Baaghi TV

Category: سیاست

  • حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    ہوا یہ کہ 12 ربیع الاول کا جو جلوس تھا وہ جیسے ہی اختتام پذیر ہوا تو لاہور میں ملتان روڈ جہاں پہ خادم حسین رضوی کی مزار بھی ہے اور وہاں پہ مسجد بھی ہے تو وہاں پر تحریک لبیک کے جو کارکنان ہیں انہوں نے اس جلوس ایک دھرنے میں تبدیل کر دیا اور یہ کہا گیا کہ تین دن آپ کے پاس ہیں اور ان تین دنوں میں حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ ان دونوں مطالبات پر کام کرنا پڑے گا اگر آپ یہ مطالبات مان لیتے ہیں تو بالکل ٹھیک ہے ورنہ ہم آپ کے خلاف احتجاج کریں گے معاملہ خراب اس وقت ہوا تھا جب نومبر 2020 میں ناموس رسالت کے اوپر بہت زیادہ احتجاج ہوئے اور بہت کچھ ہوا اور بعد میں ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ہیں انہوں نے بھی دستخط کیے اور شیخ رشید نے بھی دستخط کیے اس میں بڑی سیدھی سادی بات تھی کہ ہم جناب جو فرانس کا سفیر ہے پاکستان سے اسکو نکال دیں گے اور اسکو لیکر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی آئی لیکن سفیر کو نکالنے کی بات وہاں پر نہیں ہوئی لیکن حکومت نے اس وقت کمٹمنٹ ضرور کر دی کہ ہم نکال دیں گہ لیکن پھر صورتحال خراب اس وقت ہوئی جب اپریل میں سعد رضوی جب وہ کہیں سے واپس آرہے تھے تو انکو گرفتار کر لیا اور پھر کافی عرصے سے انکو جیل میں رکھا ہوا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آتی ہے لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ کے بعد بھی انکو رہائی نہیں ہو رہی، دو بنیادی مطالبات ہیں جو سامنے رکھے گئے اس میں پہلا کہ سعد رضوی کی رہائی ہر صورت میں تحریک لبیک کے کارکنان چاھتے ھیں اور دوسرا فرانسی سفیر کو اس وقت ملک سے نکالا جائے، 

    اب آتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف کہ اس معاملے اپڈیٹ کیا ہے مذاکرات ہوئے ہیں نہیں ہوئے ہیں حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کی ہے انسے رابطہ کیا ہا نہیں کیا؟

    تو میں آپکو بتا دیتا ہو جب سے یہ اعلان ہوا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ملتان روڈ پر اور نارے لگا رہے ہیں اور انکی کوئی بات نہیں سن رہا اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ اب زاعری بات ہے اس میں حکومتی سفیر یا حکومتی وزیر تو نہیں تھے اس میں سیکیورٹی ایجنسیز کہ لوگ تھے انہوں نے تحریک لبیک کے لوگوں کے ساتھ بات کی لیکن اس وقت تک جو نئی خبر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد اب تحریک لبیک نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جا رہے ہیں اسلام آباد کی جانب تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کردی ہے اور یہ مذاکرات ہونے کی پہلے تحریک لبیک نے تصدیق کی جس کہ بعد ابھی بھی تصدیق کردی ہے کہ انکے جو مذاکرات ہیں حکومت کے ساتھ وہ ناکام ہو گئے اس کے بعد اب تحریک لبیک کے کارکنان لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں لیکن لاہور شہر کے اندر اور پورے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس جو ہے وہ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں انکے لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں داخلی اور خارجی راستے بند کیے جا رہے ہیں دو دن سے ٹریفک کا ماحول انٹرنیٹ سروس درہم برہم ہے لیکن اس دوران سب سے بڑی جو خبر ہے وہ ہے شیخ رشید صاحب کا بیرون ملک جانا شیخ رشید جناب دبئی کے لیے روانہ ہو گئے دو تین دن کا انکا وزٹ ہے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا پاکستان کا میچ دیکھنے گئے ہیں پاکستان کے حالات معمول پر نہیں اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ اس بات پر کہ میچ ضروری ہے یا اس وقت آج لاہور شہر میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلیز الگ سے ہیں اور مزعبی جماعت کا احتجاج اپنی طرف ہے اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ میچ دیکھنے جا رہا ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    1945کے بعد بیشتراقوام عالم پرسے برطانوی سامراج کے بتدریج خاتمے اور انخلاء کے بعد جن چیزوں کا غلام اقوام میں تسلسل ازحد یقینی بنایا گیا ان میں سرفہرست سامراجی نظام انصاف ہے۔ یعنی جو نظام فاتح اقوام نے مفتوحہ اقوام پر اپنا جبرواستبداد برقراررکھنے کے لئے پوری قوت سے نافذالعمل کیا تھاوہی نظام آج تک غلام اقوام جو کہ بظاہر اب آزاد ہو چکی ہیں پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذالعمل ہے۔اس پورے عرض گذاری سے شروع ہونیوالے اور متوفی پر ختم ہونیوالے نظام پر سرسری نظر دوڑانے پر ہی معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظام حصول انصاف کے لئیے ہے ہی نہیں بلکہ ترویج ظلم کے لیئے ہے۔ قول مشہور ہے کہ پاکستان میں حصول انصاف کے لیے آپ کے پاس قارون کا خزانہ اور عمر خضر ہونی چاہئے ۔ یعنی نہ قارون کا خزانہ ہو ، نہ عمر خضر ہو اور نہ انصاف ہو۔پاکستان میں فوجی حکمران آئے ، سول حکمران آئے بڑے بڑے بیوروکریٹ آئے جن کی کتابیں مشہور ہوئیں ہر طرح کے طاقتور لوگ آئے اور ان سب نے اپنی اپنی بھانت بھانت کی پالیسیاں چلائیں، قانون بنائے اور بے شمار خرافات کیں لیکن ان سب نے 74سالوں میں جو ایک مشترکہ چیز یقینی بنائی رکھی وہ یہ تھی کہ کسی طرح اس ملک کا نظام عدل ٹھیک نہ ہو۔حکمران طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس ملک میں فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ان کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں کو بھی نکیل ڈل جائیگی۔ تو لہذا اب مختلف نظریات کی دعویدار انگنت پارٹیاں اور جھنڈے ، بولیاں ایک سیل بے کراں ہے لیکن کہیں کوئی عملی طور پر فوری انصاف کیلئے کام کرتا نظر نہیں آتا نہ آئیگا۔ اس ملک میں سب طرح کے قانون و آرڈیننس بن کر نافذ ہو سکتے ہیں لیکن 14دن کے اندراندر فیصلہ کرنے کے بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد کوئی مائی کا لعل نہیں کروائیگا اور نہ کوئی اس پر بات کریگا ۔اور ایسا نہ کرنیکے صورت میں کوئی اس پر بات نہیں کریگا نہ سروس کٹے گی نہ مراعات۔ سب کو معلوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے ذمرے میں آتی ہے لیکن انصاف میں تاخیر جاری ہے۔ اصل ظلم یہ ہے جس کیخلاف کچھ لوگ بولتے ضرور ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی جتنی بھی نہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ انصاف ،انصاف کی دھائی دینے والے بھی دوسروں کیلیے انصاف جبکہ اپنے لیے ہر قسم کی معافی کے طلبگار ہیں۔
    امریکہ یورپ اور اسکے حواری افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ اب طالبان کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھا اٹھا کر لے رہے ہیں حالانکہ وہی اسلامی قوانین سعودی عرب میں نافذہیں لیکن ادھر تیل اور ڈالر کے اشتراک سے حاصل ہونیوالی دولت کے انبار نظر آتے ہیں اور طالبان بے چارے غریب ہیں اس لیے ان میں نظام میں خرابیاں نظر آتی ہیںجوکہ منافقت ہے۔ امریکہ کو بے گناہوں پر ڈرون حملے کرتے ہوئے کوئی انسانی حقوق یادنہیں آتے اور نہ ہی خواتین کے چادر اور چاردیواری کے حق کی پامالی نظر آتی ہے لیکن طالبان اگرکسی مستند چور کے ہاتھ کاٹ دیں یا بچوں سے بدفعلی کرکے ان کو جان سے مارنے والے درندوں کو چوک چوراہے پر لٹکا دیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق والوںکے پیٹ میں مروزاٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال بیت گئے بلکہ بتا دیے گئے لیکن آجتک اس میں اسلامی قوانین کا بعینہ نفاذ نہیں ہونے دیا گیا۔ کہتے ہیں کوئی قانون یہاں اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنا نہ بن سکتا ہے ۔ تو پوچھنایہ کہ اسلامی ماخذ قانون Islamic Jurisprudenceسے لاکھوں کروڑوں مقدمات کے التوا کا جواز بھی نکال کر دکھا دو۔ یہی ایک بات کہ اس ملک میں بندہ مر جاتا ہے نسلیںبرباد ہوجاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا اس نظام کو غیراسلامی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اس نظام ناانصاف سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ لوئر کورٹس، سیشن کورٹس، ہائی کورٹس، سپریم کورٹس، اسلامی کورٹس سے ایک اپر کلاس کے ظلم کے نظام کو دوام بخشنے کے ادارے ہیںجو بدمعاشیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور غریب کی نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو سولیوں پر ہونا چاہئے تھا وہی لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں۔

  • بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ  تحریر:- فروا نذیر

    بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تحریر:- فروا نذیر

    Twitter : @FarwaSpeaks_
    آج کل نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایک تازہ بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مغربی دنیا افغانستان میں امریکی شکست کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی ترین جنگ ہار چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ نے اس جنگ میں 20 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کیا۔ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ معاشی حوالے سے چین کا مقروض ہوتا رہا۔
    چین ناچاہتے ہوئے بھی امریکہ کو قرض دیتا رہا کیونکہ امریکہ چین کے پڑوس میں بیٹھا تھا اور کسی بھی وقت پراکسی وار چین پر مسلط کر سکتا تھا۔ جنگ سے بچنے کے لئے چین کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
    افغان جنگ میں پوری مغربی دنیا کی سرمایہ کاری تھی۔ اب سرمائے کے ڈوب جانے کے بعد مغرب بدمست ہاتھی کی طرح ہنکار رہا ہے۔ ان کی نظروں میں اس شکست کا بس ایک جواز ہے اور وہ ہے "One word, PAKISTAN” ۔ پاکستان اس وقت مغربی دنیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔
    اس وقت حالات واضح طور پر نئے بلاک کی طرف جا رہے ہیں۔ جو کہ چین اور روس کی سرکردگی میں ہو گا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے سرمائے کا کثیر حصہ چند ہاتھوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہتھیلیوں میں آ چکا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ دنیا کا سسٹم تبدیلی کی طرف آئے۔ جمود کو موت ہے اور تغیر میں بقا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا اشتراکیت کی طرف آ جائے۔ اگر دنیا کا نظام اشتراکیت کی طرف آیا تو اس میدان میں لیڈ روس اور چین کی طر رہے ہیں۔ امریکی capitalism آخری سانسیں لے رہا ہے۔
    امریکہ کے پاس جنگ کے لئے اور کوئی میدان بھی نہیں بچا۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی جنگ میں میدانِ جنگ غریب ممالک ہی بنتے ہیں۔ ایسے ہی افغانستان بھی ایک میدانِ جنگ تھا۔ پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی اور راولپنڈی میں بیٹھے دنیا کے تیز ترین دماغوں کی وجہ سے پاکستان اب تک بچا ہوا ہے ورنہ شاید اب تک ہم بھی افغانستان، عراق یا شام کی طرح شام کے اندھیرے میں ڈوب چکے ہوتے۔
    اگر نیا بلاک بنتا ہے تو اسے لیڈ چین اور روس کریں گے اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان اس کا سرکردہ رکن ہو گا۔ کیونکہ انڈیا اپنی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ جوڑ چکا ہے۔ طاقت کا توازن بھی ایشیا میں ہی رہے گا اور مغرب کے پاس سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں بچے گا۔
    جہاں تک پاکستان پر پابندیوں کی بات ہے تو یہ مغرب کی سب سے بڑی بے وقوفی ہو گی۔ یہ بل اور قراداد والا سارا ڈراپ سین امریکہ صرف اور صرف اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لئے کر رہا ہے۔  دنیا کو خاموش کرانے کے بعد یہ سب باتیں ہوا ہو جائیں گی۔ امریکہ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد پہلے ہی ایشیاء میں اپنی پوزیشن کمزور کر چکا ہے۔ کیونکہ ایشیا میں پہلے صرف چین کی امریکہ کے مدِ مقابل تھا لیکن اب چین کے ساتھ ساتھ روس، ایران اور ترکی بھی امریکی چودھراہٹ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور پاکستان میں بھی پہلی بار گورننس ذاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں عمل میں آ رہی ہے۔ جو کہ امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
    امریکہ اب پاکستان کو مزید ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان خطے میں اپنا کافی اثر و رسوخ بنا چکا ہے۔
    امریکہ میں بھی اب جنگی جنون باقی نہیں رہا۔ امریکہ کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ امریکہ اب جنگ کی بجائے چین کی طرح معاشی میدان میں قدم جمانے کی پلاننگ میں ہے۔ آنے والا وقت اسی کا ہو گا جس کی جیب بھاری ہو گی۔ اسی حوالے سے امریکہ نے چینی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں اپنا نیا پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ امریکہ نے سمندروں پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن چین نے زمینی سفر کو ترجیح دے کر پورے خطے میں تجارتی روٹس کا جال بچھا دیا جو کہ امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چین کے پاس مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے جا زمینی راستہ بھی آ چکا ہے جس کی حفاظت کے لئے چین افغان طالبان سے پہلے ہی مذاکرات کر چکا ہے۔
    دنیا کی سیاست کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
    اب ہم نے دیکھنا یہ ہے دنیا کا معاشی نظام کس کروٹ بیٹھتا ہے
    سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت؟
    یہ وقت ہی بتائے گا۔

  • لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    @mnasirbuttt

    اور ایک بار موبائل فون سروس بند ہونے سے دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا، گھر سے نکلنا دشوار اور سوشل میڈیا پر رائے دینا محال ہوگیا، ایک بار پھر کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے شہر اقتدار پر یلغار کا اعلان اور حکومت کی جانب سے سیکورٹی انتظامات کی آڑ میں موبائل فون سروس، شاہراہیں اور تقریبا عام شہری کی آنکھیں بند کرنے کا آغاز کر دیا گیا، شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد پر وفاقی و پنجاب پولیس کا مشترکہ دھرنے سے پہلے استقبالی دھرنا بھی جاری ہے، جگہ جگہ کنٹینٹرز لگا کر راستے بند کرنے کے باوجود ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے نفری منتظر ہے لاہور سے جمعہ کے بعد اسلام آباد کے لیے نکلنے والے مہمانوں کی، پولیس والے اس لانگ مارچ کے انتظار میں دو دن ڈیوٹی پر رہیں گے یا چار دن معلوم نہیں لیکن ان چند روز میں ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی ضرور اجیرن رہے گی، ایک سوال جو ملک بھر کے عوام خصوصا اس صورتحال میں متاثر ہونے والے شہری من میں لیے گھومتے ہیں لیکن پوچھنے کی سکت نہیں کہ آخر حکومت کی جانب گزشتہ دھرنے کو ختم کروانے کے لیے بطور ضمانت قومی اسمبلی میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی اب تک معاملات کا حل کیوں نہیں نکال سکی، کیوں تحریک لبیک کی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی، اگر دیگر قومی مسائل کو حل کرنے میں غیر سنجیدگی کی طرح ادھر بھی سستی دکھا ہی دی گئی تو لاہور میں جاری حالیہ دھرنے کا ہی رخ کر لیا جاتا، کاش لاہور میں ہی ان سے مذاکرات کر لیے جائیں تاکہ مذہبی جماعت کے کارکنان و پولیس کو آمنے سامنے آنے کا موقع ہی نہ ملتا، گزشتہ روز شیخ رشید نے سفارتی تعلقات کے اعتبار سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا مسئلے کا حل نہیں ایسا کرنے کی صورت میں یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ رہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پی ڈی ایم راولپنڈی احتجاج کی آڑ میں مذہبی گروپ کو بھی سنا دیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا، پہلی بات تو یقینا درست ہے کہ سفارتی دنیا میں اس طرح کسی بھی گروہ کے پریشر میں آکر سفیر جو کہ اپنے ملک کا نمائندہ سمجھا جاتا یے اس کو ملک بدر کرنا بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ کی متعلقہ ملک کے ساتھ طلاق ہوگئی اور آپ نے تین بار لب کشائی کرکے کام تقریبا ختم ہی کر دیا جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ طلاق بھی کیوں دی جائے جب بیوی فرانس جیسی امیر و ترقی یافتہ بیوی ہو ہاں ایتھوپیا کے ساتھ معاملات اس نہج تک پہنچنے تو شاید ریاست مدینہ کے خلیفہ ایسا کچھ سوچ بھی لیتے، دوسری بات کچھ ایسی ہی ہے کہ "کہنا بیٹی کو سنانا بہو کو” وزیر داخلہ نے پنڈی میں احتجاج کرنے والی ن لیگ کو قانون کی حرکت کے بارے میں سنایا تو ضرور لیکن پیغام لاہور والوں کو بھی سنا دیا کہ فیض آباد آنا آسان نہیں اور اگر پہنچ بھی گئے تو مہمان نوازی کا شرف پنجاب و وفاقی پولیس کی مشترکہ میزبانی کو حاصل ہوگا جس میں آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریوں سمیت دیگر اشیاء بھی بطور مینو پیش کی جاسکیں گی، اس ساری صورتحال میں نقصان قوم کا ہوگا جو اپنے معمولات زندگی سے جو کورونا کے عذاب سے بمشکل باہر نکل کر بحالی کی طرف ابھی چلے ہی تھے سے ایک بار پھر ہاتھ دھو بیٹھیں گے دوسرا کسی بھی قسم کی ممکنہ جھڑپ کی صورت میں زخمی پولیس اہلکار ہو یا تحریک کا کوئی کارکن نقصان ریاست کا ہی ہوگا نقصان پوری قوم کا ہی ہوگا، ریاست مدینہ والوں سے دست بدستہ درخواست تو یہ ہی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ایکٹو علماء کو بجائے گرفتار کرنے یا مار دھاڑ کرنے کے ان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی جائے، ان کو سنا جائے اور ان کو بین الاقوامی و قومی مجبوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے، ان کو سفارتی دنیا کی بھی ایک سیر کروائی جائے اور مطالبات کی منظوری کی صورت میں ہونے والے ریاستی نقصان کا تخمینہ بھی بتایا جائے لیکن لیکن لیکن ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں ہونے والی اس طرح کی کسی بھی قسم کی گستاخی و توہین کی صورت میں سخت ترین قانون سازی بھی کی جائے اور ڈرافٹنگ کے دوران علماء کے ایک وفد کو بھی اپنی تجاویز کو قانونی نقاط میں شامل کرنے کی دعوت دی جائے تاکہ ایمان بھی سلامت رہے اور بروز قیامت نبی الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی جواب دہی ہوسکے کہ آپ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو صرف جماعتی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دبایا گیا اس کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر اس کے خلاف کاروائی بھی کی گئی کیونکہ آپ سے محبت ہی ایمان کی نشانی ہے اور آپ کی حرمت پر بولنا ہی زندگی کا حقیقی مقصد لیکن آقا دو جہاں کے پیروکاروں کا یوں سڑکوں پر ایک دوسرے کو آمنے سامنے ہوگا لاٹھی چارج مار دھاڑ اور باقی سب پرتشدد کاروائیاں، یہ نہ ہی اسلام سکھاتا ہے نہ ہی اس سب سے دین کی خدمت میں کوئی حصہ ڈالا جاسکتا ہے

