Baaghi TV

Category: سیاست

  • گلاس،قلم اور کیمرہ  تحریر: ثمرہ اشفاق

    گلاس،قلم اور کیمرہ تحریر: ثمرہ اشفاق

    @S_Mughal_

    اب تعویز  گھول کر  پیئے جائیں یا سرجریاں کروا  کر فوٹو بنائے جائیں،اب گالیاں الزامات لگائیں جائیں یا بستروں پر کیمرے نصب کئے جائیں،اب جج خریدے جائیں یا قلم۔۔۔۔۔

    نواز شریف کی سیاست دفن ہو چکی ہے،اس پر مٹی ڈالی جا چکی ہے فاتحہ پڑھیں جا چکی ہے۔

    روح پرواز کر جائے تو واپسی نہیں ہوتی،ایسے ہی ہوا ہے نواز شریف کی سیاست کے ساتھ،۔

    خصوصاً پنجاب کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھر چکا ہے بظاہر رہنما یہ کہتے پھریں کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں ایسا بلکل نہیں ہے،

    اس وقت ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک مریم گروہ جبکہ دوسرا شہباز شریف گروپ۔۔

    نواز شریف کی نا اہلی کے بعد جس طرح مریم نواز نے سیاست میں گند اور زہر بھرا وہ تاریخ میں سیاہ الفاظ سے لکھا جائے گا۔

    مسلم لیگ ن نے ہمیشہ خواتین پر کیچڑ اچھال کر سیاسی مخالفین کو بلیک میل کرنے اور ہار ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے  

    بے نظیر بھٹو کی ننگی تصویریں پھینکنے کا معاملہ ہو یا عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے خلاف الزامات۔۔۔

    اس آگ میں مزید تیزی آ گئی ہے۔جب سے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مریم نواز نے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا تو سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    مریم نواز نے با قاعدہ پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھا کر کہا کہ ان کے پاس اور بہت ویڈیوز ہیں اور وہ وقت آنے پر منظر عام پر لائیں گی،جس کا مطلب کھلم کھلا بلیک میلنگ۔

    یعنی اپنی آمدن کے ذرائع بتانے کے بجائے انہوں نے دھمکی دی کہ ہم سے کچھ نہ پوچھو ورنہ معاشرے میں بدنام کر کہ چھوڑیں گی۔

    دوسری طرف شہباز شریف مریم کے بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیں اور اداروں کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کرتے ہیں۔یعنی پھوٹ واضع پڑ چکی ہے،دراڑ آ چکی ہے،باہمی اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

    اگر شہباز شریف نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو مریم انکاری ہیں اور اگر مریم چیف آف آرمی سٹاف کی ایکٹینشن کو گناہ کہتی ہے تو حمزہ شہباز اگلے ہی دن اس کی تردید کرتا ہے۔

    شہباز شریف راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں جب کہ مریم اپنے والد کی ڈوبتی سیاست کو بچانے میں سرگرم۔

    مسلم لیگ ن کا ورکر اس وقت دو با نیوں میں پھنس چکا ہے ایک بیانیہ مفاہمت ا ور دوسرا مزاحمت۔

    مریم نواز اداروں پر پریشر ڈال کر خود کو اور خاندان کو احتساب سے بچانا چاہتی ہیں جب کہ وہ اس میں مکمل ناکام ہیں،کیوں کہ فوج مخالف بیانیہ پٹ کر رہ چکا ہے جس کی مثال گلگت بلتستان اور کشمیر کےا نتخابات ہیں۔

    مریم نواز اپنا ہر پتہ کھیل چکی ہیں جب کہ فوج اس بار سیاست میں مداخلت سے مکمل انکاری ہے۔

    بیک ڈور رابطوں سے لے کر اداروں کے سربراہان کے نام لیکر لزامات، نواز شریف اور بیٹی ہر حربہ کر کہ دیکھ چکے ہیں۔

    ان سب ناکامیوں کے بعد مریم نواز نے اب وزیراعظم کی اہلیہ پر انتہائی سنگین اور غلط الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز محظ ایک نوٹنکی کے کچھ بھی نہیں۔

    ان کی نہ کوئی قابلیت ہے اور نہ کوئی سیاسی قد کاٹھ۔

    مریم کے الزامات کے بیانیے نے مسلم لیگ ن کو خاطر خواہ نقصان پہنچایاہے۔

    الغرض سیاست میں بہت گند پھیل چکا ہے،خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کے بجائے مخالفین کی ذاتی زندگیوں کو لے کر من گھڑت الزامات لگائے جاتے ہیں۔

    مریم نواز کے اس جادو ٹونے کے الزامات کے بعد صحافیوں کا ایک جانبدار ٹولہ بھی میدان میں آیا ہے اور الزام تراشی میں مصروف عمل ہے۔

    کیا صحافیوں کو اپنے پیشے کے حساب سی یہ زیب دیتا ہے؟ اور کیا مریم نواز کو بطور سیاستدان ایسے الفاظ زیب دیتے ہیں؟

    نواز شریف کی سیاست کو اگر کسی نے دفن کیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی صاحبزادی ہیں۔جن کی سیاست الزام سے شروع ہو کر الزام پر ختم،جن کا اپنا کوئی سیاسی کیریئر نہیں یے۔جو اپنے باپ کی ایک موٹر وے گن گن کر عوام کو پھر ورغلا رہی ہیں۔جن کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے آ جاتے اور ان کو معلوم تک نہیں ہوتا۔۔

    خدارا اب بس کرو اور اپنی دولت کا حساب دو!

    عدالتیں حساب دینے کے لئے ہیں فوٹو سیشن کے لئے نہیں،

    اگر گلاس تھام کر ، رنگ برنگی تنگ کپڑوں سے ہی عوامی لیڈر بنا جا سکتا تو ملک اس وقت اداکاروں کے ہا تھ میں ہوتا۔ اب قلم خرید کر،نہ کیمرے نصب کر کہ،نہ گلاس پکڑ کر فوٹو شوٹ سے عوام میں مقبولیتنہیں ملے گی۔پاکستانی اب باشعور ہیں۔

  • بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    جہاں آج ایک بار پھر شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ضمانت خارج کر دی گئی تو جہنم واصل ہونے والے بھارتی فوجیوں کی بیویاں دوہائیاں دے رہی ہیں کہ "جے او کشمیر منگدے آں تے دے دو”

    ۔ اریان کو ضمانت کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔ شاہ رخ کے حوالے سے بات کی جائے تو ضمانت منسوخی کے بعد اب آریان خان کے وکیل نے ممبئی کی ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پر جو دیکھائی دے رہا ہے کہ یہ جس مرضی کورٹ میں چلے جائیں ان کو ریلیف نہیں ملنا ۔ کیونکہ اس حوالے سے ایک درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں بھی گئی ہوئی ہے ۔ وہاں بھی کوئی خاص امید نہیں ہے کہ ان کی سنوائی ہو ۔ پر میں بتاوں شاہ رخ خان کو ریلیف مل سکتا ہے اور یہ ریلیف کوئی عدالت نہیں مودی دے سکتا ہے ۔ اور اس کے لیے شاید اب شاہ رخ کو نام بھی بدلنا پڑے گا اور مذہب بھی بدلنا ہوگا ساتھ آر ایس ایس اور بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنا پڑے گی ، گنگا اشنان بھی کرنا ہوگا اور سنگھیوں کے ساتھ کنبھ کے میلے میں جا کر پوجا پاٹ بھی کرنا پڑے گی وہ بھی بیوی بچوں سمیت ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ بھارت میں انصاف صرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہندوؤں کو ہی مل سکتا ہے ۔ ویسے شاہ رخ خان کی بیوی گوری خان ایسا اقدامات کر رہی ہیں کہ جس سے ہندوتوا کے پجاریوں کو ٹھنڈا کیا جاسکے جیسے انھوں نے اپنے گھر کے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ اُن کے بیٹے آریان خان کو ضمانت نہ ملنے تک گھر میں کسی قسم کا کوئی میٹھا نہ بنایا جائے۔ گوری خان نے خود بھی 7 اکتوبر کو نَوراتری کے تہوار کے آغاز کے بعد سے کچھ بھی میٹھا کھانا چھوڑ دیا ہے۔

