Baaghi TV

Category: سیاست

  • بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    عمران خان نے اپنی حکومت پاکستان میں سن 2018 میں بنائی اس سے پہلے تیس سال نواز شریف پاکستان پر حکومت کرتے رہے اور دیگر پارٹیاں بھی اپنے حصے کی حکومت کرتی رہی عمران خان کی حکومت سے پہلے نواز شریف کی حکومت تھی جو کی کرپشن کیس کی وجہ سے ان کو وزیراعظم گھٹا دیا گیا تو اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے معمول کے مطابق مختلف ممالک کو کا دورہ کیا جس میں امریکہ بھی شامل تھا لیکن جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تھا امریکہ والوں نے ایئرپورٹ پر ہیں ہمارے نئے نویلے وزیراعظم کی پینٹ اتر وادی اور چیکنگ کی نون لیگ پارٹی کو اس وقت شرم نہ آئی لیکن جب عمران خان کی حکومت آئی تو کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس سے عمران خان بد نام ہو سکیں جب کوئی ایسا موقع نہ ملا عمران خان کو بد نام کرنے کا تو عمران خان کے ایک وزیر کی فوٹو کہیں سے بنوا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں کہ یہ امریکہ میں پینٹ کروا رہے تھے یہ لوگ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو ملک پاکستان کی کوئی پرواہ نہیں ہے ان کو صرف فرق پڑتا ہے تو اپنی سیاست سے اپنے اقتدار سے اور اپنے پیسوں سے لیکن ان کو ملک سے کوئی پروا نہیں ہے پر ہوگی بھئی کیسے 30 سال جو عوام کا پیسہ کھاتے رہے آپ جب پاکستان کو ایک مخلص لیڈر ملا ہے تو ان سے کیسے برداشت ہوگا کیونکہ ان کے کمانے کا ذریعہ تو یہی تھا جو عمران خان نے بند کر دیا یہ عمران خان کو اس حد تک برا کہتے ہیں کہ یہ مسلمان ہی نہیں ہے اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے رحمۃاللعالمین تھوڑی کیوں بنائی اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے امریکہ کو منھ توڑ جواب کیوں دیا اگر عمران خان ملک پاکستان کے لیے مخلص نہیں ہے تو آج  پوری دنیا پاکستان کے گیت کیوں گا رہی ہے ان کے دور میں انہوں نے یہ گیت کیوں نہیں گئے کیونکہ ان کا دھیان صرف اور صرف کرپشن پر تھا نہ کہ ملک کو آگے لے جانے میں ان کے دور میں پاکستان تنہا رہ گیا تھا پوری دنیا میں آج جب پاکستان دوبارہ ابھر رہا ہے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور ہوگی بھئی کیسے نہیں یہی تو وہ لوگ تھے جو پاکستان کو ٹانگوں سے پکڑ کر نیچے کھینچ رہے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو ڈرون حملوں کے پیسے لے کر چپ کر جاتے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو اپنی جیبیں بھاری کرتے تھے اور عوام پر تشدد اور ظلم کرواتے تھے آج جب ان کو نظر آرہا ہے کہ عوام کے سامنے ہمارا سچا رہا ہے اور کل کو ہم یہ سب کچھ نہیں کر پائیں گے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور یہ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کاش انہوں نے ایک بار بھی پاکستان کے لیے سوچا ہوتا تو آج پاکستان بہت آگے ہوتا یہ عمران خان سے سوال پوچھتے ہیں کہ تم نے تین سالوں میں کیا کیا لیکن ہم ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ نے تیس سالوں میں کیا کیا یہ چاہتے ہیں کہ جو تیس سالوں میں انہوں نے کیا وہ یہ تین سال میں عمران خان کر کے دکھا دے لیکن یہ راضی تب بھی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی کرپشن کا راستہ بند ہو چکا ہے پاکستانی عوام کو سمجھنا چاہیے پاکستان کے لیے کون مخلص ہے اور پاکستان کے لئے کون بہتر کام کر رہا ہے اور پاکستان کو آج اس مقام پر کون لے کر آیا ہے جہاں امریکہ جیسا سپرپاور بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان ایسے ہی ترقی کرتا رہے تو بغض عمران سے ہٹ کر پاکستان کے لئے سوچیں تاکہ ہم سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر جا سکے

    Twitter Handle : @WaseemjuttMalik

  • ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    وزیراعظم عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں ربیع الاول اور رسول ﷲ ﷺ سے متعلق بہترین کام کئے ہیں وزیراعظم پر مختلف قسم کے فتوے لگے کہ یہ فلاں ایجنٹ ہے تو یہ ہے تو وہ ہے مگر آج اگر وزیراعظم کے کیے گئے اقدامات پر نظر دوڑائیں تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کچھ نہیں کیا گیا.

    وزیراعظم نے قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا اور خاص کر آپ رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر جن میں خاص کر یورپی ممالک کو یہ احساس دلایا کہ یہ جو آپ کام کرتے ہیں اس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں آپ کو اندازہ نہیں کہ مسلمان کس تکلیف سے گزرتا ہے.

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے جو تقریر کی اس میں انھوں نے رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور غیر مسلم کو یہ باور کرایا کہ آپ رسول ﷲ ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ او آئی سی اور مسلمان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملاقات کر کے اس حساس معاملے کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ممالک ایسی کوئی قرار داد پاس کریں کہ آئندہ کسی کی بھی  ہمت  نہ ہو یہ حرکت کرنے کی.

    پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے ہی دور میں قومی اسمبلی کی کارروائیوں میں ایک تبدیلی کروائی گئی کہ جب بھی رسول ﷲ ﷺ کا نام لکھا جائے تو نام سے پہلے آخری نبی لکھا جائے. اس کے علاوہ ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے کانفرینسز منعقد کروانے کا سلسلہ بھی شروع کروایا. مجھے آپ یہ بتائیں کہ جو شخص (وزیراعظم عمران خان) پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہے تو وہ بھلا کسی بھی حساس معاملے کے خلاف کیسے جا سکتا ہے کیا اس سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس کا ہؤا جیسے کہ او آئی سی یا اقوام متحدہ میں رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اٹھایا گیا ؟

    اس بار بھی ہمیشہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے بہترین اقدامات کروائے ہیں عشرہ رحمت العالمین کے ﷺ پر تمام اسکول کالجز جامعات درسگاہوں میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے تقاریر سیمینار وغیرہ منعقد کروائے جائیں گے اور علماء کرام طلباء کو اس کی اہمیت پر لیکچر دیں گے. حکومتی چینلز اور میڈیا پر سیرت النبی صلعم سے متعلق پروگرامز بھی دکھائے جائیں گے اور وزیراعظم کی ہدایات پر ٣ ربیع الاول سے ١٣ ربیع الاول تک عشرة ربیع الاول منایا جائے گا.

