Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت یا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ میچز کو بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نہ صرف دیکھتے ہیں۔ بلکے بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں کہ کب ان ٹیموں کے درمیان سیریز یا کسی بھی ایونٹس کے  میچز ہوں گے۔ خاص کر پاک بھارت کرکٹ میچ کا دونوں ہی ملکوں کی عوام کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کافی کشیدہ رہتے ہیں۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کرکٹ سیریز کافی عرصہ سے نہیں ہو پا رہی۔ اس وجہ سے بھی دونوں اطراف کی عوام کو بڑی بے چینی سے ورلڈ کپ یا کسی بھی آئی سی سی ایونٹس کا انتظار رہتا ہے جہاں دو روایتی حریف آپس میں مد مقابل ہوں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں چند دن باقی ہیں پاکستان کا پہلا مقابلہ24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت سےہونا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ میں بےقراری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی ٹیم کو خوب ڈیفنڈ کرتا نظر آ رہا ہے۔ جب بھی ٹی وی توڑنے اور پٹاخے پھوڑنے کی بازگشت شروع ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل مزاحیہ میمز اور تشہیری مہمات کا آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ میڈیا چینلز اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میچوں پر اشتہار بھی بنا چکے ہیں۔ جس میں سب سے سرفہرست ہے "موقع موقع” جو انڈین چینلز پر ہر آئی سی سی کے ایونٹس میں پاک بھارت کرکٹ میچ سے قبل چلایا جاتا ہے۔ ہر بار ایک نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ جسے انڈیا میں بڑی پذیرائی ملتی ہے۔اور پاکستانی عوام کا ردعمل کافی غصے والا ہوتا ہے۔ مگر کبھی کبھار یہی اشتہار انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بنے ہیں ۔ جیسے دسمبر 2012 میں انڈین چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جاتا تھا جس میں کہا جاتا تھا "پاکستان ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز کھیلنے آرہا ہے” تو اس اشتہار میں چند بھارتی کھلاڑی یہ کہتے ہوئے دیکھائی دیتے تھے "کہ آنے دو” ۔ جب اس سیریز کا آغاز ہوا تو انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی اپنی ہی سر زمین پر اپنے کراؤڈ کے سامنے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں پاکستان سے شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ پاکستانی باؤلرز نے  انڈیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی ایک نہ چلنے دی۔ اور پاکستانی بیٹسمینوں نے بھی خوب جم کر انڈین باؤلرز کی دھولائی کی۔ 

     اس میں کو شک نہیں کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں بھارت کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مگر چمپیئن ٹرافی 2017 میں بھی یہی صورتحال تھی پہلے میچ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس کی بعد پاکستانی ٹیم نے بقیہ میچز میں  اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اور فائنل میں ایک بار پھر مقابلہ آیا روایتی حریف بھارت کے ساتھ۔ مگر اس بار بھارت کو تاریخ ساز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ ٹیم کا وطن واپسی پر کراچی ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کا استقبال کرنے موجود تھے۔ کراچی ائیرپورٹ پر ہاتھ میں ٹرافی تھامے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے موقع موقع گا کر پاکستانی شائقین کے دل بھی جیت لیے تھے۔ مقابلے سے پہلے ہی لفظی مقابلے شروع ہو جاتےہیں جو کافی انٹرسٹڈ ہوتے ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستانی ٹیم کافی پر اعتماد لگ رہی ہے۔ مگر اس سے پہلے تو ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کو شکست کا سامنا رہا ہے۔ انشاء اللہ اس بار امید کر سکتے ہیں کہ پاکستان روایت کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ 

     یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے کافی سازگار رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان یو اے ای میں  بہت ساری اپنی ہوم سیریز کھیل چکا ہے۔  جس سے  کنڈیشنز  کی واقفیت پاکستان کے لیے پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو اس بار بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ دل اور ٹی وی سرحد کے کس پار ٹوٹیں گے۔ اکثر اوقات پاکستان اور انڈیا کے میچز کے بعد سڑکوں اور چوکوں پر سرحد کی ایک طرف جیتنے والی ٹیم کے فینز جشن منا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہارنے والی ٹیم کے شائقین ٹی وی توڑ کر غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ میری طرح ہر پاکستانی اس بار ٹیم پر کافی امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر پاکستانی کی یہی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ خاص کر انڈیا سے۔ ۔ ۔

    Follow on Twitter@786Rajanaeem

  • مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    @Itx_Wahab123

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس وقت شدید مہنگائی کے اثرات نظر آ رہے ہیں. اس وقت دنیا میں بھر میں پٹرول اور دوسری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جو کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں. پٹرول کے حوالے سے روسی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک آئندہ دنوں تک پہنچ سکتی ہے. اس بات سے واضح ہے کہ آئندہ دنوں میں جب عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت بڑھ جائے گی. اور اسی کے ساتھ مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا. اسی سلسلے میں وفاقی وزارت خزانہ نے بھی کل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر قیمتوں میں استحکام نہیں آتا تب تک مختلف اشیاء میں اضافہ ہو سکتا ہے. اگر پٹرول کو دیکھا جائے تو پیچھلے ایک سال میں عالمی سطح پر 100٪ سے بھی زائد اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے. تاہم حکومت پاکستان نے لیوی ٹیکس میں بہت کمی کی ہے لیکن پھر بھی حکومت پٹرول میں اصافہ کرنے پر مجبور ہے. تاہم وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت کم ہو جائے تو ہم بھی قیمت کم کر دے گے.

    دوسری جانب کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں فوڈ چین بھی بری طرح سے متاثر ہے جس کے باعث مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے. اس کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے. ایک نجی نیوز چینل پر حکومتی راہنما میاں فرخ حبیب نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت عوام کو یوٹیلیٹی اسٹور پر سستی اشیاء فراہم کرے گی، اور اس سال دسمبر تک پنجاب تمام آبادی کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت مل جائے گی جس سے کوئی بھی شخص ایک سال میں 10 لاکھ تک کا مفت علاج کروا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو جس حد تک ہو سکے ہم مہنگائی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    یہاں میں آپ کو بتاتا چلو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سب سے زیادہ متاثر میڈل کلاس طبقہ اور فیکس تنخواہیں لینے والے لوگ ہوتے ہیں، جن کا اپنا کاروبار ہے یا جو لوگ مزدوری کرتے ہیں وہ لوگ تو حالات کے مطابق اپنی مزدوری اور چیزوں کے ریٹ بڑھا دیتے ہیں اس لیے یہ ڈائرکٹ خود کو اچانک آنے والی مہنگائی سے بچا لیتے ہیں لیکن جن کی تنخواہیں فیکس ہوتی ہیں ان کے لیے مہنگائی پریشانی کا باعث بنتی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے اثرات سے میڈل کلاس کا خیال رکھا جائے.

    اگر پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان نظر آئے تو مقامی طور پر پیدا ہونے والی اور باہر سے درآمد ہونے والی اشیا دونوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اور اس وقت پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے باہر سے درآمد ہونے والی اشیا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے. کوکنگ آئل پاکستان میں مکمل طور پر باہر سے درآمد ہو کر آتا ہے جس کی قیمت پیچھلے ادوار میں 500 ڈالر فی ٹن تھی لیکن اب وہی قیمت 1300 ڈالر فی ٹن تک پہنچ چکی ہے اس وجہ سے کوکنگ آئل کی فی کلو قیمت 160 سے بڑھ کر 320 سے 330 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، اگر یہی کوکنگ آئل پاکستان خود بنانے میں خود کفیل ہو جائے تو اس کی قیمتوں میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے اس کے لیے حکومت نے بیچ خرید کر کاشتکاری شروع کی ہے سننے میں آ رہا ہے کہ 2024 تک پاکستان مکمل طور پر کوکنگ آئل مقامی سطح پر بنانے میں خود کفیل ہو جائے گا.

    تاہم ابھی جب تک دنیا بھر میں کرونا کی وجہ سے حالات معمول پر نہیں آتے اور مختلف اشیاء کی قیمتوں میں عالمی سطح پر استحکام دیکھنے میں نہیں آتا تب تک پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ حالات جلدی ٹھیک ہو جائے گے۔

    اختتام پزیر۔

  • یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان.   تحریر: احسان الحق

    یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان. تحریر: احسان الحق

    آج سے 70 برس قبل کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان کے اولین وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا. 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت علی خان ایک جم غفیر سے خطاب کر رہے تھے جب ان کو دو گولیاں ماری گئیں. آپ شدید زخمی ہو گئے، اکتوبر 1895 میں پیدا ہونے والے نواب لیاقت علی خان اکتوبر میں ہی 1951 کو 56 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے.

    قاتل کو موقع پر ہی پولیس نے مار دیا. حالانکہ قاتل کو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر پولیس اہلکار انسپکٹر محمد شاہ نے پستول سے یکے بعد دیگرے وار کرتے ہوئے قاتل کو موقع پر ہلاک کر دیا. سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ محمد ابرار نے گولیاں چلانے والے اہلکار محمد شاہ سے پستول چھین لیا.

    قتل کے تقریباً 9 دن بعد 25 اکتوبر 1951 کو حکومت پاکستان نے تحقیقات کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا. جس کی سربراہی فیڈرل کورٹ کے جج جسٹس محمد منیر کر رہے تھے اور ساتھ پنجاب کے مالیاتی کمشنر اختر حسین تھے. ہم یہی سمجھتے ہیں کہ حکومت نے شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کی انکوائری کرنے، قتل کی سازش رچانے اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لئے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا، مگر ایسا نہیں تھا. تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر کہا گیا کہ غلفت کے مرتکب مجرم افسران کا پتہ لگاؤ کہ کس طرح سیکورٹی کے ناقص انتظامات تھے، کس نے یہ انتظامات کئے، سیکورٹی میں کیا کیا نقص تھے، کون کون اور کس طریقے سے غفلت کا مرتکب ہوا وغیرہ وغیرہ. شہادت کے پیچھے چھپے رازوں اور قاتلوں کو ڈھونڈنے کی بجائے ہمارے ادارے اور پولیس والے اپنی اپنی صفائی دینے میں مصروف ہو گئے کہ ہم غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے. اس تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ 17 اگست 1952 کو پیش کی. چونکہ اس کمیشن کا مقصد یہ نہیں تھا کہ قتل کے پیچھے محرکات اور کرداروں کا سراغ لگایا جائے، اس لئے بیگم رعنا لیاقت اور قوم نے یہ رپورٹ مسترد کر دی.

    وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات پاکستان کے انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز الدین بھی کر رہے تھے. 26 اگست 1952 کو وہ ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی سے پشاور جا رہے تھے، ان کے ہمراہ تحقیقاتی رپورٹ بھی تھیں جس میں اہم شواہد موجود تھے. طیارہ جب کھیوڑہ کے مقام پر پہنچا تو حادثے کا شکار ہو گیا. انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ اہم شواہد بھی جل کر راکھ ہو گئے.

    دباؤ بڑھنے کی وجہ سے حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے یورین کی خدمات بھی حاصل کیں، جس نے حکومت سے تحقیقات کرنے کے بدلے 10 ہزار پاؤنڈ اجرت لی. یورین نے 28 نومبر 1954 سے 16 جون 1955 تک لیاقت علی خان قتل کی تفتیش کی. 25 جون 1955 کو یورین نے اپنی تحقیقاتی اور تفتیشی رپورٹ پیش کی جس میں اس نے کہا کہ قاتل کا قتل کرنے والا ذاتی فعل تھا.

    دریں اثناء محکمہ پولیس نے سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ ابرار احمد کو قتل کی تفتیش پر لگا دیا. یہ وہی شیخ ابرار ہیں جو جلسہ گاہ میں موجود تھے. انہوں نے پولیس اہلکار سے پستول چھینا تھا جو قاتل سید اکبر کو گولیاں مار رہا تھا. شیخ ابرار نے خود نوشت سوانح "نقوش زندگی” میں اس تفتیش کا ذکر تفصیل سے کیا ہے. شیخ ابرار نے بھی قتل کی وجہ قاتل کا ذاتی فعل قرار دیا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان کے قاتل کے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کا نام سید اکبر خان ولد ببرک خان تھا، اکبر نے اپنے بھائی زمرک کے ساتھ ملکر 1944 میں افغان حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کیا. سرکاری فورسز سے شکست کھانے کے بعد دونوں بھائی ادھر ادھر بھٹکتے رہے اور آخر کار دونوں نے خود کو برطانوی فرنٹیر کور کے سامنے پیش کر دیا. دونوں کو ایبٹ آباد میں نظر بند کر دیا گیا اور تنخواہ مقرر کر دی گئی کیوں کہ دونوں بھائی برطانیہ کے لئے اجرت پر کام کرنے لگ گئے. یاد رہے اس وقت ایبٹ آباد برطانوی ہندوستان کا ایبٹ آباد تھا. پاکستان کے مطابق سید اکبر افغانی تھا، وہ افغانستان سے یبٹ آباد آیا، کچھ دن قیام کرنے کے بعد وہ ایبٹ آباد سے راولپنڈی پہنچا.

    وینکٹ رامانی اپنی کتاب "پاکستان میں امریکہ کا کردار” میں لکھتے ہیں کہ امریکی صدر ہنری ٹرومین کو امریکی عوام اور کانگریس سے شدید مذمت اور دباؤ کا سامنا تھا. کیوں کہ کوریا میں امریکیوں کو سخت پریشانی کا سامنا تھا. امریکی عوام سمجھتے تھے کہ کوریا میں امریکی ہلاکتوں کی ذمہ دار ٹرومین حکومت ہے. کوریا جنگ میں پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن نے پاکستان میں امریکی سفیر ایورا وارن کو کچھ انتہائی اہم اور پوشید ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملاقات کرنے کو کہا.

    11 مئی 1951 کو امریکی سفیر نے لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور کوریا جنگ میں ٹھوس مدد کرنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ تعاون نہیں کرتے تو پھر اس کے نتیجے میں اجتماعی سلامتی کا نظام ختم ہو سکتا ہے. پاکستان سیمت تمام نئے یا ترقی پزیر ممالک کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے پیش قدمی یا کسی قسم کی جارحیت کے دفاع کے لئے اقوام متحدہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے. یہ واضح طور پر یا ممکنہ طور پر سفیر کا دھمکی آمیز انداز تھا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان ایک زیرک سیاست دان اور محب وطن حکمراں تھے. وہ تمام بات سننے کے بعد فرمانے لگے کہ اگر پاکستان کوریا کی جنگی مہم میں امریکہ کا ساتھ دے تو کیا

    1: امریکہ مسئلہ کشمیر حل کروائے گا؟

    2: نہرو مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کروانے کا سوچ رہے ہیں، کیا امریکہ انتخابات رکوا پائے گا؟

    3: افغانی حکومت اور کچھ افغان نواز اور قوم پرست قبائل پختونستان مہم چلائے ہوئے ہیں، کیا امریکہ پختونستان کے شوشہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا؟

    یہ وہ چیدہ چیدہ شرائط تھیں جو وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکی سفیر ایورا وارن کے سامنے رکھیں. لیاقت علی خان جانتے تھے کہ یہی موقع ہے امریکہ سے شرائط کی صورت میں اپنے مطالبات منوانے کا. امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن لیاقت علی خان سے یہی امید رکھتے تھے، اسی لئے سفیر ایورا وارن کو پیشگی سمجھا دیا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف سے ایسی شرائط رکھی جائیں تو صاف صاف انکار کر دینا. توقع کے مطابق لیاقت علی خان نے وہی شرائط رکھ دیں اور ایورا وارن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایسا کرنے سے مسائل جنم لیں گے.

    کچھ برس قبل امریکہ کے نیشنل آرکائیو ڈیپارٹمنٹ نے کچھ دستاویزات کو عوام کی پہنچ میں لاتے ہوئے پبلک کیں ان میں سے ایک ایسا ٹیلی گرام بھی ملا جس کی مدد سے لیاقت علی خان کے قتل کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے. 7 ستمبر 1951 امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کو ایک مراسلہ روانہ کیا گیا جس کے مطابق اسی شام مطلب 7 ستمبر 1951 کو وزیر خزانہ غلام محمد نے امریکی سفیر سے چائے پر ملاقات کی اور سفیر سے درخواست کی کہ وہ مندرجہ ذیل پیغام امریکی وزیر خارجہ تک پہنچائیں.

    "اگلے ہفتے ظفراللہ امریکہ آ رہے ہیں، مہربانی کرکے آپ ان سے مل لیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنے گھر پر ملاقات کا وقت نکالیں گے. اور گزارش کی جاتی ہے کہ آپ ظفراللہ کو ٹرومین سے بھی ملوا دیں گے”. خفیہ ٹیلی گرام کے مطابق غلام محمد کہتے ہیں کہ وہ دسمبر میں تین ہفتوں کے لئے امریکہ آنا چاہتے ہیں اور آپ سے تفصیلی بات چیت کرنے کے خواہاں ہیں. سفیر نے اپنے مراسلے میں مزید لکھا کہ غلام محمد نے کہا کہ میں پاکستان اور مسلم دنیا کو کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لئے منظم کرنے کا مقصد رکھتا ہوں. میں اور میرے دو رفیق خاص بھارت کے ساتھ جنگ نہیں ہونے دیں گے. ایک ملک کا وزیر خزانہ ایک سفیر سے اس طرح کی باتیں اور امریکی وزیر خارجہ کے لئے اہم ترین پیغام کیوں بھجوا رہا تھا، قوی امکان ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ 27 جولائی 1951 کو عوام کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھارت کے لئے مکا لہرایا تھا. اس مکے نے بھارت میں تشویش اور پریشانی پیدا کر دی تھی، ہو سکتا ہے حالات معمول پر لانے اور بہتر کرنے کے لئے غلام محمد نے یہ کہا ہو کہ وہ کبھی بھی بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ نہیں ہونے دیں گے. اس ملاقات اور بیان کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ غلام محمد ان دنوں علیل تھے اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے تھے، ان دنوں یہ خبر تھی کہ وزیراعظم لیاقت علی خان غلام محمد اور گورمانی کو ان کے عہدوں سے ہٹانے والے ہیں. لیاقت علی خان سردار عبدالرب نشتر کو نائب وزیراعظم اور نواب محمد اسماعیل کو پنجاب کا گورنر بنانے والے ہیں.

    امریکی سفیر سے غلام محمد کی ملاقات 7 ستمبر کو ہوئی، اس ملاقات سے 12 دن قبل مطلب 25 اگست 1951 کو لیاقت علی خان امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کے نام خط لکھ کر پاکستان کے لئے فوجی اور دفاعی سازوسامان کی درخواست کر چکے تھے. اس اہم خط کو ڈاک کے ذریعے بھیجنا مناسب نہ سمجھا گیا بلکہ اس خط کو سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ کے ہاتھ بھیجنا زیادہ محفوظ اور مناسب سمجھا گیا. جو خط کچھ دنوں میں پہنچ جانا چاہئے تھا مگر وہ خط پہنچا 18 اکتوبر کو. لیاقت علی خان کی شہادت کے دو دن بعد وہ خط امریکی وزیر خارجہ تک پہنچایا گیا. 

    بھوپال سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ "ندیم” نے ایک مضمون لکھا جس کے مطابق برطانیہ اور امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایران مسئلہ پر تعاون کریں. امریکہ نے دباؤ ڈالتے ہوئے پاکستان کو کہا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو کہیں کہ وہ تیل کے کنوئیں امریکہ کے حوالے کر دے. لیاقت علی خان نے واضح انداز میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا. جس کے ردعمل کے طور پر امریکہ نے دھمکی دی وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا. لیاقت علی خان نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت آدھا کشمیر لے لیا ہے اور باقی ماندہ بھی لے لیں گے، آپ اپنا تعاون اپنے پاس رکھیں. اس ساری صورتحال کے بعد امریکہ نے پاکستان میں کسی سہولت کار کی تلاش شروع کر دی. امریکہ کو پاکستان سے کوئی سہولت کار یا ایسا بندہ نہ مل سکا تو اس نے افغانستان سے رابطہ کیا.امریکہ نے پشتون راہنماؤں سے رابطہ کیا جو پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے اور پختونستان بنانا چاہتے تھے.

    روزنامہ ندیم کے مطابق امریکہ نے کابل میں اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا. سفارتخانے نے پاکستان مخالف پشتونوں سے رابطہ کیا جو پختونستان بنانا چاہتے تھے. امریکا نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ لیاقت علی خان کو قتل کر دیں تو 1952 تک پختونستان بن جائے گا. مختصر، سید اکبر خان کو لیاقت علی خان کے قتل کے لئے تیار کرکے اس کی تربیت شروع کی دی گئی. افغانستان سے اس کو ایبٹ آباد پہنچایا گیا، وہاں سے وہ راولپنڈی آیا. وہاں اس نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو دوران تقریر سینے پر دو گولیاں ماریں جن سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انتقال فرما گئے.  لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو مخصوص قسم کے کارتوس ملے وہ صرف امریکی فوج کے اعلی اور خفیہ لوگ استعمال کرتے تھے. اس وقت ایسے کارتوسوں کا عام مارکیٹ میں ملنا ناممکن تھا. ندیم کے مضمون کے مطابق جب گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی خبر دی اور تعزیت کی تو اس سے 3 سے 4 منٹ پہلے امریکی سفیر وارن بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی اطلاع دے چکا تھا. ان تمام عوامل اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے.

    30 اکتوبر کو روزنامہ ندیم کے اس مضمون کی نقل بھارت نے خفیہ طریقے سے کراچی میں امریکی سفارتخانے کو بھیج دی. سفارت خانے نے اگلے روز یعنی 31 اکتوبر کو امریکی وزارت خارجہ کو یہ کہتے ہوئے مضمون کی نقل ارسال کی کہ وہ دہلی سفارت خانے کو ہدایات دیں کہ اس مضمون کو نظرانداز کر دیا جائے کیوں کہ اس میں متن خودساختہ ہے اور اس اخبار کو اتنی اہمیت نہ دی جائے.

    بیگم رعنا لیاقت علی خان کو خاموش کروانے کے لئے ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا گیا. ہالینڈ میں انہوں نے اپنے شوہر وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل پر 6 سوال پوچھے.

    16 اکتوبر 1954 کو انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں کچھ سوالات پوچھے جو انھوں نے ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ سے جاری کیا تھا۔

    انھوں نے مندرجہ ذیل چھ سوالات اٹھائے تھے:

    ۱: ایسے موقع پر جب لیاقت علی خان ایک اہم بیان دینے والے تھے اور لیاقت علی خان اپنی مقبولیت اور شہرت کی انتہاء پر تھے، اسی وقت انکو کیوں قتل کردیا گیا؟

    ۲: قاتل کو بے بس ہو چکا تھا، اسکو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر موقع پر کیوں قتل کر دیا گیا؟

    ۳:  قاتل کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کو سزا دینے کی بجائے ترقی کیوں دی گئی؟

    ۴: ملک میں کچھ اہم اور طاقتور لوگ کیوں لیاقت علی خان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے؟

    ۵: قائداعظمؒ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ناموں کو بعض اہم معاملات میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

    ۶: ان سب سوالوں کے جواب کیوں نہیں دئیے جا رہے؟

    راقم الحروف کا ذاتی خیال ہے کہ اگر امریکی خفیہ دستاویزات اور اردو روزنامہ "ندیم” کے مضمون کو درست مان لیا جائے تو قاتل اور قتل کی سازش رچانے والوں اور پاکستان میں مبینہ طور پر غفلت برتنے والوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے.

    @mian_ihsaan

  • سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    دنیا میں سوئس کینال راہداری کے بعد پاک چین راہداری یا  سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہے سوئس راہ داری ترکی کے کنٹرول میں ہے جو کہ براعظم ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتی ہے مگر ادھر سب سے اہم سوال ایک پیدا ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبے پر اربوں ڈالر لگانے والے چین کو کیا ملے گا اس کو سی پیک سے کتنا فائدہ ہوگا سی پیک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے شروع ہوتا ہوا چائنا جاتا ہے سی پیک صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ چائنا کی بقا کا بھی مسئلہ ہے چین اپنی اشیاء کی خرید وفروخت اور تیل کی خرید و فروخت کے لیے جو راستہ سی پیک سے پہلے استعمال کرتا ہے وہ راستہ آبنائے ملاقا کا سے ہو کر گزرتا ہے جنوبی چین کے سمندری راستے جہاں فلپائن ویتنام جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں ان تینوں ملکوں کا یہ کہنا ہے اور ماننا ہے کہ جنوبی چین میں جو سمندر لگتا ہے وہ ہماری ملکیت ہے اس میں کچھ حصہ فلپائن کے قبضے میں ہے کچھ ویت نام کے قبضہ میں اور ایک بڑے حصے پر جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے یہ سمندر جس کو آبنائے ملاکا کے نام سے دنیا جانتی ہے اور اسی آبنائے سے چین کی سب سے بڑی تجارتی سپلائی لائن گزرتی ہے اب یہاں پر ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں ہی ملک یعنی کے جاپان ویتنام اور فلپائن ان تینوں کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکا کے ساتھ اتحادی بھی ہے یہی وجہ ہے کہ چین ان تینوں ملکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے چین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی جنگ کی صورت میں یہ سپلائی لائن بہت آسانی سے بند کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ سپلائی لائن ان تین ملکوں کے ساحل سے ہوکر گزرتی ہے اس کے برعکس اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو سی پیک سے پہلے پاکستان کے پاس بھی اسی طرح کی تجارتی سپلائی کے لیے ایک ہی راستہ موجود تھا جو کہ کراچی میں ہے انہی مشترکہ اہداف کی وجہ سے چین اور پاکستان نے چین-پاکستان راہداری منصوبے  پر کام کرنا شروع کیا جس کا نام  سی پیک رکھا کیا اور اس منصوبے کے ساتھ ہی چین کا سب سے بڑا مسئلہ گرم پانی کا وہ بھی حل ہوگیا یا اب چین بلا خوف و خطرگرم پانی اپنے ملک لے جا سکتا ہے اور استعمال کر سکتا ہے سی پیک میں اتنا زیادہ دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چین اپنے علاقوں کو ایک ساتھ ترقی دینا چاہتا تھا کیونکہ مشرقی چین دنیا بھر کی ہر سہولت سے آراستہ ہے وہی مغربی چین کی بہت ساری ریاستوں میں غربت نے اب بھی ہندوستان کی طرح ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اپنی ریاستوں کو ترقی دینے کے لیے چین سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے کیونکہ یہی وہ منصوبے ہیں جن پر کام کر کے  چین ان علاقوں سے غربت کو ختم کر سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی مغربی چین ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا تو چین ترقی یافتہ ملکوں کی دوڑ میں پہلے نمبر پر آ جائے گا یو اس کا دنیا پر حکمرانی کرنے کا خواب اور سپرپاور سٹیٹس حاصل کرنے کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے یہاں پر وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کیوں کہ ہندوستان اس خطے میں پہلے ہی بہت بدامنی پھیلا چکا ہے اور ایک سائیڈ پر وہ چائنا اور دوسری طرف وہ پاکستان کے خلاف زہریلے بیان جاری کرتا رہتا ہے اور اکثر رات کی تاریخی میں چھپ کر وار بھی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور چین کا یہ منصوبہ سی پیک اور  ون بیلٹ ون روڈ اس کا سب سے بڑا مخالف بھی ہندوستان اور امریکہ ہیں جبکہ چین یہ سب چیزوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس نے مخالفین کے منہ بند کرنے کے لئے اپنے ساتھ روس اور ترکی جیسے ملکوں کو بھی شامل کرلیا ہے کیوں کہ سی پیک  چین سے شروع ہو کے پاکستان سے ہوتا ہوا گوادر بندرگاہ تک جاتا ہے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جو کہ چین کی مغربی ریاستوں سے شروع ہوکر پاکستان ایران اور ترکی سے ہوتا ہوا یورپ تک جاتا ہے ون بیلٹ ون روڈ سے پاکستان اور چائنا باآسانی اپنی مصنوعات کو یورپ کے بازاروں میں فروخت کر سکتے ہیں جہاں پاکستان کو سی پیک سے بہت زیادہ فائدہ ہوگا وہاں پے اس کے کچھ منفی اثرات بھی  ہے جس میں چائنا کا بلا ججھک پاکستان کے اندر انٹر  ہونا ایران اور ترکی تک پاکستان سے روڈ کا جانا کیونکہ کہ ایران سے کافی زیادہ دہشتگرد پاکستان میں آ سکتے ہیں اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ یہ دونوں منصوبے پاکستان کو کس طرح اور کتنا فائدہ دیتے ہیں

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his  

     Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟   تحریر: حماد خان

    چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟ تحریر: حماد خان

    جب چین کو آزادی ملی تو یہ ایشیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔بہت سے یورپی اور مغربی ممالک اس وقت چین کو ایک ملک بھی نہیں سمجھتے تھے. لیکن اب پچھلے ستر سالوں میں چین دولت اور فوج دونوں کے لحاظ سے ایک عالمی سپر پاور بن کر ابھرا ہے. چین اس مختصر وقت میں یہ کیسے کر پایا۔ آئیے اس مضمون میں دیکھیں.

    1987 میں چین کی فی کس جی ڈی پی 155 ڈالر تھی جو 2014 میں بڑھ کر 7590 ڈالر ہو گئی۔

    چینی معیشت پر ایک نظر, 

    چین دنیا کے 80 فیصد ایئر کنڈیشنر ، 70 فیصد موبائل فون ، 60 فیصد جوتے ، 74 فیصد سولر سیل ، 60 فیصد سیمنٹ ، 45 فیصد جہاز اور 50 فیصد سٹیل تیار کرتا ہے۔

    23.25 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ ، چینی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھری ہے۔ 2.2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ، چینی معیشت امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا نمبر ایک برآمد کنندہ بن گئی. 

