Baaghi TV

Category: سیاست

  • جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو چار صوبوں میں میں تقسیم کیا گیا صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور سرحد شامل ہیں اور بعد میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا ۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا صوبہ ہے اور صوبہ پنجاب کو پھر دو حصوں میں شامل کیا گیا شمالی پنجاب و جنوبی پنجاب ۔ شمالی پنجاب جسے اپر پنجاب بھی کہا جاتا ہے گزشتہ تیس سے چالیس سالوں میں حکمران طبقہ اپر پنجاب سے منتخب ہوتا رہا ۔ جہنوں نے اپر پنجاب کو خوب نوازا اور جنوبی پنجاب کو اپر پنجاب کی نسبت محروم رکھا گیا کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب اپر پنجاب سے کیا جاتا تھا تو وزیرِ اعلیٰ  نے اپر پنجاب خاص کر اپر پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو خوب نوازا ۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور کے فی کس آدمی پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زائد لگائے گئے جبکہ جنوبی پنجاب کے فی کس آدمی پر صرف اور صرف بیس سے پچیس ہزار روپے لگائے گئے ۔ جس سے اپر پنجاب ترقی کے لحاظ سے بہت آگئے نکل گیا اور جنوبی پنجاب بہت پیچھے رہ گیا ۔ اس بات کا اندازہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہونے لگا کہ ہمیں محروم رکھا جارہا ہے جس پر انہوں نے اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا شروع کر دیا ۔ منتخب نمائندوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا تو انہوں نے سوچا کہ اس مسلے کا صرف ایک ہی حل ہے وہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔ اس طرح دو ہزار اٹھارہ کے عام الیکشن میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کا ایک گروپ ابھر کر منظر عام پر آیا ۔ جس میں موجودہ اور سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے شامل ہوگئے جن کی سربراہی مخدوم خسرو بختیار کررہے تھے ۔اس وقت کے حکمراں جماعت کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے اس گروپ سے ملاقات کی ۔ جب خان صاحب نے ان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا مواقف جانا تو جنوبی پنجاب محاذ کے نمائندگان اور عمران خان صاحب کا ویژن ایک ہی تھا کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ان کو برابری کی سطح پر لانا تھا۔ دو نہیں بلکہ ایک پاکستان کا ویژن تھا ۔ اس گروپ نے پی ٹی آئی شمولیت اختیار کرلی اور الیکشن کے بعد جنوبی پنجاب میں عمران خان صاحب نے بہت بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تقریباً جنوبی پنجاب سے تقریباً کلین سوئپ کیا اس طرح خان صاحب پنجاب اور وفاق میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کی وجہ سے حکومت ممکن ہوئی ۔ اس کے بعد خان صاحب کا جنوبی پنجاب کے لیے سب بڑا قدم یہ تھا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا ۔جو کہ تمام لوگوں کے لیے سرپرائز تھا کیونکہ خان صاحب نے ایک ایسے علاقے سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جوکہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا ۔ جنوبی پنجاب سے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے سے سے جنوبی پنجاب کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ وزیرِ اعلیٰ نے کافی حد تک جنوبی پنجاب کے مسائل حل کئے جس میں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کا قیام ، ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کر اور 15 محکموں کے سیکرٹریز تعینات کیےگئے۔

     اس کے علاؤہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 37 فیصد حصہ بجٹ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مختص کیا جس سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو احساس ہوا اس دفعہ واقعی ان کے محرومیوں کا ازالہ ہوا ہے لیکن ممکن نہیں کہ ایک دورے حکومت میں تیس چالیس سالوں کے مسائل حل ہوں۔ انشاء اللہ دو ہزار تیئیس کے عام انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنے جائے گا اور مزید جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ 

    @Wah33d_B

    IMG_20210903_213041.

  • ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    سوال اس وقت یہ ہے کہ ٹی ایل پی والا معاملہ جو ہے اس کو جان بوجھ کر اتنا خراب کیوں کیا گیا ہے ۔ اس کا فائدہ کس کو ہوا ہے ؟

    ۔ میری نظر میں اس کا تمام فائدہ حکومت کو ہوا ہے اور سارا معاملہ حکومت نے جان بوجھ کر خراب کیا ہے اور آگے یہ مزید خراب کریں گے ۔

    1۔ مہنگائی حکومت سے کنڑول نہیں ہو رہی ۔
    2. بیڈ گورننس
    3. ڈینگی
    4. ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا معاملہ
    5.مہنگا پیڑول
    6. آئی ایم ایف سے معاہدہ ناکام، پھر آئی ایم ایف کا مطالبہ کہ پیٹرول 30 روپے مزید مہنگا کرو ۔
    7۔ فارن پالیسی فیل ، پاکستان اس وقت دنیا میں تنہا ہے ۔
    8. پھر تین دن تک عاصمہ شیرازی کے کالم کو ہوا بنا دیا گیا ۔ حالانکہ ایسا تبرہ روز ہر دوسرے کالم میں حکومت پر ہوتا ہے ۔ اور ہو بھی کیوں نہ جب حرکتیں ہی ایسی ہیں تو شور تو مچے گا ۔
    9. پی ڈی ایم کا مہنگائی پراحتجاجی کال کو دیکھیں
    10. اکانامی ان سے سنبھل نہیں رہی ۔
    11. ایف اے ٹی ایف پر ان کو پھر سبکی ہوچکی ہے کہ میڈیا مالکان پر پریشر ڈالتے رہے ہیں کہ اس کو ہماری جیت بنا کر پیش کرو کہ ہم ابھی بھی گرے لسٹ میں ہیں بلیک میں نہیں گئے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو حکومت پر عوام کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر اپوزیشن کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر عسکری اداروں کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر میڈیا کا پریشر تھا

    ۔ تو ان سب پریشرز کو ختم کرنے کے لیے کوئی بڑا شو کرنا تھا اور حکومت نے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جان بوجھ کر ٹی ایل پی والا معاملہ مس ہینڈل کیا ۔

    ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ دیکھیں ٹی ایل پی نے پندرہ روزہ پر امن احتجاج کیا ایک شیشہ نہیں ٹوٹا ۔ اس کے بعد دو دن کے الٹی میٹم بھی گزر گیا ۔ اور جب پرامن لانگ مارچ شروع ہوا ۔ تو ایک جانب ایم اے او کالج کے پاس پنجاب پولیس خوب شیلنگ کررہی تھی تو عثمان بزدار ٹویٹ کر رہے تھے کہ میں مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے ۔ تو ٹی ایل پی کو ہینڈل کرنا چاہتے تو پہلے دن ہی کر لیتے ۔ پھر آپ دیکھیں آج الصبح ٹی ایل پی کے پر امن کارکنوں پر شیلنگ ، آنسو گیس اور گولیاں ماری جا رہی تھیں ۔ یہ جان بوجھ کر ان کو متشدد کرنے کی کوشش تھی ۔