    وزیراعظم نے رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سنت پر عمل کرنے کا زور دیا مزید کہ ہم جمعة کی نماز پڑھنے جاتے تو ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول ﷲ ﷺ نے کیا فرمایا کن باتوں پر عمل کرنے سے منع فرمایا اور کن باتوں پر عمل کرنے کو کہا انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان رسول ﷲ ﷺ پر جان بھی قربان کر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل بھی تو کریں ناں اور یہ بھی تو دیکھیں کہ آیا ہم ان کے کردار سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں عشرہ ربیع الاول ﷺ کی مناسبت سے ایک بہت عمدہ جملہ وزیراعظم نے کہا کہ

    میرا یہ ایمان ہے اگر ایک انسان نے عظیم انسان بننا ہے تو نبی ﷺ کو رول ماڈل بنالے اور اگر ایک قوم نے عظیم بننا ہے تو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے. 

    وزیراعظم کے خلاف جتنی نامناسب باتیں میڈیا اور صحافت میں ہوئی ہیں وہ انتہا کو پہنچیں صرف اس لئے کہ وزیراعظم ﷲ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کے باتیں کیوں بتا رہا ہے. ہم اگر ﷲ کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے تو ہی ہماری آخرت میں کامیابی ہوگی اور یہی چیز وزیراعظم بار بار کہتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات کو اپناؤ. 

    غرض یہ کہ بے فکر رہیں وزیراعظم ہر ممکن اقدامات کریں گے اس معاملے اسی کے ساتھ میری تحریر کا اختتام ہوتا ہے.

    Twitter Id ‎@M1Pak

  • مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ کسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔
    وقت بدلا سال بدلے حالات بدلے لیکن اس قوم کی ناقدری کی عادت نہیں بدلی۔
    شاید یہ اس قوم یا پھر بنی نوع انسان کی فطرت ہے کہ وہ وقت پر کسی کی قدر نہیں کرتا۔ ناقدری ہماری فطرت میں حلول کر گئی ہے۔ اسی لئے ہم ہر روز کسی نہ کسی نئے سانحہ سے دو چار ہو رہے ہیں اور رحمت نما انسان ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔
    ہماری بہت سی بدنصیبیوں اور کج فہمیوں کے ساتھ ہمیں ناقدری کی فطرت بھی ورثہ میں ملی ہے کہ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں، فلاسفروں، دانشوروں اور عظیم شخصیات کی وقت پر قدر نہیں کی اور ان کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔
    ہمیشہ خدا کی عطا کردہ ان نعمتوں کے چھن جانے کے بعد یاد آیا کہ ہم سے ایک عظیم ہستی بچھڑ گئی اور ہم نے وقت پر اس کی قدر نہ کی۔ یہ ہماری قوم کا بدترین المیہ ہے کہ زندہ لوگوں کو مارتے رُلاتے اور تڑپاتے ہیں اور مرنے والوں کیلئے روتے تڑپتے اور پچھتاتے ہیں۔
    مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہے اور مرنے کے بعد ان کی قبروں پر خوبصورت مزارات تعمیر کر کے، ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھاتی ہے اور ان کے قیصدے پڑتی ہیں ،کارنامے بیان کرتی ہے۔
    یہی ہمارا المیہ ہے زندوں کی بے قدری اور مردوں کی عزت و توقیر!!!!
    ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے یہی ہمارا کام ہے اور یہی ہم اپنے عظیم محسن قوم ، محسن پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔
    محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ہم شرمندہ ہیں! ہم نے اپ کی قدر نہ کر سکے۔
    آپ کی خدمات اور احسانات کا بدلہ ہم کیا چکا سکیں گے کہ ہمارے جیتے جی ملک کے اس عظیم سپُوت کی ایسی ناقدری ہوئی کہ شرافت کا یہ پیکر، کردار کا یہ غازی اور عظم کی مثال یہ عظیم ترین انسان اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پریشانیوں اور بیماریوں کی نذر رہا۔
    مجھے آنسوءوں میں ڈوبی وہ منحوس شام کبھی نہیں بھولتی جب ڈاکٹر صاحب سے ’ پاکستان سے محبت کا اقبالِ جرم ‘ کرایا جارہا تھا اور وہ اپنا کلیجہ چبا چبا کر ناکردہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا گلہ پھانسی کے پھندے میں ڈال رہے تھے ۔ دھتکار ہے ان لوگوں پہ جو اس گھنائونی سازش میں شریک تھے ۔ تُف ہے ایسے منافقوں پر جنھوں نے آپ کو اس پہ آمادہ کیا اور جو بعد میں کفِ افسوس بھی مل رہے تھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کہ ” آج ڈاکٹر قدیر نے دوسری دفعہ پاکستان کو بچایا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان
    غیر اعلانیہ حراست میں ہی رب کے حضور حاضر ہوگے
    اے محسن پاکستان اے محسن اسلام میں ایک پاکستانی ہونیکی حثیت سے شرمندہ ہوں۔ آپکی ذات تو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے قابل تھی۔
    دنیا تو محسنوں کے لئے زندگیاں وقف کر دیتی ایک ہم ہیں کہ اس عظیم انسان کی زندگی ہی دکھ و درد کا شاخسانہ بنا دی
    ہم بطور قوم کس منہ سے اظہار افسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس انسان کی ازیت زدہ زندگی میں ہم سب بھی برابر کے شریک ہیں۔
    آج میں بطور پاکستانی انتہائی شرمندہ ہوں یہ لکھتے ہوئے کہ
    یہ قوم آپ جیسے عظیم انسان کے قابل نہیں تھی!
    گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات بھی قدیر
    ستم ظریف مگر کُوفیوں میں گزری ہے (ڈاکٹر عبدالقدیر خان)