    چین اپنی زمین پر 60 فیصد برانڈڈ لگژری سامان تیار کرتا ہے ، اس طرح اس تصور کو مسترد کرتا ہے کہ وہ صرف سستا سامان تیار کرتا ہے۔

    بڑے پیمانے پر پیداوار اور ڈمپنگ۔

    چینی معاشی اصلاحات نے ان کی پیداوار کو اتنے بڑے پیمانے پر بڑھانے میں مدد کی ہے کہ اس کی پیداواری لاگت بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا گھر بن گیا ہے۔چینی صنعت کار اپنے وسائل اور توانائی کو جدت میں ضائع نہیں کرتے۔

    اس کے بجائے ، وہ ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کاپی کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات خود بنانا شروع کردیتے ہیں۔

    یہ ان کے اخراجات اور وسائل کو جدت ، R&D ، اور IPR پر بچاتا ہے۔چینی لیبر انتہائی پیداواری ہے. چینی حکومت نے صنعتوں کے ساتھ مل کر لیبر فورس کی مہارت کی ترقی پر کام کیا۔

    اس کے نتیجے میں چینی مزدوروں کی پیداوار ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ، ہندوستان میں ، ہنر کی ترقی اتنی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، زیادہ سے زیادہ لیبر فورس یا تو غیر پیداواری یا کم پیداواری ہے۔

    ہندوستانی مزدور ایک گھنٹے میں 10 موبائل بناتا ہے ، جبکہ چینی مزدور ایک گھنٹے میں 50 موبائل بناتا ہے. گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ، چین دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کے لیے پہلی پسند بن گیا ہے۔

    اس کے برعکس ، بھارت نے ابھی مینوفیکچرنگ کلسٹر قائم کرنا شروع کیا ہے جس میں تجربہ کار ہنر مند مزدور پیدا کرنے میں وقت لگے گا ، جبکہ یہ چین کے ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    سیاسی استحکام مینوفیکچرنگ کی ایک مقبول منزل کے طور پر چین کے ابھرنے کی بنیادی وجہ ہے۔

    چین اپنے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھارت کے مقابلے میں عالمی شراکت دار کے لیے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں ، بیوروکریٹک ریڈ ٹیپزم کی وجہ سے ، کاروبار شروع کرنے کے لیے کلیئرنس حاصل کرنے میں زیادہ وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھارت آنے سے گریزاں ہیں. چین معاشی سپر پاور بننے کے پیچھے سب سے اہم عنصر اس کے تعلیمی نظام کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    چین نے تعلیم کو مزید عالمی اور عملی بنا کر بڑی اصلاحات لائی ہیں۔

    دوسری طرف ، ہندوستانی تعلیمی نظام اب بھی اس کے گرد گھوم رہا ہے جسے برطانوی میراث کہا جاتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں ، چین میں ہندوستان کے مقابلے میں شرح خواندگی زیادہ ہے اور وہ ہندوستان کے مقابلے میں ہر سال گریجویٹس کی زیادہ تعداد پیدا کرتا ہے۔

    . صنعتی نیٹ ورک کلسٹرنگ۔

    چین نے مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے صنعتی کلسٹروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

    انہوں نے سپلائی چین شہروں اور کلسٹروں کو ایک ہی جگہ پر پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

    مثال کے طور پر

    – موبائل فون بنانے کے لیے ، انہوں نے کلسٹر تیار کیے ہیں جہاں موبائل فون کے ہر حصے کو ایک ہی جگہ پر تیار کیا جاتا ہے۔

    بجلی کی لاگت

    چین میں ، بجلی بہت کم قیمت پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہے ، جبکہ انڈیا میں صنعتی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے.

    ایک نتیجے کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چینی حکومت کے بہتر انتظام کی وجہ سے ، چینی رہنماؤں کی بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے چین خطے میں معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا۔ پاکستانی رہنماؤں کو اپنے چینی ہم منصبوں سے کچھ سبق لینا چاہیے تاکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اسی طرح کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے. 

  • پاکستان کے مسائل  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کے مسائل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    یوں تو جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے،ہر وقت کسی نہ کسی طرح کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔

    پاکستان بننے کے بعد یہ مسائل کم تھے۔

    مگر آہستہ آہستہ ان میں آنے والے کرپٹ حکمرانوں کی بدولت اضافہ ہوتا گیا۔

    جو حکمران بھی آیا،

    اُس نے لوٹ مار پر زیادہ فوکس کیا اور یہ مسائل انبار کی شکل اختیار کرتے گئے۔

    کسی نے بھی ان مسائل پر توجہ نہیں دی۔

    جو بھی آیا اُس نے اپنی تجوریاں تو خوب بھریں مگر ملکی خزانہ خالی ہوتا گیا۔

    پی ٹی آئ کی موجودہ حکومت اسی وجہ سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے کہ اسے ملنے والی حکومت ماضی کے حکمرانوں کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھی۔حکومت ملتے ہی وزیر اعظم 

    عمران خان کو قرضوں کی ادائیگی کی ایمرجنسی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوست ممالک کے ہنگامی دورے کرنے پڑے۔

    عمران خان کی تگ و دو سے ملک فوری طور پر دیوالیہ ہونے سے تو بچ گیا مگر ان مسائل سے نبٹنا اب بھی اس حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

    موجودہ حکومت جن مسائل کا اس وقت سامنا کر رہی ہے،

    اُن میں مہنگائ سرفہرست ہے

    مہنگائ کی موجودہ ہوش رُبا لہر حکومت کے گلے پڑے ہوئ ہے۔

    اس مہنگائ میں موجودہ حکومت کا کردار کتنا ہے؟

    یہ غور طلب بات ہے

    مہنگائ کے ضمن میں سب سے پہلی وجہ تو کرونا کے بعد پوری دنیا میں چیزوں کا مہنگا ہو جانا شامل ہے۔

    برطانیہ،کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے آپ کو اس صورتحال سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔

    تیل کی بڑھتی قیمتوں نے خاص طور پر دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

    تیل کی قیمت بڑھنے سے ہرچیز پر اثر پڑتا ہے۔برطانیہ جیسے ملک میں اس بحران کی وجہ سے انہیں فوج طلب کرنا پڑی تاکہ پٹرول پمپس پر تیل کے حصول میں لگی لمبی لائنوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    اس وقت کئی یورپی ممالک میں مہنگائ اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    اگر ترقی یافتہ ممالک کا یہ حال ہے تو بھلا پاکستان اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟

    جہاں لوٹ مار سے خزانہ پہلے ہی خالی ہے اوپر سے ماضی کے حکمرانوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کی واپسی کے لئے مزید قرضوں کا حصول 

    یک نہ شُد،دو شُد والی بات ہے۔

    مہنگائ کی بین الاقوامی وجوہات اپنی جگہ،

    ماضی کے حکمرانوں کی عیاشیوں کی بدولت ملکی معیشت کی تباہ حالی اپنی جگہ

    مگر موجودہ حکومت نے مہنگائ کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی طرف سے بھی کچھ خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھاۓ۔

    اکثر وزرا مُشرا رام لیلی کی کہانی ٹیلی وژن پر آکر سناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سرخرو ہو گئے۔

    ایسا قطعا” نہیں،

    عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کم ازکم مصنوعی مہنگائ کا توڑ تو کیا جاۓ؟

    کم ازکم اُن مافیاز کو تولگام ڈالی جاۓ،

    جو جان بوجھ کر چیزوں کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اس خود ساختہ مہنگائ سے موجودہ حکومت کی ساکھ خراب ہو اور ماضی کے چوروں کو ایکبار پھر واپسی کا موقع مل سکے۔

    یہ مافیاز درپردہ انہیں سابق حکمرانوں کے اشارے پر چلتے ہیں،

    انکی ڈوریاں وہیں سے ہلائ جاتی ہیں۔

    یہ سب لوگ اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں،

    جو مل کے لوٹ مار کرتا تھا ،

    مل کے بندر بانٹ کرتا تھا اور پھر اقرار بھی کرتا تھا کہ کھاتا ہے تو کھلاتا بھی ہے۔

    حکومت ان سب باتوں کے باوجود اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

    زخیرہ اندوزوں اور چوربازاری کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا بہت زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملکی معیشت کے مثبت اعشاریے مہنگائ کی اس لہرکی وجہ سے ماند نظر آتے ہیں۔

    اس مہنگائ کو کم کرنے کے لئے حکومت کو ہی کچھ کرنا ہو گا۔

    کسی غیبی امداد کا منتظر رہنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔

    کالم لکھنے کے دوران ہی پتہ چلا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں ایکبار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

    یہ اضافہ بے شک تیل کی قیمت میں بین الاقوامی طور پر ہونے والے اضافے ہی کا شاخسانہ ہے۔

    مگر یہ اضافہ عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثرکر رہا ہے،

    حکومت کو پٹرولیم مصنوعات میں مزیدسبسڈی دینے کے لئے کوئ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    اگرچہ ایک مقروض ملک کے لئے یہ آسان ہرگز نہیں مگر کبھی کبھار عوام کی خاطر کچھ کڑوے گھونٹ پی لینے میں کوئ مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

    خطے میں اب بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں۔

    مگر یہ مفروضہ عوام کے دُکھوں کا مداوا ہر گز نہیں۔

    ان مشکل حالات میں عوام کو بھی حکومت کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوۓ چھوٹی چھوٹی بچتوں پر کام کرنا ہوگا۔

    اس سے نہ صرف ان کا فائدہ ہوگا بلکہ ملک کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔

    قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔

    ہم اس ملک کا نہیں سوچیں گے تو دوسراکون سوچے گا؟

    ہم سب کو مل کے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

    سب کچھ کرنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں۔

    ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ہمیں اس بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہو گا،

    جو اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے کیا جا رہا۔

    ہمیں اس ففتھ جنریشن وار میں ریاست کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے۔

    یہ یاد رکھیں کہ یہ ملک ہے تو ہم سب بھی ہیں۔

    ہمیں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ کسی بچت یا ملکی مفاد میں جب بھی کوئ  مشورہ   دیا جاتا ہے لوگ حکومت کا مذاق اڑانا شروع کر دیتےہیں۔

    لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کو 70سال لگاتار برباد کیا گیا،

    اسے درست کرنے کے لئے کچھ وقت تو لگے گا،

    موجودہ حکومت کو ابھی 3سال ہوے ہیں آۓ ہوۓ۔

    ابھی سے کچھ گماشتے یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ جنہوں نے دہائیوں اس ملک کو لُوٹا،

    جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ہیں،

    انہیں کو واپس لے آئیں۔

    واہ کیا منطق ہے،گویا

    میر کیا سادےہیں،بیمار ہوۓ جس کے سبب

    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    رپورٹ: رضی طاہر

    وزیراعظم پاکستان کے سابق معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سردار محمد علی خان حلقہ این اے56اور پی پی3میں عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں، حلقہ این اے56اور پی پی3میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حکومت میں آنے کے ایک ماہ بعد ہی اپنوں کی ہی نااہلی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ حلقہ ترقیاتی کاموں اور مرکز کی توجہ سے محروم ہوگیا، لیکن گزشتہ چھ ماہ سے سید ذوالفقار عباس بخاری اور سردار محمد علی خان کے دوروں، عوامی رابطہ مہم اور کارنر میٹنگز کی وجہ سے عوام الناس بالعموم اور تحریک انصاف کے کارکنان میں بالخصوص امید کی کرن جاگی ہے،مختصر وقت میں حلقے میں کئی نمایاں ترقیاتی کاموں کا آغاز بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں قائدین عوامی مسائل کے حل کیلئے خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

    سید ذوالفقار عباس بخاری:

    زلفی بخاری سے معروف ہونے والے سید ذوالفقار عباس بخاری ضلع اٹک کے بڑے سیاسی و عوامی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بخاری خاندان گزشتہ چار دہائیوں سے اٹک کی عوام کی خدمت میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے اورشاندار سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔آپ کے والدسید واجد حسین بخاری سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ آپ کے چچا سید منظور حسین بخاری، ذو الفقار علی بھٹو، جام صادق علی،کرنل معمر قذافی اور دیگر کئی عالمی راہنماؤں کے قریبی رفقا میں سے ہیں۔آپ کے دوسرے چچا سید اعجاز حسین بخاری 1983ء سے سیاست میں سرگرم رہے۔ وہ سب سے پہلے ضلع کونسل اٹک کے چیئرمین منتخب ہوئے اور اس کے بعد صوبائی سیاست میں وارد ہوئے اور گزشتہ الیکشن تک مسلسل منتخب ہوتے رہے۔اسی طرح زلفی بخاری کے کزن سید یاور عباس بخاری صوبائی اسمبلی کے ممبر اور صوبائی وزیر برائے بیت المال ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی درخواست پر سید زلفی بخاری نے لندن میں اپنے کاروبار کو خیرآباد کہتے ہوئے پاکستان کا رخ کیا اور اوورسیز پاکستانیز کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے، حق و صداقت کے ایسے داعی نکلے کہ کرپشن کامحض الزام لگنے پر اپنے عہدے کو ٹھکرا دیا اور خود کو قانون اور انصاف کے سامنے پیش کیا، رنگ روڈ سکینڈل میں آپ پر الزامات لگانے والوں کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب تحقیقات میں سید زلفی بخاری کو کلین چٹ ملی اور ان پر کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔آپ بھی اپنے خاندان کی طرح عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔

    سردار محمد علی خان:

    سردار محمد علی خان ضلع اٹک کے نامی گرامی سیاست دان ہیں، آپ دبنگ شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ہمیشہ نوجوانوں کا جھرمٹ اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، دھڑے کی سیاست آپ نے اپنے والد اور دادا سے سیکھی، آپ 2002میں موجودہ پی پی3سے ممبر صوبائی اسمبلی بنے اور اپنے پانچ سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا، آپ نے2010میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، غالباً پاکستان بھر سے تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہونے والے اولین رہنماؤں میں سے ہیں، آپ نے2013میں تحریک انصاف کیلئے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، اور حلقے میں لگ بھگ35ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے، آپ کے دادا سردار محمد اقبال خان عوامی شخصیت تھے جو 1953میں منتخب بلدیہ فتح جنگ کے پہلے منتخب صدر بنے، سردار محمد علی خان کے والد سردار اسد علی خان 1977کے انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے، سردار محمد اقبال خان اور سردار اسد علی خان دونوں شخصیات اٹک میں اپنے منفرد انداز سیاست کی وجہ سے مقبول ہیں، انہوں نے ہمیشہ عوام الناس کے حقوق کی جنگ لڑی اور اس کیلئے انہیں جو اقدامات کرنا پڑے کیے،80اور90کی دہائی میں ان شخصیات کی بدولت ہی اقتدار کے ایوانوں کے فیصلے ہوئے، اپنے حلقے میں کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں ان کی حمایت یا مخالفت کا کلیدی کردار رہا، یہی وجہ ہے کہ اب بھی لوگ سردار محمد علی خان کو ان کے بزرگوں کی بدولت یاد کرتے ہیں۔ سید زلفی بخاری کے ساتھ سردار محمد علی خان دونوں شخصیات شانہ بشانہ حلقے کی عوام کے اندر دکھائی دے رہے ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم:

    سید زلفی بخاری اور سردار محمدعلی خان کی رابطہ مہم گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے، اس دوران انہوں نے جعفر، مہلو، ڈھوکڑی، باہتر نلہ کے علاقوں، منگیال، حطار، فتح جنگ شہر اور علاقہ نلہ میں کئی کارنر میٹنگز کرکے اہم شخصیات کو اپنے گروپ کا حصہ بنایا، ضلع اٹک چونکہ اپنی ثقافت اور بزرگان دین کے عروس کی وجہ سے بھی معرفت رکھتا ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ فتح جنگ اور گردونواح کی اہم درگاہوں پر عرس، میلے اور بیل دوڑ کے انعقاد میں دونوں شخصیات صف اؤل پر نظرآتی ہیں، اس دوران انہوں نے جعفر میں سوئی گیس منصوبے کا افتتاح کیا، فتح جنگ ٹی ایچ کیو میں ٹراما سنٹر زیر تعمیر ہے جبکہ5کروڑ سے زائد کے منصوبے مکمل ہوئے، تحصیل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ سردار محمد علی خان کی ٹیم نے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور شہر کو جناح پارک کا تحفہ دیا، اسی طرح سکول میں نئے بلاک کا قیام، گرین بیلٹ سمیت کئی اہم پروجیکٹس میں علاقہ مکینوں کی فلاح کیلئے ان کی ٹیم پیش پیش دکھائی دی، یہ منصوبے حکومتی امداد کے بغیر مکمل کیے گئے

  • پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پہلے پاناما پیپرز آئے جس میں دنیا جہان کے لوگوں کی آفشور کمپنیوں سے متعلق انکشافات ہوئے کہ ٹیکس سے بچنے کے لئے یہ کام کرتے تھے اور اربوں کھربوں پیسہ اکاؤنٹس میں ہوتا تھا اس کے بعد اب پینڈورا پیپرز کا کچھ دن پہلے انکشاف ہؤا ہے.

    پینڈورا پیپرز بھی دراصل پاناما پیپرز کی دوسری قسط ہے اور اس بار حکومتی جماعت کے وزراء کے بھی نام سمیت کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں.

    وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف پہلے دن سے کھڑے ہیں اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یہاں تک کہا کہ سب چیزوں پر بات ہوسکتی ہے مگر کرپشن پر نہیں.

    حکومتی وزراء کے نام آنے کے بعد ان وزراء نے برملا کہا کہ جلد از جلد کمیشن تشکیل دے کر سوالات اور تحقیقات کی جائیں بلکہ مجھ سے شروع کریں سب واضح کروں گا.

    وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلی سطح کا کمیشن مقرر کروایا ہے جو تحقیقات کرے گا اور ایف بی آر ایف آئی اے نیب جیسے ادارے پھر مزید کام کو آگے بڑھائیں گے.

    حکومتی وزراء کا یہ عمل احسن ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کسی کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتیں گے وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں سب سے سوالات ہوں گے تحقیقات ہوں گی اور جو بھی قصور وار ہوگا سزا کا مستحق ہوگا.

    اب بات کرتے ہیں کچھ ریٹائرڈ فوجی حضرات کی ایک ریٹائرڈ فوجی نادر پرویز صاحب جن کا کہنا ہے کہ ٦٥ کی کچ کی لڑائیوں”کے ران” کا ہیرو ہوں ٦٥ اور ٧١ کی جنگوں میں دو ستارہ اول جرات بہادری ایوارڈز کے وصول کئے ملٹری کراس یا سلور سٹار کے برابر ایوارڈ ملا آئی سی آئی جے نے ایک پاکستانی ہیرو کو بدنام کیا ہے کوئی آفشور کمپنی نہیں.

    اگرچہ کوئی بھی انسان فرشتہ نہیں لیکن کہیں نا کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے آئی سی آئی جے ہر ہرگز ہرگز شک نہیں مگر کچھ صحافی باقاعدہ کسی نا کسی سیاسی پارٹی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اور وہ بیانیہ ریاست کے خلاف والا بیانیہ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ادارے کا سہارا لے کرچند خاص شخصیات کو بدنام کیا جا رہا ہے ﷲ بہتر جانتا ہے کیونکہ غیب کا تو علم اسے ہی ہے.

    پاکستان مسلح افواج کا معیار اور لیول تو دنیا جانتی ہے کہ کس قدر پروفیشنل ہوتے ہیں مگر یہ صاف ظاہر ہوتا کے کہ کچھ بہت بڑی گڑبڑ ہے.

    اگر سول ادارے کی بات کی جائے تو وزیراعظم برملا کہہ چکا کہ تحقیقات اور پھر الزام درست ثابت ہونے پر کاروائی کی جائے گی.

    جب پینڈورا پیپرز سامنے آئے تو وزیراعظم کے لاہور زمان پارک والے گھر کے تعلق کو ان پیپرز سے جوڑا گیا جبکہ لاہور کا ریہائشی فرید الدین سامنے آیا اور اس نے بیان دیا کہ یہ میری کمپنیاں ہیں انھیں وزیراعظم سے جوڑا جا رہا ہے جو غلط ہے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ وزیراعظم کے خلاف بھی ایک کیمپینگ شروع کی گئی جو ناکام ہوئی کیونکہ جھوٹ پر مبنی جو تھی کیونکہ مخالفین بھی یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کرپٹ نہیں.

    پہلے کچھ عناصر نے ڈان لیکس کروایا تو ریاست کا ایک ستون بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اب دوبارہ اسی ریاستی ستون کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کام کیا گیا جو الحمدلله ناکام ہؤا لیکن ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کسی نا کسی چیز کا سہارا لے کر کسی کو بدنام کرتے ہیں جبکہ ثبوت نہیں ہوتے اور پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا کہ جب اثاثے ڈکلیئرڈہیں تو پھرصحافت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے عناصر نے ادارے آئی سی آئی جے کو انفارم کیوں نہیں کیا.

    اس طرح سے بہت سے سوالات جنم لیتے جا رہے ہیں دعا ہے کہ ﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین.

    انھی الفاظ کے ساتھ یہ تحریر بھی اختتام پذیر ہوتی ہے.
    .

    "Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

    https://twitter.com/M1Pak.

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 3)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

     ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

  • "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    سیاست میں برداشت کی عدم دستیابی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس کی وجہ ملک میں حد سے ذیادہ بےانصافی اداروں کی بےتوقیری ۔عدالتیں اشرافیہ کی مٹھی میں ۔۔اپنے من پسند فیصلے چٹکیوں میں کروا لیتے ہیں غریب بے چارےسالوں عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد آخر مایوس ہوکر فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔چور ڈاکو سرے عام ملک میں دندناتے پھرتے ہیں اور بے گناہ ناکردہ گناہ کی سزا بھگت کر جب مرجاتے ہیں تو ان کے مرنے کے بعد جب فیصلہ آتا ہے فلاں بندہ بے قصور ہے اسے بری کردیا جائے تو پتہ چلتا ہے اسے جیل میں ایڑیاں رگڑتے مرے ہوئےدو سال ہوچکے ہیں۔۔!!اگر ملک میں انصاف کا بول بالا ہوجائے تو ملک کے 70%مسائل اور منفی سرگرمیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن وہی بات "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا”کے مصداق ہر کام غریب غربا آخرت پر چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔

    ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے گذشتہ 30سال سے کرپٹ ترین حکمران ملے ہیں جھنوں نے نہ صرف خود ملک کو خوب نوچا ہے بلکہ اپنی نئی نسل بھی تیار کرلی ہے کہ رہتی کسر وہ پوری کرلیں ۔اس کے لیے وہ ہر وہ قدم اٹھارہے ہیں جس میں ان کو اقتدار ملنے کی تھوڑی سی بھی امید ہو دشمن ممالک کو اپنے بیانات سے ہرممکن کوشش کررہے ہیں خوش کرنے کی ۔ نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان کینسل ہونے پر جس قدر مریم نواز نے خوشی کا اظہار کیا تھا وہ ہم سب کے لیے حیران کن نہیں تھا کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی اس کے ایسے بیانات سن چکے تھے بس دکھ کی بات یہ ہے کہ اس کے سپوٹرز یہ سب جاننے کے بعد بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس کی سرے عام خان صاحب کو دی ہوئی گالیاں بھی ریکارڈ پر ہیں اور خان صاحب کے کردار پر رکیک جملے کسے جو ایک خاتون ہوتے ہوئے نہائت غیر مناسب تھے ایسا جملہ بولنے سے پہلے عام عورت مر جانا پسند کرتی ۔۔

    حالیہ دنوں میں خاتون اول پر اس کے لگائے الزام نے قوم میں غم وغصہ کی فضا قائم کی ہوئی ہے جو ابھی تک کم ہونے میں نہیں آرہی اور دو دن مسلسل مریم نواز پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا ٹاپ ٹرینڈ بنے اس کے خلاف ۔سوشل میڈیا پر جتنا ذیادہ اپنی نفرت ۔غم وغصے کا اظہار کرسکتا تھا اتنا پی ٹی آئی ورکرز نے کیا ۔۔!!ایک سزا یافتہ مجرمہ کو یوں سرے عام اداروں پر کیچڑ اچھالتے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ عام عوام میں مایوسی کیوں نہ پھیلے جہاں پورا ملک لوٹ کر کھاجانے والوں کواداروں نے اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہیں جو چاہیں کریں کوئی ان سے کچھ بھی پوچھنے کی جرآت نہیں کرسکتا ایک عام روٹی چور کو اپنی باقی کی ذندگی جیل میں سڑتے گزارنی پڑجاتی ہے اگر وہ بدقسمتی سے پکڑا جاتا ہے تو۔۔۔! باپ ۔بیٹے لندن میں مزے سے ذندگی گزار رہے ہیں اور بیٹی کو اداروں پر چڑھائی کرنے کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔۔جتنا دوسروں کے کردار پر کیچڑ اچھالتے میں نے نون لیگ کو دیکھا اتنا کسی سیاسی پارٹی کو گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔!!چاہے وہ بےنظیر کی ہیلی کاپٹر سے تصویریں پھینکنے کی بات ہویا پھر پی ٹی آئی کی خواتین پر کیچڑ اچھالنا یا پھر جمائمہ پر جھوٹے الزمات لگانا خان صاحب کے کردار پر رکیک الزامات لگانا ۔۔

    آصف زرداری بےشک بہت بڑا چور ہے کم ازکم ان کے منہ سے مخالف جماعتوں کی خواتین کے کردار پر بات کرتے نہیں دیکھا تو کیا وجہ ہے کچھ لوگوں نے اس کی بیٹی کے کردار پر کیچڑ اچھالا کیا ہم اتنے شدت پسند ۔ہماری ذہنی پستی اس حد تک چلی گی ہے کہ دوسروں کی بیٹیوں پر ایسے الزمات لگائیں ان کا کردار ان کی اولاد تک کو مشکوک بنادیں بختاور بھٹو کا کیا یہ قصور ہے کہ وہ زرداری کی بیٹی ہے؟
    جیسے ہی سوشل میڈیا پر بختاور بھٹو کی خوشی کی خبر چلی پتہ چلا اسے اللہ نے نعمت سے نوازا تو ایک طوفان بدتمیزی مچ گیا ہر بندے نے حسب توفیق اس میں حصہ ڈالنے کی پوری کوشش کی گھٹیا تبصرے کرکرکے ۔۔کیا آپ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے الفاظ ایسے تبصرے برداشت کرسکتے ہیں جو بختاور بھٹو کے لیے کیے گے اور سننے والوں نے سر دھنا۔کیا اللہ کو جان نہیں دینی اگر آپ عمر خضر بھی لکھوا کر آئے ہیں تب بھی کسی پر تمہت لگانا دل آزاری کرنا حرام فعل ہے اور یہ عمل دل کو کبھی سکون نہیں لینے دیتا اس لیے اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگیں جس جس نے بھی اس کے خلاف ٹوئٹس کیے ہیں آپکے الفاظ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جو بھی لکھیں بس یہ سوچیں آپ اپنی شخصیت الفاظ کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہوتے ہیں ۔۔

    رہی بات بلاول بھٹو کی یہ اور مریم نواز سکہ کے دو رخ ہیں جیسے زرداری اور نواز شریف ۔اقتدار کے لیے ملک کا سودا بھی کرنا پڑ جائے تو بھی یہ کر گزریں گے یہ میرا خیال ہے سب کا میری اس بات سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔میں نے آج تک جس انسان کو اپنی بات پر کھڑے ہوتے دیکھا جس کی باتیں آپکو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں آپکو ہمت جرآت کا سبق دیتی ہیں وہ وزیراعظم عمران خان ہیں اس انسان کے جو خیالات الفاظ 22سال پہلے کی تقریر میں تھے وہ ہی آج بھی ہیں اس انسان سے ذیادہ محب وطن حکمران میں نے اپنی ذندگی میں نہیں دیکھا ۔خان صاحب کی یہ جرآت ہی ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو انکی اوقات یاد دلا دی اور آج امریکہ کی سفیر ایک سیاسی مجرمہ سے ملنے کے لیے مجبور ہوئی یہ بھی پاکستان کی جیت ہے کہ دنیا کا سپر پاور بھی خان صاحب کے آگے پانی بھرتا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔

    خان صاحب کو بہت مشکل سے وزیراعظم بنایا تھا بہت امیدوں کے ساتھ کہ وہ ان چوروں کے جبڑوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کا لوٹا پیسہ نکال لیں گے جس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی بہت سے کام ہونے باقی ہیں جو ان دو سالوں میں ممکن نہیں اللہ کرے اگلی دفعہ خان صاحب بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جائیں ۔گزشتہ الیکشن والا حساب ہوا ۔پھر خان صاحب کے ہاتھ بندھ گئے تو خان صاحب کے نئے پاکستان کا خواب پورا ہونا مشکل ضرور ہوجائے گا لیکن ناممکن ہرگز نہیں کیونکہ خان صاحب کے ساتھ عوام کی طاقت اوراللہ کی خاص مدد ہے پھر بھی دعا ہے اللہ کرے نیکسٹ الیکشن میں ۔ایم کیو ایم ۔چوہدری برادران کا دم چھلہ خان صاحب کے پیچھے سے اتر جائے خان صاحب اپنی مرضی کے فیصلے کرسکیں عدلیہ کو بھی اللہ ہدایت دے کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے کے ساتھ مل کر ملک میں انصاف کا علم بلند کردے تو یہ نفرت غصہ ۔بے اعتمادی کی فضا بھی ختم ہوجائے گی۔ ان شاءاللہ
    پھر خان صاحب دنیا کی سپر پاور چین کے ساتھ مل کر ملک کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے لوگ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرکے فخر محسوس کیا کریں گے ان شاءاللہ ۔۔
    @Farzana_Blogger