکول کالجز پر توجہ دی لڑکیوں کے لیے لڑکوں سے زیادہ توجہ دی گئی۔لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے برابر (انڈر گریجوایٹس کیلئے)‏ جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا سالہا سال لگتے تھے اور عدالتوں کے دھکے کھانے پڑتے تھے اب نادرہ سے 15 دن میں حاصل کرسکتے ہیں۔کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت تقریباً40 لاکھ غریب خاندانوں میں، ایک فرد کو بلا سود قرضہ، ایک فرد کو ٹیکنیکل ٹریننگ کی سہولت دی جائے گی۔ انقلابی صحت کارڈ جو کہ متوسط طبقے اور غریب کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اپنا گھر اسکیم میں کرائے کے برابر بنک کو قسط دے کر اپنا گھر بنا سکتے ہیں جس سے کرائے سے بھی بچ جائیں گے اور اضافی بوجھ بھی نہیں پڑےگا۔ سندھ کی 14 ڈسٹرکٹس کیلئے، کراچی میں گرین لائن بس اسٹاپ پروجیکٹ مکمل کئی دہائیوں بعد کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا کام تقریبا مکمل ہوچکا ہے۔ کراچی ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ کی ‏تکمیل 50 سال بعد کراچی کے بند نالوں کو قبضہ مافیا سے بازیاب کروا کر انھیں چلا دیا گیا جس سے کراچی میں سیلاب کے خطرات بہت کم ہوگئےبلوچستان کی 9 ڈسٹرکٹس کے لئے،اور گلگت بلتستان کیلئے، 1300 ارب روپیہ مختص کیا ہے۔ایز آف بزنس میں پاکستان دنیا میں 28 درجے اوپر چلا گیا۔اوور سیز پاکستانیوں کے سروے کے مطابق پاکستان پر بزنس کنفیڈنس 108 فیصد بڑھا۔ جلالپور نہر منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں۔ چکوال سے میانوالی موٹروے سیالکوٹ سے جہلم موٹروے ‏لاہور تا ملتان تا سکھر موٹروے کی تکمیل آگے سے ملحقہ حیدرآباد موٹروے پر کام جاری۔ یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کو میڈیا نہیں دیکھاتا کیونکہ اس میں کہیں بھی میڈیا کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے یہ عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہورہا ہے۔ امید ہے کہ 2023 کے الیکشن میں ان میں سے بہت سے منصوبے مکمل ہوچکے ہونگے اور باقی آخری مراحل میں ہونگے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • کپتان کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں، تحریر: نوید شیخ

    اس وقت خبریں اتنی ہیں اور اتنی تیزی سے سیاسی بھونچال جاری ہے کہ سمجھ نہیں آرہا کہ کون سی خبر دی جائے اور کون سی نہ دی جائے ۔ ۔ بکنے ، بولی لگوانے ، خریدنے اور جوڑ توڑ کا بازار گرم ہے ۔ عمران خان بھی میدان میں ہیں اور اپوزیشن بھی میدان عمل میں ہے ۔ ۔ اپوزیشن تو تحریک عدم اعتماد لا ہی رہی ہے ۔ اب حکومت نے بھی قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرار داد پی ٹی آئی رکن اسمبلی فرخ حبیب پیش کریں گے۔ ۔ پی ٹی آئی کا پلان یہ ہے کہ اس بل کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کے فیصلے تک شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دی جائے۔۔ تو دوسری جانب اپوزیشن کے کمیپ سے اطلاعات ہیں کہ درعمل میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کرلیا ہے ۔

    ۔ اس صورتحال پر اسد قیصر کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی حق ہے لیکن ہم بھی پوری طرح تیار ہیں۔ کل بھی پرویز الٰہی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ 2023 تک ہمارے ساتھ ہیں۔ ۔ اسی لیے ق لیگ کو توڑنے کے لیے لگتا ہے کہ اب اپوزیشن نے جہانگیر ترین کو میدان میں اتار دیا ہے ۔ کیونکہ جہانگیر ترین گروپ کی باقاعدہ ایک میٹنگ ہوچکی ہے گزشتہ روز اس گروپ کے لوگ جہانگیر ترین کی قیادت میں پی ایس ایل کا میچ بھی دیکھنے گئے ۔ اور بتایا جا رہا ہے کہ اگلے ہفتے سے مولانا کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین نے بھی ایکٹو ہوجانا ہے ۔ اب پیپلزپارٹی کے بعد ترین گروپ کی چوہدری برادران سے ملاقات کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پھر امید کی جارہی ہے کہ جہانگیر ترین کی جلد شہباز شریف سے ملاقات ہوگی۔ ۔ جہانگیر ترین فیکٹر اس وقت بہت اہم ہوچکا ہے ۔ کل اس حوالے سے سلیم صافی نے ایک ٹویٹ بھی کی جو میں آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔۔ آج مولانا سے ملاقات میں عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن کی حکمت عملی کو سمجھنے کی کوشش کی وہ تفصیل بتانے سے گریز کررہے تھے لیکن اتنا پتہ چلا کہ اصل منصوبے سے مولانا ، نواز ، شہباز، زرداری ، بلاول اور جہانگیر ترین آگاہ ہیں ۔

    ۔ یعنی جہانگیر ترین اس گیم پلان کا حصہ ہیں ۔ اور دیکھا جائے تو خالی جہانگیرترین اس قابل ہیں کہ وہ بغیر کسی اتحادی ہے کہ پوری کی پوری بساط کو الٹا سکتے ہیں ۔ ۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ اتوار کے روز ق لیگ اور شہباز شریف کی بھی ملاقات ہوجائے گی ۔ جبکہ مولانا اور شہباز شریف کی آج ماڈل ٹاون میں ملاقات ہونی ہے ۔ اسکے علاوہ مولانا نے ق لیگ کی قیادت سے بھی ملاقات کرنی ہے ۔ ۔ اسکے علاوہ ایاز صادق جو لندن گئے ہوئے تھے۔ ان کی اور نواز شریف کے ساتھ اندرونی ملاقات کی کہانی سامنے آگئی ہے کہ جن بائیس لوگوں کا ن لیگ کی جانب سے دعوی کیا جا رہا تھا کہ ٹوٹنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ ان میں سے اٹھارہ پر نواز شریف مان گئے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ان کو ٹکٹ دے دیا جائے یا پھر accomodate
    کردیا جائے گا ۔ باقی چار ایسے لوگ تھے جن کے بارے نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ تو ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں اور انھوں نے ان کے بارے لفظ استعمال کیا کہ یہ سدا بہار فصلی بیٹرے ہیں ۔ میں انکو اپنی پارٹی میں نہیں لوں گا ۔ ان اٹھارہ لوگوں میں چند وفاقی وزیر بھی شامل ہیں ۔ پر ان کی خواہشں ہے نواز شریف بذات خود ان سے ملاقات کریں اور ٹکٹ دیں ۔ ۔ اس حوالے سے رانا ثنااللہ نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کئی لوگ رابطے میں ہیں، تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سوچ رہے ہیں کسے رکھیں کسے نہ رکھیں۔ ۔ پھر ایک اور خبر جو عمران خان سمیت حکومت کے کڑاکے نکال دینے والی ہے کہ سینیٹ کا اجلاس سپیکر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی ۔۔۔ باپ ۔۔۔ نے کابینہ میں نمائندگی کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ اگر کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی تو ہم حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سینیٹر پرنس عمر احمد زئی نے اس مطالبے کے حق میں ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ان کے واک آؤٹ پر پیپلز پارٹی نے بلوچستان عوامی پارٹی کو اپوزیشن کی بنچوں پر آنے کی پیشکش کردی۔

    ۔ پھر ناراض سینیٹر احمد عمر زئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہمیں اشارے ملنا بند ہو گئے ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر بار بلوچستان سے کم سے کم پانچ وزیر ہوتے ہیں، تاہم اس وقت ہماری صرف ایک وزیر زبیدہ جلال ہیں جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔۔ پھر یاد رکھیں میں گزشتہ کئی دنوں سے اپنے وی لاگز میں بتا رہا ہوں کہ ابھی مولانا فضل الرحمان نے انٹری مارنی ہے ۔ جب وہ کھل کر سامنے آئیں گے تو کپتان ، حکومت اور وزیروں کی شکلیں بھی دیکھنے والی ہوں گی اور چینخ وپکار بھی ۔۔۔ ویسے آج سے یہ انٹری بھی ہوجائے گی ۔ ۔ اس سب سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عدم اعتماد کی چنگاری شعلہ بنتی نظر آرہی ہے۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں ایسے بیک ڈور اشارے ضرور ہیں جس کے بعد اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف محاذ جنگ گرم کیا ہے۔ ۔ فی الحال دیکھنا یہ ہے کہ جب کھچڑی پکے گی تو کیا ہو گا آیا اپوزیشن حکومت کے خلاف اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکے یا پھر پہلے کی طرح شور ہی مچاتی رہے گی ۔۔ میرا اندازہ ہے کہ شو آف ہینڈز کے ذریعے عدم اعتماد کی تحریک لانا خاصا دشوار ہے جبکہ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ایسا نتیجہ آسکتا ہے۔ جس کا شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ سب کو معلوم ہے کلیدی کردار کن قوتوں کا ہوسکتا ہے۔ جب معاملات کنفیوژن کا شکار ہوں، مقابلہ برابر کا ہو۔ ہاں۔ ہاں اور ناں۔ناں کی گردان سنائی دے رہی ہو تو یقین سے شاید کوئی فریق بھی نہیں بتاسکتا کہ اس کی اگلی چال کیا ہوگی۔۔ پی ٹی آئی حکومت پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں اس حوالے سے کوئی بھی حتمی بات نہیں کی جاسکتی مگر منظر و پس منظرکے پیش نظر عدم اعتماد کا کامیاب نہ ہونا ناممکن نہیں دکھائی دیتا۔ ۔ کیونکہ زرداری، نواز ، مولانا، بلاول، شہباز اور مریم کی آنکھوں کی تڑپ اور لہجے کا اعتماد بتارہا ہے کہ انہوں نے 172 کے ہندسے تک پہنچنے کیلئے کھیل مکمل کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔۔ پھر وزیروں اور مشیروں کی بے چینی سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان میں ہیجان موجود ہے اور گھبراہٹ بھی۔ ۔ کہنے والے تو کہہ رہے ہیں کہ دن گنے جاچکے، نئے وزیر اعظم کے چناؤ تک پر اتفاق ہوگیا، بس اعلان ہی باقی ہے جو عنقریب متوقع ہے ۔ لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ ۔ یہ کام ہوگا کس طرح؟ ۔ کوئی ایمرجنسی؟
    ۔ مارشل لاء آخر ایسا کیا ہوگا کہ حکومت چلتی بنے گی؟ ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ ہماری سیاسی تاریخ ایسی مثالوں سے بڑھی پڑی ہے۔ کہ افواہیں سچ ثابت ہوئیں ہیں ۔