    Acemaker007
    Twitter Handle: @

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پچاس سال قبل جب پاکستان دو لخت ہوا اوربنگلہ دیش  معرض وجود میں آیا تو اس کا
    شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتاتھا۔  قدرتی آفات اور آبادی کے بوجھ
    تلے دبے، کم شرحِ خواندگی، غربت، محدود قدرتی وسائل اور گنتی کی چند صنعتوں
    والے اسخطہ کے بارے میں اقوام عالم کو یہ یقین تھا کہ پاکستان سے الگ ہوکر یہ
    اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ پچھلے ۵۰؍ برسوں میںاس  نے بہت سے نشیب و
    فراز دیکھے اور بے شمار مصائب کا سامنا کیا۔ 1974ء کی قحط سالی، 1991ء کا
    سمندری طوفان، عوامیبغاوت اور فوجی کارروائی نے اس کے مسائل میں بے پناہ اضافہ
    کیا۔ لیکن  نہ صرف اس نے اپنا وجود اور پہچان برقرار رکھی بلکہتیزی سے ترقی کی
    راہ پر گامزن ہوا۔ عالمی ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ جلد ہی یہ ملک دنیا کی
     تیز رفتار ترین معیشت بن جائیگا۔بنگلہ دیش اور بنگلہ دیشی کرنسی ٹکے کی حیثیت
    نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج 50 سال بعد نہ صرف بنگلہ دیش ترقی کی راہ میں
    پاکستان اور  بھارت دونوں سے آگے ہے بلکہ اب ایک بنگالی ٹکہ پاکستانی 1.66روپے
    کے برابر ہے۔ ڈالر کی قیمت پاکستانی 170 روپے جبکہ بنگلہ دیش میں 84 ٹکہ ہے۔

    وہ بنگلہ دیش جس کا  نام ذہن میں آتے ہی  قحط سالی، غربت، بیماری اور بدحالی
    ذہن میں آتی تھی آج ترقی پزیر ممالک کیلئے رولماڈل بن چکا ہے۔ غربت کا خاتمہ
    کرنے، صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے، شرح خواندگی بڑھانے اور عورتوں کو
    خودمختار بنانے میںبنگلہ دیش نے جو کارنامہ انجام دیا ہے تمام دنیا اس کی معترف
     ہے۔

    شیخ حسینہ واجد کے ۱۱؍ سالہ دور اقتدار میں بنگلہ دیش نے حیرت انگیز ترقی کی۔
    مفلسی اور قحط سالی کا شکار ملک غذائی اجناس کیپیداوار میں کافی حد تک خود کفیل
     ہوگیا۔

    بنگلہ دیش اپنی برآمدات سے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران جہاں
    بہت سے ممالک شدید معاشی بحران کا شکار ہورہے تھے، بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کی
    شرح میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    فی کس آمدنی 2017 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ غربت کی شرح 20 اعشاریہ پانچ تک ہو کر
    رہ گئی ہے۔اس وقت کے اعداد و شمار کےمطابق سنہ 2035 تک بنگلہ دیش دنیا کی 25ویں
     بڑی معیشت بن جائے گا۔

    اگر بنگلہ دیش کا مقابلہ پاکستان سے کیا جائے تو بنگلہ دیش پر آبادی کا دباؤ
    ہم سے چار گنا زیادہ ہے۔ اور اسی طرح رقبے اور وسائلکے لحاظ سے وہ ہم سے چار
    گنا کم ہے ۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    معاشی اعتبار سے بنگلہ دیش بہت جلد ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے
    چھوٹے قرضوں پر مبنی منصوبوں کے ذریعے اپنیخواتین کو خودمختار بنانے پر دھیان
    دیا اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھی۔

    بنگلہ دیش میں صحت اور خوراک کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے شعبہ صحت اور
    غیر سرکاری تنظیموں نے پسماندہ علاقوں کومالی امداد پہنچانے کی کوششیں بھی کیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_

  • جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے 2012 میں اپنی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی اور جو ہجوم نما قوم آج غم میں مری جا رہی ہے اُنہوں نے ووٹ دینا تو دور کی بات ٹکٹ لینا بھی پسند نہیں کئے اور پورے پاکستان میں ڈاکٹر صاحب ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے تھے۔ اسی طرح ساری قوم عبدالستار ایدھی صاحب کی وفات پر گہرے رنج و افسوس میں تھی لیکن ایدھی صاحب نے جب الیکشن لڑا تھا تو ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ ایسی کئی مثالیں ہمیں ہر ضلع کی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگ انتہائی شریف النفس , نیک و خدمت گزار ہوتے ہیں اُنکو ہم القابات سے تو بہت نوازتے ہیں لیکن جب اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا وقت آئے تو ہائی کوالٹی رنگ باز کو اُسکے مقابلے میں منتخب کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ذات برادری کا ہوتا ہے یا ہمارے باپ دادا نے اس پارٹی کو ووٹ دیا ہوتا ہے اور ہم بھی کفار مکہ کی طرح اسی پارٹی کے بت کو تا حیات پوجتے رہتے ہیں۔

    اسی طرح جب پاکستان تحریک انصاف نے 2013 میں الیکشن لڑا تو 60 فیصد ٹکٹ عام نوجوانوں کو دیئے اور ذیادہ تر لوگ اچھی شہرت کے حامل تھے لاہور کی مثال لے لیں علامہ اقبال کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال کے مقابلے ہم نے گیس چور شیخ روحیل اصغر کو جتوا دیا۔ اسی طرح عوام نے دیگر حلقوں میں بھی روائیتی سیاسی گھرانوں کو نوجوانوں اور شریف النفس امیدواروں پر ترجیح دی۔ جنہیں ہم عرف عام میں الیکٹیبکز کہتے ہیں۔