    ۔ پر ٹی ایل پی کی قیادت نہ اپنے کارکنوں کو پولیس پر جوابی کاروائی سے روک کر یہ منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ ۔ اس تشدد اور ظلم کے بعد ٹی ایل پی کے وہ کارکن بھی باہر آگئے جو گھروں میں تھے بلکہ بہت سی جگہوں پر عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے ۔ ۔ یوں حکومت نے خود ان کو افرادی مدد بھی پہنچائی ۔ اور اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ یک دم پولیس بھی ہر جگہ سے غائب ہوگئی۔ کنٹینر اور جو خندقین انھوں نے کھودیں ۔ وہ بھی غائب ہوگئیں اور آئی جی پنجاب کی بھڑک بھی ٹھنڈی ہوگئی کہ میں ٹی ایل پی کو کسی صورت لاہور سے باہر نہیں جانے دوں گا ۔ ۔ تو یہ سب پلان کا حصہ ہے ۔ آپ دیکھیں کہ ٹی ایل پی والے ایک آدھ دن میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے ۔ اور سب اس پر ہی لگے رہیں گے ۔ صرف ٹویٹر پر تین دن سے ٹاپ ٹرینڈ ٹی ایل پی کا ہے ۔ سوشل میڈیا اور ہر جگہ ان کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہیں ۔

    ۔ پھر آج عمران خان پھر ایک نئی کمیٹی بنا دیتے ہیں۔ شیخ رشید کو بھی ہنگامی طور پر دبئی سے بلا کر لاہور پہنچا دیتے ہیں ۔ پر اس دوران دس سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں چاہے وہ پولیس کے ہوں یا ٹی ایل پی کے ۔ ہیں تو پاکستان کے شہری ۔۔۔ ۔ اس وقت بھی سینکڑوں زخمی ہیں ۔ اور جو اذیت دو دنوں سے لاہور اور اسے ملحقہ شہریوں نے اٹھائی ہے ۔ جو حکومت نے جگہ جگہ موبائل سروس بند کرکے اور کنٹینر لگا لگا کر جو عوام کا جینا حرام کیا اور جو کاروبار کا نقصان ہوا ہے ۔ میری نظر میں اس کی ذمہ دار حکومت وقت ہے ۔ جس کے پاس ہر مسئلے کا حل صرف ایک ہے کہ اس سے بڑا مسئلہ کھڑا کر دو ۔ اور لوگوں کی ان کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دو۔

  • عالمی ترقی،برصغیرکا ذہنی اخلاقی زوال کا باعث تحریر : عظیم بٹ

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کراہ ارض پر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی جدت نے انسانوں کو قریب لانے کا بیڑا اٹھایا تو قریبا پچھلے دو ہزار سالوں میں انسانی رویوں میں بے تحاشہ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔یہ تبدیلیاں اکثریت میں مثبت تھیں جن میں انسان کو دوسرے انسان کے لئے سہولیات پیدا کرنے کا اداراک ہوا۔انسان کے احساس اور حقوق نامی جذبات کی بنیاد پڑی۔ہم نے دیکھا کہ جیسے کوئی معاشرہ ترقی کرتا گیاوہاں لوگوں کے مابین اخلاقیات کی سطح میں اضافہ ہوا۔

    اگر ہم دنیا پر پچھلے کئی ہزار سالوں سے اپنا اثر رکھنے والی طاقتوں کا بغور مشاہدہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ امریکہ اور یورپ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار قرار دئیے گئے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انسانی حقوق کو اپنی بنیادی ضروریات کی طرح اپنے رسم و رواج میں شامل کیا حالانکہ اس کے برعکس وہاں ٹیکنالوجی نے بھی دنیا میں ایک انڈسٹریل انقلاب کی بنیاد رکھی جس سے ان کے رہن سہن میں تبدیلی اور دنیا پر اثر انداز ہونے کے معاملات آگے بڑھے مگر ان کی انسانی حقوق کی روش نے ان کے اس طاقت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا ان کے ساتھ جڑنے لگی۔

    جہاں دنیا نئے رسم و رواج کو اپنا کر اپنے وحشی پن اور جنگ و جدل کے معاملات کو مدفون کرنے میں مصروف رہی وہاں برصغیر میں احساس کمتری کے بڑھتے رجحان نے ان کو اخلاقی پستی کی طرف ایسا دھکیلا کہ اب تک اس کے بدبو دار سحر سے یہ خطہ نہیں نکل پا رہا۔برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل قریبا 3سو سال پہلے ہندو ، مسلم،عیسائی،پارسی سمیت کئی مذاہب کا مجموعہ اس خطے میں ایک خوبصورت باغیچے کی سی صورت پیش کرتا تھا اور اس وقت یہ تمام قومیں اور افراد مل کر خود پر مسلاط مختلف ظالموں سے جان چھڑوانے کے لئے اتفاق میں برکت کو ترجیح دیتے تھے ۔برصغیر میں ظلم کا معیار کسی مذہب سے جڑا نا تھا بلکہ سادہ سا کلیا یہ تھا کہ جو ظالم ہے وہ ظالم ہے ۔مذاہب انسان کے اعتقاد کا معاملہ ہے جو کہ نجی ہےاس پر مشتمل معاشرہ اور یکجا قوم برصغیر میں قیام پذیر تھی۔

    ایسٹ انڈیا کمپنی کے بر صغیر میں آنے کے بعد سے برطانوی راج کے عروج پر ہونے تک برصغیر کی روایت یہی تھی کہ ظالم انگریز ہے نا کہ عیسائی اور برصغیر کے عیسائی افراد ہندو،مسلم،پارسی،جین،بنگال افراد مل کر اس کو یہاں سے نکالنے اور آزادی کی بات کرتے رہے۔جب وقت کا پہیہ گھوما اور مشترکہ محنت سے عوام میں ایک آگ پیدا ہوئی اور انگریز کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا تو اس نے اپنی دوسری شاطرانہ چال کو برصغیر پر یوں پھینکا کہ باغیچہ بکھر کر کلیاں اور کلیاں بکھر کر کانٹوں کا منظر پیش کرنا شروع ہوئیں جو آج تک قائم ہے۔