    ۔ پر میرا مشورہ ہے ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ معاملہ شاہ رخ خان کے نام کا ہے اس کے مذہب کا ہے ۔ جو مودی اور ہندوتوا کے پجاریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ آپ دیکھیں ابھی بھی وہ ہی دونمبر قسم کی کہانیاں بھارتی میڈیا بتا رہا ہے جس کا نہ تو کوئی ثبوت ہے نہ ہی شہادت ہے ۔ آج بھی بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق این سی بی حکام کا کہنا ہے کہ آریان خان جب امریکا اور دبئی میں تھے تو اس دوران بھی وہ منشیات کا استعمال کیا کرتے تھے۔ پتہ نہیں یہ اریان کو خود اپنے ہاتھوں سے چرس کے سگریٹ بنا بنا کر دیتے تھے یا پھر یہ خود منشیات اریان خان کو سپلائی کرتے تھے ۔ کیونکہ اتنے وثوق سے تو پھر میڈیا نہیں اریان خان سپلائر یا ساتھی ہی بتا سکتا ہے ۔ پھر بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے آریان اور ان کی نئی فلم میں آنے والی ساتھی اداکارہ کی واٹس ایپ چیٹ بھی لیک کی گئی ہے۔ جس کے مطابق یہ دونوں منشیات سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں ۔ ابھی اس کا فرانزک ہونا باقی ہے ۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس کو لے کر شاہ رخ خان کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ چیٹ ٹھیک بھی ہو تو جو کچھ بھی کیا اریان نے کیا شاہ رخ خان کہاں سے بیچ میں آگیا ۔

    اس کے علاوہ این سی بی کی جانب سے آریان خان کی منشیات فروخت کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کی آڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آریان کے وکیل اس پر کیا موقف دیتے ہیں کہ واقعی جس سے اریان خان کی بات ہو رہی تھی وہ کوئی ڈرگ ڈیلر تھا کہ نہیں یا یہ کس ریفرنس میں تھی ۔ سوال بنیادی پھر وہ ہی ہے کہ جس مقدار میں منشیات پکڑی گئی ہیں اس میں کسی کو بھی بھارتی قانون کے مطابق اتنے دن جیل میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ اول تو گرفتاری ہی ممکن نہیں ۔ پھر آپ دیکھیں کہ اریان کے پاس سے کچھ برآمد نہیں ہوا پھر شک کی بنیاد پر اس کو مسلسل کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں اور ایک کے بعد ایک ضمانت جو کینسل کی جارہی ہے ۔ اس میں اب کسی کو شک نہیں رہ گیا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما ہے ۔ کیونکہ اریان تو ایک بہانہ ہے اصل نشانہ شاہ رخ خان ہے ۔ اور یہ خفیہ ہاتھ مودی کا ہی ہے ۔ اس لیے مجھے تو لگتا ہے یا تو اب شاہ رخ خان باقاعدہ ہندو مذہب اختیار کرے گا یا پھر بھارت سے بھاگے گا ۔ ۔ دراصل مودی نے بھارت کو بری طرح پھنسا دیا ہے ۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی ۔

    ۔ اس وقت بھارت کے لیے المیہ یہ ہے کہ اس وقت وہ تین محاذوں پر پھنس چکا ہے ۔ اور یہ تینوں محاذ گرم ہوچکے ہیں ۔ ایک تو چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر ، ایک پاکستان کے ساتھ اور ایک مقبوضہ کشمیر کے اندر ۔۔۔ کشمیرمیں صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کسی غیر کشمیری کو نہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوجی روز جہنم واصل ہورہے ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف کو کشمیر کا ہنگامہ دورہ کرنا پڑ گیا ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے لیے اب بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اس کی واضح مثال اس بھارتی فوجی کی بیوی کا بیان ہے جو میں نے آپکو سنا ہے ۔ اس وقت مودی نے کشمیر کے چپے چے پر آپریشن میں معاونت کے نام پر خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں ۔ ضلع پونچھ اور راجوڑی میں قابض بھارتی فورسز کا آپریشن مسلسل دس دنوں سے جاری ہے۔ بھارتی فوج ، پولیس ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، این آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو سمیت دیگرپیراملٹری فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین سب وہاں موجود ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف منوج نروانے بذات خود وہاں پہنچے ہیں ۔ پر مجاہدین تو دور کی بات ان کا کوئی سراغ تک نہیں مل رہا ہے ۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ شروع دن سے کشمیریوں نے کسی بھی کالے قانون کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ۔ اب دیکھا جائے تو افغانستان کے حالات کا ان پر بہت اثر ہوا ہے اور اب انھوں نے دہشت گرد بھارتی فورسز کے خلاف ویسی ہی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے جو طالبان نے مسلسل بیس سال تک امریکہ اور اسکے حواریوں کے خلاف کی ہے ۔ کرنی بھی چاہیئے کیونکہ کبھی انہیں کشمیر سے بے دخل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں تو کبھی کشمیریوں کو دوبارہ سے وادی کا شہری ثابت کرنے کے لئے کاغذات اکٹھے کرنے کا حکم دیا جاتاہے۔ اس وقت مودی سرکار نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل دے کر کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا خوفناک منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ یقینی طور پر اس پر کشمیریوں کو اشتعال تو آنا ہی تھا اس کا درعمل اب دیکھائی بھی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اپنی طاقت کے مطابق وہ جتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچا رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔ کشمیر میں ایک نئی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے ۔ کئی سیکٹرز میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے یہاں تک وہ پندرہ سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل کرچکے ہیں ۔ پھر کشمیری نوجوانوں نے غیر مقامی ہندووں کے خلاف کارروائی سے ایک پیغام دے دیا کہ کشمیریوں کواقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ روک دیا جائے۔ ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود مودی ہوگا ۔ مودی درعمل کے طور پر وہ ہی پرانے حربے استعمال کر رہا ہے ۔ کہ اس نے پورے بھارت کی مشینری کو وادی میں جھونک کر طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا کھیل شروع کر دیا ہے ۔ گزشتہ دس دنوں میں 1500سے زائد کشمیری جوانوں کو گرفتار جبکہ دس سے زائد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اب یہ طاقت کے زور پر انسانی ، مذہبی اور سیاسی حقوق پامال کر رہی ہے ۔ پر ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں اور حربوں سے نہ تو پہلے کشمیریوں کے جذبہ شوق شہادت ، جذبہ ایمانی اور آزادی کی خواہش کو دبایا جا سکا ہے نہ اب یہ کیا جاسکے گا ۔

    ۔ الٹا بھارتی فوج شدید ٹینشن کا شکار ہے کہ اب موجود بگڑتے حالات کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں بھی ان کو ایک اچھی خاصی تعداد میں فوجی وہاں پر رکھنے پڑیں گے ۔ جبکہ دوسری جانب لداخ اور ارونا چل پردیش میں چین ان کی خوب پٹائی کر رہا ہے ۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی خود کشیوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ لگاتار جاری ہے۔7
    اکتوبر کو ایک اہلکار نے ذہنی تناؤ کے باعث پھندے سے لگ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 16اکتوبر کو ضلع کپواڑہ میں ایک اوراہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ اس سے ایک روز قبل کپوارڑہ میں ہی ایک فوجی اہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر خودکشی کرلی تھی اس طرح ایک ہفتے کے دوران خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی ہے ۔ ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر تین دن میں ایک فوجی خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران گیارہ سو سے زائد جوانوں نے خود اپنی جان لے لی۔ لیکن اس ہفتے خودکشی کرنے والے قابض بھارتی اہلکاروں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کا ذمہ دار کشمیر میں موجودہ حالات کو کہا جا رہا ہے ۔ پر ایسا لگتا ہے کہ مودی کو بھارتی فوجیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس کے سر پر بس اگلا الیکشن سوار ہے ۔ ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حالانکہ فوجی قیادت ان خودکشیوں کو روکنے اور فوجیوں کو ذہنی دبا ئوسے نکالنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پھر ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہر سال سینکڑوں فوجی اہلکار جنگ کے بغیر ہی مارے جاتے ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے پست ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں ناکامی سب سے بڑا سبب ہے۔ ۔ کشمیری مجاہدین اور بھارت کی شمالی ریاستوں میں لڑائی کی باعث بھارتی فوج کا مورال گرچکا ہے۔ ۔ جو حالات بن رہے ہیں مجھے تو لگ رہا ہے کہ جیسے افغانستان میں تبدیلی آئی ہے ایسے جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی آئے گی اور انشااللہ ان کو بھی جلد آزادی نصیب ہو گی

  • بڑھتی ہوٸی مہنگاٸی کی چکی میں پستی ہوٸی غریب عوام تحریر:شمسہ بتول

    بڑھتی ہوٸی مہنگاٸی کی چکی میں پستی ہوٸی غریب عوام تحریر:شمسہ بتول

    یوں تو ہر دور میں ہی مہنگاٸی میں اضافی ہی ہوا ہے لیکن دور حاضر میں مہنگاٸی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے گۓ ہیں۔

    پہلے مہنگاٸی ایک مسٸلہ تھا مگر اب دن بہ دن یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لعنت کی شکل اختیار کرتی جا رہی یہ ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس سے صرف کمزور اور دیہاڑی دار طبقہ پستا جا رہا ہے ۔

     دنیا کے دیگر ممالک بھی اس مسٸلے سے دوچار ہیں مگر انکی پالیسیز ایسی ہیں کہ کسی بے روزگار بندے کو خودکشی نہیں کرنی پڑتی کوٸی ماں اپنے بچوں سمیت نہر میں چھلانگ نہیں لگا دیتی کہ وہ اس کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہی کیونکہ ان کے ہاں Unemployment Insurance Benefit پالیسی بہت بہتر طریقے سے کام کر رہی کہ جب تک آپ بے روزگار ہیں آپ کے اخراجات ریاست کے ذمہ ہیں یہ سسٹم ہمارے خلفاۓ راشدین کے دور میں تھا کہ جو اس قابل نہیں ہیں کہ ضروریات زندگی خرید سکیں انکو ریاست کی طرف سے راشن بھیجا جاتا اور انکی ضروریات پوری کی جاتی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے ان کی تعلیمات کو چھوڑ دیا اور غیروں نے انہیں اپنا لیا۔

    آج پورا ملک خطرناک Inflation کی زد میں ہے اگر اسے hyperinflation کہا جاۓ تو بے جا نہ ہو گا۔

    عالمی منڈی میں جب پیٹرول کی قیمت اوپر جاتی تو اس کے اثرات تمام ممالک پہ ہوتے لیکن ان ممالک کی کرنسی ہماری کرنسی کی نسبت زیادہ قدر رکھتی اور ان ممالک کے لوگوں کی فی کس آمدنی (Per Capita Income ) ہماری نسبت بہت بہتر ہے اس لیے انکی زندگیوں پہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے سے دیگر اشیاء کی قیمتوں میں جو اضافہ ہو گا اس کے اثرات کم ہونگے مگر ہمارے ہاں شخصی آمدنی بمشکل 12,000_10,000 روپے ہے اور حالیہ کچھ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ 10 روپے کے حساب سے کیا گیا ہے جس کے اثرات صرف فیول انڈسٹری پہ نہیں بلکہ پورے ملک پہ مرتب ہوۓ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کراۓ بڑھیں گے اب جو بندہ مہنیہ بھر کا کما ہی 12,000 روپے رہا ہو وہ روزانہRs.150 تک کرایہ دے کر مزدوری کرنے جاۓ گا تو پر بیوی بچوں کو کیا کھلاۓ گا وہ گھر کا کرایہ یا بل دے گا یا راشن خریدے گا ؟ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے گھی ، چینی اور دیگر اشیاۓ خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ گٸی اب ایک مزدور تو دو وقت کے لیے تو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری ہو گی تو وہ اپنے خاندان کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کیسے فراہم کرے گا ؟ اس بچے جو اس قوم کا مستقبل ہیں وہ تعلیم تک رساٸی حاصل نہیں کر پاٸیں گے نتیجتاً ہمارے نسل لا شعور اور اندھیروں میں رہے گی ۔اور جو زیادہ دلبرداشتہ ہونگے وہ خودکشی کی طرف چلیں جاٸیں گے ایسے واقعات سے ہمارامعاشرہ بھرا پڑا ہے مگر نا جانے کب ہمارے لیڈران اپنی ذاتیات سے باہر نکل کر عام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیز بناٸیں گے نہ جانے کب لاکھوں کی تنخواہ اور ضرورت سے زیادہ سرکاری مراعات لینے والے منسٹرز وطن عزیز کی ترقی کے لیے کام کریں گے نہ جانے کب ملکی فلاح و بہبود کے لیے بناٸیں جانے والے منصوبوں میں سیاستدان کرپشن نہیں کریں گے اور اس عوام کو ریلیف دیں گے۔

    ہمارے اوپر IMF کے قرضوں کا بوجھ ہے لیکن اس بوجھ کو کم کرنے کیلیے عوام پہ ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجاۓ اگر سرکاری افسران اور منسٹرز کو ملنے والی آساٸیشات میں کچھ کمی کر دی جاۓ تو اس طرح بھی بہت سے اخراجات کم کیے جا سکتےلیکن سارا بوجھ عوام پہ ڈالنےسے مساٸل مزید بڑھیں گے کیونکہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کہ باوجود بھی ابھی تک بیروزگار ہے وہ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں دن بہ دن ڈالر کی اونچی اڑان اور  عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوٸی قدر ہماری معیشت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی اگر وہ ہی کمزور ہو جاۓ یا تباہ حالی کا شکار ہو جاۓ تو اس ملک کی بنیادوں کو بھی کمزور کرنے لگتی ۔ ہمیں سنجیدگی سے اس مسٸلے پہ غور و فکر اور اس کے حل کیلیے مناسب اور Effective policies بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    @sbwords7

  • حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    حکومت اور مہنگائی یا حکومتی مہنگائی تحریر: محمد وقاص شریف

    دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن پر کسی ملک کی حکومت کا نہ تو کوئی کنٹرول ہوتا ہے اور نہ بس چلتا ہے۔ مثلاً سونا۔ پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ تیل کمپنیاں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گیئں کہ ہم سے ادھار میں تیل لے لیں اور جب جی چاہے پیسے دے دیں۔ اس سہولت سے بہت سے ملکوں نے فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح وہ بھی دور تھا۔ جب پاکستان میں سونا 6 ہزار روپے تولہ بھی تھا۔ ڈالر 40 روپے کے برابر بھی پاکستان میں رہا ہے۔ مگر پچھلے چند سالوں سے یہ تینوں چیزیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ سونا تو اب ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اور متوسط اور غریب لوگوں نے سونے کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی کی شدید ترین لہر آ چکی ہے۔ اور پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔ اور اس مہنگائی کا شکار ہے وجہ اس کی سونے کی بڑھتی قیمت ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کا اوپر جانا ہو۔ ڈالر کی اڑان ہو۔ یا کرونا وائرس کے اثرات۔ مگر مہنگائی 90 درجے کے زاویے کے ساتھ اوپر جا رہی ہے۔ مہنگائی سے دنیا کے سبھی  ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ مگر پاکستان میں اس کا رونا پیٹنا سب سے زیادہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مہنگائی دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ تو دیگر ممالک میں زیادہ ردعمل کیوں نہیں دیکھا جارہا۔ اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے ان ممالک نے اپنے عوام کو سستی اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لئے سبسڈی دی ہے لوگوں کے دکھوں میں وہ حکومتیں شریک ہوئی ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔ انہوں نے اپنے اداروں کو مضبوط کر کے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن  لیے ہیں لوگوں کو براہ راست امداد فراہم کرکے ان کے معاشی مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔ ان ممالک نے اپوزیشن کو ساتھ ملا کر مشترکہ کوشش کر کے اپنے عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس طرح کا کوئی بھی اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر بھی ملے کہ حکومت اپنے عوام سے مخلص ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر تمام ملبہ ڈالر۔ سونے پٹرولیم۔ اور درآمدات پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور عوامی ریلیف سے منہ پھیر لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں جنگل کا قانون تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا جب جو جی چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اب تو روزانہ کی بنیاد پر من مانے ریٹ بڑھائے جا رہے ہیں۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ پاکستانی عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ حکومت کی ساری کی ساری توجہ اپوزیشن کو دبانے میں مرکوز ہے۔ بھرپور کوشش جاری ہے کہ کسی بھی طرح پانچ سال پورے کئے جائیں۔ ملک چاہے دس سال پیچھے چلا جائے اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ جب عوام سے توجہ ہٹ جائے اور معاملہ ذات کی طرف چلا جائے تو بربادی کا ایک طوفان آ تا ہے اور سب کو بہا لے جاتا ہے۔ عملی طور پر ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وزراء کے جاہلانہ بیانات نے اس حکومت کی غیر سنجیدگی کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ بات بڑے آ رام سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک میں حکومتی مہنگائی زیادہ اور دنیاوی مہنگائی کم ہے۔

    @joinwsharif7

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت یا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ میچز کو بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نہ صرف دیکھتے ہیں۔ بلکے بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں کہ کب ان ٹیموں کے درمیان سیریز یا کسی بھی ایونٹس کے  میچز ہوں گے۔ خاص کر پاک بھارت کرکٹ میچ کا دونوں ہی ملکوں کی عوام کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کافی کشیدہ رہتے ہیں۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کرکٹ سیریز کافی عرصہ سے نہیں ہو پا رہی۔ اس وجہ سے بھی دونوں اطراف کی عوام کو بڑی بے چینی سے ورلڈ کپ یا کسی بھی آئی سی سی ایونٹس کا انتظار رہتا ہے جہاں دو روایتی حریف آپس میں مد مقابل ہوں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں چند دن باقی ہیں پاکستان کا پہلا مقابلہ24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت سےہونا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ میں بےقراری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی ٹیم کو خوب ڈیفنڈ کرتا نظر آ رہا ہے۔ جب بھی ٹی وی توڑنے اور پٹاخے پھوڑنے کی بازگشت شروع ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل مزاحیہ میمز اور تشہیری مہمات کا آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ میڈیا چینلز اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میچوں پر اشتہار بھی بنا چکے ہیں۔ جس میں سب سے سرفہرست ہے "موقع موقع” جو انڈین چینلز پر ہر آئی سی سی کے ایونٹس میں پاک بھارت کرکٹ میچ سے قبل چلایا جاتا ہے۔ ہر بار ایک نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ جسے انڈیا میں بڑی پذیرائی ملتی ہے۔اور پاکستانی عوام کا ردعمل کافی غصے والا ہوتا ہے۔ مگر کبھی کبھار یہی اشتہار انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بنے ہیں ۔ جیسے دسمبر 2012 میں انڈین چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جاتا تھا جس میں کہا جاتا تھا "پاکستان ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز کھیلنے آرہا ہے” تو اس اشتہار میں چند بھارتی کھلاڑی یہ کہتے ہوئے دیکھائی دیتے تھے "کہ آنے دو” ۔ جب اس سیریز کا آغاز ہوا تو انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی اپنی ہی سر زمین پر اپنے کراؤڈ کے سامنے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں پاکستان سے شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ پاکستانی باؤلرز نے  انڈیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی ایک نہ چلنے دی۔ اور پاکستانی بیٹسمینوں نے بھی خوب جم کر انڈین باؤلرز کی دھولائی کی۔ 

     اس میں کو شک نہیں کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں بھارت کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مگر چمپیئن ٹرافی 2017 میں بھی یہی صورتحال تھی پہلے میچ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس کی بعد پاکستانی ٹیم نے بقیہ میچز میں  اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اور فائنل میں ایک بار پھر مقابلہ آیا روایتی حریف بھارت کے ساتھ۔ مگر اس بار بھارت کو تاریخ ساز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ ٹیم کا وطن واپسی پر کراچی ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کا استقبال کرنے موجود تھے۔ کراچی ائیرپورٹ پر ہاتھ میں ٹرافی تھامے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے موقع موقع گا کر پاکستانی شائقین کے دل بھی جیت لیے تھے۔ مقابلے سے پہلے ہی لفظی مقابلے شروع ہو جاتےہیں جو کافی انٹرسٹڈ ہوتے ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستانی ٹیم کافی پر اعتماد لگ رہی ہے۔ مگر اس سے پہلے تو ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کو شکست کا سامنا رہا ہے۔ انشاء اللہ اس بار امید کر سکتے ہیں کہ پاکستان روایت کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ 

     یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے کافی سازگار رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان یو اے ای میں  بہت ساری اپنی ہوم سیریز کھیل چکا ہے۔  جس سے  کنڈیشنز  کی واقفیت پاکستان کے لیے پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو اس بار بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ دل اور ٹی وی سرحد کے کس پار ٹوٹیں گے۔ اکثر اوقات پاکستان اور انڈیا کے میچز کے بعد سڑکوں اور چوکوں پر سرحد کی ایک طرف جیتنے والی ٹیم کے فینز جشن منا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہارنے والی ٹیم کے شائقین ٹی وی توڑ کر غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ میری طرح ہر پاکستانی اس بار ٹیم پر کافی امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر پاکستانی کی یہی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ خاص کر انڈیا سے۔ ۔ ۔

    Follow on Twitter@786Rajanaeem

  • مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    @Itx_Wahab123

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس وقت شدید مہنگائی کے اثرات نظر آ رہے ہیں. اس وقت دنیا میں بھر میں پٹرول اور دوسری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جو کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں. پٹرول کے حوالے سے روسی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک آئندہ دنوں تک پہنچ سکتی ہے. اس بات سے واضح ہے کہ آئندہ دنوں میں جب عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت بڑھ جائے گی. اور اسی کے ساتھ مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا. اسی سلسلے میں وفاقی وزارت خزانہ نے بھی کل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر قیمتوں میں استحکام نہیں آتا تب تک مختلف اشیاء میں اضافہ ہو سکتا ہے. اگر پٹرول کو دیکھا جائے تو پیچھلے ایک سال میں عالمی سطح پر 100٪ سے بھی زائد اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے. تاہم حکومت پاکستان نے لیوی ٹیکس میں بہت کمی کی ہے لیکن پھر بھی حکومت پٹرول میں اصافہ کرنے پر مجبور ہے. تاہم وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت کم ہو جائے تو ہم بھی قیمت کم کر دے گے.

    دوسری جانب کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں فوڈ چین بھی بری طرح سے متاثر ہے جس کے باعث مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے. اس کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے. ایک نجی نیوز چینل پر حکومتی راہنما میاں فرخ حبیب نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت عوام کو یوٹیلیٹی اسٹور پر سستی اشیاء فراہم کرے گی، اور اس سال دسمبر تک پنجاب تمام آبادی کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت مل جائے گی جس سے کوئی بھی شخص ایک سال میں 10 لاکھ تک کا مفت علاج کروا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو جس حد تک ہو سکے ہم مہنگائی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    یہاں میں آپ کو بتاتا چلو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سب سے زیادہ متاثر میڈل کلاس طبقہ اور فیکس تنخواہیں لینے والے لوگ ہوتے ہیں، جن کا اپنا کاروبار ہے یا جو لوگ مزدوری کرتے ہیں وہ لوگ تو حالات کے مطابق اپنی مزدوری اور چیزوں کے ریٹ بڑھا دیتے ہیں اس لیے یہ ڈائرکٹ خود کو اچانک آنے والی مہنگائی سے بچا لیتے ہیں لیکن جن کی تنخواہیں فیکس ہوتی ہیں ان کے لیے مہنگائی پریشانی کا باعث بنتی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے اثرات سے میڈل کلاس کا خیال رکھا جائے.

    اگر پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان نظر آئے تو مقامی طور پر پیدا ہونے والی اور باہر سے درآمد ہونے والی اشیا دونوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اور اس وقت پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے باہر سے درآمد ہونے والی اشیا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے. کوکنگ آئل پاکستان میں مکمل طور پر باہر سے درآمد ہو کر آتا ہے جس کی قیمت پیچھلے ادوار میں 500 ڈالر فی ٹن تھی لیکن اب وہی قیمت 1300 ڈالر فی ٹن تک پہنچ چکی ہے اس وجہ سے کوکنگ آئل کی فی کلو قیمت 160 سے بڑھ کر 320 سے 330 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، اگر یہی کوکنگ آئل پاکستان خود بنانے میں خود کفیل ہو جائے تو اس کی قیمتوں میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے اس کے لیے حکومت نے بیچ خرید کر کاشتکاری شروع کی ہے سننے میں آ رہا ہے کہ 2024 تک پاکستان مکمل طور پر کوکنگ آئل مقامی سطح پر بنانے میں خود کفیل ہو جائے گا.

    تاہم ابھی جب تک دنیا بھر میں کرونا کی وجہ سے حالات معمول پر نہیں آتے اور مختلف اشیاء کی قیمتوں میں عالمی سطح پر استحکام دیکھنے میں نہیں آتا تب تک پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ حالات جلدی ٹھیک ہو جائے گے۔

    اختتام پزیر۔

  • یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان.   تحریر: احسان الحق

    یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان. تحریر: احسان الحق

    آج سے 70 برس قبل کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان کے اولین وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا. 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت علی خان ایک جم غفیر سے خطاب کر رہے تھے جب ان کو دو گولیاں ماری گئیں. آپ شدید زخمی ہو گئے، اکتوبر 1895 میں پیدا ہونے والے نواب لیاقت علی خان اکتوبر میں ہی 1951 کو 56 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے.

    قاتل کو موقع پر ہی پولیس نے مار دیا. حالانکہ قاتل کو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر پولیس اہلکار انسپکٹر محمد شاہ نے پستول سے یکے بعد دیگرے وار کرتے ہوئے قاتل کو موقع پر ہلاک کر دیا. سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ محمد ابرار نے گولیاں چلانے والے اہلکار محمد شاہ سے پستول چھین لیا.

    قتل کے تقریباً 9 دن بعد 25 اکتوبر 1951 کو حکومت پاکستان نے تحقیقات کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا. جس کی سربراہی فیڈرل کورٹ کے جج جسٹس محمد منیر کر رہے تھے اور ساتھ پنجاب کے مالیاتی کمشنر اختر حسین تھے. ہم یہی سمجھتے ہیں کہ حکومت نے شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کی انکوائری کرنے، قتل کی سازش رچانے اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لئے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا، مگر ایسا نہیں تھا. تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر کہا گیا کہ غلفت کے مرتکب مجرم افسران کا پتہ لگاؤ کہ کس طرح سیکورٹی کے ناقص انتظامات تھے، کس نے یہ انتظامات کئے، سیکورٹی میں کیا کیا نقص تھے، کون کون اور کس طریقے سے غفلت کا مرتکب ہوا وغیرہ وغیرہ. شہادت کے پیچھے چھپے رازوں اور قاتلوں کو ڈھونڈنے کی بجائے ہمارے ادارے اور پولیس والے اپنی اپنی صفائی دینے میں مصروف ہو گئے کہ ہم غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے. اس تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ 17 اگست 1952 کو پیش کی. چونکہ اس کمیشن کا مقصد یہ نہیں تھا کہ قتل کے پیچھے محرکات اور کرداروں کا سراغ لگایا جائے، اس لئے بیگم رعنا لیاقت اور قوم نے یہ رپورٹ مسترد کر دی.

    وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات پاکستان کے انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز الدین بھی کر رہے تھے. 26 اگست 1952 کو وہ ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی سے پشاور جا رہے تھے، ان کے ہمراہ تحقیقاتی رپورٹ بھی تھیں جس میں اہم شواہد موجود تھے. طیارہ جب کھیوڑہ کے مقام پر پہنچا تو حادثے کا شکار ہو گیا. انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ اہم شواہد بھی جل کر راکھ ہو گئے.

    دباؤ بڑھنے کی وجہ سے حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے یورین کی خدمات بھی حاصل کیں، جس نے حکومت سے تحقیقات کرنے کے بدلے 10 ہزار پاؤنڈ اجرت لی. یورین نے 28 نومبر 1954 سے 16 جون 1955 تک لیاقت علی خان قتل کی تفتیش کی. 25 جون 1955 کو یورین نے اپنی تحقیقاتی اور تفتیشی رپورٹ پیش کی جس میں اس نے کہا کہ قاتل کا قتل کرنے والا ذاتی فعل تھا.

    دریں اثناء محکمہ پولیس نے سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ ابرار احمد کو قتل کی تفتیش پر لگا دیا. یہ وہی شیخ ابرار ہیں جو جلسہ گاہ میں موجود تھے. انہوں نے پولیس اہلکار سے پستول چھینا تھا جو قاتل سید اکبر کو گولیاں مار رہا تھا. شیخ ابرار نے خود نوشت سوانح "نقوش زندگی” میں اس تفتیش کا ذکر تفصیل سے کیا ہے. شیخ ابرار نے بھی قتل کی وجہ قاتل کا ذاتی فعل قرار دیا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان کے قاتل کے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کا نام سید اکبر خان ولد ببرک خان تھا، اکبر نے اپنے بھائی زمرک کے ساتھ ملکر 1944 میں افغان حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کیا. سرکاری فورسز سے شکست کھانے کے بعد دونوں بھائی ادھر ادھر بھٹکتے رہے اور آخر کار دونوں نے خود کو برطانوی فرنٹیر کور کے سامنے پیش کر دیا. دونوں کو ایبٹ آباد میں نظر بند کر دیا گیا اور تنخواہ مقرر کر دی گئی کیوں کہ دونوں بھائی برطانیہ کے لئے اجرت پر کام کرنے لگ گئے. یاد رہے اس وقت ایبٹ آباد برطانوی ہندوستان کا ایبٹ آباد تھا. پاکستان کے مطابق سید اکبر افغانی تھا، وہ افغانستان سے یبٹ آباد آیا، کچھ دن قیام کرنے کے بعد وہ ایبٹ آباد سے راولپنڈی پہنچا.

    وینکٹ رامانی اپنی کتاب "پاکستان میں امریکہ کا کردار” میں لکھتے ہیں کہ امریکی صدر ہنری ٹرومین کو امریکی عوام اور کانگریس سے شدید مذمت اور دباؤ کا سامنا تھا. کیوں کہ کوریا میں امریکیوں کو سخت پریشانی کا سامنا تھا. امریکی عوام سمجھتے تھے کہ کوریا میں امریکی ہلاکتوں کی ذمہ دار ٹرومین حکومت ہے. کوریا جنگ میں پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن نے پاکستان میں امریکی سفیر ایورا وارن کو کچھ انتہائی اہم اور پوشید ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملاقات کرنے کو کہا.

    11 مئی 1951 کو امریکی سفیر نے لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور کوریا جنگ میں ٹھوس مدد کرنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ تعاون نہیں کرتے تو پھر اس کے نتیجے میں اجتماعی سلامتی کا نظام ختم ہو سکتا ہے. پاکستان سیمت تمام نئے یا ترقی پزیر ممالک کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے پیش قدمی یا کسی قسم کی جارحیت کے دفاع کے لئے اقوام متحدہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے. یہ واضح طور پر یا ممکنہ طور پر سفیر کا دھمکی آمیز انداز تھا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان ایک زیرک سیاست دان اور محب وطن حکمراں تھے. وہ تمام بات سننے کے بعد فرمانے لگے کہ اگر پاکستان کوریا کی جنگی مہم میں امریکہ کا ساتھ دے تو کیا

    1: امریکہ مسئلہ کشمیر حل کروائے گا؟

    2: نہرو مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کروانے کا سوچ رہے ہیں، کیا امریکہ انتخابات رکوا پائے گا؟

    3: افغانی حکومت اور کچھ افغان نواز اور قوم پرست قبائل پختونستان مہم چلائے ہوئے ہیں، کیا امریکہ پختونستان کے شوشہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا؟

    یہ وہ چیدہ چیدہ شرائط تھیں جو وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکی سفیر ایورا وارن کے سامنے رکھیں. لیاقت علی خان جانتے تھے کہ یہی موقع ہے امریکہ سے شرائط کی صورت میں اپنے مطالبات منوانے کا. امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن لیاقت علی خان سے یہی امید رکھتے تھے، اسی لئے سفیر ایورا وارن کو پیشگی سمجھا دیا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف سے ایسی شرائط رکھی جائیں تو صاف صاف انکار کر دینا. توقع کے مطابق لیاقت علی خان نے وہی شرائط رکھ دیں اور ایورا وارن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایسا کرنے سے مسائل جنم لیں گے.

    کچھ برس قبل امریکہ کے نیشنل آرکائیو ڈیپارٹمنٹ نے کچھ دستاویزات کو عوام کی پہنچ میں لاتے ہوئے پبلک کیں ان میں سے ایک ایسا ٹیلی گرام بھی ملا جس کی مدد سے لیاقت علی خان کے قتل کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے. 7 ستمبر 1951 امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کو ایک مراسلہ روانہ کیا گیا جس کے مطابق اسی شام مطلب 7 ستمبر 1951 کو وزیر خزانہ غلام محمد نے امریکی سفیر سے چائے پر ملاقات کی اور سفیر سے درخواست کی کہ وہ مندرجہ ذیل پیغام امریکی وزیر خارجہ تک پہنچائیں.

