Baaghi TV

Category: سیاست

  • غداری تحریر: فروا منیر

    غداری تحریر: فروا منیر

    غداری ایک ایسی لعنت ہے جو کسی بھی ملک کی بنیادوں کو کوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں امت مسلمہ کی جماعتوں میں ہی کئی غدار نظر آئیں گے۔
    کسی بھی ملک کی سر زمین میں اس کے رہنے والوں کے لیے ماں کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سرزمین وطن کے ساتھ غداری کرنا ماں سے غداری کرنے کے برابر ہوتا ہے۔

    مگر تاریخ گواہ ہے کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے وطن اور دین کی پرواہ نہ کی اور وہ صرف کچھ دولت کی خاطر تخت کی خاطر اس وطن کے خلاف  اس وطن کے دشمنوں کے ساتھ مل گئے اور غداروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ اگر ٹیپو سلطان کا دوست میر جعفر غداری نہ کرتا تو کیا آج برصغیر پاک و ہند کا یہ جغرافیہ ہوتا جو آپ کے سامنے ہے؟ اسی وجہ سے علامہ اقبالؒ نے بھی میر جعفر کو ننگ ملت‘ ننگ دیں اور ننگ وطن کے ناموں سے یاد کیا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ اگر شریف مکہ غداری نہ کرتے تو نہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوتا اور نہ ہی مسلمانوں کی یہ حالت ہوتی۔

    اقبالؒ نے تاریخ کے اس موڑ پر بھی ببانگ دہل کہا ’’بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیٰؐ‘‘ بحیثیت مسلمان تاریخ میرے ہاتھ میں قدم قدم پر غداروں کی ایک فہرست تھما دیتی ہے‘

    اکثر اوقات ہم غداروں کو پہچان نہیں پاتے یا پھر غداروں کو غدار ماننے میں اتنی دیر کر جاتے ہیں کہ وہ ہماری بنیادوں کو کوکھلا کر چکے ہوتے ہیں۔

    سقوط بغداد مسلمانوں کے دکھ کے لیے کافی تھا کہ سقوط ڈھاکہ جیسا منظر سامنے آگیا ۔اسکے غداروں کی فہرست میں بڑے کردار شیخ مجیب الرحمنٰ اور جنرل یحییٰ خان ہیں۔

    کسی بھی ملک کو اس کے دشمن سے زیادہ جو چیز نقصان پہنچاتی ہے وہ ہے غداری۔دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار کسی بھی ریاست کے وہ کھوٹے سکے ہیں جو ریاست جو اندرونی طور پر کمزور کرتے ہیں۔

    زیادہ دور جانے جی ضرورت نہیں سابقہ وزیراعظم نواز شریف کے دشمن ملک انڈیا کے وزیراعظم سے پرانے تعلقات ہیں.  یہ تعلقات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ گھریلو سطح پربھی ہیں ۔
    ایسا بھی کیا کہ کشمیر پر ظلم ڈھاںے اور اسلام کے خلاف بولنے والے ، مسلمانوں ہر ظلم کرنے والے شخص کو جناب نواز شریف اپنے گھر اپنی نواسی جی شادی پر دعوت دیتے ہیں. آپس میں تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔

    ضرورت صرف امر کی ہےکہ نہ صرف غداروں کو پہچانا جائے بلکہ سر عام لٹکایا جائے ۔ تا کہ کوئی بھی اس وطن پاک کے ساتھ غداری کرنے کی سوچ کا تصور بھی نہیں رکھ سکے ۔

    @Fatii_PTI

  • برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

    برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

             

    کبھی برطانیہ کا دعوی تھا کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر اس کا قبضہ ہے دنیا کے 150 ملکوں پر برطانوی راج قائم تھا اور برطانوی سلطنت  میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج حال یہ ہے کہ برطانیہ کا رقبہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کچھ زیادہ ہے کیا ان سب چیزوں نے برطانیہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے تو اس کا جواب ہے ہاں برطانیہ کا سوپر پاور اسٹیٹس تو ختم ہوگیا ہے لیکن آج بھی امریکہ میں سکیورٹی کونسل کا مستقبل ممبر ہونے کی وجہ سے سے برطانیہ کسی بھی مسئلے کو ویٹو کر کر اس مسئلہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ہے برطانیہ کے پاس ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے برطانیہ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی جگہ پر فوج بھیجنی ہو یا کسی بھی مسئلہ کے اوپر کوئی ڈبیٹ کرنی ہو تو وہ برطانیہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا بھلے ہی برطانیہ رقبہ کے لحاظ سے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھوڑا سا بڑا ہے لیکن اس کا دفاعی بجٹ اور فوجی بجٹ کتنا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانیہ کا فوجی بجٹ 61 ارب ڈالر ہوتا ہے یعنی پاکستان کے فوجی بجٹ سے چھ گناہ زیادہ برطانوی ایئر فورس کے پاس دو سو سے زیادہ طیارے ہیں اور برطانوی بحریہ کے پاس کسی بھی طیارے کو منٹوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں یہ آبدوزیں ہر وقت برطانیہ کے ارد گرد چکر لگاتی رہتی ہیں اور اس کا دفاع کرتی رہتی ہیں دوسری طرف طرف اگر غور کریں تو اسلحہ تیار کرنے میں برطانیہ کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے برطانوی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور جی سیون کا اہم رکن بھی ہے کچھ سال پہلے برطانیہ نے یونان اور آئرلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچایا تھا برطانیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان میں واقع ہے جس کا اس کو یہ فائدہ ہے کہ دنیا کے ان تین براعظموں میں ہونے والی کسی بھی قسم کی کوئی تجارت برطانیہ کے بنا نہیں ہو سکتی ایک امریکی جریدے کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ دنیا کی سپر سافٹ پاور ہے کیونکہ برطانیہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ میسج لکھنے میں آج تک برقرار ہے کہ وہ امریکہ سے بہتر ہے مختصر بات کریں تو برطانیہ اتنی بڑی فوجی طاقت تو نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک پر تن تنہا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لے لیکن برطانیہ اتنی بڑی طاقت ضرور ہے کہ دنیا میں ہونے والے کسی بھی ملک میں کسی بھی فیصلے پہ وہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اتنی بڑی فوجی طاقت ضرور ہے کہ کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے کی سوچ نہیں سکتا یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانیہ کی طاقت اس کی فوجی اور معاشی قوت میں چھپی ہوئی نہیں بلکہ برطانیہ کی طاقت جدید  یونیورسٹیاں یا سائنسی مہارت اور دنیا کے تمام ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں چینی 65 روپے کلو تھی لیکن یہ بھول گئے کہ مشرف دور میں 27 روپے کلو تھی
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ڈالر 130 روپے کا نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف تو ڈالر 60 روپے کا چھوڑ کر گیا تھا
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ملک پر قرضہ ‏95 ارب ڈالر نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا
    لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف 33 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گیا تھا

    اگر نواز شریف دور میں ملک ترقی کررہا تھا تو چینی 65 سے کم کر کے جانا چاہئیے تھا
    اگر ملک ترقی کررہا تھا تو ڈالر 60 روپے سے کم کر کہ جاتا۔
    اگر ملک ترقی کر رہا تھا تو قرضہ 33 ارب ڈالر سے کم کر کے جاتا۔

    جیسے آج عمران خان نے ملک کے قرضوں میں کمی لانا شروع کی ہے۔ آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف رکھیں لیکن آپ کو ماننا پڑے گا اس سے اچھا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر آپکی چوائس وہی لوگ ہیں جنکی کارکردگی ہمارے سامنے ہیں جن کے جیسے غدار اور منافق کوئی نہیں تو آپ وراثتی ماحول کے ذہنی غلام ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایسے ایسے سیاستدان ہیں جن کے بال سفید ہوگئے سیاست کرتے جو واقعی قابل بھی ہیں اور ایماندار بھی ہونگے لیکن وہ بلاول اور مریم کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹی ان کے باپ کی ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی انہی کا ہے پھر چاہے سیاست کی الف بے بھی معلوم نا ہو لیکن وراثت میں یہ ملک اور اس پر حکمرانی مل گئی پہلے ان کے آباؤ اجداد ہم پر حکمرانی کرتے رہے اب ان کی اولاد ہم پر حاکم بنیں گے ۔ آخر کیوں ۔؟

    میرا یا آپ کا بچہ کیوں حاکم نہیں بن سکتا آخر یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ۔ اگر جمہوریت ہے تو کیسی جمہوریت جہاں نسل در نسل غلام نسل در نسل حکمران چلے آرہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دو خاندان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں یہ مہنگائی غربت بے روزگاری اداروں کی بد حالی سب انہیں کی میراث ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں آخر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے جو چار دہائیوں کی تباہی کو چند سالوں میں ہی ٹھیک کر دے گی یعنی ملک تباہ کرنے میں بھی کم سے کم چالیس سال لگے ہیں راتوں رات تباہ نہیں ہوا اور آپ چاہتے ہیں ٹھیک فوراً کر دیا جائے ۔؟

