Baaghi TV

Category: سیاست

  • کیونکہ  میں جھوٹ نہیں بولتا !!! تحریر: نوید شیخ

    کیونکہ میں جھوٹ نہیں بولتا !!! تحریر: نوید شیخ

    اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں پی ٹی آئی نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکا ہے ۔ اس وقت ایک بے یقیقنی کی کیفیت ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا ۔ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی ، کب ٹھیک ہوگی ۔ پھر سٹریٹ کرائم سمیت دہشت گردی نے بھی ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر میں دھماکہ ہوجاتا ہے تو اب دن دیہاڑے صحافی پریس کلب کے باہر قتل بھی ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ حالات خود بخود نہیں ہوئے اس کی قصور وار حکومت ہے ۔ کیونکہ پنجاب پولیس سمیت ہرسرکاری محکمے کو اس حکومت نے صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا ادارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ دراصل عمران خان نے اس ملک کو ایک ایسے اندھے کنویں دھکیل دیا ہے ۔ کہ اب شاید کسی کے پاس کوئی حل نہیں رہ گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری کی پوری حکومت اور پارٹی کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں ۔ تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت پوری پی ٹی آئی میں عمران خان سے لے کر نیچے تک ہرکوئی یہ منجن پیچنے کی کوششوں میں ہے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے ۔ حالانکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ قصور وار کون ہے ۔ اب جب پکڑ پکڑ کر لائے گئے کبوتروں کا پھر سے اڑ جانے کا وقت ہوچکا ہے تو ان کے بیانات دیکھ لیں ۔ بلکہ ان کی حرکتیں دیکھ لیں ۔ کیا کسی statesmanکو ملک کے وزیر اعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں ۔ جو عمران خان تقریریں فرما رہے ہیں ۔ ۔ پھرعوام کو فضول کی بحثوں میں مشغول رکھنے کی بھونڈی واردات ڈالی جاتی ہے ۔ کہ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے حالانکہ مسئلہ نظام میں نہیں ۔ ۔ مسئلہ پی ٹی آئی میں ہے ۔ ۔ مسئلہ امپورٹ کیے ہوئے مشیروں میں ہے ۔ ۔ مسئلہ اے ٹی ایم وزیروں میں ہے ۔۔ مسئلہ کرائے کے ترجمانوں میں ہے ۔ اور سب سے بڑا مسئلہ عمران خان میں ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ مسئلہ کپتان کی انا ہے ۔ کہ پنجاب میں وسیم اکرم پلس اور کے پی کے میں محمود خان سے بہتر کوئی ہے ہی نہیں ۔ چاہے عوام ان کی بیڈگورننس کے سبب ایڑھیاں رگڑ رگڑ مر جائے ۔

    ۔ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نہ شفاف ہے نہ ہی صاف ہے ۔ جتنی نااہلی اور کرپشن اس دور میں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔ یہ تو جس دن جائیں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ۔۔۔ ۔ اور کس کس کی پی ٹی آئی کی بدولت محرومیاں ایسی دور ہوئی ہیں کہ وہ ارب پتی کیا کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ ۔ میرے کپتان ریاست مدینہ یا اخلاقیات کا جتنا مرضی ورد کرلیں مگر سچ یہ ہے کہ میرٹ کو نہیں مانتے۔ یہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ پر جتنی مرضی تنقید کریں کہ یہ Friends & Family
    کو ہی نوازتے ہیں تو یہ ہی چیز عمران خان پر بھی ٹھیک بیٹھتی ہے کہ ان کے اردگرد بھی ان کے دوست اور صرف خوشامدی ہی ہیں ۔ یوں میرٹ کا جو قتل اس دور میں ہوا اسکی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ ۔ پھر جتنی بھی آج تک آئین اور قانون کی انھوں نے باتیں کی ہیں کسی ایک پر بھی عمل نہیں ۔ کیونکہ حکمران بن کر کپتان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین چھوڑ دیا ہے ۔ یہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا ہوں ۔ جس طریقے سے قوانین انھوں نے پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں جس طرح انھوں نے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا ہے ۔ کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا ہے ۔ جیسے کپتان کے دور میں نیب ہو ، اپنے وزیروں پر کرپشن کیسسز ہوں ، فیصل واڈا والا معاملہ ہی دیکھ لیں یا پھر فارن فنڈنگ کیس ہی ہو ۔ تو کس منہ سے پی ٹی آئی دعوی کر سکتی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔

    ۔ پارلیمنٹ کو تو ربڑ اسٹیپ کیا ہی یہاں تک کہ کابینہ کو بھی انھوں نے کچن کیبنٹ بننے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اقرباء پروری اور سفارش کلچر جو اس دور میں پروان چڑھا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ ۔ آپ دیکھیں اس قوم کے ساتھ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن تک دھرنے دیے اسلام آباد میں بیٹھی رہی ۔ جب اس کو حکومت ملی تو ننگے ہوکر اس نے دھاندلی خود کی ۔ کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن ہوں یا پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کس سے کیا چھپا ہوا ہے کس کو نہیں معلوم کہ اس دور میں کون ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے ۔ ۔ پھر بیوروکریسی اچھی ہے یا بری ہے ۔ مگر جس طرح پی ٹی آئی نے ان کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ عملی طور پر پی ٹی آئی نے سرکاری افسروں کو اپنا ذاتی غلام بنانے کی کوشش کی ۔ ان کو اپنی سیاست چمکانے سمیت مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ۔

    ۔ اسی لیے پولیس ہو ، نیب ہو، ایف آئی ہو یا ایف بی آر، کسی بھی ادارے کا نام لےلیں سب کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ہی پی ٹی آئی کی سیاست اور حکمرانی کا اہم جزورہا ہے ۔ ۔ آزادی اظہار کا جتنا گلا اس دور میں گھوٹا گیا کیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔ بلکہ بہت سوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ کپتان نے ضیاالحق دور کی یادیں تازہ کروادیں ۔ صرف صحافی ہی نہیں کون کون کب کب کہاں کہاں سے اٹھایا گیا ہے اگر کوئی اس لسٹ کو compile
    کرلے تو اس حکومت کے خلاف ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بن جائے ۔ پھر جو پاکستان کی فارن پالیسی کا مذاق اس دور میں بنا ہے اس سے پہلے نہیں بنا ۔ حکومت کی تمام توجہ یہ ہی رہی کہ عمران خان نے تقریر کتنی اچھی کی ۔ ہاتھ کیسا ملایا ۔ کپڑے کیسے پہنے ۔ اسٹائل کیا مارا ۔ مگر عمران خان کی تقریروں سے جو نقصان ہوا وہ نہیں بتایا گیا ۔ کیونکہ معاملہ فہمی تو ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ سچ یہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر پر اب ہماری آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ۔ پھر افغان مسئلے کے بعد مغرب سمیت ہمارے بہت سے دوست برادر اسلامی ممالک بھی اب ہم سے کنی کتراتے ہیں ۔ واحد چین ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے ویسے اس کو بھی پاکستان سے متنفر کرنے کی عمران خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیونکہ جس طرح اس دور میں سی پیک کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی ۔ ایسا نہ زرداری دور میں ہوا نہ ہی نواز شریف دور میں ہوا ۔

    ۔ اب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں تو عمران خان برا مناتے ہیں۔ ان کی پارٹی ، انکے وزیر ہم کو صحافت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ بہترین طرز حکمرانی کے متعلق ماضی میں عمران خان کیا کیا باتیں کیاکرتے تھے،
    کیا کیا وعدے اُنہوں نے نہیں کیے، اصلاحات اصلاحات کے نعرے لگائے، الیکشن منشور میں وعدے بھی کیے لیکن عمل زیرو ہوا ۔ بلکہ الٹا ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ یہاں تک کہ بڑے شہر بدبو اور کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ایک کرکے ان کی ہر چیز ایکسپوز ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ جناب وزیراعظم کا تھا۔ جناب اسد عمر کے مطابق جن رپورٹس کی بنیاد پہ قائد مسلم لیگ ن کی جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں وہ جھوٹی نکلی اور بھی انھوں نے بہت کچھ کہا اور جو بھی کہا وہ بہت بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی نمایاں خبر بنی۔

    ۔ پھر اب جو نواز شریف کو وطن واپس لانے کے روز ٹی وی پر دعوے کیے جاتے ہیں یہ بھی سب جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ ان کے اپنے سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا تھا کہ کس طرح امریکہ، برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی کے لیے بے بس ہوا بیٹھاہے۔ ۔ تو آجکل یہ جو اٹارنی جنرل خط لکھ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کو کیسوں میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جو دوبارہ سے خصوصی میڈیکل بورڈ بن رہے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ اسے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ۔ مجھے عمران خان کی ایک بات یاد ہے جو انھوں نے دھرنے کے دنوں میں کہی تھی کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ میرے پاکستانیوں !! میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان صرف جھوٹ بول رہے تھے ۔

  • جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    اکثر پاکستانی سیاست میں بھونچال اس لیے بھی برپا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جا سکے جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ ۔ سوال یہ ہے کہ آج کل صبح و شام وفاقی وزراء نوازشریف کا ورد کیوں کر رہے ہیں۔۔ کبھی انہیں واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔ کبھی ان کی میڈیکل رپورٹ منگوائی جاتی ہے۔ ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے ان کے خلاف پارٹی میں بغاوت ہو گئی ہے۔۔ کبھی حمزہ اور مریم کی لڑائی کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ۔ کبھی شہباز شریف کو ان کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی ڈیل کی کوششوں کا تذکرہ کر کے مظلوم بننے کی کہانی گھڑی جاتی ہے۔۔ پھر کبھی زرداری تو کبھی بلاول کی طرف توپوں کا رخ کردیا جاتا ہے ۔ ۔ اور اب حکومت نے ایک نیا ایشو پکڑا لیا جس کا نام ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔۔۔
    ۔ یہ سب باتیں عوام کو سیاسی کھیل تماشوں میں الجھانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے، تاکہ مہنگائی نے ان کا جو برا حال کر رکھا ہے اس سے ان کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو جنوبی معاملے پر بھی تیلی ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے لگائی ۔ مگر اب اپوزیشن حکومت کو اس معاملے سے بھاگنے نہیں دے رہی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کو اس ایشو پر گھیر لیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ جو بیانات چیزیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ جانب سے آئی ہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کی نیت ہو تو پھر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے اسکو کوئی نہ روک سکتا ۔ مگر یاد رکھیے گا یہ نہیں بنائیں گے یہ بس اس معاملے پر بھی سیاست ہی کھیلیں گے ۔

    ۔ یہاں یاد کروادوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل تھا ۔ یہ کارڈ استعمال کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے electablesکو گزشتہ جنرل الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا ۔ کیونکہ عمران خان دعوی تھا کہ نوے دن میں صوبہ بنوا کر دیکھاوں گا ۔ ۔ مگر عملی طور پر پی ٹی آئی نے باقی چیزوں کی طرح اس پر بھی کچھ نہ کیا بس جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنا کر ایک نیا ڈرامہ رچا دیا گیا۔ جس کا مقصد صوبے کے قیام کو پس پشت ڈالنا دیکھائی دیتا ہے۔ وجوہات آگے چل کر تفصیل سے بتاتا ہوں ۔ پر اب جو ایک بار پھر جنرل الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ کا شور مچایا جا رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیاست کرنے کے لئے اب علیحدہ صوبے کی بات کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے جو سیاسی جماعت اس مطالبے کی حمایت نہیں کرے گی وہ کم از کم جنوبی پنجاب سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ۔ سینیٹ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بجا طور پر اس بات کا کریڈٹ لیا ہے کہ ان کی حکومت میں پنجاب اسمبلی سے بھی علیحدہ صوبے کی قرارداد منظور ہوئی، جو ایک آئینی تقاضا تھی اور قومی اسمبلی نیز سینٹ میں بھی یہ قرارداد پیش کی گئی۔ اگر ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو پیپلزپارٹی علیحدہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی۔ اس لیے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور سو دن کے اندر اس ضمن میں عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر حکومت میں آکر وہ سب کچھ بھول گئے۔۔ اس بس کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کھلا دل کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اب بھی اگر عمران خان اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیں تو اپوزیشن ان کا ساتھ دے گی۔

    ۔ پھر اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب نے کیا ہے، اسے پورا کیا جائے۔ رانا محمود الحسن کے بقول جتنا پانی اسلام آباد کے پھولوں کو ملتا ہے، اگر اتنا پانی جنوبی پنجاب کو مل جائے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان صوبہ بن سکتا ہے تو سرائیکستان کیوں نہیں بن سکتا۔ یہ ہمارا حق ہے۔ سینیٹ کے قائد حزبِ اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے اس بل کو ایک اہم ایشو قرار دیا ۔ ۔ اس بل پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی سینیٹ میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل ہماری خواہشات کے عین مطابق ہے۔ ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ صوبے کی تشکیل کے لیے ہمیں دوتہائی اکثریت چاہیے ، اس بل پر مل کر آگے بڑھیں اور اپوزیشن اس پر ہمارا ساتھ دے کیونکہ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب اسمبلی سے بھی رائے لینا ہو گی، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سیکرٹریٹ نہیں مانگ رہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت ہم خود بنائیں گے۔ ۔ شاہ محمود قریشی ہر بار ملتان آکر یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ سکریٹریٹ دیا ہے اور علیحدہ صوبہ بھی وہی بنائے گی۔ پر مجھے نہیں لگتا کہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کو یہ کہنے کی جرأت نہیں کریں گے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی تھی۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب کی حد تک تحریک انصاف کا جیتنا نا ممکن ہو جائے گا۔ ابھی تو پی ٹی آئی صرف اسی بات پر خوش ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ سیکرٹریٹ مل گیا ہے اور افسروں کی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینٹ میں خطاب کے ذریعے یوسف رضا گیلانی نے اپنے علاقے کی اس بار بھرپور نمائندگی کی ہے اس سے سرائیکی علاقے کی قوم پرست جماعتیں بھی ان کی پشت پر آکھڑی ہوئی ہیں کیونکہ وہ بھی علیحدہ سکریٹریٹ کے فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں اور خود مختار صوبہ چاہتی ہیں۔۔ کیونکہ اس بار بھی خدشہ یہ ہی ہے کہ پی ٹی آئی علیحدہ صوبے کے مطالبے کو صرف ایک سیاسی نعرہ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکمتِ عملی غالباً یہ ہے انتخابی مہم میں اس وعدے کے ساتھ جایا جائے کہ علیحدہ سکریٹریٹ بھی ہم نے بنایا اور اب علیحدہ صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ صوبے کی بجائے سکریٹریٹ بنا کر تحریک انصاف نے خود مختار صوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامی نوعیت کا تھا، جسے خود مختار سکریٹریٹ بنا کر حل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں بلکہ ثقافتی، سیاسی اور تاریخی نوعیت کا ہے۔ یوں جب تک علیحدہ صوبہ نہیں بنتا، دکھاوے کے اقدامات سے بات نہیں بنے گی۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ اسمبلی، علیحدہ بجٹ، علیحدہ ہائیکورٹ اور سینٹ میں علیحدہ نمائندگی ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ سب کچھ علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے سے نہیں مل سکتا۔۔ کیونکہ جب صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک، اسمبلی ایک، چیف سکریٹری اور آئی جی ایک، نیز ہائیکورٹ بھی ایک ہے تو جنوبی پنجاب کے چھ کروڑ سے زائد عوام کو نمائندگی کا حق کیسے مل سکتا ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت نے صوبہ جنوبی پنجاب پر آج تک سنجیدہ سیاست نہیں کی اور نہ ہی اس معاملہ میں کبھی آئینی تقاضے کے تحت عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ محض جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا رونا رو کر ہر جماعت ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کرتی رہی ہے جبکہ اس سیاست نے سندھ اور سرحد میں بھی نئے صوبے کی سیاست کو ہوا دی ہے ۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کو صوبہ جناح پور بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی جس کی پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت ہوئی اور سندھی قوم پرستوں نے اعلان کر دیا کہ سندھ میں سے نیا صوبہ ہماری لاشوں کو اٹھا کر ہی نکالا جا سکتا۔ علاقائی بنیادوں پر ہونے والی اسی سیاست نے صوبہ سرحد میں بھی سیاسی طوفان اٹھایا جہاں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی اور اسے اے این پی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ۔ بدقسمتی سے اس وقت ہماری سیاست تعمیری سے زیادہ مفاداتی سیاست بن گئی ہے۔ ۔ ہمارا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب یا کسی دوسرے صوبے پر سیاست کرنے والوں کو جب آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وہ نئے صوبے کا نام لینا بھی بھول جاتے ہیں مگر اس ایشو پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ۔ پھر اگر پی ٹی آئی اور عمران خان جنوبی پنجاب کے لیے مخلص ہوتے تو یہ کارنامہ بھی بالکل ویسے ہی سرانجام دے دیا جاتا جیسے منی بجٹ اور دیگر معاملوں میں حکومت نے اپنی استادی دیکھائی ہے ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی نے جو جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکرٹریٹ تشکیل دے کر حل نکالا ہے یہ محض سیاسی سٹنٹ ہی ثابت ہوا ہے کیونکہ نیا سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں قطعاً معاون نہیں بن سکا۔

  • سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو،تحریر:نوید شیخ

    سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو،تحریر:نوید شیخ

    اس سرد موسم میں بیانیے کی جنگ میں گرمی آتی جار ہی ہے ۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سب ہی اپنے اپنے حساب سے دعوے کررہے ہیں۔ کہ عنقریب یوں ہوجائے وہ جائے گا کہ جس کا کسی کو بھی کوئی گمان نہ ہوگا ۔

    ۔ دیکھا جائے تو پہلی تیلی چند منظور نظر وزیروں اور مشیروں نے خود لگائی ہے جس کے بعد اب اپوزیشن جماعتیں اپنی چالیں چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ اور انھوں نے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے ہیں ۔یوں اب شہباز گل جیسے مشیروں کے پاس ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ قوم کو بتا رہے ہیں جلد ایک اور آڈیو یا ویڈیو لیک ہونے والی ہے ۔ یہ ہے ان کی کارکردگی ۔۔۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے وزیروں اور مشیروں کی کہی ہوئی باتیں ان کے ہی منہ پر مارنا شروع کردی ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔
    ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ جو حکومت کی جانب متواتر باتیں کی جارہی ہیں کہ اب بھی ہم پر ہاتھ ہے ۔ اب بھی ہم ہی منظور نظر ہیں ۔ اسکی خاص وجہ ہے ۔ دراصل تحریک انصاف اپنے اتحادیوں سمیت اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پیغام دے رہی ہے ۔ کہ اب بھی ہمارے حالات اچھے ہیں ۔ اب بھی صحفہ ایک ہی ہے ۔ اس سے ان کا خیال یہ ہے کہ جو جانے والے ہیں وہ روک جائیں گے ۔ مگر میں آپکو بتاوں یہ جانے والے بڑے تیز ہوتے ہیں ۔ یہ دہائیوں سے یہ ہی کام کرتے آرہے ہیں ۔ ان کو وقت سے پہلے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ نیا کیا ہونے والا ہے کون آنے والا ہے اور یہ ایسی ایسی بازی کھیل جاتے ہیں کہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں ہوتا ۔۔۔

    ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جہاں سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاہے کہ بہت جلد کچھ ہونے والا ہےاور عمران خان کے پیروں کے نیچے سے زمین ایسے کھسکے گی کہ انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دعوی ہے کہ وہ بائیس افراد کو جانتے ہیں جو اب حکومت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور دیکھناحکومت ایک دن بھی بیساکھیوں کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بائیس لوگ ہٹ جائیں تو حکومت اکثریت کھو دے گی پھر شاید عدم اعتماد کی ضرورت نہ پڑے۔ اچھا انھوں نے یہ کوئی ایسی بات نہیں کی ہے کہ جو صرف بیان ہو ۔ حالیہ پی ٹی آئی کی اہم اتحادی ق لیگ کے بیانات سے لے کر تحریک انصاف کے اپنے ناراض لوگوں کے بیانات اٹھا کر دیکھنا شروع کردیں ۔ تو عمران خان کے لیے کافی خوفناک تصویر واضح دیکھائی دینا شروع ہوجاتی ہے ۔ آپ دیکھیں کپتان سے نور عالم خان تک تو برداشت نہیں ہوئے ۔ پی ٹی آئی نے مہنگائی، گیس اور بجلی کے حوالے سے اپنی ہی جماعت پر تنقید کرنے والے نور عالم خان کو شوکاز نوٹس کے علاوہ اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے ہٹانےکی درخواست کر دی ہے ۔عامر ڈوگر کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کو لکھے گئے خط میں نور عالم خان کی جگہ حیدرعلی خان کوپی اے سی کا رکن بنانے کا کہا گیا ہے۔۔ ویسے اگر عمران خان دور اندیش ہوتے تو اپنی پارٹی کی سمجھ دار آوازوں پر کریڈیٹ بھی لے سکتے تھے کہ پارٹی میں ہر طرح کی بات ہوتی ہے اور سنی جاتی ہے ۔ مگر انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کو بھی صرف خوشامدی پسند ہیں ۔ وہ آمرانہ سوچ کے حامل ہیں ۔ جو ان کو آئینہ دیکھائے وہ برداشت نہیں ۔ تو خود حساب لگا لیں کہ پی ٹی آئی کی کیا اوقات ہے کتنا حوصلہ ہے ۔ بس ایک تقریر کی مار ہے ان کا انصاف ۔۔۔ ویسے یہ جمہوریت کے چیمپئین بنتے تھکتے نہیں ہیں ۔

    ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ کیوں پی ٹی آئی میں مشیر اور وزیر شہباز گل ، فواد چوہدری ، فیاض الحسن چوہان جیسے لوگ ہی بنتے ہیں ۔ وجہ صاف ہے کہ کپتان سے تنقید برداشت نہیں ۔ مثالیں ریاست مدینہ کی دیتے ہیں پر اگر کوئی کپتان پر انگلی اٹھائے تو ان سے برداشت نہیں ہوتا۔ اس لیے اب تحریک انصاف میں صرف مالشیے اور پالشیے ہی رہ گئے ہیں ۔ ۔ یاد ہو تو عمران خان یہ دعویٰ کرکےآئےتھےکہ وہ مفادات کےٹکراو کےخلاف ہونگے۔ مگر عمران خان کی پوری کابینہ اُن لوگوں سےبھری پڑی ہےجن کے اپنے کاروبار اور مفادات ہیں۔ یہی اراکین کابینہ میں بیٹھتے ہیں ،اقتصادی رابطہ کمیٹی میں بیٹھتے ہیں اور یہی بینیفشری ہیں۔۔ اسی حوالے سے نور عالم خان کا کہنا تھا کہ وہ پی اے سی میں سرکاری افسران، کارٹلز مافیا کی بدعنوانیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ یہ وہی مافیا ہے جس کے وفادار پہلی تین قطاروں میں موجود ہیں۔ اس لیے ان کو سزا دی جا رہی ہے ۔ ۔ اچھا ان پہلی تین قطاروں میں بیٹھے وہ لوگ ہوتے ہیں جو پی ٹی آئی میں deputationپر آئے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو کسی صورت پارٹی کے وفادار نہیں ۔ یہ بڑے تجربہ کار لوگ ہیں انھوں نے ہر گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے ۔ یہ جس بھی پارٹی کی حکومت ہو ۔ اس میں کسی نہ کسی طرح وزیر لگ جاتے ہیں ۔ اور جیسے ہی دوسری حکومت آتی ہے تو یہ پہلے والی کو ایسے چھوڑتے ہیں کہ ہر کوئی حیران وپریشان ہوجاتا ہے ۔ یہ دہائیوں سے ہر تبدیلی کے ساتھ کھڑے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ یہ جو وزراء دعوے کر رہے ہیں اگلے پانچ برس بھی ان کی ہی حکومت ہوگی تو کچھ بعید نہیں کہ یہ اگلی حکومت کو بھی حصہ ہوں چاہے جماعت جو بھی ہو ۔ ن ہی لوگوں کی وجہ سے تبدیلی تو کبھی عوام کو میسر نہیں آئی البتہ ان تمام لوگوں کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور ان کے سر پر عمران خان یہ تمام جوا کھیل رہے ہیں ۔ اس سے اندازہ کر لیں کہ عمران خان کتنے دوراندیش اور بندہ شناس ہیں ۔

    ۔ عمران خان کی اس ہی ڈکٹیٹر شپ سوچ نے پارٹی کے اندر بھی اور باہر بھی بے چینی پیدا کی ہوئی ہے ۔ اس لیے اب صرف اپوزیشن ہی نہیں صحافی تجزیہ کار سب ہی خبر دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے جو بڑھتا جا رہا ہے۔۔ یہ حقیقت ہے کہ جہانگیرترین فیکٹر، آٹا بحران، گندم سیکنڈل، چینی سیکنڈل، ایل این جی سیکنڈل، عوام پر آئے دن ٹیکسوں کا بوجھ، پٹرول بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، ریکارڈ توڑ مہنگائی اور بے روزگاری ، سخت شرائط پر ریکارڈ غیر ملکی قرضوں کا حصول، صنعت تباہ،زراعت تباہ، معیشت تباہ، سرمایہ کاری ٹھپ، جیسے میڈل اپنے سینے پر سجانے والی شاید یہ پہلی حکومت ہے ۔ ۔ چند وزراء اور درجن بھر ترجمانوں کے مخالفوں پرپے درپے حملوں کو ہی گورننس سمجھ لیا گیا ہے ۔ عوام حیران ہیں کہ مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اضافے، پٹرول گیس اور بجلی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے باوجود بھی یہ حکومت ڈھٹائی کے ساتھ سب اچھا کا راگ کیسے الاپ لیتی ہے ۔ ۔ پھر آج سانحہ مری کی تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے ۔حل پھر وہ ہی ہے کہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ، سی پی او راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک اور اے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹاکرانضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کردیا گیا ہے۔ یوں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قوم سے سانحہ مری کی شفاف انکوائری کا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔میرا سوال ہے کہ کیا صرف معطلیوں سے جو 23لوگوں نے اپنے جانیں گنوائیں ۔ اسکا کفارہ ہوجائے گا ۔ کیا صرف سرکاری ملازم ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے ۔ کیا وزیر اعظم ، وزیر اعلی ، وزیروں اور پنجاب حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی کوئی کوتاہی نہیں تھی ۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان کہا کرتے ہیں کہ مغرب کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے۔ مغرب کی برفباری سے کون واقف نہیں ہے۔ اگر سربراہ مملکت مغرب کو جانتا ہوتا تو سڑکوں پہ مطلوبہ مقدار میں نمک ڈالا جاتا۔ مغربی ممالک میں جب زیادہ مقدار میں برفباری ہوتی ہے تو ایمرجنسی لگا دی جاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نہیں نکلنے دیا جاتا۔ لیکن ہمارے ہاں نظام ہی نرالا ہے۔ ہم گاڑیوں کی تعداد پہ فخر کر رہے تھے۔ جب حکومتوں کی کارکردگی نہیں ہوتی تو ترجمان پھر بھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہم نے مری میں دیکھا۔جنہوں نے خود ایمرجنسی لگانی تھی وہ بیس گھنٹے لوگوں کی فون کالز سننے کے بعد بھی کوئی عملی اقدام نہ کر سکے۔ ان کے پاس کوئی پلان ہی نہیں تھا۔ ملک کا وزیر داخلہ شیخ رشید فرما رہا تھا لوگ خود چھوٹے چھوٹے سے بچے لیکر مری آ جاتے ہیں۔ ہم کیا کریں۔ وزیراعظم بھی کہہ رہا تھے کہ انتظامیہ اتنے لوگوں کے لیے تیار نہیں تھی۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ عورت موٹروے پہ کیوں گئی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ لوگ مری کیوں گئے۔ ۔ یہ سب ریکارڈ پر ہے کہ برف میں پھنسے ہوئے لوگ، ان کے عزیز و اقارب اور ان کے دوست احباب کالیں کرتے رہے لیکن حکومتی عمائدین خواب خرگوش کے مزلے لیتے رہے۔ آپ تین منٹ کی بجائے تین گھنٹے میں بھی پہنچ جاتے تو لوگوں کو مرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ ۔ آخر میں تمام کا تمام ملبہ انتظامیہ پر ڈال دینا کسی صورت ہضم نہیں ہوسکتا ۔ کچھ تو بوجھ حکومت کو اٹھانا چاہیے تھا ۔ ۔ پر میں آپکو بتاوں ایسے سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو ، اخلاقیات ہوں ، کردار ہو ۔۔۔ اس حکومت سے یہ امید رکھنا کہ یہ اپنی
    ۔۔۔ منجی تھلے ڈانگ پھیر لیں گے ۔۔۔
    دیوانے کا خواب ہے ۔۔

  • کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    جیسے گزشتہ سات سالوں سے پی ٹی آئی کے پاس فارن فنڈنگ کیس میں جواب نہیں تھا آج بھی نہیں تھا ۔ جیسے یہ پہلے اسٹے آڈر کے پیچھے چھپا کرتےتھے آج بھی یہ ہی موقف تھا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے ۔ کہ کہیں ہمارے کرتوت عوام کو نہ پتہ لگ جائیں ۔ مگر چیف الیکشن کمشنر نے اس استدعا کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا کوئی ڈاکیومنٹ خفیہ نہیں ہے۔ یاد ہو تو یہ وہی عمران خان ہیں جو کہتا کرتے تھے کہ میں کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گا ۔ اس کیس میں اب فروری تک کی تاریخ پڑ گئی ہے ۔

    ۔ پھر عثمان بزدار کی image building کے حوالے سے بہت خبریں گردش ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بہترین وزیراعلی ہیں ۔ پتہ نہیں یہ سروے مریخ پر ہوا تھا یا چاند پر ۔ کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی ہر ضمنی انتخاب سے لے کر کینٹ بورڈ کے الیکشن تک ہر چیز ہاری ہے ۔ مگر ایسی سروے رپورٹس تو آنی تھیں جب آپ فنڈنگ کے منہ کھول دیں ۔ ورنہ ان کی کارکردگی کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت حالیہ سانحہ مری ہے ۔ پھر ڈینگی ہو یا بارشوں کے موسم میں گوڈے گوڈے پانی ۔۔۔ سب کو سب کچھ یاد ہے ۔ بھولے نہیں ۔۔ پھر آج مریم اور بلاول کے بیانات بھی بہت اہم ہیں آپ ان کی سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ مگر آپ اس چیز کو رد نہیں کرسکتے کہ جو کچھ پی ٹی آئی کے لوگ کہہ رہے ہیں ان میں چاہے وزراء ہوں ، ایم این ایز ہوں ، ایم پی ایز ہوں یا پھر عام کارکن ۔۔۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہےکہ تحریک انصاف کا انجام قریب ہے۔

    ۔ اسی لیے شاید آج مریم نے کہہ دیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی جلد سامنے آجائےگا ۔ پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آیا کہ وفاقی وزیرداخلہ کو ہاتھ سرپرہونے کی بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر ن لیگ میں بغاوت کے دعوؤں کو حکومت کی نااہلی اور نالائقی سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے مریم نےکہاکہ ن لیگ آگ کے دریا سے گزر کر آئی ہے، ڈرانے، دھمکانے، لالچ اور بدترین انتقام کے باوجود ن لیگ کا ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے چٹان کی طرح کھڑا رہا۔

    ۔ اس چیز کو ویسے ماننا چاہیے کہ آپ ان سے سیاسی اختلاف کریں ۔ مگر سب کچھ ہونے اور لیڈر شپ کے ملک سے باہر جانے اور جیلوں میں جانے کے باوجود بھی ن لیگ کو توڑا نہیں جا سکا ۔۔ پھر بلاول کہتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ سے حکومت گرا کردکھائیں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ آئین اورقانون میں ایمرجنسی کی کوئی گنجائش نہیں،صدارتی نظام کا شوشہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ حکومتی شخصیات کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں وہ صرف یہ ہی سمجھتے ہیں کہ ملک سے شریفوں اور زرداریوں کی مقبولیت ختم ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ کسی صورت نہیں ہونا ہے ۔ ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تحریک انصاف مخالفوں کی مقبولیت بھی وہ اپنے کارناموں سے ختم نہیں کرنا چاہتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم عوام کو اس قدر زیادہ ریلیف دیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، ان کی معاشی مشکلات کو ختم کر دیں گے کہ وہ شریفوں اور دیگر کا نام تک نہیں لیں گے بلکہ یہ کہتے ہیں شریفوں اور زرداریوں کو ہمارے سر پر موجود ہاتھ گردن سے پکڑے گا۔

    ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا دور ہے کہ جس میں عوام کے لئے سوچنا ایک شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔ پھر یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ہی راگ کب تک الاپا جا سکتا ہے کہ ملک میں مہنگائی نہیں بلکہ اب بھی بہت سستا ملک ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ماضی میں ہم 22 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے تو کیا اس طرح اس کے سامنے چاروں شانے چت ہوئے تھے، جس طرح اس بار ہوئے ہیں کیا ماضی میں آئی ایم ایف نے کسی حکومت سے اپنی شرائط پر منی بجٹ منظور کروایا، کیا اسٹیٹ بنک کے حوالے سے قانون سازی کروائی؟ یہ سب کچھ تو اس حکومت کے دور میں ہوا ہے، اس کا جواب دینے کی بجائے سیاسی بیان بازی سے عوام کو کب تک مطمئن کیا جا سکتا ہے؟۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب ہمارا کیا بنے گا؟ کیونکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی وقت حکومت پاکستان کی جان پر بن آئے تو بھی وہ سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکے گی۔ حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ خدا جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ لیکن ایک سچ تو اب پاکستان کے ہر شہر، ہر قصبے، ہر گلی، ہر کوچے اور ہر گھر کی دیواروں پر لکھا نظر آرہا ہے کہ مہنگائی نے کروڑوں انسانوں کی زندگی بے حد مشکل بنا دی ہے۔۔ سچ یہ ہے کہ کابینہ میں بیٹھے ہوئے بیشتر ارکان وزیر اعظم کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے خوش کر دیتے ہیں پرویز خٹک اور نور عالم خان کی طرح یہ نہیں بتاتے کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ عوام میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔

    ۔ اس وقت کپتان کا خیر خواہ وہ نہیں جو بڑھکیں ماررہے ہیں بلکہ اصل حامی اور خیر خواہ وہ ہے جو انہیں حالات کی سنگینی سے خبردار کر رہا ہے۔جیسا کہ نور عالم خان ۔۔۔ جن کو پی ٹی آئی شوکاز نوٹس بھیج رہی ہے ۔ ۔ پھر آجکل پوری کی پوری پی ٹی آئی صرف دھوکہ دینے میں لگی ہوئی ہے ۔ ان کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اور اس طرح کے بھونڈے سروے کی بدولت تبدیلی کو دوبارہ بیچا سکتا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان بطور سربراہ پی ٹی آئی اور بطور وزیراعظم پاکستان دونوں ہی حیثیتوں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے زیادہ تر ممبران اسمبلی، وزیر مشیر اور پارٹی لیڈر اب ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ کہیں ایڈجسٹ ہو جائیں۔ اس میں حیرانی کی بات بھی کوئی نہیں، کیونکہ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جب بھی ادھر ادھر سے اینٹ اور روڑے اکٹھے کرکے پارٹی بنائی جائے تو اس کا انجام یہی ہوا ہے کہ سب بکھر جاتے ہیں۔۔ شیخ رشید احمد اور فواد چودھری جیسے وزیر جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ شیخ رشید تو آئندہ سیاست سے چاروں شریفوں کو مائنس کر چکے ہیں جبکہ فواد چودھری شریف اور زرداری خاندان کی سیاست ختم کرنے کے درپے ہیں ۔

    ۔ جبکہ خبریں یہ ہیں ۔ کہ پی ٹی آئی کے تین وزیر پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر تو اپنا اپنا بائیوڈیٹا اٹھائے اگلا سلیکٹڈ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسا بندوبست ہو جائے کہ باقی کے ڈیڑھ سال تاج ان کے سر پر سج جائے۔ ۔ آپ دیکھیں جب ملک کا وزیر داخلہ یہ کہنے کی بجائے عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے یہ کہہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یہ کرے گی وہ کرے گی۔ تو سمجھ جائیں حالات اچھے نہیں اور حکومت عوامی حمایت مکمل طور پر کھو چکی ہے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اس شش و پنج میں ہیں کہ اگلا الیکشن کس پارٹی کے ٹکٹ پر لڑیں، کیونکہ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کا بوجھ اٹھانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ ظاہر ہے کوئی نہیں چاہتا کہ اس کی ضمانت ضبط ہو جائے۔ ۔ کیونکہ منی بجٹ کی منظوری کے بعد عوام کا پارہ زیادہ ہائی ہو چکا ہے۔ اس لئے وزراء ہوں یا ارکان اسمبلی عوام سے دوری ہی میں عافیت محسوس کر رہے ہیں جہاں عوامی غصے کا یہ عالم ہو کہ کھاد نہ ملنے پر کسان اسسٹنٹ کمشنر کی درگت بنا دیں وہاں رکن اسمبلی کا حال کیا کریں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ۔ پنجاب کے ایم این ایز مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطے کر رہے ہیں۔ کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا الیکشن سویپ کرنا اب دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اور یہ کوئی چھپ چھپا کر نہیں کھلے عام ہورہا ہے ۔ ابھی کل کی خبر ہے کہ پی ٹی آئی کے تیس رکن اسمبلی حمزہ سے رابطے میں اور اگلے الیکشن میں ن لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ پھر یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ سی وی لے کر بہت سے لوگ لندن میں میاں صاحب کا دروازہ کھٹکھانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اسی لیے عمران خان نے اگلے تین ماہ کے لیے اپنے ایم این ایز کے باہر جانے پر پابندی لگائی ۔ ۔ پھر خیبر پختونخوا والے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے جو اپنی کوشش میں کامیاب ہو گیا وہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے الیکشن لڑے گا اور جو نہ ہو سکا وہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے گا، خاص طور پر الیکٹ ایبلز کی بڑی تعداد اگلے الیکشن میں آزاد حییثیت سے اسمبلیوں میں جائے گی۔ باقی رہ گیا جنوبی صوبہ پنجاب کا ٹولہ تو وہ ہمیشہ کی طرح اگلے احکامات کا انتظار کریں گے۔ جو غالب امکان ہے کہ اس مرتبہ حکم جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ہو گا۔۔ اس لیے کہنا غلط نہیں کہ ہر صورت میں پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھرنا یقینی ہے۔۔ کیونکہ اس وقت تحریک انصاف خود اندر سے تقسیم در تقسیم کا بھی شکار ہے۔ اسے تنظیمی مسائل کا سامنا ہے۔ اسی لئے تو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے رزلٹ کے بعد عمران خان نے افراتفری میں تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کر دیا تھا۔ مگر مطلوبہ نتائج ملتے نہیں دیکھائی دیتے ۔۔ یوں آپ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے کپتان اور پی ٹی آئی کے لیے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔

  • ملک کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے  ؟ تحریر: نوید شیخ

    ملک کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے ؟ تحریر: نوید شیخ

    تپاکستان میں دو شخصیات ایسی گزری ہیں ۔ جن کے بارے کہا جائے کہ وہ وقت سے پہلے مستقبل پر نظر رکھتے تھے بلکہ آنے والے حالات کو پڑھ لیتے تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ آجکل جو کچھ ہورہا ہے ۔ میں کسی ہر تہمت نہیں لگانا چاہتا ۔ مگر ان دونوں اشخاص کی کہی ہوئی باتیں کانوں میں گونج رہی ہیں ۔ تو سب سے پہلے تو آپ یہ سنیں ۔ پھر آگے بات کرتے ہیں ۔

    Dr. Israr Sot about imran khan & hakim saeed book clip.

    1:21 to 2:38

    ۔ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔ معیشت ، قانون کی حکمرانی ، نظام عدل کا رونا تو بہت عرصے اس ملک میں جاری ہے ۔ مگر یہ شاید پہلی بار ہے کہ ملک کا وزیر اعظم خود کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک نہ ہو پھر دفاع تو متاثر ہوگا ۔ پہلی بار میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پہلی بار ہے کہ بردار اسلامی ممالک ہوں یا چین جیسا دوست ہر کوئی ناراض ہے ۔ پہلی بار ہے کہ کشمیر کو دن دھاڑے بھارت ہڑپ کر لیتا ہے مگر ہم اوآئی سی تک کو متحرک نہیں کر پاتے ہیں ۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس حکومت کو دو خبط ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہر بات کو انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوا اور دوسرے یہ کہ اس سے پہلے ستر سال تک اس ملک پر احمقوں ، بددیانت اور غداروں کی حکومت رہی۔ ۔ کارنامے تو ان کے بہت بڑے بڑے ہیں جن کو گنوانا شروع کیا جائے تو eries of books لکھنی پڑ جائے گی ۔ مگر حالیہ جو قومی سلامتی پالیسی کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کے کئی پہلو ملک کے اندر اور باہر بحث و تجزیے کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ وہ بہت غور طلب چیز ہے ۔ اس سلسلے میں کئی پہلووں کو لے کر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ایک چیز جس پر سب سے زیادہ اعتراض ہورہا ہے کہ ۔ مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا یہ بیان جو انھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے جو کچھ کہا وہ یقینا عوام سمیت پاکستان میں بہت سے حلقوں کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث بنا ہوا ہے۔

    ۔ کیونکہ بے چینی اس لیے ہے کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور اگر بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہو جائے تو ہم بھارت کے ساتھ کشمیر کو درمیان میں لائے بغیر تجارت کرنے کو تیار ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تجارت اور اقتصادیات ہماری پہلی ترجیح بن گئے ہیں اور کشمیر کا نمبر اسکے بعد آتا ہے؟ ۔ پھر پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان خطے اور تمام دنیا کے ساتھ برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر امن چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم توعرصے سے تیار ہیں۔ پر سوال ہے کہ کیا بھارت بھی ہمارے ساتھ عزت اور برابری پر تیار ہے؟

    ۔ ویسے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم تجارت اور امن کی خواہش میں یک طرفہ طور پر اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم نے کشمیری عوام ، انکے مصائب اور ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم بھلا کر بھارت کے اگست 2019ء کے اقدامات قبول کر لیے ہوں۔ اس سے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ہمارا واحد اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بھارت بس ہمارے ساتھ بات چیت کیلئے راضی ہو جائے۔ یا چلو کرکٹ ہی کھیل لے۔ تو ہم راضی ہوجائیں گے۔ میرے خیال سے کسی بھی باشعور شخص کو بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ بھارت پر ابھی حملہ کر دیں۔ لیکن اس قسم کے اعلانات بطور پالیسی کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے، یا کسی درمیانی راستے پر غور کرنا ہے تو کیا اس سلسلے میں بھارت سے کوئی بات کی گئی ہے کہ ہمیں بدلے میں بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟

    ۔ اسی حوالے سے ایک اہم عہدیدار کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم آئندہ سو برس تک بھارت کے ساتھ مخاصمت نہیں چاہتے۔ نئی پالیسی قریبی ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کرتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے کچھ اخبارات میں شائع ہوا بلکہ بھارت میں اسے بہت اہم قرار دیا گیا۔ خطے میں قیامِ امن کی خواہش یقینی طور پر قابلِ ستائش ہے اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ماضی میں بھی اس خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے تاہم اس خواہش کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ۔ پھر کیا آج کے دور میں بھی یہ دانشمندی ہے کہ اس قسم کے فیصلے جو ملک کی سمت اور تقدیر تبدیل کر رہے ہوں وہ ایوانوں کی بلند دیواروں کے پیچھے کیے جائیں اور عوام سے خفیہ رکھے جائیں؟

    ۔ نیشنل سیکورٹی کی جو دستاویز جاری ہوئی ہیں ان میں توانائی، تعلیم، صحت سے لیکر دہشت گردی اور عالمی امن تک سب مسائل کے ذکر کے ساتھ صفحہ نمبر پینتیس پر جموں اور کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو پر امن طور پر بذریعہ بات چیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیا جانا چاہیے۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب موجودہ اور تبدیل شدہ دنیا میں کتنی موثر ہیں ۔ خاص طور پر بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں ایسی یک طرفہ محبت کا نتیجہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو سائیڈ پر کر کے تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہونگے اور بھارت ہم سے آزاد کشمیر کا مطالبہ کر رہا ہو۔ اور اس وقت ہم عالمی برادری کو کہتے پھریں کہ کسی طرح ہمارا آزاد کشمیر ہی بچا دو۔

    ۔ ہم نظریے اور پاکستان کی شہہ رگ کو ایک جانب رکھ کر صرف تجارتی اور اقتصادی اصولوں کی بات کریں تو بھی حقائق اور اعداد و شمار کیمطابق موجودہ حالات اور قوانین میں بھارت کے ساتھ تجارت نہ تو پاکستان کی اقتصادی مشکلات حل کر سکتی ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ ہمارے مسائل کا حل تجارت میں مل سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ سے کشمیر رہی ہے، اور کشمیر ہی کی بنیاد پر ہم بھارت کے ساتھ بار بار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کی تشکیل کے وقت کشمیری عوام سے بھی تفصیلی مشورہ کیا گیا ہو گا اور انکی امنگوں اور حقوق کو بھی نظر میں رکھا گیا ہو گا۔ کیونکہ اس خطے کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بھارت کے گرد ہی گھومتی ہے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشمیر کے گرد گھومتے ہیں۔

    ۔ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا مرکزی نقطہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ایک طرف رکھتے ہوئے تعلقات کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے جو بھی لائحہ عمل طے کیا گیا وہ واضح طور پر عوام کے سامنے رکھنا جانا چاہیے کیونکہ یہ بیان کچھ غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف پر ہے۔

    ۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس پالیسی میں کہاگیا ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد معیشت پر ہے۔ اسکے بعد یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لیے سٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔ اس خودمختاری کو بعض لوگ بینک کی غلامی قراردیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سٹیٹ بینک کے گورنر کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کا اقتصادی وائسرائے بنانے کے مترادف ہے۔ اب جو یہ بحث ہورہی ہے ہمارے عسکری اکائونٹ صرف اور صرف سٹیٹ بینک میں رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ خواہش کیوں ہے۔۔ وزیراعظم کا یہ فرمانا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو قومی سلامتی پر حرف آتا ہے۔ ان کے اس بیان سے واقعی اب سارا ملک گھبرایا ہوا لگتا ہے ۔ پھر کچھ لوگ چیخ رہے ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے۔ یہ سب باتیں جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ تشویش کس بات کی ہے۔

    ۔ یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ بائیس تیئس کروڑ آبادی والا ملک پاکستان جسے اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے جس کے لوگ بہت محنتی اور باصلاحیت ہیں وہ اپنے حکمرانوں اور کی غفلت اور ان کے وزیر و مشیروں کی مفاد پرستیوں کی وجہ سے دنیا میں ایک بھکاری کی سی پہچان بنائے ہوئے ہے ۔کہیں کوئی تھنک ٹینک نہیں جو یہ سوچے کہ اس ملک کا مسقتبل کیسے محفوظ بنا جاسکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب بہت سے پاکستانی خودکشیاں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے کیونکہ وہ ہی ہماری سلامتی کا سب سے بڑا ضامن اور آخری امید ہے ۔ مگر یاد رکھیں اس وقت جو یہ بحث جاری ہے وہ یوں ہی نہیں ہورہی ہے

  • مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب، تحریر:نوید شیخ

    مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب، تحریر:نوید شیخ

    بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس حکومت کو پانچ سال گزار لینے دیے جائیں مگر اس عرصے میں ملک کا کیا بنے گا۔ یہ سب سے تشویشناک بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حکومت مزید کچھ وقت گزار لے۔ مگر حکومت نام کی چیز ختم ہو چکی ہے۔

    ۔ اب جب آئی ایم ایف کی شرائط سامنے آ رہی ہیں کہ اپنا دفاعی حساب کتاب بھی پورے کا پورا سٹیٹ بنک میں رکھو اور سٹیٹ بنک کو پارلیمنٹ یا وزیر اعظم یا پاکستان کی عدالتوں کے سامنے جوابدہ ہونے سے مستثنیٰ کر دیں تو شک تو ابھرتا ہے کہ ہو نہ ہو ان کی نظریں ہمارے ایٹمی پروگرام پر ہیں۔۔ اس لیے بہت سی باتیں ایسی ہو رہی ہیں جو بتاتی ہیں کہ آنے والے دن کسی حکومت کے لئے ہی نہیں اس ملک پر بھی کٹھن ہیں۔ اسے آپ تین ماہ کہہ لیجیے یا 90دن والا پرانا راگ الاپ لیجیے مطلب یہی ہے کہ مستقبل قریب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ اسی لیے وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا ہے کہ آئندہ تین ماہ ان کی حکومت کے لئے مشکل ہیں۔ ۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معاشی حالت پتلی ہے۔ ہمارے پاس اتنی مصنوعات نہیں کہ دنیا کو بیچ کر اپنی ضرورت کے مطابق ڈالرز کما سکیں۔ ملک میں ستّر برسوں میں صنعتی ترقی نہیں ہوسکی۔ ہماری حکومتوں کے اخراجات ان کی آمدن سے دو گنا ہیں۔

    ۔ جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو پاکستان گندم اور چینی برآمد کر رہا تھا۔ آج یہ دونوں چیزیں درآمد کر رہا ہے۔۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے سال پاکستان میں کپاس کی تقریباً 11 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی۔پچھلے سال اس نے تقریباً 5.5 ارب گانٹھیں پیدا کیں جو 1983-84کے بعد سب سے کم ہیں۔۔ اس سیزن میں ہماری زرعی پیداوار کیسی ہو گی اس کا اندازہ یوریا کی خرید، قلت اور بلیک مارکیٹنگ کے لیے لمبی قطاروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ۔ پی ٹی آئی گردشی قرض ختم کرنے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھا رہی ہے۔ اس کے باوجود بجلی کے نرخوں میں دوگنا اضافے کے ساتھ گردشی قرض بھی دوگنا ہو گیا ہے۔۔ حکومت نے سستی گیس کی تلاش میں ایل این جی کو 4 ڈالر میں لینے سے انکار کیا اور پھر بعد میں اسے 30 ڈالر میں خریدا۔۔ پولیس کا رونا تو سب روتے ہیں مگر بزدار کی جانب سے پنجاب کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے تیرہ اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے آٹھ سیکرٹری تبدیل ہوچکے ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں انھوں نے سائیکل پر وزیر اعظم ہاوس آنا تھا، مگر انھوں نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔ ۔ گورنر ہاوس کی دیواریں گرانا تھی اور وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی میں بدلنا تھا۔ ۔ نئے پاکستان کا نعرہ لگایا تھا وہ تو انھوں نے کیا بنانا تھا پرانے پاکستان کا بھی انھوں نے بیڑاغرق کرکے رکھ دیا ہے ۔ ۔ چن چن کر عمران خان نے اس قماش کے لوگ وزیر اور ترجمان لگائے ۔ جو صرف زبان چلانے میں ماہر تھے ۔ واحد کارکردگی ان کی یہ تھی کہ وہ پالش اچھی کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔

    ۔ انھوں نے ملک کو ویلفیر اسٹیٹ ، ریاست مدینہ پتا نہیں کیا کیا بنانا تھا ۔۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود کشی کرنی تھی ۔ ۔ پولیس ریفارمز لانی تھیں۔ لیکن آٹھ آٹھ IGبدل کر بھی ریفارمز نہیں لائی جا سکیں ۔ ۔ نوے دن میں کرپشن سمیت تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنا تھا۔۔ بیرونی قرضے ختم کرنے تھے۔ ۔ صاف شفاف احتساب کرنا تھا ۔ ۔ ڈالر کو روپے کے مقابلے میں ٹکے ٹوکری کرنا تھا۔ ۔ امریکہ کو اوقات میں رکھنا تھا ۔ ۔ مسلم امہ کو لیڈ کرنا ۔۔ یہ سب جھوٹ تھا ۔ نہ ان کو معیشت کا پتہ ہے ، نہ گورننس کا ، نہ قانون کا اور نہ ہی اخلاقیات کا ۔۔۔ ۔ تو یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔

    دوسری جانب جہاں حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر رشوت لے کر سودے کرنے کا الزام عائد کیے ہیں۔۔ تومریم نواز بھی کسی بھی صورت اس حکومت کو گھر بھیجنے کا عندیہ دے چکی ہیں۔ ۔ پھر پہلے حکومت خود نواز شریف کو باہر بھیجتی ہے ۔ اب نواز شریف کو اپنی شرائط پر واپس لانے کے لیے بے تاب ہے۔ ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نواز شریف بڑی شان و شوکت سے وطن واپس آئیں گے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کی خواہش رکھنے والے ایوان اقتدار کے پنچھی انہیں ٹی وی پر دیکھ کر خوب آگ بگولہ ہوں گے ۔۔ عمران خان نیوٹرل ایمپائر کی صدائیں تو بہت لگاتے رہے ہیں ۔ مگر سچ یہ ہے کہ ایمپائر کےبغیر تو یہ ایک اورر بھی گزار نہیں سکتے ۔ ۔ بیس سال سے تحریک انصاف کے اہم رکن اور عمران خان کے پرانے ساتھی احمد جواد نے مبینہ طور پر یہ انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی سے ایک ہفتہ پہلے تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت نے عمران خان کو نواز شریف کی نااہلی کی خبر دے دی تھی اور ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے ساتھ تحریک انصاف کی اہم اور سینئر شخصیت کو بھی نااہل کیا جائے گا تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ اور اس وقت جہانگیر ترین بھی اس مقام پر موجود تھے جب یہ خبر آئی۔۔ مگر پی ٹی آئ کا سوشل میڈیا وہ غلاظت ہے جو پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کے کھاتے میں جاۓ گی۔ کوئی ان حقائق اور چیزوں پر بات کرے تو یہ اسے غدار اور پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازانا شروع کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ گزشتہ چند ماہ کے واقعات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اب مزید ایسا نہیں چل سکتا ۔ عوام کے ساتھ ساتھ اداروں کی بس ہوچکی ہے ۔۔ اب منی بجٹ مسلط کرنے والے غریب دشمن کرپٹ مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ عام انتخابات پی ٹی آئی کا آخری انتخاب ثابت ہوگا۔

  • منظر نامہ تبدیل ہونا شروع، تحریر: نوید شیخ

    منظر نامہ تبدیل ہونا شروع، تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے مارچ قریب آرہا ہے ۔ حالات ، واقعات اور منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ ویسے تو روز ہی قومی اسمبلی میں آجکل ہنگامہ ہورہا ہے ۔ آج بھی ہوا ۔ جس سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ حکومت دھونس اور زبردستی سے تو ایوان کو چلاسکتی ہے ۔ ویسے اب اسمبلی چلتی نہیں دیکھائی دیتی ۔

    ۔ پھر اس وقت پاکستان کو درپیش چیلنجز ایک طرف اور عمران خان ایک طرف ۔۔۔ ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں ۔ کہ بات دعاؤں سے بدعاؤں تک پہنچ چکی ہے ۔ بات منت سماجت سے گالم گلوچ تک پہنچ چکی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب بجلی اور دوسری جانب پیڑول کی قیمتیں بڑھا بڑھا کپتان نے عوام کو دن میں تارے دیکھا دیئے ہیں ۔ ۔ تو دوسری جانب اس وقت سیاسی محاذ خاصا گرم ہوچکا ہے کہیں ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں اور کہیں لانگ مارچ کے انتظامات جاری ہیں۔ حکومت اپنے لئے تین ماہ اہم قرار دے رہی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ایک دن بھی دینے کے لئے تیار نہیں ایسے میں نوازشریف کی نا اہلی ختم کرانے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے نے ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ ۔ اسی لیے تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کافی حیران کن ہیں۔ سات سال بعد فارنگ فنڈنگ کیس میں سکروٹنی رپورٹ کا سامنے آنا۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی واضح شکست، منی بجٹ منظور کرانے میں حد درجہ بڑھتی مشکلات، نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ، آصف علی زرداری کا متحرک ہونا۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کے فیصلے، ایسے عوامل ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ حالات نارمل نہیں۔ اس لیے لوگ بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے برے دنوں کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔؟

    ۔ میرے حساب سے ایک بار پھر عدالتی جنگ کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ اور کورٹ رپورٹرز کی چاندی ہونے والی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نوازشریف کی تاحیات نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں تو حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے شہباز شریف کی نا اہلی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ یعنی دونوں طرف شریف برادران ہیں، ایک طرف نا اہلی ختم کرانے کی کوشش ہے اور دوسری طرف نا اہل کرانے کی۔۔۔ ۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ اس حوالے سے بہت سے سازشی تھیوریاں مارکیٹ میں چل رہی ہیں کہ دونوں اطراف سے عدالتی جنگ کے لئے یہی وقت کیوں چنا گیا ہے۔ خاص طور پر نوازشریف کی تا حیات نا اہلی ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اب ہی کیوں متحرک ہوئی ہے۔ دیکھا جائے تو عام انتخابات ہونے میں تقریباً ڈیڑھ برس کا عرصہ رہ گیا ہے۔ حکومت نے مدت پوری نہ کی تو انتخابات پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نوازشریف کو تا حیات نا اہلی سے نکال کر انہیں اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ نکالی جا رہی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب ایک بار پھر لوگ ہواؤں کا رخ دیکھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کس طرف کو یہ رواں دواں ہیں ۔ کیونکہ چین ، سعودی عرب اور ترکی کی میاں صاحب کے لیے سفارشوں کی خبریں بھی بڑے زور و شور سے جاری ہیں ۔

    ۔ فی الحال نوازشریف کا معاملہ بہت زیادہ ہائی پروفائل بن چکا ہے۔ اس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی توجہ اس پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ کیونکہ نوازشریف کی نا اہلی اور سزا ختم ہو جاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا سیاسی دھماکہ ہوگا۔ مسلم لیگ ن کو پھر روکنا شاید ممکن نہ رہے۔ آج جو پرویز خٹک کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اور جو عثمان بزادر کے دیے گئے ڈنر سے تیس سے زائد ارکان غائب رہے ۔ تو کل پرویز خٹک کے بھانجوں جلال خٹک اور بلال خٹک نے پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے علاوہ بھی پی ٹی آئی والے دھڑا دھڑ پیپلز پارٹی ، جے یوآئی ف سمیت دیگر کی جانب بھاگے جا رہے ہیں ۔ یہ سب اس جانب اشارہ ہے کہ خوب اکھاڑ پچھاڑ چل رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خاص طور پر پنجاب میں الیکشن لڑنا اور جیتنا تقریباً ناممکن دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے ۔ ظاہر ہے حکومت اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ بار کی جانب سے نااہلی والی درخواست کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ دو فروری کو سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہوں گے۔ وہ اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے نوازشریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ احسن بھون نے اگرچہ یہ خواہش ظاہر کی ہے نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے والے بنچ میں عمر عطا بندیال شامل ہوں۔ تاہم یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔ احسن بھون نے اس کی سماعت کے لئے فل بنچ بنانے کی درخواست بھی کی ہے کیونکہ اس درخواست میں ایسے نکات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ سپریم کورٹ جب اس کیس کا فیصلہ دے گی تو یقیناً بہت سے وہ معاملات بھی واضح ہو جائیں گے جن کے بارے میں ابھی ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کسی شخص کو نمائندگی کے لئے تا حیات نا اہل قرار دینا آئین کی بنیادی روح اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اگر سپریم کورٹ کیس کی سماعت کے بعد اس نکتے کو مان لیتی ہے تو یہ ایک نئی تاریخ رقم ہو گی۔

    ۔ پر سوال ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہے؟ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا ہی فیصلہ پڑا ہے، جس پر نظرثانی کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں جہانگیر ترین بھی نا اہل قرار پائے اور ان کی نظر ثانی اپیل بھی خارج ہو گئی تھی۔ یقیناً یہ درخواست اگر سماعت کے لئے منظور ہو جاتی ہے تو ایک بہت اہم قانونی و آئینی نکتے کی وضاحت کا باعث بن جائے گی۔ درخواست کے حق میں فیصلہ آیا تو ملک کا سیاسی منظر نامہ ہی تبدیل ہو جائے گا اور اگر رد ہو گئی تو نواز شریف سمیت جہانگیر ترین کی سیاسی زندگی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ ابھی تو ن لیگی اس امید میں مبتلا ہیں کہ نوازشریف اہل ہو کر سیاست اور ملک میں واپس آئیں گے۔ اگر ان کی نا اہلی پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت ہو گئی تو تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ اس وقت حکومت اور کسی سے اتنی خوفزدہ نہیں جتنی نوازشریف سے ہے۔ وزراء یہ جانتے ہیں وہ نوازشریف کو کسی بھی قانون کے تحت پاکستان واپس نہیں لا سکتے مگر اس کے باوجود وہ تاثر یہی دیتے ہیں جیسے نوازشریف کو وطن واپس لانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہوں۔

    ۔ دوسری طرف حکومت شہباز شریف کو نا اہل کرانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہے۔ اگرچہ ماہرین قانون نے حکومت کی اس خواہش کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کیونکہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نوازشریف کو زبردستی ملک سے فرار نہیں کرایا تھا بلکہ وہ عدالت کے حکم اور حکومت کی دی گئی میڈیکل رپورٹوں کے بعد بیرون ملک روانہ ہوئے تھے۔ میرے خیال سے یہ صرف ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی یہ کیس جلد ختم ہونے والا نہیں، فیصلہ ہوتے ہوتے کئی برس بھی گزر سکتے ہیں۔ صاف لگ رہا ہے حکومت صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے ایک تیرسے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کے لئے وہ بہت سنجیدہ ہے اور دوسری طرف شہباز شریف کو ایک جھوٹا اور وعدہ خلاف شخص ثابت کرنا چاہتی ہے۔ پھر آج نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں چار روپے تیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے ۔ بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ ویسے ابھی عوام گزشتہ ماہ جو بجلی کے بل ملے تھے اس shock باہر نہیں نکلی ہے جو یہ نیا بم عوام پر پھوڑ دیا گیا ہے ۔

    ۔ پھر پیڑول کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول 150 روپے فی لیٹر ہونے کا خدشہ ہے۔ یونکہ آئل مارکیٹنگ ذرائع کا کہناہےکہ 16 جنوری سے پیٹرولیم قیمتیں 6 روپے لیٹر تک بڑھنے کا امکان ہے جس میں پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 6 روپے فی لیٹر تک جانے کا تخمینہ ہے۔ اس کے بعد کل جو اختر مینگل نے کہا تھا وہ بات یاد آجاتی ہے کہ اس حکومت صرف موت پر ٹیکس نہیں لگایا ۔ باقی تو انھوں نے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ یاد رکھیں ابھی منی بجٹ کے اثرات آنے ہیں ۔ اس کے بعد عوام کا کیا حال ہوگا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ دیکھا جائے تو آئی ایم ایف ماضی میں بھی یہ مطالبہ کرتا رہا مگر کسی نے غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ایسے فیصلے کئے جن کا فائدہ عوام کو نہیں صرف اشرافیہ کو پہنچا ۔ سچ یہ ہے کہ نئے پاکستان میں ہر نیا سال گذشتہ برس کی نسبت زیادہ مہنگا ثابت ہوا ہے ۔ ۔ آپ ان کی فنکاریاں دیکھیں کہ پنجاب میں ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو ختم کرکے عمران خان 400 ارب روپے سے انشورنس اور پرائیویٹ کلینکس کا کاروبار چمکانے جارہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں کسانوں کوکھاد کی قلت کا سامنا ہے کھاد افغانستان میں سمگل کی جا رہی ہے۔ آج عمران خان نے اس پر سخت نوٹس لے لیا ہے اور اب کسان مزید پریشان ہوگئے ہیں ۔ ۔ عمران خان تبدیلی کانعرہ لگاکر سیاست میں آئے تھے۔ دعویٰ ان کا یہ تھا کہ وہ اقتدار میں آکرملک کے لئے معاشی وسماجی حالات،سیاسی ماحول کو تبدیل کردیں گے۔ روزگار،خوشحالی اورانصاف کادوردورہ ہوگا۔اقتدار میں آنے کے بعد مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا ۔ تبدیلی مثبت کی بجائے منفی انداز میں رونما ہوئی۔

  • عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

    عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

    قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دوںوں کی جانب سے ایک بار پھر خوب الزام تراشی ہوئی ۔ منی بجٹ ایجنڈا نمبرون رہا ۔ ایک دوسرے کو خوب آئینہ دیکھانے کی بھی کوشش ہوئی ۔ دیکھا جائے تو حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت منی بجٹ کو منظور کرانے کے لیے جتنی بے تاب ہے اپوزیشن اتنا ہی اس معاملے میں رخنہ اندازی کررہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ یہ بات سچ بھی ہے ۔ پر پاکستان کی اس معاشی صورتحال کو عالمی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے آگے چل کر تفصیل سے آپکو بتاتا ہوں ۔

    ۔ فی الحال تحریک انصاف جس طرح عوام پر آئی ایم ایف کو ترجیح دے رہی ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اس پر اعتماد نہیں کریں گے۔اور اس چیز کا کپتان کو جھٹکا ضرور لگے گا ۔۔ میں آپکو بتاوں یہ طے شدہ بات ہے کہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اس پر بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے اور ان شرائط کے ذریعے وہ اس کی ملک کی آزادی اور خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے علاوہ معاشی حوالے سے زیادہ تر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ۔ پھر یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ اور مختلف تھنک ٹینکس گزشتہ کئی برسوں سے ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ انتہاپسندی ، شدت پسندی اور غیر یقینی سیاسی حالات کو جواز بنا کر پاکستان کے جوہری اثاثوں، بلوچستان اور آزاد قبائلی علاقوں کے حوالے سے جارحانہ اور اشتعال انگیزانہ پراپیگنڈہ بھڑکاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ان ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کے مفروضات پر مبنی خیالات دراصل اُن کے ما فی الضمیر میں چھپے مذموم عزائم ہیں۔ اسی لیے امریکی حکام کا رویہ پاکستان سے ٹھیک نہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں ماضی میں بھی اور اب بھی قرضہ دیتے ہوئے پاکستان سے کئی ایسی شرائط منوائی گئیں جن سے شاید حکمران اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ان شرائط کی وجہ سے مہنگائی میں ہونے والے اضافے نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔ ریاست سے عوام کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ خاص طور پر جو ان علاقوں میں جو باقی ملک کے مقابلے میں پیچھے ہیں ۔

    ۔ عالمی کیا اب تو لوکل ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت اس سطح پر آچکا ہے کہ آج ڈیفالٹ ہوا یا تو کل ۔ کیونکہ اس بار تو پاکستان کی زراعت کو ایسے لگتا ہے کہ سازش کے تحت تباہ کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ زراعت ہی ہماری backbone تھی ۔ جس کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ چاہے ہم ڈیفالٹ کرجائیں پر ہم اپنی عوام کو بھوکا نہیں مرنے دیں گے کیونکہ ہم اپنا اناج خود اگاتے ہیں پر اب ایسا نہیں ہے ۔ اب تو ہم گندم تک باہر سے امپورٹ کر رہے ہیں ۔ ۔ پھر اس وقت سی پیک کو لے کر بھی پاکستان پر بہت پریشر ہے کہ کسی طرح اس کو رول بیک کیا جائے ۔ چین کو یہاں سے نکالا جائے ۔ دراصل امریکی مفاد یہ ہے کہ پاکستان یوں ہی آئی ایم ایف کی بیساکھیوں کے سہارے چلتا رہے ۔ اور اپنے پیروں پر کبھی کھڑا نہ ہوسکے ۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ بھی کر جاتا ہے تو کرجائے کیونکہ اب امریکی ماننے لگے ہیں کہ یہ بھی ان کے مفاد میں ہے ۔ کیونکہ چین تو کئی تیس بلین ڈالرز سے زیادہ پاکستان میں لگا چکا ہے ۔ اور اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تو چین ۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ۔۔۔ ہر صورت پاکستان کو ریسکیو کرنے کو آئے گا ۔ اوریوں چین پر پاکستان ایک اضافہ بوجھ سا بن جائے ۔ جس فائدہ بالآخر امریکہ کو ہی ہوگا ۔

    ۔ میں کوئی conspiracy theory پیش کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہے صرف حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ نتیجہ آپ خود اخذ کر لیں ۔ ۔ اب جب اس تمام صورتحال میں یہ چیز سامنے آئے کہ تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت ہمارے دشمن نمبرون ممالک سے فنڈز بھی موصول ہوئے ہیں ۔ تو انسان سوچنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے کہ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو پاکستان کو گروی نہیں رکھوایا جارہا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو نہیں چن چن کر نااہل لوگ ادارے میں لگائے جا رہے ہیں کہ نظام بالکل ہی بیٹھ جائے ۔ پاکستان بالکل ہی فیل ہوجائے ۔ اس فارن فنڈنگ کیس کو آپ معمولی چیز نہ سمجھیں ۔ جن ممالک سے فنڈنگ کے الزامات ہیں وہ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں جب آپ معاشی طور پر فیل ہوگے تو نہ تو ایٹمی قوت برقرار رکھ سکیں گے نہ ہی اتنی بڑی فوج کو مینج کرسکیں گے ۔

    ۔ میرے خیال سے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پی ٹی آئی کو شائد نئے نام سے جماعت رجسٹر کرانی پڑے ۔ اس رپورٹ نے جہاں ملک بھر کے اہل علم کو ششدر کر دیا ہے وہیں دنیا بھر میں پی ٹی آئی کے دوستوں کوبھی حیران کیا ہے جبکہ چندہ دینے والے افراد تنظیمیں اور ادارے بھی تذبذب کاشکار ہیں ۔ ۔ آپ دیکھیں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے کل بارہ جنوری کو اپنے ایک اجلاس میں اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ پاکستان نے کس حد تک اس کی شرائط کو نافذ کیا ہے۔ اس جائزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک ارب پانچ کروڑ ڈا لر کی قسط دینے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا۔ ۔ اب پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے درخواست کی کہ جائزہ اجلاس مؤخر کردیا جائے کیونکہ شرائط کے نفاذ کے لیے منی بجٹ اور سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل تاحال پارلیمان سے منظور نہیں ہوئے۔

    ۔ اس پر پاکستان میں آئی ایم ایف کی ترجمان Esther Perez فوراً نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے چھٹے جائزے پر غور پاکستان کی درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے ۔ اب امکان ہے کہ اجلاس اسی مہینے کی 28 یا 31 کو ہوگا اور حکومت کوشش کررہی ہے کہ اس اجلاس سے پہلے دونوں بلوں کو پارلیمان سے منظور کرالے۔ ۔ منی بجٹ کی منظوری سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اس بل کا جائزہ لے کر آئین کی شق 73 کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کررہی ہے۔ قومی اسمبلی ان سفارشات کی پابند نہیں اور وہ ان پر غور کیے بغیر بھی منی بجٹ کی منظوری دے سکتی ہے۔ ۔ پھر سینیٹ کسی بھی بل سے متعلق اپنی سفارشات مرتب کرنے کے لیے چودہ دن کا وقت لیتا ہے تاہم چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 4 جنوری کو ارکان سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اس بل سے متعلق سفارشات تیار کریں جس پر ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اتنی کم مدت میں بل پر غور نہیں کرسکتے۔ ۔ آپ دیکھیں عمران خان مسلسل خود کو پاک اور شفاف قرار دیتے آرہے ہیں بلکہ صادق و امین کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ لگاتے ہیں اپنی ہر تقریر میں اپنے مخالفین کی خوب لیتے ہیں انہیں چور ،بد عنوان اور نہ جانے کیا کیا کہتے آرہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ ان کا اوڑھنابچھونا ہے۔ مگر جس طرح یہ آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے گلے میں ڈال رہے ہیں ۔ اور جو فارن فنڈنگ کیس کے راز کھل کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔ وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونے چاہیئں ۔

    ۔ میں آپکو بتاؤں کہ فارن فنڈنگ کیس میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے کے بعد عمران خان خود اور پی ٹی آئی بھی اخلاقی پیمانوں میں وہیں کھڑی ہے جہاں وہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اب تو انکے حمائتی بھی انکی حمایت میں بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ بالکل ان کے اپنے ترجمان جیسے احمد جواد انھوں نے تو آج سیریز آف ٹویٹس کی ہیں کہ
    ” پی ٹی آئی کے دور میں کروڑ پتی اور ارب پتی بننے والے پی ٹی آئی کے وزیروں اور لیڈروں کی فہرست بنا رہا ہوں ۔ ریاست مدینہ میں انصاف اور احتساب سب کا ہوگا ۔ ادھر ترکی میں بھی کچھ کھرے ملے ہیں ”
    ۔ اسے کہتے ہیں اونٹ کا پہاڑ کے نیچے آنا یا مکافات عمل کا شکار ہونا، پی ٹی آئی اس الزام کے بعد عوام کی نظروں میں مزید گر چکی ہے مہنگائی ،لاقانونیت اندرونی اور بیرونی سطح پر بھی اسکی کوئی شاندار کارکردگی نہیں تھی لیکن اس معاملے نے تو پی ٹی آئی کی رہی سہی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ۔ کیونکہ یاد رکھیں یہ سب کچھ کوئی پی ٹی آئی کے خلاف سازش نہیں بلکہ یہ تمام آوازیں ، الزامات اور حقائق پی ٹی آئی میں موجود اچھے لوگ سامنے لائے ہیں جو عمران خان کی تقریروں کے دھوکے میں آگئے تھے ۔ پر جب انھوں نے حقائق دیکھے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ فارن فنڈنگ کیس کا علم بھی سابق پی ٹی آئی کے لیڈر اکبر ایس بابر نے اٹھایا ہوا ہے ۔ پھر حکیم سعید سے لے کر ڈاکٹر اسرار کے عمران خان کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔ تو موجودہ دور میں فضل الرحمان تو بغیر کسی لگی لپٹی کے عمران خان کو جن کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں ۔ اگر خوانخواستہ یہ رتی برابر بھی ٹھیک نکلا تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الحال پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ عالمی طاقتیں جہاں پاکستان کو زیر نگیں رکھنا چاہتی ہیں تو ہماری حکمران اشرافیہ ان کی رکھیل بنی ہوئی ۔ ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات ، اپنی پارٹی ، اپنے رشتہ دار اور اپنے کاروبار کا تو خیال ہے ۔ عوام کا کیا بنے گا ۔ اس ملک کا کیا ہو ۔ اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ۔ حکمرانوں کی عالمی اسٹیبلشمنٹ سے پیار کی پینگیں اور عوام سے یہ ہی وہ لاتعلقی ہے ۔ جو سب کچھ ملیا میٹ کرسکتی ہے ۔

  • باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب ایگزیکٹو ایڈیٹر باغی ٹی وی

    باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب ایگزیکٹو ایڈیٹر باغی ٹی وی