    انگریز نے اپنی ٹیکنالوجی جس کو اس نے اپنے قابل دماغ سے دنیا میں متعرف کروایا تھا اسی دماغ سے اس نے برصغیر میں اپنا پرانا طریقہ واردات "ڈیوائڈ اینڈ رول” کا استعمال کیا اور نفرت کا بیج جو کہ کئی سالوں سے یہاں نا بویا جا سکا تھا وہ کاشت کیا اس کی بنیادی مثال یہ بھی ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ سنہ 1800 سے قبل یعنی تقریبا ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل برصغیر میں کوئی ہندو ، مسلم ، عیسائی تنازعہ اس سطح کا ہو کہ سب کا ساتھ رہنا کسی دوسرے کے لئے مشکلات کا سبب بنے۔

    انگریز یہاں سے جانا تو پڑ رہا تھا مگر وہ برصغیر کو ایک ایسی کشمکس میں دھکیل کر جانا چاہتا تھا جس سے انگریز کے بھاگنے کا داغ بھی دھل جائے اور برصغیر کی عوام اگلے کئی سو سالوں تک اسی کشکش میں مبتلا رہے کہ آیا اصل دشمن انگریز تھا یا ہندواور مسلمانوں کے مابین اعتقاد کا اختلاف۔ابھی حال ہی میں افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکہ نے بھی برطانیہ جیسی چال کھیلنے کی کوشش تو کی مگر آج کے جدت بھرے دور میں جہاں میڈیا موجود ہو اور معلومات کی منتقلی کا عمل چند سیکنڈ پر کھڑا ہو یہ ممکن نا ہو سکا کہ پنجشیر میں احمد شاہ مسعود اور طالبان کے مابین لڑائی کروا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار کیا جائے۔

    برصغیر کی عوام انگریز کے گولی بارود والی ہتھیار سے تو کامیاب ہو گئی مگر اس طریقہ واردات کے نرگے میں جو آئی تو آج تک نکل نا سکی۔اس وقت پھر مذاہب کا پہیہ گھوما اور سیاست اور حکومت کا معیار اب برصغیر میں مذاہب کے نام پر چلنے لگا۔اس وقت برصغیر میں ہندو مسلمان کے مابین دو قومی نظریہ ایک حالات کی ضرورت بن چکا تھا جس میں مسلمانوں کا اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ سامنے آیا اور پھر اس کے لئے قابل قدر خدمات دیکھنے میں آئیں ۔البتہ ہندوستان کے بانی مہاتما گاندگی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح صاحب انگریز کو برصغیر سے بھانے میں تو کامیاب رہےمگر اپنے درمیان ایسی خلش تھی کہ اپنی تقسیم کا فیصلہ اس دشمن سے کروانے کو راضی ہو گئے جس کوکئی سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنی سرزمین سے بھگا رہے تھے۔

    حالات کا پہیہ جس طرف کو گھوما برصغیرکے افراد نے دونوں جانب ہندوستان اور پاکستان نے اس سے مزاحمت کا کبھی سوچا ہی نہیں اور یہ نفرت کا بیج 70 سال میں اب اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ غالبا گمان ہوتا ہے کہ اس نفرت سے باہر نا نکلنا ہی ہماری بقاء ہے۔ہندوستان نے تو اس پہیہ کو اس رفتار سے گھمایا ہے کہ وہاں انہوں نے مسلمانوں سے نفرت تو ایک طرف اپنے ہی اعتقاد والے چھوٹی ذات کے لوگوں جن کو وہ دلت کہہ کر دھتکارتے ہیں ان کو بھی نا بخشا،ہمالیہ،تامل ناڈو،آسام،اور پھر سکھ حضرات تک کو نا پخشا بلکہ ہندوتوا کا نظریہ کی چکی کو ایسا گھمایاکے لاشیں اورخون بھی ان کی انسانیت کی روح کو دوبارہ زندہ نا کر سکا۔

    وہیں پاکستان 70 سالوں اس سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہا کہ ہمارا پڑوسی ایک دشمن ہے ظالم ہے اور ہمارے بقاء کا مخالف ہے حالانکہ یہ بات کسی حد تک بھارت نے بارڈر پر کھڑے جوانوں سمیت پاکستان کی سلامتی پر کئی بار حملے کر کے ثابت بھی کیا ہے کہ بھارت میں خاص کر اب گزشتہ 10 سالوں میں جس رجحان کا اضافہ ہوا ہے وہ خالصتا ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ہندوتوا کے نظریے کا پرچار ہے چاہے اس کے لئے پورا خطہ جنگ اور خون میں کیوں نا بہہ جائے اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں کہ بھارت اب مہاتما گاندھی کے نظریہ امن بھائی چارہ عدم تشدد کا ملک نہیں بلکہ آر ایس آیس، شیو سینا، ناتھو رام گوڈسے کے نظریے کا ملک ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ وہیں پاکستان سے متعلق بھی اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ 70 کی دہائی سے قبل کا پاکستان اور اب کا پاکستان مکمل طور پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں نا صرف مذہبی جنونیت بلکہ ہر طرح کے شعبے اور سوچ کا یہاں متشدد پن پایا جاتا ہے اس میں وہ روشن خیال افراد بھی شامل ہیں جو خود کو عدم تشدد کا نام لے کر منظر عام پر آتے ہیں مگر ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں کسی کے مخالف نظریات و عقائد کا پاس نہیں رکھتے۔

    اس حوالے سے شاعر کا شعر اس تناظر میں مکمل درست عکس بندی کرتا ہے کہ

    دیکھتا کیا ہے میر منہ کی طرف

    قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

    سنہ 71 کے بعد پاکستان کےحالات اور سوچ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش کا علیحدہ ہونا بھی تھا جس نے پاکستان میں اپنی بقاء کے لئے اس حادثے کے مقابلے مزید مضبوط ہونے کے نام پر اوپر بیان کئے پہیہ کو تیزی سے گھمایا اور اب تک گھما رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک سائنٹسٹ ڈاکٹر ہودبائی نے صحافی نجم الحسن باجوہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دو قومی نظریے کے سوال پر ایک عقلی دلیل داگی تھی کہ دو قومی نظریہ تو سنہ 71 میں خراب تب ہو گیا جب تیسری قوم بنگلہ نے ہم سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ان کی یہ دلیل کتنی درست ہے کون مانتا ہے کون نہیں یہ پڑھنے والوں کی اپنی سوچ پر مبنی ہے مگر تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ جہاں دنیا نے ترقی کی منازل طےکئیں اور دنیا اور نئے رسم و رواج اور اصولوں پر چلی برصغیر مکمل طور پر عدم برداشت اور اخلاقی پستی کا شکار ہوا ہے اب اس کی وجہ برصغیر کے لوگوں کی کم عقلی کہیں یا بیرون ممالک کی سازش یہ سوچ آپ کے اطمئان قلب پر منحصر ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے غالب کہتے ہیں کہ ‘دل پہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب’