    "اگلے ہفتے ظفراللہ امریکہ آ رہے ہیں، مہربانی کرکے آپ ان سے مل لیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنے گھر پر ملاقات کا وقت نکالیں گے. اور گزارش کی جاتی ہے کہ آپ ظفراللہ کو ٹرومین سے بھی ملوا دیں گے”. خفیہ ٹیلی گرام کے مطابق غلام محمد کہتے ہیں کہ وہ دسمبر میں تین ہفتوں کے لئے امریکہ آنا چاہتے ہیں اور آپ سے تفصیلی بات چیت کرنے کے خواہاں ہیں. سفیر نے اپنے مراسلے میں مزید لکھا کہ غلام محمد نے کہا کہ میں پاکستان اور مسلم دنیا کو کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لئے منظم کرنے کا مقصد رکھتا ہوں. میں اور میرے دو رفیق خاص بھارت کے ساتھ جنگ نہیں ہونے دیں گے. ایک ملک کا وزیر خزانہ ایک سفیر سے اس طرح کی باتیں اور امریکی وزیر خارجہ کے لئے اہم ترین پیغام کیوں بھجوا رہا تھا، قوی امکان ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ 27 جولائی 1951 کو عوام کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھارت کے لئے مکا لہرایا تھا. اس مکے نے بھارت میں تشویش اور پریشانی پیدا کر دی تھی، ہو سکتا ہے حالات معمول پر لانے اور بہتر کرنے کے لئے غلام محمد نے یہ کہا ہو کہ وہ کبھی بھی بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ نہیں ہونے دیں گے. اس ملاقات اور بیان کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ غلام محمد ان دنوں علیل تھے اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے تھے، ان دنوں یہ خبر تھی کہ وزیراعظم لیاقت علی خان غلام محمد اور گورمانی کو ان کے عہدوں سے ہٹانے والے ہیں. لیاقت علی خان سردار عبدالرب نشتر کو نائب وزیراعظم اور نواب محمد اسماعیل کو پنجاب کا گورنر بنانے والے ہیں.

    امریکی سفیر سے غلام محمد کی ملاقات 7 ستمبر کو ہوئی، اس ملاقات سے 12 دن قبل مطلب 25 اگست 1951 کو لیاقت علی خان امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کے نام خط لکھ کر پاکستان کے لئے فوجی اور دفاعی سازوسامان کی درخواست کر چکے تھے. اس اہم خط کو ڈاک کے ذریعے بھیجنا مناسب نہ سمجھا گیا بلکہ اس خط کو سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ کے ہاتھ بھیجنا زیادہ محفوظ اور مناسب سمجھا گیا. جو خط کچھ دنوں میں پہنچ جانا چاہئے تھا مگر وہ خط پہنچا 18 اکتوبر کو. لیاقت علی خان کی شہادت کے دو دن بعد وہ خط امریکی وزیر خارجہ تک پہنچایا گیا. 

    بھوپال سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ "ندیم” نے ایک مضمون لکھا جس کے مطابق برطانیہ اور امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایران مسئلہ پر تعاون کریں. امریکہ نے دباؤ ڈالتے ہوئے پاکستان کو کہا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو کہیں کہ وہ تیل کے کنوئیں امریکہ کے حوالے کر دے. لیاقت علی خان نے واضح انداز میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا. جس کے ردعمل کے طور پر امریکہ نے دھمکی دی وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا. لیاقت علی خان نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت آدھا کشمیر لے لیا ہے اور باقی ماندہ بھی لے لیں گے، آپ اپنا تعاون اپنے پاس رکھیں. اس ساری صورتحال کے بعد امریکہ نے پاکستان میں کسی سہولت کار کی تلاش شروع کر دی. امریکہ کو پاکستان سے کوئی سہولت کار یا ایسا بندہ نہ مل سکا تو اس نے افغانستان سے رابطہ کیا.امریکہ نے پشتون راہنماؤں سے رابطہ کیا جو پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے اور پختونستان بنانا چاہتے تھے.

    روزنامہ ندیم کے مطابق امریکہ نے کابل میں اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا. سفارتخانے نے پاکستان مخالف پشتونوں سے رابطہ کیا جو پختونستان بنانا چاہتے تھے. امریکا نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ لیاقت علی خان کو قتل کر دیں تو 1952 تک پختونستان بن جائے گا. مختصر، سید اکبر خان کو لیاقت علی خان کے قتل کے لئے تیار کرکے اس کی تربیت شروع کی دی گئی. افغانستان سے اس کو ایبٹ آباد پہنچایا گیا، وہاں سے وہ راولپنڈی آیا. وہاں اس نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو دوران تقریر سینے پر دو گولیاں ماریں جن سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انتقال فرما گئے.  لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو مخصوص قسم کے کارتوس ملے وہ صرف امریکی فوج کے اعلی اور خفیہ لوگ استعمال کرتے تھے. اس وقت ایسے کارتوسوں کا عام مارکیٹ میں ملنا ناممکن تھا. ندیم کے مضمون کے مطابق جب گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی خبر دی اور تعزیت کی تو اس سے 3 سے 4 منٹ پہلے امریکی سفیر وارن بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی اطلاع دے چکا تھا. ان تمام عوامل اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے.

    30 اکتوبر کو روزنامہ ندیم کے اس مضمون کی نقل بھارت نے خفیہ طریقے سے کراچی میں امریکی سفارتخانے کو بھیج دی. سفارت خانے نے اگلے روز یعنی 31 اکتوبر کو امریکی وزارت خارجہ کو یہ کہتے ہوئے مضمون کی نقل ارسال کی کہ وہ دہلی سفارت خانے کو ہدایات دیں کہ اس مضمون کو نظرانداز کر دیا جائے کیوں کہ اس میں متن خودساختہ ہے اور اس اخبار کو اتنی اہمیت نہ دی جائے.

    بیگم رعنا لیاقت علی خان کو خاموش کروانے کے لئے ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا گیا. ہالینڈ میں انہوں نے اپنے شوہر وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل پر 6 سوال پوچھے.

    16 اکتوبر 1954 کو انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں کچھ سوالات پوچھے جو انھوں نے ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ سے جاری کیا تھا۔

    انھوں نے مندرجہ ذیل چھ سوالات اٹھائے تھے:

    ۱: ایسے موقع پر جب لیاقت علی خان ایک اہم بیان دینے والے تھے اور لیاقت علی خان اپنی مقبولیت اور شہرت کی انتہاء پر تھے، اسی وقت انکو کیوں قتل کردیا گیا؟

    ۲: قاتل کو بے بس ہو چکا تھا، اسکو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر موقع پر کیوں قتل کر دیا گیا؟

    ۳:  قاتل کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کو سزا دینے کی بجائے ترقی کیوں دی گئی؟

    ۴: ملک میں کچھ اہم اور طاقتور لوگ کیوں لیاقت علی خان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے؟

    ۵: قائداعظمؒ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ناموں کو بعض اہم معاملات میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

    ۶: ان سب سوالوں کے جواب کیوں نہیں دئیے جا رہے؟

    راقم الحروف کا ذاتی خیال ہے کہ اگر امریکی خفیہ دستاویزات اور اردو روزنامہ "ندیم” کے مضمون کو درست مان لیا جائے تو قاتل اور قتل کی سازش رچانے والوں اور پاکستان میں مبینہ طور پر غفلت برتنے والوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے.