    ۔ ان حالات میں بہت سے لوگ جو یوکرائن کے معاملے کو نظر انداز کررہے ہیں ان کو اندازہ نہیں کہ اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے سب سے زیادہ اثرات ہماری اندرونی سیاست پر پڑیں گے ۔۔ کیونکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہہ دیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو وہ امریکیوں کو باہر نکالنے کے لیے ریسکیو دستے نہیں بھیجیں گے لہٰذا یوکرین میں موجود امریکی فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں امریکہ نے جب جب چاہا ہے ہمارے ملک میں تبدیلی مہینوں اور دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں رونما ہوئی ہے ۔ ۔ مگر سازشی تھیوریوں سے ہٹ کرسچ یہ ہے کہ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں تو آ گئے مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد نہ ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے۔ انھوں نے پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے نئے میک اپ کے ساتھ لانچ کیے جو دہائیوں سے ملک پر مسلط تھے ۔ پھر سب سے دیکھا کہ جلد ہی عمران خان نے پرانے پاکستان کی ہیت بدل کر اور بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمن پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اس لیے اب عوام اس دھوکہ دہی پر کپتان کا سبق سیکھنا لازمی سمجھتے ہیں ۔ اور ایسا پہلی بار دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ اتنا تنگ ہیں کہ وہ ان کو مسیحا ماننے پر تیار ہیں جو اس حکومت سے ان کی جان چھوڑوا دے ۔ ۔ حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں، عمران خان کیلئے بھی یہی وہ موڑ ہے جہاں انہیں اپنی کمزور گورننس پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ایک طرف وہ پروپیگنڈہ مشینری کے ذریعے اپنی کارکردگی کے وہ پہلو اجاگر کررہے ہیں،جس سے ان کا دور حکومت چمکتا نظر آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے مارے لوگ ان کی کسی بات پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، افراتفری اور بد انتظامی کے عروج پر ہے پھر بھی نت نئے تجربات زیرِ غور ہیں۔ یوں ملک کے غریب ، مفلس ، بے بس عوام آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہاں سے کیا فیصلہ آتا ہے اور کب آتا ہے؟

  • تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    سیاست صرف اتفاقات کا نہیں، حکمت کا بھی کھیل ہے۔ مگر اس وقت جو سیاسی صورتحال چل رہی ہے اس میں کپتان حکمت سے عاری دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے ہی کھلاڑیوں جانب بھی رخ کرلیا ہے ۔ اب اڑتی اڑتی خبریں آرہی ہیں کہ کپتان کے اپنے کھلاڑی کپتان سے ڈرے ہوئے ہیں ۔ یہ ڈرے ہوئے اس لیے ہیں کہ کپتان نے اپنے ماتحت ایجنسیوں کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے اور مقصد صرف ایک ہے کہ پی ٹی آئی کے کھلاڑی کس کس سے ملاقاتیں کررہے ہیں ۔ اب غلطی سے بھی کوئی کھلاڑی کسی پیپلزپارٹی یا ن لیگ والے سے رابطہ کیا ہو تو اس کی کمبختی لازمی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ جو کھلاڑی زرا زیادہ ۔۔۔ پر پرزے ۔۔۔ نکال رہے ہیں ان کو شاید کچھ دنوں کے لیے کہیں پھنسا بھی دیا جائے یا اندر کر دیا جائے ۔ جس سے ان کا حکومت کو چھوڑنا مشکل ہوجائے ۔ اور اس سے یہ تاثر بھی زائل ہوجائے گا کہ اس دور میں صرف اپوزیشن ہی نہیں اپنوں کے خلاف بھی کاروائی ہوتی ہے ۔

    ۔ خاص توجہ کپتان نے جہانگیر خان ترین اور ان کے قریبی ساتھیوں پر رکھی ہوئی ہے ۔ مگر اپوزیشن سمیت ترین صاحب بھی منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہ اُس اُس زریعے سے آپس میں پیغام رسانی کر رہے ہیں جس کا علم کپتان کے فرشتوں کو بھی نہیں ہوسکتا ۔ ۔ اصل بات یہ ہے کہ آج سیاست میں جو بھی ہو رہا ہے، یہ نیا نہیں ہے ۔ یہاں لوگ ۔۔ پیٹریاٹ ۔۔ کے نام پر وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں اور آج اپوزیشن کی صفوں میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ سب کے مفاد ان کے چہروں پر لکھے ہوئے ہیں۔ ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان جو کہا کرتے تھے کہ وہ کبھی ”بلیک میل“ نہیں ہوں گے ۔ اب ہوتے ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ اتحادیوں کی ڈیمانڈز تو سامنے آنا بھی شروع ہوگئی ہیں ۔ یاد رکھیں بھاؤ دیکھانا کچھ اور ہوتا ہے۔۔۔
    اور بھاؤ بتانا کچھ اور ہوتا ہے ۔ اتحادی اس وقت بھاؤ بتا رہے ہیں کہ ہم کو ساتھ رکھنا ہے تو اس کی قیمت یہ ہوگی ؟

    ۔ پھر یہ بھی طے ہے کہ اتحادی جماعتیں عمران خان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر کسی صورت انتخابی عمل میں نہیں جائیں گی ۔ وقتی طور پر تو حکومت اتحادیوں کی ہر خواہشوں کو پورا کرسکتی ہے ۔ پر پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور اسکے بعد جنرل الیکشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کے ساتھ نتھی رہنا گھاٹے کا سودا ہے ۔ دوسرا ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ان کو کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے کہ کرنا کیا ہے ۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل دیکھائی دیتی ہے ۔ جس کی جو مرضی کر لے ۔ ۔ عمران خان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ان کا نیوٹرل ہونا عمران خان کی مخالفت ہی ہے۔ اس لیے اپوزیشن کو اندازہ ہے کہ انھیں کوئی خاص مدد نہیں بس ان کا نیوٹرل ہونا ہی چاہیے جو مل رہا ہے۔ اس لیے کھیل تیزی سے چل رہا ہے۔۔ ابھی تحریک انصاف کے حلیف کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ ہیں جس دن انہیں آزاد کر دیا گیا اور وہ اپنے فیصلے مرضی کرنے سے کرنے لگے سارا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ ۔ ویسے یہ منظر ماضی میں ہم نے دیکھ رکھے ہیں کہ راتوں رات کس طرح لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ الیکشن قریب ہے اس لیے اب نئی صف بندیاں اور نئے اتحاد بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ۔ پھر اس وقت جس تواتر سے ایک جانب زرداری اور شہباز تو دوسری جانب مریم اور بلاول تحریک عدم اعتماد کے حق میں باتیں کررہے ہیں اور پھر ان کے دیگر پارٹی لیڈران بتا رہے ہیں کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی یہ تحریک عدم اعتماد آئے گی ۔ اس سے تو لگنا شروع ہوگیا ہے ۔ کہ مارچ تو بہت دور کہیں کچھ نہ کچھ اس ہی ماہ اور آئندہ چند ہفتوں میں ہہ نہ ہوجائے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ لوگ آج بھی بھٹو کو یاد کرتے ہیں۔۔ بے نظیر کے گن گانے والے بھی ملک میں بہت زیادہ ہیں ۔ ۔ پھر نواز شریف سمیت شریف خاندان کو جیسے عمران خان اور ان کی ٹیم نے قوم کا سب سے بڑا لٹیرا ثابت کرنے میں سارا وقت گذار دیا وہ اب بھی سیاست کے ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر موجود ہے۔۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ بچاؤ کے لیے کپتان زور نہیں لگا رہے ہیں ۔ زور وہ بھی پورا لگا رہے ہیں ۔ جو ان سے بن پا رہا ہے کر رہے ہیں ۔ آپ دیکھیں اب انھوں نے ریاست مدینہ سے ہٹ کر امریکہ کو ٹارگٹ کرلیا ہے اور چین کی خوب تعریفیں کررہے ہیں ۔ وجہ ایک ہے جب ان کو نکالا جائے تو یہ کہہ سکیں کہ ہم کو امریکہ نے نکلوایا ہے ۔ ہم کو چین کو سپورٹ کرنے کی پاداش میں نکلوایا گیا ہے ۔ حالانکہ دنیا کیا پورا پاکستان جانتا ہے کہ چین کو پاکستان سے دور کرنے کے لیے اس حکومت نے باقاعدہ کوششیں کی ہیں ۔ باقاعدہ محنت کی ہے۔ وہ تو جوبائیڈن نے کپتان کو فون نہیں کیا ورنہ انھوں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ انکا جینا مرنا امریکہ کے ساتھ ہی ہوگا ۔ ۔ پھر عمران خان جہاں اپنے ٹاپ وزیروں کا اعلان کر رہے ہیں تو ساتھ ہی تنخواہوں میں اضافے کی نوید بھی سنا رہے ہیں ۔ آپ دیکھیں پندرہ فیصد تنخواہ بڑھائی ہے، جبکہ مہنگائی ہزار فیصد بڑھی ہے ۔صرف جب بجلی اور گیس کا بل لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے تو جنہوں نے کپتان کو ووٹ ڈالے تھے وہ بھی اپنے گناہوں کو کفارہ کرنے لگتے ہیں ۔ باقی تو دور کی بات ہے ۔۔۔

    ۔ اس وقت عمران خان کی بہت بری حکومتی کارکردگی اپنی جگہ ۔ مگر ان کی جماعت کی خستہ حالی میں سب سے بڑا حصہ پارٹی کو نظرانداز کرنا بنا ہے ۔ خان صاحب نے اقتدار میں اپنی پارٹی کی تنظیم نو اور نوجوان کارکنوں سے رابطہ کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ ۔ مگر فیصل واڈا جیسوں کی خاطر خان صاحب نے اپنی ساکھ دائو پر لگائی، نجانے اس کا جواب کون دے گا؟۔ اسی طرح زلفی بخاری جنہیں وزیراعظم عمران خان کا سب سے قریبی سمجھا جاتا تھا انہوں نے گزشتہ ہفتے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصوروار صرف شہزاد اکبر نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کریں جو وزیراعظم کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رہے اور وزیراعظم کو یہ بتاتے رہے کہ شہزاد اکبر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔۔ مزے کی بات ہے کہ زلفی بخاری خود بھی وزیراعظم کے معاون خصوصی تھے اور لوٹی گئی دولت کو واپس لانے کے یونٹ کے سربراہ تھے۔ ۔ سچ یہ ہے کہ ساڑھے تین برس میں شہزاد اکبر اور ان کے ساتھیوں نے ملکی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کی ہیں اور چار چار گھنٹوں کی presentations
    دی ہیں اور اس کے نتیجہ میں برآمدگی صفر ہے۔ انہیں محض فارغ کرنا نہیں بنتا تھا بلکہ ان پر جو ملکی سرمایہ ضائع ہوا ہے اس کی برآمدگی کرنا چاہیے تھی تاکہ ان تمام افراد تک یہ پیغام جاتا کہ آپ کو بھاری تنخواہیں اور مراعات کام کرنے کے لیے دی جا رہی ہیں نہ کہ عوام اور حکومت کو بے وقوف بنانے کے لیے نوازا جا رہا ہے۔۔ کیونکہ رزلٹ یہ ہے کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کو باہر کی عدالتوں سے کلین چیٹ مل رہی ہے ۔ ۔ بدقسمتی سے عمران خان کا مشاورتی نظام بہت کمزور ہے یا انہیں غلط اطلاعات دی جاتی ہیں۔ جو لیڈر درست اطلاعات حاصل نہ کر سکے ، اچھے اور مخلص مشیر اسے دستیاب نہ ہوں، اس کی سیاسی تباہی میں کیا کسر رہ جائے گی؟۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صفر کو جمع کریں ضرب دیں یا تقسیم کریں نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ معذرت کے ساتھ ٹاپ سے لے کر نیچے تک صفر یہ صفر ہیں ۔ ۔ عمران خان کی ٹیم ابھی تک اپوزیشن کو گالیاں نکالنے کی پالیسی پر ہی عمل کر رہی ہے۔ حا لانکہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچی جا رہی ہے۔ لیکن وہ مزے سے پرانی گالیوں والی فلمیں چلا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ کہ اپوزیشن کو گالیاں نکالنے سے مزید کام نہیں چلنا۔