    Find out more Opinion on Twitter 

    @_azeembutt 

  • ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    جہاں پاکستانی عوام کو دوسرے مسائل درپیش ہیں وہی پر ایک بہت بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جو کسی بھی عام شہری اور مزدوری کرنے والے شخص کے نزدیک کسی ہارٹ اٹیک سے کم نہیں ہے۔ موجودہ حکومت سے جب مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو بظاہر ہمیں ان سے صرف ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی خوفناک لہر کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں لیکن حکومت ان تمام معاملات کے ساتھ ان ممالک کا تذکرہ بالکل نہیں کرنا چاہتی جنہوں نے اس مشکل دور میں بھی اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان سے ڈبل ہوگئی ہے اور انہوں نے کورونا وائرس کی خوفناک لہر میں اپنی معیشت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا لیکن جب ہم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں تو ہمیں یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ چونکہ بنگلہ دیش نے آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی جس کی وجہ سے اسکی معیشت پاکستان سے بہتر ہے لیکن کیا وہ اس موقع پر افغانستان کے حالات پر کچھ کہنا پسند کریں گے کہ انہوں نے ضروریات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک کمی کرنے کے احکامات کیوں جاری کیے ہیں؟ کیا افغانستان نے بھی کبھی جنگ نہیں لڑی؟ کیا افغانستان روز اوّل سے جنگی محاذ کا شکار رہا ہے یا نہیں؟ یہ عجیب منطق ہمیں حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے کارکنان سے سننے کو ملتی ہے۔ بظاہر موجودہ حکمران جماعت اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے بہتر بناتی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا ملبہ اپوزیشن کی کرپشن کی نظر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بظاہر ہمیں وہ اس میں بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔

    یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ حکمران جماعت اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے بعد رعایا کے سامنے اپنی بہترین پالیسیوں کو رکھ کر انکے دلوں میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے یا اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری جیسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اپنے دل میں لگی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ اس حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے کو بہتر سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم مہنگائی کی چکی میں پستی چلی جا رہی ہے۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے عوض لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، لوگ دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہے ہیں، مہنگائی نے برا حال کیا ہوا ہے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے بیروزگار کیا جا رہا ہے، لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کی بجائے پہلے سے تعمیر شدہ گھروں کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسمار کیا جا رہا ہے۔ 

    بظاہر یہ حکومت عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں نہیں بلکہ پریشانیوں کو جنم دینے کے لیے لائی گئی ہے۔ گزشتہ چند روز قبل ایک سنئیر جج نے ریٹائرڈ ہونا تھا انہوں نے اپنے آخری فیصلے میں سوئی سدرن گیس کے تیس ہزار ملازمین کو ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا، ان ملازمین میں کوئی ریٹائرمنٹ کے عین قریب تھا اور کسی نے ساری زندگی اپنے اس محکمے کے نام کرنی تھی لیکن ذرا سی ناانصافی کی وجہ سے تیس ہزار ملازمین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کی وجہ سے بہت سے ملازمین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس حکومت کو آٹا، چینی، گھی، ادویات کی قیمتوں میں کمی لازمی لانا ہوگی ورنہ اس حکومت کا خاتمہ پیپلزپارٹی کی نسبت قدرے زیادہ برا ہوگا اور شاید آپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف ایک یونین کونسل کی جماعت نہ بن پائے۔ عوام نے آپ کو تبدیلی اور سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے ووٹ دیا تھا لیکن آپ نے سہولیات فراہم کرنے کی بجائے پہلے سے سہولیات جو میسر تھی انکو بھی ختم کر دیا۔ اس حکومت کو اپنے کیے گئے فیصلوں پر سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ورنہ رعایا جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو دنیا کی کوئی طاقت رعایا کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔

  • حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    ہوا یہ کہ 12 ربیع الاول کا جو جلوس تھا وہ جیسے ہی اختتام پذیر ہوا تو لاہور میں ملتان روڈ جہاں پہ خادم حسین رضوی کی مزار بھی ہے اور وہاں پہ مسجد بھی ہے تو وہاں پر تحریک لبیک کے جو کارکنان ہیں انہوں نے اس جلوس ایک دھرنے میں تبدیل کر دیا اور یہ کہا گیا کہ تین دن آپ کے پاس ہیں اور ان تین دنوں میں حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ ان دونوں مطالبات پر کام کرنا پڑے گا اگر آپ یہ مطالبات مان لیتے ہیں تو بالکل ٹھیک ہے ورنہ ہم آپ کے خلاف احتجاج کریں گے معاملہ خراب اس وقت ہوا تھا جب نومبر 2020 میں ناموس رسالت کے اوپر بہت زیادہ احتجاج ہوئے اور بہت کچھ ہوا اور بعد میں ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ہیں انہوں نے بھی دستخط کیے اور شیخ رشید نے بھی دستخط کیے اس میں بڑی سیدھی سادی بات تھی کہ ہم جناب جو فرانس کا سفیر ہے پاکستان سے اسکو نکال دیں گے اور اسکو لیکر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی آئی لیکن سفیر کو نکالنے کی بات وہاں پر نہیں ہوئی لیکن حکومت نے اس وقت کمٹمنٹ ضرور کر دی کہ ہم نکال دیں گہ لیکن پھر صورتحال خراب اس وقت ہوئی جب اپریل میں سعد رضوی جب وہ کہیں سے واپس آرہے تھے تو انکو گرفتار کر لیا اور پھر کافی عرصے سے انکو جیل میں رکھا ہوا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آتی ہے لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ کے بعد بھی انکو رہائی نہیں ہو رہی، دو بنیادی مطالبات ہیں جو سامنے رکھے گئے اس میں پہلا کہ سعد رضوی کی رہائی ہر صورت میں تحریک لبیک کے کارکنان چاھتے ھیں اور دوسرا فرانسی سفیر کو اس وقت ملک سے نکالا جائے، 

    اب آتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف کہ اس معاملے اپڈیٹ کیا ہے مذاکرات ہوئے ہیں نہیں ہوئے ہیں حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کی ہے انسے رابطہ کیا ہا نہیں کیا؟