    @mian_ihsaan

  • سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    دنیا میں سوئس کینال راہداری کے بعد پاک چین راہداری یا  سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہے سوئس راہ داری ترکی کے کنٹرول میں ہے جو کہ براعظم ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتی ہے مگر ادھر سب سے اہم سوال ایک پیدا ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبے پر اربوں ڈالر لگانے والے چین کو کیا ملے گا اس کو سی پیک سے کتنا فائدہ ہوگا سی پیک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے شروع ہوتا ہوا چائنا جاتا ہے سی پیک صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ چائنا کی بقا کا بھی مسئلہ ہے چین اپنی اشیاء کی خرید وفروخت اور تیل کی خرید و فروخت کے لیے جو راستہ سی پیک سے پہلے استعمال کرتا ہے وہ راستہ آبنائے ملاقا کا سے ہو کر گزرتا ہے جنوبی چین کے سمندری راستے جہاں فلپائن ویتنام جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں ان تینوں ملکوں کا یہ کہنا ہے اور ماننا ہے کہ جنوبی چین میں جو سمندر لگتا ہے وہ ہماری ملکیت ہے اس میں کچھ حصہ فلپائن کے قبضے میں ہے کچھ ویت نام کے قبضہ میں اور ایک بڑے حصے پر جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے یہ سمندر جس کو آبنائے ملاکا کے نام سے دنیا جانتی ہے اور اسی آبنائے سے چین کی سب سے بڑی تجارتی سپلائی لائن گزرتی ہے اب یہاں پر ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں ہی ملک یعنی کے جاپان ویتنام اور فلپائن ان تینوں کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکا کے ساتھ اتحادی بھی ہے یہی وجہ ہے کہ چین ان تینوں ملکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے چین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی جنگ کی صورت میں یہ سپلائی لائن بہت آسانی سے بند کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ سپلائی لائن ان تین ملکوں کے ساحل سے ہوکر گزرتی ہے اس کے برعکس اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو سی پیک سے پہلے پاکستان کے پاس بھی اسی طرح کی تجارتی سپلائی کے لیے ایک ہی راستہ موجود تھا جو کہ کراچی میں ہے انہی مشترکہ اہداف کی وجہ سے چین اور پاکستان نے چین-پاکستان راہداری منصوبے  پر کام کرنا شروع کیا جس کا نام  سی پیک رکھا کیا اور اس منصوبے کے ساتھ ہی چین کا سب سے بڑا مسئلہ گرم پانی کا وہ بھی حل ہوگیا یا اب چین بلا خوف و خطرگرم پانی اپنے ملک لے جا سکتا ہے اور استعمال کر سکتا ہے سی پیک میں اتنا زیادہ دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چین اپنے علاقوں کو ایک ساتھ ترقی دینا چاہتا تھا کیونکہ مشرقی چین دنیا بھر کی ہر سہولت سے آراستہ ہے وہی مغربی چین کی بہت ساری ریاستوں میں غربت نے اب بھی ہندوستان کی طرح ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اپنی ریاستوں کو ترقی دینے کے لیے چین سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے کیونکہ یہی وہ منصوبے ہیں جن پر کام کر کے  چین ان علاقوں سے غربت کو ختم کر سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی مغربی چین ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا تو چین ترقی یافتہ ملکوں کی دوڑ میں پہلے نمبر پر آ جائے گا یو اس کا دنیا پر حکمرانی کرنے کا خواب اور سپرپاور سٹیٹس حاصل کرنے کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے یہاں پر وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کیوں کہ ہندوستان اس خطے میں پہلے ہی بہت بدامنی پھیلا چکا ہے اور ایک سائیڈ پر وہ چائنا اور دوسری طرف وہ پاکستان کے خلاف زہریلے بیان جاری کرتا رہتا ہے اور اکثر رات کی تاریخی میں چھپ کر وار بھی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور چین کا یہ منصوبہ سی پیک اور  ون بیلٹ ون روڈ اس کا سب سے بڑا مخالف بھی ہندوستان اور امریکہ ہیں جبکہ چین یہ سب چیزوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس نے مخالفین کے منہ بند کرنے کے لئے اپنے ساتھ روس اور ترکی جیسے ملکوں کو بھی شامل کرلیا ہے کیوں کہ سی پیک  چین سے شروع ہو کے پاکستان سے ہوتا ہوا گوادر بندرگاہ تک جاتا ہے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جو کہ چین کی مغربی ریاستوں سے شروع ہوکر پاکستان ایران اور ترکی سے ہوتا ہوا یورپ تک جاتا ہے ون بیلٹ ون روڈ سے پاکستان اور چائنا باآسانی اپنی مصنوعات کو یورپ کے بازاروں میں فروخت کر سکتے ہیں جہاں پاکستان کو سی پیک سے بہت زیادہ فائدہ ہوگا وہاں پے اس کے کچھ منفی اثرات بھی  ہے جس میں چائنا کا بلا ججھک پاکستان کے اندر انٹر  ہونا ایران اور ترکی تک پاکستان سے روڈ کا جانا کیونکہ کہ ایران سے کافی زیادہ دہشتگرد پاکستان میں آ سکتے ہیں اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ یہ دونوں منصوبے پاکستان کو کس طرح اور کتنا فائدہ دیتے ہیں

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his  

     Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟   تحریر: حماد خان

    چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟ تحریر: حماد خان

    جب چین کو آزادی ملی تو یہ ایشیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔بہت سے یورپی اور مغربی ممالک اس وقت چین کو ایک ملک بھی نہیں سمجھتے تھے. لیکن اب پچھلے ستر سالوں میں چین دولت اور فوج دونوں کے لحاظ سے ایک عالمی سپر پاور بن کر ابھرا ہے. چین اس مختصر وقت میں یہ کیسے کر پایا۔ آئیے اس مضمون میں دیکھیں.

    1987 میں چین کی فی کس جی ڈی پی 155 ڈالر تھی جو 2014 میں بڑھ کر 7590 ڈالر ہو گئی۔

    چینی معیشت پر ایک نظر, 

    چین دنیا کے 80 فیصد ایئر کنڈیشنر ، 70 فیصد موبائل فون ، 60 فیصد جوتے ، 74 فیصد سولر سیل ، 60 فیصد سیمنٹ ، 45 فیصد جہاز اور 50 فیصد سٹیل تیار کرتا ہے۔

    23.25 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ ، چینی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھری ہے۔ 2.2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ، چینی معیشت امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا نمبر ایک برآمد کنندہ بن گئی. 

    چین اپنی زمین پر 60 فیصد برانڈڈ لگژری سامان تیار کرتا ہے ، اس طرح اس تصور کو مسترد کرتا ہے کہ وہ صرف سستا سامان تیار کرتا ہے۔

    بڑے پیمانے پر پیداوار اور ڈمپنگ۔

    چینی معاشی اصلاحات نے ان کی پیداوار کو اتنے بڑے پیمانے پر بڑھانے میں مدد کی ہے کہ اس کی پیداواری لاگت بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا گھر بن گیا ہے۔چینی صنعت کار اپنے وسائل اور توانائی کو جدت میں ضائع نہیں کرتے۔

    اس کے بجائے ، وہ ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کاپی کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات خود بنانا شروع کردیتے ہیں۔

    یہ ان کے اخراجات اور وسائل کو جدت ، R&D ، اور IPR پر بچاتا ہے۔چینی لیبر انتہائی پیداواری ہے. چینی حکومت نے صنعتوں کے ساتھ مل کر لیبر فورس کی مہارت کی ترقی پر کام کیا۔

    اس کے نتیجے میں چینی مزدوروں کی پیداوار ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ، ہندوستان میں ، ہنر کی ترقی اتنی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، زیادہ سے زیادہ لیبر فورس یا تو غیر پیداواری یا کم پیداواری ہے۔

    ہندوستانی مزدور ایک گھنٹے میں 10 موبائل بناتا ہے ، جبکہ چینی مزدور ایک گھنٹے میں 50 موبائل بناتا ہے. گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ، چین دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کے لیے پہلی پسند بن گیا ہے۔

    اس کے برعکس ، بھارت نے ابھی مینوفیکچرنگ کلسٹر قائم کرنا شروع کیا ہے جس میں تجربہ کار ہنر مند مزدور پیدا کرنے میں وقت لگے گا ، جبکہ یہ چین کے ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    سیاسی استحکام مینوفیکچرنگ کی ایک مقبول منزل کے طور پر چین کے ابھرنے کی بنیادی وجہ ہے۔

    چین اپنے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھارت کے مقابلے میں عالمی شراکت دار کے لیے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں ، بیوروکریٹک ریڈ ٹیپزم کی وجہ سے ، کاروبار شروع کرنے کے لیے کلیئرنس حاصل کرنے میں زیادہ وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھارت آنے سے گریزاں ہیں. چین معاشی سپر پاور بننے کے پیچھے سب سے اہم عنصر اس کے تعلیمی نظام کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    چین نے تعلیم کو مزید عالمی اور عملی بنا کر بڑی اصلاحات لائی ہیں۔

    دوسری طرف ، ہندوستانی تعلیمی نظام اب بھی اس کے گرد گھوم رہا ہے جسے برطانوی میراث کہا جاتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں ، چین میں ہندوستان کے مقابلے میں شرح خواندگی زیادہ ہے اور وہ ہندوستان کے مقابلے میں ہر سال گریجویٹس کی زیادہ تعداد پیدا کرتا ہے۔

    . صنعتی نیٹ ورک کلسٹرنگ۔

    چین نے مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے صنعتی کلسٹروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

    انہوں نے سپلائی چین شہروں اور کلسٹروں کو ایک ہی جگہ پر پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

    مثال کے طور پر

    – موبائل فون بنانے کے لیے ، انہوں نے کلسٹر تیار کیے ہیں جہاں موبائل فون کے ہر حصے کو ایک ہی جگہ پر تیار کیا جاتا ہے۔

    بجلی کی لاگت

    چین میں ، بجلی بہت کم قیمت پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہے ، جبکہ انڈیا میں صنعتی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے.