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:
    بنگلہ دیش کی اس حیران کن ترقی کی دو اہم وجوہات نظر آتی ہیں، تعلیم اور
    خواتین۔ 1980ء کی دہائی میں تعلیم کی شرح بہت کم تھی۔خاص طور پر  خواتین میں
    تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور نہ ہی ملکی ترقی میں ان کا کوئی کردار
    تھا۔ لیکن حکومت اور سماجیتنظیموں نے تعلیم کے فروغ کے لیے کام شروع کیا ۔ سب
    سے زیادہ زور خواتین کی تعلیم پر دیا گیا۔

    بنگلہ دیش نے تعلیم نسواں کوعام کیا اور انہیں بااختیار بنایا تو یہی خواتین
    بنگلہ دیشی معیشت کا ستون بن گئیں۔ اگر پاکستان بھی اپنیخواتین کو بااختیار
    بنانا چاہتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا بنگلہ دیش کی مثال
    کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم (بالخصوصلڑکیوں کی تعلیم) کو فروغ دینے کے لیے
    اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم اور
    ملکیترقی میں خواتین کی شمولیت مہمیز کا کام کرتی ہے۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
     نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    بنگلہ دیش کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ
    دینے اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ
    تبادلے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت بنگلہ دیش میں غیر ملکی طلباء اور
    محققین کی تعداد بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے جس نے
    صنعتوں کو پیداوار کے حجم کو بڑھانے کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی
    بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم بجٹ کی پابندی کے تحت چلائی گئیں ۔ ریاست
    نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔ کمپنیوں کوپیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے
    مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی ، جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس
    کیا گیا۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی نے اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد کی۔
    لیکن ہمارے ہاں نئی صنعتیں قائم ہونے کی بجائےپرانی قائم کی گئی صنعتیں بھی ختم
     ہو رہی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی کامیابی تمام دنیا کے لیے مثال ہے۔ جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد
     کو خط غربت سے نکالنے میں صرف پندرہ ساللگے۔ دنیا اس کامیابی پر حیران ہے۔
    مختصر یہ کہ بنگلہ دیش نے اپنے سب سے کم استعمال شدہ اثاثوں یعنی اپنے غریب
    طبقے میںسرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں تعلیم عام کی، صنعتوں کی طرف راغب کیا۔ اس
    دوران حکومت کی توجہ کا تمام تر مرکز پسماندہ اورسب سے کم پیداواری شعبوں پر
    رہا کیونکہ وہیں سے سب سے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ وہ لوگ محنتی اور
    سختیاں برداشتکرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے کی خواہش میں مشکل سے
    مشکل کام کر گزرتے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہیلوگ ملک کا اصل سرمایہ ہوتے
    ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • تبدیلی عوام اور مہنگائی تحریر:سعد اکرم

    ‏پٹرول، ڈیزل، گیس، گھی، دالیں، آٹا، چینی اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ بیشتر گھرانے ایسے ہیں، جہاں مہینے کا اکھٹا سامان لانے کا رواج دن بہ دن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ 

    ملک میں جاری دو تین سرویز کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں گھریلو جھگڑوں اور سٹریٹ کرائم سمیت چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    ان مسائل کو کون حل کرے گا عمران خان صاحب نے اپنی 22 سالہ جدوجہد پہ پانی پھیرتے ہوئے عوام کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے وزرا و ترجمان کہتے ہیں مہنگائی پوری دنیا میں ہوئ جناب بیرون ملک لوگوں کی آمدنی بھی تو زیادہ ہے پاکستان میں آمدنی آٹھانی خرچہ روپیہ والی صورتحال ہے  پاکستانی قوم کو روز لولی پاپ دیے جاتے ہیں  سونے پہ سہاگہ ان کے اپنے اتحادی روز انہیں بلیک میل کرتے ہیں وزارتیں لیتے پیسے بناتے مزے کر رہے ہیں یعنی اس حکومت کے ابھی اپنے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں جو کام روٹین کا ہوتا ہے اسے بحرانی کیفیت تک لے جاتے ہیں دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوی آ رہی ہے جناب وزیراعظم صاحب آپ خود فرماتے تھے کے تین سال مشکل تھے سیکھ رہے ہیں بھائ آپکو انٹرنشپ کے لیئے نہیں لایا گیا تھا ٹریننگ آپ کے پی کے میں کر چکے تھے آپ مہنگائی کی ذمہ داری لیں یہ نہ لیں بھیانک اثرات تو عوام تک پہنچ چکے ہیں  وزیراعظم عمران خان نے بھی دیگر سیاسوں کی طرح الیکشن مہم میں کچھ نعرے لگائے اور اب کچھ اور کر رہے ہیں  کسی نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر قوم کو بے وقوف بنایا کسی نے سستی روٹی ایشین ٹائیگر بنانے کے نام پر بے وقوف بنایا اور عمران خان نے اپنی بائیس سالہ جدوجہد تبدیلی و نیا پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام سے مکر گئے اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے الٹا عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور مہنگائی کر کے معیشت کو بہتر بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے پٹرول بجلی گیس آٹا چینی ڈالڈا اور دیگر اشیا ضروریہ کے نرخ میں نہ صرف تین سالوں میں 400 فیصد تک اضافہ ہوا بلکہ مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس نے گزشتہ ستر سال ریکارڈ توڑ ڈالا مڈل کلاس و سفید پوش طبقہ پس کر رہ گیا تبدیلی و نیا پاکستان بنانے والوں نے پرانے پاکستان و عوام کا ستیا ناس کر کے رکھ دیا احساس پروگرام سے صرف دو فیصد لوگ مستفید ہو رہے ہیں جبکہ عوام کی اکثریت جو کروڑوں میں ہے احساس پروگرام سے مستفید ہونا یہ اس پروگرام میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ عزت نفس مجروح ہوتی ہے یہ لوگ بھوک و افلاس سے مر تو سکتے ہیں لیکن خیرات زکوۃ و احساس پروگرام سے مستفید ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے اگر حکومت واقعی غریب عوام سے ہمدردی رکھتی ہے تو آج ہی اعلان کرے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی مفت  دی جائے گی تا کے اس مہنگائی میں انھیں ریلیف مل سکے  احساس پروگرام لنگر خانے پناہ گاھیں اور دیگر اس قسم کے عزت نفس مجروح کرنے والے پروگرام فی الفور ختم کیے جائیں اربوں روپے احساس پروگرام بیت المال لنگر خانے پناہ گاہوں سے سفید پوش مڈل کلاس کو کیا فائدہ  بلکہ عوام کو روز مرہ استعمال کی اشیاء ضروریہ پر خصوصی سبسڈی دی جائے اصل خبر یہ ہے وزیر خزانہ شوکت ترین کی بطور وزیر خزانہ مدت پوری ہو رہی ہے اور اب انہیں مشیر خزانہ بنایا جا رہا ہے اور پھر خیبر بختون خوا سے سینٹ کا الیکشن لڑوا کر دوبارہ وزیر بنایا جائے گا اس مشق فضول سے عوام کا لینا دینا ہے عوام کے دن پھرنے کے تو دور دور تک آثار نظر نہیں آتے ابھی تک عمران خان کی معاشی ٹیم اپنی مہارت کا کوئ کرشمہ نہیں دکھا سکی باہر سے درآمد کی گئ ٹیم بھی عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا کوئ کمال نہیں دکھا سکی حقیقت یہ ہے کے ملک کے معاشی معاملات عملی طور پر آی ایم ایف نے اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں حکومت کے دعوے اور باتیں اب عمل میں ڈھلنے کا تقاضا کر رہی ہیں ملکی معیشت کو مضبوط اور پائیدار  بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے دن گزارنے کی اس پالیسی نے پاکستان کی معیشت کو لاغر کر دیا ہے اب کوئ دست مسیحا ہی زبوں حالی کی ان پستیوں سے ملکی معیشت کو دوبارہ بہتری  کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے یہ روایتی طور طریقوں کا معاملہ نہیں رہا ایک بھرپور آپریشن کا متقاضی ہے ملک کی بڑی جماعتیں ابھی اس حوالے سے کوئ ٹھوس بات نہیں کر سکیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ تو ایڈہاک ازم کے طور پر ملکی معیشت کو چلانے کی زمہ دار رہی ہیں اور ان سے اب توقع ہی عبث ہے مگر تحریک انصاف بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آتی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا  اضافے کو ملک کے معاشی حالات کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے یہ عذر کچھ عرصہ تو چل سکتا ہے مگر تا ریر ماضی کے حکمرانوں کو دوش دے کر عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا

  • گلاس،قلم اور کیمرہ  تحریر: ثمرہ اشفاق

    گلاس،قلم اور کیمرہ تحریر: ثمرہ اشفاق

    @S_Mughal_

    اب تعویز  گھول کر  پیئے جائیں یا سرجریاں کروا  کر فوٹو بنائے جائیں،اب گالیاں الزامات لگائیں جائیں یا بستروں پر کیمرے نصب کئے جائیں،اب جج خریدے جائیں یا قلم۔۔۔۔۔

    نواز شریف کی سیاست دفن ہو چکی ہے،اس پر مٹی ڈالی جا چکی ہے فاتحہ پڑھیں جا چکی ہے۔

    روح پرواز کر جائے تو واپسی نہیں ہوتی،ایسے ہی ہوا ہے نواز شریف کی سیاست کے ساتھ،۔

    خصوصاً پنجاب کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھر چکا ہے بظاہر رہنما یہ کہتے پھریں کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں ایسا بلکل نہیں ہے،

    اس وقت ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک مریم گروہ جبکہ دوسرا شہباز شریف گروپ۔۔

    نواز شریف کی نا اہلی کے بعد جس طرح مریم نواز نے سیاست میں گند اور زہر بھرا وہ تاریخ میں سیاہ الفاظ سے لکھا جائے گا۔

    مسلم لیگ ن نے ہمیشہ خواتین پر کیچڑ اچھال کر سیاسی مخالفین کو بلیک میل کرنے اور ہار ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے  

    بے نظیر بھٹو کی ننگی تصویریں پھینکنے کا معاملہ ہو یا عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے خلاف الزامات۔۔۔

    اس آگ میں مزید تیزی آ گئی ہے۔جب سے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مریم نواز نے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا تو سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    مریم نواز نے با قاعدہ پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھا کر کہا کہ ان کے پاس اور بہت ویڈیوز ہیں اور وہ وقت آنے پر منظر عام پر لائیں گی،جس کا مطلب کھلم کھلا بلیک میلنگ۔

    یعنی اپنی آمدن کے ذرائع بتانے کے بجائے انہوں نے دھمکی دی کہ ہم سے کچھ نہ پوچھو ورنہ معاشرے میں بدنام کر کہ چھوڑیں گی۔

    دوسری طرف شہباز شریف مریم کے بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیں اور اداروں کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کرتے ہیں۔یعنی پھوٹ واضع پڑ چکی ہے،دراڑ آ چکی ہے،باہمی اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

    اگر شہباز شریف نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو مریم انکاری ہیں اور اگر مریم چیف آف آرمی سٹاف کی ایکٹینشن کو گناہ کہتی ہے تو حمزہ شہباز اگلے ہی دن اس کی تردید کرتا ہے۔

    شہباز شریف راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں جب کہ مریم اپنے والد کی ڈوبتی سیاست کو بچانے میں سرگرم۔

    مسلم لیگ ن کا ورکر اس وقت دو با نیوں میں پھنس چکا ہے ایک بیانیہ مفاہمت ا ور دوسرا مزاحمت۔

    مریم نواز اداروں پر پریشر ڈال کر خود کو اور خاندان کو احتساب سے بچانا چاہتی ہیں جب کہ وہ اس میں مکمل ناکام ہیں،کیوں کہ فوج مخالف بیانیہ پٹ کر رہ چکا ہے جس کی مثال گلگت بلتستان اور کشمیر کےا نتخابات ہیں۔

    مریم نواز اپنا ہر پتہ کھیل چکی ہیں جب کہ فوج اس بار سیاست میں مداخلت سے مکمل انکاری ہے۔

    بیک ڈور رابطوں سے لے کر اداروں کے سربراہان کے نام لیکر لزامات، نواز شریف اور بیٹی ہر حربہ کر کہ دیکھ چکے ہیں۔

    ان سب ناکامیوں کے بعد مریم نواز نے اب وزیراعظم کی اہلیہ پر انتہائی سنگین اور غلط الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز محظ ایک نوٹنکی کے کچھ بھی نہیں۔

    ان کی نہ کوئی قابلیت ہے اور نہ کوئی سیاسی قد کاٹھ۔

    مریم کے الزامات کے بیانیے نے مسلم لیگ ن کو خاطر خواہ نقصان پہنچایاہے۔

    الغرض سیاست میں بہت گند پھیل چکا ہے،خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کے بجائے مخالفین کی ذاتی زندگیوں کو لے کر من گھڑت الزامات لگائے جاتے ہیں۔

    مریم نواز کے اس جادو ٹونے کے الزامات کے بعد صحافیوں کا ایک جانبدار ٹولہ بھی میدان میں آیا ہے اور الزام تراشی میں مصروف عمل ہے۔

    کیا صحافیوں کو اپنے پیشے کے حساب سی یہ زیب دیتا ہے؟ اور کیا مریم نواز کو بطور سیاستدان ایسے الفاظ زیب دیتے ہیں؟

    نواز شریف کی سیاست کو اگر کسی نے دفن کیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی صاحبزادی ہیں۔جن کی سیاست الزام سے شروع ہو کر الزام پر ختم،جن کا اپنا کوئی سیاسی کیریئر نہیں یے۔جو اپنے باپ کی ایک موٹر وے گن گن کر عوام کو پھر ورغلا رہی ہیں۔جن کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے آ جاتے اور ان کو معلوم تک نہیں ہوتا۔۔

    خدارا اب بس کرو اور اپنی دولت کا حساب دو!

    عدالتیں حساب دینے کے لئے ہیں فوٹو سیشن کے لئے نہیں،

    اگر گلاس تھام کر ، رنگ برنگی تنگ کپڑوں سے ہی عوامی لیڈر بنا جا سکتا تو ملک اس وقت اداکاروں کے ہا تھ میں ہوتا۔ اب قلم خرید کر،نہ کیمرے نصب کر کہ،نہ گلاس پکڑ کر فوٹو شوٹ سے عوام میں مقبولیتنہیں ملے گی۔پاکستانی اب باشعور ہیں۔

  • بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    جہاں آج ایک بار پھر شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ضمانت خارج کر دی گئی تو جہنم واصل ہونے والے بھارتی فوجیوں کی بیویاں دوہائیاں دے رہی ہیں کہ "جے او کشمیر منگدے آں تے دے دو”

    ۔ اریان کو ضمانت کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔ شاہ رخ کے حوالے سے بات کی جائے تو ضمانت منسوخی کے بعد اب آریان خان کے وکیل نے ممبئی کی ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پر جو دیکھائی دے رہا ہے کہ یہ جس مرضی کورٹ میں چلے جائیں ان کو ریلیف نہیں ملنا ۔ کیونکہ اس حوالے سے ایک درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں بھی گئی ہوئی ہے ۔ وہاں بھی کوئی خاص امید نہیں ہے کہ ان کی سنوائی ہو ۔ پر میں بتاوں شاہ رخ خان کو ریلیف مل سکتا ہے اور یہ ریلیف کوئی عدالت نہیں مودی دے سکتا ہے ۔ اور اس کے لیے شاید اب شاہ رخ کو نام بھی بدلنا پڑے گا اور مذہب بھی بدلنا ہوگا ساتھ آر ایس ایس اور بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنا پڑے گی ، گنگا اشنان بھی کرنا ہوگا اور سنگھیوں کے ساتھ کنبھ کے میلے میں جا کر پوجا پاٹ بھی کرنا پڑے گی وہ بھی بیوی بچوں سمیت ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ بھارت میں انصاف صرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہندوؤں کو ہی مل سکتا ہے ۔ ویسے شاہ رخ خان کی بیوی گوری خان ایسا اقدامات کر رہی ہیں کہ جس سے ہندوتوا کے پجاریوں کو ٹھنڈا کیا جاسکے جیسے انھوں نے اپنے گھر کے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ اُن کے بیٹے آریان خان کو ضمانت نہ ملنے تک گھر میں کسی قسم کا کوئی میٹھا نہ بنایا جائے۔ گوری خان نے خود بھی 7 اکتوبر کو نَوراتری کے تہوار کے آغاز کے بعد سے کچھ بھی میٹھا کھانا چھوڑ دیا ہے۔

    ۔ پر میرا مشورہ ہے ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ معاملہ شاہ رخ خان کے نام کا ہے اس کے مذہب کا ہے ۔ جو مودی اور ہندوتوا کے پجاریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ آپ دیکھیں ابھی بھی وہ ہی دونمبر قسم کی کہانیاں بھارتی میڈیا بتا رہا ہے جس کا نہ تو کوئی ثبوت ہے نہ ہی شہادت ہے ۔ آج بھی بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق این سی بی حکام کا کہنا ہے کہ آریان خان جب امریکا اور دبئی میں تھے تو اس دوران بھی وہ منشیات کا استعمال کیا کرتے تھے۔ پتہ نہیں یہ اریان کو خود اپنے ہاتھوں سے چرس کے سگریٹ بنا بنا کر دیتے تھے یا پھر یہ خود منشیات اریان خان کو سپلائی کرتے تھے ۔ کیونکہ اتنے وثوق سے تو پھر میڈیا نہیں اریان خان سپلائر یا ساتھی ہی بتا سکتا ہے ۔ پھر بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے آریان اور ان کی نئی فلم میں آنے والی ساتھی اداکارہ کی واٹس ایپ چیٹ بھی لیک کی گئی ہے۔ جس کے مطابق یہ دونوں منشیات سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں ۔ ابھی اس کا فرانزک ہونا باقی ہے ۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس کو لے کر شاہ رخ خان کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ چیٹ ٹھیک بھی ہو تو جو کچھ بھی کیا اریان نے کیا شاہ رخ خان کہاں سے بیچ میں آگیا ۔

    اس کے علاوہ این سی بی کی جانب سے آریان خان کی منشیات فروخت کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کی آڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آریان کے وکیل اس پر کیا موقف دیتے ہیں کہ واقعی جس سے اریان خان کی بات ہو رہی تھی وہ کوئی ڈرگ ڈیلر تھا کہ نہیں یا یہ کس ریفرنس میں تھی ۔ سوال بنیادی پھر وہ ہی ہے کہ جس مقدار میں منشیات پکڑی گئی ہیں اس میں کسی کو بھی بھارتی قانون کے مطابق اتنے دن جیل میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ اول تو گرفتاری ہی ممکن نہیں ۔ پھر آپ دیکھیں کہ اریان کے پاس سے کچھ برآمد نہیں ہوا پھر شک کی بنیاد پر اس کو مسلسل کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں اور ایک کے بعد ایک ضمانت جو کینسل کی جارہی ہے ۔ اس میں اب کسی کو شک نہیں رہ گیا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما ہے ۔ کیونکہ اریان تو ایک بہانہ ہے اصل نشانہ شاہ رخ خان ہے ۔ اور یہ خفیہ ہاتھ مودی کا ہی ہے ۔ اس لیے مجھے تو لگتا ہے یا تو اب شاہ رخ خان باقاعدہ ہندو مذہب اختیار کرے گا یا پھر بھارت سے بھاگے گا ۔ ۔ دراصل مودی نے بھارت کو بری طرح پھنسا دیا ہے ۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی ۔

    ۔ اس وقت بھارت کے لیے المیہ یہ ہے کہ اس وقت وہ تین محاذوں پر پھنس چکا ہے ۔ اور یہ تینوں محاذ گرم ہوچکے ہیں ۔ ایک تو چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر ، ایک پاکستان کے ساتھ اور ایک مقبوضہ کشمیر کے اندر ۔۔۔ کشمیرمیں صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کسی غیر کشمیری کو نہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوجی روز جہنم واصل ہورہے ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف کو کشمیر کا ہنگامہ دورہ کرنا پڑ گیا ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے لیے اب بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اس کی واضح مثال اس بھارتی فوجی کی بیوی کا بیان ہے جو میں نے آپکو سنا ہے ۔ اس وقت مودی نے کشمیر کے چپے چے پر آپریشن میں معاونت کے نام پر خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں ۔ ضلع پونچھ اور راجوڑی میں قابض بھارتی فورسز کا آپریشن مسلسل دس دنوں سے جاری ہے۔ بھارتی فوج ، پولیس ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، این آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو سمیت دیگرپیراملٹری فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین سب وہاں موجود ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف منوج نروانے بذات خود وہاں پہنچے ہیں ۔ پر مجاہدین تو دور کی بات ان کا کوئی سراغ تک نہیں مل رہا ہے ۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ شروع دن سے کشمیریوں نے کسی بھی کالے قانون کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ۔ اب دیکھا جائے تو افغانستان کے حالات کا ان پر بہت اثر ہوا ہے اور اب انھوں نے دہشت گرد بھارتی فورسز کے خلاف ویسی ہی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے جو طالبان نے مسلسل بیس سال تک امریکہ اور اسکے حواریوں کے خلاف کی ہے ۔ کرنی بھی چاہیئے کیونکہ کبھی انہیں کشمیر سے بے دخل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں تو کبھی کشمیریوں کو دوبارہ سے وادی کا شہری ثابت کرنے کے لئے کاغذات اکٹھے کرنے کا حکم دیا جاتاہے۔ اس وقت مودی سرکار نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل دے کر کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا خوفناک منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ یقینی طور پر اس پر کشمیریوں کو اشتعال تو آنا ہی تھا اس کا درعمل اب دیکھائی بھی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اپنی طاقت کے مطابق وہ جتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچا رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔ کشمیر میں ایک نئی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے ۔ کئی سیکٹرز میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے یہاں تک وہ پندرہ سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل کرچکے ہیں ۔ پھر کشمیری نوجوانوں نے غیر مقامی ہندووں کے خلاف کارروائی سے ایک پیغام دے دیا کہ کشمیریوں کواقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ روک دیا جائے۔ ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود مودی ہوگا ۔ مودی درعمل کے طور پر وہ ہی پرانے حربے استعمال کر رہا ہے ۔ کہ اس نے پورے بھارت کی مشینری کو وادی میں جھونک کر طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا کھیل شروع کر دیا ہے ۔ گزشتہ دس دنوں میں 1500سے زائد کشمیری جوانوں کو گرفتار جبکہ دس سے زائد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اب یہ طاقت کے زور پر انسانی ، مذہبی اور سیاسی حقوق پامال کر رہی ہے ۔ پر ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں اور حربوں سے نہ تو پہلے کشمیریوں کے جذبہ شوق شہادت ، جذبہ ایمانی اور آزادی کی خواہش کو دبایا جا سکا ہے نہ اب یہ کیا جاسکے گا ۔

    ۔ الٹا بھارتی فوج شدید ٹینشن کا شکار ہے کہ اب موجود بگڑتے حالات کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں بھی ان کو ایک اچھی خاصی تعداد میں فوجی وہاں پر رکھنے پڑیں گے ۔ جبکہ دوسری جانب لداخ اور ارونا چل پردیش میں چین ان کی خوب پٹائی کر رہا ہے ۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی خود کشیوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ لگاتار جاری ہے۔7
    اکتوبر کو ایک اہلکار نے ذہنی تناؤ کے باعث پھندے سے لگ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 16اکتوبر کو ضلع کپواڑہ میں ایک اوراہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ اس سے ایک روز قبل کپوارڑہ میں ہی ایک فوجی اہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر خودکشی کرلی تھی اس طرح ایک ہفتے کے دوران خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی ہے ۔ ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر تین دن میں ایک فوجی خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران گیارہ سو سے زائد جوانوں نے خود اپنی جان لے لی۔ لیکن اس ہفتے خودکشی کرنے والے قابض بھارتی اہلکاروں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کا ذمہ دار کشمیر میں موجودہ حالات کو کہا جا رہا ہے ۔ پر ایسا لگتا ہے کہ مودی کو بھارتی فوجیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس کے سر پر بس اگلا الیکشن سوار ہے ۔ ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حالانکہ فوجی قیادت ان خودکشیوں کو روکنے اور فوجیوں کو ذہنی دبا ئوسے نکالنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پھر ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہر سال سینکڑوں فوجی اہلکار جنگ کے بغیر ہی مارے جاتے ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے پست ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں ناکامی سب سے بڑا سبب ہے۔ ۔ کشمیری مجاہدین اور بھارت کی شمالی ریاستوں میں لڑائی کی باعث بھارتی فوج کا مورال گرچکا ہے۔ ۔ جو حالات بن رہے ہیں مجھے تو لگ رہا ہے کہ جیسے افغانستان میں تبدیلی آئی ہے ایسے جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی آئے گی اور انشااللہ ان کو بھی جلد آزادی نصیب ہو گی

  • بڑھتی ہوٸی مہنگاٸی کی چکی میں پستی ہوٸی غریب عوام تحریر:شمسہ بتول

    بڑھتی ہوٸی مہنگاٸی کی چکی میں پستی ہوٸی غریب عوام تحریر:شمسہ بتول

    یوں تو ہر دور میں ہی مہنگاٸی میں اضافی ہی ہوا ہے لیکن دور حاضر میں مہنگاٸی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے گۓ ہیں۔

    پہلے مہنگاٸی ایک مسٸلہ تھا مگر اب دن بہ دن یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لعنت کی شکل اختیار کرتی جا رہی یہ ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس سے صرف کمزور اور دیہاڑی دار طبقہ پستا جا رہا ہے ۔

     دنیا کے دیگر ممالک بھی اس مسٸلے سے دوچار ہیں مگر انکی پالیسیز ایسی ہیں کہ کسی بے روزگار بندے کو خودکشی نہیں کرنی پڑتی کوٸی ماں اپنے بچوں سمیت نہر میں چھلانگ نہیں لگا دیتی کہ وہ اس کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہی کیونکہ ان کے ہاں Unemployment Insurance Benefit پالیسی بہت بہتر طریقے سے کام کر رہی کہ جب تک آپ بے روزگار ہیں آپ کے اخراجات ریاست کے ذمہ ہیں یہ سسٹم ہمارے خلفاۓ راشدین کے دور میں تھا کہ جو اس قابل نہیں ہیں کہ ضروریات زندگی خرید سکیں انکو ریاست کی طرف سے راشن بھیجا جاتا اور انکی ضروریات پوری کی جاتی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے ان کی تعلیمات کو چھوڑ دیا اور غیروں نے انہیں اپنا لیا۔

    آج پورا ملک خطرناک Inflation کی زد میں ہے اگر اسے hyperinflation کہا جاۓ تو بے جا نہ ہو گا۔

    عالمی منڈی میں جب پیٹرول کی قیمت اوپر جاتی تو اس کے اثرات تمام ممالک پہ ہوتے لیکن ان ممالک کی کرنسی ہماری کرنسی کی نسبت زیادہ قدر رکھتی اور ان ممالک کے لوگوں کی فی کس آمدنی (Per Capita Income ) ہماری نسبت بہت بہتر ہے اس لیے انکی زندگیوں پہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے سے دیگر اشیاء کی قیمتوں میں جو اضافہ ہو گا اس کے اثرات کم ہونگے مگر ہمارے ہاں شخصی آمدنی بمشکل 12,000_10,000 روپے ہے اور حالیہ کچھ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ 10 روپے کے حساب سے کیا گیا ہے جس کے اثرات صرف فیول انڈسٹری پہ نہیں بلکہ پورے ملک پہ مرتب ہوۓ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کراۓ بڑھیں گے اب جو بندہ مہنیہ بھر کا کما ہی 12,000 روپے رہا ہو وہ روزانہRs.150 تک کرایہ دے کر مزدوری کرنے جاۓ گا تو پر بیوی بچوں کو کیا کھلاۓ گا وہ گھر کا کرایہ یا بل دے گا یا راشن خریدے گا ؟ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے گھی ، چینی اور دیگر اشیاۓ خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ گٸی اب ایک مزدور تو دو وقت کے لیے تو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری ہو گی تو وہ اپنے خاندان کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کیسے فراہم کرے گا ؟ اس بچے جو اس قوم کا مستقبل ہیں وہ تعلیم تک رساٸی حاصل نہیں کر پاٸیں گے نتیجتاً ہمارے نسل لا شعور اور اندھیروں میں رہے گی ۔اور جو زیادہ دلبرداشتہ ہونگے وہ خودکشی کی طرف چلیں جاٸیں گے ایسے واقعات سے ہمارامعاشرہ بھرا پڑا ہے مگر نا جانے کب ہمارے لیڈران اپنی ذاتیات سے باہر نکل کر عام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیز بناٸیں گے نہ جانے کب لاکھوں کی تنخواہ اور ضرورت سے زیادہ سرکاری مراعات لینے والے منسٹرز وطن عزیز کی ترقی کے لیے کام کریں گے نہ جانے کب ملکی فلاح و بہبود کے لیے بناٸیں جانے والے منصوبوں میں سیاستدان کرپشن نہیں کریں گے اور اس عوام کو ریلیف دیں گے۔

    ہمارے اوپر IMF کے قرضوں کا بوجھ ہے لیکن اس بوجھ کو کم کرنے کیلیے عوام پہ ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجاۓ اگر سرکاری افسران اور منسٹرز کو ملنے والی آساٸیشات میں کچھ کمی کر دی جاۓ تو اس طرح بھی بہت سے اخراجات کم کیے جا سکتےلیکن سارا بوجھ عوام پہ ڈالنےسے مساٸل مزید بڑھیں گے کیونکہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کہ باوجود بھی ابھی تک بیروزگار ہے وہ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں دن بہ دن ڈالر کی اونچی اڑان اور  عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوٸی قدر ہماری معیشت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی اگر وہ ہی کمزور ہو جاۓ یا تباہ حالی کا شکار ہو جاۓ تو اس ملک کی بنیادوں کو بھی کمزور کرنے لگتی ۔ ہمیں سنجیدگی سے اس مسٸلے پہ غور و فکر اور اس کے حل کیلیے مناسب اور Effective policies بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    @sbwords7

  • حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن پر کسی ملک کی حکومت کا نہ تو کوئی کنٹرول ہوتا ہے اور نہ بس چلتا ہے۔ مثلاً سونا۔ پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ تیل کمپنیاں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گیئں کہ ہم سے ادھار میں تیل لے لیں اور جب جی چاہے پیسے دے دیں۔ اس سہولت سے بہت سے ملکوں نے فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح وہ بھی دور تھا۔ جب پاکستان میں سونا 6 ہزار روپے تولہ بھی تھا۔ ڈالر 40 روپے کے برابر بھی پاکستان میں رہا ہے۔ مگر پچھلے چند سالوں سے یہ تینوں چیزیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ سونا تو اب ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اور متوسط اور غریب لوگوں نے سونے کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی کی شدید ترین لہر آ چکی ہے۔ اور پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔ اور اس مہنگائی کا شکار ہے وجہ اس کی سونے کی بڑھتی قیمت ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کا اوپر جانا ہو۔ ڈالر کی اڑان ہو۔ یا کرونا وائرس کے اثرات۔ مگر مہنگائی 90 درجے کے زاویے کے ساتھ اوپر جا رہی ہے۔ مہنگائی سے دنیا کے سبھی  ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ مگر پاکستان میں اس کا رونا پیٹنا سب سے زیادہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مہنگائی دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ تو دیگر ممالک میں زیادہ ردعمل کیوں نہیں دیکھا جارہا۔ اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے ان ممالک نے اپنے عوام کو سستی اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لئے سبسڈی دی ہے لوگوں کے دکھوں میں وہ حکومتیں شریک ہوئی ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔ انہوں نے اپنے اداروں کو مضبوط کر کے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن  لیے ہیں لوگوں کو براہ راست امداد فراہم کرکے ان کے معاشی مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔ ان ممالک نے اپوزیشن کو ساتھ ملا کر مشترکہ کوشش کر کے اپنے عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس طرح کا کوئی بھی اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر بھی ملے کہ حکومت اپنے عوام سے مخلص ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر تمام ملبہ ڈالر۔ سونے پٹرولیم۔ اور درآمدات پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور عوامی ریلیف سے منہ پھیر لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں جنگل کا قانون تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا جب جو جی چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اب تو روزانہ کی بنیاد پر من مانے ریٹ بڑھائے جا رہے ہیں۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ پاکستانی عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ حکومت کی ساری کی ساری توجہ اپوزیشن کو دبانے میں مرکوز ہے۔ بھرپور کوشش جاری ہے کہ کسی بھی طرح پانچ سال پورے کئے جائیں۔ ملک چاہے دس سال پیچھے چلا جائے اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ جب عوام سے توجہ ہٹ جائے اور معاملہ ذات کی طرف چلا جائے تو بربادی کا ایک طوفان آ تا ہے اور سب کو بہا لے جاتا ہے۔ عملی طور پر ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وزراء کے جاہلانہ بیانات نے اس حکومت کی غیر سنجیدگی کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ بات بڑے آ رام سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک میں حکومتی مہنگائی زیادہ اور دنیاوی مہنگائی کم ہے۔

    @joinwsharif7