    تو میں آپکو بتا دیتا ہو جب سے یہ اعلان ہوا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ملتان روڈ پر اور نارے لگا رہے ہیں اور انکی کوئی بات نہیں سن رہا اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ اب زاعری بات ہے اس میں حکومتی سفیر یا حکومتی وزیر تو نہیں تھے اس میں سیکیورٹی ایجنسیز کہ لوگ تھے انہوں نے تحریک لبیک کے لوگوں کے ساتھ بات کی لیکن اس وقت تک جو نئی خبر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد اب تحریک لبیک نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جا رہے ہیں اسلام آباد کی جانب تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کردی ہے اور یہ مذاکرات ہونے کی پہلے تحریک لبیک نے تصدیق کی جس کہ بعد ابھی بھی تصدیق کردی ہے کہ انکے جو مذاکرات ہیں حکومت کے ساتھ وہ ناکام ہو گئے اس کے بعد اب تحریک لبیک کے کارکنان لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں لیکن لاہور شہر کے اندر اور پورے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس جو ہے وہ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں انکے لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں داخلی اور خارجی راستے بند کیے جا رہے ہیں دو دن سے ٹریفک کا ماحول انٹرنیٹ سروس درہم برہم ہے لیکن اس دوران سب سے بڑی جو خبر ہے وہ ہے شیخ رشید صاحب کا بیرون ملک جانا شیخ رشید جناب دبئی کے لیے روانہ ہو گئے دو تین دن کا انکا وزٹ ہے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا پاکستان کا میچ دیکھنے گئے ہیں پاکستان کے حالات معمول پر نہیں اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ اس بات پر کہ میچ ضروری ہے یا اس وقت آج لاہور شہر میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلیز الگ سے ہیں اور مزعبی جماعت کا احتجاج اپنی طرف ہے اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ میچ دیکھنے جا رہا ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    1945کے بعد بیشتراقوام عالم پرسے برطانوی سامراج کے بتدریج خاتمے اور انخلاء کے بعد جن چیزوں کا غلام اقوام میں تسلسل ازحد یقینی بنایا گیا ان میں سرفہرست سامراجی نظام انصاف ہے۔ یعنی جو نظام فاتح اقوام نے مفتوحہ اقوام پر اپنا جبرواستبداد برقراررکھنے کے لئے پوری قوت سے نافذالعمل کیا تھاوہی نظام آج تک غلام اقوام جو کہ بظاہر اب آزاد ہو چکی ہیں پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذالعمل ہے۔اس پورے عرض گذاری سے شروع ہونیوالے اور متوفی پر ختم ہونیوالے نظام پر سرسری نظر دوڑانے پر ہی معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظام حصول انصاف کے لئیے ہے ہی نہیں بلکہ ترویج ظلم کے لیئے ہے۔ قول مشہور ہے کہ پاکستان میں حصول انصاف کے لیے آپ کے پاس قارون کا خزانہ اور عمر خضر ہونی چاہئے ۔ یعنی نہ قارون کا خزانہ ہو ، نہ عمر خضر ہو اور نہ انصاف ہو۔پاکستان میں فوجی حکمران آئے ، سول حکمران آئے بڑے بڑے بیوروکریٹ آئے جن کی کتابیں مشہور ہوئیں ہر طرح کے طاقتور لوگ آئے اور ان سب نے اپنی اپنی بھانت بھانت کی پالیسیاں چلائیں، قانون بنائے اور بے شمار خرافات کیں لیکن ان سب نے 74سالوں میں جو ایک مشترکہ چیز یقینی بنائی رکھی وہ یہ تھی کہ کسی طرح اس ملک کا نظام عدل ٹھیک نہ ہو۔حکمران طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس ملک میں فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ان کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں کو بھی نکیل ڈل جائیگی۔ تو لہذا اب مختلف نظریات کی دعویدار انگنت پارٹیاں اور جھنڈے ، بولیاں ایک سیل بے کراں ہے لیکن کہیں کوئی عملی طور پر فوری انصاف کیلئے کام کرتا نظر نہیں آتا نہ آئیگا۔ اس ملک میں سب طرح کے قانون و آرڈیننس بن کر نافذ ہو سکتے ہیں لیکن 14دن کے اندراندر فیصلہ کرنے کے بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد کوئی مائی کا لعل نہیں کروائیگا اور نہ کوئی اس پر بات کریگا ۔اور ایسا نہ کرنیکے صورت میں کوئی اس پر بات نہیں کریگا نہ سروس کٹے گی نہ مراعات۔ سب کو معلوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے ذمرے میں آتی ہے لیکن انصاف میں تاخیر جاری ہے۔ اصل ظلم یہ ہے جس کیخلاف کچھ لوگ بولتے ضرور ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی جتنی بھی نہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ انصاف ،انصاف کی دھائی دینے والے بھی دوسروں کیلیے انصاف جبکہ اپنے لیے ہر قسم کی معافی کے طلبگار ہیں۔
    امریکہ یورپ اور اسکے حواری افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ اب طالبان کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھا اٹھا کر لے رہے ہیں حالانکہ وہی اسلامی قوانین سعودی عرب میں نافذہیں لیکن ادھر تیل اور ڈالر کے اشتراک سے حاصل ہونیوالی دولت کے انبار نظر آتے ہیں اور طالبان بے چارے غریب ہیں اس لیے ان میں نظام میں خرابیاں نظر آتی ہیںجوکہ منافقت ہے۔ امریکہ کو بے گناہوں پر ڈرون حملے کرتے ہوئے کوئی انسانی حقوق یادنہیں آتے اور نہ ہی خواتین کے چادر اور چاردیواری کے حق کی پامالی نظر آتی ہے لیکن طالبان اگرکسی مستند چور کے ہاتھ کاٹ دیں یا بچوں سے بدفعلی کرکے ان کو جان سے مارنے والے درندوں کو چوک چوراہے پر لٹکا دیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق والوںکے پیٹ میں مروزاٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال بیت گئے بلکہ بتا دیے گئے لیکن آجتک اس میں اسلامی قوانین کا بعینہ نفاذ نہیں ہونے دیا گیا۔ کہتے ہیں کوئی قانون یہاں اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنا نہ بن سکتا ہے ۔ تو پوچھنایہ کہ اسلامی ماخذ قانون Islamic Jurisprudenceسے لاکھوں کروڑوں مقدمات کے التوا کا جواز بھی نکال کر دکھا دو۔ یہی ایک بات کہ اس ملک میں بندہ مر جاتا ہے نسلیںبرباد ہوجاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا اس نظام کو غیراسلامی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اس نظام ناانصاف سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ لوئر کورٹس، سیشن کورٹس، ہائی کورٹس، سپریم کورٹس، اسلامی کورٹس سے ایک اپر کلاس کے ظلم کے نظام کو دوام بخشنے کے ادارے ہیںجو بدمعاشیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور غریب کی نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو سولیوں پر ہونا چاہئے تھا وہی لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں۔

  • بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ  تحریر:- فروا نذیر

    بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تحریر:- فروا نذیر

    Twitter : @FarwaSpeaks_
    آج کل نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایک تازہ بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مغربی دنیا افغانستان میں امریکی شکست کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی ترین جنگ ہار چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ نے اس جنگ میں 20 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کیا۔ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ معاشی حوالے سے چین کا مقروض ہوتا رہا۔
    چین ناچاہتے ہوئے بھی امریکہ کو قرض دیتا رہا کیونکہ امریکہ چین کے پڑوس میں بیٹھا تھا اور کسی بھی وقت پراکسی وار چین پر مسلط کر سکتا تھا۔ جنگ سے بچنے کے لئے چین کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
    افغان جنگ میں پوری مغربی دنیا کی سرمایہ کاری تھی۔ اب سرمائے کے ڈوب جانے کے بعد مغرب بدمست ہاتھی کی طرح ہنکار رہا ہے۔ ان کی نظروں میں اس شکست کا بس ایک جواز ہے اور وہ ہے "One word, PAKISTAN” ۔ پاکستان اس وقت مغربی دنیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔
    اس وقت حالات واضح طور پر نئے بلاک کی طرف جا رہے ہیں۔ جو کہ چین اور روس کی سرکردگی میں ہو گا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے سرمائے کا کثیر حصہ چند ہاتھوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہتھیلیوں میں آ چکا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ دنیا کا سسٹم تبدیلی کی طرف آئے۔ جمود کو موت ہے اور تغیر میں بقا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا اشتراکیت کی طرف آ جائے۔ اگر دنیا کا نظام اشتراکیت کی طرف آیا تو اس میدان میں لیڈ روس اور چین کی طر رہے ہیں۔ امریکی capitalism آخری سانسیں لے رہا ہے۔
    امریکہ کے پاس جنگ کے لئے اور کوئی میدان بھی نہیں بچا۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی جنگ میں میدانِ جنگ غریب ممالک ہی بنتے ہیں۔ ایسے ہی افغانستان بھی ایک میدانِ جنگ تھا۔ پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی اور راولپنڈی میں بیٹھے دنیا کے تیز ترین دماغوں کی وجہ سے پاکستان اب تک بچا ہوا ہے ورنہ شاید اب تک ہم بھی افغانستان، عراق یا شام کی طرح شام کے اندھیرے میں ڈوب چکے ہوتے۔
    اگر نیا بلاک بنتا ہے تو اسے لیڈ چین اور روس کریں گے اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان اس کا سرکردہ رکن ہو گا۔ کیونکہ انڈیا اپنی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ جوڑ چکا ہے۔ طاقت کا توازن بھی ایشیا میں ہی رہے گا اور مغرب کے پاس سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں بچے گا۔
    جہاں تک پاکستان پر پابندیوں کی بات ہے تو یہ مغرب کی سب سے بڑی بے وقوفی ہو گی۔ یہ بل اور قراداد والا سارا ڈراپ سین امریکہ صرف اور صرف اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لئے کر رہا ہے۔  دنیا کو خاموش کرانے کے بعد یہ سب باتیں ہوا ہو جائیں گی۔ امریکہ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد پہلے ہی ایشیاء میں اپنی پوزیشن کمزور کر چکا ہے۔ کیونکہ ایشیا میں پہلے صرف چین کی امریکہ کے مدِ مقابل تھا لیکن اب چین کے ساتھ ساتھ روس، ایران اور ترکی بھی امریکی چودھراہٹ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور پاکستان میں بھی پہلی بار گورننس ذاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں عمل میں آ رہی ہے۔ جو کہ امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
    امریکہ اب پاکستان کو مزید ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان خطے میں اپنا کافی اثر و رسوخ بنا چکا ہے۔
    امریکہ میں بھی اب جنگی جنون باقی نہیں رہا۔ امریکہ کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ امریکہ اب جنگ کی بجائے چین کی طرح معاشی میدان میں قدم جمانے کی پلاننگ میں ہے۔ آنے والا وقت اسی کا ہو گا جس کی جیب بھاری ہو گی۔ اسی حوالے سے امریکہ نے چینی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں اپنا نیا پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ امریکہ نے سمندروں پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن چین نے زمینی سفر کو ترجیح دے کر پورے خطے میں تجارتی روٹس کا جال بچھا دیا جو کہ امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چین کے پاس مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے جا زمینی راستہ بھی آ چکا ہے جس کی حفاظت کے لئے چین افغان طالبان سے پہلے ہی مذاکرات کر چکا ہے۔
    دنیا کی سیاست کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
    اب ہم نے دیکھنا یہ ہے دنیا کا معاشی نظام کس کروٹ بیٹھتا ہے
    سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت؟
    یہ وقت ہی بتائے گا۔

  • لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    @mnasirbuttt

    اور ایک بار موبائل فون سروس بند ہونے سے دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا، گھر سے نکلنا دشوار اور سوشل میڈیا پر رائے دینا محال ہوگیا، ایک بار پھر کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے شہر اقتدار پر یلغار کا اعلان اور حکومت کی جانب سے سیکورٹی انتظامات کی آڑ میں موبائل فون سروس، شاہراہیں اور تقریبا عام شہری کی آنکھیں بند کرنے کا آغاز کر دیا گیا، شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد پر وفاقی و پنجاب پولیس کا مشترکہ دھرنے سے پہلے استقبالی دھرنا بھی جاری ہے، جگہ جگہ کنٹینٹرز لگا کر راستے بند کرنے کے باوجود ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے نفری منتظر ہے لاہور سے جمعہ کے بعد اسلام آباد کے لیے نکلنے والے مہمانوں کی، پولیس والے اس لانگ مارچ کے انتظار میں دو دن ڈیوٹی پر رہیں گے یا چار دن معلوم نہیں لیکن ان چند روز میں ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی ضرور اجیرن رہے گی، ایک سوال جو ملک بھر کے عوام خصوصا اس صورتحال میں متاثر ہونے والے شہری من میں لیے گھومتے ہیں لیکن پوچھنے کی سکت نہیں کہ آخر حکومت کی جانب گزشتہ دھرنے کو ختم کروانے کے لیے بطور ضمانت قومی اسمبلی میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی اب تک معاملات کا حل کیوں نہیں نکال سکی، کیوں تحریک لبیک کی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی، اگر دیگر قومی مسائل کو حل کرنے میں غیر سنجیدگی کی طرح ادھر بھی سستی دکھا ہی دی گئی تو لاہور میں جاری حالیہ دھرنے کا ہی رخ کر لیا جاتا، کاش لاہور میں ہی ان سے مذاکرات کر لیے جائیں تاکہ مذہبی جماعت کے کارکنان و پولیس کو آمنے سامنے آنے کا موقع ہی نہ ملتا، گزشتہ روز شیخ رشید نے سفارتی تعلقات کے اعتبار سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا مسئلے کا حل نہیں ایسا کرنے کی صورت میں یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ رہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پی ڈی ایم راولپنڈی احتجاج کی آڑ میں مذہبی گروپ کو بھی سنا دیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا، پہلی بات تو یقینا درست ہے کہ سفارتی دنیا میں اس طرح کسی بھی گروہ کے پریشر میں آکر سفیر جو کہ اپنے ملک کا نمائندہ سمجھا جاتا یے اس کو ملک بدر کرنا بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ کی متعلقہ ملک کے ساتھ طلاق ہوگئی اور آپ نے تین بار لب کشائی کرکے کام تقریبا ختم ہی کر دیا جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ طلاق بھی کیوں دی جائے جب بیوی فرانس جیسی امیر و ترقی یافتہ بیوی ہو ہاں ایتھوپیا کے ساتھ معاملات اس نہج تک پہنچنے تو شاید ریاست مدینہ کے خلیفہ ایسا کچھ سوچ بھی لیتے، دوسری بات کچھ ایسی ہی ہے کہ "کہنا بیٹی کو سنانا بہو کو” وزیر داخلہ نے پنڈی میں احتجاج کرنے والی ن لیگ کو قانون کی حرکت کے بارے میں سنایا تو ضرور لیکن پیغام لاہور والوں کو بھی سنا دیا کہ فیض آباد آنا آسان نہیں اور اگر پہنچ بھی گئے تو مہمان نوازی کا شرف پنجاب و وفاقی پولیس کی مشترکہ میزبانی کو حاصل ہوگا جس میں آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریوں سمیت دیگر اشیاء بھی بطور مینو پیش کی جاسکیں گی، اس ساری صورتحال میں نقصان قوم کا ہوگا جو اپنے معمولات زندگی سے جو کورونا کے عذاب سے بمشکل باہر نکل کر بحالی کی طرف ابھی چلے ہی تھے سے ایک بار پھر ہاتھ دھو بیٹھیں گے دوسرا کسی بھی قسم کی ممکنہ جھڑپ کی صورت میں زخمی پولیس اہلکار ہو یا تحریک کا کوئی کارکن نقصان ریاست کا ہی ہوگا نقصان پوری قوم کا ہی ہوگا، ریاست مدینہ والوں سے دست بدستہ درخواست تو یہ ہی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ایکٹو علماء کو بجائے گرفتار کرنے یا مار دھاڑ کرنے کے ان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی جائے، ان کو سنا جائے اور ان کو بین الاقوامی و قومی مجبوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے، ان کو سفارتی دنیا کی بھی ایک سیر کروائی جائے اور مطالبات کی منظوری کی صورت میں ہونے والے ریاستی نقصان کا تخمینہ بھی بتایا جائے لیکن لیکن لیکن ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں ہونے والی اس طرح کی کسی بھی قسم کی گستاخی و توہین کی صورت میں سخت ترین قانون سازی بھی کی جائے اور ڈرافٹنگ کے دوران علماء کے ایک وفد کو بھی اپنی تجاویز کو قانونی نقاط میں شامل کرنے کی دعوت دی جائے تاکہ ایمان بھی سلامت رہے اور بروز قیامت نبی الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی جواب دہی ہوسکے کہ آپ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو صرف جماعتی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دبایا گیا اس کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر اس کے خلاف کاروائی بھی کی گئی کیونکہ آپ سے محبت ہی ایمان کی نشانی ہے اور آپ کی حرمت پر بولنا ہی زندگی کا حقیقی مقصد لیکن آقا دو جہاں کے پیروکاروں کا یوں سڑکوں پر ایک دوسرے کو آمنے سامنے ہوگا لاٹھی چارج مار دھاڑ اور باقی سب پرتشدد کاروائیاں، یہ نہ ہی اسلام سکھاتا ہے نہ ہی اس سب سے دین کی خدمت میں کوئی حصہ ڈالا جاسکتا ہے

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:
    بنگلہ دیش کی اس حیران کن ترقی کی دو اہم وجوہات نظر آتی ہیں، تعلیم اور
    خواتین۔ 1980ء کی دہائی میں تعلیم کی شرح بہت کم تھی۔خاص طور پر  خواتین میں
    تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور نہ ہی ملکی ترقی میں ان کا کوئی کردار
    تھا۔ لیکن حکومت اور سماجیتنظیموں نے تعلیم کے فروغ کے لیے کام شروع کیا ۔ سب
    سے زیادہ زور خواتین کی تعلیم پر دیا گیا۔

    بنگلہ دیش نے تعلیم نسواں کوعام کیا اور انہیں بااختیار بنایا تو یہی خواتین
    بنگلہ دیشی معیشت کا ستون بن گئیں۔ اگر پاکستان بھی اپنیخواتین کو بااختیار
    بنانا چاہتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا بنگلہ دیش کی مثال
    کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم (بالخصوصلڑکیوں کی تعلیم) کو فروغ دینے کے لیے
    اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم اور
    ملکیترقی میں خواتین کی شمولیت مہمیز کا کام کرتی ہے۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
     نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    بنگلہ دیش کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ
    دینے اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ
    تبادلے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت بنگلہ دیش میں غیر ملکی طلباء اور
    محققین کی تعداد بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے جس نے
    صنعتوں کو پیداوار کے حجم کو بڑھانے کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی
    بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم بجٹ کی پابندی کے تحت چلائی گئیں ۔ ریاست
    نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔ کمپنیوں کوپیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے
    مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی ، جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس
    کیا گیا۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی نے اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد کی۔
    لیکن ہمارے ہاں نئی صنعتیں قائم ہونے کی بجائےپرانی قائم کی گئی صنعتیں بھی ختم
     ہو رہی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی کامیابی تمام دنیا کے لیے مثال ہے۔ جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد
     کو خط غربت سے نکالنے میں صرف پندرہ ساللگے۔ دنیا اس کامیابی پر حیران ہے۔
    مختصر یہ کہ بنگلہ دیش نے اپنے سب سے کم استعمال شدہ اثاثوں یعنی اپنے غریب
    طبقے میںسرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں تعلیم عام کی، صنعتوں کی طرف راغب کیا۔ اس
    دوران حکومت کی توجہ کا تمام تر مرکز پسماندہ اورسب سے کم پیداواری شعبوں پر
    رہا کیونکہ وہیں سے سب سے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ وہ لوگ محنتی اور
    سختیاں برداشتکرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے کی خواہش میں مشکل سے
    مشکل کام کر گزرتے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہیلوگ ملک کا اصل سرمایہ ہوتے
    ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • تبدیلی عوام اور مہنگائی تحریر:سعد اکرم