    ۔ کون ان کو سمجھائے کہ گالیاں تو آپ تین سال سے نکال رہے ہیں ۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لیے آپ کو اپنی سیاسی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ۔ اسی لیے اب لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کو یا تو سیاسی صورتحال کا ادراک نہیں ہے یا انھوں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ جو ہونا ہے ہو جائے۔ میں اس کو روک نہیں سکتا۔ اس لیے کوئی بھی کوشش کرنا بیکار ہوگا۔ پھر یہ رائے کہ مولانا فضل الرحمٰن کھیل میں نہیں ہیں۔ درست نہیں ہے۔ وہ کھیل کا centre focus
    ہیں، لیکن کھیل کے باقی مہرے سیٹ کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا تو پہلے دن سے اس حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے اگر آج عمران خان کو گھر بھیجنے کا کوئی امکان پیدا ہو رہا ہے تو مولانا اس سے دور کیسے رہ سکتے ہیں۔۔ مولانا کی جب انٹری ہوگی تو وہ کھیل کو مزید تیز کر دیں گے۔ اس لیے وہ انتظار میں ہیں کہ سب مہرے نئی جگہ پر سیٹ ہو جائیں تو وہ اپنی انٹری ڈال دیں۔۔ آپ دیکھیں ایک ہفتہ قبل وہ عمران خان جو ملک کا ایک مضبوط حکمران تھا آج صرف تین ملاقاتوں کے نتیجے میں ہی ایک کمزور حکمران بن گیا ہے۔ اور اپوزیشن نے کل تک اگلی باری کی باتیں کرنے والوں کو دن گننے پر لگا دیا گیا ہے۔۔ اب تو ہر کوئی سوال ہی یہ کر رہا ہے کہ عمران خان کب جا رہے ہیں۔ ۔ کب عدم اعتماد آرہی ہے۔ ۔ کتنے دن باقی ہیں۔ ۔ لوگ تو اب شرطیں لگا رہے ہیں کہ مارچ کی پریڈ میں کون بطور وزیر اعظم سلامی لے گا۔
    ۔ یوں اس تیزی نے تبدیلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ۔ اس صورتحال میں عمران خان کی جماعت کے اندر بغاوت ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر گر وہ بندی پہلے ہی ہے۔ لیکن اگر یہ ماحول چند دن اور جاری رہتا ہے تو عمران خان کے لیے تحریک انصاف کو قابو رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ان کی اپنی جماعت میں ناراض لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اس لیے عمران خان نے اگر بروقت اس صورتحال کو ٹھیک نہیں کیا تو تحریک انصا ف کے بھی ٹکڑے ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

    ۔ عمران خان کو ایک بات سمجھنا ہوگی کہ ان کے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے ۔ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے، گیندیں کم اور اسکور زیادہ ہے۔ ایسے وقت میں ٹپ ٹپ کر کے گیندیں گذارنے سے میچ نہیں جیتا جاسکتا۔ کپتان کو چاہیے کہ کم ازکم تماشائیوں کو یہ کہنے کا موقع تو دیں کہ کیا خوب اننگز کھیلی ہے۔

  • گھبرانے کا وقت شروع، تحریر: نوید شیخ

    گھبرانے کا وقت شروع، تحریر: نوید شیخ

    پہلا رزلٹ موصول ہوگیا ہے۔ اس اہم موقع پر جو الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کو نااہل قرار دے کر جھٹکا دیا ہے ۔ اس کے آفٹر شاکس کافی عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے ۔ اہم چیز یہ ہے کہ فیصل واوڈا جھوٹا بیان حلفی دینے پر آرٹیکل
    62 ون ایف کا شکار ہوئے ہیں ۔ یعنی اب پی ٹی آئی کے جھوٹ پکڑے جانے کا وقت آگیا ہے ۔ ایسے ہی اگر کسی دن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی آگیا تو سمجھیں پی ٹی آئی کی کہانی ختم ۔۔۔۔ یہ بتا دوں کہ فیصل واڈا اگر سپریم کورٹ سے ریلیف لینے میں کامیاب نہ ہوئے تو سینٹ کی اس سیٹ پر پیپلزپارٹی کا کوئی سینیٹر بآسانی منتخب ہوسکتا ہے ۔ اسی لیے فیصل واڈا کی نااہلی کی اصل خوشی پیپلزپارٹی کے کیمپوں میں ہے ۔ پھر اب امید کرنی چاہیئے کہ اس فیصلے کے بعد اب فیصل واڈا کی
    ۔۔۔ اکٹر ۔۔۔ بھی ختم ہوجائی گی اور زبان بھی کنڑول میں واپس آجائے گی ۔

    ۔ ویسے پی ٹی آئی کی کہانی اپوزیشن نے بھی ختم کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے ۔ کیونکہ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے بعد عنقریب مولانا بھی لاہور پہنچ رہے ہیں ۔ اور جمعہ کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی متوقع ہے ۔ جبکہ شہباز شریف ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کے خواہشمند ہیں جو کہ جلد ممکن ہے ۔ یوں لاہور سے تبدیلی کوتبدیل کرنے کا آغاز ہوچکا ہے ۔۔ پھر لندن میں نوازشریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن اس ظالم حکمران سے نجات دلانے کے لیے قدم بڑھائے گی اور یہ عین وقت کی ضرورت ہے۔۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی حکومت ایک بدترین ناکامی سے دو چار ہے ۔ اگر آپ نوٹ کریں تو گزشتہ چند ماہ سے خود کابینہ کے اندر بھی کچھ لوگوں میں یہ ہمت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں اختلاف کرنے کے ساتھ اونچا بھی بول سکیں۔ ۔ ابھی دو روز قبل ہی ایمنسٹی سکیم منظور کرانے کے لئے بلایا جانے والا اجلاس اختلافات کی نذر ہو گیا اور عمران خان نے کہہ دیا کہ یہ سکیم اتفاق رائے کے بغیر منظور نہیں کی جائے گی۔ کابینہ میں ردوبدل کی خبریں آئیں تو وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو ان کا پی ٹی آئی میں رہنا بے مقصد ہوگا۔ یہ ساری باتیں ایک کھچڑی کا پتہ دیتی ہیں جو پک رہی ہے اور پکتی چلی جا رہی ہے۔

    ۔ پھر جہانگیر ترین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لینے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے پی ٹی آئی میں اپنا ایک الگ ہی دھڑا تیار کیا ہوا ہے۔ مت بھولیں عمران خان کی وفاقی اور پنجاب حکومت کو چلتا کرنے کے لیے ایم کیو ایم اور جہانگیر ترین گروپ ہی کافی ہے۔ مگر صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ۔۔۔ باپ ۔۔۔ والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ شاید اسی لیے آدھے سے زیادہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی پارٹی بدلنے کے چکروں میں ہیں ۔ ۔ اسی لیے حالات کی نزاکت کو دیکھتے شیخ رشید کی پیش گوئیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی دوبارہ زور پکڑ گیا ہے۔ وہ اور فواد چوہدری روزانہ ٹی وی پر آکر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار اور منتخب حکومت کے ساتھ ہے۔ لگتا ہے آجکل کپتان نے ان دونوں کی صرف یہ ہی ڈیوٹی لگا رکھی ہے ۔ ۔ پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوگئی ہے ۔ اسی لیے تو اتحادی بھی ۔۔۔ پر ۔۔۔ پرزے ۔۔۔ نکال رہے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھوں کی گھبراہٹ میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ اب تو بات یہ شروع ہوگئی ہے کہ دیکھیں پہلے عمران خان جاتے ہیں یا عثمان بزدار ۔ اس حوالے سے سعد رفیق تو اتنے پر اعتماد ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ چند دن میں فیصلہ ہوجائے گا کہ پہلا دھاوا کہاں بولنا ہے ۔

    ۔ میں شہباز شریف کو بذات خود جتنا جانتا ہوں وہ مفروضوں پر بات نہیں کرتے نہ سنتے ہیں ۔پھر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور یہ ان کی سیاسی بصیرت ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی کو دوبارہ سے پی ڈیم ایم اتحاد کا حصہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ ۔ پھر اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجا جائے گا تو سمجھ جائیں یہ تیاری پہلے کی ہے ۔ اب صرف عوام اور میڈیا کو دیکھانے کے لیے ملاقاتیں ہورہی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ماحول بنایا جا رہا ہے ۔ بس ۔۔۔ پلاننگ ان کی پہلے کی تھی ۔۔ پھر جو آصف علی زرداری تین سالوں میں دوسری بار بذاتِ خود سیاسی میدان میں اترے ہیں یہ بھی بہت اہم ہے۔ یاد رکھیں آصف علی زرداری کے بارے کہا جاتا ہے کہ انکی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ ۔ مت بھولیں گزشتہ سال سینٹ انتخابات کے موقع پر آصف علی زرداری کی حکمت عملی کامیابی سے دوچار ہوئی تھی ۔ جب یوسف رضا گیلانی نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اُمیدوار حفیظ شیخ کو چاروں شانے چت کر ڈالا اور عمران خان کے مخالفین کے علاوہ حامیوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ متحدہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔ ۔ کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی اطلاع ملنے پر عمران خان اپنی پارلیمانی پارٹیاتحادیوں اور اسٹیبلشمنٹ پر خوب گرجے برسے اور حفیظ شیخ کی ناکامی کو اپنے اوپر عدم اعتماد سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت چھوڑنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس لیے زرداری کا سندھ سے نکل کر پنجاب میں ڈیرے جما دینا بہت معنی خیز ہے ۔

    ۔ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو سمجھنے والوں کولگتا ہے کہ ان کو چودھری برادران کو راضی کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے ۔ کیونکہ چودھری برادران کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ عثمان بزدار کو اگر ہٹانا ہے تو پھر چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے مگر مسلم لیگ ن کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں، اس لئے زرداری صاحب نے یقیناً چودھری برادران کو رام کرنے کی کوشش کی ہو گی، اب پتہ نہیں یہ کھچڑی پکی ہے یا نہیں؟ مگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے صورتحال واضح ہوجائے گی ۔ ویسے عثمان بزدار کو ہٹانے کی آفر تو اب عمران خان بھی کرنے لگے ہیں ۔ کہ کسی اور لانا ہے تو لے آتے ہیں بس میری کرسی بچی رہنی چاہیے ۔ مگر یاد رکھیں اپوزیشن تحریک عدم اعتماد اس وقت ہی لائے گی جب نمبر گیم پوری ہوگی اور اسکو یقین ہوگا کہ ان کو کامیابی مل جائے گی کیوں کہ اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد میں ناکام رہتی ہے تو اگلے چھ ماہ تک ایوان میں وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں پیش ہو سکے گی اور اگلے انتخابات کو ویسے بھی ڈیڑھ سال رہ گیا ہے۔ تو آخری سال میں جا کر اگر حکومت کو گرایا جاتا ہے تو پھر وہ اسے سیاسی طور پر شہید کرنے کے مترادف ہو گا۔۔ تو یقینا آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سارے کھیل میں شہباز شریف کا کردار سب سے اہم ہو گا کیوں کہ وہ ایوان میں اپوزیشن کے کپتان ہیں۔

    ۔ سیاست نام ہی تجربات کا ہے تو اپوزیشن تجربے کرتی رہتی ہے کبھی لانگ مارچ تو کبھی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا ماحول بنانا یہ سب کر کے ہی اپوزیشن سیاسی ماحول کو برقرار رکھ سکتی ہے جس کیلئے شہاز شریف تگ و دو کر رہے ہیں۔ اسی لیے نوازشریف نے بھی شہباز شریف کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ کہ وہ حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں تا کہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا جا سکے جو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عوامی عدالت میں رسوا ہو چکی ہے۔ ۔ یوں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت کرنے کے اعلانات محض گیدڑ بھبھکیاں نہیں ۔ ۔ کیونکہ اب کوئی شک نہیں رہ گیا کہ مارچ بہت اہم ہونے جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ان میں ملک کی اہم ترین تقرری کے بارے فیصلہ کرنا ہے۔کون جانے، وزیراعظم کاامیدوار کون سا ہے اور اپوزیشن کا امیدوار کون سا۔ ۔ اس حوالے سے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان سے تیس نومبر کی تقرری کا والا فیصلہ کروانا ہی نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس نے نہیں کروانا، یہ کس کے مفادات کے خلاف جا رہا ہے اور اس پر اپوزیشن کو متحرک کون کر رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ آصف زرداری ، شہباز شریف، باپ ، ایم کیو ایم اور ق لیگ کو جو اچانک ہو گیا ہے۔ وہ اشارے کے بغیر نہیں ہوتا ۔ ۔ اس لیے اب چاہے عمران خان کہیں کہ ۔ میں مزید خطرناک ہوجاوں گا ۔ یا ۔ ہمارے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ۔ یا
    ۔ اگلی باری بھی ہماری ہوگی ۔۔ اصل سچ یہ ہے کہ عمران خان کے لیے گھبرانے کا وقت شروع ہوگیا ہے ۔

  • پی ٹی آئی ایک اور باری لے پائے گی؟ تحریر: نوید شیخ

    پی ٹی آئی ایک اور باری لے پائے گی؟ تحریر: نوید شیخ

    جہاں یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی مزید ایک اور باری لے گی ۔ تو فی الحال مجھے یہ پانچ سال بھی پورے کرتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ جس تیزی حالات تو ایک طرف اپوزیشن کے آپسی اختلافات ختم ہورہے ہیں ۔ میں خود حیران ہوگیا ہوں کہ یک دم پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی ملاقات میں بغیر کسی شرائط کے اصولی طور پر طے کر لیتے ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے ۔ اور اکیلے اکیلے نہیں بلکہ کے مل کر یہ کام کرنا ہے ۔ یہ بات زیادہ اہم ہے ۔ پھر اسی دن شہباز شریف نواز شریف سے تمام پلان شیئر بھی کر لیتے ہیں اس کے بعد نواز شریف بھی بغیر کسی حیل وحجت کے
    go aheadکہہ دیتے ہیں ۔ تومولانا سے بھی بات ہوجاتی ہے ۔ ان کو بھی onboard کر لیا جاتا ہے ۔ پھر ایمرجنسی پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کی تیاری بھی ہوجاتی ہے۔ ویسے اتنی تیزی سے چیزیں تو تب بدلتی ہیں جب کسی فلم کا climax
    قریب آرہا ہو ۔

    ۔ آخری بارجومجھے یاد ہے ایسا تب ہوا تھا جب مشرف کو صدر کے عہدے سے ہٹانا تھا یا پھر جب اٹھارویں ترمیم آنی تھی تب یہ تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئی تھیں ۔ میرے خیال سے ایک بار پھر اسٹیج تیار ہوچکا ہے ۔ اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے ۔ جس کے بعد حکومت ہر حال بھی گھر ہی جائے گی ۔۔ بس وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ کہ puzzle solve کرنے کا ایک آخری ٹکڑا رہ گیا ہے جس دن اس کا پتہ چل گیا کہ وہ کہاں ہے ۔ تمام سوالوں کے جواب کنفرم ہوجائیں گے ۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں جہانگیر ترین کی ۔ اب سب کچھ تو ہوچکا ہے ۔ بس ان کے جہاز کی لینڈنگ دیکھنی ہے کہ وہ کہاں جا کر رکتا ہے ۔ لاہور ، کراچی ، پشاور یا پھر ملتان میں ہی پارک رہے گا ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی اس وقت مزید حکومت کرنے کا اخلاقی سمیت تمام سیاسی جواز بھی کھو بیٹھی ہے ۔ کیونکہ اب عوامی مطالبہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ حکومت جائے گی کب ۔۔۔۔ یہ ہی سوال احتساب عدالت کے باہر شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت گھر چلی جائے گی جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کو بہتر پتہ ہے ، لیکن ہماری پوری کوشش ہو گی ۔۔ تومولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بلاول، زرداری سے ملاقات پر مجھے اعتماد میں لے لیا ہے ۔ ہم جلد عوام کو اس ناجائر حکومت سے چھٹکارا دلوائیں گے۔ ۔ انکے بعد بلاول بھٹو نے تو پوری کہانی ہی بیان کردی ہے کہ پلان ہے کیا ۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ، اب اسمبلی میں بھی ہوگا۔ عمران خان کے گھبرانے اور جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔۔ اس حوالے سے حمزہ شہباز نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ حکومت ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر جنگ لڑی جائے گی ۔

    یعنی اپوزیشن ان ہاوس تبدیلی کی تیاریوں میں ہے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اب تو اسمبلی کے اندر سوائے یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر بننے کے علاوہ اپوزیشن کو ہمیشہ سبکی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اور اگر یہ عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لانی کی تیاری ہے تو اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے ہوتے ہوئے مجھے یہ کامیاب ہوتی دیکھائی نہیں دیتی ۔ اس کے لیے مجھے لگتا ہے کہ اپوزیشن کو پہلے اسد قیصر کو ہٹانا پڑے گا ۔ پھر اگلا وار عمران خان پر کرنا ہو گا ۔ ۔ اب اگر نمبر گیم کو دیکھا جائے تو اپوزیشن کو خود اکٹھے ہونے اور عمران خان کے کسی بھی ایک اتحادی کو توڑنے کی ضرورت ہے ۔ on paperیہ بہت آسان لگتا ہے مگر یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔ سب سے پہلے تو یہ make sure
    کرنا کہ اپوزیشن کی اپنی گنتی پوری ہو ۔ کیونکہ کوئی بیمار بھی ہوسکتا ہے ۔ کوئی ملک سے باہر ہوسکتا ہے ۔ پھر کوئی خوشی غمی ہوسکتی ہے ۔ اس کے بعد حکومت کا جو دعوی ہے کہ اپوزیشن کے پندرہ سے بیس لوگ عمران خان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا ۔ اب اگر پہلے اپوزیشن اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لے تو دوسرا اہم مرحلہ کسی اتحادی کو توڑنا یا پھر پی ٹی آئی کے اندر نقب لگانے کا ہے ۔ اس میں اپوزیشن اگر خالی ق لیگ یا پھر ایم کیو ایم کو ہی حکومت سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوگی تو سمجھو کام بن گیا ۔ مگریہاں ٹھہریں زرا ۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ نہ ہی ق لیگ اور نہ ہی ایم کیوایم حکومت سے اس وقت تک علیحدہ ہوں گی جب تک اس گھر سے حکم نہ آجائے جو ان کا قبلہ ہے ۔

    پھر یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی اپوزیشن سے رابطے میں ہیں۔ یہ بات بذاتِ خود اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اندرونِ خانہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ بیس ارکانِ اسمبلی سے رابطوں کا دعویٰ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب تازہ تازہ اپوزیشن کو سینیٹ میں شکست ہوئی ہے، جہاں اُس کی اکثریت ہے۔ تو کیا جن ہاتھوں نے سینیٹ میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا وہ دوسری سمت کو چلے گئے ہیں۔ کیا انہوں نے یقین دلایا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے وہ اسے کامیاب کرا دیں گے۔۔ میرے خیال سے اس یقین دہانی کے بغیر اپوزیشن کبھی بھی اسپیکر یا وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائے گی،کیونکہ حکومتی بنچوں کے ووٹ ملنا تو دور اپوزیشن کے اپنے ارکان عین موقع پر غائب ہو جاتے ہیں۔ ۔ یوں بات ایک بار پھر گھوم کر اسٹیبلشمنٹ پر آکر رک جاتی ہے کہ وہ اگر چاہتی ہے حکومت گھر جائے تو صبح حکومت گھر چلی جائے گی اور اگر وہ چاہتی ہے کہ حکومت پانچ سال پورے کرے یا پھر اگلے پانچ سال بھی پی ٹی آئی ہی عوام پر مسلط رہے تو یہ کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں ہے ۔ ۔ مگر اس بار بہت سے لوگوں کو امید ہوچلی ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتیں بغیر کسی شرط اکٹھی ہو رہی ہیں ۔ یہ اشارہ ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔ ۔ پھر جو جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی کا تُک ہی نہیں بنتا، چور اور قاتل سزا کاٹنے کے بعد الیکشن لڑسکتے ہیں اور تاحیات نااہل بھی نہیں ہوتے۔ اسکے بعد انھوں نے کہا کہ بحران انتہا پر پہنچ جاتا ہے،تب حکومت حرکت میں آتی ہے۔ ۔ میرےخیال سے ان کی باتوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے آئیڈیل حالات ہیں ۔ ۔ کیونکہ حکومت کے پاس عوام حمایت ختم ہوچکی ہے ۔ ۔ اپوزیشن اکٹھی ہوچکی ہے ۔ ۔ پھر حکومت کے اپنے لوگوں سمیت اتحادی بھی ناراض ہیں ۔ ۔ پھر حالیہ دِنوں میں کچھ ایسے پے در پے واقعات ہوئے ہیں، جن سے لگتا ہے کہ اب کچھ ہوگا ضرور۔

    مگر یاد رکھیں عمران خان کو ہٹانے کے لئے کوئی غیبی طاقت نہیں آئے گی، جو تبدیلی بھی آنی ہے، وہ آئینی طریقے ہی سے آسکتی ہے۔ ۔ مگر اس حوالے سے حکومت کےجتنے لوگوں سے میری بات ہوئی ہے انکا ماننا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن صرف سیاسی طور پر خود کو زندہ رکھنے کے لئے یہ سب جتن کر رہی ہیں۔ کیونکہ اب حکومت کی مدت اتنی کم رہ گئی ہے کہ اسے گھر بھیج کر شہید بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ معاشی شعبے میں حکومت کی کارکردگی اتنی بری رہی ہے کہ عام انتخابات میں اُس کا جیتنا اپوزیشن کے نزدیک کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو نکال کے مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کا وزیراعظم لانے سے حکومت کی تمام ناکامیاں اُس کے حصے میں آ جائیں گی۔ اور تحریک انصاف ایک نئے عزم اور دعوؤں کے ساتھ انتخابات میں جائے گی اور کوئی شک نہیں عمران خان واقعی اپوزیشن کے لئے خطرناک ثابت ہوں۔ ۔ مگر جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ایسی کوئی بات سمجھانا ممکن نہیں۔ وہ پہلے دن سے حکومت کو غیر آئینی اور مسلط کردہ کہہ کر اُسے نکالنے کے در پے ہیں۔ وہ اس کے لئے ایک لانگ مارچ بھی کر چکے ہیں، جس کے اختتام پرانہوں نے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا،وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ دھرنا ختم کرانے کے لئے اُن سے حکومت ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جسے پورا نہیں کیا گیا۔ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں، البتہ یہ چاہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے دیں اور لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو نکال باہر کیا جائے۔ یہ سب کچھ وہ بہت آسان سمجھتے ہیں،حالانکہ حالات ایسے نہیں کہ اب کسی کو دھرنا دے کر حکومت سے نکالا جا سکے۔ دوسری طرف استعفوں کے آپشن پر اپوزیشن کا متفق ہونا ممکن نہیں ۔ ۔ یوں حکومتی وزیروں کا ماننا ہے کہ اس بار بھی اپوزیشن کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچے گی اور امکان یہی ہے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی حالیہ پیار کی پینگیں سوائے ایک دوسرے کے خلاف لفظی سیز فائر کے کوئی بڑا بریک تھرو ثابت نہیں ہونگی۔۔ مگر سچ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے ۔ حکومت کیا سمجھتی ہے ۔ یا اپوزیشن کی خواہش کیا ہے ۔ اس سب سے زیادہ اہم چیز ہے کہ عوام کیا سوچتی ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت عوامی رائے یہ ہے کہ حکومت نے جھوٹ بولنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف کی بیڑیاں ، کرپشن ، لاقانونیت ، دہشتگردی ان کے سرکا تاج ہے ۔ اسی لیے آج صورتحال یہ ہے کہ کپتان کا نام سن کر عوام صرف بدعائیں نہیں وہ وہ کہہ رہے ہیں جو میں یہاں بیان نہیں کر سکتا ۔ ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اب کپتان کو ہرصورت جانا ہی ہوگا ۔

  • دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا، تحریر: نوید شیخ

    دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا، تحریر: نوید شیخ

    عمران خان کے حالیہ بیانات سے لگتا ہے کہ لوگوں کو گبھرانا نہیں کا مشورہ دینے والے خان صاحب خود بہت گھبرا گئے ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات احساس شکست کا پتہ دیتے ہیں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سڑکوں پر آئے تو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سڑکوں پر آنے کے لئے آپ کے پلے بھی کچھ ہونا چائیے جو وہ اپنی ناقص کارکردگی کے سبب کھوچکے ہیں۔

    ۔ موجودہ حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کہیں خیر نظر نہیں آتی۔ آمدن کے لحاظ سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید کم سے کم تر ہو رہی ہے۔ ۔ مگر عمران خان کے اردگرد خوشامدیوں کے ٹولے اکٹھے ہیں جو انہیں یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی بنائی ہوئی ریاست مدینہ میں لنگر خانے کھلے ہیں اور غریب کو روٹی مل رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو جو حکمران ان خوشامدیوں کے جھانسے میں آیا اس کا انجام بھیانک ہی ہوا ۔ ۔ پہلے سب سے بڑے جھوٹ سے شروع کرتے ہیں کہ حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 5.3 ظاہر کی ھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ گروتھ ریٹ واقعی ٹھیک اور حقیقت پر مبنی ھے تو پھر اس کا فائدہ عام شہری کو کیوں حاصل نہیں ہورہا۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش جو نصف صدی پہلے ہم سےعلیحدہ ہوگیا تھا آج وہ بھی ہم سے بہت آگے ھے اس کا ایک ٹکا ہمارے
    2.06 روپے بنتے ہیں یعنی اب ہم ایک ٹکے کے بھی نہیں رہے- – جیسے یہ پہلے کہتے تھے کہ نواز شریف دور میں اسحاق ڈار نے مصنوعی طور پر روپے کو مضببوط رکھ کر مارکیٹ میں ڈالر کو استحکام پر رکھا ہوا ہے اسی طرح آج کی جی ڈی پی گروتھ بھی مصنوعی ہی لگتی ھے۔

    ۔ کیونکہ دیکھیں کوئی ماہرین معیشت ایسا نہیں جو یہ نہ کہتا ہو کہ غیر ملکی قرضوں کے سہارے کسی بھی ملک کی معیشت نہ تو مضبوط ہو سکتی ہے نہ عوام خوشحال ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے اسی تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو پی ٹی آئی نے ان تین سالوں میں ریکارڈ غیر ملکی قرضے حاصل کئے ہیں ۔ ۔ لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کے ترجمانوں، وزیر خزانہ اور مالیاتی مشیروں کی طرف سے ایسے ایسے خوش کن بیانات اور دعوے تسلسل سے آ رہے ہیں کہ جیسے اس وقت ملک میں ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہے اور عوام حکومت کی مثالی کارکردگی کی وجہ سے شادیانے بجا رہے ہیں۔ ۔ عمران خان کو پتہ نہیں یہ کون اعداد وشمار دیتا ہے جو وہ ہر جگہ یہ راگ الاپتے پھرتے ہیں کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کی آمدن میں 73 فیصد اضافہ ہوا اور انہیں 1400 ارب روپے کی اضافی آمدنی ملی ہے۔ اگر واقعی ایسی صورتحال ہوتی تو ملک میں ہر طرف کسانوں کی احتجاجی ریلیاں نہ ہوتیں۔ دھرنے نہ ہوتے ۔ ۔ اسی طرح عمران خان کا ماننا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 40 سے 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ہم ان سے کہیں گے کہ وہ ورکروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کریں ۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ ہمارے کارپوریٹ سیکٹر میں بوم آیا ہوا ہے جبکہ کنسٹرکشن انڈسٹری اور اس سے منسلک 30 صنعتیں ترقی کر رہی ہے ملک میں لاکھوں گھر بن رہے ہیں عوام نے گھروں کی تعمیر کے لیے بنکوں سے 290 ارب روپے کے قرضے مانگے تھے اب تک انہیں 20 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں۔
    مگر حقیقت یہ ہے کہ سب رو رہے ہیں ۔ کوئی وزیراعظم کے نام اخباروں میں اپیلیں چھپوا رہا ہے تو کوئی سٹرکوں پر نکل کر احتجاج کر رہا ہے کوئی ہر دوسرے دن پریس کانفرنسیں کرکے حکومت کو کوس رہا ہے ۔ ۔ مہنگائی کے بارے میں تو عمران خان اکثر فرماتے ہیں کہ اس خطے میں سب سے کم مہنگائی پاکستان میں ہے حالانکہ ہمارے عوام ریکارڈ توڑ مہنگائی کی وجہ بے حد پریشان ہیں۔

    ۔ سچائی یہ ہے کہ اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مہنگائی کی بلند ترین سطح کے لحاظ سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جبکہ حکومت پاکستان کا اپنا ادارہ شماریات ہر ہفتے مہنگائی کے بارے اعداد و شمار جاری کرتا رہتا ہے۔ وہ رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے ۔ ۔ پھر بھی عمران خان کا یہ دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت مضبوط سے مضبوط ہو رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیوں سے 30 ارب ڈالر اور برآمدات سے 31 ارب ڈالر حاصل ہوئے اس سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں مگر حکومت یہ نہیں بتاتی کہ اس کے دور میں پاکستان نے ریکارڈ بیرونی قرضے بھی لیے ہیں اور آئی ایم ایف کی ڈِکٹیشن پر انوکھا منی بجٹ بھی پاس کروایا ہے اور اسٹیٹ بنک کے بارے میں قانون سازی کی جس پر ہر کوئی حکومت کو پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہا ہے۔ مگر عمران خان سمیت نو رتنوں کا ماننا ہے کہ سب اچھا ہے ۔ ۔ ویسے تو پی ٹی آئی والے معیشت کی تباہی سمیت کرپشن کے تمام الزامات سابقہ حکومتوں پر لگاتے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے تین سالہ دور حکومت میں بیرونی قرضے حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہر شرط ماننے کے سوا کیا ہی کیا ہے؟ ۔ کیا حکومت نے گردشی قرضوں اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے کچھ کیا ہے؟ ۔ فیول ایڈجسٹمنٹ ، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سمیت کئی قسم کے ٹیکس لئے جا رہے ہیں جو بڑھتے بڑھتے بجلی کی اصل قیمت کے تقریباً برابر پہنچ چکے ہیں۔ لیکن کسی کو اس کی پروا نہیں ہے۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایل این جی نہ لانے کی وجہ سے ہمارے پاور ہائوسز مہنگے ڈیزل پر چل رہے ہیں۔۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔۔ حکمران نہ جانے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سب سے مسائل ہی بڑھیں گے۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔ پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ہے ۔ ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات الٹا بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ ۔ یہ کرپشن ختم کرنے کے نعرے پر آئے تھے مگر مکمل ناکام ہیں۔ کرپشن پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں، وہ پہلے سے زیادہ ہے۔ان کے خیال میں ان کے دور میں کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ۔ سچ یہ ہے کہ سکینڈل ہمیشہ حکومت جانے کے بعد آتے ہیں اور یہ زیادہ دن کی بات نہیں۔ کیونکہ ان کی نااہلیوں اور کرپشن کی ایک لمبی داستان ہے۔ ۔ دراصل عمران خان نے جیسے 92 کے ورلڈ کپ میں ایک ٹیم بنائی تھی ویسے اپنی حکومت کیلئے نہیں بنا سکے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے میرٹ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا اور یہی بات بحیثیت وزیرِ اعظم اُنکی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

    ۔ اس میں کوئی برائی نہیں کہ عمران خان اپنے دوستوں یاروں کو ضرور ایڈجسٹ کریں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی رکھیں جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ لیکن عمران خان پرانے پاکستان کے معماروں سے ہی نیا پاکستان تعمیر کروانا چاہتے ہیں۔ ۔ کون نہیں جانتا کہ عمران خان کے وزیر مشیر گزشتہ حکومتوں میں بھی اہم ترین عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ اس لیے وہ لوگ حق بجانب ہیں کہ یہ اتنے ہی قابل ہوتے تو پاکستان اس حال کو پہنچتا ہی کیوں۔۔ اس وقت عوام کو سیاست کی تماشا گری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ انہیں تو یہ پتا ہے کہ وہ عمران خان کی حکمرانی میں اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کے قابل بھی نہیں رہے۔۔ کیونکہ پاکستان اشرافیہ کے لئے کسی جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں ۔ یہ واحد ملک ھے جہاں
    15-20 ہزار ماہوار کمانے والا تو ادویات، ٹیکس اور بلز سمیت تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا پابند ھے لیکن لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے عوام کے خادموں اور ملازموں کے لئے پیٹرول بلز اور دیگر تمام سہولیات زندگی مفت ہیں-

    ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس وقت اصولی سیاست کے بجائے وصولی سیاست ہو رہی ہے۔ کیونکہ اصولی طور پر تو عمران خان کو اپنے اس بیان کی لاج رکھنی چاہیے تھی کہ میں کسی کی بیساکھیوں کے سہارے ہرگز اقتدار میں نہیں آئوں گا اور مجھے حکومت کی تشکیل کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا قبول کرلوں گا پر اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک نہیں ہونگا۔ مگرعمران خان نے اصولی سیاست کے نعرے لگاتے ہوئے اقتدار کے حصول کیلئے ہر وہ کام کیا جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نہیں کریں گے ۔ یوں دیکھا جائے تو عمران خان کی اقتدار کی ہوس نے تبدیلی جنازہ نکال دیا ہے ۔ ۔ سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ اور یہ ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے ہیں ہی نہیں ۔ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ مگر پی ٹی آئی بھی کسی بھی لحاظ سے ان سے کم نہیں ۔ اسلیے عوام کی بس ہو چکی ہے ۔۔ حالت یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس نئے پاکستان سے بہتر تھا۔۔ اس لیے اب عمران خان کوبہت جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ مزید ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا ۔ کیونکہ عمران خان سے حساب مانگنے اور پی ٹی آئی کا احتساب کرنے کا وقت آن پہنچا ہے

  • ستر برس اور پاکستان کیخلاف بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    ستر برس اور پاکستان کیخلاف بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    ستر سال گزر چکے ہیں ۔ مگر بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ۔ پاکستان پر جنگیں مسلط کرنا ہو ، پاکستان کو دولخت کرنا ہو ، کشمیر پر قبضہ کرنا ہو ، ایف اے ٹی ایف ہو کے پی کے اور بلوچستان میں حالات کو خراب کرنا ہو۔ ہر طرف اور ہر جگہ آپکو بھارت ہی دیکھائی دے گا ۔ پھر پاکستان معاشی طور پر مستحکم نہ ہوجائے اس سلسلے میں بھی ہر جانب اور ہر طرف سامنے بھارت ہی کھڑا سازشیں کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ ابھی حالیہ جو پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر شروع ہوئی ہے ۔ اس کے پیچھے بھی بھارتی ہاتھ ایکسپوز ہوچکے ہیں ۔ پاکستان دنیا اور عالمی اداروں کو بھارت کی سازشوں بارے بتا بتا تھک چکا ہے ۔ مگر ان کے کان پر جون تک نہیں رینگتی کیونکہ بھارت سے سب کے تجارتی مفادات وابستہ ہے ۔

    ۔ اچھا میں نے جو چیزیں گنوائی ہیں یہ تو وہ ہیں جن کے بارے سب ہی جانتے ہیں مگر اب بھارت نے پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار بھی شروع کر رکھی ہے ۔ یعنی پراپیگنڈہ ایسا کیا جا رہا ہے کہ پاکستانیوں کو ہی اپنے اداروں سے متنفر کیا جائے ۔ ایسی جھوٹی چیزیں پھیلائی جائیں کہ پاکستانی اندرونی طور پر آپس میں لڑنا شروع کر دیں ۔ اس معاملے میں بھی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھارت کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے ۔ وجہ صرف بھارت کا ایک بڑی مارکیٹ ہونا ہے ۔ ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے آفسسز بھارت میں ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان کی بار بار درخواست کے باوجود یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھارتی ایماء پر پاکستان میں اپنے آفسسز نہیں کھولتے ہیں ۔ الٹا پاکستان سے چلنے والے یوٹیوب چینلز ہوں یا فیس بک پیجز ۔۔۔ جو بھی ان پلیٹ فارمز پر بھارت کو ایکسپوز کرتا ہے یا کشمیر پر حق کی آواز بلند کرتا ہے ان کو بھارتی حکومت کے ایماء پر بند کروادیا جاتا ہے ۔

    ۔ اب جوں جوں کرونا کا زور کم ہورہا ہے ۔ مودی پھر سے اپنے پر پرزے نکال رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازشیں رچائی جارہی ہیں ۔ ایسی ہی ایک سازش بارے پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے ۔ ۔ دراصل ایک روز قبل بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بھارتی آرمی چیف Manoj Makand Narawane کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنگ بندی اس لیے جاری ہے کیونکہ بھارت نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی۔ جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہہ دیا ہے کہ بھارتی چیف کا یہ دعویٰ کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اس لیے ہے کہ انہوں نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی۔ واضح طور پر گمراہ کن ہے۔۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جنگ بندی پر صرف ایل او سی کے اطراف بسنے والے کشمیریوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کے باعث اتفاق کیا گیا تھا۔ کسی کو جنگ بندی کو اپنی طاقت اور دوسرے کی کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔۔ اچھا یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کبھی بھارتی آرمی چیف سیاچین بارے بے پرکی اڑا دیتے ہیں تو کبھی کشمیر بارے ۔۔۔

    ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ یہ حملے کرنے آتے ہیں تو چائے پی کر معافی مانگ کر یہاں سے بھاگنا پڑتا ہے تو کبھی یہ اپنا ہیلی کاپٹر کریش کرواکر اپنے ہی سی ڈی ایس کی موت کا سبب بن جاتے ہیں ۔ ۔ یہ صرف سازش رچ سکتے ہیں حالیہ لاہور اور بلوچستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں ۔ جو پاکستان دنیا کے سامنے لے آیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی یہ افغانستان اور ایران کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے قبائلی علاقوں سمیت بلوچستان اور کے پی کے کو destablizeکرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کے حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے ۔ ۔ شیخ رشید نے بھی حالیہ یہ ہی بات کی ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے کے پیچھے لوگ بھارت اور افغانستان سے رابطے میں ہیں۔ ۔ تو عمران خان نے اپنے حالیہ چین کے دورے پرچین کے معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات میں بھی یہ ہی بات کہی ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ موجودہ بھارتی قیادت خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے۔۔ میں اتنا جانتا ہوں ۔ چاہے کوئی وقتی سیاسی یا دوسرے فائدے کیلئے یہ نہ سمجھے کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ون ہے ۔ ۔ مگر سچ بھی یہ ہی ہے اور حقیقت بھی یہ ہی ہے ۔ آپ چاہے بھارت کے ساتھ جتنا مرضی پیار سے بات کر لیں ۔ جتنا مرضی کاروبار یا دیگر معاملات کی طرف لے آئیں ۔ مگر بھارت نے اپنی جبلت کو نہیں چھوڑنا ۔ اس نے کسی نہ کسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم رہنا ہے ۔

    ۔ پاکستان جو ڈیفنس پر اتنا خرچ کرتا ہے پاکستان نے جو ایٹمی قوت حاصل کررکھی ہے اسکی بنیادی وجہ ہی بھارتی جارحیت ہے ۔ ورنہ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو خطے میں اور کسی سے نہ تو کوئی خطرہ ہے ۔ نہ ہی کوئی مسئلہ ہے ۔ الٹا اگر آپ دیکھیں ۔ تو پاکستان سے اوپر یعنی افغانستان ، سینڑل ایشیا اور ایران کی جانب ٹریڈ نہ ہونے ایک بڑی وجہ بھی بھارت ہی ہے ۔ اسکی سازشیں ہیں ۔ یہ تو میں نے آپ کو چیدہ چیدہ چیزیں بتائی ہیں ۔ اگر indepthدیکھا جائے تو چاول سے لے کر نمک تک ، کنوں سے لے کر آم تک اور ٹیکسٹائل سے لے کر سپورٹس کے سامان تک ۔۔۔ دنیا میں ہر جگہ بھارت پاکستان کی صنعتوں اور تعلقات کو خراب کرنے میں باقاعدہ اپنا مال اور اپنے لوگوں کو سرگرم رکھتا ہے ۔ پھر پاکستان آنے والے دریاوں کے پانی کا رخ موڑنا ہو ۔ یوں ہر بڑے مسئلے کے پیچھے آپکو بھارت ہی دیکھائی دے گا ۔ ۔ اسی لیے تاریخ سے تھوڑی بہت شد بد رکھنے والا کوئی بھی شخص پاکستان کے دشمن نمبر ون کے بارے میں کسی مغالطے میں نہیں رہتا۔۔ کیونکہ گذشتہ ستر سال سے ہم بھارتی جارحیت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ۔ ہم میدان جنگ میں لڑے ہیں۔ ۔ ہم اقوام متحدہ میں بھارتی سازشوں کو مقابلہ کر رہے ہیں ۔۔ ہم تجارتی محاذ پر انکا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ۔ ہم ایف اے ٹی ایف میں بھارت کا مقابلہ کررہے ہیں ۔۔ ہم سفارتی محاذ پر انکا مقابلہ کررہے ہیں ۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ بھارت کے ساتھ پائیدار امن کا راستہ تجارت یا کرکٹ نہیں بلکہ اصل حل طلب مسائل پر سنجیدہ بات چیت سے نکلتا ہے۔ جس میں اول نمبر پر کشمیر ہے۔ مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں سے قبل ، پاکستان کا ایک مخصوص طبقہ یہ پرچار بھی کرتا تھا کہ اگر پاک بھارت تجارت اس حد تک پہنچ جائے کہ دونوں ممالک کے عوام اور معیشت ایک دوسرے پر انحصار کرنے لگ جائیں تو یہ ممالک اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی اقدام یا ایک دوسرے سے کوئی مطالبہ نہ کر سکیں ۔ کیا اسکا مطلب یہ نہ ہو گا کہ پاکستان موجودہ صورتحال قبول کر لے؟ ایسی صورتحال میں بھارت یک طرفہ طور پر فائدے میں رہے گا کیونکہ پاکستان نہ تو کسی بھارتی علاقے پر قابض ہے اور نہ کسی بھارتی دریا کا پانی روک رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ بھارت کی معیشت پاکستان کی معیشت سے اتنی بڑی ہے کہ وہ کبھی پاکستان پر منحصر نہیں ہو سکتی ۔

    ۔ اسی لیے جب بھی پاک بھارت مذاکرات یا تعلقات بہتر بنانے کی بات ہو تو کشمیر، سیاچین، سر کریک اور متنازعہ ڈیموں جیسے حقیقی حل طلب مسائل کی بجائے حیرت انگیز طور پر تجارت اور کرکٹ کی باز گشت سنائی دینے لگتی ہے۔۔ ساتھ ہی ایک آواز یہ بھی سنائی دینے لگتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ یعنی تجارت کے لیے ایک دوسرے کو راہداری دینے کا معاہدہ بھی ہونا چاہئیے۔ کیا بھارت کے پاس بندرگاہوں اور زمینی راستوں کی کمی ہے جو اسے پاکستان کے راستے تجارت کی ضرورت ہے؟ ۔ واحد اہم ملک جس سے بھارت کا سمندری یا زمینی رابطہ نہیں ہے وہ ہے افغانستان۔ افغانستان کے راستے بھارت پاکستان میں کیا گل کھلاتا رہا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔۔ اس لیے تجارت میں فروغ کے نام پر بھارت کو افغانستان تک کھلی زمینی رسائی دینے میں پاکستان کا کونسا مفاد ہو گا؟ ۔ مودی سرکار سے قبل ایک دور ایسا بھی رہا ہے جب پاک بھارت تجارت خوب پھل پھو ل رہی تھی۔ اگر ہم اس دور میں ہونے والی پاک بھارت تجارت کے سیاسی پہلو نظر انداز کر کے صرف اقتصادی پہلو بھی دیکھیں تو پاکستان کا مفاد کم ہی نظر آتا ہے۔ ۔ اس دور میں ہونے والی تجارت کے لیے بھی ہمیشہ دو طرفہ تجارت کا لفظ ہی استعمال ہوتا تھا لیکن عملی طور پر پاک بھارت تجارت بہت حد تک یک طرفہ تھی ۔ ۔ دراصل دکھانے کو بھارت نے 1996میں پاکستان کو most favourite nation کا درجہ دے دیا تھا اور خواہش کی تھی کہ پاکستان بھی ایسا ہی کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انڈیا کی پاکستان کے ساتھ تجارتی پالیسی میں بہت سے ایسے
    tariff اورnon tariff berarers تھے۔ جنھیں بھارت ختم کرنے کی بجائے آہستہ آہستہ مزید بڑھاتا گیا ۔ اسطرح پاکستان کو
    most favourite nation کا درجہ دیے جانے کے باوجود پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بھارت کے ساتھ تجارت میں بہت سی بڑی اور عملی رکاوٹیں پیدا کر دی گئیں جنہو ں نے اس دو طرفہ تجارت کے تمام فائدے بھارت کے تاجروں اور معیشت کے لیے مخصوص کر دیے۔ اسی طرح زراعت میں بھارت اپنے کاشتکار کو ٹیوب ویلوں کی بجلی سے لے کر بیجوں اور دیگر مدوں میں اتنی سبسڈی دیتا ہے کہ پاکستانی کاشتکار قیمتوں میں بھارتی زرعی اجناس کا مقابلہ کرہی نہیں سکتے ۔

    ۔ رہی بات پاک بھارت سیاسی اور سرحدی تعلقات بہتر بنانے کی تو اسکی چابی دراصل حل طلب مسائل کے حقیقی اور عملی حل میں چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم ان مسائل کو حل نہیں کرتے یا ان پر بات نہیں کرتے تو جتنی مرضی تجارت ہو جائے، مسائل تو وہیں کے وہیں رہیں گے۔

  • کپتان صاب، قوم دیر نہیں کرتی،تحریر: نوید شیخ

    کپتان صاب، قوم دیر نہیں کرتی،تحریر: نوید شیخ

    مارچ کا مہینہ تو اہم ہے ہی مگر اصل دھما چوکڑی اس فروری کے مہینے سے شروع ہونی ہے ۔ کیونکہ اس مہینے سے ہی لانگ مارچوں ، دھرنوں اور احتجاجوں کا سیزن باقاعدہ شروع ہونے جارہا ہے ۔۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے لانگ مارچ بارے تو سب ہی جانتے ہیں ۔ مگر اس کھیل میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی بھی شامل ہیں ۔ ۔ ستائیس فروری کو جب پیپلزپارٹی اسلام آباد جانب مارچ کررہی ہوگی تو پی ٹی آئی گھوٹکی سے کراچی کی جانب مارچ کررہی ہو گی ۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے بھی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف 101 دھرنے پورے پاکستان میں کرنے ہیں ۔ جبکہ 101
    ان کا مارچ ہوگا ۔ اور سب سے آخر میں پی ڈی ایم کا 23 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔

    ۔ حکومت کی کارکردگی ایک طرف ۔ مگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بھی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ عوامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں یا پھر اگلے جنرل الیکشن کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ یہ واضح ہے کہ اگر ان کا مقصد واقعی ہی حکومت کو گھر بھیجنا ہوتا تو سب سے پہلے یہ تحریک عدم اعتماد لاتے۔ سپیکر اسمبلی کے خلاف پھر وزیر اعظم کے خلاف ۔ ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو بھی اپنی اکثریت سے ہٹاتے ۔

    ۔ چلیں مان لیں یہ نہ کرنے کا حوصلہ نہیں تھا یا واضح الفاظ میں اجازت نہ تھی ۔ تو کم ازکم احتجاج تو یہ تمام جماعتیں مل کر ۔ پی ڈی ایم یا کسی بھی ایک پلیٹ فارم سے کرسکتی تھیں ۔ یقین جانئے یہ مل کر احتجاج کریں تو حکومت ایک دن بھی ٹھہر نہ سکے ۔ مگر سب کی اپنی اپنی سیاست ہے ۔ اس لیے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عوام کن مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ۔ اس سے اپوزیشن کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ اپوزیشن اس وقت متحد نہیں اسی لیے شیخ رشید بھی چوڑے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بلاول 27 فروری کو آئیں، دیگر 23 مارچ کو آئیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ دھرنے سے کچھ ہوگا نہ لانگ مارچ سے کچھ ہوگا۔ فضل الرحمان کو سب سے زیادہ تحریک عدم اعتماد کا شوق ہے، اپوزیشن کے چودہ سے پندرہ ارکان اندر سے عمران خان کے ساتھ ہیں۔ بہرحال شیخ رشید نے یہ کنفرم کردیا ہے کہ عمران خان بھی روایتی سیاستدان ہیں اوریہ بھی اپنے فائدے کے لیے دیگر سے کم نہیں ۔۔ یوں حکومت اور اپوزیشن کا میچ ایک طرف مگر اس بات میں اب کوئی ابہام باقی نہیں بچا ہے کہ حکومت انتظامی، معاشی، سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے ۔

    ۔ کیونکہ تحریک انصاف کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی سے لگتا ہے کہ اس نے 20، 25 سالہ جدوجہد اقتدار میں آنے کے لئے نہیں بلکہ اس ملک کو تباہی سے دوچار کرنے کے لئے کی تھی ۔ یعنی کوئی ایک پالیسی بھی تو ایسی نہیں جس سے قوم کو فائدہ ہوا ہو۔ ابھی حال ہی میں ایک نیا سروے ہوا ہے ۔ جس میں 70 فیصد پاکستانیوں نے ملکی معاشی سمت پر پریشانی کا اظہار کیا ہے اور معاشی سمت کو غلط بھی کہا ہے ۔ جبکہ ملکی سیاسی سمت پر بھی 66فیصد پاکستانیوں نے اعتراض کیا اور اسے غلط قرار دیا۔ اس کے باوجود عمران خان اور ان کے وزیروں کی خواہش ہے کہ اگلے پانچ سال بھی ان کو ہی ملیں گے ۔ حالانکہ ان تین سالوں میں انھوں نے عوام کی اتنی خدمت کردی ہے کہ عوام نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا ہے اور توبہ کرلی ہے کہ آئندہ کبھی کسی تبدیلی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ۔

    ۔ کیونکہ آج کی ہی خبر ہے کہ پاکستان میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ pakistan bureau of statistics کے مطابق جنوری میں مہنگائی کی شرح 12.96 فیصد رہی ۔ دراصل تبدیلی لانے کے لئے، سچائی اور عوام سے مخلص ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہ حکومت تو ہے ہی یوٹرن ایکسپرٹ ۔ جھوٹ بولنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک یہ صرف عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں سیڑھی بنا کر دوبارہ اقتدار کی منزل تک پہنچ سکیں۔۔ آج کا نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید نظر آتا ہے۔ بے روز گاری اتنی ہے کہ اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حکومت جانتی تھی کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بے روز گاری ہے، اس لئے انتخابی مہم میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔ اب تو بے روز گاری اتنی ہے کہ دو کروڑ نوکریاں بھی کم پڑ جائیں۔ ناخواندہ سے لے کر خواندہ تک ہر نوجوان روز گار کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی کی سیاست کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ عوام کو دھوکے میں رکھو، انہیں دعووں کے سبز باغ دکھا کر وقت گزارو، حکومت میں ہو تو بڑھکیں مارو اور اپوزیشن میں ہو تو انہیں یہ باور کراؤ ہم اقتدار میں ہوتے تو تمہارے لئے آسمان سے تارے توڑ لاتے۔ حالانکہ وہی پرانے چہرے، وہی وعدے، وہی لوٹ مار، وہی عوام کے نام پر بندر بانٹ ان کا کھیل ہے ۔

    ۔ یوں نیا پاکستان بنانے کے دعویداروں نے عوام کو جتنا مایوس کیا ہے، اتنا پرانے پاکستان والوں نے بھی نہیں کیا تھا۔ مہنگائی کو تو رکھیں ایک طرف باقی کس شعبے میں کوئی نیا کام ہوا ہے۔ کرپشن پہلے سے بڑھ گئی ہے، پولیس کے مظالم بڑھ چکے ہیں۔ پیسے دے کر تقرریاں کروانے کی خبریں عام ہیں۔ ۔ سچ یہ ہے کہ پنجاب میں چھوٹے بڑے سرکاری افسروں کی ٹرانسفر پوسٹنگز لاکھوں روپے میں بیچنے کے قصے عام مشہور ہیں اور سب سے زیادہ نام صوبہ کے چیف ایگزیکٹو اور ان کے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے جاتے ہیں۔۔ پھر وفاق کے کچھ وزیروں کے بارے میں بھی عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں کہ کس طرح انہوں نے پچھلے تین سال میں بار بار اربوں کی دہاڑیاں لگائی ہیں۔ ۔ مزے کی بات ہے کہ عمران خان اور گوئیبلز اکیڈمی سے فارغ التحصیل وزیروں کو بھی ساڑھے تین سال تک پتہ نہیں چلا تھا کہ ملک سے کرپشن تو تین سال پہلے ختم ہو چکی تھی۔ ۔ کیونکہ عمران خان کو پتہ نہیں اب کہاں سے یاد آگیا ہے کہ انہوں نے ملک سے کرپشن اپنے اقتدار کے پہلے 90 دن میں ہی ختم کر دی تھی۔ سمجھ نہیں آتی کہ 22 کروڑ پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کی جائے یا اظہار افسوس کیا جائے۔۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اوروفاقی وزرا ء شرمندگی کی بجائے اب بھی مسلسل جھوٹ بولنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ اس وقت مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن نے عوام سے ان کے چہروں کی مسکراہٹ چھین لی ہے۔۔ میں نام کسی کا نہیں لینا چاہتا مگر سب جانتے ہیں اس وقت دو وزیر ایسے ہیں جو اگرچہ پیشہ ورانہ معاملات میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے لیکن دن رات جھوٹے اعدادو شمار پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کے چکروں میں ہیں۔۔ حالانکہ دو ہفتے قبل سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے میرے پروگرام کھرا سچ میں بیٹھ کر جو پاکستان کی معیشت کا نقشہ کھینچا تھا۔ وہ انتہائی پریشان کن اور قابلِ فکر تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان تو معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اب ہماری مرضی ہے ہم مانیں یا نہ مانیں۔

    ۔ پھر ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے تو جو کہا ہے وہ رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہونا چاہیے ۔ کہ پاکستان قرضوں کے ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے کہ اب اگر حالات کو درست نہ کیا گیا تو ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ ہمارے معاشی بحران کے تناظر میں ہم سے یہ تقاضہ کر دیا جائے کہ اپنا ایٹمی پروگرام ہمارے حوالے کر دو۔ جو بات قیصر بنگالی نے کی وہ بالکل ممکن ہے۔ کیونکہ یاد رکھیں اب اسٹیٹ بینک ہمارا نہیں رہا آئی ایم ایف کا ہوگیا ہے ۔ اسی سچ بولنے کی پاداش میں پی ٹی آئی والے اور ان کا سوشل میڈیا ڈاکٹر قیصر بنگالی کا دشمن بن گیا ہے ۔ ۔ میرے خیال سے عمران خان نے تین سال جتنا زور اپوزیشن اور مخالفین کو مجرم ثابت کرنے پر لگایا ہے اگر اس سے آدھا زور بھی معیشت بہتر کرنے پر لگاتے تو آج ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بے شک نہ بہہ رہی ہوتیں لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آج ملکی حالات اتنے بدتر نہیں ہوتے، جتنے ہو چکے ہیں۔ ۔ پورا سچ یہ ہے کہ عمران خان نے صرف اپوزیشن کو ہی دیوار سے لگانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی کچھ اچھا سلوک نہیں کیا، تحریک انصاف نے ہر اس سیاستدان کو جس سے اسے خطرہ ہو سکتا تھا۔ ہر طریقے سے دبانے کی کوشش کی۔ ۔ دراصل عمران خان نے اپنی حکومت کی کامیابی کے لئے پراپیگنڈا فارمولے پر عمل کیا اور اس تواتر سے روانی کے ساتھ جھوٹ پر جھوٹ بول بول کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری اور ان کے خاندان سمیت ملک کے ڈھائی تین سو خاندانوں نے ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اسے تباہ کر دیا، حکومت نے بڑے دعوے کئے کہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، ان خاندانوں کو نشان عبرت بنا دیں گے لیکن اس کے برعکس، دولت تو کیا واپس آنی تھی، الٹا انہیں مجرم ثابت کرنے کے چکر میں ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹایا گیا، ان کا بدترین میڈیا ٹرائل کیا گیا اور جب اندازہ ہو گیا کہ کچھ ثابت نہیں ہو سکے گا تو شہزاد اکبر صاحب سے استعفے لے لیا گیا۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کے اربوں روپے واپس لانے کے لئے شہزاد اکبر صاحب نے جو کھربوں روپے خرچ کئے اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ اس سب پر اب عمران خان دھمکیاں دیتے ہیں کہ مجھے نکالا گیا تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ یوں عمران خان ایک بار پھر بلیک میلنگ پر اترآئے ہیں ۔ ڈرامہ بازی ان کی چیک کریں کہ خود کچھ کرتے نہیں اور الزامات انہیں دیتے ہیں جن کے بل بوتے پر آج یہ اس مقام پر ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان نے صرف جھوٹ اور پراپیگنڈا پر اپنی حکومت کی بنیاد رکھی جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ عمران خان کو یہ جو خوش فہمی ہے کہ لوگ اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اس میں سے نکل آئیں۔ اقتدار سے الگ ہو کر جس دن عوام میں گئے ان کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنے خطرناک ہیں۔ کیونکہ انڈے ، ٹماٹر اور جوتیاں مارنے میں یہ قوم دیر نہیں کرتی

  • عمران خان کا دورہ چین اور چہ میگوئیاں، تحریر:نوید شیخ

    عمران خان کا دورہ چین اور چہ میگوئیاں، تحریر:نوید شیخ

    آجکل عمران خان کے دورہ چین کا بہت شور مچا ہوا ہے ۔ وزیر مشیر بھانت بھانت کی چیزیں نکال کے لارہے ہیں کہ کپتان جب چین کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو پتہ نہیں کیا ۔۔۔ انی ۔۔۔ مچا دینی ہے ۔ ۔ حالانکہ سچ اور حقیقت یہ ہے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے سی پیک کو دفن کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ اس لیے اس دورہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ۔ کیا عمران خان چین کا ناکام دورہ کرنے جا رہے ہیں ؟؟؟۔ کیونکہ اس وقت جو اطلاعات اور خبریں وزارت خارجہ سے باہر نکل رہی ہیں ان کے مطابق بڑے مشکل حالات میں یہ دورہ ہونے جارہا ہے ۔ چینی قیادت بھی پاکستانی عوام کی طرح کپتان سے ناراض دیکھائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ایک ملک کا سربراہ عمران خان کا فون نہیں اٹھاتا تھا تو دوسرا فون نہیں کرتا تھا ۔ اور اب شاید تیسرا کے بارے کہا جائے کہ وہ اپنے گھر بلا کر ملتا بھی نہیں ۔ ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ میری دعا ہے اور خواہش بھی ہے کہ یہ ملاقات ہوجائے ۔ کیونکہ عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔

    ۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یاد کروادوں کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے بڑی کھل کر میڈیا پر بھی بات ہوتی رہی ہے اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں سمیت دیگر چینی ۔۔۔ پاکستانیوں سے برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں ۔ ایک دو ایسی ملاقاتوں کا تو میں خود بھی راوی ہوں ۔ ۔ اسٹوری کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ پر ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی ملاقات صرف چینی وزیر اعظم سے کروائی جائیگی ۔ صدر شی جن پنگ نہیں ملیں گے ۔ یہاں تک کہ سائیڈ لائن پر بھی ان دونوں کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ۔ دراصل عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں چینیوں نے عمران خان کو جواب طلبی کے لیے بلایا ہے ۔ کہ بھائی جان ان تین سالوں میں سی پیک پر آپ نے کیا progressکی ہے ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کپتان نے ۔۔۔ سی پیک ۔۔۔۔۔۔ سی پیک ۔۔۔کی گردان شروع کی ہوئی ہے ۔ ۔ جیسے چند روز پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں۔

    ۔ تو پہلے تین سال تک یہ سب کچھ بھولے ہوئے اب دو تین روز پہلے عمران خان کہہ رہے تھے کہ سی پیک پاکستان اور چین کا بہترین مشترکہ منصوبہ ہے ۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ۔ آجکل ان کو یہ سب کچھ بہت یاد آرہا ہے ۔ حالانکہ اس دور حکومت میں سی پیک کو عملی طور پر رول بیک کرنے پوری پوری کوشش ہوئی ۔ ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب امریکہ نے ہم سے تمام کام کروا لیے ہیں ۔ افغانستان سے وہ بخیر و عافیت نکل چکا ہے اور ہماری ان کو ضرورت نہیں رہی ہے تو انھوں نے تو ہم کو مکمل طور پر جواب دیا ہوا ہے ۔ حالانکہ ہم نے بڑی کوشش کی ۔ کہ جوبائیڈن کم ازکم ہمارے وزیراعظم کو فون ہی کرلے ۔ مگر ہم کو ہمیشہ ٹکا سا ہی جواب ملا ہے ۔ اب کیونکہ ہم کو امریکہ بھی لفٹ نہیں کروا رہا ہے ۔ بھارت کے ساتھ بھی تجارت نہیں شروع ہوپارہی ہے ۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی معاملات کچھ بہتر نہیں۔ بردار اسلامی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات آپ کے سامنے ہیں ۔ تو لے دے کر صرف چین ہی بچتا ہے ۔اسی لیے کپتان اب بچھے بچھے جا رہے ہیں۔

    ۔ مجھ سے یہ ڈپلومیٹ الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان اب چین معافی مانگنے جارہے ہیں ۔ اور یہ اتنی آسانی سے نہیں ملنی ۔ اب کی بار بیجنگ سے بھی ہم کو ایک لمبی لسٹ ملنی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ ہاتھاں نال لائیں گنڈاں داندان نال کھولنیاں پیندی نے ۔۔۔ عمران خان کے دورے کا دوسرا مقصد پاکستان کی طرف سے اسلام آباد اور بیجنگ کے دوستانہ روابط کا تاثر دینا ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ گیا جو ہمارا ساتھ دیتا ہو ۔ چاہے ہمارے بردار اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں ۔ واحد چین ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ عمران خان نے داسو واقعہ کے بعد اس سرمائی اولمپکس کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ چین کے ساتھ کھڑا ہوا جائے کیونکہ بہت سے ممالک نے ان اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔ جبکہ اس اولمپکس میں اب وزیراعظم پاکستان شرکت کریں گے تو دنیا کے ساتھ ساتھ چین کے اندر بھی پاکستان کی جانب سے ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ پر اس سب کے ساتھ عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر غور ہوگا ۔

    ۔ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات ہوئی ۔ اور لگتا ہے یقیناً اس ملاقات میں بھی چین کی جانب سے سی پیک اور اس کے ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق سوالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہوگی ۔ ۔ عمران خان فوجی قیادت سے علیحدہ ملاقات کے علاوہ وفاقی وزرا اور سی پیک کے متعلقہ حکام سے بھی ملے تھے جنھوں نے وزیر اعظم کو چین کے دورے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ یعنی ادارے ہوں یا دیگر سب ہی عمران خان کو اس حوالے سے بریف کررہے ہیں کیونکہ یہ دورہ بڑا حساس ہے ۔ ایک غلطی پاکستان کو اس کے دیرینہ دوست سے دور کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس دورے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد کسی طرح بحال ہو جائے۔ ۔ پھر عمران خان کی بیجنگ میں موجودگی کے دوران روسی صدر ولاد میر پیوتن سے بھی ملاقات ممکن ہے۔ یوکرائن کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ حالیہ تناؤکے سبب روس خطے میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے گا اور اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان کی وجہ سے بھی پاکستان کی اہمیت بنتی ہے اور چین اور روس کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں، جن وہ ضرور تحفظ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    ۔ یوں اگر عمران خان چینی قیادت اور روسی صدر سے ملاقاتوں کے پاکستان کا کیس صحیح طرح اٹھا لیں تو پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پر اگر وہاں جا کر بھی انھوں نے اپنی ملکی سیاست ، اپنا مغرب اور تاریخ بارے علم بتانا شروع کردیا اور وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے پوائنٹس اور معاملات تک نہ رہے تومعذرت کے ساتھ کامیابی کے امکانات کم ہیں ۔ ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دورہ کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پاکستان چین سے 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ۔ یاد رہے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔۔ وزیراعظم ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت کی درخواست کرینگے۔ کل کے روز انکے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس ہوگا۔ میرے خیال سے وزیر اعظم جو تجاویز پیش کی جائیں اور جو باتیں بریف کی جائیں اس پر ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کر دوں کہ یہ جو سینیٹر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان ، سابق صدر و جنرل پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کے بیرون ممالک دوروں پر آنے والے اخراجات کا موازنہ پیش کر دیا ہے ۔ اس موقع پر یہ اس دورے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے یہ آپکو domestic politicsکے لیے تو شاید فائدہ مند ہو ۔ پاکستان کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ۔ اگر انھوں نے موازنہ پیش کرنا ہی ہے تو زرداری ، مشرف ، نواز شریف اور عمران خان کے دوروں کا یہ موازنہ پیش کریں کہ کس نے کیا کیا کامیابی حاصل کی ۔ سچ پوچھیں تو اس میں یقیناً عمران خان کا نام سب سے آخر میں ہی آئے گا ۔۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آیا ہے ڈکیٹیر ہو یا جمہوری ۔۔۔ اس نے بڑی اچھی طریقے سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال رکھے ہیں یہ پہلا دور ہے جس میں ہمارے ملک مسائل تو بڑھے ہی ہیں ساتھ ہی خارجہ محاذ پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں ٹھیک نہیں رہے ۔

  • ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    صوبہ pkp میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی گلی محلوں اور بازاروں کیساتھ ڈراٸنگ رومز کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوگٸی ہیں۔ایک طرف پارٹی ٹکٹ کے امیدوار مخصوص آستانوں کا طواف جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر اپنی پھرتیاں جاری رکھے ہوۓ ہے۔ملک کی معروف پارٹی کا نعرہ ہے "ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔آنیوالے بلدیاتی الیکشن کے دوران پارٹی کا نعرہ متاثر ہوتا دکھاٸی دے رہا ہے۔اب ہر گھر سے بھٹو کی بجاۓ امیدوار نکلے گا تم کس کس امیدوار کو روکو گۓ؟

    ایک زمانے میں پنجابی کا گیت بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول کچھ اسطرح کے تھے "کنے کنے جانڑیں بلو دے گھر۔لینڑ بڑاٶ ٹکٹ کٹاٶ”۔ٹکٹ کی اہمیت کا اندازہ اس گانے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔بلو کے گھر تک جانے کیلیے اگر ٹکٹ کی شرط پوری کرنا ضروری ہے تو پھر سیاست میں ٹکٹ کی اہمیت کو کیونکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ٹکٹ چاہے بمبینو سینما گھر کا ہو یا خیبر میل کا۔ ہواٸی جہاز کا ٹکٹ ہو یا میٹرو بس کا۔۔ٹکٹ کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی۔خط وکتابت کیلیے بھی ٹکٹ کا ہونا لازم ہے ۔ ٹکٹ جس رنگ اور شکل میں بھی ہو اپنی پہچان خود رکھتا ہے لیکن سیاسی ٹکٹ کی الگ ہی حیثیت ہے۔ کٸی امیدواروں کی تو ٹکٹوں نے نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور جب تک پارٹی کا ثکٹ تعویذ بنا کر انکے گلے میں نہیں لٹکایا جاتا اسوقت تک انکی بے چینی دور نہیں ہوسکتی۔اس سے پہلے ٹکٹوں کی تقسیم اتنی مشکل نہیں ہوا کرتی تھی لیکن جس طرح زمانے کے طور طریقے بدلے ہیں اسی طرح سیاست کے اندازورواج بھی بدل گۓ ہیں۔

    پہلے مرحلے کے انتخابات میں پی ٹی آٸی کے ٹکٹ ہولڈروں کو منہ کی کھانی پڑی جس میں دیگر پارٹیوں کے ٹکٹ ہولڈر بھی شامل تھے۔ریل گاڑی کا ٹکٹ منزل مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن بے وفا دوست کی طرح پارٹی ٹکٹ کا کوٸی بھروسہ نہیں ہوتا ۔بہت سے سیاسی شہزادوں کے گلے میں پارٹی ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں عبرتناک شکست سے دوچار ہوتے اور پچھتاوے کے آنسو روتے دیکھا گیا ہے لیکن پھر بھی پارٹی ٹکٹ کے متوالوں کا جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔مسلم لیگ ن۔جمیعت علما اسلام اور پی ٹی آٸی کے ٹکٹ کیلیے مارے مارے پھرنے والے امیدواروں کے حوصلوں کو سلام پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔سیاسی عاملوں کے آستانوں پر حاضری در حاضری کے باوجود دلی مرادیں پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

    پی ٹی آٸی نے تو پہلے مرحلے کے الیکشن میں عبرتناک شکست کی چوٹ کھانے کے بعد اگلے مرحلے کیلیے نیا لاٸحہ عمل مرتب کیا ہے جس کے تحت پارٹی رہنماوں کے قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے کی بجائے پیدل سفر کا پروانہ جاری کیا گیا ہے جسکے نتیجے میں کچھ امیدوار اعصابی دباٶ کا شکار ہوچکے ہیں اور انہوں نے شیروانیوں کے آرڈر بھی منسوخ کردٸیے ہیں۔مسلم لیگ اور جمیعت کے درمیان اتحاد کی صورت میں ٹکٹ کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ایسی صورت میں پی ٹی آٸی کو پہلے مرحلے کے انتخابات سے بھی ذیادہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ابھی ٹکٹوں کی بولی کا مرحلہ بھی باقی ہے۔اس سلسلے میں بولی دہندگان اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر بھی لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہے۔ٹکٹ کے جھمیلوں سے بے نیاز آذاد امیدواروں کی پھرتیاں الیکشن کی رُت کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کرینگی اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ بعض آذاد امیدوار بھی بازی پلٹ سکتے ہیں۔ایسی صورت میں ٹکٹ ہولڈر لگنے والے زخم کے اوپر ٹکٹ کی پٹی باندھ کر طویل عرصے تک اسے چاٹتے رہینگے