    ایک نتیجے کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چینی حکومت کے بہتر انتظام کی وجہ سے ، چینی رہنماؤں کی بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے چین خطے میں معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا۔ پاکستانی رہنماؤں کو اپنے چینی ہم منصبوں سے کچھ سبق لینا چاہیے تاکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اسی طرح کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے. 

  • پاکستان کے مسائل  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کے مسائل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    یوں تو جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے،ہر وقت کسی نہ کسی طرح کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔

    پاکستان بننے کے بعد یہ مسائل کم تھے۔

    مگر آہستہ آہستہ ان میں آنے والے کرپٹ حکمرانوں کی بدولت اضافہ ہوتا گیا۔

    جو حکمران بھی آیا،

    اُس نے لوٹ مار پر زیادہ فوکس کیا اور یہ مسائل انبار کی شکل اختیار کرتے گئے۔

    کسی نے بھی ان مسائل پر توجہ نہیں دی۔

    جو بھی آیا اُس نے اپنی تجوریاں تو خوب بھریں مگر ملکی خزانہ خالی ہوتا گیا۔

    پی ٹی آئ کی موجودہ حکومت اسی وجہ سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے کہ اسے ملنے والی حکومت ماضی کے حکمرانوں کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھی۔حکومت ملتے ہی وزیر اعظم 

    عمران خان کو قرضوں کی ادائیگی کی ایمرجنسی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوست ممالک کے ہنگامی دورے کرنے پڑے۔

    عمران خان کی تگ و دو سے ملک فوری طور پر دیوالیہ ہونے سے تو بچ گیا مگر ان مسائل سے نبٹنا اب بھی اس حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

    موجودہ حکومت جن مسائل کا اس وقت سامنا کر رہی ہے،

    اُن میں مہنگائ سرفہرست ہے

    مہنگائ کی موجودہ ہوش رُبا لہر حکومت کے گلے پڑے ہوئ ہے۔

    اس مہنگائ میں موجودہ حکومت کا کردار کتنا ہے؟

    یہ غور طلب بات ہے

    مہنگائ کے ضمن میں سب سے پہلی وجہ تو کرونا کے بعد پوری دنیا میں چیزوں کا مہنگا ہو جانا شامل ہے۔

    برطانیہ،کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے آپ کو اس صورتحال سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔

    تیل کی بڑھتی قیمتوں نے خاص طور پر دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

    تیل کی قیمت بڑھنے سے ہرچیز پر اثر پڑتا ہے۔برطانیہ جیسے ملک میں اس بحران کی وجہ سے انہیں فوج طلب کرنا پڑی تاکہ پٹرول پمپس پر تیل کے حصول میں لگی لمبی لائنوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    اس وقت کئی یورپی ممالک میں مہنگائ اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    اگر ترقی یافتہ ممالک کا یہ حال ہے تو بھلا پاکستان اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟

    جہاں لوٹ مار سے خزانہ پہلے ہی خالی ہے اوپر سے ماضی کے حکمرانوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کی واپسی کے لئے مزید قرضوں کا حصول 

    یک نہ شُد،دو شُد والی بات ہے۔

    مہنگائ کی بین الاقوامی وجوہات اپنی جگہ،

    ماضی کے حکمرانوں کی عیاشیوں کی بدولت ملکی معیشت کی تباہ حالی اپنی جگہ

    مگر موجودہ حکومت نے مہنگائ کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی طرف سے بھی کچھ خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھاۓ۔

    اکثر وزرا مُشرا رام لیلی کی کہانی ٹیلی وژن پر آکر سناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سرخرو ہو گئے۔

    ایسا قطعا” نہیں،

    عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کم ازکم مصنوعی مہنگائ کا توڑ تو کیا جاۓ؟

    کم ازکم اُن مافیاز کو تولگام ڈالی جاۓ،

    جو جان بوجھ کر چیزوں کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اس خود ساختہ مہنگائ سے موجودہ حکومت کی ساکھ خراب ہو اور ماضی کے چوروں کو ایکبار پھر واپسی کا موقع مل سکے۔

    یہ مافیاز درپردہ انہیں سابق حکمرانوں کے اشارے پر چلتے ہیں،

    انکی ڈوریاں وہیں سے ہلائ جاتی ہیں۔

    یہ سب لوگ اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں،

    جو مل کے لوٹ مار کرتا تھا ،

    مل کے بندر بانٹ کرتا تھا اور پھر اقرار بھی کرتا تھا کہ کھاتا ہے تو کھلاتا بھی ہے۔

    حکومت ان سب باتوں کے باوجود اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

    زخیرہ اندوزوں اور چوربازاری کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا بہت زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملکی معیشت کے مثبت اعشاریے مہنگائ کی اس لہرکی وجہ سے ماند نظر آتے ہیں۔

    اس مہنگائ کو کم کرنے کے لئے حکومت کو ہی کچھ کرنا ہو گا۔

    کسی غیبی امداد کا منتظر رہنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔

    کالم لکھنے کے دوران ہی پتہ چلا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں ایکبار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

    یہ اضافہ بے شک تیل کی قیمت میں بین الاقوامی طور پر ہونے والے اضافے ہی کا شاخسانہ ہے۔

    مگر یہ اضافہ عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثرکر رہا ہے،

    حکومت کو پٹرولیم مصنوعات میں مزیدسبسڈی دینے کے لئے کوئ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    اگرچہ ایک مقروض ملک کے لئے یہ آسان ہرگز نہیں مگر کبھی کبھار عوام کی خاطر کچھ کڑوے گھونٹ پی لینے میں کوئ مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

    خطے میں اب بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں۔

    مگر یہ مفروضہ عوام کے دُکھوں کا مداوا ہر گز نہیں۔

    ان مشکل حالات میں عوام کو بھی حکومت کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوۓ چھوٹی چھوٹی بچتوں پر کام کرنا ہوگا۔

    اس سے نہ صرف ان کا فائدہ ہوگا بلکہ ملک کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔

    قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔

    ہم اس ملک کا نہیں سوچیں گے تو دوسراکون سوچے گا؟

    ہم سب کو مل کے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

    سب کچھ کرنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں۔

    ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ہمیں اس بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہو گا،

    جو اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے کیا جا رہا۔

    ہمیں اس ففتھ جنریشن وار میں ریاست کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے۔

    یہ یاد رکھیں کہ یہ ملک ہے تو ہم سب بھی ہیں۔

    ہمیں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ کسی بچت یا ملکی مفاد میں جب بھی کوئ  مشورہ   دیا جاتا ہے لوگ حکومت کا مذاق اڑانا شروع کر دیتےہیں۔

    لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کو 70سال لگاتار برباد کیا گیا،

    اسے درست کرنے کے لئے کچھ وقت تو لگے گا،

    موجودہ حکومت کو ابھی 3سال ہوے ہیں آۓ ہوۓ۔

    ابھی سے کچھ گماشتے یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ جنہوں نے دہائیوں اس ملک کو لُوٹا،

    جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ہیں،

    انہیں کو واپس لے آئیں۔

    واہ کیا منطق ہے،گویا

    میر کیا سادےہیں،بیمار ہوۓ جس کے سبب

    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari