Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، تحریر:نوید شیخ

    سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    ۔ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    ۔ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟
    تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    ۔ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    ۔ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں ۔

  • سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    برصغیر میں دسمبر کی خنکی جہاں جسموں کو ٹھارتی ہے وہیں پچاس برس قبل ہوئے ہماری تاریخ کے بدترین سانحے کی ناخوشگوار یادیں بھی روح کو چھلنی کرتی ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا خوفناک حادثہ یک لخت ظہور پذیر نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے تئیس برسوں کی تلخ کہانی ہے۔
    کیا وجہ تھی کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں دو ہزار کلومیٹر دور بنگال کے مسلمانوں اور ہم نے ذات پات، رنگ و نسل، زبان و جغرافیہ کی تفریق کیے بنا اکٹھے قربانیاں دیں۔ تاریخ کے ابواب پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ بنگالی مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ جہاں نواب آف ڈھاکہ نواب سلیم اللہ خان صاحب کی دعوت پر مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں ڈھاکہ میں عمل میں لایا گیا وہیں 1940ء میں منٹو پارک لاہور میں قرار داد پاکستان بھی شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔ لاکھوں افراد مہاجر ہوئے جن کی کثیر تعداد نے سابقہ مشرقی پاکستان کا رخ بھی کیا۔ اسلامی فلاحی ریاست کا سپنا آنکھوں میں سجائے کروڑوں فرزندانِ توحید نے نظریہ پاکستان ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں لیکن قائد کی جلد وفات کے بعد آنے والے سیاست دان کرسی اقتدار کے گندے کھیل میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ تو عوامی امنگوں کا احساس کیا اور نہ ہی ملک میں سیاسی استحکام لا سکے۔ نتیجتاً انتشار کی سیاست، نفرت انگیز بیانات، غیر منصفانہ طرز حکومت اور دوغلی پالیسیوں نے ہی اولین تفریق کے بیج بوئے۔ آہستہ آہستہ گزرتے وقت کے ساتھ جغرافیائی دوری اور لسانی فرق بھی ہمارے مجموعی عوامی رویوں پر اثر انداز ہونے لگا۔ یوں سیاسی و عسکری قیادت کی نا اہلی اور پھر ہندوستانی سازشی کردار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جب داخلی سیاسی مفاد پرستی اور بیرونی سازشیں اپنے عروج پر پہنچیں تو بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا۔ لاکھوں کلمہ گو افراد اپنے ہی ہم عقیدہ بھائیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ لاکھوں دوبارہ مہاجر ہوئے اور آخر کار وہ گھر بھی ٹوٹ گیا جسے ہم نے باہم مل کر اپنے خون سے سینچا تھا۔ مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش جبکہ مغربی حصہ صرف پاکستان رہ گیا۔ دونوں خطوں میں علیحدگی کے بعد الگ الگ ممالک تو قائم ہو گئے لیکن پچاس سال پرانے گھاؤ ابھی تک نہیں بھرے اور سیاسی مصلحتوں کے باعث تعلقات میں سرد مہری آج تک قائم ہے۔

    اور دونوں جانب لاکھوں افراد آج بھی اس بٹوارے کی قیمت چکا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی سے ایک بنگالی ماں جی کی درد ناک کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے سنی جو لگ بھگ 35 سال بعد بنگلہ دیش میں اپنے خاندان سے ملیں۔ اس کے بعد اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بچھڑی بیسیوں اور خواتین بھی سامنے آئیں جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اور دو طرفہ روابط نہ ہونے کے باعث اپنی مادری زبان تک بھول چکی تھیں۔ لیکن کبھی نہ مٹے والی ان دوریوں کے اندر بھی عوامی سطح پر نظریاتی ہم آہنگی اور پرخلوص محبت کے نظارے دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں۔ چند ہفتے قبل ہی کرکٹ ورلڈ کپ میں جب پاکستان نے ہندوستان کو دھول چٹائی تو ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک پورا بنگلہ دیش پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اور گزشتہ ماہ جب یہی پاکستانی کرکٹ ٹیم بنگلادیش کی مہمان بنی تو ہمارے بنگلہ دیشی بھائیوں نے میزبانی کا خوب حق ادا کیا۔ سڑکوں پر ہزاروں نوجوان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے۔ ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈے لیے اور گرین شرٹ زیب تن کیے یہ نوجوان بچھڑے بھائیوں کی اٹوٹ محبت کی گواہی بن گئے۔ ڈھاکہ ٹیسٹ میچ میں ہار جیت سے بے رغبت شائقین پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تمام تر میڈیائی ہتھکنڈوں اور بالی ووڈ میں اربوں روپوں کے بجٹ لگا کر بھی ہندوستان اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کا خواب سقوط ڈھاکہ کے وقت اس نے دیکھا تھا۔ اب وقت بدل رہا ہے، پروپیگنڈے کے جال کٹ رہے ہیں اور تاریخ کا دھارا بھی یقیناً بدلے گا آج کا بنگالی نوجوانوں نظریہ پاکستان سے جڑ رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے پاکستان بڑے بھائی کا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے میں پہل کرے۔ اس کے لیے ریاست کو بڑے دل گردے کے ساتھ خلوصِ نیت بھی درکار ہو گی سب سے پہلے پاکستان میں رہائش پذیر سقوط ڈھاکہ سے قبل کے بنگالی افراد کو قومی شناختی کارڈ جاری کریں۔ اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنیں اور ان کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔ یقین جانیے یہ چھوٹا سا عمل بھی دِلوں کو جوڑنے اور دشمنوں کی سازشوں کو توڑنے میں بہت بھاری پڑے گا۔ اس کے علاؤہ سرکاری یا نجی سطح پر بنگالی زبان کے فروغ پر بھی کام کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوامی سطح پر باہمی روابط استوار ہوں اور ماضی میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور کرنے میں آسانی ہو اور ان کا ازالہ بھی کیا جا سکے۔ ریاستی سطح پر دوطرفہ تعلقات باہمی تعاون اور تجارتی روابط بڑھانے کے ساتھ دوطرفہ آمدورفت اور ویزہ کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی سروس کو بھی بحال کیا جائے۔ اگر مملکت پاکستان اپنے قیام کے بنیادی نظریے پر عمل پیرا ہو جائے تو بلاشبہ ایسا کر گزرنا ناممکن نہیں۔ اس کے علاؤہ ہمیں بحیثیت مجموعی عوامی اور انتظامی رویوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی تاکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھائے جائیں۔ اور اگر واقعی نظریہ پاکستان پر ریاستی پالیسی تشکیل دی گئی تو آئندہ کبھی دسمبر خون آشام نہیں ہو گا۔

    صدائے اسد
    اسد عباس خان

  • کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر  علی جویو

    کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر علی جویو

    میرا نام علی جویو ہے، میں مائیکروسافٹ پروفیشنل ہوں، اور گوگل سپورٹ سپیشلسٹ ہوں، یورپ، سوئٹزرلینڈ میں IT سروسز میں کام کرنے والا سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ہوں جو یورپی یونین میں آئی ٹی کے شعبے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہوں اور میں ایک پاکستانی سوئس ہوں، جس کا تعلق صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔
    اس بلاگ میں COVID-19 کے بعد IT کی مجموعی اہمیت کے بارے میں لکھوں گا۔ میرا بلاگ بنیادی طور پر پاکستان میں آئی ٹی کے بارے میں آگاہی کے لیے ہے اور ممالک میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینا ہے۔
    آئیے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی بات شروع کرتے ہیں!
    دنیا کی ٹاپ 100 Technology کمپنیوں کی فہرست پر جانے سے آپ کو کوئی پاکستانی Tech کمپنی نہیں ملے گی۔ جہاں امریکہ اور چین سرفہرست ہیں لیکن چند بہت چھوٹے ملک بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے کہ ناروے، آسٹریا، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، تائیوان، یہ تمام ممالک ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے ہیں, جو کہ نصف بھی نہیں کراچی شہر کی آبادی کا.

    اگر میں آئی ٹی کی بات کروں اور ہندوستان کی بات نہ کروں تو یہ درست نہیں ہو گا! دنیا کی ٹاپ 100 Tech کمپنیوں میں، کم از کم دو ہندوستانی ٹیک کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور انفوسس شامل ہیں ۔
    ہندوستان میں عالمی سورسنگ مارکیٹ IT-BPM صنعت کے مقابلے میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ہندوستان پوری دنیا میں سورسنگ میں سرفہرست ہے، جو کہ 2019-20 میں US$200-250 بلین کے عالمی خدمات کے کاروبار کے تقریباً 55% مارکیٹ شیئر کا حصہ ہے۔
    ہندوستان کے بارے میں ایک چھوٹا سا تبصرہ۔ آج اگر ہندوستان کو دنیا بھر میں یہ مقام اور عزت حاصل ہے اور وہ Superpower دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو یہ نریندر مودی صاحب کی وجہ سے نہیں ہے! یہ پالیسیوں میں تسلسل اور ان اعلیٰ کمپنیوں کی وجہ سے ہے، یہ CEO’s کی وجہ سے ہے، یہ ان شاندار ذہن رکھنے والے پیشہ ور افراد اور مزدوروں کی وجہ سے ہے۔ جو دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔ (میں اس پر الگ بلاگ لکھوں گا)۔

    آئیے پاکستان کی بات کریں! آئی ٹی پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی میں تقریباً 3.5 بلین امریکی ڈالر کا تقریباً 1% حصہ ڈالتا ہے۔یہ اچھا لگتا ہے! لیکن اگر ہم کہیں کہ یہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے ہے? تو میں اس بات سے متفق نہیں ہوں. لیکن! اگر حکومت ایسا کر رہی ہے تو یہ اور بہتر ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں آئی ٹی کی وزارت کو "کھڈا لائن منسٹری” کہا جاتا ہے۔اگر آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں! تو آئی ٹی کی وزارت سے رابطہ کریں۔ آپ کو آئی ٹی کے ایسے وزیر ملیں گے جن کا آئی ٹی سے کوئی تعلق نہیں! کوئی آئی ٹی کا پس منظرنہیں ، درحقیقت اس وزارت میں زیادہ تر وزراء سیاسی ایڈجسٹمنٹ سے ہوتے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں چیک کریں آپ کو شاید مل جائے گا: میڈیکل ڈاکٹر بطور آئی ٹی سربراہ یا شاید پلمبر، یا ڈینٹسٹ، یا بینکر، یا سول انجینئر وغیرہ۔ آپ سب میرٹ کے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔!میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا.

    آگے بڑھتے ہوئے! میں تجویز کروں گا کہ اگر حکومت پاکستان آئی ٹی کے شعبے کو سنجیدگی سے لے تو ہم دنیا کے لیے آئی ٹی کی برآمدات، خدمات کو اتنا بڑھا سکتے ہیں جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آئی ٹی واحد شعبہ ہے جو نہ صرف آپ کو آمدنی بلکہ دنیا بھر میں مثبت امیج، اور کام کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آپ کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں نہیں بھولنا چاہئے! جتنا ہم ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے ہمیں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ سائبر سیکیورٹی بھی میرا موضوع ہے، میں اس پر بھی لکھوں گا۔
    شکریہ

  • معاشرہ اور معشیت تحریر : سید اعتزاز گیلانی

    معاشرے کی تشکیل اور رزق کے لئے معیشت ضروری ہے۔کوئی بھی معاشرہ موثر معیشت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جس میں وہ کم از کم اپنے ارکان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔زندگی کے حالات میں تبدیلی کی وجہ سے ایک نکھار ہے۔اس لئے معیشت معاشرے کا ایک اہم جزو ہے جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہے ۔ اگر معاشرے کو تخلیق کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح رزق کا حصول بھی ضروری ہے۔ تمام ادارے لوگوں کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔لوگوں کے معاشرے سے تعلق رکھنا بہت اہم اور اہم ہے۔اگر لوگ سماجی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں تو وہ ممکن نہیں ہیں۔یہ چیز ان کی زندگی میں منفی فنون کی طرف آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی اقدار، تعلقات اور طرز عمل متاثر ہوتے ہیں۔لوگوں کی معیشت میں شامل ہونے سے ان کی سماجی زندگی بہتر ہوتی ہے۔ ان کا ادارہ موثر طریقے سے کام کرتا ہے۔قانون مزید مضبوطی سے آگے بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ ثقافت اور معیشت کے درمیان تعلق ایک متحرک ہے۔جس کے ذریعے دونوں ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ معاشرے کے لئے معاشیات کم افراط زر اور اس لئے روزگار کی اعلیٰ ترین سطح کے ساتھ مستحکم معاشی عمل کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی فیصلوں کا تجزیہ کرنے اور سمجھنے کے لئے ایک سائنسی نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔معاشی طریقے وہ آلات بھی فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے پالیسی تجزیہ کار قومی سلامتی سے لے کر صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک متعدد شعبوں کے دوران ریاستی پالیسیوں کے ممکنہ اخراجات، فوائد اور اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔صدور معاشی ماہرین کو قومی اقتصادی پالیسی کے ساتھ ساتھ دیگر پالیسی شعبوں کے بارے میں مشورہ دینے کے لئے مقرر کرتے ہیں۔ریاست سے باہر معاشی اصول کاروباری فیصلوں اور اقدامات کی رہنمائی میں مدد کرتے ہیں جو خوشحال معاشرے کو فروغ دینے میں 

    مدد کرتے ہیں۔

    صنعتی انقلاب کی وجہ سے تمام صنعتی معاشروں کو تبدیلی کی ایک متبادل لہر کا سامنا کرنا پڑا جس نے ایک صدی کے اندر اندر ہر صنعتی معاشرے میں زندگی کے حالات اور طرز زندگی کی مجموعی تبدیلی کی طرف لے گیا۔نئے معاشی انتظامات نسبتا تیزی سے تیار ہوئے جہاں سرمایہ مزدوروں سے الگ کیا گیا اور جہاں کافی بڑی معاشی تنظیمیں ابھریں، مشینوں اور مزدوروں کے گروہوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا ہونے کے لئے ملازم رکھا گیا۔

    Twitter account: @AhtzazGillani

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.

    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟

    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.

    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.

    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟

    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں

    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

  • پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    گزشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب سوشل میڈیا پر کافی ٹرینڈ کر رہا ہے ہر ایک چینل اور ویب سائیٹ پر سعودی عرب سے متعلق دو خبریں بھی خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان میں ایک خبر تو حال ہی میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں اور دوسری خبر تبلیغی جماعت پر لگنے والی پابندی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری خبر بھی ہے جس پر ابھی زیادہ بات نہیں کی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی رہنما سید ابوالاعلی مودودی سمیت دیگر کئی مصنفین کی کتابیں سعودی حکومت نے لائبریریوں سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔لیکن ان دنوں خبروں کے حوالے سے یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ لوگ اتنا حیران کیوں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اتنا واویلا کیوں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں یہ حالات کوئی ایک مہینے، ایک ہفتے، ایک دن یا ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئے ہیں جو کہ آپ سب اتنا پریشان ہیں۔یہ سب تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا حصہ ہے۔ اور جب سے وہ ولی عہد بنے تھے اس طرح کی تبدیلیاں تو تب سے ہی آہستہ آہستہ سعودی ماحول کو حصہ بننا شروع ہو گئیں تھیں اور ابھی اور بہت سی تبدیلیاں ہیں جو کہ آنے والے وقت میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے سعودیہ عرب کو بالکل بدل دیا جائے گا۔

    وہ سعودی عرب جو کبھی مکہ، مدینہ اور اپنی اسلامی روایات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا آنے والے چند سالوں میں سعودی عرب اپنی Modernizationاور ترقی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔
    معاملہ کچھ یوں ہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کی ایک بڑی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا گیا۔ جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔اس جماعت کی اصل ہند یعنی برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک یعنی سعودی عرب کی فتوی دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت یعنی تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔یہ الفاظ ایک خطبے کے ہیں جو کہ سعودی عرب ی جامع مسجد میں دیا گیا لیکن میں آپ کو بتاوں کہ باقی تمام مسجدوں میں بھی تقریبا یہ ہی بات کی گئی کیونکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اسی کے مطابق جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔اور یہ بات صرف مساجد میں دئیے جانے والے خطبات میں ہی نہیں کی گئی بلکہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی سعودی عرب میں جمعے کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    ویسے تو میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعتوں سے سعودی حکام کبھی بھی بہت زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اب ان پر اس طرح کی پابندی لگانا یا ان کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانے کی ابت اس لئے کی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کی ایک مثال حالیہ ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں تو ان حالات میں محمد بن سلمان یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب میں کوئی ایسی تنظیم یا جماعت ہو جو کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید یا مخالفت کی وجہ بن سکے۔اور جہاں تک کانسرٹس کی بات ہے تو سعودی عرب میں سلمان خان کے کنسرٹ پر جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو میں بتا دوں کہ سلمان خان کے کنسرٹ سے چند دن پہلے چھ دسمبر کو وہاں Famous international singer Justin bieberکا بھی کنسرٹ ہوا تھا۔ جس میں اس کی مسز مشہور ماڈل Hailey Bieberبھی اس کے ساتھ تھیں۔ جس میں تقریبا ستر ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔Justin beiberکے بعد اب سلمان خان کا کنسرٹ ہوا جس میں شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا تھا۔ اور سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خاص فرمائش اور دعوت پر ریاض میں پرفارم کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان کے اس ٹور کو دبنگ ٹور کا نام دیا گیا۔اور اس کنسرٹ میں 80,000لوگوں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس وقت اس کنسرٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کنسرٹ سے پہلے سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے اس کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا تھا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اور اس سب کو نام دیا گیا ہے روشن خیالی کا۔۔ اس طرح کے ایونٹس منعقد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔اور تبلیغی جماعت پر جو پابندی لگائی گئی وہ بھی اسی تمام کاروائی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف Justin beiberکا کانسرٹ ہو رہا تھا دوسری طرف اسی دن ہی تبلیغی جماعتوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگایا جا رہا تھا۔اور ان تبلیغی جماعتوں کی مخالفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں داخلے اور کام کے لئے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے جس کو ویزا یا اقامہ کہتے ہیں تو اس میں دعوت و تبلیغ کی کوئی کیٹیگری ہی نہیں ہے یعنی سعودی عرب میں دعوت و تبلیغ کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی ویزہ یا اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔اور اگر کوئی انسان سعودی عرب جا کر اپنے اقامے یا ویزا میں دیے گئے کسی بھی کام سے ہٹ کر کچھ اور کرتا ہے تو یہ قانونی طور پر جرم ہے اس انسان کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور تبلیغ تو دور کی بات ہے اب تو اسلامک اسکالرز کی کتابوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالااعلی مودودی مصری عالم دین یوسف القرضاوی سمیت دیگر کئی مصنفین کی 80 کتابیں لائبریریوں سے فوری ہٹائی جائیں۔ اور تمام ادارے اپنی لائبریریوں سے یہ کتابیں ہٹا کر دو ہفتوں کے اندر رپورٹ بھی جمع کروائیں۔

    محمد بن سلمان بظاہر تو اس تمام معاملے کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاوں کہ ان تمام فیصلوں کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو امریکہ اور انڈیا کے ساتھ گہری دوستی اور رابطے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی کا سلسلہ انڈیا سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال کرونا کی آڑ لیکر مودی سرکار نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی تھی۔ حالانکہ کمبھ کا میلہ جس میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن تبلیغی جماعت والوں پر پابندی بھی لگائی گئی ان کے لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا تھا جیل میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ اور اب یہی کچھ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہےاس کے علاوہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسی سال مئی میں انڈین میڈیا میں اس بات پر خوب جشن منایا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے مودی سرکار کی محبت میں رامائن اور مہا بھارت کے علاوہ یوگا اور آیوروید جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کو سعودی عرب کے دورے پر بلا کر شاہی محل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔حالانکہ تبلیغی جماعت کے حوالے سے میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعت کا کوئی بھی کام خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو سیاست میں ملوث ہوتے اور نہ ہی اس جماعت کے لوگ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سیاسی، معاشی یا معاشرتی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ ہر ایک کو اپنی صفوں میں قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف اسلام کے معاملات کی بات کرتے ہیں جس میں لوگوں کو کلمہ، نماز، عربی میں دعائیں اور قران سکھانا شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا، افریقہ اور یہاں کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پچھلے چند برسوں میں تبلیغی جماعت بہت مقبول ہوئی ہے۔ اور انڈیا کی محبت کے علاوہ جو دوسری بڑی وجہ ہے وہ پیسہ ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنا نیوم سٹی بنانے کے لئے بہت پیسے کی ضرورت ہے اور اس کو اب نظر آ رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت جس طرح سے فروغ پا رہی ہے تو مستقبل میں سعودی عرب کی تیل کی صنعت بری طرح متاثر ہونے والی ہے۔
    اس لئے محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ آنے والے سالوں میں اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔ ویژن 2030 کے تحت اگلے آٹھ سالوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ ریاض میں بھی اب نائٹ کلب، سینما ہال اور ریستوران کھول کر انہیں ٹوکیو، لندن اور نیویارک کے برابر کھڑا کیا جائے۔ اس طرح کے کنسرٹ کروا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوب پیسہ کمایا جائے۔اس لئے اب آپ کو آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی خبریں خوب سننے کو ملا کریں گی اس لئے ان پر حیران ہونا چھوڑ دیں۔ مکہ اور مدینہ سے جو بحیثیت مسلمان ہماری عقیدت ہے اس کو الگ رکھیں اور سعودی حکومت کے معاملات کو الگ کیونکہ اب ان کا مقصد اسلامی تعلیمات اور روایات کی پاسداری کرنا نہیں بلکہ صرف اور صرف پیسہ کمانا اور انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنی دوستیاں بنھانا ہے۔

  • محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔
    لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔
    سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے

  • غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید

    غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید

    غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید
    السلام علیکم ناظرین آپ بخوبی آگاہ ہوں گئے پاکستان میں مہنگائی اس وقت عروج پر ہے ۔اس مہنگائی نے سب کی برکس نکال دی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب بچارا غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے ۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ۔ حکومتی کی مشینری ناکام ہوچکی ہے ۔ ہر کسی نے اپنے ریٹس لگائے رکھے ہیں ۔ انتظامیہ غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کا نام نہیں لے پا رہی ہے۔ بے حس ، چپ چاپ تماشائیوں کی طرح بیٹھے حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ کسی کو کوئی احساس نہیں کہ غریب عوام کا بھی کچھ سوچا جائے ۔ عوام بری طرح سے مہنگائی کا شکار ہیں ۔ مہنگائی اگرچہ پوری دنیا میں آئی ہوئی ہے۔ ہر ملک اس مہنگائی کا شکار ہے۔ اس مہنگائی نے سب ممالک کے معاشی ترقی کی رفتار میں ایک سخت بریک کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ بڑے بڑے امیر ممالک جن میں کئی یورپین ممالک بھی شامل ہیں اس مہنگائی سے دو چار ہیں ۔ لیکن ان ممالک میں ایک چیک اینڈ بیلنس سسٹم ضرور موجود ہے ۔ ایک حد تک مہنگائی کی سمجھ ضروری آتی ہے ۔ لیکن پاکستان میں ایک مختلف قسم کی مہنگائی ہے ۔ ایسی مہنگائی جس کا آج تک کوئی تصور نہیں تھا۔

    جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے پاکستان میں مہنگائی کا گراف اوپر کی جانب گیا ہے ۔ یہ گراف کھبی نیچے آنے کا نام نہیں لیتی ہے ۔ اس مہنگائی کی وجہ سے اب غریب عوام کو دو وقت کی روٹی کھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ وزیرِ اعظم روزانا ٹی وی آکر کہتے ہیں ہمیں اس چیز کا اندازہ ہے پاکستان میں مہنگائی ضرور ہے ہم جلد اس مہنگائی کے دلدل سے نکل آئیں گے۔ لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ اب ہر ایک وزیرِ اعظم کے ان باتوں سے ناامید ہوگیا ہے ۔ مہنگائی کی شرح آسمان کو چو رہی ہے ۔ ایک دھاڑی دار روزانا چھ سے سات سو روپے کماتا ہے ۔ صبحِ سات بجے سے لےکر شام چھ بجے تک سخت محنت کرنے کے بعد اس کو چھ سے سات سو روپے ملتے ہیں ۔ اتنے کم پیسوں سے اس دھاڑی دار کا گزر بسر کیسے ہوگا ۔ وہ اتنے کم پیسوں سے اپنا گزر بسر نہیں کرسکتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اس چیز سے کسی کو انکار نہیں۔ وہ دھاڑی دار چھ سے سات سو روپے میں کیا کیا خرید سکتا ہے ۔ اگر کوئی بندہ حکومتی وزراء سے اس مہنگائی کے حوالے سے بات کرتا ہے تو ایسے ایسے لاجک پیش کرتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ۔ پچھلے دنوں میں وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا تھا آپ چائے میں چینی کے دانے گنتی کرکے ڈالیں۔ دو وقت کی روٹی میں دو کی بجائے ایک روٹی کھائیں۔ اور خود عیش پرست زندگی گزارنے میں لگے ہیں ۔ اور مختلف الاؤنس لے رہے ہیں ۔ روزانہ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی جاتی ہے کہ اسمبلی ارکان کے الاؤنس میں اضافہ کیا جائے۔ خود مختلف الاؤنس لے کر اپنے جیب بھر رہے ہیں روزانا ایک نئی قرارداد پیش کی جاتی ہے کہ ہمارے الاؤنس بڑھائے جائیں۔ ان حکمران طبقے کے نیچے بے کس لاچار غریب عوام ہے جس کے ووٹوں سے آپ ارکان اسمبلی منتخب ہوتے ہیں آپ کو اس غریب عوام کی کوئی فکر نہیں ۔ ان کے حال پر کوئی رحم و کرم نہیں آتا ہے۔ ان کا کوئی الاؤنس نہیں ۔ اور ناہی کوئی ان کے الاؤنس بڑھانے کو تیار ہے۔

    مہنگائی اب سر سے اوپر ہو چکی ہے ۔ غریب اب فاکے اور خودکشی پر آگئے ہیں ۔ لیکن حکمران طبقے کے سر سے جوں تک نہیں رینگتی ۔ اپنے الاؤنس بڑھاتے جارہے ہیں ۔ نا جانے غریب عوام ایسی مہنگائی کب تک برداشت کرنی پڑے گی۔ کب غریب عوام کے الاؤنس بڑھانے کی بات ہو گی ۔ نا جانے کب حکمران طبقے کو حوش آئے گا ۔ اب لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ کوئی ایسا مسیحا آ جائے جو اس مہنگائی کی دلدل سے نکلے۔ ہر ایک اس بات کا منتظر ہے کہ غریب کی آواز سنی جائے۔
    @Wah33d_B

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.
    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟
    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.
    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.
    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟
    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں
    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

    @M1Pak

  • ناکام ترین تبدیلی  سرکار، تحریر: نوید شیخ

    ناکام ترین تبدیلی سرکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی سرکار حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ اس ناکام تجربہ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کی معیشت زمین بوس ہے تو گوورننس زندہ درگور ہو چکی ہے۔ عوام کا نظام قانون پر اعتبار اٹھ چکا ہے ۔ کیونکہ ہر طاقت ور اس دور میں اپنی عدالت خود لگا کر بیٹھا ہوا ہے ۔ ۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ دیوالیہ ہوگیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریریں سنیں تو لگتا ہے زمین پر کھڑے ہو کر مریخ کی مخلوق سے مخاطب ہیں۔ دعوے ان کے یہ ہیں کہ غریب آدمی اوپر جا رہا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ غریب آدمی واقعی ہی اوپر جا رہا ہے ۔ بھوک سے مر کر ۔۔۔ حقائق یہ ہیں کہ امیر مقروض ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے تین سال تو بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو نہیں ملے ۔ عمران خان کو جو حمایت میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ سے ملی وہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی ۔ ۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیئں کہ وزیر اعظم کے دورہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کارڈ کی لانچنگ کی خبروں پر الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا گیا جس میں انہیں دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ یونین کونسلز میں داخلے پر پابندی ہے ۔ کیونکہ بلدیاتی الیکشن کی تاریخ طے ہونے کے بعد کسی منصوبے کا افتتاح نہیں ہوسکتا ۔

    ۔ پر وہ کپتان ہی کیا جو کسی ضابطہ اخلاق ، آئین یا قانون کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ یہ بھاشن جتنے مرضی جھاڑیں پر ان کا ہر کام غیر قانونی اور غیر آئینی ہی ہوتا ہے ۔ آج بڑے دھڑلے سے عمران خان پشاور گئے ہیں اور حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ۔ احساس راشن کارڈ ، صحت کارڈ ، پاکستان میں پیڑول سستا ہے ۔ ہم نے یہ کر دیا ہے ، ہم نے وہ کردیا ہے ۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنا دیا ہے ۔ پاکستان دنیا میں سستا ترین ملک ہے۔ کہہ کر چلے گئے ۔ اور بتا دیا کہ الیکشن کمیشن اور اسکے خط کی حیثیت اور اوقات ان کی نظر میں کیا ہے ۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے جو دھونس اور دھاندلی ان کے وزیر کر رہے ہیں الامان الحفیظ ۔۔۔ چند روز پہلے جو علی امین گنڈا پور نے اپنے بھائی فیصل امین کی کمپین کے دوران تڑیاں لگائی ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ۔ موجودہ حکومت کی آئینی مدت میں ابھی 20 ماہ کا طویل عرصہ باقی رہتا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اس حکومت نے یہ مزید وقت گزار لیا تو پتہ نہیں پاکستان کا کیا بنے گا ۔۔ دیکھا جائے تو پاکستان کے آئین کے مطابق حکومت کا دورانیہ پانچ سال ہے۔ لیکن آئین میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ اگر کوئی حکومت آ جائے تو پانچ سال پتھر پر لکیر ہیں۔۔ اب سننے میں آیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق پنجاب اور وفاق میں ان ہاؤس تبدیلی کا مشن لے کر نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن پہنچ چکے ہیں ۔ندن میں ایاز صادق نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور ان ہاؤس تبدیلی کیلئے انہیں قائل کریں گے ۔ ۔ ایاز صادق دراصل پیپلزپارٹی کے سید خورشاہ کے فارمولے کے خدوخال سے نواز شریف کو آگاہ کریں گے ۔ پھر ان ہاوس تبدیلی سے متعلق پیپلزپارٹی سے ہونے والے رابطوں کا ذکر بھی کریں گے ۔ ۔ ساتھ ہی ایاز صادق پاکستان تحریک انصاف کے 25 سے زائد ناراض ارکان اسمبلی کی فہرست بھی ن لیگی قائد کے حوالے کریں گے ۔ پارٹی قائد کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر ناراض ارکان کو اپنے ساتھ ملایا جائے گا۔ بدلے میں ناراض حکومتی ارکان اگلا انتخاب مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے ۔

    ۔ یوں اگر نواز شریف قائل ہوگئے تو پھر ن لیگ پیپلزپارٹی سے مل کر ان ہاؤس تبدیلی کی تیاری کرے گی ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سکیم کامیاب ہوگی کہ نہیں ۔ میں بس یہ یاد کروادوں کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور اپنی ہی حکومت پر خوب گرج بھی رہے ہیں اور برس بھی رہے ہیں ۔ اس لیے اس میں تو کوئی ابہام نہیں ہے کہ بہت سے پی ٹی آئی والے پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ اگلا الیکشن اس کارکردگی کے ساتھ لڑنا انتہائی مشکل ہوگا ۔ ۔ ویسے لندن سے جو چوہا رپورٹیں آرہی ہیں ان کے مطابق اپوزیشن نے حکومت کو پارلیمنٹ کےاندرٹف ٹائم دینے کاارادہ کر لیا ہے۔ نوازشریف نے اِن ہاوس تبدیلی کے لیے گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔ نوازشریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کو آن بورڈ لانے کا ٹاسک بھی سونپ دیا ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت جو پہلے تحریک عدم اعتماد پر قائل نہیں تھی۔ اب تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کر رہی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جب دو ہفتے پہلے شہباز شریف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے؟ توانہوں نے جواب دیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ ابھی بتایا یہ جا رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے مرحلہ وار تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا ہے ۔ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ اِن ہاوس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے جس میں پہلے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک لائی جائے گی۔ پھر پنجاب اور آخر میں وفاق میں اگر کپتان نے وقت سے پہلے الیکشن کا اعلان نہ کیا تو ۔۔۔ ۔ فی الحال حالات کا تقاضا ہے کہ اس وقت پاکستان کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس پر بیرونی دنیا اور اپنے عوام بھی بھروسہ کریں۔ کوئی لاکھ اختلاف کرے مگر اس وقت عوام نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ یاد کررہے ہیں۔ بدقسمتی سمجھیں یا خوش قسمتی مگر یہی حقائق ہیں۔ ۔ اب اگر اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے معاملہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو شاید کوئی بہتری آ سکے ورنہ قیمہ والی مشین میں گوشت ڈال ہی دیا گیا ہے۔ اس کا ثابت نکلنا ممکن نہیں۔

    ۔ آپ خود دیکھ لیں این اے 133 لاہور میں پیپلز پارٹی نے 34000 ووٹ لیے ہیں۔ اتنے لوگ اب عمران خان لاہور میں کسی جلسے میں اکٹھے نہیں کر سکتے۔ اسی رزلٹ کو دیکھتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب میں پوری قوت کے ساتھ بلدیاتی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ اور لاہور سمیت پورے پنجاب میں پارٹی کو مضبوط کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1979
    کی طرح لاہورکے بلدیاتی الیکشن میں کلین سوئپ کریں گے۔۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب پی ٹی آئی بڑے جلسے نہیں کرسکتی ۔ کہ ابھی دو دن پہلے اسلام آباد میں کامیاب جوان کے ڈرامے کو کامیاب بنانے کے لیے جس طرح سرکاری تعلیمی اداروں سے طلبہ و طالبات کو جبری لایا گیا وہ بھی سامنے ہے ۔ جو سرکاری نوٹیفیکشن اور ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جس میں طلبہ نعرے لگا رہے ہیں۔ گلی گلی میں شور ہے ۔ عمران خان چور ہے ۔ اس کے بعد کچھ باقی رہ جاتا ہے ۔ ان میں شرم ہوتی تو ڈوب مرتے ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی پارٹی اور عمران خان ہیں جو ن لیگ کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ پٹواریوں کی مدد سے یہ جلسے کرتے ہیں ۔ میں آپکو بتاوں ایک نالائق اور نااہل حکومت کو کسی بھی وقت آئینی طریقہ سے گھر بھیجا جا سکتا ہے اور یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے ۔ یہ سب آئین پاکستان میں لکھا ہے ۔ تو اگر اپوزیشن آئینی طریقہ سے تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ تو اس نااہل اور نکمی حکومت سے عوام کو چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ باقی جو اس تبدیلی سرکار نے ملک کا بیڑہ غرق کرنا تھا وہ یہ کر چکے ہیں ۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ مڈل کلاس ختم ہو گئی ہے ۔ مڈل کلاس غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی۔ غریب فقیر ہوگئے ہیں اور فقیر مجرم ۔ ۔ کل جو جو کچھ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوا ہے۔ اس کے بعد کوئی شک رہ گیا ہے کہ پاکستان مالی، معاشی، روایتی، سماجی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو گیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک تک اب حکومت کا نہیں رہا ۔ میری نظر میں بیرونی قرضوں کے نیچے دبی ہوئی قوم تین ماہ سے زیادہ ان حالات کا سامنا نہیں کر پائے گی۔ ۔ حکمرانوں کی زبان پر دنیا کو بھروسہ ہے نہ پاکستانیوں کو ۔۔۔ یاد رکھیں دنیا زبان و بیان کے بھروسے پر چلا کرتی ہے۔ اداکاری اور جھوٹ سے نہیں۔ ۔ دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو ماضی کی کرپٹ حکومتوں کا حصہ تھے اور دوسرے وہ جو بالکل نا تجربہ کار تھے لیکن گز گزلمبی زبانیں رکھتے ہیں ۔ ماضی میں 18 وفاقی وزارتیں رکھنے کی دعویدار تحریک انصاف کی قیادت نے تقریباً 60اہم عہدے اور وزارتیں اپنی پارٹی والوں کو دے رکھی ہیں اور اندرون ملک ہی نہیں باہر سے آنے والے اپنے دوستوں کو بھی اہم عہدے دے رکھے ہیں جن پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

    اب اس ناکام تجربہ کو ساڑھے تین سال گذر چکے ہیں اور نا تجربہ کاری اور نا اہلی کی وجہ سے اس حکومت نے ملک کی کشتی ایک ایسے بھنور میں پھنسا دی ہے۔ کہ اس دلدل سے نکلنا اب ناممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ ۔ اس لیے لوگوں کا ہر سروے ہر جگہ ایک ایک ہی مطالبہ ہے کہ کسی طرح ہماری اس تبدیلی سے جان چھڑوائی جائے ۔