    جب ملکی حالات کا رونا روتے ہوئے کوئی میرے سامنے کہتا ہے کہ ” ساڈا کی قصور اے” تو میں سوچتا ہوں کہ قصور تو ان چند عظیم لیڈران کا ہے جو اس مردہ ہجوم نما قوم کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں شعور دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنی روش نہیں چھوڑنی جزباتی تقریریں بھڑکاؤ نعرے ہم سے لگوا لیں وہ ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔
    بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہونگے کہ مرحوم ڈاکٹر قدیر خان پر ایٹمی راز بیچنے یا افشاں کرنے کا الزام تھا کتنا سچ کتنا جھوٹ ہے وہ رہنے دیں لیکن یہ حقیقت آج سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ ہمارے اولین دشمن ان کی جان کے در پے تھے اس لیے انہیں مشرف کے جانے کے کئی سال بعد بھی برائے نام آج تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے اور انہیں ممکنہ خطرے سے بچایا جاسکے۔ لیکن آج تک ہم میں سے بیشتر یہی سمجھتے رہے کہ شائد ڈاکٹر صاحب کو ایٹم بم بنانے کی سزا دی گئی اس لیے قید کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ ہتھیار پوری دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اس لیے ہمارے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کرنی تھی کرنی ہے اور کرتے رہیں گے کہ کسی نا کسی طرح پاکستان سے یہ ہتھیار واپس لیے جائیں لیکن ریاستِ پاکستان نے نا صرف اپنے ہتھیاروں بلکہ اپنے سائنسدانوں کو بھی محفوظ رکھا۔
    برائے کرم جزبات سے نہیں حقائق سے سوچا کریں اور کم سے کم اپنے اندر اتنا شعور بیدار کریں کہ اپنے حکمران ذات برادری رنگ نسل یا سیاسی پارٹی پر نہیں بلکہ کارکردگی پر منتخب کر سکیں۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ
    جہاں افغانستان سے امریکی انخلاکے بعد طالبان کے امریکا سے پہلے باضابطہ مذاکرات دوحہ میں ہوئے ہیں ۔ تو افغان طالبان کیجانب سے داعش پر ۔۔۔ اور داعیش کی جانب سے افغان طالبان پر حملے جاری ہیں ۔ ۔ اس وقت افغانستان میں تین طرح کی پراکسیز اپنا زور دکھا رہی ہیں۔ ٹی ٹی پی ۔ بی ایل اے ۔ داعیش اس میں سرفہرست ہیں ۔ پہلے اگر امریکہ طالبان مذاکرات کی بات کی جائے تو طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔ جو کہ بالکل جائز مطالبہ ہے ۔ پھر ان کی جانب سے افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مگر اس وقت امریکہ کی دلچسپی امریکی شہریوں کے افغانستان سے بحفاظت انخلا، اغوا شدہ امریکی شہریوں کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق میں ہے۔

    ۔ آپ امریکی دونمبری چیک کریں کہ اسکو افغانستان میں انسانی حقوق کی بڑی فکر لاحق ہے لیکن دہائیوں سے فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ امریکہ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے لاڈلوں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمت کرے۔ پھر امریکہ کا یہ نقطہ نظر بھی عجیب ہے کہ جب امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا تو پھر مذاکرات مذاکرات کا کھیل کیوں کھیل رہا ہے ۔ کھل کر سامنے آئے ۔ طالبان کو اپنا دشمن ڈیکلیئر کرے ۔ تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا خون خرابہ چاہتا ہے ۔ آخر کیوں امریکہ نے دنیا کو ایک نئی مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ کہ طالبان حکومت کو ابھی کوئی قبول نہ کرے ۔ یہ دنیا کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ دیکھا جائے تو امریکہ خود دنیا میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ پھر ان کی ملی بھگت دیکھیں کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طالبان حکومت کو امداد دینے کے معاملے پر بظاہرکسی ایک نکتے پر متفق دکھائی نہیں دئیے۔ یہ صرف ایک واردات ہے ۔ دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ افغانی بھوکے مریں ۔ اور طالبان حکومت مستحکم نہ ہونے پائے ۔ پھر امریکہ طالبان مذکرات کے حوالے سے جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بات چیت میں فریقین نے داعش کو کنٹرول کرنا موجودہ افغان حکومت کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے ۔ اس حوالے سے سہیل شاہین نے مذاکرات سے قبل ہی بتا دیا تھا کہ افغانستان میں داعش خراسان کے مسلسل فعال ہونے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہو گا۔ اور مذاکرات صرف امریکا کی مرضی کے ایجنڈے پر نہیں برابری کی سطح پر ہوں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف ایک فریق اپنی ہی مرضی مسلط کرائے۔

    آپ دیکھیں یہ کیسا اتفاق ہے کہ ادھر امریکہ کی ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ wendy sharman پاکستان پہنچتی ہیں اور ادھرافغانستان کے لیے سب سے افسوسناک سانحہ رونما ہوجاتا ہے۔ پھر پاکستان کو کہا جاتا ہے کہ طالبان حکومت کو قبول نہیں کرنا ۔ مجھے تو اس داعش کی کاروائی کے پیچھے ۔۔۔ را ۔۔۔ کا ہاتھ دیکھائی دیتا ہے کیونکہ مسجد میں دھماکوں کا فائدہ بھارت کو ہی ہوا ہے ۔ کیونکہ ایک طرف اس کے بیانیے کو تقویت ملی ہے تو دوسرا امریکہ بہادر نے پاکستان پر افغانستان کو لے کر پھر پریشر بڑھا دیا ہے ۔ دراصل امریکہ سمیت اس کے اتحادی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر افغانستان کی معیشت روس اور چین جیسے مضبوط سہاروں اور پاکستان کی افرادی قوت اور عسکری امداد کے ذریعے بہتر ہونا شروع ہو گئی تو پھر ایران ، پاکستان ، تاجکستان اوراس سے ملحق وسط ایشیائی ریاستیں باہمی تجارت میں شامل ہو جائیں گی جس سے سی پیک کے راستے مزید وسیع ہو جائیں گے۔ چنانچہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی تکون افغانستان کے امن کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور یہی ان کا مشن ہے۔ پھر اب یہ راز نہیں رہا کہ کیرالہ ، اتر پردیش اور مہاراشٹر سے داعش کے لیے بھرتی ہوتی ہے اور بھارت ہی میں ان کی تربیت کے لیے بنائے گئے مراکز میں انہیں تربیت دینے کے بعد وسط ایشیائی ریاستوں اور دوسرے راستوں سے افغانستان میں داخل کرنے کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس کے سابقہ اہلکار پیش پیش ہیں۔ جن کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے داعش کی تخلیق کے متعلق اپنے انٹر ویو میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ پر ہے اور اس عالمی دہشت گرد گروہ کے بارے بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ حقیقت میں داعش کی تخلیق کے مقاصد اب کسی کے لیے راز نہیں رہے ۔ داعش اور بھارت اب ایک نام بن چکے ہیں۔ مگر امریکہ نے بھارت کو اپنا مستقبل کا اتحادی ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔ لیکن یہی داعش کا سر پرست اعلی بھی ہے۔ اگر ایک تخلیق کار ہے تو دوسرا اسے نفری اور اطلاعات فراہم کرتا ہے ۔ ان تینوں ملکوں کی مثلث یعنی امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کے مقاصد بڑے واضح ہیں کہ افغانسان ، پاکستان اورایران کوچین سے دوررکھا جائے۔ دراصل یہ امریکہ اسٹائل ہے کہ جن ممالک میں امریکی اور اتحادی قوتیں یلغار کے ذریعے اپنا تسلط قائم نہیں کر پاتیں ۔ وہاں داعش کا مہلک وائرس پھیلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ عراق ، شام اور لیبیا میں جو کھیل کھیلا گیا اب وہ ہی کھیل افغانستان میں کھیلا جا رہا ہے ۔ اس وقت افغانستان کے امن کو سبو تاژ کرنے کی بھیانک سازش رچی جا رہی ہے ۔ جس کے بعد ممکن ہے پورا مغرب یہ چلانا شروع کر دے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو روکا نہیں جا رہا۔ ان پر پابندیاں لگاؤ ۔ ان کا سب کچھ بند کر دو ۔

    ۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے کہ جس دہشت گرد گروہ نے اپنی شناخت ۔۔۔ دولت اسلامیہ ۔۔۔ کے نام سے بنائی ہے اُس کو نہ تو بھارت میں آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلم کشی دکھائی دیتی ہے۔ نہ ہی گائے کے قریب سے گزرنے والے مسلمانوں کی انتہا پسند ہندوئوں کے ہجوم کے ہاتھوں المناک شہادت نظر آتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلمان مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں کون لوٹ رہا ہے؟ یہ بھی اسکو نظر نہیں آتا ۔ نہ ہی کبھی اسرائیل کے غزہ اور فلسطین میں جبر کے مناظر ان کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ داعش کا ہر حملہ اور اس کے بنائے گئے لشکر وں کا ظلم ایسے مسلمانوں ہی پر ہوتا ہے جو امریکہ کی غلامی سے دور بھاگتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گرد گروہ کو پناہ گاہیں کون دے رہا ہے؟ فنڈنگ کون کررہا ہے ۔ مدد کون فراہم کر رہا ہے ؟ اس کا بڑا آسان سا جواب ہے کہ آپ دیکھیں کہ ۔ داعش کس کے مقاصد پورے کر رہی ہے؟ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کسی سے بھی پوچھا جائے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف کس کا مشن پورا کر رہی ہے۔ پھر اس بارے میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کا دعویٰ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعشی جنگجوئوں کو امریکی افواج سپورٹ کررہی ہے۔ داعش سے نمٹنا صرف افغان طالبان کی ذمہ داری نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک ۔۔۔ پاکستان، ایران، چائنا، وسطی ایشیائی ریاستیں اور روس ۔۔۔ کے لئے اس ناسور کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں یہ پورے خطے کوایک نئے عذاب سے دوچار کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکو یاد ہو تو دو ہزار سترہ میں سندھ میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی داعش ہی نے قبول کی تھی جس میں نوے کے قریب زائرین شہید ہوئے تھے۔ حال ہی میں بلوچستان کے ضلع مچھ، مستونگ میں حملوں کے پیچھے بھی داعش کا ہاتھ تھا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی یہ تنظیم اپنی موجودگی کا ثبوت دیتی رہی ہے۔

    دوسال قبل اس تنظیم نے افغانستان کی طرز پر پاکستان میں ’’دولت اسلامیہ ولایۃ ‘‘ کے نام سے اپنا فرنچائز کھولا تھا ۔ افغانستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران جتنے بھی حملے ہوئے۔ اس کی ذمہ داری اعلانیہ طور پر اس تنظیم نے قبول کی ہے۔ تو اس کا قلع قمع کرنا صرف طالبان حکومت ہی نہیں خطے کے تمام ممالک کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ آخر میں بس یہ بتا دوں کہ آپ امریکہ طالبان کے خلاف تمام پابندیوں کو ایک طرف رکھیں اور یہ دیکھیں کہ امریکہ ان لوگوں پر پابندیاں کیوں عائد نہیں لگاتا جو افغانستان کو لوٹ کر بھاگے ہیں اور امریکہ میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔۔ تازہ خبر ہے کہ افغانستان کے سابق وزیر دفاع عبدالرحیم وردک کے بیٹے داؤد وردک نے los angles میں 20.9 ملین ڈالر کی ایک عالیشان حویلی خرید لی ہے۔ داؤد وردک miami beach کے مہنگے ترین resort میں 5.2 ملین ڈالر کے ایک یونٹ کے مالک بھی ہیں۔ امریکہ کی اس خرید و فروخت پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ کیا پابندیاں صرف طالبان کے لیے ہی ہیں۔

  • اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    بہت سے لوگوں کو ایک غلط فہمی ہے کہ امریکہ نے چونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی امداد میں کمی کردی ہے لہذا امریکہ نے از خود سپر پاور ہونے سے دستبرداری کر لی ہے۔ حالانکہ اصل صورتحال مختلف ہے امریکہ نے روس کا خطرہ کم ہونے پر امداد بند کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی عسکری بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ امریکہ آج بھی دنیا کا بڑا پلیئر ہے۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ کو اب سمندروں پر اجارہ داری بر قرار رکھنے کے مسائل در پیش ہیں۔

    اب امریکہ نے خاص حکمت عملی کے تحت جنوبی ایشیا، سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے اپنی توجہ ہٹا کر بحیرہ ہند ، انڈین پیسفک اور ساوتھ چائنہ سی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ۔ اس وقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ چین ہے ۔ آج کا امریکہ چین کی ابھرتی طاقت اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان نظر آتا ہے۔ چین کے خلاف چار ملکوں کی سوچ اور انڈرسٹینڈنگ چند سال سے واضح ہے۔ ان چار ممالک میں امریکہ کے علاوہ جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ پھر ابھی دو روز قبل کی خبر ہے جس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین کو 21ویں صدی میں امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی خطرہ قرار دیتے ہوئے چین سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کا خصوصی چائنا مشن سینٹر قائم کردیا ہے۔ ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز نے کہا ہے کہ چائنا مشن سینٹر کا مقصد چین کی جانب سے درپیش عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ آسان الفاظ میں امریکہ نے چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں اب تک سات اقدامات اٹھائے ہیں ۔
    New China Monitor Centre in CIA
    Five Eyes Partnership
    Pacific Deterrence Initiative
    Quad
    Integrated Defence
    AUKUS
    Tech Grouping

    اب یہ تمام معاہدے اور گروپنگ ایسی ہے ۔ جس کے بعد یہ تواتر کے ساتھ خبریں چل رہی ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کسی وقت بھی چھڑ سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے دھیمے لہجے میں سرد جنگ کہا جاتا تھا مگر اب اسے تیسری عالمی جنگ کہا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی چین ترقی کی عالمی دوڑ اور عالمی سپر پاور کا درجہ لینے کے کھیل میں بہت آگے نکل گیا ہے ۔ اس کی معیشت تمام اندازوں سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔ اس کو کرونا سے لے کر کوئی بھی اتحاد اور ٹریڈ وار روک نہیں پا رہی ہے ۔ جو ذہن میں رکھنے کی چیز ہے وہ یہ ہے کہ آج جس سرد جنگ کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے اس کی نوعیت جیواکنامک ہے۔ ٹیکنالوجی اس دوڑ کا اہم ستون ہے کہ موجودہ دور میں جو قوم ٹیکنالوجی میں آگے ہوگی وہی تیز اقتصادی ترقی کرسکے گی۔ ٹیکنالوجی کی جنگ کی ایک مثال چین کی (Huawei) کمپنی ہے جو ٹیکنالوجی میں خاصی آگے ہے۔ پھر امریکہ سمجھتا ہے جنوبی ایشیا کے معاملات کو سنبھالنے کیلئے اس کا نیا اتحادی انڈیا کافی ہے جس نے 2020 سے لیکر اب تک چین سے کئی بار مار کھائی ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی میڈیا نے ارونا چل پردیش میں چینی فوجیوں کو زیر حراست رکھنے کے دعوے کئے تھے جس پر چین نے بھارتی فوجی قیدیوں کی تصاویر جاری کر کے ان کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ پھر ایک ہفتے پہلے چینی فوج بڑے آرام سے اتراکھنڈ میں پانچ کلومیٹر تک اندر آئی ۔ پل تباہ کیا۔ اور واپس چلی گئی ۔ کسی بھارتی سورما میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ چینی فوج کا سامنا کرے ۔ دراصل چین بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس نے کواڈ گروپ میں شامل ہو کر اچھا نہیں کیا اور اسی لیے مستقبل میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت نے اس میں شامل ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس خطے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا بغل بچہ بن کر رہے گا ۔ اس بات کا چین بھارت کو مسلسل سبق سیکھا رہا ہے ۔

    آپ دیکھیں ففتھ جنریشن وار ہو ، بیانیہ کی جنگ ہو ، پراپیگنڈہ ہو ، سرحدوں پر معاملات ہو ، عالمی پلیٹ فارمز پر ایجنڈہ ہو ۔ چین پر محاذ پر اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے ۔ امریکہ کی بد قسمتی یہ ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں بھارت کے علاوہ اس کا عزت سے نام لینا والا کوئی ملک بچا نہیں ہے ۔ روس چین، سنٹرل ایشیاء کے ممالک ، پاکستان ، ایران ، ترکی سب امریکہ کے جارحانہ رویے سے نالاں ہیں۔ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کیلے کوئی تیار نہیں ہے۔ امریکہ بھی عالمی سطح پر بڑے منصوبے لانچ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ پر اس کی دال نہیں گل رہی ہے ۔ اسی وجہ سے امریکہ میں چین کے لیے ایک سخت مخالفانہ ماحول ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی تک چین نے اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے ۔ الٹا امریکہ کے لیے پیغام دیا جا رہا ہے کہ چین کی جو پالیسیاں ہیں۔ وہ اپنی جگہ درست ہیں اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ان پالیسیوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ ۔ ساتھ ہی چین کا لب ولہجہ سخت ہو رہا ہے۔ سفارتی سطح پر چین کے ۔۔۔ وولف واریئرز ۔۔۔ جارحانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جس میں وہ مصلحت آمیز رویے کے بجائے تصادم کا لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی تمام تر پریشر اور مغربی میڈیا کے پراپیگنڈہ کے باوجود چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا دیا ہے کہ تائیوان کو دوبارہ چین کا حصہ بنانے کا عمل ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ ہم یہ عمل پرامن طریقے سے کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ چین کے لوگ علیحدگی کے خلاف جدوجہد کی ایک عظیم داستان رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی چینی عوام کے مضبوط عزم ، پختہ ارادے ،قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے ۔ پر یہاں پر امریکی دوغلا کردار دیکھائی دیتا ہے ایک جانب اس نے تائیوان کو آگے لگا کر اب چین کے سامنے مرنے کے لیے اکیلے چھوڑدیا ہے ۔ یہ ہی ڈر بھارت اور جاپان کو بھی ہے کہ امریکہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کیا جاپان ، آسٹریلیا اور انڈیا اپنے کندھے آسانی سے امریکہ کو پیش کردیں گے۔ انڈین لیڈرشپ خوب جانتی ہے کہ امریکہ انہیں چین سے لڑا کر ایک طرف ہو جائے گا اور نتائج انڈیا بھگتے گا۔ ۔ پھر انڈین یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر ایٹمی آبدوزیں آسٹریلیا کوکیوں مل رہی ہیں۔ اس پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جب چاروں ممالک میں چین مخالف ایجنڈا پر اتفاق کسی حد تک موجود تھا تو پھر تین ممالک (امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا) کا نیا گروپ کیوں بنایا گیا؟

    انڈیا کی سابق سیکرٹری خارجہnirpama rao نے اس نئے اتحاد کو چار رکنی اتحاد کی پیٹھ میں سٹریٹیجک چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس لیے جو حالات دیکھائی دے رہے ہیں ۔ انڈیا امریکہ کی خاطر چین سے نہیں لڑے گا بلکہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلے گا۔ امریکہ سے وہ پہلے ہی کافی فائدے اٹھا چکا ہے۔ ۔ اسی لیے اس دفعہ سرد جنگ میں وہ تیزی نظر نہیں آئی جو گزشتہ صدی کی کولڈوار میں تھی۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلی سرد جنگ میں یورپی ممالک پوری یکسوئی سے امریکہ کے ساتھ تھے۔ وہ نیٹو میں بھی شامل ہوئے جبکہ اکیسویں صدی کی کولڈوار کے ساتھی بشمول انڈیا اور جاپان دل و جان سے امریکہ کے ساتھ نہیں لگتے۔ ان کے چین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ہیں ۔ پھر صدر شی بھی دنیا کے سٹیج پر چین کا جارحانہ امیج دکھانے کے حامی رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد سے انہوں ان اقدامات پر زور دیا ہے کہ چین زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرے اور اپنے اندر فائٹنگ سپرٹ پیدا کرے۔ ہانگ کانگ ، تائیوان ، لداخ اس کی مثالیں ہیں ۔ چین کی اس پالیسی سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفارتی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی ضروری نہیں سمجھتا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہانگ کانگ اور تائیوان پر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس طرح وہ ہمالیہ سے لے کر ساوتھ چائنہ سی تک پائے جانے والے علاقائی تنازعات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت چین خاموشی سے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی طاقت اور برتری کا خوف لوگوں کے ذہنوں سے چھو منتر ہو رہا ہے ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی۔ دنیامیں برتری اور خدمت کا تاج مشرقی قومیں پہنیں گی۔

  • تدفین پر بھی یو ٹرن تحریر: ذکیہ نّیر

    فیصل مسجد کے احاطے میں قبر کھودنے کے مناظر سبھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیکھے وہ آخری آرام گاہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تیار کی جارہی تھی قبر کھود دی گئی اینٹیں بھی رکھ لی گئیں مگر نمازِ جنازہ کے فوراً بعد انہیں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں دفنا دیا گیا ایسی کیا جلدی تھی یا پھر کون سا ایسا خوف تھا کہ تدفین قومی ہیرو کی وصیت کے مطابق نہ کی جاسکی جو کارنامہ ڈاکٹر صاحب نے اس مملکت کے لیے سر انجام دیا انکا تو جنازہ بھی اس شایان شان نہ تھا۔وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے رسماً ڈاکٹر صاحب کی وفات پر "صرف”افسوس کا اظہار ہی کیا جبکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تدفین مرحوم کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد میں ہوگی مگر اس معاملے پر وزیراعظم کا یو ٹرن تب قوم نے دیکھا جب نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ایمبولینس کے ذریعے ایچ ایٹ پہنچا دفنا دیاگیا۔ زندہ دل اور احسان مند قوم کی ایک بڑی تعداد نے جنازے کو کندھا دیا نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی ک فیصل مسجد کو جانے والی سڑک بلاک ہوگئی شہریوں نے "ڈاکٹر قدیر زندہ باد”کے نعرے لگائے سرخ گلاب بھی نچھاور کیے کچھ لوگ بین کرتے بھی دکھائی دئیے ہر آنکھ اشکبار تھی ہر سر جھکا ہوا تھا ہر نظر چھپتی پھر رہی تھی کہ جو سلوک انکی زندگی میں روا رکھا گیا اس پر شرم ہی محسوس کی جاسکتی تھی خیر پاکستانیوں کی محبت نے ثابت کیا کہ وہ عام آدمی کے ہیرو تھے اور رہیں گے ۔
    امید تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے کی پہلی صف میں وزیراعظم،صدر پاکستان ،چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ ، گورنر اور قومی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے جنکی وہاں موجودگی پوری دنیا کو بتائے گی کہ قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت اور احترام کیسے دیا جاتا ہے مگر دکھ ہوا یہ دیکھ کر کہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے وزیراعظم صاحب تک نہ پہنچ سکے جبکہ اسی وقت وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے، برائے نام گارڈ آف آنرز کے بعد پاکستانی پرچم ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو تھما کر ساری رسمیں ادا کر دی گئیں۔۔۔ یہ سب مناظر اتنے حیرت انگیز تھے کہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہم واقعی بدلے ہوئے پاکستان میں  ہیں نہیں ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مشرف دور میں تھے جب اپنے ہی سائنسدان پر الزامات لگا کر انہیں نظر بند کر دیا گیا آذادی سلب کر لی گئی مرتبہ مقام سب چھین لیا گیا گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا جسکے کہنے پر کیا گیا ہم نے تو نمازِ جنازہ میں ہی ثابت کر دیا کہ آج بھی ہم انہی کے غلام ہیں خود مختاری کے دعوے تو رائیگاں ٹھہرے جن میں اتنا بھی دم نہیں کہ جیتے جی نہ سہی مرنے کے بعد وفادار پر سے غدار کا لیبل اتارنے کی جرات کر سکیں۔۔۔پھر مشرف کیوں گناہ گار انکے بعد کتنی حکومتیں آئیں گئیں جس نے ڈاکٹر صاحب کی عزت و رتبہ بحال کیا؟؟؟کس نے انہیں وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار تھے ہم تو اس قدر "باندی” کردار کے عادی ہوچکے کہ ہم نے مرے ہوئے قدیر خان کو بھی مار دیا ۔۔ 

    مجھے یاد ہے جب ان پر ایٹمی راز ادھر ادھر کرنے کے سنگین الزامات لگا کر انہیں پانچ سال پابند سلاسل کیا گیا تھا بعد میں عدالتی احکامات جاری ہوئے کہ انکی قید ختم کی جائے مگر انہیں نظر بند ہی رکھا گیا جب جوہری ٹیکنالوجی کو لیبیا شمالی کوریا اور ایران منتقل کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تو ان سے زبردستی سرکاری چینلز پر اعتراف بھی کرایا گیا تو وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ سچ بہت جلد سامنے لاؤں گا کس کے کہنے پر ان کے سر سارے الزام دھرے گئے اور اسکے پیچھے وجوہات اور مفادات کیا ہیں مگر پھر وہ خاموش ہوگئے بعد میں ایک ہی بات کہا کرتے تھے "وطن اگر ایک آدمی کے بیان سے بچ جائے تو یہ بہتر ہے” لفظ لفظ میں ریاست سے وفاداری کی خوشبو مہکتی ہے مِٹی کے لیے ایسی قربانیاں عام لوگ نہیں دیا کرتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وقار اپنی آزادی اپنے نام کو ریاست ہر قربان تو کر دیتے ہیں مگر اسکی سالمیت کو کسی طور خطرے میں نہیں دھکیلتے تبھی28 مئی کو پوری دنیا نے ایک ایسے ملک کو ایٹمی قوت بنتے دیکھا جو آزادی کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں گنوایا جاتا تھا جسکی معیشیت کا دارومدار بیرونی قرضوں اور امداد پر تھا مگر عبدالقدیر نے پاکستان کو قوت دی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جرات دی ڈاکٹر صاحب سے جب بھی بات ہوتی ہے پاکستان سے شروع ہوتی اور پاکستان ہر ہی ختم ہوتی جبکہ اس محب الوطن پاکستانی کے ساتھ ڈگڈگی پہ ناچنے والوں نے جو سلوک کیا شاید وہ تاریخ میں کالے حروف سے لکھا جائے گا۔
    وہ حقدار تھے کہ وفات پر قومی سطح پر سوگ کا اعلان کیا جاتا تعطیل دی جاتی تین دن پرچم سرنگوں رہتا انکی وصیت پر لفظ بہ لفظ عمل ہوتا انکے جسد خاکی کو ریاست کے اعلیٰ عہدیدار خود لحد میں اتارتے،قبر پر پاکستانی پرچم لہرایا جاتا اعلان کیا جاتا کہ بچوں کی نصابی کتابوں میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات کو بطور مضمون شامل کیا جائے گا موجودہ حکومت جو کہتی پھرتی ہے کہ وہ کسی "اور” کے حکم کے تابع نہیں یہ وقت تھا ثابت کرنے کا کہ یہ بات لفاظی تک محدود نہیں واقعی اب پاکستان خودمختاری کی جانب قدم رکھ چکا ہے جہاں ترجیحات وہی ہونگی جو ملک کی آبرو کو دوام بخشیں جو ہمارا ہیرو ہے وہ ہیرو ہی ہے چاہے لاکھ دنیا اسے وِلن گردانتی پھرے۔۔۔اے کاش ہم حقیقتاً آذاد ہوسکیں۔۔ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں ہوسکے تو ہم احسان فراموشوں کو معاف فرمائیے گا۔

    NayyarZakia@

  • پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    میرے پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے جب پانامہ پیپرز منظر پر آئے تو جن جن افراد کے نام تھے ان میں کافی افراد نے اپنے اپنے آس پاس یا حلقہ احباب کو مطمئن کرنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں دی ،ن لیگ نے اسے پاکستان کے خلاف عالمی سازش ،مولانا فضل الرحمن نے اسے یہودی سازش قرار دیا ،نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے تو پانامہ کو نظریہ پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ،خواجہ آصف نے بڑے فخر سے اس وقت کے وزیراعظم  نواز شریف کو اسیمبلی میں کھڑے ہوکر کہا کہ میاں صاحب آپ بے فکر ہوجائیں یہ پانامہ ڈرامہ بھی لوگ بھول جائیں گے کوئ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،شہباز شریف نے پانامہ کو پاجامہ سے تشبیہ دی مطلب ہر اس بندے نے اپنے اپنے طرز سے پانامہ کے خلاف بیان بازی کی جس کی جماعت کا لیڈر یا حلقہ احباب کے بندے کا اس پانامہ میں نام آیا ،اس وقت عمران خان صاحب اپوزیشن میں تھے انہوں نے کھل کر پانامہ میں نام آنے والے لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے بے نقاب کیا اور پاکستانی قوم کو بتایا کہ کس طرح اس ملک کا پیسہ لوٹ کر ان لوگوں نے باہر آفشور کمپنیاں بنائ ہیں ،اس کے علاوہ شفاف تحقیقات اور کڑے احتساب کے لئے عمران خان صاحب نے ایک مکمل تحریک چلائ اور آخرکار سپریم کورٹ جاپہنچے جہاں پر مکمل چھان بین اور تمام قانونی پہلووٴں کا جائزہ لیا گیا ،یاد رہے آفشور کمپنی تب تک جرم نہیں جب تک یہ ثابت نا ہوجائے کہ اس کمپنی کو بنانے کے لئے جو پیسہ استعمال ہوا وہ پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجاگیا اس پیسہ کا پاکستان میں کوئ حساب کتاب نہیں دیا گیا اور ناہی ٹیکس ادا کیا گیا ،سپریم کورٹ نے ان تمام قانونی نکات پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے جواب طلب کیا لیکن نواز شریف حساب کتاب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور کئ عرصے تک چلنے والے اس کیس میں نواز شریف اپنے حق میں کوئ واضع ثبوت پیش نا کرسکے جس کی نتیجے میں آخر کار نواز شریف کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت 28جولائ 2017کو نااہل قرار دے دیا جس کے بعد ن لیگ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بڑا شور شرابہ کیا ،ججز اور اعلی اداروں کے خلاف ایک مکمل کمپئین چلائ یہ تو تھی  پانامہ پیپرز کے بعد کے حالات ،ابھی چند دن پہلے پانامہ طرز کا پنڈورا پیپرز بھی سامنے آیا جس میں پاکستان کے 700 سے زائد افراد کا نام اس میں شامل ہیں جن کی آفشور کمپنیاں نکل آئ ہیں اب وہی ن لیگ ،مولانا فضل الرحمن سمیت تمام پی ڈی ایم کے لوگ اس پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم عمران خان صاحب سے بھی استعفی کا مطالبہ کردیا حالانکہ اس میں وزیراعظم عمران خان صاحب کا کوئ ذکر تک نہیں آیا ،پانامہ کو عالمی سازش کہنے والے لوگ اب پی ٹی آئ کے جن افراد کا نام آیا ہے ان کا کڑا احتساب چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحقیقات ہونے سے پہلے ان کو کرپشن میں ملوث قرار دے رہے ہیں ،اب ان سے کوئ بندہ پوچھے جب پانامہ عالمی ،یہودی سازش تھی تو پنڈورا کوئ سازش کیوں نہیں ؟پنڈورا بھی جاری تو انہی لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے پانامہ پیپرز جاری کئے تھے 

    بہرحال وزیراعظم عمران خان صاحب نے اسے کوئ سازش قرار نہیں دیا بلکہ اس پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کے سخت احتساب کا اعلان کرکے ایک اعلی سطحی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی نگرانی وزیراعظم صاحب خود کریں گے اور پوری قوم پر امید ہے کہ اس تحقیقات کے بعد جو بھی غیر قانونی طور پر اس میں ملوث پایا گیا اس کو پاکستانی قانون کے مطابق  سزادی جائے گی اور وزیراعظم کسی بھی ایسے اپنی پارٹی کے بندے کی کوئ حمایت نہیں کرے گا جب تک وہ اس میں خود کو بیگناہ ثابت نہیں کرتا وزیراعظم عمران خان صاحب کے اس اعلان کو نا صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی دنیا نے بھی سراہا ہے اور یقینن یہ ایک کرپشن سے پاک پاکستان کی طرف ایک احسن قدم ہے 

    باقی کسی بھی اپوزیشن کی جماعت کو وزیراعظم کے اس تحقیقاتی کمیشن پر کوئ اعتراض ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب اپنے بندوں کو کوئ رعایت دیں گے تو وہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں ،جس طرح عمران خان صاحب اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پانامہ پیپرز پر سپریم کورٹ گئے تھے اسی طرح اس وقت کی اپوزیشن کے پاس بھی یہ آپشن موجود ہے اور ان کو اگر کہیں کوئ چیز صحیح نا لگے تو ان کو جانا چاہیے سپریم کورٹ کی طرف ،باقی صرف باتوں ،دھمکیوں اور خالی سیاست کے لئے بیان بازی سے اپوزیشن کو کوئ فائدہ نہیں ہونا 

    @MajeedMahar4