    تین سال قبل ملک کے نامور اینکر مبشر لقمان کی زیر نگرانی باغی ٹی وی کے ساتھ بحثیت ایڈیٹر اپنی ٹیم کے ہمراہ شروع ہونے والا سفر تاحال جاری ہے، ان تین سالوِں میِں بے خوف صحافت ، حق ک پرچار، مظلوموں کا ساتھ اور ظلم ، بد عنوانی، دہشتگردی نا انصافی کے خلاف ڈٹ کر کام کرنے اور بہت کچھ کا موقع ملا۔
    باغی ٹی وی اردو انگلش کے ساتھ ساتھ پشتو زبان میں بھی رپورٹنگ کرنے والا پاکستان کا واحد ڈیجیٹل میڈیا چینل ہے، جو ملک بھر میں اپنے نمائندوں سمیت ایک بڑی ٹیم کے ہمراہ کام کر رہا ہے۔
    باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا کے برعکس باغی ٹی وی نے ہمشیہ نئے لکھاریوں کو اپنا پلیٹ فارم مہیا کر کے حوصلہ افزائی کی اور عام آدمی کی آواز بنا۔

    مظلوم کشمیریوں کے حق میں بے دھڑک اور آگے بڑھ کر رپورٹنگ کی، آج سے سوا دو سال قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم تو باغی ٹی وی واحد ادارہ تھا جو آگے بڑھ کر بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کرنے میں لیڈ کر رہا تھا جسکی گواہیاں دنیا بھر سے موصول ہوئیں۔
    باغی ٹی وی افغانستان میں امریکی قیادت میں مغرب کی مسلط کرتا نام نہاد وار آن ٹیرر کے خلاف نبرد آزما حریت پسندوں کی ہمیشہ آواز رہا اور جب یہ ظلم پر مبنی جنگ اپنے انجام کو پہنچنے لگی تو باغی ٹی وی پاکستان کا واحد ارادہ تھا جس نے دنیا کی افغانستان کے زمینی حقائق سے آگاہی دینے کیلئے باغی پشتو و دری پر مشتمل مقامی ٹیم ہائر کی جس نے لمحہ بہ لمحہ امریکی انخلا اور اس سے متصل معاملات پر حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا، یہ ٹیم تاحال ایکٹو ہے اور افغان بھائیوں کے مسائل دنیا بھر میں اجاگر کر رہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان کی وہ آوازیں جن پر قومی سطح پر قدغنیں لگی تھیں باغی ٹی وی نے کسی قسم کے دباؤ کے بغیر انہیں آواز دی اور اس کی پاداش میں قربانیاں بھی دیں۔
    بڑے بڑے مافیاز کی کرپشن کی بے نقابی میِں ہمیشہ کسی کو خاطر میں نہیں لائے، چاہے سول ایوی ایشن سے متعلق بے ضابطگیاں ہوں یا آٹو موبائلز کی چلتی پھرتی قاتل گاڑیاں باغی نے عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔
    باغی ٹی وی کے قارئین ،ناظرین اور خیر خواہوں کا شکریہ کہ یہ سب ان کے تعاون سے ہی ممکن ہوا، باغی ٹی وی اپنی دسویں سالگرہ پر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اپنی زریں روایات کے عین مطابق حق سچ کی آواز بنتا رہے گا ان شا اللہ
    Baaghi اردو Baaghi TV پشتو Baaghi News

  • موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    2021 دسمبر کے وسط تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی ہر طرف یہ چامگویئاں ہورہی تھیں کہ شاید اب سردی ویسے نا رہے جیسے چند سال پہلے تک تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ستمبر کے اینڈ سے موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔لیکن دنیا میں مختلف نیو کلئیر تجربات، بےہنگم ٹریفک سبزہ کی کمی کی وجہ سے موسم گرما میں ناصرف شدت آئی ہے بلکہ وہ زیادہ ماہ پر محیط ہوگیا ہے۔ جو سردی کی رات ستمبر کے آخر تک محسوس ہوتی تھی وہ اب نومبر میں محسوس ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نومبر تک پنکھے بھی چلتے ہیں۔ اس بار بھی شدت دسمبر کے آخر سے شروع ہوئی ہے لیکن بہت شدید 2022 کا آغاز شدت سردی سے شروع ہوا۔ بارشیں نا ہونے کی وجہ سے جہاں پہلے خشک سردی کا راج تھا ساتھ نزلہ، زکام، بخار کاوہیں فصلوں کو بھی نقصان ہورہا تھا جنوری کی چار سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔ دیہاتوں شہروں میں عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی کو فکر کہ پکوڑوں کے ساتھ بریانی بنائی جائے یا اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کیا جائے ۔گھر رہا جائے یا دوسرے شہروں خصوصا اسلام آباد جایا جائے تو کسی کو فکر کہ رات کا کھانے کا بندوبست کیا جائے؟ کیونکہ موسم کی شدت کسی بھی لحاظ سے ہو غریب کے لیے بہت مشکل لاتی ہے۔نا دیہاڑی ملتی ہے اور نا کوئی مدد کرتا ہے۔ ہم اپنے چاہ تو سارے پورے کرتے ہیں لیکن مدد کرنے کے لیے دو کام کرتے ہیں ایک تو تصاویر لگا کر انکی عزت نفس کو مجروح کرنا اور دوسرا سوشل میڈیا کا، مین سٹریم میڈیا کا اور پرنٹ میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو حکومت وقت کے مشتعل کرنا۔اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت وقت کی زمہ داری ہے معاملات کو کنٹرول رکھنا مواقع بنانا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحثیت معاشرہ کا مفید رکن ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم صرف تصاویر لگا کر یا گالیاں دے کر اپنی فرسٹریشن نکال کر بری الزمہ نہیں ہوجاتے ہیں لیکن ہم نے اپنے اس رویے پر غور ہی نہیں کیا کبھی۔ بس دیکھا دیکھی اپنی خواہشات اور اسائشات کو ضرویات بنالیا ہے۔ اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر کام کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں۔جب کہیں ناکام ہوتے ہیں تو اسکا الزام اپنی غلطیوں کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیتے ہیں انکے خلاف بات کرتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ جبکہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے ہیں۔بات ہورہی ہے موسم کی شدت اور ہمارے رویوں کی کہ کیسے ہم اللہ کے معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردیتے ہیں اس بار کئی سالوں بعد مری میں برفباری اتنی شدید ہوئی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔مری کو ملکہ کوہسار کہاجاتا ہے۔گہرے سبزرنگ کے قدآور، گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی ‘ملکہ کوہسار مری’ میں ان دنوں رش بےپناہ ہے۔ ہزاروں فٹ اونچی وہ چوٹیاں جو دسمبر سے فروری تک برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

    پنڈی سے 39 کلو میٹر دور سطح سمندر سے اسکی بلندی7500 فٹ ہے۔ پہلی تعمیر یہاں 1851 میں ہوئی تھی۔ رقبہ بہت زیادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں پانچ سے دس، ہزار تک گاڑیاں آسانی اور سہولت کے ساتھ آ جا سکتی ہیں مسلہ تب ہوتا ہے جب سیاح بڑی تعداد میں مری داخل ہوتے ہیں ،چونکہ زیادہ دور نا ہونے کیوجہ سے بیرونی سیاحوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک سیاحوں کی بڑی تعداد سارا سال آتی جاتی رہتی ہے خصوصاً موسم گرما کی تعطیلات اور سرما کی تعطیلات میں۔ موسم گرما میں موسم خوبصورت رہتا ہے گوکہ مشکلات ہوتی ہیں جب تعداد تجاوز، کر جائے۔ لیکن حالات کنٹرول میں رہتے ہیں مسلہ تب بنتا ہے جب موسم سرما میں برفباری میں لوگ زیادہ تعداد میں مری پہنچتے ہیں فیملی کے ساتھ۔ اور یہ تعداد ہزاروں سے لاکھوں افراد تک جب پہنچتی ہے تو نا صرف انتظامیہ کے لیے مشکل ہوتی ہے بلکہ فیمیلز کے لیے بہت مشکل حالات بن جاتے ہیں جیسا کہ ابھی ہورہا ہے۔ نارمل حالات میں بھی جب گاڑیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرجائے تو مشکل ہوتی ہےوہاں۔ اب دس ہزار کے بجائے بجائے ایک لاکھ تک جا پہنچی ہے تو ٹریفک جام ہو گیا ہے لوگوں کو سڑکوں پر دن رات گزارنا پڑرہے ہیں اور یہ بچوں کے لیے خاص طور پر مشکل حالات ہوتے ہیں۔ اس بار برفباری شدید ہورہی ہے اور برفباری دیکھنے کے شوقین افراد نے بغیر موسمی حالات کا اندازہ کیے فیملیز سمیت اندھا دھند مری پہنچے جس برفباری کا تو پتہ نہیں انجوائے کرسکے یا نہیں لیکن حالات بہت مشکل دیکھے۔سڑکوں پر رات گزارنی پڑی، ہوٹلوں کی بکنگ نا ملی اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی میں تعطل نے بہت پریشان کیا۔ انتظامیہ کئی دن سے مسلسل منع کررہی تھی کہ مزید گنجائش نہیں ہے اور برفباری شدید ہے اس لیے مزید لوگ نا آئیں لیکن جذباتی قوم جس کام پے لگ جائے نفع نقصان سوچے بغیر دوڑ پڑتی ہے۔ اس موسمی حالات میں جہاں 18،19 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ابھی بھی سڑکوں پر پھنسی ہوئی ہے عوام۔ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے علاقہ کو آفت زدہ کراردےدیا گیا ہے فوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔ جو کہ ریسکیو آپریشن جاری کیے ہوئے ہیں۔ برف ہٹائی جارہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپنی غلطی تسلیم کرنے بجائے عوام انتظامیہ کو ہی برا بھلا کہہ رہی ہے۔ اور مری روڈ پر الجھ رہی ہے کہ مری جانے دیا جائے جبکہ پنڈی کمیشنر نے مری روڈ جانے کے لیے بند کردیا ہے۔ یہ برفباری تو فروری کے آؤاخر تک رہنی ہے اپنی جانوں کو مشکل میں نا ڈالیں احتیاط اور صبر سے کام لیں۔ اگر عوام اس طرح بغیر سوچے سمجھے رش نا لگاتی تو شاید اتنی مشکلات نا پیش آاتیں۔ جان ہے تو جہاں ہے اپنی حفاظت کریں لوگوں کے لیے آپ محض گنتی یا تعداد ہیں لیکن اپنی فیملی کے لیے سب کچھ ہیں۔ کچھ دن ٹھہر کے پروگرام بنائیے تاکہ نا آپ مشکل میں ہوں اورناہی انتظامیہ۔ کیونکہ سمھبالنا تو انہوں نے ہی ہے نا۔ جو پھنسے ہوئے ہیں انکے لیے دعا کریں کہ خیر و عافیت سے گھر لوٹیں۔ اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
    @irumrae