Baaghi TV

Category: سیاست

  • اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    ان دنوں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں شاید اسی کے ممکنہ انجام کو بھانپ کر ہماری سیاسی قیادت ایک بار پھر سے سرگرم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس وقت اپوزیشن کی باڈی لینگوئج ان کے پرجوش اور پر اعتماد ہونے کا پتہ دے رہی ہے۔ تو دوسری جانب وزرا اور حکومتی ارکان ماضی کے چونچلوں کے برعکس مرجھائے ہوئے ہیں ۔ بلکہ چڑیل کے مطابق بہت سے شعبدہ بازوں نے تو دوسری جماعتوں سے رابطے کرنا بھی شروع کر دیے ہیں ۔ کیونکہ یہ اپنے علاوہ کسی کے ساتھ سچے نہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جب پیچھے مڑکردیکھیں گے تو بہت سے ایسا وزراء اور مشیر غائب ہوں گے ۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ عمران خان کو رگڑا لگا رہے ہوں اور کپتان کو کرپٹ خان ثابت کر رہے ہوں۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور یہ بالکل کھل کر اور واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی سے مراد حکومت کی تبدیلی ہے۔ اس وقت حکومت کے لیے نہ صرف حکومت کرنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اب حکومت کا بچنا مشکل ہوگا۔ شہباز شریف ، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے آپسی رابطے بڑھتے جارہے ہیں۔ آج بھی بلاول مولانا فضل الرحمان سے ملنے ان کی رہائش گاہ گئے ۔ اس موقع پر بلاول نے مولانا سے کہا ہے کہ آپ بزرگ سیاست دان ہیں، تین نسلوں سے ہمارا رشتہ ہے، پارلیمان کے ذریعے ہی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ مولانا کا کہنا تھا کہ ہم جعلی حکومت کو بہت جلد گھر بھجیں گے، دھاندلی زدہ حکومت کو اصلاحات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ۔ آپ حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکستیں کو دیکھیں تو یہ اپوزیشن کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ ویسے حکومت کوتو آئے روز ہر محاذ پر شکست ہی ہورہی ہے۔ عمران خان کے دیے گئے ظہرانے میں صرف 70 سے 75لوگ آئے ۔ اس خبر نے تو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ مجبوراً رات کے اندھیرے میں اکیلا اکیلا اب ایم این ایز سے ملا جا رہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی اسمبلی کے اجلاس محض اس وجہ سے مؤخر ہوتے رہے ہیں کہ حکومتی بنچوں پر کورم کو یقینی بنانے والے 86اراکین موجود نہیں ہوتے تھے۔

    یوں تین سال میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کسی محاذ پر شکست دینے کے قابل ہوئی ہے۔ اب لوگ تو سوال کر رہے ہیں کہ کوئی تو طاقت تھی جو پہلے ارکان کو حاضر کر دیتی تھی لیکن اس بار عمران خان کے پاس وہ طاقت نہیں تھی۔ اس لیے ان کے اپنے ارکان ہی نہیں آئے۔ ان کے اتحادیوں نے بھی اب زبانیں کھولنی شروع کر دی ہیں ۔ آپ دیکھیں وہ اتحادی جوکوئی بات نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ اب کھلم کھلا اختلاف کر رہے ہیں۔ یہ نئی تبدیلی ہے ۔ پھرعمران خان چاہے اپوزیشن لیڈروں سے ہاتھ ملائیں یا نہ ملائیں ۔ ان کے مشیرو ترجمان جتنے مرضی سخت بیانات دیتے رہیں ۔ پر آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ جس میں اپوزیشن لیڈر سے انتخابی اصلاحات بل سمیت دیگر اہم قوانین پر اتفاق رائے کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ لفظ اپیل پر غور کریں ۔ اب کیا عوام یہ سمجھے کے عمران خان اور پی ٹی آئی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کرپٹ ٹولے کے سامنے ڈھیر ہوگئی ہے ۔ یا لیٹ گئی ہے ۔ یعنی جب بات اپنے آپ پر آجائے تو سب کچھ جائز ہوجاتا ہے ۔ ویسے چاہے آپ دنیا جہاں کی مثالیں دیتے رہیں کہ سیاست کیسے ہوتی ہے ۔ اخلاقیات کیا ہوتی ہیں ۔ کتنا عجیب ہے کہ وہ کپتان جو اقتدار کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی بھاشن دیا کرتا تھا اب کرسی بچانے کے لیے شہباز شریف کے پیر پکڑنے کو بھی راضی دیکھائی دیتا ہے ۔ پر میں ایک بات جانتا ہوں کہ وہ کپتان ہی کیا جو یوٹرن نہ لے ۔ پارلیمنٹ کی اندر بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے درمیان نیا سیاسی رومانس بھی دیکھنے کومل رہا ہے۔ ۔ جب کہ مزاحمت یا ٹکراؤ یا سڑکوں کی سیاست جس میں لانگ مارچ بھی شامل ہے میں نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ پہلا وار ایسا لگتا ہے کہ چیئرمین سینیٹ پر ہونے والا ہے ۔

    ۔ پھر جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے اس پر کھیل کافی دلچسپ ہے۔ جے یو آئی ف تو اعلانیہ طور پر کسی بھی طرح کی ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں۔ آج بھی مولانا نے یہ ہی بات کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو ختم کرکے نئے عام انتخابات کرانے کے مطالبے پر قائم ہے۔ مسلم لیگ ن بشمول مصالحتی گروپ بھی ایسے کسی اقدام کا ہرگز حصہ نہیں بننا چاہتا جس سے عمران خان کو عدم مقبولیت کی موجودہ سطح پر بھی سیاسی شہید بننے کا موقع ملے۔ پیپلز پارٹی مرکز سے پہلے پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب میں یہ کھیل کھیلنے کے بعد ہم مرکز کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اہم افراد پنجاب میں تبدیلی کے حامی نہیں۔ اس کھیل میں بڑی رکاوٹ بھی نواز شریف اورمریم نواز ہیں۔ شریف خاندان کسی بھی صورت میں پنجاب کی سطح پر چوہدری برادران کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن یہ بھی سمجھتی ہے کہ عام انتخابات سے قبل پنجاب اور مرکزمیں تبدیلی کی صورت میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کا سارا غصہ نئی حکومت پر پڑے گا اور ہم بھی کوئی بڑا معاشی ریلیف لوگوں کو نہیں دے سکیں گے۔اس لیے ان کے بقول درست حکمت عملی یا آپشن نئے انتخابات کا راستہ ہی ہوسکتا ہے ۔ پر ایک چیز جس پر اپوزیشن ایک پیج پر دیکھائی دیتی ہے کہ ۔ ان کا ہدف عمران خان ہے۔ اس لیے اب نشانہ عمران خان ہی ہوگا۔ باقی سب باتیں ختم ہو گئی ہیں۔ فی الحال عمران خان کے پاس اپوزیشن کی کسی سیاسی چال کا جواب نہیں ہے ۔ اگر ایک طرف سڑکوں پر میدان سجے گا تو دوسری طرف پارلیمنٹ میں میدان سج گیا ہے۔ بہر حال موجودہ فتح کا کریڈٹ شہباز شریف کو ہی جاتا ہے۔ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں آنے والے دنوں میں سب کو معلوم ہوجائے گا ۔ پھرحکومت کی اہم اتحادی ایم کیو ایم اور ق لیگ کے گلے شکوے بھی بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ واضح طور پر سیاسی فضا میں ایک تبدیلی محسوس کی جارہی ہے جو کہ کسی صورت بھی حکومت کے لیے مثبت نہیں ہے ۔ آپ دیکھیں یہ ایسی منفرد حکومت ہے کہ اس کے اتحادی بھی آنکھیں دکھاتے ہیں اور کبھی کبھار تو اپنے وزراء ہی آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اتفاق رائے کی طرف نہیں بڑھتے۔ نجانے کیوں حکومت نے یہ تماشا لگا رکھا ہے۔ اگر زبانوں کا استعمال کم کر کے دماغوں کا استعمال بڑھایا جائے، بولنے کے بجائے سننے کو ترجیح دی جائے تو یقینی طور پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے۔ لیکن حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ انہوں نے کوئی سیدھا کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں کرنا بلکہ ہر وقت تنازعات میں الجھے رہنا ہے۔۔ میں پہلے بتا رہا ہوں کہ حکومت کو تیار رہنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، سیاست میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتحادی بھی منہ موڑ لیتے ہیں، اتحادیوں کا موڈ بدل گیا تو کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ویسے جو حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتی وہ مہنگائی سمیت دیگر مسائل کیسے حل کر سکتی ہے۔ دوسری جانب جہاں آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 176 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تو وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کے تین سال کے دوران پاکستان کے کل قرضوں میں 16 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مسائل کی ایک دلدل ہے جس میں پاکستان دھنستا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اب مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پی ٹی آئی اپنے پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں ۔ پر ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا عوام یا غریب لوگ بھی عمران خان کے یہ پانچ سال پورے کریں گے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

    ۔ آج ملک بھر میں عوام انتہا درجے کی مہنگائی اور بے حساب بیروزگاری کے ہاتھوں زچ ہوکر جھولیاں اٹھائے آسمان کی جانب آنکھیں جمائے نظر آتے ہیں۔ ۔ پھر بہت سے لوگ مجھے جب ملتے ہیں تو گلہ کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ مسائل بتاتے ہیں کبھی حل بھی بتا دیا کریں تو ۔۔۔ احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے فی خاندان دے کر نہ تو ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشی ترقی۔ البتہ ملک مزید مقروض ہوتا جائے گا۔ اس سے بہتر ہے کہ عوام کو ہر مہینے یا تین ماہ بعد مچھلی دینے کے بجائے کانٹا اور دیگر سامان دے کر مچھلی پکڑنا سکھایا جائے۔ یعنی چھوٹے کاروبار کروائے جائیں۔ تاکہ غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس حوالے سے’’اخوت‘‘ سے رہنمائی لینی چاہیے۔ جس نے لاکھوں افراد کو برسرروزگار کر دیا ہے۔ اور اس کے وسائل بھی محفوظ ہیں۔ حکمرانوں کو مجموعی طور پر خوددار بننا ہوگا۔ عالمی اور قومی اداروں سے بھیک مانگنے اور دوسروں کا حق اور مال ہڑپ کرنے کے بجائے حرام و حلال اور جائز و ناجائز کا خیال رکھنا ہوگا۔ یاد رکھیں اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ حکمران ہیں ۔ چاہے وہ موجودہ ہوں یا پرانے ۔۔۔ یہ جب مسند اقتدار پر بیٹھتے ہیں تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اپنے خاندان ، اپنی پارٹی، اپنے دوست اور اپنی ذات سے باہر ان کو کچھ دیکھائی ہی نہیں دیتا تو ملک اور عوام کے حالات کیسے بہتر ہوں گے ۔ یوں سب سے بڑا مسئلہ حکمرانوں کی نیت کا ہے ۔ اس لیے ایک بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگ تبدیلی سے تنگ آ چکے ہیں۔ جہاں بھی جاؤ لوگوں کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت گھر کب جائے گی

  • حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    جس حساب سے حکومت کے صفوں میں تھرتھرلی مچی ہوئی ہے۔ اس سے تو محسوس ہوتا ہے کہ یوم حساب قریب ہے ۔ جو کبھی عمران خان دوسروں سے حساب مانگا کرتے تھے ۔ اب زبان زدعام ہے اور اس حکومت سے ساڑھے تین سالوں کا حساب مانگا جانے لگا ہے ۔ پھر ایک جانب جہاں پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسے اور جلوس نکالنا شروع کر دیے ہیں۔ تو پی ٹی آئی نے بھی جلسے کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ آج مولانا نے کراچی میں تو پی ٹی آئی نے کرک میں کھڑاک کیے ہیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ حکومت خود جلسے کر رہی ہے۔ اسے تو اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ سونے ہر سہاگا وفاقی وزراء نے خاص طور پر اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف محاذ گرم کرنا شروع کردیا ہے ۔ اب جو کل سے لے کر آج تک وفاقی وزراء کے بیانات میری نظر سے گزری ہیں ۔ اس کے بعد محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ عوام کے بعد حکومت نے بھی گھبرانا شروع کر دیا ہے ۔ جیسے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ساری اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں پر مشتمل ہے، ان کو طاقت کی گولیاں چاہئیں، یہ کھڑے ہوتے ہیں پھر گر جاتے ہیں۔ تو اسد عمر نے میڈیا پر سخت تنقید کی اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے ڈالی کہ میڈیا والے پی ڈی ایم والوں کے سہولت کار ہیں۔ پھر یہ بھی کہا کہ ان کو میرا پیغام ہے۔ لانگ مارچ کا سوچنا بھی نہ ۔ یہاں آو گے تو بڑی کٹ پڑے گی۔

    پھر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ لوٹا ہوا مال بچانے کےلئے پھر سب ایک ہورہے ہیں۔ نوازشریف تابوت میں تو آسکتے ہیں۔ زندہ آئے تو جیل جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی مدت پوری کریں گے۔ تومراد سعید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والے موسمی بیماری ہیں، یہ سردیوں میں نکل آتے ہیں۔ پھر پرانے کھلاڑی شیخ رشید اور نئے نئے وزیر فرخ حبیب نے بھی خوب شگوفے چھوڑے ۔ ویسے یہ گنے چنے وزیر ہیں ۔ پرباقی سب اس بے یقینی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ملک میں سب اچھا نہیں اور کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ جو اب بھی یہی کہے جا رہے ہیں کہ عمران خان اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ اب مسئلہ یہ نہیں کہ پانچ سال پورے کرنے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کن حالات میں پورے کرنے ہیں اور پانچ سال بعد عوام کے پاس کیا منہ لے کر جانا ہے۔ یہ وزیروں کے بیانات اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینا ایک جانب پر اسی افراتفری میں نیب کی طرف سے ایک بار پھر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی اطلاعات سامنے آگئی ہیں ۔ یاد رکھیں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور لوگ اس کو حکومت کی حالیہ ایوان میں شکست سے جوڑ رہے ہیں ۔ اس پر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہبازشریف کا نام ایک نہیں، دو نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل میں ڈالیں ۔ عمران خان بس آٹا، چینی،بجلی،گیس،دوائی مافیا کو آرڈیننس لا کراین آر اودیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ حکومت اب جان چکی ہے کہ ان کی عوامی مقبولیت اس حد تک گر چکی ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ اس لیے حکومت اپنے لیے سدباب کے طور پر نیب کو رول بیک کرنے کا قانون لا رہی ہے۔ پھر پرویز الٰہی بھی دل میں موجود شکوے زبان پرلے آئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم وفاق کا ساتھ نبھا رہے ہیں ۔ یہ ہمارا ساتھ نہیں نبھا رہے ۔ اب ان بیانات اور سیاسی منظر نامے کے بعد حکومت کا گھبرانا تو بنتا ہے ۔ یوں عمران خان حکومت کو فی الوقت ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا اسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ بس چھوٹ گئی ہے ۔ اب پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے تباہی ہی تباہی دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ چینی کا بحران ختم نہیں ہوا تھا کہ آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ پیر سے اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں، ہر سال کوئی نہ کوئی وجہ بناکر کبھی آٹے، چینی تو کبھی ٹماٹر، پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ جس کا سارا فائدہ منافع خور اور ذخیر ہ اندوز اٹھاتے ہیں اور عام آدمی خسارے میں ہی رہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں حکومتی رِٹ کہیں نظر نہیں آتی البتہ مہنگائی کا نوٹس لینے کے اعلانات بارہا میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    ۔ یوں بگڑتی معاشی صورتحال، مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مزید بے قدری اور حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا مثبت نتیجہ آنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف دباؤ ہی نہیں بڑھ گیا ہے۔ لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ۔ اب لوگ اس حکومت کی تبدیلی کی بات یوں کررہے ہیں جیسے کپڑے بدلتے ہوں ۔ کیونکہ عوام اب تھک چکے ہیں اور امیدیں دم توڑگئی ہیں۔ اس لیے اب ہر دوسرا بندہ یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت دلدل میں پھنس چکی ہے اور ساحل تک آنے سے پہلے ہی ڈوبنے کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی لوگ تو قیاس کر رہے ہیں کہ گزشتہ ماہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حالات کے نتیجے میں عمران خان اپنی بڑی حمایت کھو چکے ہیں اور اب یہ چند ماہ کی کہانی رہ گئی ہے کہ حکومت شاید چلی جائے۔ اب چاہے یہ قیاس آرائیاں درست ہیں یا نہیں لیکن عمران خان اور ان کی حکومت کیلئے درپیش چیلنجز انتہائی سنگین ہیں۔ حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سی باتیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ گراونڈ پر سب اچھا نہیں ہے۔ سیانے کہتے ہیں، جب اپنے بھی آنکھیں دکھانے لگیں تو سمجھو حکومت کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ معاملات کسی اور طرف جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں ایک مقبول حکومت کے ساتھ کبھی ایسے معاملات نہیں ہوتے۔عوامی سطح پر جس حکومت کو مقبولیت حاصل ہو، اُسے کوئی آنکھیں نہیں دکھاتا، خود اسٹیبلشمنٹ بھی اُس کے بارے میں محتاط رویہ رکھتی ہے۔عمران خان کو شاید علم نہیں کہ خود اُن کے ارکانِ اسمبلی اس وقت عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہیں درحقیقت عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں زچ آئے ہوئے عوام کو لمبی لمبی تقریروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کو معاشی شعبے میں کوئی ریلیف نہ دے سکے۔ یہ ناکامی موجودہ حکومت ایسی گلے پڑی ہے کہ اب طوق بن گئی ہے۔ تقریباً ساڑھے تین برسوں میں کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں ہوا،جس سے عوام کوئی سُکھ کا سانس لے سکے۔ تاہم اسلام آباد کے حالات میں ایک واضح ہلچل نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن کا اس طرح متحرک ہونا اور ایک دوسرے سے مل جانا بھی غیر معمولی بات ہے۔کل تک ایک دوسرے کی شکلیں نہیں دیکھنا چاہتے تھے،اب ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف وہ حکومت جس کے وزیراعظم کہتے ہیں وہ اپوزیشن سے ہاتھ تو ملانا نہیں چاہتے اب سپیکر اور وزراء کے ذریعے اُسی اپوزیشن سے تعاون کی بھیک مانگ رہی ہے۔ کوئی بعید نہیں ان حالات میں اپوزیشن یہ شرط بھی رکھ دے کہ وزیراعظم آ کر اُن سے مذاکرات کریں۔ تب وہ قانون سازی میں تعاون کریں گے،ایسا ہوا تو وزیراعظم کے لئے اپوزیشن سے ہاتھ ملانا مجبوری بن جائے گی۔

    ۔ پھر عمران خان نے جس طرح2018ء میں انتخابات جیتنے کے لئے جو الیکٹیبلز کے پیوند لگائے تھے اُس کے نتائج وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ بلکہ لوگ تو قبل از وقت ہی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر فرض کریں پی ٹی آئی پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے یا حکومت وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ تو کیا تحریک انصاف میں یہ سب لوگ رہیں گے۔ جو اب ہیں ۔ کیا اس جماعت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے گا۔ کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ثابت کیا ہے۔ مشکل حالات میں بھی لوگ اُن کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے تو اپنے دور میں ارکانِ اسمبلی آنکھیں دکھاتے اور فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اب تو حالات بھی ایسے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نجی دوستوں کی محفلوں میں کہتے ہیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ میری نظر میں وقت تیزی سے گزر چکا اور گزر رہا ہے ۔ اب بھی اگر اہل اقتدار اسی طرح مدح سرائی کے نشے میں لت ہو کر تقریروں سے عوام کا پیٹ بھرتے رہے اور عملی طور پر کام نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ان کا نام لیوا بھی کوئی نہ ہو گا۔ فی الحال حکومتی کشتی کے سوار اپنا سامان اتار رہے ہیں اور نئے مسافر تیاری پکڑ رہے ہیں۔۔ افسوس کہ کچھ کر کے کسی انجام سے دوچار ہونا الگ بات تھی۔ موجودہ حکمران تو محض رنگ بازی، شعبدہ بازی، جھوٹ، منافقت، بدعنوانی، ہوس اقتدار اور محسن کشی کی دلدل میں ایسے اترے کہ عبرت بن گئے۔ اب حقیقت یہی ہے کہ حکمرانوں ہی نہیں ان کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ہے جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ میرے خیال سے ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ملک کو موجودہ نازک بحرانوں سے نکالنے کے لئے آزاد انہ ،غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کی ضرورت ہے

  • تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ کاش وہ ایسا بیان پاکستانی عوام کے بارے بھی دے دیں ۔ کیونکہ ان کی مشکلات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ حالانکہ انھوں نے کپتان کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کیا ۔ انہوں نے عمران خان کی ہر بات ، ہر دعوے ، ہر وعدے پر یقین کیا ۔ کاش عمران خان اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ پر یہ ایک سیراب محسوس ہوتا ہے ۔ خواب لگتا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اردگرد انھیں مافیاز کو اکٹھا کیا ہوا ہے جس سے نجات کے لیے اس عوام نے ملک کی دوبڑی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر خیبر سے لے کر کراچی تک تحریک انصاف کو چنا تھا ۔ پر دکھیاری عوام کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے ۔ پر یاد رکھیں جب یہ عوام عمران خان کے ساتھ ہاتھ کریں تو پھر یہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انتقام کے آگے تو بڑے بڑے سورما اور ظالم و جابر حکمران ذلیل وخوار ہوچکے ہیں ۔ جس طرح انھوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اس کے بعد عنقریب ایسا ہی حال عمران خان اور ان کی پارٹی کا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں اس وقت سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو بلوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ کل تک دبکنے والی اپوزیشن اب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل نے بھی حکومت کو جکڑ لیا ہے۔ ایک مشکل ختم ہوتی نہیں کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ چینی نے تو جان ہی نکال لی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب ہی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک صفحہ بھی لگتا ہے کہ پھٹ گیا ہے۔ جس کے اپنے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو پورے ملک میں کرائم ریٹ بڑھ چکا ہے پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈکیتیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ صرف پنجاب ہی نہیں اسلام آباد جیسا سیف سٹی بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے۔ یہاں تک کہ چند روز پہلے تو ڈاکوؤں نے سیکیورٹی کمپنی کی وہ گاڑی بھی دن دہاڑے دیدہ دلیری سے لوٹی جو بینکوں میں کیش پہنچاتی تھی ۔ کیونکہ ایک رپورٹ کے مطاطق پاکستان انسانی بہبود یعنی انسانی زندگی کی بہتری میں صرف یمن۔ افغانستان اور شام سے بہتر ہے۔

    ۔ میری اس حکومت سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے غریب پر کچھ رحم کرو، آپ تو عمر بن خطاب کی مثالیں دیتے رہے ہو ۔ پر لگتا ہے کہ اب تو غریب کی صرف اللہ ہی مدد کرے تو کرے حکومت نے تو بھوک سے مار دیا ہے ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ پالیسی ٹھیک تھی یا غلط تھی ۔ مگر حالیہ برسوں میں جو قرضے لئے گئے ہیں، ان کے بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا؟ تیس ہزار ارب سے سنتالیس ہزار ارب تک قرضوں کو پہنچنا عمران خان کا ہی کارنامہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن کپتان نے پکڑی ؟ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو اخلاقاً انکو کو الزام عائد کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت اچھالنا بد اخلاقی کی زمرے میں نہیں آتا؟ جو وہ روز اخلاقیات کے بھاشن قوم کو دیتے ہیں۔ یہ عمران خان کا ہی اپنا فرمان ہے کہ برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے اردگرد کرپٹ ، چور اور دیہاڑی باز ہیں پرعمران خان صادق وامین ہیں ۔ آج جس طرح یہ حکومت اعظم سواتی اور فیصل واڈا والے معاملے میں ننگی ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو سارے بھرم ہی ختم کردیے ہیں ۔ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اپنی پارٹی ، اپنے لوگوں کی حکمرانی پسند ہیں ۔ چاہے وہ نہ صادق ہو نہ امین ہو ۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے تیرہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا تھا ۔ کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے۔ اور جیسے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا تھا ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ پر عمران خان کو یہ نہ دیکھائی دیا نہ سنائی دیا ۔

    ۔ بہرحال کپتان کو کسی دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی وہ اپوزیشن کی دھمکیوں یا عوام کی بدعاوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ تو اپنی دھن کے بندے ہیں۔ جو من میں آئے کر گزرتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپوزیشن جتنا بھی احتجاج کر لے کپتان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ان کو ملک میں کوئی برائی ۔۔۔ برائی دیکھائی ہی نہیں دیتی ۔ ایسا بے فکر وزیراعظم اور ایسی بے اثرحکومت شاید ہی اس ملک میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ اب جنہیں چور کہا جاتا تھا وہ تو کب کے رخصت ہوگئے ہیں لیکن بجلی اور گیس کے بل پہلے کی نسبت نہ صرف بہت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں اضافے کی رفتا بھی کم نہیں ہورہی۔ یہی عمران خان کہتے تھکتے نہیں تھے کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو۔
    ۔ آپ دیکھیں حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دو روپے 53پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔ جس سے تیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ ستمبر کے لئے ہے جو نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ دیکھی جادوگری آپ نے ان کی اعلان اب کیا ہے وصول پچھلے مہینے کےبلوں میں کیا جائے گا ۔ اسی لیے تو دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ آج قوم یہ تمام سوال پوچھ رہی ہے۔ ابھی تو مسجدوں کے منبروں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ چوکوں ، چوراہوں ، تقریبات ہر جگہ ان سے پوچھے جائیں گے ۔ لوگ ان کے گریبان پکڑیں گے ۔ یہ بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں آپ دیکھیں ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے جو باقاعدہ ثبوت سامنے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اکیلی فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے طور اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھیں ؟ سچ سامنے آنا چاہیے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ عثمان بزدار ، پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کے بغیر یہ ممکن تھا ۔ بالکل نہیں تھا ۔ ڈسکہ میں دھاندلی اس حکومت پر سب سے بڑی چارج شیٹ ہے ۔ کیونکہ عمران خان تو صاف شفاف الیکشن کے سب سے بڑے داعی ہیں ۔ یوں تین سال بعد نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نئے پاکستان کا ہر باسی پُرانے پاکستان کی تلاش میں نظرآرہا ہے۔ عوام تو عوام ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواص کی بھی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے اور ہمارے ان خواص کو ملک کی معاشی صورتحال کا پتہ ہوتاہے ۔ وہ حتیٰ الامکان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات جیسے بھی رہیں۔ ان کی ذاتی معیشت ترقی کرتی رہنی چاہیے۔ اس لیے وہ اپنی معیشت کو درست رکھنے کے لیے ملک کی معیشت کو داؤ پرلگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ضرورت پڑتی ہے عوام کی روز مرہ ضرورت کی کسی چیز پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی یوٹیلٹی بل اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سرکار کے ملازم بلکہ عوام پر لگائے گئے انھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کو اپنی تنخواہوں۔ الاونئس اور دیگر مراعات میں استعمال کرکے شاہانہ لائف اسٹائل برقرار رکھتے ہیں اور ان کی موجیں یوں ہی لگی رہتی ہیں ۔ ان کی سج دھج وہی رہتی ہے جوہمیشہ سے تھی لیکن اب یہ سج دھج ملک کی توفیق اور استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام دعا مانگ رہے ہیں کہ کوئی عالم غیب سے آئے اور اس لوٹ مار کو بند کر دے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران بیرونی ممالک سے وصول کردہ تحفوں کی تفصیلات بتانے کو قومی راز اورقومی سلامتی گردانتے ہوں۔ سوچیں وہ اور انکے ساتھ کیا فلم ہیں ۔

    ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی ہاتھ روکنے والا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ بڑا ہاتھ مارا جائے اور جہاں تک ضمیر وغیر ہ کا تعلق ہے تو یہ مر چکا ہے۔ اس وقت بالکل واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے پر کم ٹیکس لگائیں ۔ تاکہ وہ اپنی بچت، یا پھر منافع کو اپنے کاروبار میں وسعت پر لگائے۔ اسی لیے اس حکومت نے امیر طبقہ کو کھربوں روپے کی رعائتیں بھی دی ہیں۔ اللہ نہ کرے وہ دن آئے ۔ کہ ہمارا حال لبنان ، وینزویلا یا سوڈان جیسا ہُو۔ پر یہ چل اسی ڈگر ہر رہے ہیں ۔ جہاں افراطِ زر کی شرح سینکڑوں فیصد میں ہے۔ ۔ یہ تو ہماری زراعت میں اتنی جا ن ہے کہ وہ ہمیں پوری طرح ڈوبنے نہیں دے رہی ۔ کھانے پینے کا سامان ملک میں اتنا موجود رہتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی جیسی تیسی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ اس حکومت نے کسر کوئی نہیں چھوڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل اور کرم ہے کہ یہ ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، ہر آنے والا حکمران اپنا چورن بیچ کر چلا جاتا ہے،کوئی قرض اتارنے اور ملک سنوارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کے خوب دکھاتا ہے۔ ایک ہم عوام ہیں جو خواب دیکھے جارہے ہیں۔

  • گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل پاکستان کو اپنی حکومت میں ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر تبدیلی حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور عوام ابھی بھی اس ریاست کی تلاش میں ہیں جس میں حق دار کو جلد انصاف مل جائے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوا ہے اور جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی دہائیاں ہیں ۔ وہ ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے پر تو پیپلزپارٹی ، ن لیگ سمیت بہت سوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے ۔ پر جو عدالت کے باہر اے پی ایس شہدا کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے والی حکومت کون ہیں؟ انہیں صبر نہیں انصاف چاہیے۔ شہدائے اے پی ایس کے والدین کے وکیل امان اللّٰہ نے جو عدالت میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

    ۔ ایک والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بچہ یہ کہتے شہید ہوگیا کہ اس کی ماں دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی۔ مظلوموں کی ان دہائیوں نے دل دہلانے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں ۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ جیسے اپوزیشن ٹی ٹی پی والے معاملے پر حکومت کے خلاف کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ جو کچھ آج عدالت میں ہوا ۔ جو پوائنٹس اٹھائے گئے پھر جو لواحقین نے گفتگو کی۔ کیا اس کے بعد ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔ کیونکہ دیکھنے کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اتنے پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرتے شہید نہیں ہوئے جتنے ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔ پھر اس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان جو بنا ۔۔۔ اس کا کیا بنا ؟؟ پر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسکے وزراء کو چیزوں کا زیادہ ادارک نہیں ہے ۔ کہ پاکستان کس مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ آج بھی اتنے اہم کیس میں عمران خان کی عدالت پیشی کے دوران فواد چوہدری اور شیخ رشید سیاست کرنے اور شرارت کرنے سے باز نہ آئے ۔ جہاں فواد چوہدری میڈیا کو یہ بتا رہے تھے کہ جب سانحہ ہوا تو اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔ تو شیخ رشید کی پرانی کیسٹ پھر چل پڑی کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ معاملہ مظلوموں کا انصاف دینے کا تھا ۔ ویسے فواد چوہدری کو یہ تو یاد رہا کہ نوازشریف وزیراعظم تھے یہ بھول گئے وزیر اعلی پرویز خٹک تھے اور پوری پی ٹی آئی ڈی چوک پر ناچ رہی تھی ۔ پھر ان تین سالوں میں عمران خان نے کون سا ایسا تیر چلا لیا ہے جو پانچ سال پورے کر لینے پر عوام نے پھر ان کو ووٹ ڈال دینا ہے ۔

    ۔ ویسے کل اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی میں مل کر اکثریت کے معاملے میں حکومت کو شکست دے دی تھی جس کے باعث حکومت آئینی ترمیمی بل پیش نہ کرسکی۔ کیونکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد حکومتی اراکین سے زیادہ تھی ۔ اس لیے کاش آج یہ وزیر شہداء کے لواحقین کے لیے دو ہمدردی کے بول ہی بول دیتے ۔ تو زیادہ اچھا تھا ۔ ویسے اس تمام معاملے پر پی ٹی آئی کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آگیا ہے ۔ جب یہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی کو عدالت بلاتی تھی تو یہ خوب تعریفوں کے پل باندھا کرتے ہیں اب یہ ہی لوگ سوشل میڈیا پر عدالت کو malign کرنے کی کمپین چلا رہے ہیں ۔ کہ وزیراعظم عمران خان کو بلایا کیوں ؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام ترین حکومت عوام پر ایسا عذاب بن گئی ہے کہ ناانصافی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ عالم آچکا ہے کہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اذانیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں تو کئی ریکارڈ توڑے ہی تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے انتقامی کاروائیوں، غیر اصولی سیاست، انتخابی دھاندلیوں، قوانین بذریعہ صدارتی آرڈیننس جن میں کئی غیر آئینی اور جموریت کو سبوتاژ کرنے کے نیت یے اس کے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    ۔ عمران خان کی خوبصورتی یہ ہے کہ بطور اپوزیشن جن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے تھے اقتدار میں آکر ان سے نجات کی بجائے انہی کو من و عن اپنا لیا ہے۔ بلکہ گزشتہ ادوار کے وہ لوگ اپنی کابینہ میں شامل کر لیے جن کو وہ چور ، ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا کرتے تھے ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان روز انصاف کی فراہمی ، کرپشن اور احتساب پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ پر سب جھوٹ ہے اور سب نظر کا دھوکہ ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خود کیشوں کی تعداد میں ہی اضافہ نہیں ہو رہا دیگر اخلاقی جرائم بھی منہ زور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک افراتفری کا عالم ہے اور غریب عوام اب چینی جیسی ہر گھر کی روز کی ضرورت سے بھی محروم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر بجٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہوگی مگر بجٹ پاس ہوتے ہی حکومت مہنگائی خود بڑھا دیتی ہے۔ ہمیشہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا جب کہ ہر حکومتی جھوٹ کا سب سے پہلا اثر ہی عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی جھوٹ بولا جاتا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں غلط بیانیوں، گمراہ کن دعوؤں سے ملک کو جہنم بنا دیا گیا ہے اور نئے نئے ریکارڈ قائم کرا دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور قرضے پہلے کی نسبت دگنے ہوچکے ہیں۔ پر ہمیشہ صرف یہ بیچا جاتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جاتا ہے تقریر اور پرسنلٹی کا جادو سب کو رام کردیتا ہے۔ آخر عوام اس چیز پر کتنا کو خوش ہوں ۔ خان صاحب اپنی اپوزیشن کے دنوں میں جس سونامی کا ورد روزانہ کیا کرتے تھے وہ شاید یہی سونامی تھی ۔ جس میں ایک زرعی ملک جو گندم ۔ چینی ۔ چاول اور کپاس میں مکمل طور پر خود کفیل اور خود مختار تھا ۔ آج وہ تمام اجناس بیرون ملک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ بمپر فصل ہونے کے باوجود ہم اتنے سخی ہوچکے ہیں کہ اپنی فصلیں اور پیداوار تو افغانستان اسمگل کردیتے ہیں اور خود اپنے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے چینی اور گندم بڑی مقدار میں درآمد کررہے ہیں۔ ہمارا دشمن جس قسم کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا ہم نے آج اپنے پاکستان کو اُس مقام پر پہنچادیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام بڑے بڑے منصوبے اب گروی رکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایئرپورٹ اور موٹروے سمیت بہت سے پروجیکٹ اگر نہ ہوتے تو ہم اپنی کون سی چیز گروی رکھ کے یہ قرضے حاصل کرتے۔ اب صرف نیوکلیئر پروجیکٹ باقی رہ گیا ہے جس پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ وہ دن نہ لائے جس دن قوم صبح جب خواب غفلت والی نیند سے بیدار ہو تو اُسے پتا چلے گا کہ ہمارا یہ اثاثہ بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ اُس وقت ہمارے یہ حکمراں شاید یہی کہتے ہوئے دکھائی دینگے کہ ایسے ایٹم بموں کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے قوم بھوک سے نڈھال ہورہی ہے اور وہ اُس کے کام نہ آئیں۔ روپیہ بنگلہ دیش تو کیا خطہ کے کسی اور کمزور ملک کی کرنسی سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چالیس سالوں سے تباہ حال افغانستان کی کرنسی بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ پٹرول آج بھی وہاں ہم سے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ طالبان کو جس حال میں حکومت ملی ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اُن کا وہ رونا دھونا نہیں سنا جو ہماری اس حکومت نے ساڑھے تین سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ہر غلطی اور ناکامی کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ ہم نے تو نیب قوانین میں مزید ترمیم کرکے جو تھوڑا بہت اس کا بھرم تھا وہ بھی ختم کردیا ہے ۔ شکریہ تو بنتا ہے اس بات پر کہ اس وقت عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں پر جس کا جو دل کررہا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گلہ کریں تو کس سے اور گریبان پکڑیں تو کس کا۔ صبح و شام چیزوں کے ریٹس مختلف ہیں اور وہ کس ریشو سے بڑھ رہے ہیں اور کیوں بڑھ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔ قانون سازی اور آرڈیننس سازی میں جو کمالات عمران خان کی حکومت دکھا رہی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا نیب چیئرمین کی مدت میں توسیع کا، بلدیاتی الیکشن کا معاملہ ہو، اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ ہو یا نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا ہر بار نیا کٹا ہی کھولا گیا ہے ۔

    وزیراعظم عمران خان مدد لینے دوست ممالک اور قرض کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے جتنے خلاف تھےاب وہ اتنے ہی دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ان کے پاس جاتے ہیں اور ایسا کرنے پر ایسی ایسی وجوہات پیش کرتے ہیں کہ لوگ سر پکڑ لیتے ہیں۔ آج معیشت کو دیکھ لیجئے، مہنگائی کا انڈیکس دیکھ لیجئے، کرپشن کے حوالے سے ملک کی رینکنگ دیکھ لیجئے، ایمانداری کے حوالے سے رپورٹیں پڑھ لیجئے۔ صحت کے حوالے سے دیکھ لیجئے۔ ہر چیز حکومت کامنہ چڑا رہی ہے ۔ ایک جانب ڈینگی کنڑول نہیں ہورہا تو ڈینگی بخار کے لیے جو گولی ہے آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ میڈیا یہ رپورٹ کرکر کے پاگل ہوگیا ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ۔ حکومت نے اب مہنگائی کنڑول کرنے کا حل یہ نکالا ہے کہ SPI (Sensitive Price index)کا ہفتہ وار دیٹا ہی بند کر دیا ہے ۔ کہ نہ پتہ چلے گا کہ کتنی مہنگائی بڑھی ہے ۔ نہ کوئی رپورٹ کرے گا ۔ یعنی پھر نہ کوئی حکومت کو برا بھلا کہے گا ۔ پھر حکومت میں جو رتن شامل ہیں ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کس کا ترجمان ہے۔ کیوں کہ ان کے اپنے وزیر اور مشیر اپنی حکومتی پالیسی سے نابلد نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ۔ اب ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں اور بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک یہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومتیں چلا رہی ہیں اور وہ صرف ان پر بیانات دینے کا فریضہ سر انجام دینے پر مامور ہیں۔ ہم سب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان نے بائیس سالہ جدوجہد میں سب سمجھ لیا ہے کہ مسائل کیا ہیں اور ان کو حل کیسے کرنا ہے۔ اور یہ سب ہم نے بلاوجہ نہیں سمجھا بلکہ ہمیں بار بار یہ باور کرایا گیا کہ روزانہ ملک میں اتنے ارب کی کرپشن ہوتی ہے جو ان کے آنے سے رک جائے گی۔ یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کام کرنے والی ٹیم بالکل تیار ہے جس میں ایسے قابل اور ایماندار لوگ ہیں۔ جو نہ کسی نے کبھی دیکھے ہوں نہ ان کے بارے کبھی سنا ہوگا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ نوے دنوں میں یہ ہوجائے گا، دو سال میں یہ ہوجائے گا اور پانچ سال بعد نہ جانے ہمارا ملک ترقی کی کون سے زینے پر قدم رکھ چکا ہوگا۔ پر سچ یہ ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والا کوئی حکمراں بھی اُسے سنبھال نہ سکے اور پھر قوم کے پاس موجودہ حکمرانوں کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہے۔ ویسے بھی کچھ لوگوں کی نظر میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی متبادل ہی موجود نہیں ہے۔

  • ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    جس طرح پاکستانی عوام کی مشکلات میں کہیں سے کوئی کمی نہیں ہو رہی ویسے ہی اب عمران خان کے لئے بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن میں کافی حد تک ان کا اپنا ہی عمل دخل ہے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ وہ حاکم وقت ہیں ان کے پاس اقتدار ہے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوں گے تو دوسروں کو موقع ملے گا کہ وہ بھی عمران خان نے خلاف مشکلات کھڑی کر سکیں اور مشکلات نہ بھی ہوں تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن عمران خان کے حالات کا خوب مزہ بھی لے رہی ہے اور مذاق بھی بنا رہی ہے۔وفاقی حکومت نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی اور کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا ہوا تھا جس کے حوالے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہم ملک کی فلاح کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انتخابات کو متنازعہ بنانے سے بہتر ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کیلئے نہیں کررہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے، جمہوریت پر یقین ہے اس لیے انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اراکین کا خاص ہدایت کی گئی کہ الیکڑونک ووٹنگ مشین کو لانے کے لئے اور اس کا بل پاس کروانے کے لئے جہاد سمجھ کر کرشش کی جائے لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس اجلاس کومؤخر کردیا گیا۔جس کے بارے میں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

    یہ اجلاس آخر موخر کیوں کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ کل جس طرح سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اراکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انھیں پتہ لگ چکا ہے کہ اب اگر اپوزیشن سے بات کئے بغیر یہ اجلاس میں کوئی بھی بل پیش کریں گے تو یہ اس کو پاس کروانے میں ناکام رہیں گے اس لئے یہ اجلاس کینسل کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا یہ تھا کہ اکثریت ہونے کے باوجود حکمران اتحاد کے مقابلے میں اپوزیشن نے ایک ہی دن میں حکومت کو دو مرتبہ ووٹنگ میں شکست دے دی۔ جس کی وجہ سے حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن رکن کا بل پیش ہو گیا جبکہ حکومتی رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی۔ اور پھر جب بعد میں حکومتی رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کی تو اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ووٹنگ کرائی تو اس میں حکومتی بنچوں کو شکست ہو گئی۔اپوزیشن کی جانب سے سید جاوید حسنین نے بل پیش کیا کہ کوئی منتخب رکن اگر پارٹی تبدیل کرتا ہے تو پابندی ہونی چاہیے کہ وہ آئندہ سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑ سکے لیکن حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی کہ اس بل کے زریعے آپ کسی بھی رکن سے اس کا جمہوری حق نہیں چھین سکتے ہیں۔اس مخالفت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے کچھ اراکین شاید یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنی پارٹی تبدیل کرکے اس ٹولے میں شامل ہو جائیں جس کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشنز کے نزدیک ایک مخصوص ٹولہ ہے جو بڑی مہارت سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اور جو پارٹی ان کو لگتی ہے کہ حکومت بنائے گی اس کے ساتھ جا کر مل جاتے ہیں۔ اور جب اس بل پرووٹنگ کی گئی تو بل کے حق میں 117 ووٹ آئے جب کہ اس کی مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے۔اس طرح حکومت کی ایک نہ چلی اور سید جاوید حسنین کا پیش کردہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اہم رکن اسما قدیر کے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کر دی۔ اسما قدیر کی جانب سے خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے پر سزا کی تجویز کا بل پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی مخالفت میں ووٹ زیادہ ہیں۔ اس لیے بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اپوزیشن کے 127 اور حکومت کے صرف 78 ووٹ نکلے تھے۔اسمبلی میں اس کامیابی پر بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے آج حکومت کو قومی اسمبلی میں شکست دے دی ہے۔

    اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی، کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی اپیل کا حق دینے کے بل اور دیگر اہم قوانین کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں سب نے تبدیلی دیکھ لی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کا راستہ روکیں گے۔ جس پر تمام اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔بس اسی اتحاد کے ڈر سے اس اجلاس کو موخر کیا گیا ہے۔
    جس پر مریم نواز نے بھی تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ۔۔
    ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے۔
    ویسے آج سپریم کورٹ میں سانحہ پشاور کے حوالے سے جو پیشی ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم عمران خان کو طلب بھی کیا گیا تھا اس پر بھی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ اور عمران خان کو نشانہ بنایا کہ۔۔
    روٹی مہنگی تو کم کھاؤ،میں کیا کروں؟
    چینی مہنگی تو میٹھا چھوڑ دو،میں کیا کروں؟
    پیٹرول مہنگا توگاڑی مت چلاؤ،میں کیا کروں؟
    خواتین سےزیادتی ہے توگھر بیٹھیں،میں کیا کروں؟
    شہدا کےلواحقین صبرکریں،میں کیا کروں؟
    تم بس ملک پرعذاب بن کر ٹوٹتے رہو! لیکن اب یہ عذاب کے دن بھی ختم ہونے کو ہیں۔
    اور پھر دوسری ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ۔۔
    بے سکون ہو تو قبر میں جاؤ سکون ملے گا میں کیا کروں ؟

    دراصل ایسا ہی ایک کمنٹ چیف جسٹس پاکستان نے بھی سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا تھا کہ آپ وزیر اعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اور صحیح بات ہے صرف سانحہ پشاور ہی نہیں اس وقت پوری قوم کے ہی جو بھی حالات ہیں اس کے جواب دہ وزیر اعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام نے ان پر یقین کرکے ان کو منتخب کیا تھا عوام اپنے حالات میں بہتری کی امید لئے ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور کوئی بدلاو نہ آنے پر اپوزیشن ان کا مذاق بنا رہے ہیں ان پر تنقید کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت عمران خان کا پورا زور صرف اور صرف الیکڑانک ووٹنگ مشین پر ہے۔ آج کے ظہرانے میں بھی اس پر تمام اراکین کو خوب لیکچر دیا گیا لیکن عمران خان این اے 75 ڈسکہ پر خاموش ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی صاف چلی شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ دیا ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف جو ماضی میں خود دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی ہے ہر ہارے ہوئے الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اپنی بات آتی ہے تو ہار برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے پینتیس پنکچر کا واویلا کیا بعد میں کہا گیا کہ 35 پنکچر والا بیان تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔ پھر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر احتجاج شروع کیا جب چاروں حلقے کھولے گئے تو کسی ایک بھی حلقے سے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہ آیا۔ شاید اسی لئے ہار سے بچنے کے لئے ڈسکہ الیکشن میں ہراوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ پوری کی پوری انتظامی مشینری کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہے کہ دھاندلی کی پلاننگ کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعلی کے ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں ایجوکیشن اور ریٹرننگ افسران کی میٹنگز ہوتی رہیں۔ منظم انداز میں پریزائیڈنگ آفیسرز کو لاپتہ کیا گیا ۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے رہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے افسران جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے اور حکومتی اہلکاروں کے آلہ کار بن کر الیکشن چوری کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے۔ پولیس افسران نے دباؤ ڈال کر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران سے زبردستی نتائج تبدیل کروائے۔ لیکن اب کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا ان تمام لوگوں سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔یا پھر شاید عمران خان اسی ڈسکہ رپورٹ کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اتنے غصے میں ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی ہو اور آنے والا الیکشن ہرحال میں مشینوں کے ذریعے ہو۔لیکن اس وقت جو سیاسی حالات نظر آرہے ہیں اور حکومتی ناکامیوں کی فہرست جتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس موخر کیا گیا تاکہ ٹائم مل سکے نمبرز پورے کرنے کے لئے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی متحد ہے لیکن دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف امریکہ تشویش میں مبتلا ہے اور چین کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھا رہا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب سے کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کی جا رہی ہے یہ ہے امریکہ کا وہ دوغلا پن جو اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ پینٹاگون نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق چین بہت زیادہ تیزی سے جوہری ہتھیاروں پر کام کر رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو 2027تک چین کے پاس700Delivery able neuclear war heads
    ہو سکتے ہیں اور2030تک یہ تعداد ایک ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹاگون کے مقابلے میں چین کے پاس ڈھائی گنا زیادہ جوہری ہتھیار تیار ہو جائیں گے۔دراصل امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کے سامنے ایک سالانہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں چینی فوجی پیش رفت کے حوالے سے صاف بتایا گیا کہ چین کسی ایک سمت میں نہیں بلکہ اپنے زمینی، سمندری اور فضائی تمام ایٹمی ترسیل کے پلیٹ فارمز کی تعداد میں سرمایہ کاری اور توسیع کر رہا ہے اور اپنی ایٹمی طاقت کی اس توسیع کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ چند ہفتوں پہلے کئی امریکی ریسرچرز مغربی چین میں نئے جوہری میزائل سائلوس کی سیٹیلائٹ تصاویر پہلے ہی شائع کر چکے ہیں۔

    اور اس تمام پیش رفت کی وجہ سے امریکی دفاعی اہلکار چین کو مستقبل کے حوالے سے ایک تشویش ناک ملک قرار دے رہے ہیں اور اس کے ارادوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
    اس طرح کی باتیں اس لئے بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ چین نے اپنے سرکاری منصوبے کے مطابق 2049تک پیپلز لبریشن آرمی کو عالمی معیار کی افواج میں تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ اور اگر چین اپنے جوہری ہتھیاروں پر اسی طرح تیزی سے کام کرتا رہا تو وہ یہ مقصد بہت پہلے یعنی2027 تک ہی حاصل کرلے گا جس کے بعد چین بہت آرام سے انڈو پیسیفک خطے میں امریکی فوج کا بھی مقابلہ کرسکے گا اور تائیوان کی قیادت کو بھی مجبور کر لے گا کہ وہ بیجنگ کی شرائط پر مذاکرات کی میز پرآجائیں اور انڈیا کو توبہت پہلے ہی چین اس کی اوقات دکھا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس وقت چین کے جوہری ہتھیاروں پر سوالات اٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔چین کے مقابلے میں امریکہ کی ہار کے حوالے سے تو پہلے ہی باتیں ہونا شروع ہو چکی ہیں جس کا اعتراف خود امریکی عہدیداران بھی کر رہے ہیں اس کی ایک حالیہ مثال امریکی محکمہ دفاع کے سابق چیف سافٹ ویئر افسر نکولس شیلان کا استعفی بھی ہے جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ Artificial Intellignceپر مشتمل ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا چین سے ہار چکا ہے اور آنے والے 15 سے 20 برسوں تک امریکا کی جیت کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

    دراصل سپ پاور بننے کی دوڑ میں چین نے امریکہ کو اسی لئے اب پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ وہArtificial Intellignceمیں بہت زیادہ جدت اور ترقی کر چکا ہے۔ چین اس وقت مشین لرننگ، سائبر صلاحیتوں اور ٹیکنالوجیکل ٹرانسفارمیشن میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔نکولس نے اپنے ایک انٹرویومیں صاف کہا کہ چین کے سامنے امریکی ٹیکنالوجی اب ایسی ہی ہے جیسے کے جی کلاس میں پڑھتا ایک بچہ۔جس کی ایک وجہ انہون نے یہ بھی بتائی کہ گوگل جیسی کمپنی امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کام کرنے سے انکاری ہے جبکہ دوسری طرف چین میں دیکھیں تو ہر چائنیز کمپنی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے اور بھاری سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے، چین نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں بے پناہ سرمایہ لگایا ہے۔ حالانکہ امریکا چین کے مقابلے میں اپنے دفاع پر تین گنا زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اس کا فائدہ اس لیے نہیں ہو رہا کیونکہ امریکا غلط شعبہ جات پر سرمایہ لگا رہا ہے۔ اپنے استعفے میں نکولس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ براہ مہربانی کسی ایسے میجر یا کرنل کو ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ لگانے یا ایک سے چار ملین صارفین کے ڈیٹا کا کلاؤڈ حوالے مت کریں جسے اس کام کا تجربہ ہی نہ ہو، کروڑوں ڈالر مالیت کا طیارہ بنانے کے بعد اسے اڑانے کے لیے بھی تو ایسے شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے جسے سینکڑوں گھنٹے پرواز کا تجربہ ہو۔ تو آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے آئی ٹی کا تجربہ ہی نہ ہو اسے ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ بنا دیا جائے؟ ایسے شخص کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کرنا کیا ہے اور کس چیز کو ترجیح دینا ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے اصل کام سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔یعنی ایک طرف امریکہ کی پریشانی اور ہار ہے جو کہ اب نظر آنا شروع ہو چکی ہے خود امریکی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کا دوغلاپن دیکھیں کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کر لی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کو تقریبا 65 کروڑ امریکی ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے ایک سودے کو منظوری دے دی گئی ہے اور اس سودے کے تحت امریکا سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے 280 جدید میزائل فراہم کرے گا۔ یہ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کسی خلیجی ملک سے اب تک ہتھیاروں کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے یہ کہتے ہوئے اس سودے کی منظوری بھی دے دی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سعودی عرب کے خلاف سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے اس سودے کے زریعے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں ریاض کی مدد کی جا سکے گی۔ یہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کی قومی سلامتی کو ایک دوست ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی، جو مشرق وسطی میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے ایک اہم قوت ہے۔یعنی چین اپنے ہتھیاروں پر کام کرے تو نا جائز ہے لیکن اپنے دوست سعودیہ عرب کی مدد اور ایران کی مخالفت کے لئے امریکہ خود جو بھی کرے وہ سب جائز ہے۔یہاں تک کہ بعض امریکی حلقوں میں بھی سعودی عرب کے ساتھ میزائیلوں کے اس سودے پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔ لیکن امریکی وزارت خارجہ یہ کہہ کر اپنا دفاع کررہے ہیں کہ یہ ہتھیار زمینی حملے کے لیے نہیں ہیں اور میزائل صرف فضائی دفاع کے لیے ہیں۔ اور امریکی انتظامیہ نے یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی قیادت کرنے کا جو عہد کیا ہے یہ سودا اس سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ تاکہ سعودی عرب کے پاس ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے فضائی حملوں سے اپنے دفاع کے ذرائع موجود ہوں۔ماضی میں ہم نے دیکھا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو ہر طرح کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی لیکن جوبائیڈن نے اپنی الیکشن کمپئین میں بھی اور صدر بن جانے کے بعد بھی اس پالیسی پر نظر ثانی کا اعلان کیا تھا۔ کیونکہ انھیں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے ہمیشہ ہی کافی تشویش رہی ہے۔ اور ابھی کچھ دن پہلے تک بھی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یمن میں سعودی عرب کے حملوں کی حمایت بند کرنے کے ساتھ ہی اسے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی روک لگا دے گی۔ کیونکہ 2015 سے جب سعودی عرب نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں اور حوثیوں کے ٹھکانوں کومیزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا تھا تب سے لیکر اب تک تقریبا چھ برس سے جاری اس جنگ میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یمن اس وقت دنیا کے بد ترین انسانی بحران سے دو چار ہے۔

    لیکن نہیں کیونکہ یمن کے مقابلے میں دوسری طرف امریکہ کا دیرینہ دوست سعودیہ عرب ہے تو اس کے لئے سب جائز ہے اس کو ہتھیار دینے سے یہومن رائٹس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن یہ صرف ایک وجہ ہے اس ڈیل کی لیکن اس کے علاوہ بھی ایک اور وجہ ہے جس کے لئے امریکہ یہ ڈیل کرنے جا رہا ہے اور وہ ہے امریکہ کی کرونا کی وجہ سے گرتی ہوئی معیشت۔۔۔ دراصل اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لئے امریکی حکومت نے امریکی ریاستMassachusettsکی ہتھیار بنانے والی کمپنیRaytheonجو کہ ایڈوانس قسم کے اے آئی ایم 120 سی/7 سی- 8 درمیانی رینج کے میزائل بناتی ہے جو فضا سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پینٹاگون کی طرف سے اس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا جا رہا ہے تاکہ امریکہ میں کروڑوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ آئے اور اس کی معیشت کو سہارا ملے اور دوستی بھی نبھائی جا سکے ویسے بھی جب سے امریکہ کا افغانستان سے انخلاء ہوا ہے تو امریکہ کی یہ ہتھیار بنانے والی انڈسٹری کا کاروبار کافی متاثر ہوا تھا اس لئے اپنی دفاعی انڈسٹری کو دوبارہ اٹھانے کے لئے جو بائیڈن انتظامیہ کے لئے بہت ضروری تھا کہ اس طرح کا کوئی بڑا معاہدہ کیا جائے جو ان کی معیشت کو بھی سہارا دے اور ساتھ کے ساتھ دوستی نبھائی گئی۔

  • ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ایک جانب پیٹرول ، چینی اور بجلی کے بعد آٹا بحران سر اٹھا رہا ہے تو دوسری جانب موجودہ حالات کو عنیمت جانتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے کمر کس لی ہے ۔ اب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ خوب احتجاج کیا جائے ۔ بلکہ دسمبر میں لانگ مارچ بھی پلان کیا جا رہا ہے ۔ رہی بات حکومت کی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا قابل اور ذہین شخص ہی نہیں ہے جو موجود حالات میں پی ٹی آئی کی کشتی کو پار لگا دے ۔ الٹا ایسے بیانات اور اقدامات مزید کیے جار ہے ہیں کہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک نہایت ہی بھونڈا اور مضحکہ خیز قسم کا پرپیگنڈہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پتہ نہیں کس افلاطون کا یہ آئیڈیا ہے ۔ پر یہ بری طرح پٹ گیا ہے ۔ کہ اورسیز پاکستانیوں سے مہنگائی پر صبر کرنے کےبھاشن دلوائے جائیں ۔ اس پر لوگ حکومت کو مزید لعن طعن کر رہے ہیں بلکہ اس پر بھی حکومت کے خلاف میمز کا طوفان شروع ہوچکا ہے ہونا بھی چاہیے ۔ کیونکہ اورسیز پاکستانیوں نے تو پاؤنڈزیا ڈالر میں کما کر روپوں میں خرچ کرنے کا مزہ دیکھا ہوا ہے مگر وہ روپوں میں کما کر ڈالر کی قیمتوں سے اشیاء خریدنے کا دکھ نہیں جانتے۔ پھر عمران خان پانچ سال کا حوالہ تو ایسے دے رہے ہیں جیسے ابھی ان کے اقتدار کی مدت پانچ سال باقی ہے ۔ حالانکہ وہ ساڑھے تین سال گزار چکے ہیں اور بمشکل ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اب ان کا یہ فرمانا پانچ سال بعد دیکھیں گے غربت کم ہوئی یا زیادہ عوام کو مزید اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ ان کو یاد نہیں ہوگا میں پر یاد کروادیتا ہوں کہ ساڑھے تین برسوں میں وہ کبھی سال اور کبھی چھ ماہ بعد تو کبھی تین ماہ بعد اچھے دنوں کی نوید سناتے رہے ہیں۔ یہاں تک عطااللہ عیسا خیلوی نے بھی اچھے دن آئیں گے ۔۔۔ پر گانا بنا دیا تھا ۔۔۔ اب پتہ نہیں اب وہ ان برے دنوں پر بھی کوئی بناتے ہیں یا نہیں ۔ کیونکہ اچھے دن تو نہیں آئے بلکہ الٹا برے دنوں میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم در اصل پاکستانی عوام کو تکلیف اور آئی ایم ایف کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ آپ دیکھیں بجٹ کے بعد صرف تین مہینوں میں پیٹرول ڈیزل بجلی گیس، ایل این جی ، دوائیوں ، اشیائے خورد نوش اور مختلف ٹیکس کے مد میں تقریبا 475ارب روپے عوام کے جیب سے نکلوائے ہیں ۔ پھر2018 میں جی ڈی پی 5.8تھی اور اگلہ ٹارگٹ تھا کہ آئندہ چند سالوں میں 7.8تک لیجایا جائے گا ۔ پر عمران خان جن کے پاس پتہ نہیں کتنے تجربہ کار لوگوں کی ٹیم تھی انھوں نے 5.8 سے جی ڈی پی کو نیچے گرا کر 3.7 تک کردیا ۔ پھر 2018 میں ایکسپورٹ 28 بلین ڈالر تھی اور ٹارگٹ تھا
    40 بلین ڈالر تک لے جانا کا ۔ پر عمران خان نے ان ایکسپورٹس کو 28 بلین ڈالرز سے نیچے لا کر 25 بلین ڈالرز تک لے گرا دیا ۔ یہ ہے اس حکومت کی جادوگری ۔۔

    ۔ پھر حکومت کا مشیر خزانہ بتاتا ہے کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں نے 29 ارب نہ بھیجا ہوتا تو معیشت ختم تھی ؟ اس سے واضح ہوگیا کہ اس حکومت کا انحصار بیرونی قرضے، بیرونی امداد اور بیرونی وسائل پہ ہے اسکے پلے کچھ بھی نہیں۔ نہ ان کے پاس پلان ہے نہ ہی یہ ملک کواندسٹرلائزیشن کے طرف ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ الٹا انھوں نے تو پرانے چلتے کاروبار بند کروادیئے ہیں ۔ تو یہ ہے وہ کارکردگی ۔ جس پر عمران خان اور ان کی پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ اگلا الیکشن بھی جیتیں گے ۔ اور عوام ان کے گلے میں ہار بھی ڈالیں گے ۔ معذرت کے ساتھ تبدیلی کا جنون اب صرف ان لوگوں میں زندہ ہے جن کا جیب خرچ ابھی تک والدین دیتے ہیں یا وہ پاکستانی جو چھٹیاں گزارنے یا کسی فوتگی یا پھر کسی شادی پر ہی پاکستان آتے ہیں ۔ یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے اور یہ بھی اگر چند ماہ گرمیوں میں پاکستان آگئے تو حکومت کو گالیاں ہی نہیں پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے گے ۔ اس لیے پی ٹی آئ والوں سے بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں یہ صرف آپ کے سامنے ڈٹے ہوتے ہیں۔ اکیلے میں یہ بھی خود کو کوستے ہی ہیں ۔ پھر دیکھا جائے تو اس حکومت نے مہنگائی ختم کرنے کی ساری امیدیں ہی ختم کر دی ہیں وزیر اعظم نے عملاً ہاتھ نہیں کھڑے کئے ۔ ان کی باتوں سے یہی لگتا ہے وہ ہار مان گئے ہیں۔ کیونکہ آج پھرعمران خان نے وہ گھسا پیٹا بیان دیا ہے کہ کورونا سے عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان مہنگائی کے اعتبار سے دیگر ملکوں کے مقابلے میں اب بھی بہتر ہے۔ پھر انہوں نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے اٹک میں جو گفتگو کی وہ ایک بے بس حکمران کی تقریر تھی۔ جو ہار مان چکا ہو جو صرف یہ بتا رہا ہے میں نے یہ معلوم کیا، وہ معلوم کیا، جس سے دیکھائی دیا کہ چینی مافیا کے آگے انھوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں ۔ اب اگر حکومت ایک مافیا کے سامنے بے بسی کا اظہار کرے گی تو باقی مافیاز خودبخود اپنے دانت تیز کر لیں گے۔

    ۔ پھر منصوبہ بندی کا یہ عالم ہےکہ پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاوں کو یہ نہیں معلوم کہ ملک میں ایل این جی کب اور کتنی امپورٹ کرنی ہے۔ یوں حکومت جلد عوام پرگیس اور بجلی کی کمی کا بحران بھی نازل کرنے والی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے کہ جن چیزوں مثلا آٹا،چینی ،کاٹن میں پاکستان خود کفیل تھا خان صاحب کی حکومت اربوں ڈالر ان اشیا کی درآمد پر خرچ کررہی ہے۔ حالات یہی رہے تو ملک میں غریب نام کا کوئی شخص زندہ نہیں ملے گا۔ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے حکومت عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ آج ہر شخص یہ دہائی دے رہا ہے صرف بازاروں ہی میں نہیں سرکاری دفاتر میں بھی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ بیورو کریسی جتنی بے لگام اور بے خوف آج ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سرکاری افسر عوام کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہے ہم بہت تھوڑے دنوں کے لئے تعینات ہوتے ہیں، جتنی لوٹ مچا سکتے ہیں مچا لیں اس کے بعد ٹرانسفر تو ہونا ہی ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف بھی ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ ان کو امید ہوچلی ہے کہ قبل ازوقت الیکشن ہوسکتے ہیں اور پھر اگلی باری ان کو بھی مل سکتی ہے ۔ یا کم ازکم نئی حکومت میں حصہ تو مل ہی جائے گا ۔ آج اگرپی ٹی آئی کی فلم کوپیچھے گھما کردیکھا جائے تومعلوم ہوگاکہ کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈ ر جو جو کچھ کیا تھا۔ آج قدرت وہی کچھ انہیں دکھا رہی ہے۔ ۔ دھاندلی دھاندلی کا شور یہ مچاتے تھے اب پتہ چلا ہے کہ حکومت میں آکر پی ٹی آئی خود دھاندلی میں ملوث ہوگئی ہے ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے بعد تو اپوزیشن کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے کہ عمران خان بھی استعفی دیں اور قانون کا سامنا کریں۔ کیونکہ یہ ہی پوائنٹ لے کر تو عمران خان نے کئی بار اسلام آباد پرچڑھائی کی تھی ۔ اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس پر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کے سرمائے کی طرح لوگوں کے ووٹ اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار بھی لوٹنے اور چھننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ڈسکہ رپورٹ آگئی ہے اور ووٹ چوری ثابت ہوچکی ہے۔ عمران نیازی بتائیں اب کس چیز کا انتظار ہے۔ اب کارروائی کی جائے۔ نواز شریف کی طرح وزیراعظم ہو کر قانون کا سامنا کرنے اور پیشیاں بھگتنے کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے، اگر عمران نیازی طاقتور ہیں تو خود کو قانون کے نیچے لائیں۔
    ہم انتخابی اصلاحات، الیکڑانک ووٹنگ مشین اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان، عوام اور آئین کے خلاف سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کو غلام بنانے کا موجودہ حکومت کا سیاہ منصوبہ ناکام بنائیں گے۔

    ۔ یہ بیان سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ماضی اپنے آپ کو دھرا رہا ہے ۔ عمران خان جو ماضی میں کہا کرتے تھے اب اپوزیشن بھی وہ ہی کہہ رہی ہے وہ ہی زبان استعمال کررہی ہے ۔۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئیں گے ۔ یہ چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں اور نیب سے اپنے اوپر فائلیں بند کروالیں ۔ جب ان کے پاس حکومت کی طاقت نہیں ہوگی تو بند فائلیں بھی کھول جائیں گی ۔ تب پتہ چلے گا کہ اس دور میں مافیاز کیوں اتنے پھلے پھولے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ عمران خان صاحب کی باتوں اور دعووں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت یا تو ڈیلیور کرے یا پھر جگہ خالی کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی حالت اس گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے جسے ایک دھکا کافی ہے۔ کیونکہ عوام میں حکومت کی حمایت کم نہیں بلکہ ختم ہوگئی ہے۔

  • خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،
    جناب عمران احمد خان نیازی

    اگر آپ قدیم دور کے بادشاہ ہوتے یا پھر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تو میں جان کی امان چاہ کر کچھ عرض کرتا… مگر مجھے امید ہے ساری زندگی تنقید کی تحریک چلانے والا اپنے ہی عوام کی بے لاگ باتیں ضرور سنے گا… اعلامیے اور بیانیے کے مطابق آپ ہمارے ووٹوں سے ہمارے لیے اقتدار میں آئے تھے… آپ اپنی شاہانہ و خانگی زندگی تج کر قریباً دو دہائیاں عوام الناس کے لیے متحرک رہے… ہر طرح کے مسائد و نامسائد حالات سے گزر کر آپ نے بمشکل تمام یہ منصبِ اعلیٰ پایا ہے… اس پچیس سالہ سفر میں آپ اکیلے نکلے ضرور تھے مگر اکیلے رہے نہیں… تب آپ کا حوالہ چراغ تھا… روشنی کی طلب میں لوگ جوق در جوق آپ کے ساتھ آتے گئے… خالص نظریات کی بنیاد پر لوگ آپ پر اعتبار کرنے لگے کہ سیاسی سماجی معاشی نا انصافی کے جوہڑ میں تیس تیس سال سے اقتدار سے چمٹی ہوئی جونکیں ملک و ملت کا خون چوس رہیں ہیں ان جونکوں سے نجات آپ دلا سکتے ہیں…

    پستی میں گھرے ہوئے عوام نے آپ کو ہر طرح سے طاقت بخشی وہ شوکت خانم ہسپتال کا معاملہ ہو یا سیاسی تحرک کا… آپ نے اسلامی شعائر اور معائیر کو اپنی گفتگو کی زینت بنانا شروع کیا تو سیاست سے غیر متعلق قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی گردان کرنے والے بھی آپ کی جانب لپکے آپ کو طاقت فراہم کی… پھر آپ کے بیانیے کو فروغ اور ابلاغی سطح پر رائج کرنے کے لیے ہزاروں کارکنوں اور لاکھوں رضاکاروں نے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا وقت اور سکون خرچ کرکے محاذ مکمل گرم رکھا…

    جلسے ہوں یا دھرنے یہ سب آپ کے لیے لڑ بھڑ جاتے تھے… اس لیے کہ یہ سب عامۃ الناس گزشتہ ادوار کے رہبر و رہزن کے ستائے ہوئے تھے… عوام اس غلیظ مسلط شدہ سیاسی نظام اور مقتدر پارٹیوں سے نجات چاہتے تھے… آپ نے اسے سونامی کا نام دیا کہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے… پھر تبدیلی کا خواب دکھایا کہ تعبیر امید کی سحر کی طرح روشن ہے… بعد ازاں آپ نے سات ملکوں کی معاشی و سماجی معیارات پر عوام کو ترغیب دلائی… بالآخر یہ تحریک ‘ ریاستِ مدینہ ‘ کے نعرے پر منتج ہوئی اور آپ اقتدار کے تخت پر براجمان ہوئے… عامۃ الناس نے دن گننے شروع کر دیے کہ اب ان کے حق میں فیصلے ہوں گے اب ان کی زندگیوں میں بہتری آنا شروع ہوگی… ہوا وہی کہ بیٹی بیاہنے کے بعد بسانی بھی پڑتی ہے… اب آپ کے اقتدار کا چوتھا سال جاری ہے…

    جناب وزیرِ اعظم…
    آپ کی محنتِ شاقہ ہو یا آپ کی طلسماتی شخصیت اس کا احاطہ کرنا محض ایک خط میں ناممکن ہے… کتاب ہی درکار ہوگی اس عرصہ کے خد و خال اور اتار چڑھاؤ بیان کرنے میں… قصہ مختصر یہ کہ اقتدار کے حصول کے بعد آپ انہی عوام سے الگ ایک محدود گنبدِ بے در میں مقید ہوگئے… جہاں آپ کے ساتھ کھڑے رہنے والے عوام کی آہیں سسکیاں آوازیں نہیں پہنچ سکتی ہیں… آپ کو منظر دکھانے والی آنکھیں اور پکار سنانے والے کان بھی عامۃ الناس سے نہیں بلکہ مخصوص اشرافیائی اور اشرافیائی سوچ کے پروردہ ہیں… ریاستِ مدینہ کی بنیاد جن خطوط پر استوار ہے ان میں لنگر خانے نہیں ہیں بلکہ مواخات مساوات عدل اور انصاف ہے… لنگر خانے خانقاہی سلسلہ ہے جو مقتدر حلقے نہیں تھے بلکہ عام لوگوں میں رہتے تھے… مدینہ کی ریاست کا کام ایسا مربوط مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہے کہ جس میں لنگر خانے کی نوبت ہی نہ آئے…

    آپ نے کہا فرات کے کنارے کتا بھی مرجاتا تو حاکمِ وقت جواب دہ ہوتا تھا… سیدنا عمرؓ یعنی وقت کے خلیفہ سے کُرتے کی بابت سوال ہوتا تھا… آپ یہ سب باتیں عوام کے دماغوں میں راسخ کرنے کے بعد تخت پر تشریف فرما ہوئے تھے… مگر معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ آپ کے گرد افسر و نوکر شاہی ہو یا بہی خواہی کا مسلط طبقہ انہوں نے عام آدمی سے سوال کا حق بھی چھین لیا ہے… آپ عالمی مُحلوں کے جھگڑے نمٹانے میں اپنی شناخت تو بناتے چلے گئے مگر اپنے ہی ملک کے باسیوں کے مسائل کی طرف سے آپ کی توجہ معدوم ہوتی چلی گئی… اقتدار کے حصول کے بعد اپنی حکومت کی ہر کوتاہی کمزوری اور خرابی کو گزشتہ حکومتوں کے سر منڈھ کر چار سال آپ کی حکومت کو بھی ہونے کو ہیں… کبھی اٹھارہویں ترمیم کی یاجوج ماجوج کی فصیل کے پیچھے چھپنا تو کبھی دو تہائی اکثریت نہ ہونے کا رونا رونا… کبھی بیوروکریسی کی اکڑیں تو کبھی میڈیا کے جھوٹ کا واویلا… کبھی کچھ تو کبھی کچھ…

    کورونا کی تو خیر دوسری سالگرہ ہے اقتدار سوا سال مزید پہلے کا ہے… حالانکہ سارے دعوے دلیلیں پوری تحریک اور الیکشن کمپین میں مشروط نہیں تھے کہ اٹھارہویں ترمیم ہوئی تو یہ وعدے کارآمد نہ ہوں گے… دو تہائی اکثریت نہ ہوئی تو قانون سازی نہ کروں گا… فلاں قانون اور فلاں عالمی تناظر اور فلاں معائدے… عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد آپ کے تقرر کردہ تمام ترجمان آپ کے تئیس سالہ بیانیے کو غلط ثابت کرنے پر مصر ہیں… ہر بار نئے بے تکے دلائل اور اس اگلی بار مزید نئے… یوں اعتبار کے دھاگے کچے ہوتے جارہے ہیں… سارا ملبہ مافیا مافیا کہہ کر پچھلوں پر ڈال دینا آسان راستہ ہے… مہنگائی عالمی مسئلہ ہے مانتے ہیں ہم… مگر بد انتظامی نا اہلی تو داخلی معاملہ ہے اور اس میں آپ اور آپ کے متعین کردہ وزیر مشیر مکمل ناکام ہیں… عالمی تغیرات و تبدل سے مہنگائی اگر سات فیصد بڑھی ہے تو بد انتظامی بلکہ بے انتظامی کی وجہ سے ایک سو سات فیصد بڑھی ہے… آپ کے پونے دو کروڑ ووٹرز اب روبوٹ بننے سے تو رہے کہ مزید چارج کیا اور کام چل گیا۔۔۔ سوال کرنا سکھایا ہے تو جواب دینا آپ اور آپ کی حکومت پر فرض ہے… سوال کا گلا گھونٹنے سے وہی فکری نسلیں پروان چڑھیں گی جن کے خلاف آپ نے دو دہائیاں سدھار کی کوشش میں گزار دیں ہیں… آپ کا کہنا تھا کہ اوپر اگر کپتان ٹھیک ہو تو پوری ٹیم کو ٹھیک کر دیتا ہے… آپ کی تو ٹیم ہی ٹھیک نہیں ہوئی ملکی انتظامی انصرامی حالات تو کجا…

    جناب وزیرِ اعظم پاکستان
    آپ کے بقول دو لاکھ میں ماہانہ میں آپ کا گزارا نہیں ہوتا تو سوچیئے کہ ملک کی تین چوتھائی سے زائد آبادی کی تخواہ بجٹ میں کم از کم بیس ہزار رکھی گئی ہے (ہر چند وہ بھی ملتی نہیں ہے) جو آپ کے دو لاکھ سے بیس گنا کم ہے… ریاستِ مدینہ میں خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ کی تنخواہ طے ہونے کا واقعہ آپ نے سن ہی رکھا ہوگا… اس میں تو کوئی آئین اور قانون آڑے نہیں آتا… اپنی تنخواہ عام مزدور کی اجرت کے برابر کر لیجیے شاید آپ کو حقائق کا علم ہو کہ ملک کی اکثریت کس حال میں ہے… آقائے دوجہاں کی مثالیں دیتے ہوئے خندق کا ذکر بھی آپ نے ہی کیا تھا… عام اصحاب کے پیٹ پر اگر ایک پتھر تھا تو سرکار ﷺ کے شکمِ اطہر پر دو پتھر بندھے تھے… ریاستِ مدینہ کے اصول کے تحت آپ اور آپ کی کابینہ بھی اس سنتِ نبوی ﷺ سے ابتدا کیجیے… یاد رکھیں دلائل (فیکٹس اینڈ فیگرز) پیٹ نہیں بھرتے ہیں… کیا آپ نہیں جانتے کہ عسرت کفر کے قریب لے جاتی ہے… کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں… خان صاحب وجہ کچھ بھی ہو… لوٹا ہوا پیسہ آپ واپس نہیں لاسکے… انتظامی امور میں آپ ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں کہ وفاق صرف اسلام آباد ہے اور باقی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملات…

    ہم مہنگائی بد انتظامی پر بات کریں تو آپ کے گرد جال بننے والا اشرافیہ حصار اور اس جال پر بیٹھے بد دیانت فکری منافق شکاری مکڑے فرماتے ہیں کہ ایک کما کر گھر پورا نہیں ہوتا تو چار کماؤ… ٹماٹر نہ کھاؤ پیٹرول نہ خرچ کرو… بجلی نہ خرچ کرو… انہی انقلاباتی تحاریک کا ذکر پر جو آپ کیا کرتے تھے جب بل جلا دو اور ٹیکس نہ دو کے نعرے لگائے گئے تھے… وہ سب کچھ آپ اور آپ کے مصاحبین کیسے بھول جاتے ہیں… خیر قصہ کوتاہ مدعا بتصریفِ وقت… تحریکِ انصاف سے ہمارا پہلا انصاف کا مطالبہ ہے کہ ہم آپ کے ووٹرز ہیں اس سے بڑھ کر ہم پاکستان کے عوام ہیں ہم سے بلا تفریق جبراً نچوڑے ہوئے ٹیکس پر وزیروں مشیروں مصاحبوں کی مظفر موج کی عیاشیاں ختم کی جائیں ان کو ملنے والی تمام مراعات واپس لی جائیں ان کے فون پیٹرول گاڑی یوٹیلٹی بلز سکیورٹی سب واپس لی جائے… ان کو اس حال میں لایا جائے جس میں یہ الیکشن کی مہم میں تھے… ہم سے نچوڑے ہوئے ٹیکس پر ان کے کام کیا ہیں ماسوائے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھنے پریس کانفرنسیں کرنے اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے نتھنوں میں پھونکیں مارنے کے…

    وزیرِ اعظم صاحب ہمارا غم و غصہ ان سطور میں سما نہیں سکتا… سلسلے بہت دراز ہیں لاکھوں دلیلیں اور جواز آپ کی حکومت کی نااہلی کے خلاف ہیں ہمارے گلے دبانے اور ہمیں آنکھیں دکھانے سے ہماری آوازیں کم نہیں ہوں گی… یہ خط بھی آپ کے دعووں کا امتحان کے کہ وقت کے خلیفہ سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے اور سائل کی طرف سے جواب طلبی کی راہ میں کوئی مصاحب یا وظیفہ خوار نہیں آئے گا… عمران خان صاحب جھوٹ اور چاپلوسی کے شہتیر دیوار اور چھت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں حکومت کے حق میں صرف وہی بول رہے جن کے کالے دھن کے سامنے یہ مہنگائی بد انتظامی بد سلوکی رائی کے برابر ہے یا پھر امید کے کشکول سنبھالے پھرتے ہیں… مرسڈیز میں سفر کرنے والا جب چنگچی میں سفر کرنے والے پر فیصلے دے گا اور اس کا تمسخر اڑائے گا تو معاشرہ اشتعال کی حدوں سے نکل کر انارکی کی طرف چلا جاتا ہے… موجودہ حکومت اسی اصول کے تحت گزشتہ حکومت کے بعد اقتدار میں آئی تھی…

    وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی

    ہمارے پاس لکھنے کو اتنے دلائل حکومت کی کمزوری نااہلی اور اشرفیائی عیاشی کی بنیاد پر ہیں کہ دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں ہماری اس تھوڑی سی ہی عرضی سے اندازہ کر لیجیے… عام عوام (اشرافیہ بالا دست طبقہ ہرگز ہرگز نہیں) کے مسائل کو سمجھیں… اونٹ کے منھ میں زیرہ دینے سے کچھ حاصل نہیں نہ ہی تھپکیاں دینے سے گرد بیٹھتی ہے… قربانیاں اب آپ دیں… حکمران قربانیاں دیں … عوام لاغر اور مردار ہونے کے قریب ہے اسے ذبح نہ کریں… حکومتی اللے تللے ختم کیے جائیں اور عام (ستاسی فیصد) غریب کی سطح پر آئیں… یہ کیا کہ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں… وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے جناب… تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے انصاف کی اینٹ رکھیں تاکہ عوام کو معلوم ہو اور یقین ہو کہ مہنگائی عالمی وجہ سے ہی ہے… ہم نے آپ کی حکومت کی طرح راستے میں پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پر دیوار نہیں حائل رکھی ہم معاشرے میں مثبت رویوں کے قائل ہیں سو مکالمہ کی سطح پر آپ کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ہم سے بات کر سکتا ہے…

    والسلام
    از: ملکِ خدا داد پاکستان کا ایک باسی
    مملکتِ پاکستان کے عوام کا اور حکومت کا خیر خواہ

    م ۔م ۔مغلؔ
    Twitter @Mughazzal

  • ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    حکومت نے رات کے آخری پہر مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائی ہوئی پاکستانی عوام پر ’پٹرول بم‘ایسا مارا ہے جیسے کبھی1965 میں بھارت نے پاکستان پر شب خون مارا تھا ۔ آٹھ روپے اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔۔ ابھی دو روز پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے لیے ’ ریلیف پیکج‘
    بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تکلیف پیکج کا اعلان کیا تھا ۔۔ عندیہ تو عمران خان نے پہلے ہی دے دیا تھا مگر اس بار تو پندرہ تاریخ کا بھی انتظار نہیں کیا گیا ۔ شاید اس ماہ کی پندرہ کو پھر اس حکومت کا عوام کو ٹیکہ لگانے کا پلان ہے ۔ ۔ یہ اس حکومت نے عوام پر ایک ماہ میں تیسرامہنگائی بم گرایا ہے ۔ ان کے اس فیصلے سے سفید پوش طبقہ کتنا متاثر ہوگا اور اب جو مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا ۔ اُس کا انکو اندازہ ہی نہیں ۔ یہ بس بدمست ہاتھی کی طرح جنگل تباہ کیئے جارہے ہیں اور کوئی انکو روکنے والا نہیں۔ تاہم ایسے حالات میں بھی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے پانچ روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ ہائے دیکھا کتنی عوام دوست حکومت ہے ۔

    ۔ عمران خان جو ہالینڈ کے وزیراعظم اور یورپ کی مثالیں دیا کرتے تھے خود تو کپتان ایک دن بھی سائیکل پر دفتر نہیں گئے ، مگر عوام کو سائیکل پر لے آئے ہیں ۔ یہ ہے وہ تبدیلی ۔۔۔ ۔ حکومتی ترجمان اور عمران خان خطہ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے- پر کل بھارت میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول پانچ روپیہ اور ڈیزل دس روپیہ فی لیٹر ڈیوٹی گھٹا کے سستا کر دیا جبکہ ہماری تبدیلی سرکار نے عوام کو مزید کچلنے کے لئے پٹرول اور ڈیزل مذید مہنگا کیا۔۔ اصل فرق تو ان موٹر سائیکل سواروں کوپڑتا ہے جن کونہ فری پٹرول ملتاہے اور نہ ہی بدلوانے کیلئے کوئی پرزہ۔ یہی حال ان عام شہریوں کا ہے جنھوں نے اپنی محنت کی کمائی سے گاڑی خریدی ہوئی تو ہے پر اب وہ ان کے لئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔۔ میری بات نوٹ کر لیں انھوں نے پیڑول کیا ، ڈالر ، چینی ۔۔۔ ہر چیز کی ڈبل سنچری کروانی ہے ۔ انھوں نے غریب کو جینے کا کوئی حق نہیں دینا ۔ یہ غریب مکاؤ مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔ ۔ حکومت نالائقی، نااہلی اور کرپشن کی ہر حد پار کر چکی ہے ۔ آپ دیکھیں کل ایک بار پھر پنجاب حکومت نے پولیس میں تیس سے زائد تبادلے کر دیئے ہیں ۔ کیا یہ کوئی گورننس ہے ۔ ایسے نظام چلائے جاتے ہیں جیسے یہ چلا رہے ہیں ۔ قوم تو تمام امیدیں چھوڑ چکی ہے اب تو وہ یہ بھی نہیں پوچھتی کہ اچھے دن کب آئیں گے۔ ہاں البتہ ہر کوئی یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اس تبدیلی سے کب جان چھوٹے گی ۔

    ۔ پھر حکومت کے چینی کی قیمت میں کمی کے سب وعدے الٹے ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ اس معاملے میں حکومت اور مافیا دونوں ملے ہوئے ہیں ۔ حکومت چینی جان بوجھ کر امپورٹ نہیں کررہی ۔ تو چینی مافیا والے کرشنگ سیزن سے پہلے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ گزشتہ حکومتوں کو ڈاکو کہا کرتے تھے ۔ مگر یہ تو خود سب سے بڑے ڈکیت ثابت ہورہے ہیں ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں شوگرمل مالکان کو265 ارب روپے کااضافی منافع پہنچایاگیا ہے ۔ صرف اس سال کے 10 ماہ میں 67ارب روپے کااضافی منافع دیا گیا ۔ اب سمجھ آئی کہ یہ مافیاز کیوں نہیں پکڑے جاتے ۔ کیونکہ سب کچھ تو حکومت خود کروارہی ہے ۔ مافیاز ان کے اندر موجود ہیں ۔ اس لیے تو نیب کے ہاتھ پاوں باندھے گئے ہیں کہ وہ صرف اپوزیشن کو ہی پکڑ ان کی طرف نظر نہ اٹھا سکے ۔ ۔ آپ دیکھیں پنجاب کے سابق معاون خصوصی خوراک جمشید اقبال چیمہ نےتین ہفتے قبل گنے کی بمپرفصل کی خوشخبری دی تھی اورکہاتھاکہ نومبرسے چینی80 روپے کلوملے گی۔ حالات یہ ہے کہ اب 150 میں بھی نہیں مل رہی ہے ۔ ۔ پھر حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل کی قیمت میں 65 روپے فی کلو جبکہ گھی 53
    روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ عوام یاد رکھے یہ وہ اشیاء ہیں جن پر وزیراعظم نے دو دن پہلے ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ میری نظر میں تو چینی سبسڈی کی طرح ریلیف پیکج بھی مافیا کھا جائے گا۔ کیونکہ یہ سبسڈی احساس پروگرام کے تحت ملنی ہے ۔ نہ کوئی رجسڑ ہوگا نہ کسی کو ملے گی ۔ پھر اس پیکج کے تحت اندازً ایک خاندان کو ماہانہ ایک ہزار روپے کا ریلیف ملنا ہے۔ یہ کسر تو حکومت پیڑول کی قیمت بڑھا کر پوری کردی ہے ۔ یعنی کان ایک سائیڈ سے نہیں تو دوسری سائیڈ سے پکڑ لو ۔

    ۔ اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان دو کروڑ افراد کا ملک ہے جن کے لئے وزیر اعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کیاہے؟ کیا باقی کے بیس کروڑ افراد کو کسی ریلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک میں چالیس فیصد آبادی یعنی آٹھ کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر وزیر اعظم کو صرف دو کروڑ نظر آئے اور اس ریلیف کا آغاز بھی کہیں دسمبر کے وسط میں جا کرہوگا۔ ۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ پنتالیس فیصدگرا ہے تو میری اور آپ کی جیب میں پڑا ایک سو روپے کا نوٹ پچپن روپے کا رہ گیا ہے۔ ۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شے کی ٹرانسپورٹیشن لاگت میں تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کے خشک جنگل کو آگ لگ گئی۔۔ جنرل سیلز ٹیکس کے اطلاق نے اس ملک میں عام آدمی کاجینا محال کردیا ہے، اس ایک ٹیکس میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس رہا ہے، یعنی وہ لوگ بھی ٹیکس ادا کرنے کو مجبور ہیں جنھیں حکومتی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ ۔ عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں اور مہنگائی خطے کے دیگرممالک سے کم ہے۔ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں مہنگائی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ تین سال کے دوران میں فی کس آمدنی بھی ریکارڈ 13.51 فیصد تک گر گئی جبکہ ملک میں غربت بھی بڑھ گئی ہے۔

    ۔ ان سے پہلے دور حکومت بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں اعداد وشمار بتارہے ہیں ۔ ۔ پاکستان میں 2018ء میں فی کس آمدنی 1480 ڈالر تھی، 2020ء میں پاکستان میں فی کس آمدنی 1280 ڈالر رہی۔ ایک اور اہم فیکٹر کی مدد سے مہنگائی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح 10.74 فیصد ہے۔ یہ شرح خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں مہنگائی کی شرح 6.62 فیصد ہے، بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح 5.69فیصد ہے، سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 6.15 فیصد ہے، چین میں مہنگائی کی شرح صرف 2.4 فیصد ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی تین برسوں میں خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ یعنی 13.51 فیصد گر گئی، ان تین سالوں میں ہم آگےجانے کی بجائے پیچھے گئے ہیں ۔ ۔ عمران خان قوم کو ایف بی آر کی
    37فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی نوید سنا کر ایف بی آر افسروں کو شاباس کے سرٹیفکیٹ اور بونس تو دے رہے ہیں۔ پر سچ یہ ہے کہ یہ سب براہِ راست ٹیکسز ہیں جو بجلی،گیس کے بلوں اور پٹرول سے براہِ راست اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔۔ پتہ نہیں عوام نے ان کو ووٹ دے کر کیا غلطی کر دی ہے کہ یہ صرف عوام کو ہی تن رہے ہیں ۔ حالات یہ ہیں کہ یہ عوام کی چیخیں بھی نہیں سننا چاہتے ۔ ایک ایک خاندان کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10لاکھ تک ہسپتالوں سے ریلیف دینے کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی ہسپتال ہیلتھ کارڈ پر ریلیف دینے کے لئے تیار نہیں،50
    لاکھ گھروں کے لئے قرضے دینے کا منصوبہ بھی منگوا کر دیکھ لیں۔ ایک کروڑ نوکریاں بھی توجہ کی منتظر ہیں، دیگر ممالک کی مہنگی مصنوعات کے ساتھ دیگر ممالک کی سہولیات اور سروسز کا بھی جائزہ کروا لیا جائے۔ اس وقت وزیراعظم یوٹیلٹی سٹور پر ریلیف ختم کر چکے ہیں۔ اور پٹرول سے دو سو ارب دو ماہ میں عوام سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت جو بجلیاں عوام پر گرا رہی ہیں ۔ اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ نااھل حکومت کی رخصتی کا وقت قریب ھے۔ اس حکومت کی تمام توجیہات اور صفیائیں جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔

    ۔ اپوزیشن بھی پتہ نہیں کہاں دھنیا پی کر سوئی ہوئی ہے ۔ اپنے مفادات کے لیے تو یہ لانگ مارچ ، دھرنا پتہ نہیں کیا ۔۔۔ کیا کرلیتے ہیں ۔ اب جب عوام کی روز ہی بینڈ بجائی جارہی ہے تو یہ بس بیانات اور ٹویٹس پر گزارا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ جیسے اس حکومت نے گزشتہ ایک ماہ کے اندر پاکستانی عوام پر مہنگائی بم گرائے ہیں اب تک تو اپوزیشن کو پہیہ جام ہڑتال سے لے کر حکومت کے بائیکاٹ کی مہم شروع کروا دینی چاہیئے تھی ۔ ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی اور اس کا ہاتھ اس حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے گربیانوں تک بھی پہنچ جائے گا ۔ جس طرح حکومت اپنی کاروائیاں ڈال رہی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسا عنقریب ہو جائے گا ۔ بس ایک چنگاری لگنے کی دیر ہے ۔

  • کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    وزیر اعظم نے مہنگائی میں پسی عوام کو ۔۔۔ ریلیف پیکج ۔۔۔ کے جھانسا دے کر ۔۔۔ تکلیف پیکج ۔۔۔ کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ عمران خان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ کررہے ہیں ، کریں گے ،
    ہوجائے گا ۔ میری نظر میں ان کو تو دلاسہ بھی نہیں دینا آتا ۔۔ روتے یہ ہیں کہ میڈیا وہ مثبت رپورٹنگ کرے جو یہ چاہتے ہیں اور پی ٹی وی بن جائے ۔ خان صاحب باہر جائیں اور دیکھیں عوام بلبلا رہے ہیں ۔ عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں ۔ عوام مر رہے ہیں ۔ عوام کو نہ علاج میسر ہے نہ دوائی ۔ عوام کے گھروں پر بھوک وافلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔۔ ریلیف کیا دینا کپتان نے عوام پر یہ کہہ کر بجلی گرا دی ہے کہ گیس کا بحران آنے والا ہے اور پیڑول تو مزید مہنگا کیا جائے گا ۔ پر ان کے وزیر ، مشیر اور سوشل میڈیا ٹیمیں کپتان کی تقریر کو یوں سرخی پاوڈر لگا کرپیش کررہی ہیں جیسے عمران خان سے بڑا مسیحا اس قوم کو کوئی شاید ملا ہی نہیں ۔ حالانکہ میں نے کل کے وی لاگ بھی کہا تھا اور آج بھی کہوں کہ عمران خان اس قوم کے لیےموت کا فرشتہ بن چکے ہیں ۔

    ۔ آج حکومت اتنا شور مچا رہی ہے کہ انٹرنیشل مارکیٹ میں پیڑول کی قیمت 84فی بیرل تک پہنچ گئی ہم کیا کریں تو جناب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں یہ ہی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے اوپر تک گئی تھی ۔ لیکن پیڑول اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ اب آپ کہیں گے تب ڈالر سستا تھا تو یہ بھی بتا دیں کس نے روپے کی قدر گرائی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی مثالیں دیتی ان کو شرم نہیں آتی کہ وہاں پر فی کس آمدنی کیا ہے یہاں کیا ہے ۔ وہاں سوشل سیکورٹی کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ۔ وہاں کا ہیلتھ کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ہے ۔ اوپر سے آپ یہ کہہ کر دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے عوام برداشت کرے اور حکومت کی مجبوریوں کو سمجھے ۔ نمک پاشی کرتے ہیں ۔ ان لیکچروں سے عوام کا کچھ نہیں بننا وہ رزلٹ مانگتے ہیں ۔ عوام کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں ۔ آنکھیں کھولیں ۔ اب تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے ۔ کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔ دنیا کے کسی وزیراعظم کی تقریر دکھا دیں ۔ جس نے اتنی ڈھٹائی کے ساتھ ٹی وی پر آکر مہنگائی کا دفاع اور مزید مہنگائی کا اعلان کیا ہو ۔ تین سال بعد بھی ان کو مزید ٹائم چاہیئے ۔ بس دکھ سہنے کے لیے عوام تیار رہیں اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی گالم گلوچ بھی سنیں ۔ پھر بھی ان کو اچھا کہیں ۔ نصیب اس عوام کی پھوٹے ہیں ۔ جو ایسی حکومت ملی ہے ۔ پناہ گاہوں ، لنگر خانوں اور احساس پروگرام اچھی بات ہے میں اس پر تنقید نہیں کروں گا ۔ پر کیا حکومتوں کا یہ کام ہوتا ہے۔ حکومتیں تو روزگار کے مواقع مہیا کرتی ہیں ۔ ایسے اقدامات کرتی ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید بڑھے ۔ ان کی ماہانہ آمدنی بڑھے ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دو بڑے خاندانوں سے درخواست ہے کہ تیس سال کا چوری کیا پیسہ واپس کریں اشیاء کی قیمتیں آدھی کر دوں گا ۔ بڑی اچھی بات ہے ۔ ہونا چاہیئے ۔ پر سوال یہ ہے کہ کپتان نے اپنے اردگرد مافیاز کا کیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کون کون سا مافیا گنواوں ۔ دوائی مافیا ، آٹا مافیا ، بجلی مافیا ، چینی مافیا ۔۔۔ آج کی سن لیں چینی 130روپے کلو کراس کر چکی ہے ۔

    عمران خان کی پارٹی کے جن لوگوں کے نام پینڈورا پیپرز میں آئے ان کے خلاف انھوں نے کیا کاروائی کی ۔ دوسروں کا بھی احتساب کریں مگر اپنے اردگرد بھی نظر دوڑائیں ۔۔ پھر لوٹی دولت تو کپتان نے پیٹ کاٹ کر نکالنی تھی ۔ پر برادشیٹ ہو ۔ شہباز شریف کو باہر سے صادق وامین ہونے کے سرٹیفیکٹ ملنا ہو ۔ اس حکومت کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ۔ اچھا ہوتا یہ بات کرنے سے پہلے یہ بتاتے کہ کتنی لوٹی رقم یہ باہر سے پاکستان واپس لائے ہیں ۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ ہم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پروگرام عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ اس کام کے لیے سب سے زیادہ مبارکباد احساس پروگرام کی ٹیم کو دینا چاہتا ہوں جنہوں نے تین سال میں ڈیٹا اکٹھا کیا ۔۔ یہ خوش فمہی بجی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں خود ہی اپنی اور اپنی ٹیم کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ابھی عمران خان نے صرف 120 ارب روپے کا پیکج دیا۔ باقی سب وعدہ کیا ہے کہ دیں گے اور دو دن سے اس کا اتنا شور مچایا جا رہا تھا کہ پتہ حکومت کون سا تیر مارنے والی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ یہ تین کروڑ خاندانوں کے لیے ہے ۔ ۔ دوسری جانب اس حکومت کے وزیر ، مشیر، ایم این ایز ، ایم پی اپیز ۔۔۔ وفاق ، پنجاب اور کے پی کے تینوں کے ملالیں تو سالانہ ان کے خرچے 120ارب سے زائد ہی ہوں گے ۔ یہ 120ارب کا پیکج دے کر عمران خان نے وہ کام کیا ہے جس کو
    حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا کہتے ہیں ۔ دراصل عمران خان مہنگائی ریلیف پیکج عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور شرمناک کوشش ہے ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر مہنگائی کی سونامی لانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ آپ دیکھیں وزیر اعظم عمران خان نے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج میں صنعتکاروں سے اپیل کردی کہ اپنے منافع میں مزدوروں کو حصہ بنائیں ۔ یعنی حکومت نے سیدھا سا جواب دے دیا ہے کہ عوام حکومت سے نہیں سیٹھوں سے ریلیف مانگے ۔

    ۔ عمران خان فرما رہے تھے کہ جب ہمیں پاکستان ملا تب پاکستان کا خسارہ سب سے زیادہ تھا، قرضے بھی سب سے زیادہ تھے اور سود بھی ان قرضوں پر سب سے زیادہ دینا پڑا۔ تو جناب جب مشرف نے ملک سنبھالا تھا تو تب بھی حالات ٹھیک نہیں تھے ۔ پر انھوں نے کرکے دیکھایا ۔ اور یہ اتنا ہی بڑا ایشو تھا تو پہلے اپنی تقریروں میں قوم کو بتانا تھا کہ کس حالت میں پاکستان ملے گا تو یہ قوم کی تقدیر بدل سکیں گے ۔ سب کچھ پچھلی حکومتوں پر ڈالنا بڑا آسان ہے ۔ عمران خان کو ان تین سالوں کا حساب دینا چاہیئے کہ انھوں نے ان تین سالوں میں کیا ۔۔۔ کیا ہے ۔ مجھے تو نہیں دیکھائی دیتا کہ ایک دن بھی ان تین سالوں میں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہو۔ پھر آج یہ بھی کہا کہ دوست ملک کی سپورٹ پر ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ ان کی مدد سے روپیہ کو سنبھالنے میں مدد ملا۔ سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے مشکل وقت میں مدد کی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ نواز شریف اور زردای دور کے ان بیانات اُٹھا کر دیکھ لیں اس وقت یہ کیا کہا کرتے تھے ۔ کہ مر جاوں گا قرضہ نہیں لوں گا کشکول نہیں اٹھاوں گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا اب تو آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننے کو یہ حکومت تیار ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جیسے یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے لیٹی ہوئی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔

    ۔ حقیقت میں چیزیں ان سے مینج نہیں ہورہی ہیں ۔ نہ ان کو گورننس کا پتہ ہے ۔ نہ معیشت کا ۔ نہ سیکورٹی کا ۔ بس جو زور چلتا ہے وہ میڈیا پر ۔۔۔ کہ اس کو تن کر رکھو ۔ یہ سچ نہ دیکھا پائے ۔ یہ سچ نہ بتا پائے ۔ ان کو لگتا ہے کہ میڈیا پر سب اچھا اچھا دیکھا کر عوامی غم وغصہ کو دبا لیں گے ۔ بھول ہے انکی ۔۔۔ پھر بلاول بھٹو نے عمران خان کے خطاب پر درعمل دیتے ہوئے چوٹ لگائی ہے کہ کراچی پیکج، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی طرح عمران خان نے آج بھی جو اعلانات کیے وہ عوام کے لیے لالی پاپ ہے ۔ میرے خیال سے وقت گزر چکا ہے ۔ اب لارے لپے نہیں چلنے۔ حکومت اب مزید کرونا ، عالمی کساد بازاری کے پیچھے نہیں چھپ سکتی ۔ مہنگائی سے پسے ہوئے عوام بھپرے ہوئے ہیں ۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپنے وزراء کو کہیں کہ حلقوں میں جا کر عوام کا سامنا کریں ۔ پر کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ کرسی ایک نشہ ہے جس کے پیچھے انسان ذلیل ہونا بھی برداشت کر لیتا ہے مگر کرسی نہیں چھوڑ سکتا ۔