Baaghi TV

Category: سیاست

  • صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی

    صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی

    صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی
    ایک وقت تھا جب صحافت کو معزز پیشہ سمجھا جاتا تھا، جب لوگ کسی صحافی سے مل کر اس لیے خوش، ہوتے تھے کہ انکے مسائل کو ایوانوں تک پہنچایا جائے گا اور یقیناً کوئی نا کوئی حل بھی نکلےگا۔اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ مسائل نا صرف احکام بالا تک پہنچتے تھے بلکہ حل بھی ہوتے تھے۔ دوسری طرف لوگ صحافت سے یا صحافیوں سے ڈرتے بھی تھے کہ کوئی غلطی کی ایک بار منفی طرز، زندگی کی وجہ سے نام اخبارات کی زینت بنا تو باقی زندگی بہت مشکل ہوجائے گی۔ عزت خاک میں مل جائے گی۔ یعنی صحافت کی وجہ سے لوگوں کے طرز زندگی مختلف تھا۔ اخبارات بھی چند گنے چنے تھے، جنگ، نوائےوقت، ڈان، وغیرہ وغیرہ۔ ان اداروں سے وابستہ صحافیوں کا معاشرے میں ایک مقام تھا، نام تھا، ایک ہی چینل تھا پی ٹی وی اس، پے چلنے والے پروگرام حکومت پاکستان سے منظورشدہ ہوتے تھے۔ عام طور پر اپوزیشن کی نمائندگی ناہونے کے برابر تھی۔ پھر وقت بدلا پرائیویٹ چینل دھڑا دھڑ بنے ساتھ اخبارات بھی، اور یوں صحافت معزز پیشے سے نکل کر کمرشلائز ہوگیا۔ حکومتی اراکین نے اور اپوزیشن نے اپنے اپنے چینل چنے اور ان میں کام کرنے والے ملازمین کو اپنے ساتھ ملا لیا اپنی اپنی راہ ہموار کرنے میں لگ گئے اوراس راہ کی ہمواری میں وطن اوراسکی محبت کہیں دور رہ گئی۔ میڈیا چاہے پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، یا پھر سوشل رائے عامہ ہموار کرنے کا بہترین زریعہ ہے اور عوام کی رائے اپنے حق میں استعمال کرنے کرنے کے لیے ہر طریقہ ازمایا گیا۔ کہیں پیسے دیےگئے، کہیں پلاٹ دیے گئے، کہیں دھمکایا گیا، اور کہیں بچے صحافیوں کے باہر سیٹ کیے گئے۔

    آج پاکستان کے نامور صحافی کسی نا کسی جماعت کے کانے ہیں پورے پورے چینلز مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں اس وقت جب پاکستان مسلم۔لیگ ن کی وائس چیئرمین مریم نواز نے مخالفین کی غیر اخلاقی ویڈیوز ریلیز کرنے کی دھمکی دی تو کئی چینلز جو کہ اس سیاسی جماعت کے پے رول پر ہے خوب پروپیگنڈہ کیا مریم نواز کو اس کا کوئی خاص فائدہ ابھی تک نہیں ہوا تھا کہ مریم کی اپنی آڈیوزریلز ہونا شروع ہوگئیں جس، میں وہ میڈیا کو مینج کرنے کا اعتراف کرتی نظر آئیں۔ جبکہ اس سے پہلے جب حکومت نے کہا تھا کہ مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا بند کی جائیں اور فیک نیوز پھیلانے پر میڈیا کو ریگولائز کیا جائے تو یہی مسلم۔لیگ ن نے بہت شور مچایا اور میڈیا کی آزادی پر سٹینڈ لیا جبکہ یہخود میڈیا مینج کرتی آئیں تھیں اور ساتھ فیک نیوز، پھیلانے کا سہرا بھی مریم نواز کے سر ہیں۔ ابھی ایک دن پہلے پھر ایک آڈیو لیک ہوئی جس میں مریم نواز نے پرویز رشید سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے کچھ صحافی جیو کے انکے خلاف ہیں بلکہ ایک لفظ استعمال کیا کہ "بھونکنے والے کتے بٹھا دیے گئے ہیں”۔ کیا یہ لفظ ایک جماعت کی وائس چیئرمین جوکہ خود کو مستقبل کی وزیراعظم سمجھتی ہیں سوٹ کرتا ہے؟ اور صحافیوں کو مینج کرنے کا کل ایک نیا طریقہ بتایا کہ کہ انکے والد صاحب آذربائیجان سے ٹوکریاں لائے تھے وہ ایک صحافی اور اینکر ہیں نصرت جاوید انکو دینی ہے اور دوسری ٹوکری رانا جواد کو دینی ہے۔ یعنی میڈیا مینجمنٹ جو لفافوں اور پلاٹوں سے شروع ہوئی تھی وہ ٹوکریوں تک جا پہنچی ہے۔ کل اس پرسوشل میڈیا پر بہت شور سنا گیا پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے باقاعدہ ٹوکریوں کی صحافت پر ٹرینڈ کیے۔ نہیں معلوم کہ اب مزید صحافت کہاں تک بدنام ہوگی۔ افسوس اس بات پر ہے کہ عمران خان کے لفظ اوئے کہنے پر سارا سارا دن پروگرام کرنے والے صحافی اور چینلز خود کے لیے لفظ کتا سن کر بھی تاحال خاموش ہیں۔ اس سے پہلے اسی لفظ سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی کہہ چکا ہے۔

    @irumrae

  • مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی پر لکھا بھی بہت جارہا ہے اور بات بھی بہت ہورہی ہے۔ مہنگائی کا شور بھی بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی ہے کیوں؟ اسکی وجوہات کیا ہیں؟ کیا اس سے پہلے کبھی مہنگائی ہوئی نہیں؟ یا پھر ہم ہیں ناشکرے؟ کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلی حکومت میں بھی ریکارڈ مہنگائی تھی، ہر چیز، مہنگی تھی، لوگوں کی پہنچ سے دور تھی، کیونکہ بہت سی اشیاء ملتی ہیں نہیں تھیں یا پھر ان لوگوں کو ملتی تھیں جو بلیک میں یا مہنگے داموں خرید سکتے تھے۔ اگر وزراء کو کچھ کہا جاتا تو گالیاں اور دھمکیاں ملتی تھیں،ملکی کا وزیر خزانہ مہنگائی کی وجہ سے کتے بلیاں کھانے کا مشورہ دیتا تھا، مہنگے داموں میگا پراجیکٹس لگ رہے تھے جن سے آمدنی زیرو اور قرضہ اربوں تھا، جب بیس بیس سال کے لیے بجلی گیس کے مہنگے ترین معاہدے ہورہے تھے۔لیکن اس سے بھی پیچھے نظر دوڑائیں تو بھی مہنگائی تھی، جب سڑکوں پے آتا اور چینی لینے والوں کی لائینیں لگی ہوتی تھیں، جب آٹا کے حصول کے لیے لوگوں کے سر پھٹتے تھے، جب عورتیں آٹا زمین سے سڑکوں سے بکھرا ہوا اکٹھا کرکے لے جاتی تھیں، اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو بھی مشرف کو مارشل لاء مہنگائی اور بدامنی کی وجہ سے ہی تھا۔اور اگر اب سے تیس چالیس سال پیچھے چلے جائیں بھٹو جوکہ سندھ میں اب بھی زندہ ہے اسکی تقاریر سن لیں تو وہ بھی مہنگائی کی بات کرتا نظر اتا ہے۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب ہی اتنا شور کیوں؟ جبکہ یہ مہنگائی پوری دنیا میں آئی ہے، اس سے نا تو یورپ بچ سکا نا ایشیاء تو پھر کیا وجہ ہے کہ اب ایک ماحول بنا دیا گیا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اب مہنگائی کا شور زیادہ ہے جس کی وجہ سے عوام مشکل میں ہے۔اور ان وجوہات کی وجہ عوام بھی ہے کافی حد تک۔ کیونکہ مہنگائی وہ ہوتی ہے جب رسد اور خرچ میں فرق ہو تو کیا ایسا ہے؟

    کیا چیزیں نہیں مل رہیں؟ کیا عوام ان چیزوں کے لیے رل رہی ہے؟ جواب ہے کہ بلکل نہیں ہر چیز بازار میں موجود ہے، جب ہر چیزموجود ہے تو پھر مہنگی کیوں؟ کیونکہ ہم میں احساس نہیں ہے۔ ریڑھی والے سے لے کر چھوٹی دوکان تک اور چھوٹی دوکانوں سے شاپنگ پلازوں تک خلائی مخلوق تو نہیں چلا رہی ہے۔ آپ لوگ ہی چلا رہے ہیں نا؟ فیکٹریوں سے لے کر ملوں تک عوام کے پاس ہی ہے نا سب کچھ؟ تو پھر کیوں الزام کسی اور کو دیا جارہا ہے؟ اپنے گریبان میں کیوں جھانکا نہیں جارہا؟ کیا یہ کہہ کر بخشش کروا، لیں گے کہ چونکہ عمران خان کو ناکام کرنا تھا اس لیے دس کی چیز بیس میں دی؟ عمران خان کی نفرت میں اپنے ہی بھائیوں کا خون چوسا؟ تو کیا بخشش مل جائے گی؟ کبھی نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو چیزیں ہم باہر سے منگواتے ہیں وہ بین الاقوامی سطح پر مہنگائی ہونےکی وجہ سے مہنگی ہوئیں ہیں جو یہاں بنتی ہیں وہ کیوں مہنگی؟ یقیناً ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کی ضرورت ہے اور دوسری بات ہمارے لیے یہ حالات مشکل ہیں تو ان لوگوں کے لیے کتنے مشکل ہونگے جو دیہاڑی دار تھے۔ کیا ہم نے اپنی گنجائش میں انکی مدد، کی؟ کیا ہم نے اپنے دسترخوان میں انکو شامل کیا؟ کیا ہم نے انکا آحساس کیا؟ ہم بحثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم اگر مل کر مشکل وقت کا مقابلہ کریں گے تو یقیناً یہ وقت مشکل مشکل نہیں لگےگا۔اللہ پاک ہم سب کی مشکلات دور فرمائے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے ہم اس کڑے وقت سے گزر جائیں
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ

    نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ

    نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ
    جیسا کہ امید تھی کہ منی بجٹ پاس ہوجائے گا ۔ ہوگیا ہے ۔ مگر اس منی بجٹ کا بوجھ اب پی ٹی آئی سمیت اتحادی جماعتیں کیسے اٹھائیں گی یہ دیکھنا ہے۔ ۔ کیونکہ شوکت ترین جو مرضی کہانیاں سنائیں یا بتائیں اس کے بعد اب مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آنا ہے ۔ جس کے بعد قوی امید ہے کہ اگلے جنرل الیکشن میں یہ طوفان اس حکومت اور اس کے اتحادیوں کو بہا کر لے جائے گا ۔ کیونکہ مت بھولیں عوام ووٹ کی طاقت سے تبدیلی لایا کرتے ہیں ۔ جس کا گاہے بگاہے وہ انتظار کررہے ہیں ۔ آپ اس منی بجٹ کو last nail in the coffin بھی کہہ سکتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ یہ منی بجٹ نہیں عوام پر ایک نئے طرح کا جبری عذاب ہے جو مسلط کیا گیا ہے ۔ مجھے تو پی ٹی آئی کے ترجمانوں پر حیرت ہے جو اس منی بجٹ کو بھی حکومت کی فتح قرار دے رہے ہیں ۔ خوب خوشیاں منا رہے ہیں مبارکبادیں دے رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ آئی ایم ایف کی فتح ہے ۔ کیونکہ اب پاکستان کو معاشی طور پر بذریعہ قانون گروی رکھ دیا گیا ہے ۔ اور اس گناہ میں پی ٹی آئی کی حکومت سمیت تمام اتحادی شامل ہیں ۔ ۔ اچھا جب یہ منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور عوام سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا ۔۔۔ یہ ہیں ہمارے نمائندے ۔

    ۔ اپوزیشن کا کام احتجاج ہوتا ہے جو آج تمام اپوزیشن جماعتوں نے خوب کیا ۔ ۔ اپوزیشن نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے ۔
    ۔ خوب نعرے بازی بھی کی گئی ۔ ۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھواں دھار تقریریں بھی ہوئیں ۔ ۔ بلکہ پی ٹی آئی کی عزالہ سیفی کو پیپلزپارٹی کی شگفتہ جمانی نے تھپڑ تک جڑ دیا ۔ ۔ تو ایوان میں وہ ہی کچھ ہوا جس کی امید تھی ۔ بالکل امید سے بھی آگے کام ہاتھا پائی تک جارہا تھا ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں کہ منی بجٹ کے معاملے میں حکومت جیت چکی ہے اور اپوزیشن کس شکست ہوئی ہے ۔ مگر یہ پہلی ایسی جیت ہے جو حکومت کے گلے کا پھندہ بن سکتی ہے ۔ اس کا رزلٹ اب آپ کو ہر آنے والے الیکشن میں دیکھائی دے گا ۔

    ۔ مِنی بجٹ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 350 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ ۔ امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جنرل سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے۔۔ بل میں پاور سیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے، ادویات بنانے کیلئے استعمال ہونے والےخام مال پرٹیکس چھوٹ ختم کرنے، بیرون ملک سے منگوائے جانے والے پالتو جانوروں، پرندوں اور انڈوں پرٹیکس چھوٹ واپس لینے، امپورٹڈ گوشت اور پولٹری آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے، موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے۔ موبائل فونز پر انکم ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ
    850 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے۔ ۔ پھر ان کڑی ترین شرائط کی بدولت بجلی اور پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔۔ دراصل اس 360
    ارب روپے کے منی بجٹ میں صرف ٹیکس ہی ٹیکس ہیں ۔ عملاً آج سے پاکستان کی معاشی خود مختاری گروی رکھ دی گئی ہے ۔ آج جو بھی قوانین بنے ہیں یہ سب آئی ایم ایف کے ایما پر بننے ہیں ۔ یاد کریں یہ وہ ہی عمران خان ہیں جو کہا کرتے تھے کہ مر جاوں گا بھیک نہیں مانگو گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا۔ ہماری تیاری پوری ہے ۔

    ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا ۔۔۔ کاں ۔۔۔ چٹا ہی ہے ۔ ۔ آج پھر انھوں نے وہ ہی بونگی ماری ہے جو وہ پہلے کئی بار مار چکے ہیں کہ منی بجٹ میں عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا۔ عوام پر بہت تھوڑا بوجھ پڑے گا۔ یہ سفید جھوٹ ہے ۔ عنقریب جب لوگوں کی چینخیں نکلیں گی تو پھر عمران خان اور ان کے ترجمانوں کے پینترے دیکھائے گا ۔ کبھی کسی کو مافیا کہیں گے تو کبھی اپوزیشن پر سارا ملبہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔ یعنی جو یہ کرتوت کر رہے ہیں اس کی ذمہ دار بھی اپوزیشن ہے ۔ پر اب ان تین سالوں میں عوام بہت کچھ دیکھ بھی چکے ہیں اور سمجھ بھی چکے ہیں اس لیے اب وہ حکومت کے کسی بھی جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے ۔ اس حکومت کے پاس جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ یہ سرٹیفائیڈ جھوٹے ایک بار نہیں کئی بار جھوٹ بول چکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر بار رنگے ہاتھوں پکڑ بھی گئے ہیں ۔ بلکہ شاید ان تین سالوں میں انھوں نے ایک بھی سچ نہیں بولا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ منی بجٹ سے لگنے والے ٹیکسوں سے کاروبار مزید ختم اور معیشت سکڑ جائے گی ۔ دیکھا جائے تو عمران خان کا منی بجٹ لانے کی وجہ گزشتہ حکومتوں کو قرار دینا دماغی خلل کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ 350 ارب کے ٹیکسوں سے سیکڑوں اشیا مہنگی ہوں گی، ٹیکس سے جو سیکڑوں اشیامہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر پڑے گا حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے ۔ کیونکہ سی پیک تو دور کی بات یہ تو کوئی چھوٹی موٹی انڈسٹری لگانے میں بھی ناکام رہے ہیں ۔ پھر زراعت جو اچھی جا رہی تھی ۔ وہاں اس بار ڈبل داموں میں ڈی اے پی کی بوری بکی ہے ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہیں ۔

    ۔ پھر اس منی بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی تجاویز بھی تشویشناک ہیں یہ بجٹ نہیں لاکھوں افراد کو بےروزگار کرنے کا منصوبہ ہے۔ آج کے بعد اب کسی کو شک نہیں رہ جانا چاہیے کہ یہ حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر چل رہی ہے؟
    اور ہمارے ملک کا وزیر خزانہ تخواہ تو ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں سے لیتا ہے ۔ مگر اصل نوکری آئی ایم ایف کی کرتا ہے ۔۔ کیونکہ ایڈجسٹمنٹ اخراجات میں کٹوتیوں اور ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے بے روزگاری اور افراط زر میں اضافہ ہوگا عوام کو آگے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ وہ تبدلی ہے جس کا تبدیلی سرکار نے وعدہ کیا تھا؟ دیکھا جائے تو یہ ملک کو مدینہ کی ریاست نہیں، آئی ایم ایف کی کالونی بنا رہے ہیں، پہلے کہتے تھے آئی ایم ایف نہیں جائیں گے پی ٹی آئی حکومت یو ٹرن لے کر آئی ایم ایف چلی گئی، پھر کہتے تھے منی بجٹ نہیں ہوگا، اب منی بجٹ بم گرا رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی سونامی آئے گی۔ پھر آج وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو منی بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے اندر تو حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے منی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا تھا ۔ پر پاس کروانے میں ایم کیو ایم نے اپنا پورا کندھا حکومت سے ملا کر رکھا ۔ جبکہ پہلے ایم کیو ایم اراکین کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا،منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

    ۔ پر میں آپکو بتاوں یہ حکومت اپنے لوگوں کیا کسی اتحادی پر بھی اعتماد نہیں کر رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اجلاس کے لئے پہنچے تو اراکین کے موبائل فونز باہر رکھوا لیے گئے خواتین ارکان کے بیگز بھی باہر رکھوا دیئے گئے۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے شہباز شریف پر کافی غصہ نکلا کہ اسمبلی میں شہبازشریف کی تقریر نہیں ہوتی جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے۔ ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے۔ حکومت کوئی مشکل میں نہیں۔ کہا جاتا ہے نواز شریف آج آرہے ہیں کل آرہے ہیں ۔ نواز شریف جب سعودی عرب گئے تب بھی یہی کہا جاتا تھا۔ میرے خیال سے عمران خان کو کافی دکھ ہے کہ شہباز شریف نے ایک بار پھر وہ کر دیکھایا ہے جو عمران خان نے شاید سوچا بھی نہ تھا ۔ کیونکہ ان کی نظر میں ان کے علاوہ اب کوئی آپشن باقی بچا ہی نہیں تھا ۔ پر شہباز شریف نے ایک بار پھر رابطے بحال کروا کر کم ازکم پی ٹی آئی کی ہوا ضرور نکال دی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ عوام اب انتظار کررہی ہے کہ کب الیکشن آئیں اور عمران خان سمیت پی ٹی آئی والے ووٹ مانگنے آئیں تو ہم ان کو تگنی کا ناچ نچوائیں ۔ ۔ کیونکہ آج غریب کا برا حال ہو چکا ہے۔ حکومت کے دلاسوں اور دعوؤں کےباوجود کوئی اُمیدنظر نہیں آ رہی کہ عوام مشکلات کی اِس دلدل سے کبھی نکل پائیں گے۔ اب بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں یا ملک میں مقیم پاکستانی ہر کوئی یہ ہی سوچ رہا ہے کہ اب اِس ملک کا کیا بنے گا؟ اور پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ کسی کے پاس کوئی امید دینے کو نہیں ہے ۔ اِس وقت پاکستان بالخصوص ہماری نوجوان نسل میں مایوسی کی ایک لہر پھیل چکی ہے۔ جن کے پاس اِتنے وسائل ہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک جا کررہ سکتے ہیں وہ پاکستان سے بھاگے چلے جا رہے ہیں اور جو وسائل کی کمی کے باعث باہر نہیں جا سکتے وہ مایوسی اور مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں۔۔ اس سے زیادہ میں کیا کہوں ۔ یہ ہی ہے نئے پاکستانی کی کہانی ۔

  • حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    کیا آپ جانتے ہیں میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ پنجاب کیوں کہ رہا ہوں ۔ نہیں جانتے تو چلیں اس آرٹیکل کو پورا پڑھ لیتے ہیں ۔ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ کہنے پر مجبور ہوں ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مئ انیس سو انہتر کو اپنے آبائی علاقے بارتھی میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بارتھی سے حاصل کی ۔ اور اس بعد عثمان بزدار نے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اس کے علاؤہ عثمان بزدار نے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے ۔ آپ کے والد پہلے ہی سیاست میں تھے ۔ والد صاحب کے بعد آپ نے سیاست میں حصہ لیا ۔ اور دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں آپ صوبہ محاذ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جوکہ بعد پاکستان تحریک انصاف کی جماعت میں شامل ہوگئ۔

    عثمان بزدار نے دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اپنے مخالف امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک سرپرائز کے طور پر عثمان بزدار کو پنجاب کا سب بڑا عہدہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے منتخب کیا ۔ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کے خلاف ایک بھرپور انداز سے مہم چلائی گئی ۔ لیکن وزیرِ اعظم نے انکا بھرپور طریقے سے ساتھ دیا اور انہیں اپنا وسیم اکرم پلس کہ دیا ۔اور وزیر اعلی عثمان بزدار نے پنجاب کو ایک نئے انداز سے چلایا ۔ ایک پرانا انداز انڈر ورلڈ شوباز کو چھوڑ کر ایک نیا بلکل سادہ سا طریقہ اپنایا۔ صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ حالاں کہ ان پر جتنی تنقید ہوئی شائد کیسی پر ہوئی ہوگی۔ لیکن آپ کی جرات ہمت اور بلند حوصلے کو سلام ۔ آپ نے ان سب باتوں کو پرے پشت رکھ کر صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں محض تین سالوں میں پنجاب ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوئے۔ جتنے کام محض ان تین سالوں میں ہوئے اتنے کام پچھلے ستر سال میں نہیں ہوئے ۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اپنے تین سالوں میں اکیس نئے یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جن میں چند یونیورسٹیوں کے نام درج ذیل ہیں گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب ، نارتھ پنجاب یونیورسٹی چکوال ، کوہسار یونیورسٹی مری ، یونیورسٹی آف میانوالی ، یونیورسٹی آف تونسہ ، تھل یونیورسٹی بھکر ، ویمن یونیورسٹی راولپنڈی ، چاکرے اعظم یونیورسٹی ڈی جی خان ، راجن پور یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ۔ ساتھ سو کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز۔ اس کے علاؤہ یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام ، چھیاسی نئے ایسوسی ایٹ کالجز کا قیام ، آٹھ ہزار تین سو ساٹھ سکولوں کی اپ گریڈیشن ، نو مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا قیام ، نشتر فیز ٹو ہسپتال کا قیام ، چلڈرن ہسپتال بہاولپور ، برن سنٹر بہاولپور ،میانوالی ، لیہ ، اٹک ، بہاولنگر اور راجن پور میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال ، ڈی جی خان کارڈیالوجی ہسپتال کا قیام شامل ہیں۔ محروم اور پسماندہ لوگوں کا احساس پناہ گاہیں ، لنگر خانوں کا قیام ، اور صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکج ، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام ، بہتر لاکھ خاندانوں کے لیے صحت کارڈ کا اجراء ، دس اسپیشل اکنامکس زون کی منظوری ، قبضہ مافیا سے دس لاکھ کینال رقبہ واگزار ،کسانوں کے 26 ارب روپے کے بقایاجات واپس ، سمارٹ پولیس اسٹیشن کا قیام ، 24 اضلاع میں سپورٹ کمپلیکس شروع کی گئی ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا قیام ،بہاولپور اور ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری ،جنوبی پنجاب فنڈز کی ری فینسنگ اور اس کے علاؤہ دیگر کئی فلاحی منصوبے شامل ہیں جنکا ذکر ایک آرٹیکل میں شامل کرنا ناممکن ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی نگرانی میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اب شوبازیاں نہیں صرف کام۔

  • بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ الزامات ہم ہر روز کسی نہ کسی طرح سننے میں آتے ہیں.اس سال ٹویٹر پہ. الیکٹرانک میڈیا گروپس اور پرسنز کے خلاف بیسوں ٹرینڈز چلے.
    میڈیا کا کردار اور میڈیا کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.میڈیا کی تقسیم مہذب ممالک میں الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز کی صورت میں کی جاتی ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہ میڈیا حکومتی ، اپوزیشن، اور پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز.
    میڈیا کا حقیقی کردار تو آگہی پیدا کرنا اور حکومتی کارکردگی پہ کڑی نگاہ رکھنا ہے اور ساتھ ہی حکومتی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانا بھی ہے.تمام منصوبوں اور شعبہ جات کے متعلق ماہرین کو چینلز پہ بلانا اور حکومتی نمائندوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے.اور اپوزیشن کی توجہ دلانا کہ کس طرح ایوان میں ان معاملات پہ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے جواب طلبی کریں.

    مگر افسوس کہ میڈیا ہاؤسز یا تو حکومتی اشتہارات کے سامنے بے بس ہیں یا اپوزیشن کے زرخرید غلام.
    آپ کوئی بھی چینل لگا کر دیکھ لیں یا تو حادثات کی خبریں ہیں یا ایک محسوس طریقے سے حکومت یا اپوزیشن کے حق میں راۓ سازی بلکہ کھلم کھلا جانبدار سوالات پہ مبنی پروگرامز کیے جاتے ہیں جن میں منصوبے اور ملکی ترقی تو نظر نہیں آتی دونوں طرف کے راہنما ذاتیات پہ واہیات گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں. لڑائی جھگڑے میں اصل موضوع کھو جاتا ہے اور اسی لڑائی سے کوئی اگلے پروگرام کے لیے سکینڈل اخذ کر لیا جاتا ہے.
    حکومتی نمائندے چند چینلز سے نالاں ہیں تو اسکے پیچھے واضح دلائل ہیں.عمران خان پہ گلالئ الزام لگائے تو ایک میڈیا گروپ گھنٹوں پرائم ٹائم شو کرتا اس موضوع پہ وہیں زبیر عمر کی ویڈیو پہ وہی میڈیا گروپ کہتا ہے یہ زبیر صاحب کی ذاتی زندگی ہے ہم دخل نہیں دے سکتے حالانکہ عمران خان اس وقت اقتدار میں نہ تھے جبکہ زبیر صاحب کا سکینڈل انکی گورنری کے عہد کا تھا.

    اسی طرح اپوزیشن ایک دو میڈیا ہاوسز پہ جانبداری کا الزام لگاتی ہے تو وہ بھی درست ہے کیونکہ وہ چینلز اپوزیشن کے دورِحکومت میں اشتہارات نہ ملنے پہ اپوزیشن کے خلاف کوئی وار ضائع جانے نہیں دیتا.بلکہ ایک چینل تو حکومتی کارکن کی ملکیت ہے.
    اب آتے ہیں پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز کی طرف جن کو سیاسی جماعتیں تنخواہ دیتی ہیں کہ وہ ان کے حق میں کیمپئن کریں.یہاں خطرناک بات یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافی اور اینکر پرسنز ان سیاسی میڈیا ہاوسز کے پیڈ ملازمین بن جاتے ہیں.

    وہی اینکرز اپنی ایک سیاسی جماعت کے ورکرز بن کر یکطرفہ کیمپئنز چلاتے ہیں.یہی یکطرفہ کیمپئننگ انکی صحافت کا جنازہ بن جاتی ہے.سوشل میڈیا ٹیمز کے یہ ممبرز جب الیکٹرانک میڈیا پہ بیٹھتے اور یکطرفہ اور جانبدار پروگرام کرتے ہیں تب دل. بے ساختہ پکارتا ہے بکاؤ میڈیا.ابھی بھی چند صحافی ان پروپیگنڈہ چینلز میں رہ کر عوام کی نمائندگی کو کوشش میں ہیں.اللہ ان کا حامی و ناصر ہو.اور دعا ہے پاکستان میں حقیقی صحافت ابھرے اور ملکی ترقی میں متحرک قوت بنے.آمین

  • کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    ۔ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    ۔ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    ۔ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    ۔ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    ۔ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

    ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650
    ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔

    ۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔

    کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے

  • حکومت و اپوزیشن کی جنگ اور مہنگائی. تحریر: نوید شیخ

    حکومت و اپوزیشن کی جنگ اور مہنگائی. تحریر: نوید شیخ

    ملکی سیاست میں اکیسویں صدی کا اکیسیواں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ کے ساتھ مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلائے۔ پھر کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاء کئے رکھا ہے ۔ پر لگتا ہے کہ نئے سال میں بھی سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا جیسے پہلے تھا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    ۔ کیونکہ کوئی چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے اُس کے لیے رستہ بنایا جائے تو کسی دوسرے کی یہ خواہش ہے کہ اُس کے لیے ملک اور سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کر کے آئندہ الیکشن کو آزادانہ کروایاجائے تو وہ راضی ہو گا۔ جبکہ جو اقتدار کے مزہ لے رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں ۔ چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اُن کی حمایت جاری رکھیں اور اُن کے مخالفین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ۔ اس وقت جہاں ہر خاص وعام کی زبان پر اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیں توعمران خان کی گفتگو بھی معنی خیز ہے ۔ دراصل جس دن عمران خان نے اپنے وزیروں اور ترجمان کے خصوصی اجلاس میں یہ راز فاش کیا کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس دن اس بحث کو مزید تقویت مل گئی جو ملک میں کئی دن سے جاری تھی۔ حقیقت میں عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

    ۔ ان کا بیان یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں وہ اس سے باخبر ہیں۔ وہ جواب میں کیا کریں گے۔ اس کا اندازہ ان کے ردعمل سے لگایا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کپتان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ فی الحال اس امتحان میں وہ کامیاب نہیں جا رہے۔ ان کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اور جوابی لڑائی کے لئے ان کی حکمت عملی بھی کوئی ایسی نہیں جس پر کسی کو پریشانی ہو۔ حقیقت میں پاکستان میں تبدیلی ہار چکی ہے ۔ جس کی واضح مثال کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست اور پے درپے ضمنی انتخابات میں حکومتی شکست ہے ۔ یوں صحیح معنوں میں عوام نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ دراصل اپوزیشن وہ کام نہ کر پائی ہے جو تحریک انصاف نے بذات خود انجام دے ڈالا ہے ۔ آپ دیکھیں ۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا اثر یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی آپس میں لڑ لڑ پاگل ہونے کو ہیں ۔ جس نے اس شکست کو مزید بڑا کر دیا ہے ۔ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کے بھتیجے ارباب محمد علی نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ تو دوسری جانب یہ خبریں کہ گورنرخیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر نے میئر پشاور کا ٹکٹ سات کروڑ میں بیچا۔ تاہم میئر پشاور کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار رضوان بنگش نے ٹکٹ کے عوض پارٹی قائدین کو رقوم دینے کی تردید کرتے ہوئے ارباب خاندان کو پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔

    ۔ اس سب کا پنجاب کے مقامی انتخابات میں جو اثر پڑنے جا رہا ہے اُس کی خبر شاید تحریک انصاف کو لانے والے کو بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس طرح منتشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس طرح کسی تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اور شاید اگلا انتخاب اس کا آخری انتخاب ہو۔ جس سے قبل اس پارٹی کے جہاز پر چڑھائے گئے مسافر ایسے جان چھڑانے کی تیاری میں ہیں ۔ جیسے ہمیں کابل کے ایئر پورٹ پر نظر آیا تھا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی سیاست کارکردگی کی نہیں۔ بلکہ صرف الزامات کی سیاست ہے اور لوگوں کے کان اتنے سالوں سے وہی الزامات سن سن کر پک چکے ہیں۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار لگائے ہیں۔ لیکن یہ وقت ٹیم کا نہیں۔ بلکہ کپتان کی تبدیلی کا آ چکا ہے۔ عوام اب مزید اس ناکام تجربہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی اس قابل رہے ہیں کیونکہ ان کی برداشت کی سکت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پھر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے؟ ن لیگ سے ، مولانا سے یا پھر پیپلزپارٹی سے ؟؟

    ۔ جہاں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم ن لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔ فرض کریں اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے گرفتاری دینا ہو گی ۔ ضمانت کرانا ہو گی۔ سزا پر نظرثانی کے لئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔نا اہلی ختم کرانا ہو گی۔ اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ممکن ہے ۔ ہماری ستر سالہ تاریخ ایسی چیزوں سے بھری پڑی ہے ۔ یوں جوں جوں نواز شریف کی یقینی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے۔ حکومتی ترجما نوں کی فوج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ ویسے ان ترجمانوں کی تعداد کتنی ہے شاید خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے ۔ کہ کچھ ہونا والا ہے ۔

    اس سب کے باوجود خبریں یہ ہیں کہ خود حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اپنا اپنا بائیوڈیٹا نواز شریف کے پاس پہنچانے کے لئے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں اور نواز شریف کی ہلکی سی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ کیونکہ ان پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی معلوم ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ یقینی شکست اور ضمانت ضبط کروانے کا ٹکٹ ہے۔ پھر جہاں مسلم لیگ ن کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھی جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی طرح کوئی بات بنے ۔ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی وفاق میں ابھر کر سامنے آجائے ۔ اس حوالے سے کہا تو بہت جا چکا ہے ۔ پھر ابھی گزشتہ ہفتہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے والے اُن کی مدد لینے آئے تھے کہ کس طرح ملک کو اس موجودہ بھنور سے نکالا جائے۔ جس پر اُنہوں نے فارمولے والوں کو کہا کہ پہلے عمران خان کو نکالو۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ ڈیل ہو چکی۔ یا ڈیل ہو رہی ہے۔ اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سب سوالات پر ہر طرف بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ نام عمران خان نے بھی نہیں لیا کہ کون نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہا ہے۔ ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صحافی حضرات بھی نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اسکرپٹ کس کا ہے جس سے نواز شریف مطمئن ہیں۔

    ۔ یہاں یاد کروادوں کہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کی مقتدر قوتوں کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور یہ بھی کہ یہ تبدیلی ن لیگ کو آن بورڈ لئے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے حکومت کا سارا زور ن لیگ کو ملیا میٹ کرنے پر رہا۔ جس میں وہ ہر دوسرے کام طرح مکمل ناکام رہے ۔ دراصل اس تمام صورت حال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے۔ ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کر لیے ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سب کو کچھ نہ کچھ دانا ڈالا ہوا ہے ۔ اور وہ شاید اس بار safe play کررہے ہیں کہ کوئی اگر آنکھیں دیکھائے تو ان کے پاس اس بار دوسرا آپشن موجود ہو ۔ مگر اپوزیشن کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اس وقت واضح طور پر اِن ہاؤس تبدیلی کیلئے حالات خاصے تیار ہیں ۔ تو اپوزیشن نے اگر کسی فوری تبدیلی کیلئے مقتدرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا توعمران خان سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ اس تمام شور شرابے میں مارچ بہت اہم ہے ۔ اور آپ دیکھیں گے عنقریب بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ ایسے ایسے معجزے بھی ہوں گے جن کا کبھی کسی نے خواب وخیال بھی نہ سوچا ہوگا ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست سب چلتا ہے اور سب کچھ ممکن ہے ۔ کیونکہ یہاں ڈیل اور ڈھیل کے بغیر کچھ ممکن نہیں ۔ ۔ یوں اب سیاسی گیند میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ ساتھ آصف زرداری کے کورٹس میں ہے۔

  • عمران خان کی بڑی جیت . تحریر:عفیفہ راؤ

    عمران خان کی بڑی جیت . تحریر:عفیفہ راؤ

    عمران خان کو ایک بڑی جیت نصیب ہوئی ہے روس جیسے بڑے ملک نے اسلاموفوبیا پر اسی موقف کی تائید کی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے عمران خان دہراتے چلے آ رہے ہیں۔خاص کر ایک سال پہلے جو فرانس کا واقعہ ہوا تھا اس کے بعد عمران خان کا جو موقف تھا اس کو آج عالمی سطح پر پذیرائی ملی رہی ہے اوراہم بات یہ ہے کہ یہ ملک ہے یا لیڈر خود مسلمان نہیں ہے۔

    روس کے صدر پیوٹن نے کیا کہا ہے وہ تو میں آپکو بتاوں گا ہی لیکن پہلے میں آپ کو یاد کروا دوں کہ جب فرانس کا واقع ہوا تھا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے تھے اس کے بعد سے عمران خان کا کیا موقف رہا تھا۔وزیراعظم عمران خان یہ کہتے رہے ہیں کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو روکنے کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔وہ اسلاموفوبیا کے خلاف مہم چلائیں گے اور باقی اسلامی ممالک کے لیڈروں کو بھی خط لکھیں گے۔ پیمغمبر اسلام کی گستاخی سے زیادہ تکلیف دہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی اور لیکن ان کے ساتھ مسلمانوں کے رشتے کی مغرب کو سمجھ نہیں ہے۔ ہم اپنی بات ان کو سمجھا سکیں گے۔ ہم آزادی اظہارِ رائے کو مانتے ہیں لیکن اس کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، پیغمبر اسلام کے خاکے اور کارٹون اظہار رائے نہیں بلکہ سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔مغرب میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہولوکاسٹ پر بات کرے، یورپ میں چار ممالک ایسے ہیں جہاں ہولوکاسٹ کا ذکر کرنے پر ہی جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ مغرب میں گستاخانہ خاکوں کو نہ روکنا مسلمان حکمرانوں کی ناکامی ہے۔

    عمران خان نے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو ساتھ ملانے کی بات کی تھی وہ یہ کام تو نہ کر سکے کیونکہ اس وقت مسلمان حکمرانوں کے مقاصد ہی کچھ اور ہیں سب سے بڑھ کر سعودی عرب جس کے ساتھ مسلمانوں کا عقیدت سے بھرپور جذباتی لگاو ہے آج وہاں پر محمد بن سلمان یہ بیان دے رہا ہے کہ وہ پانچ سالوں میں سعودی عرب کو یورپ بنائیں گے۔ یعنی ان کے لئے رول ماڈل ہی مغرب ہے وہ اپنی روایات کو چھوڑ کر مغرب کی طرف جا رہے ہیں۔ تو سوچ لیں جب ان کے مقاصد ہی یہ ہیں تو وہ مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔اور کچھ ایسا ہی ہوا تھا تمام اسلامی ممالک نے وقتی طور پر فرانس کی مذمت تو ضرور کی لیکن کچھ وقت کے بعد سب نارمل ہو گیا فرانس کے صدر سے ملاقاتیں بھی شروع ہو گئیں۔ لیکن عمران خان کا یہ کریڈٹ ضرور ہے کہ انہوں نے جو پہلے دن موقف اپنایا تھا۔ وہ اسی پر ڈٹے رہے اور اب ان کو ایک بڑی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کل ایک سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جس کے دوران وہاں کی ایک صحافی نے ان سے آزادی اظہار پر ایک سوال کیا۔ویسے تو اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ روس میں حکام اور خود ولادیمیر پیوٹن کی حکومت پر اپنے سیاسی حریفوں کو جیلوں میں ڈالنے اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں لگانے سے متعلق الزامات لگتے رہتے ہیں جس میں کئی ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جو انٹرنیشنل میڈیا میں سرخیوں میں رہے ہیں۔

    پیوٹن نے اس بات کو تو ایڈریس کیا ہی لیکن اپنے جواب میں اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیکر اور فرانس والے واقعہ کی مثال دیتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ پیغمبر اسلام کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور اسلام کے پیروکاروں کے مقدس احساسات کی خلاف ورزی ہے۔صدر پیوٹن نے صاف الفاظ میں کہا کہ پیغمبر اسلامﷺ کی توہین کو آزادی کا اظہار نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کے اقدامات شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور یہ ان لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے جو اسلام کے ماننے والے ہیں۔اس حوالے سے انھوں نے فرانس میں چارلی ایبڈو میگزین کے دفتر پر ہونے والے حملے کی مثال بھی دی کہ ایسی باتیں انتہا پسندانہ سوچ میں اضافہ کرتی ہیں۔ اور واضح کیا کہ فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی اچھی بات ہے لیکن اس کی کچھ حدود ہیں اور اس سے دوسروں کی آزادی کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔

    جس پر عمران خان نے بھی ٹوئیٹ کی کہ یہ میرے اس پیغام کی تائید ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنا اظہار رائے کی آزادی نہیں۔ ہم مسلمانوں خصوصا مسلم رہنماؤں کو یہ پیغام غیرمسلم دنیا کے رہنماؤں تک ضرور پہنچانا چاہئے تاکہ اسلاموفوبیا کا تدارک کیا جا سکے۔اور حقیقتا یہ عمران خان کا کریڈٹ بھی ہے اس پر ان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور اب دنیا نے ان کے موقف کو تسلیم بھی کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ ان کی ایک جیت ہے۔لیکن اب اس جیت میں کئی اور سیاستدان بھی اپنا حصہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سیاستدان جو عمران خان پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے تھے وہ اب بھی عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں۔جیسے مولانا فضل الرحمان نے اس پر ٹوئیٹ کی ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اظہار رائےکی آزادی یا فن کا اظہار نہیں ھے عالم اسلام کے اس موقف کی تائید ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ کی حرمت و تقدس آفاقی ھے جس پر ھم انکو خراج تحسین پیش کرتے ھیں۔تو یہاں میں یہ کہوں گا کہ سیاسی اختلافات ایک جگہ لیکن مولانا صاحب کو عمران خان کو کریڈٹ ضرور دینا چاہیے کیونکہ عالم اسلام میں ایک عمران خان ہی تھا جو اس موقف پر ڈٹا ہوا تھا۔اور آج اسے سفارتی سطح پر ایک بڑی جیت ملی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ جیت ملکی سیاست میں عمران خان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے؟؟

    آج یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ پارٹی تنظیموں کی تحلیل کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کردیا ہے جس میں اسد عمر تحریک انصاف کے نئے سیکرٹری جنرل ہوں گے پرویز خٹک خیبر پختونخواہ کے علی زیدی سندھ کے قاسم سوری بلوچستان کے شفقت محمود پنجاب اور خسرو بختیار جنوبی پنجاب کے صدور ہوں گے ۔جس میں سب سے پہلے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کی یہ تنظیم سازی کرنے کے لئے ان کا میرٹ کیا تھا اور یہ کن اصولوں پر کی گئی ہے۔ ویسے تو اگر عمران خان نے یہ تنظیم سازی کرنی تھی تو کے پی کے الیکشن سے پہلے کرتے تاکہ اس کا کوئی فائدہ بھی نظر آتا۔ لیکن نہیں وہاں پر الیکشن ہارنے کے بعد یہ سب کیا گیا اور وہ بھی اچانک کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے اور ایک دم سے اعلان ہو گیا۔ یہ تو وہی معاملہ ہوا کی طلال چوہدری صاحب رات کو کہیں گئے جب وہاں مار پڑی خبر میڈیا تک پہنچ گئی تو پتہ چلا کہ تنظیم سازی ہو رہی تھی۔وہی پی ٹی آئی نے کیا کہ کے پی کے الیکشن میں ہارنے کے بعد تنظیم سازی ہو گئی۔اور جو یہ انتخاب کیا گیا ہے اس میں میرٹ کیا رکھا گیا ہے یہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔پرویز خٹک جو اتنے سالوں سے کے پی کے میں آپ کے ساتھ ہیں ان کی موجودگی میں آپ وہاں سے ہار گئے اور انہی کو آپ نے ایک بار پھر صدر بنا دیا ہے۔دوسری طرف علی زیدی کا صرف ٹوئیٹر پر ایکٹو رہنے کے علاوہ کیا کریڈٹ ہے وہ بھی ہمیں نہیں پتہ۔۔پھر شفقت محمود جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک بڑا نام ضرور ہیں لیکن حلقوں کی سیاست اور ورکرز کے حوالے سے وہ بالکل ایک اچھی چوائس نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ٹوئیٹر پر لوگ کمنٹ کر رہے ہیں کہ کیا عمران خان کو پنجاب میں شفقت محمود سے بہتر کوئی انسان نظر نہیں آیا۔

    اس کے بعد ایک نام جس نے رہی سہی کسر ہی پوری کر دی وہ خسرو بختیار کا ہے۔ ابھی تک جنوبی پنجاب کے لئے انھوں نے کیا کیا تھا جس کو ان کو یہ انعام دیا گیا ہے۔ پھر یہ وہی خسروبختیار ہیں جن کا نام شوگر مافیا اسکینڈل میں تھا کیا یہ وہاں سے کلئیر ہو گئے جو عمران خان نے ان کو یہ عہدہ دے دیا۔اور اسد عمر سے لیکر خسرو بختیار تک ان لوگوں میں جو ایک بات Commonہے وہ یہ کہ ان تمام شخصیات سے جب ہم میڈیا والے کسی ایشو پر ان کا یا ان کی پارٹی کو موقف لینے کے لئے رابطہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں Availableنہیں ہوتے۔ کال سننا تو دور کی بات یہ میسج کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے تو آپ خود سوچ لیں میڈیا والوں کے ساتھ ان کے یہ حالات ہیں تو اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ ان کا کیا رابطہ ہوگا۔یا پھر صرف دکھاوے کے لئے ان عہدوں پر یہ نام بٹھا دئیے گئے ہیں باقی نیچے وہی حالات رہنے ہیں جو کہ اتنے سالوں سے چلے آ رہے ہیں۔تو اگر یہی سب چلتا رہے گا تو عمران خان صاحب ملکی سیاست میں آپ کے مستقبل اور تاریک ہی ہوتا جائے گا اور جو بھی ہو الیکشن آپ نے پاکستان میں لڑنا ہے روس میں نہیں۔ ووٹ آپ نے پاکستان کی عوام سے لینا ہے ان کے مسائل ح کریں ان پر بھی توجہ دیں تاکہ سفارتی سطح کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست میں بھی آپ کے معاملات بہتر ہو سکیں۔

  • محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان عنقریب ، تحریر:عفیفہ راؤ

    محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان عنقریب ، تحریر:عفیفہ راؤ

    سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بات ہو گی کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017
    میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔

    ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macronسے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔

    یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