Baaghi TV

Category: سیاست

  • صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے جتنے مرضی اجلاس ہو جائیں ، عمران خان جتنے مرضی دعوے کر لیں ۔ وزیر خزانہ جتنی مرضی خوشخبریاں سنا دیں ۔ جتنی مرضی بیرونی امداد مل جائے ۔ خطے میں ہم جتنے مرضی اہم پلیئر بن جائیں ۔ مگر عوامی مشکلات تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ معذرت کے ساتھ سخت الفاظ کا چناؤ کر رہا ہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے لیے موت کا فرشتہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس وقت نہ کسی کو کوئی آسرا ہو رہا ہے نہ ہی کسی کو کوئی سکون مل رہا ہے ۔ ڈینگی سے چلڈرن ہسپتال میں آج آٹھ ماہ کا بچہ موسی جان کی بازی ہار گیا ہے ۔ ڈینگی شتر بے مہار پھیلاتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ مگر حکومت ، اندھوں ، گونگوں اور بہروں کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ پھر دن دیہاڑے نو بینکوں پر سائبر حملے ہوتے ہیں ، رقم نکوالنے اور ڈیٹا چوری ہونی کی خبریں سامنے آتی ہیں ۔ مگر اسٹیٹ بینک میں نہ مانوں کی رٹ شروع کر دیتا ہے ۔ مشیر خزانہ شوکت ترین جہاں عوام کو ایک بار پھر بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہیں ۔ تو عمران خان دلاسے دیتے دیکھائی دیتے ہیں کہ جلد مہنگائی سے متعلق ایک ریلیف پیکج کا اعلان ہوگا ۔ فی الحال عوام کے لیے خرشخبری یہ ہے کہ چینی اور ایل پی جی کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے ۔ پناہ گاہیں اور لنگر خانوں کے ڈرامے کا ایک بار پھر ڈراپ سین ہونے والا ہے ۔ موسم بدل چکا ہے ۔ پھر بھی سرد موسم میں پناہ گاہوں کی دیواروں کے ساتھ لوگ آپکو سوتے دیکھائی دیں گے ۔

    ۔ آج بھی اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ایسے مزدور طبقے کی کمی نہیں ہے جو پارکوں،فٹ پاتھوں،گرین بلیٹس اور پلوں کے نیچے زندگی گزار دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے کہ ایک کمرے کا کرایہ ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ یہ کوئی بھکاری نہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے بڑوں شہروں میں دیہاڑی لگانے آتے ہیں ۔ اصل مہنگائی کا شکار یہ لوگ ہوئے ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر گزاراکرنے پر مجبور ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ ملک کی معاشی صورت حال ایسی نہیں کہ معاملات پلک جھپکتے ہی ٹھیک ہوجائیں لیکن حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کریں اور عوام کو آسانیاں فراہم کریں۔ احساس پروگرام اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ مگر رزلٹ صفر بٹا صفر ہے ۔ ۔ پھر ایک اور اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ کہ ملک میں بلین ٹری سونامی برپا کیا جائے گا ۔ آج لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس دیکھیں تو حقیقت معلوم ہوجائے ۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوچکا ہے ۔ کبھی یہ پہلا نمبر دہلی کا ہوا کرتا تھا ۔ یہ درخت کہاں لگے ہیں آپ بھی ڈھونڈیں میں بھی ڈھونڈتا ہوں ۔ آپ دیکھیں عمران خان کو ایک کمزور اور بے اثر اپوزیشن سے واسطہ پڑا تھا جو کسی بھی طرح عمران خان حکومت کیلئے کوئی خطرہ یا چیلنج نہیں ہے۔ پھر بھی عوام کے وہ معاشی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ اس حکومت کا اندھیر نگری چوپٹ راج دکھیں کہ ترجمان اور وزیر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ تمام معاشی اشاریئے مثبت ہیں۔ یہ عوام میں بغیر سیکورٹی کے جا کر دیکھائیں تو تمام اشاریے تتر بتر ہوجائیں ۔ ان وزیروں اور بڑے افسروں کے لئے مہنگائی صرف میڈیا میں ہے جس پر یہ ایک نظر ڈال کر یہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تمام شاہ خرچیاں تو عوام برداشت کرتی ہے ۔ ان کو اپنی جیب سے پیڑول ڈلوانہ پڑے یا خرچہ کرنا پڑے تو لگے پتہ ۔۔۔۔

    ۔ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں ماہانہ اضافہ 9.19فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اب ہر ماہ نو سے دس فیصد مہنگائی ہو اور حکومت کو عوام کی چینخیں سنائی نہ دیں ۔ تو پھر اس حکومت کو اندھا ، گونگا اور بہرہ ہی کہا جائے گا ۔ ۔ اس حکومت میں ٹیکسوں کی اتنی بھرمار ہے کہ اب صرف ہوا ، دھوپ اور بارش پر ہی ٹیکس باقی رہ گیا ہے۔ ویسے حکومت کی معاشی ٹیم کے بس میں ہو تو وہ ان نعمتوں پر بھی ٹیکس لگا دے۔ ۔ برطانیہ کے معتبر جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 ملکوں میں پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک ہے۔ اس وقت پاکستان میں بندہ مزدور و ملازم ہی نہیں، بندہ صنعتکار اور بندہ تاجر کے اوقات بھی بہت تلخ ہیں۔ ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو حقیقی مسائل کا کوئی ادراک ہی نہیں۔ ہمارے موجودہ گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ وہ اس سے پہلے کئی ممالک کی معیشتوں کو بے حال کر چکے ہیں۔۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعظم عوام کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔ غربت کا حال تو اُس سے پوچھیں کہ جس کے دودھ پیتے بچے کے لیے دودھ میسر نہیں۔ صرف تین روز پہلے بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی بچے ہیں جنہیں کم خوراک ملنے کی کئی برس سے خان صاحب شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب اُن کے دور میں بچوں کو کم از کم خوراک بھی نہیں مل رہی۔۔ کہتے ہیں جنازے میں رو نہیں سکتے تو رونے والوں جیسا منہ ہی بنا لو۔ان سے تو اتنا بھی نہیں ہوا۔

    ۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اس سے نمٹ نہیں سکتے تو عوام سے یک جہتی کے لئے دکھاوے کے لئے ہی سہی لینڈ کروزر اور مرسڈیز سے چھوٹی گاڑی پر آجاؤ۔ سرکاری ادارے گواہی دے رہے ہیں کہ ملک میں اس قدر مہنگائی پہلے کبھی نہ تھی۔ معیشت کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں یہ کم ہے مہنگائی اور بڑھے گی حال یہ ہے کہ غربت افلاس سے پریشان لوگ اپنے بچوں کو زہر دے کرخودکشیاں کر رہے ہیں اور کپتان تو کیا ان کی بی، سی، ڈی ٹیم کے بارھویں ،تیرھویں اور چودھویں کھلاڑی دو دو کروڑ کی سرکار ی گاڑیوں میں فراٹے بھر رہے ہیں ۔ کپتان کم ازکم عوام کے ساتھ رو نہیں سکتا لیکن ان کا دکھ سمجھ کر رونے والوں جیسی صورت ہی بنا لے ۔۔ اس حکومت نے اتنا مایوس کر دیا ہے کہ اب تو میری خواہش کہ کوئی اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرے کہ اقتدار پاتے ہی حکمران اپنے وعدے یکسر بھول کیوں جاتا ہے۔ اس کی نفسیات بالکل بدل کیوں جاتی ہے۔ پھر حکومت خود اپنے ہاتھوں سے نیب آرڈینس میں تیسری ترمیم کے ذریعے خود کو اور اپنی حکومت کو این آر او دے دیتی ہے ۔ ایسے احتساب کا گلہ پی ٹی آئی نے خود گھونٹ دیا ہے ۔ ساتھ ہی ایک اور آرڈینس سے پارلیمنٹ کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے ۔ اس آرڈینس کے چیدہ چیدہ مندراجات یہ ہیں کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں نیب کے چیئرمین کو سپریم کورٹ کے جج کی طرز پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا گیا ہے۔ یوں صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔۔ نئی ترامیم کے تحت مضاربہ کیسز بھی واپس نیب کے حوالے کردیے گئے اور ان کیسز کو 6اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کردیا گیا۔ ۔ حالیہ ترامیم کے تحت منی لانڈرنگ ریفرنسز اور مضاربہ اسکینڈل کیسز بحال ہوگئے جس سے آصف زرداری، شاہد خاقان، مریم نواز، شہباز شریف کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا اور پہلے سے قائم تمام منی لانڈرنگ کیسز پہلے کی طرح چلتے رہیں گے۔۔ اب اس ترمیم کے بعد یہ تو واضح ہے کہ اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ مگر جو درجنوں وزیروں اور پی ٹی آئی اراکین کے نام پینڈوار پیپرز میں آئے تھے ۔ ان سب کی موجیں ہیں ۔ کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے ۔ ۔ یوں صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ بھی اب دفن ہی سمجھیں ۔

    ۔ اپنی پیدائش سے اب تک ایک ہی ڈبہ فلم دیکھتا آرہا ہوں ۔ پہلے بھی اسے فلاپ فلم کہتا تھا اور اب بھی اسی پر قائم ہوں ۔ اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے انوکھانہیں ہے۔ ۔ یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے اقتدار کی کشتی اپنے ہی بوجھ سے ڈوبتی جارہی ہے اور یہ ہائبرڈ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جس کا آغازبلوچستان میں جام کمال کی حکومت کی ”باعزت رخصتی“
    سے شروع ہو چکا ہے۔ جہاں تک وفاق اور پنجاب کامعاملہ ہے تو بات صرف اس ایک نکتے پر رکی ہوئی ہے کہ اپوزیشن عبوری تبدیلی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے تو بات absolutely not
    سے why not تک پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں حالات کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

  • انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف الیکشنز کی تیاری تو دوسری طرف انڈیا کا برا وقت چل رہا ہے لیکن اس بار بھی مودی سرکار کے پاس ایک ہی حل ہے کہ اپنی عوام میں جنگی جنون کو ابھارا جائے مذہب کی بنیاد پر پہلے ہی تقسیم شدہ عوام کے سمندر کو اور تقسیم کیا جائے۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے بھارت میں کشمیر، پاکستان اور طالبان کے حوالے سے سیاست گرم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے ہر روز کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان ضرور سامنے آتا ہے جو جلتی پر آگ کا کام کر سکے۔

    اب آدتیہ ناتھ یوگی کو تو آپ جانتے ہی ہیں ان کو تو عام حالات میں چین نہیں آتا تو ایسی صورتحال میں جب باقی سب سیاستدان بھی خوب ایکٹیو ہوئے ہوئے ہیں تو وہ کہاں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اتر پردیش میں الیکشنز کی وجہ سے بی جے پی نے ایک کمپئین شروع کی ہوئی ہے۔ اور آج اسی سلسے میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے سیاسی مخالفیں پر تو گولہ باری کی ہی لیکن آپ کو پتہ ہے کہ انڈیا میں کوئی الیکشن ہو اور پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹا جائے ایسا ہو نہیں سکتا تو آج کے اپنے بیان میں پاکستان کے حوالے سے ان کو کہنا تھا کہ طالبان کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان پریشانی محسوس کر رہے ہیں لیکن طالبان کو یہ بات معلوم ہے کہ اگر انہوں نے بھارت کی جانب قدم بڑھایا تو ان کے لیے فضائی حملہ تیار ہے۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کافی طاقتور ہو چکا ہے اور کوئی بھی ملک بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا ہے۔
    سب سے پہلے تو ان کا یہ بیان پڑھ کر مجھے کافی ہنسی بھی آئی کیونکہ جتنی مزاحیہ بات انھوں نے کی ہے اس پر انسان ہنس ہی سکتا ہے۔ یعنی وہ انڈیا جس کو طالبان کی حکومت آنے پر یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے لوگوں کو وہاں سے کیسے نکالے بلکہ ابھی تک بھی انڈیا کو کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنے رابطے کیسے بڑھائیں۔ وہ طالبان جن کی حکومت آنے پر پورے انڈین میڈیا پر سوگ منایا جا رہا تھا کہ ہماری سرکار کی بیس سالوں کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی آج اس کی حکمران جماعت کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان جس کے کردار کو طالبان حکومت بننے اور امریکہ کے افغانستان سے پر امن طریقے سے نکلنے پر پوری دنیا نے سراہا یہ ہمارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں۔

    اور یہ فضائی حملوں کی دھمکیاں بھی اب پرانی ہو چکی ہیں یاد کریں کہ چین سے ایل اے سی پر آپ کو کیسی مار پڑی تھی پاکستان میں جب آپ نے گھسنے کی کوشش کی تو ابھی نندن کو کیسی چائے پلائی تھی ویسے بھی پاکستان نیوی کے ہاتھوں بھی جتنی بار آپ ذلیل ہو چکے ہیں تو اس کے بعد اس طرح کے بیانات پر کوئی ان کو کیا کہہ سکتا ہے۔ لیکن حد تو یہ ہے کہ بی جے پی اپنے جنگی جنون اور ہندوتوا سوچ کی وجہ سے بیانات دیتے ہوئے اتنا آگے نکل جاتی ہے کہ اسے سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ اسی جلسے میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا موازنہ بھارتی رہنما سردار پٹیل سے کیا، جو ایک شرمناک بات ہے اور طالبانی ذہنیت کی عکاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ طالبانی ذہنیت ہے، جو تقسیم پر یقین رکھتی ہے۔ سردار پٹیل نے تو ملک کو متحد کیا تھا۔ فی الحال وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک متحد اور اعلی ترین بھارت کے حصول کے لیے کام جاری ہے۔ حالانکہ اکھیلیش یادو نے موازنہ کرنے کی تو بات ہی نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ سردار پٹیل، گاندھی جی، جواہر لعل نہرو اور محمد علی جناح جیسی شخصیات نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی اور بیرسٹر بنے تھے۔ انہوں نے بھارت کی آزادی کے لیے جد وجہد کی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔اب اس بیان میں آپ دیکھ لیں کہ انھوں نے تو ان شخصیات کو کوئی موازنہ کیا ہی نہیں اور جو کہا وہ حقیقت ہے کہ انھوں نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی۔دراصل جس بات سے آدتیہ ناتھ کو تکلیف ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ اکھیلیش یادو نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس کے نظریات پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ آج اسی نظریے کے لوگ جو متحدہ کرنے کا دعوی کر رہے ہیں ملک کو مذہب اور ذات پات کے نام تر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    دراصل قائد اعظم تک کو جو اپنے بیانات اور سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ یوپی کی یو گی حکومت کو اس بار سخت ترین حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے ریاست میں بے روزگاری، مہنگائی اور کورونا کی وبا کے سبب ہونے والی اموات ایسے بڑے موضوعات ہیں جس کی وجہ سے حکومت پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور اسی لیے وہ اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے کیونکہ ایسی صورت میں ان کے پاس مذہبی کارڈ کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اسی لیے اس مرتبہ بی جے پی اتر پردیش کے انتخابات میں طالبان کا بھی خوب ذکر کررہی ہے۔ تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ حکومت ہندوؤں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے اور اس نے مسلمانوں کو قابو میں کر رکھا ہے۔ کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ اس طرح کے تاثر سے اسے سیاسی فائدہ ہو گا، ورنہ الیکشن سے پہلے آپ خود سوچیں کہ اس طرح کے اعلانات کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے؟لیکن اس نفرت میں بے جے پی اتنا آگے بڑھ چکی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ تک بھی کہہ دیا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے یو پی میں بعض افراد کے خلاف بغاوت کا کیس بھی درج کیا تھا۔ اور بھارت کے ضلع سہارنپور کا قصبہ دیوبند جو اپنے تاریخی مدرسے دارالعلوم دیوبند اور فقہ اکیڈمی کے لیے عالمی سطح پر مشہور و معروف ہے۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور نسبتا پرامن علاقہ ہے جہاں شاذ و نادر ہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے وہاں ایک اینٹی ٹیررازم اسکواڈ کے لیے تربیتی مرکز کھولنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

    اس یوگی حکومت کی اصلیت تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس نے تبدیلی مذہب کے نام پر کئی سرکردہ مذہبی مسلم اسکالر کو گرفتار بھی کر رکھا ہے جبکہ حال ہی میں ریاست کے کئی مقامات پر گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی کا بھی اعلان کیا تھا۔تو ایک طرف تو بی جے پی کو یہ گھناونا چہرہ ہے کہ کیسے الیکشنز کے لئے لوگوں میں نفرت کو ابھارا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انڈیا میں ایک نفرت انڈین کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ سے بھی پھیلی ہوئی ہے پاکستان سے ہار جب برداشت نہیں ہوئی تو کچھ لوگوں نے انڈیا کے فاسٹ بولر محمد شامی کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا اور اس پر جان بوجھ کر رنز دینے کا الزام لگایا اور اسے غدار اور ملک دشمن کا ٹائٹل دے دیا۔ اور جب ایک ہفتے بعد انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ٹرولنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سامنے آ کر کچھ بول سکیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں محمد شامی نے ہمیں کئی میچ جتوائے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں جب بھی بولنگ کی بات کی جاتی ہے تو بمراہ کے ساتھ شامی ہمارے اہم ترین بولر رہے ہیں کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔تو اس بیان کے بعد محمد شامی کے ساتھ ساتھ کوہلی خود بھی سوشل میڈیا صارفین کے غصے اور تنقید کی زد میں آ گئے۔شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے ساتھ مسلم دشمنی میں جو سلوک کیا گیا کچھ بھی ثابت نہ ہونے کے باوجود اس کی ضمانت کی درخواست بار بار مسترد کی جاتی رہی اس کو تقریبا ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا کہ اب وہ باہر آ کر بھی شدید ڈپریشن میں ہے اور نہ وہ کچھ کھا سک رہا ہے نہ سو پا رہا ہے۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم ہائر کی گئی ہے تاکہ کسی طرح اس کو اس کنڈیشن سے باہر نکالا جا سکے۔تو ان حالیہ واقعات سے دیکھ لیں جس حکومت کی اتنی جنونی سوچ ہو اور وہ لوگوں میں نفرت پھیلا رہی ہو جہاں اتنے بڑے بڑے نام محفوظ نہ ہوں تو سوچین کہ وہاں ایک عام مسلمان کس ٹرامہ سے گزرتا ہو گا۔

  • غریب عوام،  عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    غریب عوام، عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    22 کروڑ عوام کا ملک کون چلا سکتا ہے

    جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کنٹینر پر بل جلایا کرتے تھے اور اب ہر دل عزیز عمران خان عوام کے دل جلا رہے ہیں وزیراعظم کہتے ہیں 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے ہر جگہ مصیبت ہے خان صاحب ویسے آپ پر انکشاف کون سا ہوا 22 کروڑ عوام کا، مصیبت کا، یا ملک چلانے کا 23 سال پہلے جب آپ نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا تب آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے ہر جگہ مصیبت ہے جب آپ پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے تھے سابق وزیراعظم عمران خان سے استعفے مانگتے تھے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے مطالبے کرتے تھے اس وقت آپ نہیں جانتے تھے کہ 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے

    عمران خان جب آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر بل جلایا تھا سول نافرمانی کا نعرہ لگایا تھا بغیر قرضہ لیے ملک کو چلانے کی باتیں کرتے تھے IMF کے پاس جانے سے بہتر خودکشی سمجھتے تھے ڈولر نیچے روپیہ اوپر کرنے کے دعوے کرتے تھے مہنگے ڈیزل، پٹرول کو حکمرانوں کی اوپر کی کمائی کہتے تھے قیمتیں عالمی منڈی کے برابر رکھنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے سستی بجلی، مہنگائی میں کمی گھر دینے اور نوکریاں بانٹنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے جب آپ ریاست مدینہ اور خلائی ریاست کے خواب دیکھایا کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ ہی تو ہیں جو آپ کی باتوں پر لبیک کہہ رہے ہیں عمران خان صاحب اگر مسئلہ آبادی ہے تو یہ بھی بتا دے آبادی کم کیسے کرے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کر تو رہے ہیں کوئی بےروزگار وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خودکشی کرلیتا ہے کوئی باپ 5 بچوں کو نہر میں پھینک دیتا ہے کہی باپ بیٹیاں قتل کررہا ہے سلیکٹڈ صاحب جس چین کی ترقی کی مثالیں آپ دیتے ہیں ویسا نظام لانے کی آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کی آبادی تقریبا 1.5 ارب ہے امریکہ سپر پاور ، عالمی طاقت ترقی یافتہ ملک جس کی آپ مثالیں دیتے ہیں امریکہ کی آبادی 32 کروڑ سے زیادہ ہے یعنی مسئلہ آبادی کا نہیں لیڈر شپ کا ہے پالیسی بیکنگ کا ہے پالیسی میکرز کا ہے آبادی کو مسئلہ بنا کر بری کارکردگی پر پردہ نہ ڈالے جو 22 کروڑ مصیبتوں سے چھٹکارے کے لیے آپ کو لائے لیکن کیا بنا ڈبل قرضے لیے گئے ڈبل مہنگائی کر دی گئی یہ ملا ہے عوام کو تحریک انصاف والوں کو ووٹ ڈالنے کا نتیجہ اور اگر آج بھی ان سے پوچھا جائے تو ان کی نظروں میں حکومت بہت اچھی چل رہی ہے عوام خوش ہے ارے عمران خان صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں

    عمران خان صاحب اب تو آپ کے دیرینہ دوست، اراکین اسمبلی کو توڑنے والے، جہاز میں سب کو بھر بھر کر لانے والے جہانگیر ترین بھی بول پڑے ہیں، جہانگیر ترین کا کہناتھا کہ حکومت کو فوری طور پر مہنگائی ختم کر نی چاہیئے ورنہ حالات خراب ہو جائینگے۔ سرائیکی صوبے کی آواز اٹھانے سے ترقیاتی کام شروع ہوئے ہیں صوبہ بننے کے بعد یہاں مزید کام شروع ہونگے میرے خلاف حکومت بنتے ہی سازشیں شروع ہو گئی تھی اگر مجھے نااہل نہ کیا جاتا تو نہ صرف صوبہ بن جاتا بلکہ اپر پنجاب سے زیادہ ترقی ہو تی چینی کا کاروبار شروع سے ہی کرتا ہوں مجھ پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ، خان صاحب اب اپنے دوست کی ہی کم از کم مان لیں اور عوام کو ریلیف دے دیں، اور اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو گھر جائیں، وعدے پورے کرنا آپ کے بس کی بات نہیں، لارے لگائے رکھیں اور یوٹرن لیتے رہیں، اب یوٹرن نہیں بلکہ ڈبلیو ٹرن لیں

    @BismaMalik890

  • شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر  تحریر :ساجد علی

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر تحریر :ساجد علی

    شہید بے نظیر بھٹو کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی ہیڈ آف اسٹیٹ ہیں ان کی کہانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتی ہے شہید الفقار علی بھٹو جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پاکستان کے پہلے الیكٹڈ وزیراعظم ہیں بھٹو صاحب ایک زبردست سیاست دان تھے 

    جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کے بیٹے مرتضی بھٹو ضیاء حکومت کے خلاف ایک تحریک بھی چلا رہے تھے 

    اس تحریک کا نام تھا "الذوالفقار”

    مرتضی بھٹو سیاست میں بہت مشہور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بہن بے نظیر بھٹو کو ضیاء حکومت نے نظر بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے سیاست میں وہ بھی بہت مشہور ہو رہی تھی آخر کار 1984 میں جب بے نظیر کو رہائی ملی تو ملک سے باہر باہر چلی گئیں اپنے والد کی طرح بے نظیر دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں گریجویٹ کر چکی تھی جس میں "ہاؤورڈ اور آکسفورڈ” یونیورسٹیز شامل ہیں ۔

    پاکستان سے باہر رہ کر بھی بے نظیر کافی مشہور ہو چکی تھی 

    1986 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو لاہور میں ان کا زبردست استقبال کیا گیا جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہے 

    اور استقبال کے بعد واضح ہو گیا کہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم بے نظیر ہی ہوگی اور بالکل ایسا ہی ہوا 1988 میں جب ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔

    پاکستان دنیا کے پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے ایک فیمیل ہیڈ آف اسٹیٹ سلیکٹ کی ہے جبکہ امریکا آج تک ایسا نہیں کر سکا 

    الیکشن سے پہلے بے نظیر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ شادی کر لیں 

    ایک نوجوان لڑکی کی بجائے ایک شادی شدہ عورت زیادہ بردبار ذہین اور عوام سے جڑی ہوئی لگے گی اور بے نظیر اس مشورے کو مان گئی ۔

    اور بے نظیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ارینج میرج کریں گے جس کے بعد ان کی والدہ نے اس کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے کروائیں اور یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جس میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

     بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئی لیکن پنجاب میں ان کی حکومت نہیں آئی اور بیوروکیسی کی بھی پیپلزپارٹی کو کوئی خاص سپورٹ نہیں تھی کیونکہ ضیاء دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکیات کو چن چن کر ختم کیا گیا تھا ۔

    اس لیے بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تو حالات سنبھالتے سنبھالتے ہی نکل گیا کیونکے پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف نے بے نظیر کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور جب سارے ہیں آپ کے پیچھے پڑ جائے تو حکومت کیا چلے گی اور بینظیر بھٹو کی حکومت تقریبا 20 ماہ کے بعد ختم ہوگئی 

    اور اسی طرح 1993 میں بینظیر بھٹو ایک بار پھر الیکشن جیت گئی اور اس بار وہ بہت میچور ہو گئی تھی اور اس بار وہ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی اسی دور میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ 

    آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر کے تین سالہ حکومت کے بعد بے نظیر کے اپنے ہی لگائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت توڑ دی 

    اور اگلی بار الیکشن میں شکست ہونے پر بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک سے باہر چلی گئی ۔

    1999 میں مشرف نے ملک پر مارشل لاء لگا دیا تو 2000 میں نواز شریف بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔

    اور مشرف سکون سے حکومت کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق سے تنگ آنے لگے  

    اور 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر نے ملک میں واپسی قدم رکھا اور بے نظیر کا بھرپور استقبال کیا گیا لیکن استقبال کے ساتھ ساتھ ایک بم دھماکا بھی ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے 

    اور شہدائے کارساز کے دھماکے کے بعد بھی ان کا حوصلہ بہت بلند تھا اور اس دھماکے سے صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر کا لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ تھا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان شہری نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اسی مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب جلسہ ختم کرکے واپس جا رہی تھی تو اپنے کارکنوں کو داد دینے کے لیے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر داد دینے لگی اس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور پھر بم دھماکا ہوا اس طرح کچھ ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا ۔ 

    ہم سب کو وہ دن یاد ہے وہ وقت یاد ہے جب ان کو شہید کیا گیا خاص طور پر وہ لوگ جو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ جلسے میں تھے پیپلز پارٹی کے تمام کارکن سڑکوں پر نکل آئے تھے اور حالات تمام خراب ہونے لگے تھے مگر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے بات بگڑنے نہیں دی اور اپنےکارکنوں کو حوصلہ دیا 

    یہ بات تو سچ ہے بے نظیر ایک مضبوط لیڈر تھیں ان کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ان کو کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور اپنے ملک کے لیے لڑتی رہی ایک باہمت اور ثابت قدم خاتون تھیں 

    دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

        

  • سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن

    سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن

    راولپنڈی میں سہگل حویلی کی مرکزی عمارت، جو اب لال حویلی کے نام سے مشہور ہے، شہر کے بالکل وسط میں بوہڑ بازار میں ایک سو سال سے زائد زیادہ عرصے سے کھڑی ہے۔راولپنڈی شہر میں اس سے قبل ایسی کوئی عمارت نہ تھی۔ اس عمارت پر لکڑی، پیتل، چاندی اور دیگر دھاتوں کا استعمال کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس عمارت میں ایک کیمیائی لکڑی کا استعمال کیا گیا اور شہر میں یہ عمارت اپنی مثال آپ تھی۔ عمارت دو حصوں پر مشتمل تھی جس کا ایک حصہ مردوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جبکہ مرکزی اپارٹمنٹ اور پیچھے سے ایک حصہ خواتین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حویلی میں سہگل اور بدھاں بائی کے کمروں کو اعلیٰ پودوں اور پھولوں سے مزین کیا گیا تھا جو بوہڑ بازار میں کھلے بازاروں سے منسلک تھے۔ بدھاں بائی نے لال حویلی میں منتقل ہونے کے بعد رقص چھوڑ دیا تھا۔ راج سہگل نے حویلی کے اندر بدھاں بائی کے لیے ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی جبکہ اپنی عبادت کے لیے ایک مندر تعمیر کرایا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ حویلی ایک مہاجر کشمیری خاندان کو الاٹ کی گئی ۔

    بدھاں بائی کی اس داستان نے سہگل حویلی کو جنوں والی حویلی بنا دیا۔ سو برس بیت چکے لیکن محبت کی ادھوری داستان مر کر بھی زندہ ہے، بدھاں بائی کی یادیں پرچھائیاں بن کر آج بھی لال حویلی کے در و دیوار میں رقصاں ہیں۔

    انمول پیار کی لازوال کہانی ایک صدی کا قصہ ہے، کہا جاتا ہے کہ اس حویلی کو شاہ راج سہگل نے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک جواں سال مسلم رقاصہ بدھاں بائی کے لیے تعمیر کیا تھا۔ مشہور ہے کہ سہگل جو جہلم کے ایک امیر کبیر ہندو خاندان سے تعلق رکھتا تھا سیالکوٹ کی اس رقاصہ سے ایک شادی کی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ بدھاں کے گھنگھروں کی گھن سہگل کے دل پر ایسی اثر انداز ہوئی کہ پہلی ہی نظر میں سہگل بدھاں بائی کو دل دے بیٹھا اور اس کو شادی پر آمادہ کر لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی اور سہگل باندھ بائی کو سیالکوٹ سے راولپنڈی لے آیا اور اس کے لیے ایک حویلی تعمیر کروائی اور اپنا پیار امر کر ڈالا۔

    1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا تو محبت بھی تقسیم ہو گئی، راج سہگل کو ہندوستان جانا پڑا لیکن بدھاں بائی یہیں رہ گئیں۔ پوری محبت کی اس آدھی کہانی میں پر اسرار موڑ اس وقت آیا جب بدھاں بائی اپنے بھائی کی موت کے بعد اچانک حویلی چھوڑ کر کسی گمنام وادی میں کھو گئیں۔ بدھاں کے بعد سہگل حویلی پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس حویلی کو جنوں کی حویلی کہا جانے لگا۔ وقت گزرا اور پھر اس حویلی کو نئی شناخت اس وقت ملی،جب 1985ء میں شیخ رشید نے سہگل حویلی کو خرید کر لال حویلی کا نام دے دیا، اب یہ حویلی محبت کی خوشبو کی بجائے سیاست کے دھوئیں کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

    کبھی یہ حویلی محبت کے علامت ہوا کرتی تھی جو آج کل عوامی مسلم لیگ کا پبلک سیکرٹریٹ ہے اور پارٹی کے سربراہ و وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید احمد کی ملکیت بتائی جاتی ہے اور سیاسی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ 1985ء کے بعد شیخ رشید احمد نے اس کو سیاست کا گڑھ بنایا اس لال حویلی نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی میزبانی کی جن میں موجودہ اور سابقہ وزیراعظم شامل ہیں ۔ اسکے علاوہ 90 کی دہائی میں جب الیکشن ہو رہے تھے تو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بی بی سی نے انٹرویو کیا اور راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے بارے میں سوال کیا اسکے بعد صحافی نے بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کو مشورہ دیا کہ” آپ راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کو ٹکٹ لال حویلی کو دے دیں ۔”وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اب لال حویلی کو فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے ۔

     

  • کیا وزیراعظم آزاد کشمیر احتساب کا عمل بہتر کر سکیں گے تحریر سعد اکرم

     وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم خان نیازی آزاد کشمیر کے گیارہویں وزیراعظم ہیں وہ گزشتہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پہ الیکشن جیت کر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتحب ہوئے اور پھر  وزیراعظم  آزاد کشمیر  منتحب ہو گئے  دارالحکومت مظفر آباد میں میڈیا سے اپنی پہلی باضابطہ ملاقات میں آزاد کشمیر کو کرپشن سے فری سٹیٹ بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا ان کا کہنا تھا ان کے اقدامات کو دیکھ کر میڈیا خود کہے گا میں آزاد کشمیر کا سب سے تگڑا وزیراعظم ہوں وزیراعظم نے احتساب ایکٹ کو دوبارہ اصل شکل میں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے سردار عبدالقیوم نیازی آزاد کشمیر کے درویش اور عام آدمی کے وزیراعظم معلوم ہوتے ہیں ان کا تعلق سیاست کے روایتی طبقہ اشرافیہ سے ہے اور نہ ہی وہ برادری ازم کے نام پر سیاست میں آگے آئے ہیں تین ماہ میں ہی ان کی کارکردگی نظر آنے لگی ہے جس کا پہلا ثبوت وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے پانچ سو ارب روپے کا خصوصی پیکج ہے جو بجٹ کے علاوہ ہو گا وزیراعظم کے مطابق یہ تاریخ کا سب سے بڑا اقتصادی پیکج ہے جس آزاد کشمیر کی عوام کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ ہو گا انھوں نے چھ ماہ کیلئے حکومت کے احداف مقرر کر کے ایک احسن قدم اٹھایا ان کے اعلانات میں سب سے اہم اعلان آزاد کشمیر کو کرپشن فری سٹیٹ بنانا اور احتساب ایکٹ کو نئی روح کے ساتھ زندہ کرنا ہے ہماری سوسائٹی میں کرپشن بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے اور اس جڑ کو پانی اور غذا بیوروکریسی فراہم کرتی ہے وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی عوام کو کئ بار احتساب کا مسودہ سنا چکے ہیں جس سے ایک امید سی بندھ چلی ہے آزاد کشمیر میں ایک شفاف نظام کی بنیاد ڈالنے کے لئے بے رحم احتساب ضروری ہے مگر احتساب کی پہلی زدگھاک اور کائیاں بیوروکریسی پر پڑنا ہیں جو کسی طور نہیں چاہیے گی کے احتساب کا عمل شروع ہو بلکہ یہ بیوروکریسی تبدیلی کی علمبردار حکومت کو بھی اپنے دام ہم رنگ میں پھنسانے کی پوری کوشش کرے گی گزشتہ دہائیوں سے آزاد کشمیر کے عوام خوردبین سے احتساب بیورو کا وجود تلاش کرتے رہے مگر انھیں کوئ سراغ نہ ملا ان سالوں میں قومی خزانے پر کیا نہ ستم ڈھائے گئے قومی وسائل کو کس کس انداز میں تختہ مشق نہ بنایا گیا  یہ ایک دردناک کہانی ہے مگر احتساب بیورو کے ادارے کا نام عنقا ہی رہا بیتے ہوئے اس ماضی کی رکھ کو کریدنے پر اب سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنا ہی کہلاتا ہے ماضی کے واقعات کو دیکھیں تو احتساب کا لفظ مخص مرضی کے احتساب یہ وقتی ضرورت اخباری سرخیاں بنانے کیلئے استعمال ہوا احتساب اور احتساب کے نام پر سرگرمیاں مخص شلغموں سے مٹی جھاڑنے کا عمل ثابت ہوتا رہا جونہی حالات اور اور وقت بدل گیا احتساب کا عمل ڈیپ فریزر میں رکھ دیا گیا اس طرح احتساب کے نام پر کھیل تماشہ تو چلتا رہا مگر حقیقی احتساب کا آغاز نہ ہو سکا احتساب اس وقت حقیقی ہوتا ہے جب وہ رواج عمل بن جائے احتساب ایک ایڈہاک ازم کا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے احتساب میں تلسل نہ ہو تو بدعنوان عناصر بے خوف ہو جاتے ہیں بدعنوان عناصر زیادہ تندہی سے اپنے کام میں مگن ہوتے ہیں آزاد کشمیر میں احتساب کے نام پر یہی کچھ ہوتا رہا ہے یہ کام محکمہ اینٹی کرپشن زیادہ بہتری سے انجام دیتا تھا احتساب بیورو کے نام سے ادارہ بنانے کا مقصد صرف روزگار کھولنا نہیں بلکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے شکنجے میں کسنا قانون کا خوف قائم کرنا اور لوٹے گئے وسائل کو واپس لانا تھا احتساب بیورو ان کاموں کے سوا سب کچھ کرتا رہا اب اگر پاکستان کے تناظر میں موجود سسٹم کو احتساب کے کام میں کچھ دلچسپی ہے تو کل ان کے چلے جانے کے بعد معاملہ وہی ہو گا ۔اس کے بعد  وہی بدعنوان عناصر ہوں گے  اور آزاد کشمیر کا وہی خزانہ اور یہی احتساب بیورو۔ خدا کرے اب حالات اس سے مختلف ہوں سردار عبدالقیوم نیازی کے بار بار کے اعلانات سے اب یہ امید بندھ چلی ہے کے وہ آزاد کشمیر کے عوام کو اچھی گورننس اور کرپشن فری معاشرہ دیں گے کیونکہ وہ ایک درویش اور سادہ مزاج شخصیت ہیں جو سیاست میں پیرا شوٹر نہیں بلکہ نیچے سے اوپر آئے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کے ان کا بے داغ ماضی ہے اسی پس منظر کے ساتھ انھیں واقعتا تگڑا وزیراعظم ہی ہونا چاہیئے کیونکہ کمزور وزیراعظم وہی ہوتا ہے جس کی ماضی میں فائلیں اور داستانیں ہوتی ہیں ماضی کی وجہ سے اسے قدم قدم پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے موجودہ وزیراعظم کا ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے ان ماضی میں نہ کوئی فائل ہے نہ کوئ داستان۔

  • کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

    کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

    اس شہر کراچی کی , لفظ "Regularisation ” سے بالکل نہیں بنتی. مجال ہے جو کچھ بھی ریگولر ہوتا نظر آجائے.
    چاہے کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا قتل ہو, یا جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں, تعلیم نہ ہونے ک برابر, صحت و صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں, بجلی کی حصول کے لئے نجی ادارا مسلط, نہ پانی, نہ سڑکیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ. غرض ان بنیادی سہولیات کی "Irregularisation” نے شہریوں میں نفسا نفسی اور اپنے مسائل کا ازخود حل نکالنے کی جدوجہد نے شہریوں کی سوچ کو مفلوج کر کے بس اپنے ارد گرد محدود کر دیا ہے.
    نام نہاد لیڈران کے پاس بھی عوام کیلئے تسلیوں کے علاوہ کوئی خاص پھکی نہیں. لہذا عام آدمی جب سارا دن بعد بسوں کے دھکے کھا کر اپنے گھر آتا ہے تو چاہے نسلہ ٹاور ہو یا پھر گجر نالہ کے بے گھر افراد, یا پھر الہ دین پارک کی منہدم عمارت, اسے اگلے دن پھر سے بسوں کے دھکے کھا کر, اپنے چھوٹے سے گھر کے بڑے سے بجلی کے بل کی قسطیں بنوانے کی فکر زیادہ ستاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر کل کسی دوسرے کےگرتے ہوئے گھر کیلۓ آواز اٹھانے چلا گیا تو کہیں اپنے گھر کی بجلی نہ کٹ جاۓ. اور اسی شش و پنج میں وہ گراۓ جانےوالے گھروں کے متاثرین کیلئے افسوس کرتا ہوا نیند کی آغوش میں ہو لیتا ہے.
    .
    آج نسلہ ٹاور گرنے کو ہے, کل کسی اور کا گھر ہوگا. اور پرسوں شاید ہمارا اپنا, لیکن جب پرسوں ہمارے گھر کی باری آئے گی تو ظاہر ہے ریت وہی رہے گی, مدد کو پکارنے پر بھی وہی تھکے ہارے لوگ بجلی کے بلوں کو قسطوں کی فکر میں تکیے میں منھ چھپا کر سوجائیں گے….
    یا جو کوئی اپنا بجلی کا بل بھروا چکا ہوگا وہ کچھ اس طرح کے سوالوں پر غور کرتا نظر آئے گا, مثلاً

    نسلہ ٹاور کی رہائشی جنہوں نے اس ملک کے سسٹم پر یقین کرتے ہوئے این او سی شدہ کاغذات والے گھر پر اپنی ساری جمع پونجی لگا دی آخر ان کا کیا قصور ہے؟
    وہ عناصر جنہوں نے نسلہ ٹاور کی زمین پر عمارت تعمیر کرنے کی این او سی دی ان سے جواب طلبی کیوں نہیں ہوتی؟
    وہ بلڈر جسے یہ عمارت کھڑی کرنے کی این او سی دی گئی, کیا وہ رہائشیوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس کرسکے گا؟
    کیا کبھی کراچی کی عوام اپنے حق کیلئے آواز اٹھا سکے گی؟

    اور سوچتے سوچتے اچانک اسے یاد آئے گا کہ گھر میں پانی ختم ہونے کو ہے اور صبح تک پانی کا ٹینکر ہر حال میں منگوانا ہی پڑے گا. لہذا اپنی سابقہ تمام سوچوں کو جھڑک کر وہ اپنے موبائل میں ٹینکر والے کا فون نمبر ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگ جاۓ گا.

  • وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز،وکلاء ونگ اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں کی ملاقات

    وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز،وکلاء ونگ اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز، گڈ گورننس کمیٹی کے اراکین، وکلاء ونگ اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں نے ملاقات کی- وزیر اعلی عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد تحریک انصاف کا گڑھ ہے -فیصل آباد کی تعمیر و ترقی دل و جان سے عزیز ہے –  فیصل آبادشہر کی تعمیر و ترقی کے لئے اربوں روپے کے اضافی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے -فیصل آباد رنگ روڈ بننے سے شہریو ں کو بے پناہ سہولت ملے گی -فیصل آباد بائی پاس کا پراجیکٹ بھی جلد شروع کریں گے -پارٹی کے عہدیداران کو پوری عزت دیں گے -عہدیداران کے جائز کام ترجیحی بنیادوں پر کئے جائیں گے – وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عہدیداران کا اجلاس جلد لاہور میں بلایا جائے گا اورآپ سے مستقبل میں بھی مشاورت کا عمل جاری رہے گا-عہدیداران نے وزیر اعلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فیصل آباد میں اربوں روپے کا ڈویلپمنٹ پیکیج دے کر ہمارے دل جیت لئے ہیں – ڈویلپمنٹ پیکیج سے شہر میں ترقی کا نیاباب شروع ہو گا۔

  • لبیک کے ساتھ پھر وعدہ خلافی، تحریر: نوید شیخ

    لبیک کے ساتھ پھر وعدہ خلافی، تحریر: نوید شیخ

    تحریک لبیک نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت حالیہ بات چیت کے دوران طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔ ٹی ایل پی کا مارچ لاہور سے نکلنے کے بعد مرید کے میں رکا ہوا ہے اور پارٹی قائدین کا الزام ہے کہ انہوں نے جی ٹی روڈ کھول دی ہے لیکن حکومت نے اچانک جی ٹی روڑ کے دونوں اطراف کنٹینرز لگا کر دوبارہ جی ٹی روڑ بلاک کر دی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت معاہدے پر عمل نہ کرنے کی نیت رکھتی ہے۔ اب مرید کے اردگرد بھی حکومت ایسے اقدامات کررہی ہے جیسے لاہور میں کیے گئے تھے۔ بڑی تعداد میں کنٹینرز لگائے جارہے ہیں راستے بند کیے جا رہے ہیں ۔ خندقین تاحال کھودی جا رہی ہیں۔ ایک طرف مذاکرات چل رہے تھے تو دوسری جانب دریائے چناب کے پل کے اوپر بھاری مقدار میں ریت ڈالی جا رہی تھی ۔ اب مرید کے سے ٹی ایل پی کے رہنما حکومت کو متنبہ کررہے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو پورے ملک میں مارچ ہو سکتے ہیں۔ ٹی پی ایل کے رہنما مفتی رضوی اور دیگر نے مرید کے میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی وعدہ خلافی کا سوچنے سے پہلے حکومت ہزار بار سوچ لے۔ اب اگر وعدہ خلافی ہوئی تو حالات کا ذمہ دار معاہدے کا اعلان کرنے والے عمران خان خود ہوں گے۔

    پھر رُکنِ شوریٰ تحریک لبیک پاکستان غلام عباس فیضی کا کہنا ہے کہ پیچھے ہٹنے کا تصّور بھی نہیں ہے جب تک سارے معاملات اور مطالبات حل نہیں ہوتے اور سعد رضوی دھرنے میں آ کر دُعا کر کے ہمیں جانے کی اجازت نہیں دیتے ہم میدان میں رہیں گے۔ پھر پنجاب کے مختلف علاقوں سے نئے سرے سے ٹی ایل پی کے ورکرز کو گرفتار کرنے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ نئے سرے سے مقدمات درج ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ نئے سرے سے انکو گھیرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اور اس وقت بس حکومت مزید تیاری کے لیے ٹائم حاصل کر رہی ہے ۔ ٹی ایل پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ہماری اطلاعات تو یہ ہیں کہ حکومت نے ہمارے مزید کارکن گرفتار کر لیے ہیں لیکن ہم اپنے قائدین کے حکم کا انتظار کررہے ہیں اور ہم ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہیں۔ لبیک والوں کے لیڈران، پانچ ہزار ورکرز کے خلاف دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اغوا، پولیس اور شہریوں کی گاڑیاں اسلحہ جلانے، چھیننے اور ڈکیتی کی چالیس ایف آئی آرز درج ہونے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ آئی جی پنجاب نے صوبے کے سب سے قابل، فائٹر چھ پولیس افسران راولپنڈی بھیجنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔ یعنی پنڈی اسلام آباد میں معارکہ کی پوری تیاری ہورہی ہے۔

    دوسری جانب ٹی ایل پی دھرنے کے پیش نظر پاکستان ریلویز نے لاہور اور اسلام آباد میں مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے دھرنے کے شرکا کو روکنے کے لیے صرف فیملیز کو ٹکٹس جاری کرنے کی ہدایت دے دی ہے ۔ ریلوے کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کسی بھی فردِ واحد کو سفر کا ٹکٹ جاری نہیں ہوسکے گا۔۔ پھر ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم اپنے وعدے پورے کرے تو حکومت بھی پورے کرے گی انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی جماعت سے تصادم نہ ہو اور یقین ہے کہ مذاکرات سے معاملہ طے پا جائے گا۔۔ تو داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے مطالبات پر عمل کرنے سے متعلق قانونی مسائل ہیں۔ تاہم بدھ کو یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان ملک واپس آ جائیں گے اور پھر وہ ان سے ملاقات کر کے انھیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ یعنی بال عمران خان کی کورٹ میں ہے۔ ۔ ویسے آج وزیر اعظم عمران خان اپنا تین روزہ سعودی عرب کا دورہ مکمل کرکے واپس آگئے ہیں ۔ اچھا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کی شوریٰ بے خبر ہے اس نے اعلان کیا ہے اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ آج رات تک اگر ہماری جانب سے کوئی پیغام نہ آئے۔ یا مکمل طور پر انٹرنیٹ بند ہو تو سمجھ لیںا کہ حکومت نے حالات خراب کر دیے ہیں اور آپریشن شروع ہوچکا ہے ۔ تو جب بھی ایسی حرکت ہو تو سب مرید کے کی طرف چل پڑیں ۔ ۔ اس وقت ملک بھر سے علماء اہلسنت جو ہیں وہ بھی تحریک لبیک کی حمایت میں سامنے آرہے ہیں اور ان کی جانب سے اپنے مریدین اور کارکنوں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ وہ تحریک لبیک کے اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے مرید کے پہنچیں ۔ ۔ اسی حوالے سے سندھ سے تعلق رکھنے والے علماء اہلسنت جو تقریباً سو سے زائد ہیں وہ اعلان کرچکے ہیں ۔ مفتی منیب الرحمٰن ،پیر پگارااورسندھ بھر کے سیکڑوں علماء و مشایخ نے یہ بھی کہا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ سابقہ تحریری معاہدوں سے پھر جانے والے نورالحق قادری اور شیخ رشید کو برطرف کیا جائے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ وفاقی حکومت اورپنجاب پولیس نے تحریک لبیک پاکستان پر جو مظالم ڈھائے ہیں۔ وہ ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی چوٹ دلوں اور روحوں پر تادیر محسوس کی جاتی رہے گی۔ ۔ انکا کہنا یہ ہے کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پاکستان میں اہلسنّت کے سب سے بڑے ادارے جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے ستر سالہ شیخ الحدیث علامہ حافظ محمد عبدالستار سعیدی پر بھی دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے جرم یہ ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی ان کے شاگرد ہیں اور تین سو کے قریب علماء ان کے درسِ حدیث کی کلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ ۔ یہ سب جھوٹے ثابت ہوئے ہیں ، اِن سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ۔ تو ٹی ایل پی کی شوریٰ نے ایک بار پھر یہ واضح کردیا ہے کہ جب تک ہمارے امیر علامہ سعد حسین رضوی نہیں آجاتے معاہدہ مکمل طریقے سے پورا نہیں ہوتا، تب تک ہم یہیں پر موجود ہیں۔۔ حکومت اپنا معاہدہ پورا کرے منگل رات تک کا ٹائم ہے نہیں تو بدھ کی صبح یہ مارچ اسلام آباد کی طرف نکل جائے گا۔

  • فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

    فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

     فرانس کے دارلحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس بار صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تركی کو بھی گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے تركی اور پاکستان اس وقت عالمی سیاست میں جس مقام اور مدار پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رے ہیں وہ مغربی بلاک کو پسند نہیں 

    اسلئے پاکستان کی طرح تركی کی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے اس فیصلے پر بھارت سمیت دنیا کے کئی ملكوں میں خوشی کے شادیانے بج اٹھنا فطری ہے مگر پاکستان نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے پچھلی بار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ سوال اٹھایا تھا کے اب یہ طے کرنا ہوگا کے فیٹف تکینکی فورم ہے یا سیاسی_ گویا کہ انہوں نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کو سراسر سیاسی قرار دیا ہے

     کچھ یہی بات دوسرے لفظوں میں وزیر خزانہ نے اپنے ایک interview میں یوں کی تھی FATF کی شراہط میں کوئی چیز نہیں بچی کوئی اور ملک ہوتا تو گرے لسٹ سے نکل جاتا مگر علاقای سیاست میں پھنس کر رہ گے ہیں

    شوکت ترین کی اس بات کا مطلب واضح تھا کے علاقے کی چین مخالف اور حمایت کی تقسیم کی زد پاکستان پر پڑ ری ہے چین مخالف مغربی بلاک جو علاقای سطح پر بھارت کے ساتھ اتحاد کر چکا ہے

    یہ اتحاد ملکر ہر محاذ پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش کر رے ہیں

    ایف اے ٹی ایف کے حکام نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کے پاکستان نے ستایس میں سے چھبیس نكات پر کامیابی سے عمل کیا ہے اس کارکردگی کی بنیاد پر پاکستانی حکام کو اس بار گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے کی قوی امید تھی مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا اگر فیصلہ تیکنیکی اور حقیقی بنیاد پر کیا جاتا چونکہ معاملہ سیاسی ہے اس لئے پاکستان موجودہ حالات میں FATF کے هدف سے آگے بڑھ کر بھی کام کرتا تب بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے امكان نہیں تھا

    اب FATF نے پاکستان کو ڈومور کے انداز میں پاکستان کو مزید کچھ نكات کی فہرست تهما دی ہے گویا کہ پاکستان کا گرے لسٹ میں لمبے عرصے کے لئے رہنا اب یقینی ہے جن بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا ہے وہ ختم ہونے کی بجاۓ مزید گہری ہو رہی ہے، پاکستان زیادہ قوت سے چین کے قریب اور امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تو یہ سوال عمران خان سے بھی پوچھا کہ انکے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں اصل رکاوٹ چین تو نہیں اس پر عمران خان نے چین اور پاکستان کے تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کی جنگ میں شراکت دار بن کر پاکستان میں جو تخریب کاری ہوئی تھی اسے تعمیر میں بدلنے میں چین ہی اگے آیا ہے ادھر شوکت ترین نے علاقای سیاست کی زد میں آنے کی جو بات کی اسکا تعلق بھی اسی حقیقت سے ہے

    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ملک ہر فورم پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش جاری رکھیں گے

    آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہوں یہ FATF کی سیاست بازیاں یا عالمی عدالت میں کلبوشن کے کیس کی سنوای اور ایک مسلمہ جاسوس پر بےجا مہربانیاں ہوں یا یورپی ملک میں سری واستر گروپ کی جھوٹ کی فیکٹریاں یہ سب پاکستان کو فكس اپ کرنے کی کوششیں ہیں

    مستقبل میں پاکستان کو مزید مغرب کے اس نارواسلوک کا سامنا کرنا پڑے گا اسلئے پاکستان کو ذہنی اور عملی طور پر اسکے لئے تیار رہنا چاہئے اس رویہ کے حامل مغربی مملاك اور مغربی اثر رسوخ والے اداروں سے کشمیر  سمیت کسی خیر کی توقع نہیں ہے اگر وہ کسی جگہ مسلہ کشمیر حل کرنے کی بات بھی کریں گے تو وہ بھارتی نقطہ نظر سے ہوگا ان تمام سیاسی اور علاقای اور مغربی ممالک کے اس رویہ کے بعد ان مملاك سے تعلقات تو رکھنے چاہیے لیکن ان سے مستقبل میں کسی اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جانا چاہیے تاکہ پاکستان اس طرح کی blackmailing سے بچ سکے اور اپنی آزادی اور خود مختاری کے فیصلے خود کر سکے اسی میں پاکستان کی بقا اور بہتری ہے جتنی جلدی یہ بات ہمارے حکمران طبقہ کو سمجھ آ جاۓ اتنا ہی اچھا ہے کیوں کے آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کے اہل کفر کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے چاہے ہم جتنا مرضی ہے انکے لئے کر لیں اس کی زندہ مثال امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے جو 20 سال نقصان اٹھایا ہے وہ سب کے سامنے ہے پھر بھی امریکہ پاکستان سے خوش نہیں ہے اور اپنی ہار اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا ہے.

    اللہ پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور اس میں بسنے والوں پر اپنا کرم فرماۓ ۔۔۔آمین 

     

    @ItzJadoon