    ‏پٹرول، ڈیزل، گیس، گھی، دالیں، آٹا، چینی اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ بیشتر گھرانے ایسے ہیں، جہاں مہینے کا اکھٹا سامان لانے کا رواج دن بہ دن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ 

    ملک میں جاری دو تین سرویز کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں گھریلو جھگڑوں اور سٹریٹ کرائم سمیت چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    ان مسائل کو کون حل کرے گا عمران خان صاحب نے اپنی 22 سالہ جدوجہد پہ پانی پھیرتے ہوئے عوام کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے وزرا و ترجمان کہتے ہیں مہنگائی پوری دنیا میں ہوئ جناب بیرون ملک لوگوں کی آمدنی بھی تو زیادہ ہے پاکستان میں آمدنی آٹھانی خرچہ روپیہ والی صورتحال ہے  پاکستانی قوم کو روز لولی پاپ دیے جاتے ہیں  سونے پہ سہاگہ ان کے اپنے اتحادی روز انہیں بلیک میل کرتے ہیں وزارتیں لیتے پیسے بناتے مزے کر رہے ہیں یعنی اس حکومت کے ابھی اپنے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں جو کام روٹین کا ہوتا ہے اسے بحرانی کیفیت تک لے جاتے ہیں دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوی آ رہی ہے جناب وزیراعظم صاحب آپ خود فرماتے تھے کے تین سال مشکل تھے سیکھ رہے ہیں بھائ آپکو انٹرنشپ کے لیئے نہیں لایا گیا تھا ٹریننگ آپ کے پی کے میں کر چکے تھے آپ مہنگائی کی ذمہ داری لیں یہ نہ لیں بھیانک اثرات تو عوام تک پہنچ چکے ہیں  وزیراعظم عمران خان نے بھی دیگر سیاسوں کی طرح الیکشن مہم میں کچھ نعرے لگائے اور اب کچھ اور کر رہے ہیں  کسی نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر قوم کو بے وقوف بنایا کسی نے سستی روٹی ایشین ٹائیگر بنانے کے نام پر بے وقوف بنایا اور عمران خان نے اپنی بائیس سالہ جدوجہد تبدیلی و نیا پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام سے مکر گئے اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے الٹا عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور مہنگائی کر کے معیشت کو بہتر بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے پٹرول بجلی گیس آٹا چینی ڈالڈا اور دیگر اشیا ضروریہ کے نرخ میں نہ صرف تین سالوں میں 400 فیصد تک اضافہ ہوا بلکہ مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس نے گزشتہ ستر سال ریکارڈ توڑ ڈالا مڈل کلاس و سفید پوش طبقہ پس کر رہ گیا تبدیلی و نیا پاکستان بنانے والوں نے پرانے پاکستان و عوام کا ستیا ناس کر کے رکھ دیا احساس پروگرام سے صرف دو فیصد لوگ مستفید ہو رہے ہیں جبکہ عوام کی اکثریت جو کروڑوں میں ہے احساس پروگرام سے مستفید ہونا یہ اس پروگرام میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ عزت نفس مجروح ہوتی ہے یہ لوگ بھوک و افلاس سے مر تو سکتے ہیں لیکن خیرات زکوۃ و احساس پروگرام سے مستفید ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے اگر حکومت واقعی غریب عوام سے ہمدردی رکھتی ہے تو آج ہی اعلان کرے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی مفت  دی جائے گی تا کے اس مہنگائی میں انھیں ریلیف مل سکے  احساس پروگرام لنگر خانے پناہ گاھیں اور دیگر اس قسم کے عزت نفس مجروح کرنے والے پروگرام فی الفور ختم کیے جائیں اربوں روپے احساس پروگرام بیت المال لنگر خانے پناہ گاہوں سے سفید پوش مڈل کلاس کو کیا فائدہ  بلکہ عوام کو روز مرہ استعمال کی اشیاء ضروریہ پر خصوصی سبسڈی دی جائے اصل خبر یہ ہے وزیر خزانہ شوکت ترین کی بطور وزیر خزانہ مدت پوری ہو رہی ہے اور اب انہیں مشیر خزانہ بنایا جا رہا ہے اور پھر خیبر بختون خوا سے سینٹ کا الیکشن لڑوا کر دوبارہ وزیر بنایا جائے گا اس مشق فضول سے عوام کا لینا دینا ہے عوام کے دن پھرنے کے تو دور دور تک آثار نظر نہیں آتے ابھی تک عمران خان کی معاشی ٹیم اپنی مہارت کا کوئ کرشمہ نہیں دکھا سکی باہر سے درآمد کی گئ ٹیم بھی عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا کوئ کمال نہیں دکھا سکی حقیقت یہ ہے کے ملک کے معاشی معاملات عملی طور پر آی ایم ایف نے اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں حکومت کے دعوے اور باتیں اب عمل میں ڈھلنے کا تقاضا کر رہی ہیں ملکی معیشت کو مضبوط اور پائیدار  بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے دن گزارنے کی اس پالیسی نے پاکستان کی معیشت کو لاغر کر دیا ہے اب کوئ دست مسیحا ہی زبوں حالی کی ان پستیوں سے ملکی معیشت کو دوبارہ بہتری  کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے یہ روایتی طور طریقوں کا معاملہ نہیں رہا ایک بھرپور آپریشن کا متقاضی ہے ملک کی بڑی جماعتیں ابھی اس حوالے سے کوئ ٹھوس بات نہیں کر سکیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ تو ایڈہاک ازم کے طور پر ملکی معیشت کو چلانے کی زمہ دار رہی ہیں اور ان سے اب توقع ہی عبث ہے مگر تحریک انصاف بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آتی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا  اضافے کو ملک کے معاشی حالات کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے یہ عذر کچھ عرصہ تو چل سکتا ہے مگر تا ریر ماضی کے حکمرانوں کو دوش دے کر عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا