Baaghi TV

Category: سیاست

  • حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    2018ء انتخابات کے بعد عمران خان اقتدار میں ہیں اور ان کے مخالفوں کی ہر رات کانٹوں پر بسر ہو رہی ہے تو حکومت و اقتدار کے باوجود چین کی نیند عمران خان اور اس کے ہمدردوں کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ اب اگلے ایک برس بارے کہا جا رہا ہے کہ یہ ہنگامہ خیز سیاست سے بھر پور ہوگا ۔ آج وزیراعظم عمران خان نے معروف امریکی اسکالر شیخ حمزہ یوسف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سیاست میں آیا تو طاقتور لوگوں نے میری کردار کشی کی لیکن آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، میں نے 22 سال تک جدوجہد کی۔ پھر یہ بھی کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا میری زندگی کا مقصد ہے۔ باتیں ہمارا کپتان بہت اچھی کرتا ہے مگر عمل اس کے بالکل الٹ کرتا ہے ۔ ان کی جو بھی کردار کشی ہوئی اس سے ہٹ کر عمران خان کے اس دور میں جو مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ پھر جو عمران خان اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں اور یہ کہتے تھکتے نہیں کہ ریاست مدینہ بناوں گا تو جو اس وقت ملک میں فرشتوں کی حکومت ہے اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔

    ۔ اس دور حکومت میں بھی کرپشن ویسے ہی خوب پھیلی پھولی ہے اور بڑھی ہے جیسے پہلا ہوا کرتی تھی ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس اس حوالے سے سب بڑا ثبوت ہے ۔ جس کے بارے شہباز گل کا دعوی تھا کہ یہ پرانے اعداد وشمار پر بنائی گئی ہیں ۔ مگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس وقت ہی حکومت کو جھوٹا قرار دیے دیا تھا ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کرپشن کے ریٹ دوگنا ہو چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ایک لمبی فہرست ہے جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ ۔ روالپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل ۔ ۔ حالیہ جو شوگر مافیا کے ساتھ سودے بازی ہوئی جس میں مافیا نے تقریباً ایک سو پچاس ارب کی دیہاڑی لگائی مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ۔۔ پھر کرونا فنڈ میں 40 ارب کا جو حساب ہی نہیں ملا ۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہوگی ۔۔ حلیم عادل شیخ ، عثمان بزدار، نورالحق قادری ،غلام سرور خان ، ڈاکٹر ظفر مرزا ، عامر محمود کیانی، زلفی بخاری ، فیصل واڈا، سبطین خان، مالم جبہ اراضی کیس، ہیلی کاپٹر کیس ، چینی ، آٹا ، گیس ، بجلی ، پیڑول ، ادویات اسکینڈل ، بی آر ٹی کون کون سے نام اور کون سے کون اسکینڈل گنواوں ۔۔۔

    ۔ اس حوالے سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نے کل ہی سلیم صحافی کے پروگرام میں بیٹھ کر انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری دفاتر میں انتہا کی کرپشن ہورہی ہے۔ انکا کہنا کہ کوئی نیا پاکستان نہیں ہے۔ وہی پرانا پاکستان ہے ۔ ضلعی دفاتر اور ترقیاتی کاموں میں کرپشن عروج کو پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کرپشن سے آگاہ کرنے کے لئے وقت مانگا تھا مگر وقت نہیں دیا گیا۔۔ پھر جو پی ٹی آئی کے ماتھے جھومر ہے اس کا نام ہے فارن فنڈنگ کیس۔۔ جس میں غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ پھر جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے۔ اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ اکبر ایس بابر نے یہ معاملہ اٹھایا ہوا ہے ۔ اور پی ٹی آئی اس سے چیز سے کنی کتراتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی جانچ پڑتال نہ کرے ۔ اس لیے بار بار عدالتوں سے اسٹے لیا جاتا ہے ۔ ۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کا اعزاز یہ ہے کہ کوئی بھی ہائی پروفائل کیس اس حکومت کے دور میں منطقی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ کرپشن کے خلاف جنگ صرف میڈیا تک محدود ہے۔ اخبارات میں خبریں چھپتی اور چند دن بعد فراموش کر دی جاتی ہیں۔۔ اسکینڈل تو یہ بھی ہے کہ کپاس کی پیداوار نصف سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ پنجاب میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً دس من فی ایکڑ کم ہے۔ گنے کی فصل کے کسان کو پیسے زیادہ ملے کیونکہ فصل اور فی ایکڑ کاشت پچھلے سال سے کم تھی لیکن انہیں شاندار پیداوار قرار دیا جارہا ہے۔ جس طرح جی ڈی پی کی شرح کو اچانک بڑھانا اس حکومت کے کوئی کام نہیں آسکا اس طرح زرعی پیداوار کے غلط اعدادوشمار چینی اور آٹے کی قلت اور مہنگا ہونے سے روک نہیں پائے ۔

    ۔ دوسری جانب آئی ایم ایف والا معاملہ تو اس حکومت میں مذاق ہی بن کر رہ گیا ہے۔ عمران خان کی پرانی باتیں اب میں کیا یاد کرواں ۔ مگر جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ جیسے حکومت لیٹی ہوئی ہے اور کشکول لے کر کھڑی ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے کبھی آصف زرداری اور نواز شریف کے کرپٹ ادوار میں بھی نہیں ہوا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کی گئے شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔۔ اب حکومت نے 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول چھ کو ختم کرنا ہے ۔ پھر حکومت برآمدات کے علاوہ زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی ۔ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنےکا تجویز ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام میں200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔ اب جلد ہی ترمیمی بل کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔۔ یہاں بس یاد کروادوں کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی بتایا تھا کہ ہمارا مسئلہ مہنگائی ہے، لوگ پس گئے ہیں ۔ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد نیا ٹیکس لگائیں گے نہ بڑھائیں گے۔ ڈالر
    8،9 روپے نیچے آئےگا۔ جلد تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگی۔ آئی ایم ایف کو ٹیکس لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ شوکت ترین کتنا سچ اس ملک وقوم سے بولتے ہیں ۔ ۔ پھر مجھے یہ کہنے میں زرا برابر بھی ججھک محسوس نہیں ہوتی کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے جوہری اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف چونکہ امریکہ کے زیر اثر عالمی ادارہ ہے اور وہ امریکی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے قرض لینے والے ملکوں پر دباؤ بھی بڑھاتا رہتا ہے۔ حکومت پاکستان کو غیرملکی قرضوں پر انحصار کی بجائے خو د انحصاری کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا ماڈل موجود نہیں کہ کسی ملک کی آئی ایم ایف کے قرض سے معیشت ٹھیک ہوئی ہو بلکہ آئی ایم ایف کے قرض کے باعث معاشی تباہی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ویسے اس سے ملتی جلتی تمام باتیں جب عمران خان اپوزیشن میں ہوتے تھے تو خوب کیا کرتے تھے ۔ آپ دیکھیں ملائشیا کی معیشت کو آئی ایم ایف نے تباہ کر دیا تھا لیکن مہاتیر محمد کی بے باک لیڈرشپ نے آئی ایم ایف سے جان چھڑائی اور ملائشیا کو دوبارہ ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان بلندبانگ تقاریر تو کرتے ہیں لیکن وہ ان پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ ۔ تحریک انصاف حکومت کا توکوئی ترجیحی ایجنڈا ہی نظر نہیں آتا۔ پھر تماشا یہ ہے کہ قوم کوکفایت شعاری کا درس دینے والوں نے گزشتہ چار ماہ کے دوران صرف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 72کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ۔ کھانے پر 4کروڑ 39لاکھ روپے اور اوور ٹائم پر
    82 لاکھ،پٹرول پر 83لاکھ، 12کروڑ 87لاکھ اعزازی تنخواہوں کی مد میں اور دوروں پر 3کروڑ 48لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس لیے میں مجبور ہوں یہ کہنے پر کہ موجودہ حکمران بھی تبدیلی کے نام پر ماضی کی حکومتوں کا تسلسل ہیں۔ جو اقتدار سے لطف اُٹھانے کے سوا کچھ نہیں کررہے۔ ۔ اس حوالے سے آپ جماعت اسلامی کی سیاست سے متفق ہوں یا نہیں ہوں ۔ پر اسلام آباد میں یوتھ مارچ سے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بات بالکل ٹھیک کی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کو تیس سال پیچھے لے گئی ہے۔ 2023ء میں عوام عمران خان کو آئینہ دکھائیں گے، جو نوجوان انہیں اقتدار میں لائے وہی بھگائیں گے۔۔ پھر کل مولانا نے لاڑکانہ میں اچھے خاصے مجمعے میں کافی دھواں دار بیٹنگ کی ہے ۔ ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ماتحت ہوچکا ہے۔ فاٹا اور کشمیر دونوں کا اس وقت کوئی وارث نہیں ۔ پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے ۔ پھر یہ بھی کہا کہ ہمارا نوجوان بہت مظلوم ہے، اسکو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دے کر ایک کروڑ لوگوں کو بے روز گار کیا گیا ،پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا لیکن پچاس لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا گیا ،نعروں سے ملک نہیں چل سکتا ،جو حکومت خود دھاندلی کے ذریعے آئی وہ خود دھاندلی کے متعلق قانون سازی کروا رہی ہے حالانکہ اس مشین کو پوری دنیا مسترد کر چکی ہے۔ میں آپکو بتاوں کہ پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمٰن اور قوم پرست جماعتیں تحریک کو فیصلہ کن مرحلے کی طرف لے جانا چاہتی تھیں لیکن مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے اس بارے میں مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت پی ڈی ایم کی جماعتیں مسلم لیگ ن کی سیاست سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر پا رہیں کیونکہ کبھی مسلم لیگ ن کی سیاست میں یک دم تیزی آجاتی ہے پھر اچانک اس میں ٹھہرائو آجانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کہیں کوئی بات چیت چل رہی ہے۔ اور شاید ان کو اس بات چیت کے نتائج کا انتظار ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق قوم پرست جماعتوں نے اس پر شکوہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے میں پنجاب کی بھرپور شرکت ہی تحریک کو نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ فی الحال میری نظر میں عوام ہر طرف سے پس رہے ہیں کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہے ۔

  • تبدیلی لانا آسان ہے کیا؟؟؟ تحریر فضل عباس

    تبدیلی لفظ سنتے ہی تمام پاکستانیوں کے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے وہ ہے عمران خان
    عمران خان نے سیاست میں لفظ "تبدیلی” اور "نیا پاکستان” متعارف کروایا ایک طویل جدو جہد کے بعد ان کو حکومت ملی اور لوگوں کی نظریں ان پر جم گئیں لوگ توقع کر رہے تھے کہ عمران خان چند ہی دنوں میں تبدیلی لاۓ گا عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے دوسرے دن نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج ہم بات کریں گے

    پاکستان پچھلے چالیس سال سے انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار ہے پاکستان ہمیشہ لیڈرز سے محروم رہا ہے جب پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگا تو جنرل ضیاء الحق خود ساختہ سیاسی جماعتوں کو وجود میں لاۓ تا کہ اسے طاقت کے استعمال میں کوئی مسئلہ درپیش نہ آۓ ایک طرف وہ میاں نواز شریف کو سیاست میں لاتے ہیں دوسری طرف الطاف حسین کو کراچی کا سکندر بناتے ہیں انہیں اس میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وہ کچھ بھی کرنا چاہتے تھے اور وہ سب کر گزرے قوم کو نواز شریف اور الطاف حسین جیسے تحفے نوازے جو بعد میں پاکستان کی تباہی کا باعث بنے

    اس سب کے بعد پاکستان میں دو جماعتی رسم شروع ہوتی ہے ایک دفعہ ایک جماعت حکمران ہوتی ہے تو اگلی دفعہ دوسری جماعت ایک جماعت دوسری کو کرپٹ قرار دیتی ہے تو دوسری پہلی کو پیپلز پارٹی کی نظر میں سب سے کرپٹ اور نااہل جماعت مسلم لیگ ن ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن کی نظر میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی
    ان دونوں جماعتوں نے اسی طرح اپنا کام جاری رکھا اور پاکستان کمزور ہوتا گیا ان کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کراچی میں اپنی طاقت کے بل بوتے عذاب بنتی گئی پاکستان مالی اور انتظامی سطح پر بکھرنے لگا
    1999 ء میں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء لگاتے ہیں آگے چل کر وہ صدر پاکستان بنے اور ایک نسبتاً اچھا بلدیاتی نظام لاۓ مگر وہ نظام ان کی حکومت جاتے ٹوٹ گیا اور پھر سے وہی دو جماعتی کھیل شروع ہو گیا اور پاکستان اب کی بار قرضوں کے سونامی میں ڈوبتا گیا اس بار ان دو جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان آۓ اور بالآخر 2018 ء میں ان دو جماعتوں کو شکست دے کر وزیر اعظم پاکستان بنے

    عوام عمران خان کی تقاریر سن کر ان کی دیوانی ہو چکی تھی انہیں لگ رہا تھا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ساتھ نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن ایسا نہیں ہوتا چالیس سال کا بگاڑ ایک ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکتا وہ ٹھیک ہے کہ عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں لیکن جتنی امیدیں ہوں اتنا وقت بھی دیا جاتا ہے خواب سپر پاور بننے کے ہوں اور وقت لمحوں کا بھی نہ ہو ایسا نہیں ہوتا اس پر تھوڑی واضح گفتگو کرتے ہیں

    تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلے نظام بدلنا پڑتا ہے اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے لڑنا پڑتا ہے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جو طاقتیں سالوں سے اس ملک پر قابض ہیں انہیں لگام ڈالنا کو بچوں کا کھیل نہیں عمران خان کے پاس تو دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے عمران خان کو قانون سازی میں بہت زیادہ مشکلات ہیں بیوروکریسی اپوزیشن راہنماؤں کی ایماء پر حکومت کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی بلیک میلنگ الگ سے ہے اس سب سے لڑنے میں وقت لگے گا عمران خان کو لوہے کے چنے چبانا ہوں گے تب ہی پاکستان بدلے گا اس سب میں بہت محنت درکار ہے عمران خان تو لگا ہوا ہے وہ کر دکھاۓ گا لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کریں کیوں کہ یہی صبر ہمیں کل اس قابل بناۓ گا کہ ہم فخریہ کہہ سکیں ہم اس راہنماء کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے تھے جس نے نیا پاکستان بنایا تھا اللّہ تعالیٰ عمران خان کو اس کے اس عظیم مقصد میں کامیاب کرے آمین ♥️

  • ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہو گا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس وقت یہی کام مودی سرکار کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ مودی جب سے وزیر اعظم بنا ہے اس نے اس تمام عرصے میں خود کو دنیا کے سامنے بہت ہی قابل اور اعلی لیڈر بنا کر پیش کرنے کے چکر میں اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب وہ خود مودی سرکار کے گلے پڑ رہے ہیں۔ آج مودی سرکار کا جو جھوٹ پکڑا گیا ہے اس کی وجہ سے پورے انڈیا کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے ایک ایسے انسان کو اعلی ایوارڈ دیا گیا جس کا مشن فیل ہو گیا تھا اور وہ پاکستان کے رحم و کرم پر تھا اگر پاکستان اس کو رہا کرکے واپس بھارت کے حوالے نہ کرتا تو وہ اب تک پاکستان کی جیل میں سڑ رہا ہوتا۔ لیکن انڈیا نے اپنے زیرو اور کھوٹے سکے کو ایسے ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ بھول گئے کہ ان کا یہ نکما اور نالائق پائلٹ پاکستان میں کیا کارنامہ کرکے آیا تھا اس کا یونیفارم بھی آج تک پاکستانی فوج کے میوزیم میں سجا ہوا ہے۔

    انڈیا کے تین بڑے ایوارڈز ہیں پرم ویر چکرا، مہا ویر چکرا اور ویر چکرا جو جنگوں میں بہادری دکھانے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ اور آج مودی سرکار نے ائیر فورس پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو اپنے تیسرے بڑے ایوارڈ ویر چکرا سے نوازا ہے۔یہاں میں آپ کو یاد کروا دوں کہ یہ وہی بہادر پائلٹ ہیں جنہوں نے پہلے پاکستانی عوام سے مار کھائی پھر پاک فوج نے اس کی جان بچائی اور اس کو گرفتار کیا لیکن جذبہ خیر سگالی کے طور پر اسے Fantastic tea پلا کر واپس انڈیا کے حوالے کر دیا تھا۔جبکہ مودی سرکار نے ابھی نندن کو ایوارڈ یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی ایف 16 مارگرایا تھا۔ہوا یہ تھا کہ دو سال پہلے چھبیس فروری کو انڈین جہازوائلیشن کرتے ہوئے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں بم گرا کر حملہ کیا۔ جس پر انڈین فوج، حکومت اور میڈیا تینوں نے مل کر یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ وہاں کوئی جہادی کیمپس تھے جس پر حملہ کر کے اڑا دیا گیا۔ حالانکہ جس جگہ یہ کاروائی ہوئی تھی وہاں نہ تو کوئی کیمپ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی ہلاکت ہوئی تھی۔ ہاں ہمارے کچھ درخت ضرور اس حملے میں جل گئے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔اس کے بعد اگلے ہی روز ایک بار پھر انڈین طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کی جس کے دوران انڈین مگ21اڑانے والے ابھینندن کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہا تھا۔ لیکن انڈین میڈیا شور مچاتا رہا کہ بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مگ21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔ کیونکہ مگ 21 پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔

    حالانکہ پاکستان کئی مرتبہ اس انڈین دعوے کی تردید کر چکا ہے لیکن پھر بھی جب انڈیا اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ سے باز یہ آیا توغیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی کہ امریکی حکام خود آ کر ایف16 طیاروں کی گنتی کریں۔ جس کے بعد امریکی میگزین فارن پالیسی نے اس پر اپنی ایک مکمل رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا کہ اس واقع کی سچائی کو پرکھنے کے لئے امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی تھی اور وہ تعداد میں پورے تھے اس لئے جب تمام جہاز پورے تھے تو آپ سوچ لیں کہ بھارت نے کونسا جہاز گرایا تھا۔ فارن پالیسی کی اس تصدیقی رپورٹ کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے حملے اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی دعوے جھوٹے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ انڈیا اپنی طرف ہونے والے نقصان بشمول پاکستان کے ہاتھوں اپنے دوسرے طیارے کی تباہی کے بارے میں سچ بولے۔ لیکن سچ بولنا تو دور بھارت نے تو اور زیادہ ڈرامہ کرنا شروع کر دیا۔ ابھی چند ماہ پہلے ابھی نندن کو ترقی دے کرونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنایا گیا۔ جس کے بعد مودی سرکار نے سوچا کہ جب اس کو ترقی دینے پر سب خاموش رہے ہیں تو اب کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر اس کو ایوارڈ بھی دے دیا جائے۔

    مودی سرکار یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ دراصل انڈیا میں اس وقت غربت سے برا حال ہے۔ مودی کو اس کی تمام پالیسیوں پر مار پڑ رہی ہے۔ کسانوں کے سامنے جس طرح مودی کو ہار مان کر معافی مانگنا پڑی اور اپنے تینوں قوانین واپس لینا پڑے وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد اب سی اے اے اور این آر سی کو بھی واپس کروانے کے لئے ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی ہے۔ چین کے ہاتھوں جس طرح انڈین فوج کی پٹائی ہوتی رہی ہے وہ بھی ہم سب نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی صورت میں دیکھا۔ اور اب چین مسلسل انڈیا کے علاقوں میں اپنے گاوں تعمیر کر رہا ہے دو گاوں آباد ہونے کے ثبوت تو خود امریکی ادارے دنیا کے سامنے لاچکے ہیں لیکن بھارتی فوج یا حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس بات کو تسلیم ہی کر لیں کہ چین یہ سب کر رہا ہے۔ کیونکہ الیکشنز سر پر ہیں اگر وہ یہ مان لیں تو وہ اپنی عوام کو کیا جواب دیں گے۔ چین کے ساتھ موجودہ حالات کی وجہ سے ان کی فوج کا مورال پہلے ہی بہت ڈاون ہے۔ اس لئے اپنی طرف سے تو مودی سرکار نے انڈین فضائیہ کا مورال بلند کرنے اور ان کو حوصلہ دینے کے لئے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اور اس ڈرامے کی حقیقت مودی اور راج ناتھ کی شکلوں سے بھی پتا چل رہی ہے کہ کیسے جب ابھی نندن کو ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا اور وہ جھوٹی کہانی سنائی گئی تو راج ناتھ اپنے ہاتھ مل رہا تھا مودی کی شکل پر بھی بارہ بج رہے تھے کوئی خوشی نہیں تھی نہ ہی ان دونوں نے اس کے لئے کوئی پر زور تالیاں بجائیں کیونکہ یہ جانتے تھے کہ وہ اس کو ایک جھوٹا ایوارڈ دے رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کا جھوٹ اتنی بری طرح بے نقاب ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔کوئی سوشل میڈیا پر کہہ رہا ہے کہ۔۔ میں بہادر ابھینندن کو ایف سولہ گرانے اور پھر اپنی جیت کا جشن منانے کے لیے اپنے جہاز سے ایجیکٹ ہوکر پاکستان چائے پینے کے لیے اترنے پر مبارکبا دیتا ہوں۔کسی نے کہا کہ بالی ووڈ نے اکیلے پوری انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپٹ کردیا ہے۔ایک صارف نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو پاکستان میں مشن کے فیل ہونے پر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔کوئی کہہ رہا ہے کہ۔۔ انڈیا کو ہیرو کو زیرو بنانا بخوبی آتا ہے۔ایک نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو خود بھی نہیں پتا کہ انہیں ویر چکرا دیا کیوں گیا ہے۔ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ۔۔ صرف وزیراعظم نریندر مودی اور انڈین میڈیا کے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کی وجہ سے بیچارے ابھی نندن کو بار بار اس وقت کو یاد کرنا پڑتا ہے۔

    لیکن اب مودی کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے گودی میڈیا کے ساتھ مل کر انڈین عوام اور پوری دنیا کو اس طرح سے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ ورنہ اگر آپ چاہتے ہیں تو پاکستانی فوج کے پاس ابھی نندن کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ خود اپنی فضائیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف کر رہا ہے اس کے علاوہ اپنی فیملی کے ساتھ رابطے میں بھی اس نے مودی سرکار اور انڈین فوج کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے مودی اور اس کے وزیر دفاع راج ناتھ کو چاہیے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی بھی بیان بازی کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں ورنہ آپ کے پاس تو ایف سولہ گرانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جو ہم سوشل میڈیا پر ریلیز کر سکتے ہیں۔ اپنے الیکشنز کی تیاری کرنی ہے تو اپنی کارکردگی کے سر پر کریں پاکستان پر جھوٹی بیان بازی مت کریں۔

  • سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    وطن عزیز میں موضوعات کی کوئی کمی نہیں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ اب تو یہ ہماری تفریح بن چکی ہے جو ملتا ہے پوچھتا ہے۔ ”سناؤ کیہہ خبراں نیں“

    ۔ پر خبریں اچھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اس وقت چاروں جانب سے مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔ سیاست سے معیشت ، معیشت سے خارجہ محاذ اور حارجہ محاذ سے انصاف کی فراہمی تک پریشانیاں ہی پریشانیاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ عاصمہ جہانگیر پر ہونے والے کانفرنس اور وہاں ہونے والی باتوں سے حکومت اتنا ڈر گئی ہے کہ اب اس کو فنڈنگ کہاں سے آئی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کو استعمال کرنے اور اسٹیٹ بینک کو کہاگیا ہے کہ پیسوں کے sourceکا پتہ لگا لیں ۔ اچھی بات ہے ہونا چاہیئے ۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ عاصمہ جہانگیر پر اس ایونٹ کے کروانے والے منتظمین کو آگے آکر سب کچھ خود ہی حقائق سامنے رکھ دینے چاہیں ۔ اور حکومت کو بھی چاہیے کہ پی ٹی آئی پر جو فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے ۔ وہ فنڈنگ کہاں سے اور کس مد میں ملی یہ الیکشن کمیشن سمیت ملک وقوم کوبتا دینا چاہیئے ۔ ۔ یہ جو مانگے تانگے کے وزیر روز کوئی نہ کوئی شدنی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس نے پی ٹی آئی سمیت پورے ملک کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے ۔ یہ ہر کسی کو غدار ہونے تمغے بنٹتے پھرتے ہیں حالانکہ یہ خود سب سے بڑے لوٹے ہیں ۔ انھوں نے اتنی پارٹیاں بدل لی ہیں شاید اتنے غریبوں نے کپڑے نہیں بدلے ہوں گے ۔

    ۔ کون ہے جس کو یہ معلوم نہیں کہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف پاکستان پر پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔کسی سے یہ چیز ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے خلاف داخلی و خارجی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں۔۔ چند روز قبل امریکہ نے مذہب و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی نئی فہرست جاری کی ہے۔اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل کیا گیا جبکہ کئی گنا انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب بھارت کو اس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔۔ پر یہ تو ہو گا ہی کیونکہ آپ کو یاد ہو تو کئی روز پہلے جب وفاقی وزیر اطلاعات خود میڈیا پر آکر کہہ رہا ہو کہ ریاست اور حکومت شدت پسندی کے خلاف اتنی تیار نہیں ہے جتنا انہیں ہونا چاہیے۔ تو پاکستان دشمنوں کو تو ہلا شیری ملے گی ۔ اب پتہ نہیں ان کا یہ کلپ کہاں سے کہاں پہنچا ہوگا ۔بھگتیں گے پاکستانی عوام ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں قومیں لوٹوں سے نہیں بنا کرتیں، منافق اور بددیانت لوگ قوموں کی تشکیل نہیں کر سکتے۔

    ۔ پھر ایک اور بہت ہی دلچسپ کھیل جاری ہے۔ جس نے عوام کو ٹی وی سکرینوں کے ساتھ چپکایا ہوا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے مقدمے سے لے کر آج تک بہت سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان دنوں اس سوال نے شدت اختیار کر لی ہے کیونکہ متواتر تین ایسے واقعات ہوئے ہیں پہلا سابق جج جسٹس شمیم رانا کا بیان حلفی ۔ پھر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کھل کر ملک کے نامور لوگوں کی جانب سے اس بات کا اظہار کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہوتا ۔ پھر کل رات سے جو ثاقب نثار کی لیک آڈیو کلپ وائرل ہوا ہے ۔ اس نے پورے ملک میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے ۔ ۔ اس سے ہٹ کر کہ یہ آڈیو صحیح ہے یا غلط ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ یہاں سیاہ کو سفید کہا جا سکتا ہے۔ اکثریت کو بلڈوز کر کے اپنی مرضی کے نتائج نہیں لائے جاسکتے ہیں۔ کون ہے جو اس سے انکار کر سکے کہ اس ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ نظام موجود ہے۔ آج کی عدلیہ کیا کرتی ہے ۔ اس کا فیصلہ تو تاریخ کا مورخ کرے گا مگر ماضی میں عدلیہ کا جو کردار رہا ہے وہ تابناک نہیں ہے اور اس کا اظہار خود اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اسی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہو ں نے ایک نہیں کئی کیسوں کا حوالے دیا کہ کس طرح عدلیہ نے انصاف کو داغدار کیا ہے۔ فی الحال جو منظر کشی بنتی دیکھائی دے رہی ہے کہ متواتر ایسی خبریں اور چیزیں سامنے آرہی ہیں جس کا فائدہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس سب کے پیچھے کون ہے مجھے نہیں معلوم مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جو بھی ہو جائے شریفوں نے ابھی تک رسیدیں نہیں دیں ۔ آسان الفاظ میں اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی ایسی خبر نہیں ۔ جس پر کہا جائے کہ پاکستان کے لیے اچھی ہے ۔ سیاست ، معیشت ، انصاف اور گورننس ہر طرف زوال یہ دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس کا قصور وار کون ہے ۔ آپ نیچے کمنٹس میں لازمی بتائیں ۔ مگر میں اپنی رائے دے دیتا ہوں ۔ مہذب معاشروں اور یورپی جمہوریتوں میں جن کا عمران خان بہت حوالہ دیتے ہیں ۔ تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت وقت ہی ہوتی ہے ۔ دوسری جانب مشیر خزانہ نے آج پریس کانفرنس کرکے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ ۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں معاملات طے پا گئے ہیں ۔ مگر آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس ریفارمز جاری رکھے ۔ یعنی عوام کو تن کر رکھے ۔ کوئی ریلیف نہ دیا جائے ۔

    ۔ اب کیونکہ یہ بڑی ہی تابعدار حکومت ہے ۔ اور شوکت ترین نے تو بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیا ہے کہ اگلے چند ماہ اب بجلی کی قیمت بڑھا کر عوام کو جھٹکے دئے جائیں گے ۔ اس لیے اچھے بچوں کی طرح اس حکومت نے آج ہی بجلی کی قیمتوں میں چار روپے 75 پیسے بڑھانے کی سمری نیپرا کو بھیج دی ہے ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کپتان کی عقلمندی کی پیڑول کی قیمت نہیں بڑھائی تو خسارہ بجلی کی قیمت بڑھا کر پورا کر لیا جائے گا ۔ اس کو کہتے ہیں پرفارمنس ۔۔۔ ۔ پھر اب تو یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لٹر نہ ہو جائے۔ ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی حکومت ہے جس نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کریں گے ۔ ۔ فی الحال عوام کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری 4.8
    فیصد مزید بڑھے گی ۔ جس کے مطابق سال 2022ء پاکستان کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوگا اور اشیائے ضروری کی قیمتوں میں 8.5فیصد اضافہ جاری رہے گا۔ پچھلے دنوں عمران خان نے کہا تھا کہ ہمارے دور میں ملک سے غربت کم ہوئی ، غربت ان ممالک میں بڑھتی ہے جہاں حکمران چور ہوں ، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ قانون کی بالا دستی والے ملک میں غربت نہیں ہوتی ۔ اب جب ملک کا وزیر اعظم یہ سوچ رکھتا ہوکہ اس کو ملک میں مسائل ہی نہ نظر آئیں تو حل کیسے ہوگا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے پاکستان میں غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ممکن ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے وزیر مشیر حقیقی صورتحال سے آگاہ نہ کرتے ہوں مگر ان کے عوام کے پاس آ کر اپنی آنکھوں سے حالات دیکھنے چاہئیں۔ معاشی اعتبار سے یہ تمام باتیں خوفناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ میں آپکو بتاوں پاکستان میں نوے فیصد آبادی لٹنے کے لئے ہے اور دس فیصد لوٹنے والے ہیں۔ مگر تاثر یہی دیا جاتا ہے یہاں ہر کوئی لوٹ مار کر رہا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ بھی اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش ہے کہ ملک میں آوے کا اوا بگڑا ہوا ہے تاکہ اپنے ناجائز کاموں کو ایک جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس ملک کے کروڑوں کسان، مزدور، سفید پوش مڈل کلاسیئے، چھوٹے موٹے دکاندار، قلم پیشہ ہنر مند، اساتذہ اور فنکار کرپٹ نہیں کیونکہ کرپشن ان کی زندگی کا چلن ہی نہیں وہ تو صرف کرپشن کے جبر کا شکار ہیں۔ ۔ میں آپکو بتاوں 1965تک پاکستان کا شمار تیزی سے ترقی کرنے ممالک میں ہوتاتھا۔ پے درپے داخلی سیاسی بحرانوں میں اسے ایسا الجھایا گیا کہ ترقی کی پٹری سے نہ صرف اترگیا بلکہ نااہلی کا دیمک اسے مسلسل چاٹنے لگا۔ اب سارا نظام کھوکھلا ہو چکا ہے ۔

    حقیقت میں عمران خان نے اس ملک کو سب سے بڑا ڈینٹ ڈالا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے پورے ملک کو ۔۔۔ میرے ۔۔۔ اور ۔۔۔ تمہارے ۔۔۔ میں بانٹ دیا ہے ۔ میڈیا سے شروع کریں تو یہ بھی حکومتی ، اسٹمبلیشمنٹ اور اپوزیشن کے کمیپوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ہماری بیوروکریسی بھی ریاست کی نہیں اپنی اور اپنی سیاسی جماعت کی وفادار ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارا تاجر ، ہمارا صنعت کار ، ہماری تجارتی انجمنیں یہاں تک کہ ہمارا ریڑھی اور چنگ چی والا بھی سوائے اپنے مفاد اور اپنی پارٹی کے کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔ عدلیہ میں دیکھ لیں ، ڈاکٹرز میں دیکھ لیں ۔ ہر جگہ آپکو کپتان کی دی ہوئی یہ تفریق دیکھائی دے گی ۔ ۔ آج اس ملک میں جتنی polarization ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔

  • اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    معیشت تو حکومت کے لیے پہلے دن سے مسئلہ تھا لیکن کئی سال انہوں نے یہ کہہ کر گزار لئے ہیں کہ یہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ دلیل بھی کافی کمزور ہو گئی ہے اور مہنگائی نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔ ۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گھی، دال، انڈے، دودھ، دہی، گوشت اورچائے سمیت 27 اشیاء مہنگی ہوچکی ہیں۔ یوں صرف گزشتہ سات دنوں کے دوران مہنگائی میں 1.07 فیصد مزید اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 18.34
    فیصد تک پہنچ گئی ہے۔۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر عمران خان اعلان کرتے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے آٹا، چینی اور گھی بآسانی دستیاب ہوگا جنھیں عوام کی سہولت کے لیے ہر گلی محلے میں نصب کیا جا رہا ہے۔ عوام جائیں، معمولی سی رقم ڈالیں اور مقررہ مقدارمیں آٹا، چینی اور گھی نکال کرگھروں کو لے جائیں۔ مگرلگتاہے کہ ان مشینوں سے بھی کرپٹ سیاستدان ہی نکلیں گے۔ روبوٹ ہی نکلیں گے۔ پھر حکومتی وزیر جیسے فرخ حبیب جتنے مرضی دعوے کر لیں ٹویٹس کردیں کہ ایکسپورٹس ایسی بڑھ گئی ہیں کہ پتہ نہیں پی ٹی آئی نے کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ معاشی اعشاریئے مسلسل منفی جا رہے ہیں اب ڈالر 177 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر جیسے ہی سردی کا زور بڑھا ہے گیس بالکل غائب ہوگی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہ ۔۔۔۔ الٹا شہباز گل سمیت حماد اظہر اپنی نااہلی ماننے کے بجائے شاہ زیب خان زادہ سے اڈا لگا کر بیٹھ گئے ہیں کہ سب اچھا ہے ۔ کہ میڈیا ان کے خلاف سازشیں رچ رہا ہے ۔

    ۔ اس وقت شاید ہی کوئی ہو جو حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لے رہا کیونکہ کارکردگی ہی ایسی ہے ۔ بڑے بڑے کالم نگار اور اینکرز حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں بول رہے ہیں ۔ بالکل وہ بھی جو حکومت کے سب سے بڑے حمایتی تھے ۔ وجہ یہ ہے کہ عوام بلبلا رہے ہیں۔ پھر بھی باہر سے آئے ہوئے ترجمان بضد ہیں کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور کپتان روز چوکا چھکے لگا رہا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عوام کے چھکے چھڑا دیے ہیں ۔ ۔ دعویدار تو یہ ریاست مدینہ کے ہیں پر آئے دن شرح سود میں اضافہ کرکے ملکی معیشت کو ریورس گئیر لگا رہے ہیں ۔ اب ایک بار پھر تیزی سے شرح سود بڑھائی جارہی ہے۔۔ ان کی ورداتوں پر سے پردہ میں ہٹا دیتا ہوں۔ فیصلہ آپ خود کر لینا ۔ پچھلے دنوں جب چینی کے ریٹ چند دن کے لیے ڈیڑھ سو روپے فی کلو سے اوپر چلے گئے تو شوگر مافیا نے ان چند دنوں میں کم از کم 60ارب روپے کما لیے تھے۔ اور پھر جب اس سال کے آغاز میں آٹا بحران لایا گیا تو اُس وقت بھی مافیا نے 100ارب روپے سے زائد کما لیے تھے۔ اس کے علاوہ جب پٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا تب بھی ایک رپورٹ کے مطابق 130ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا گیا۔
    ۔ یہ ہے تبدیلی
    ۔ یہ ہے مافیا کے خلاف کاروائیاں
    ۔ یہ ہے ریاست مدینہ
    ۔ یہ ہوتا ہے سمارٹ ورک
    ۔ یہ ہوتا ہے وژن ۔ اب سمجھ آئی ۔۔۔
    ۔ یہ ہے نیا پاکستان ۔۔۔ جہاں سے اربوں روپے کمانا اتنا مشکل نہیں رہا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو سمارٹ ورک آتا ہو۔

    ۔ آج ساڑھے تین سال بعد یہ حالت ہے کہ حکومت کو لانے والے بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ مسئلہ صرف معاشی محاذ پر ہی نہیں۔ بلکہ ہر محکمہ ہر ادارے میں ریسوس گیئر لگ چکا ہے ۔ معاشی کے بعد سیاسی ماحول کی بات کی جائے تو وہ بھی منفی اشارے دے رہا ہے۔ تمام تر حربوں اور نیب کے استعمال کے باوجود ن لیگ سمیت پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک بھی قائم ودائم ہے ۔ ساتھ ہی حکومت کے دعوے کے ان کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکلوائیں گے ۔ یہ ایک دھیلا بھی نہیں نکلوا پائے ہیں ۔ الٹا براڈ شیٹ سمیت برطانیہ میں ریاست پاکستان کو بےعزت کروابیٹھے ہیں ، پھر عالمی،علاقائی اور داخلی حالات کے باعث اسٹیبلیشمنٹ بھی اب اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے بات کرنے پر مجبور ہے۔ مگر اب تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، دراصل سیاست دو اور دو چار کا کھیل نہیں بلکہ سیاست بہت وسیع اور پیچیدہ کھیل ہے۔ کرپشن کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف یہ بھی بڑی دلیل دی جاتی ہے کہ بڑی جماعتوں میں موروثیت حاوی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے باریاں لگائی ہوئی تھیں یعنی دو پارٹیوں کا نظام بھی قابل قبول نہیں حالانکہ ان کی اپنی جماعت میں جو موروثیت ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ۔ جو عمران خان نے دسیوں بار چلے ہوئے کارتوس اپنے جماعت میں اکٹھے کیے ہوئے ہیں اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔ پھر اپوزیشن تو ابھی سے کہہ رہی ہے حکومت نے ووٹنگ کے طریقہ کار کو بدل کے دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے، چلیں آج کی سن لیں آج جہاں پی ڈی ایم نے پشاور میں پاور شو کیا تو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے شہزاد اکبر، زلفی بخاری اور شہباز گِل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے باقاعدہ قانونی کاروائی کی نوید سنادی ہے ۔ پھر یہ کہہ کر تو حکومت کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے کہ وزارت داخلہ کی توجہ کہیں اور ہے۔ جہاں شیخ رشید وزیر ہوں وہاں کا حال کیا ہوگا۔ ان کا اشارہ حریم شاہ اور شیخ صاحب جو گفتگو بارے تھا جو سامنے آئی ہے ، پھریہ کہہ کر شہزاد اکبر کو بھی خوب رگڑا لگایا کہ جس دور میں چینی 55روپے تھی اس کے کیس بنا دیے۔ اب سو روپے ہے تو کچھ نہیں کیا۔

    ۔ اب مولانا فضل الرحمان تو کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں انھوں نے تو کہہ دیا ہے کہ عمران خان غیروں کے ایجنٹ تو ہوسکتےہیں عوام کے نمائندہ نہیں۔ پھر کشمیر ، قانون سازی ، مہنگائی ، ریاست مدینہ ، آئی ایم ایف سمیت کون سی ایسی چیز تھی جس پر انھوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا ۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مہنگائی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشویشناک بات وزیراعظم اور وزراء کا جھوٹ بولنا ہے۔ ایوان کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب انتخابی عمل میں ترمیم کے باوجود یہ بات وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ ای وی ایم کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کا حکومتی مقصد باآسانی پورا ہو جائے گا کیونکہ ایک طرف اگر اپوزیشن کو تحفظات ہیں تو الیکشن کمیشن بھی پوری طرح مطمئن نہیں بار ایسوسی ایشنوں میں بھی اِس حوالے سے مخالفت اور بے اطمینانی موجودہے ۔ مسئلہ implementationکا ہے ۔ اس وقت ای وی ایم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن واضح طور پر تذبذب کا شکار ہے ۔ مجھے نہیں لگتا یہ ہو پائے گا ۔ کیونکہ سیکرٹری الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کا پابند نہیں۔ اس پر الیکشن کمشن حکام کے مطابق ووٹنگ مشین متعارف کرانے سے پہلے 14تجرباتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔ تین یا چار پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرنا ہوں گے۔ پھر انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہو گی وہاں ووٹنگ مشین کیسے کام کرے گی۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ ووٹنگ مشین کو انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں تاہم یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمشن کا عملہ الیکٹرانک مشین میں موجود نتائج کس طرح پریذائیڈنگ افسر یا الیکشن کمشن کو ارسال کرے گا۔

    ۔ پھر ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے تین لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔ اب پارلیمنٹ سے قانون سازی ہونے کے بعد اصولی طور پر الیکشن کمشن اس طریقہ کار کو مسترد نہیں کر سکتا۔ پر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاخیر کا بہانہ ضرور بنا سکتا ہے ۔ یوں اب یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے اس مشین کا استعمال نہ کیا تو پھر پی ٹی آئی الیکشن کو نہیں مانے گی ۔ ہار گئی تو وہ دھاندلی کا شور مچائے گی ۔ پر اگر اس مشین کے ذریعے الیکشن کروایا جاتا ہے تو جہاں بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں آئندہ انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تو شہباز شریف بھی ای وی ایم کو شیطانی مشن قرار دیتے ہیں اِن حالات میں پہلی بار انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ ملک میں اس وقت اضطراب اور ہلچل کی جو کیفیت ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ سٹیک ہولڈر مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ کسی تبدیلی کی صورت میں انہیں مکمل تحفظ اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو اور حالیہ سالوں میں ان کے کئے کرائے پر پر مٹی ڈال دی جائے۔ دیکھا جائے تو اس وقت اپوزیشن، آزاد میڈیا، ججوں، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مل کر ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جس میں حکومت کی ہر حرکت اس کے وبال جان بن رہی ہے ۔ یاد رکھیں قدرت کا قانون حرکت میں آنے کے لیے کسی اجلاس اور مشورے کا پابند نہیں ہوا کرتا۔ آج ہر شعبہ، ہر ادارہ بے توقیر ہے۔ یہ موجودہ حکمرانوں کا تحفہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی کے لوگ باہمی طور پر گھتم گھتا ہیں۔ ۔ عمران خان سنگاپور، ترکی، چین، ریاست مدینہ، سعودیہ، ارطغرل، بابر، صلاح الدین ایوبی نہ جانے کتنی کہانیاں اور فلمیں اس عوام کو دیکھا چکے ہیں ۔ اب عوام حکمرانوں کو فلم دیکھنے نہیں ۔۔۔ دیکھانے کی موڈ میں ہے

  • کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں سماجی و نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے آج پہلے دو خبریں آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ پھر آگے بات کریں گے ۔ ۔ سب سے پہلے بات کریں تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے درالخلافہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں دن دیہاڑے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر ڈاکو تین کروڑروپے مالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں پھر ملزمان نے خواتین اور بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے ۔ دوسری وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈاکو مسلم لیگ ن کی سینیٹر کا گھر لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ڈکیتی کی واردات اسلام آباد کے پوش علاقہ ایف ٹین میں واقع سینیٹر نزہت عامر کے گھر ہوئی۔ یہاں بھی نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنایا ۔ دراصل پی ٹی آئی نے حقیقی تبدیلی یہ برپا کی ہے پورےملک میں ڈکیتیاں معمول بن گئی ہیں۔ اب تو ہر کوئی انتظارکررہا ہوتا ہے کہ کب ہماری باری آئے گی۔ ۔ یہ عثمان بزدار اور عمران خان کی ان تھک محنت اور کوششوں کا پھل ہے ۔ جو انھوں نے پولیس میں اتنے تبادلے کیے ہیں ۔ کہ محکمہ پولیس صرف transfer and posting کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کے بعد ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کیسے ٹھیک رہ سکتی تھی ۔ اس وقت سٹریٹ کرائم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عوام کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں ۔ اور بس ایک ہی دعا کر رہے ہیں کہ یا اللہ ان نااہل حکمرانوں سے جان چھڑا دے ۔ ۔ کیونکہ عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حصے میں صرف ڈبل ایکس مہنگائی ، اہل اختیار کی بے حسی اور خالی خولی دعووں اور وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

    ۔ مسائل کو حل کرنے کے ان کے طریقوں پر ذرا غور فرمائیں ۔ مہنگائی ہوگئی ہے تو شرح سود بڑھا دو، تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے تو روپے کو گرادو، عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہے تو عالمی اداروں سے قرضہ لے لو۔ ٹیکس لگانا ہے تو ایسے لگا ئو کہ مراعات یافتہ طبقے کا بال بیکا نہ ہو۔ تحریک انصاف وہ سب کام کررہی ہے جس سے اشرافیہ کو فائدہ پہنچے لیکن اصرار یہ ہے کہ این آر او نہیں دینا اور عوام مزید صبر کریں ۔ مہنگائی و بے روزگاری کی چکی میں پستے عوام کے شب و روز تلخ ہو چکے ہیں۔عوامی غم و غصہ برداشت سے باہر ہے۔ کیونکہ عمران خان نے بننا تو پاکستان کو ملائیشیا یا سنگاپور تھا ۔ پر بنا افغانستان دیا ہے ۔ بلکہ اس سے بھی بدتر کر دیا ہے ۔ کیونکہ مہنگائی کی شرح یہاں افغانستان سے بھی زیادہ ہے ۔ ویسے جب ریاست اپنی مالی اور مالیاتی خودمختاری آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھنے پہ مجبور ہو جائے ۔ تو اندازہ لگا لیں کون لوگ اس ملک پر مسلط ہوچکے ہیں ۔ پھر حکومتی وزراء کا وتیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنی ہر ناکامی کو ماضی کے حکمرانوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جائیں۔ منجن وہ یہ بیچتے ہیں کہ ملک پر دو پارٹیوں کی دہائیوں تک حکومت رہی ۔ اس کے اثرات پورے نظام پر موجود ہیں اور انتظامی خرابیاں بھی اسی کی وجہ سے ہیں۔ اس وجہ سے اب تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔ حالانکہ تبدیلی آرہی ہے ۔ کبھی عوام میں جا کر یہ پوچھیں تو انکو لگ پتہ جائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ قوم ہمارا ساتھ دے جلد خوشخبری سنائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہ خوشخبری قوم کے لیے کم ہے کہ وہ آٹا ، چینی اور بجلی کے بعد گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کررہی ہے ۔ آپ دیکھیں سردیاں آ تی ہیں تو گیس چلی جاتی ہے، گرمیاں آتی ہیں تو بجلی چلی جاتی ہے، کوئی وباء پھیلتی ہے تو ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے، رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ سچ یہ ہے جس کو حکومت اور حماد اظہر جھٹلاتے ہیں کہ پچھلے دور میں قدرتی گیس کی کمی کو دور کرنے کے لیے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کئے گئے اور ملک میں بروقت اس کی درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس کی ترسیل کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں موجودہ حکمرانوں سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ جن اوقات میں ایل این جی کی خریداری کے سستے سودے کیے جا سکتے تھے۔ تب یہ کر لیتے اور اب جو مہنگے داموں میں ایل این جی کی خریداری کے سودے کیے وہاں ملکی ضرورت کے مطابق 14کارگوز منگوانے کے بجائے صرف 12کارگوز کے سودے کرنے میں بمشکل کامیاب ہو سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ابھی جب کہ سردیوں کا پوری طرح آغاز بھی نہیں ہوا ہے ملک بھر میں گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    ۔ اس وقت گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چند دنوں میں تین سو روپے سے زائد اضافے کے ساتھ لکڑی اب نو سو نوے روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں چند روز قبل تک سترہ سو روپے میں ملنے والا گھریلو سلینڈر کی قیمت تین ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے اس دوران بھی پریشر نہایت کم ہوتا ہے۔ پھر دیہاتی علاقوں میں تو سرے سے گیس بند ہی کر دی گئی ہیں ۔ یہاں تک اندسٹری بھی رو رہی ہے کہ گیس نہیں مل رہی ۔۔ سچ یہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی ویژن ہے نہ وزراء کو عوامی مسائل کا ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ تین سال میں عام آدمی کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کو نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے کم از کم دس سال مزید چاہئیں ۔ جو کہ میری نظر میں صرف ای وی ایم ہی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لکھ لیں خدانخواستہ یہ اگلے دس سال بھی مل گئے تو کپتان نے کَٹوں، وَچھوں، مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے ہی ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اور انھی سے سارے قرضے اُتار کر آئی ایم ایف پر لعنت بھیجنی ہے ۔ پھر بننی ہے کپتان کی ریاستِ مدینہ ۔۔ ہمارے آج کے مرکزی حکمران چند شیلٹر ہومز اور کچھ لنگر خانے بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم ریاستِ مدینہ پر عمل پیرا ہیں ۔ ۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں نے سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کے قصے تو عوام کو بہت سنائے اورمتعدد اعلانات بھی کیے کہ لُوٹی رقوم ہر صورت میں واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرواؤں گا۔ ہُوا مگر کیا؟ جواب ہم سب کے سامنے ہے۔

    ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جب حکمرانوں کا اپنا حال یہ ہو کہ توشہ خانے کا حساب دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو کسی اور سے کیا خاک پیسہ نکلوانا ہے انھوں نے ۔ ہمارے حکمرانوں کو بس اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور آئندہ کے انتخابات بھی اپنے حق میں رکھنے کا جنوں ہے۔ اب اگر لوگ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے دور کو یاد کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ نواز شریف یا آصف زرداری ان کے رشتہ دار ہیں بلکہ وہ ان کی دی ہوئی ڈیویلپمنٹ اور سہولتوں کو یاد کرتے ہیں۔ آپ جو مرضی کہہ لیں ۔ جتنی مرضی گزشتہ ادوار پر تنقید کرلیں ۔ اس کے باوجود گزشتہ دور اس دور سے لاکھ درجے بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں عوام کہہ رہے ہیں ۔ دراصل یہ ہی تو اس ملک کے ساتھ المیہ ہوا ہے کپتان نے وہ کارکردگی دیکھائی ہے کہ اب لوگ کپتان کے علاوہ کسی کو بھی قبول کرنے کو تیار ہیں ۔ چاہے وہ چور ، لٹیرا یا ڈاکو ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ عمران خان محض بیان بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور عوام کو یہ دونمبری سمجھ آگئی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ یہ قرضے اب کی بار رکنے کے نہیں۔ یہ صرف اور صرف بڑھنے کے لیے ہیں ۔ کسی میں بھی جرات نہیں کہ یہ حقیقت بتا سکے۔ یہ حکومت پاکستان کی خود مختاری پر توسودا کررہی ہے ۔ پر لوگوں میں انوسٹ نہیں کررہی ، ترقیاتی کاموں پر زیادہ خرچہ نہیں کررہی ، تو لوگوں کا معیار زندگی کیسے بہتر ہوگا اور یوں جب لوگ ہنر مند نہیں ہوں گے، تو ہماری ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی۔ ہم ایک طویل دلدل میں پھنس چکے ہیں، ہم نے جو بیانیہ بنایا تھا، وہی آج ہمیں ڈس رہا ہے ۔ دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہماری کوئی بھی تیاری نہیں۔ اس لیے جو بدحالی اب کے بار آئی ہے اس نے خان صاحب کو تو کیا خود اس کے پیچھے کھڑی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا دیا ہے۔ یاد رکھیں حکمرانی کا شوق اور اقتدار کے مزے لوٹنا ایک ایسی خواہش اور تمنا ہے جو بہت سارے لوگوں کے دلوں میں مچلتی رہتی ہے۔ تاہم حکمرانی کے اُمور چلانا اور ماضی میں کیے جانے والے اپنے دعوؤں اور نعروں کو عملی جامہ پہنانا اور عوام کی توقعات پر پورا اُترنا آسان نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکمرانی کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے بلند ویژن کے ساتھ ہر لمحے، دانائی اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک لحاظ سے تنے ہوئے رسے پر چلنا پڑتا ہے۔ ہماری بدنصیبی اور بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے حکمران اور ایسی حکومتیں نصیب ہوتی رہی ہیں جنہوں نے نہ تو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے کچھ کام کیا نہ ہی ملک میں پائی جانے والی بد عنوانی، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسی بُرائیوں اور مہنگائی در مہنگائی جیسے عفریت کو ختم کرنے میں کوئی پیش رفت دکھائی۔

    ۔ اس لیے اگر وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو سوائے اس کے کہ اس کے بار ے میں صفر +صفر+صفر = صفر0+0+0 = 0 کہا جائے، اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں بنتا۔۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جناب عمران خان کے دورِ حکومت میں مملکت اور ریاست پاکستان کی جو درگت بنی ہے۔ اس کی قیامِ پاکستان سے لے کر پچھلے ادوارِ حکومت تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ ۔فی الحال تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ملک کتنا پیچھے چلا گیا ہے اس کا صحیح اندازہ آنے والے وقتوں میں ہوگا۔

  • پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) سابق وزیر اعلی پنجاب وپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ نیازی حکومت نے پارلیمنٹ میں روایات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اب تو الیکشن کمیشن نے بھی برملا کہہ دیا ہے الیکٹرانک مشینوں سے انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں ،نیازی سرکار ڈنڈے کے زور پر سیاہ قوانین پاس کروانے کے لیے سلیکٹرز کے پاو¿ں کیوں پکڑ رہی ہے۔ 2023کے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری کی بھتیجی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر،پی پی پی کے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ میڈیا کووار ڈ ینیٹر محمد طاہر شیخ ،ٹکٹ ہولڈر چوہدری عمر دراز آزاد و دیگر جیالوں سے ملاقات کے دوران ملکی صورتحال پر گفتگو کے دوران کیا،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ نیازی پاکستانی قوم کے ساتھ ایک اور گھناو¿نا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔جو کہ تشویش ناک فعل ہے ِبحران خان کی حکومت نے اب قوم کو روٹی پکانے کیلئے گیس بھی دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، تین سالہ کارکردگی کا نچوڑ دن میں صرف تین بار گیس کی فراہمی کا اعلان ہے، یہ موسم سرما عمران خان کی حکومت اور سیاست کی تدفین کا موسم ثابت ہوگا،قوم ہر موسم سرما کو رہتی دنیا تک منحوس حکومت سے نجات کے موسم کے طور پر منائے گی،تبدیلی سرکار کے تمام دعوے اور وعدے پہلے بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے اب بھی قوم کے ساتھ ایک سنگین فراڈ ہو گا، متنازعہ قانون سازی پیپلز پارٹی کو ہر گز قبول نہیں پیپلز پارٹی حکومتی سیاہ قانون سازی کے خلاف ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے گی ۔مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری نے کہا کہ ، اناڑی کو گاڑی پر بٹھائےںگے تو خود بھی مرے گا گاڑی کو بھی تباہ کرے گا ،اگر گاڑی اناڑی نہیںچلا سکتا تو 22 کروڑ عوام کا ملک کیسے چلا سکتا ہے ، قوم پوچھتی ہے کہ تبدیلی لانے والوں کو عمران نیازی کی حکمرانی پسند آئی؟تین ٹائم گیس کی فراہمی کا اعلان بھی دھوکہ ہے، گیس آئے گی ہی نہیں، بجلی، پٹرول اور گیس مہنگی کرنے کے بعد سلیکٹڈ قوم سے سہولتیں بھی چھین رہا ہے، سردیوں میں گیس کی فراہمی سے انکار کرنے والی حکومت کو لوگ نکال باہر پھینکیں گے۔سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ2018 میں پی ٹی آئی حکومت کو لا کر ملک کا ستیاناس ، بیڑہ غرق کردیا گیا ہے ،جو بھی اشیا ئے خوردونوش لینے جاتا ہے وہ اس حکومت کو گالیاں نکال کر نہیں آتا ؟، اس مہنگائی نے عوام کاجینا محال کر دیا ہے ، کہ ، جس نے قوم کو ڈینگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،،اس نے ہماری خارجہ پالیسی تباہ کر دی ہے ،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے۔

  • سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سب سے بڑی خبر جو ہے وہ یہ کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو آج رہا کر دیا گیا ۔ کوٹ لکھپت جیل سے وہ سیدھا مسجد رحمت العالمین پہنچے ۔ جہاں ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ٹی ایل پی کی لیڈرشپ اور کارکنان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ چکے تھے ۔ بڑے ہی رقت آمیز مناظر تھے ۔ کارکنان بڑے ہی پرجوش تھے ۔ فضا لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ اس موقع پر اتنی گل پاشی کی گئی کہ علامہ سعد رضوی کی گاڑی ہی کیا سٹرکیں تک پھولوں کی پتیوں سے بھر گئیں ۔۔ پھر سعد رضوی سب سے پہلے اپنے والد تحریک لبیک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے مزار پر گئے ۔ وہاں پر خصوصی دعا مانگی گئی۔ اس وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ چوک یتیم خانہ پر موجود ہیں اور اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر ہیں ۔

    حافظ سعد رضوی ، ٹی ایل پی کی تمام لیڈرشپ سمیت جتنے بھی کارکنان جنہوں نے لاٹھیاں ، گولیاں ، تشدد اور گرفتاریاں برداشت کیں۔ ان کی فتح کا دن ہے ۔ ان کے عظم اور ثابت قدمی کی وجہ سے ہی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور ٹی ایل پی شاید ہی کوئی مطالبہ ہوجو منظور نہ کرواپائی ہو ۔ کارکنان بھی رہا ہوگئے ، گرفتار لیڈر شپ بھی رہا ہوگئی اور پاپندی بھی ختم ہوگئی ۔ دیکھیں جب آپ حق پر ہوں تو پھر آپ نہ ڈرتے ہیں نہ پیچھے مڑتے ہیں ۔ میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ پر آج ان تمام وزراء کو اپنی شکل آئینے میں دیکھنی چاہیئے ۔ اور اگر کہیں چلو بھر پانی ملے تو ڈوب مرنا چاہیئے کیونکہ ان کی تمام سازشیں کہ ملک میں خون خرابہ ہو ناکام ہوگئی ہیں ۔ ساتھ ہی ان وزراء جیسے شاہ محمود قریشی ، علی محمد خان عقیل کریم ڈھیڈی ، مفتی منیب الرحمان سمیت اداروں کو خصوصی مبارک باد کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا ۔

    ۔ اس وقت جو ٹیمپو بنا ہوا ہے ۔ اگر ٹی ایل پی صحیح طریقے سے capitalize کرجاتی ہے ۔ تو یقین مانیے تحریک لبیک عنقریب پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہوگی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چاہے حکومت اور اتحادی جماعتیں ہوں یا پھر اپوزیشن جماعتیں کبھی ان کے لیے ہمدردی کا بول نہیں بولا ۔ حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ یہ حق پر ہیں ۔ کیونکہ میں ان کو شروع سے فالو کر رہا ہوں ۔ جو لوگوں کی پہلے تو ان سے عقیدت ہے۔ وہ اپنی جگہ ۔ پر لوگ مانتے ہیں کہ یہ سچے لوگ ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور جو تحریک لیبک والے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ان کے قد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ پھر جو بھی لوگ پولیس کے یا پھر ٹی ایل پی کے جن کی جانیں گئیں ۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے ۔ پہلے تو معاہدہ پر انھوں نے خود عمل نہیں کیا پھر جان بوجھتے ہوئے ہیں علامہ سعد رضوی کو گرفتار کیا ۔ حالانکہ حکومت جانتی تھی کہ اس کے بعد ملکی سطح پر احتجاج کیا جائے گا ۔

    ۔ ساتھ ہی جو حالیہ لانگ مارچ کے دوران بھی حکومت کا رویہ کوئی ٹھیک نہیں تھا ۔ ایک جانب آپ مذاکرات نہیں کر رہے تھے تو دوسری جانب شہر شہر بند کیا ہوا تھا ۔ خندقین کھود کر ۔ کنٹینر لگا کر ، انٹرنیٹ اور فون حکومت نے بند کیے ۔ اس سے جو اربوں اور کھربوں روپے کا کاروبار متاثر ہوا ۔ جو لوگوں کو کوفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا اس سب کی قصور وار حکومت ہے ۔ ۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ۔۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ علامہ سعد رضوی عنقریب پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ بن کر چمکے گا ۔ اور ان کے کارکنان اور جماعت بڑے بڑوں کی ضمانتیں ضبط کروا دے گی ۔

  • عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    مملکت پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ اب معمول کی بات ہے الزام تراشیوں کے سلسلے بھی اب نئے نہیں اور تو اور اب مقدس اداروں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔۔ایسا ہی ایک ادارہ عدلیہ ہے ایسا نظام جس سے ایک ریڑھی والے سے لیکر اسمبلی میں بیٹھے حکمران تک کی امید بندھی ہیں ریاستی نظام میں یہ واحد ستون ہے جس پر پور ی ریاست چل کر خوشحالی کا جانب گامزن ہوتی ہے مگر جہاں عدالتیں عام شہری کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہوں وہاں نہ صرف ریاستی نظام بلکہ اس سے جڑے تمام تر امور ناکام تصور کیے جاتے ہیں۔۔۔جبکہ آج کل تو عدالتوں اور انکے ججز سے جڑے سیاسی سے قصے زبان زد عام ہیں۔۔سیاسی جماعتوں کی الزام تراشیوں کا سلسلہ چلتے چلتے معزز عدالتوں میں بیٹھے جج صاحبان تک جا پہنچا ہے۔۔۔

    معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک جج صاحب نے دوسرے معزز جج پہ مبینہ الزام لگایا کہ انہوں نے نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کو سزا دلوانے میں اہم کردار نبھایا اور پھر اسکے بعد سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی کے ٹاک شوز حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑتی دکھائی دے رہی ہے ایک جماعت ایک جج کے ساتھ دوسری مخالف کے ساتھ اور عوام کیا سوچ رہی اسکی نہ نظام عدل کو پروا نہ ہی انتظامیہ کو لینا دینا۔۔۔تو بھئی بات یہ ہے کہ معاملات جو بھی تھے اس سے ایک عام آدمی صرف اور صرف اتنا سوچنے پر مجبور ہے کہ جن عدالتوں پر آنکھیں بند کر کے وہ یقین رکھتا تھا کہ وہاں حلفاً فیصلے انصاف پر ہوتے ہیں تو کیا وہ محض اسکی خوش خیالی تھی یا چلیں مان لیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی لین دین ہوئی بھی ہے یا سیاسی رشتہ داریاں نبھائیں گئی ہیں تو کیا جج صاحبان کو کھلے عام بیانات دے کر عدالتوں پر سے اعتبار اٹھوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا؟۔۔سیاسی رسہ کشی میں ہم اپنے اداروں کی بے توقیری میں ملوث ہورہے ہیں اس بات کا احساس تک نہیں کیا بیان دینے والوں نے ۔۔ ایک انصاف دینے والا دوسرے انصاف دینے والے کے کردار کو پوری قوم کی نظر میں مشکوک بنا رہا ہے تو پھر خود بتائیے کیا عدالت وہ جگہ رہ جائے گی جہاں انصاف کی دہائی کے لیے لپکا جائے؟

    آپ کبھی کچہری میں ہزاروں لوگوں کو دھکے کھاتے دیکھیے جو اپنے کیس جوانی میں دائر کرتے اور بڑھاپے تک فیصلے مؤخر رہتے یا پھر کیس کی سنوائی ہی نہیں ہو پاتی۔۔کرمنل کورٹس میں کئی بے گناہ منتظر ہیں سول کورٹس میں ڈھیروں فائلیں کسی خاک سی امید تلے دب چکی ہیں کئی خواتین سے متعلق کیسز ہیں جو ڈرتے مرتے تشدد کے خلاف آواز اٹھا بیٹھیں مگر کوئی سننے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا نہیں۔۔۔ بد قسمتی سے انصاف کا دوہرا معیار بھی اس نظام کی ناکامی کی وجہ بنتا جارہا ہے غریب جسکے پاس پیسہ نہیں وہ روز عدالتوں کی خاک چھانتا ہے اسکو سننے والا کوئی نہیں ہوتا جبکہ روپے پیسے والا ایک دن میں اپنا کیس عدالت سے نمٹا لیتا ہے۔۔۔بڑے بڑے مجرم عدالتوں سے پلک جھپکتے بری ہوتے دیکھے کئی نامی گرامیوں کو قانون کی آنکھوں میں خاک جھونکتے بھی دیکھا انہی عدالتوں نے مجرموں کے کمروں سے برآمد شدہ شراب کی بوتلوں کو شیمپو کی بوتلیں بھی کہا سیاسی مجرموں کو محفوظ راستے بھی فراہم کیے سیاستدانوں کو سیاسی انتقام میں بھی جھونکا کئی سیاسی بدمعاش تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں کے زیر سایہ کئے گئے سنگین جرائم کا اعتراف تک کیا مگر با عزت بری ہوئے۔۔ غریب بھوک کے ماے ایک روٹی بھی چوری کر ے تو پولیس پکڑ کے لے جائے گی اس بے چارے کو حوالات سے جیل تک پہنچا دیا جائے گا جبکہ دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے ایم این اے مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے ثبوت ناکافی ہیں جبکہ قتل کی فوٹیج تک عدالت میں دکھائی جاتی ہے۔ معاشرے کی بقا کے لیے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ اسوقت پاکسان کی مختلف عدالتوں میں بائیس لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہے عدالتیں خود مختار اور آزاد ہونگی تو انصاف کی فراہمی جلد اور یقینی ہوگی عدالتی نظام میں اصلاحات اکثر سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا منشور کا حصہ رہیں مگر عملی طور پر کچھ نہ کیا جاسکا مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے جڑے ستون ہیں ایک میں بھی سقم ساری ریاست کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔۔ انصاف پر مبنی نظام عدالتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ حکومت کو بھی عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ فوری اور بروقت انصاف مہیا ہوسکے۔ اور ایک نظام ترتیب دیا جائے کہ جو جو وکلا یا ججز مقدمات کو التوا میں ڈالنے کا سبب بن رہے ان سے پوچھ گچھ یقینی بنائی جا سکے۔ سیاست دانوں کو سیاست اور ججز کو عدل قائم کرنے ہوگا اگر عدلیہ میں سیاست شامل ہونے لگی تو پھر انصاف کے نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجائیں گی جو عدالتی نظام پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتی چلی جائیں گی۔

    سیدہ زکیہ بتول
    @NayyarZakia

  • انتخابی اصلاحات 2021 تحریر حمزہ بن شکیل

    گزشتہ روز صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 17 نومبر دن 12 بجے طلب کیا تھا۔ حکمران جماعت کو بلز منظور کرانے کیلئے اتحادیوں کی کافی زیادہ ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایوان میں نمبرز پورے کرنے کے کیلئے کل سے سرگرم تھے۔

    آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات سے متعلق تحریک پیش کی جس پر سپیکر اسد قیصر کی جانب سے گنتی کرائی گئی۔ یاد رہے اس سے قبل انتخابی اصلاحات کے متعلق ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی تحریک منظورکی گئی تھی۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کرانے اور اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق بل منظور کر لیا گیا۔ تحریک کے حق میں 221 جبکہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے۔ اگر نمبر گیم کی بات کی جائے تو دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینٹ میں ارکان کی مجموعی تعداد چار سو چالیس ہے، حکومت اور اتحادیوں کے پاس 222 ارکان ہیں جبکہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 219 ہے۔ جس کا مطلب واضح کے کے بہت سے اپوزیشن ارکان اج بھی غیر حاضر رہے۔

    اجلاس کا دوران اپوزیشن نے خوب ہنگامہ آرائی کی، کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

    آج کے اہم اجلاس کے ایجنڈے میں انتخابی اصلاحات بل، نیب آرڈیننس اور نئی مردم شماری سمیت 29 بلز کی منظوری شامل تھی۔

    اس کے علاوہ وزیرقانون نے کلبھوشن اورعالمی عدالت انصاف کے متعلق بل پیش کئے۔ وفاقی دارالحکومت میں چیریٹی رجسٹریشن اینڈفسیلیٹیشن کا بل بھی پیش کیا گا۔ اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسزکارپورشن ترمیمی بل 2021، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ بل اور مسلم فیملی لا کے 2 بل بھی آج کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوا۔ اینٹی ریپ بل 2021 بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ حیدر آباد انسٹی ٹیوٹ ٹیکنیکل مینجمنٹ سائنس بل، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیزترمیمی بل 2021، فنانشل انسٹی ٹیوشن ترمیمی بل، فیڈرل پبلک سروس کمیشن بل، زراعت، کمرشل اورصنعتی مقاصد کیلئے قرضوں کے متعلق بل بھی پیش کیے گئے۔ کمپنیز ترمیمی بل 2021، نیشنل ووکیشنل ٹیکنیکل اینڈٹریننگ کمیشن ترمیمی بل، پاکستان اکادمی ادبیات ترمیمی بل 2021، پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بل 2021، پاکستان شپنگ نیشنل کارپوریشن ترمیمی بل 2021 اور گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2021 بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔ مشترکہ اجلاس میں میری ٹائم ایجنسی ترمیمی بل 2021، امیگریشن ترمیمی بل 2021، نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2021، کوروناکے دوران ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے متعلق بل، کریمنل لا ترمیمی بل 2021 اور الکرم انٹرنیشنل بل 2021 بھی ایجنڈے کا حصہ تھا۔

    ‏آج وزیر اعظم عمران خان نے وہ کر دکھایا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ اگلا الیکشن اب الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر ہو گا اور سمندر پار پاکستانی دنیا کہ کسی بھی حصہ میں ہوں وہاں سے ووٹ ڈال سکیں گے۔

    ‏سمندر پار پاکستانیوں کو مبارک ہو انہیں تاریخ میں پہلی مرتبہ بیرون ملک سے ووٹ ڈالنے کی سہولت مل گئی…