    ایسا ممکن ہی نہیں ہمیں ٹیکسز مہنگائی غربت کی چکی میں پسنا پڑے گا اب یہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں۔ آئینے کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے عقل و فہم سے عاری اندھے گونگے بہرے لوگ دیکھنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ عمران خان نا بھی رہا تو اس کو کون سا فرق پڑے گا وہ تو وزیراعظم بننے سے پہلے بھی شہرت و عزت کہ زندگی وہ گزار چکا ہے بعد میں بھی گزار لے گا فرق پڑے گا مجھے اور آپ کو جو آج ہم عمران خان کو کوس رہے ہیں کل جب پھر سے ہم پر ڈاکو خاندان راج کر رہے ہونگے تو ہم اس وقت کو یاد کر کہ دہایاں دے رہے ہونگے لیکن پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

    خدارا ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام  کی بحالی ناگزیرہے   تحریر:  خرم جمال شاہد

    ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام کی بحالی ناگزیرہے تحریر: خرم جمال شاہد

    ‎@KhurramAJK
    جمہوریت کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہو۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ تب ممکن ہو گاجب عوام کوبااختیار کرکے حکومت میں شامل کیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز کی آزادی کو 75سال کا عرصہ گزر گیا لیکن اب تک جمہوریت کچھ بااثر خاندانوں کی سیاست تک محدود ہے۔ اب تک ملک عزیز میں عام آدمی بلخصوص نوجوانوں کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے بجائے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ عوام کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے لیئے صرف ایک ہی حل بچتا ہے وہ ہے بلدیاتی نظام کی بحالی اور اس کی فعالیت۔ بلدیاتی نظام ہر ملک کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد اور جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ فعال اور موثربلدیاتی نظام ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کی وجہ سے، لوکل باڈیز کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ جب کہ جن ملکوں میں یہ نظام موجود نہیں یا فعال نہیں وہاں مقامی لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اوروہ ممالک زوال پذیر ہیں۔

    بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اوراشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔ اختیارات، انتظامی امور اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی (مقامی) سطح پرمنتقلی کے زریعے عوام کا بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں مقامی انتظامیہ، مقامی مسائل کی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ جبکہ محدود وسائل (فنڈز) کو اشتراکی ترقیاتی اپروچ کی بنیاد پر، بہتر طریقے سے علاقائی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ موجودہ دور میں، سالانہ ترقیاتی پلان و ایم ایل اے فنڈ کو سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جاتا ہے، جبکہ ان فنڈز کا صرف سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ اکثروبیشتر یہ فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگانے کے بجائے ووٹ خریدنے یا سیاسی کارکنان کو نوازنے کے لیئے استعمال ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فندز کو مقامی لوگوں کے مسائل اور موجود وسائل کے تناظر میں غیر سیاسی بنیادوں پرمختص کیا جا نا ضروری ہے۔ اس کا ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیئے۔ ہر سال علاقائی بلدیاتی باڈی یا کمیٹی کے ارکان عوام کے ساتھ مشاورت کریں اور مسائل کی نشاندہی کریں۔ سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یا مسئلہ کے حل کے لیئے تجویز اسمبلی ممبران کے پاس جانی چاہیئے، تاکہ وہ اسی بنیاد پر سالانہ ترقیاتی پلان /ایم ایل اے فنڈ کو مختلف مدات میں مختص کرسکے۔ اس کے علاوہ جب یہ عمل نچلی سطح پر نافذ ہوتا ہے تو یہاں سے عام لوگوں کی بہتر سیاسی تربیت ہوتی ہے اور وہ آگے کی سیاست کا حصہ بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر جب اچھا تربیت یافتہ ہو تو وہ عملی طور پر مستقبل میں اسمبلی / پارلمینٹ کا حصہ بن کر اپنی صلاحیت ملکی طرقی کے لیئے بروئے کار لاسکتا ہے۔

    موجودہ حالات میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی یا غیر فعالیت کی وجہ سے اسمبلی ممبران ٹوٹی نلکہ، تقرری تبادلے، چھوٹی چھوٹی سکیمیوں اور تھانہ کچہری کی سیاست میں مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی زمہ داری "ملکی امور، قانون سازری و آئینی ترامیم، ترقیاتی بجٹ کا انتظام، پالیسی سازی اور اس کے موثرنفاذ ” کو نبھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ اسمبلی میں کم تعلیم یافتہ ممبران ہونے کی وجہ سے، اسمبلی ممبران بلدیاتی نظام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکے ہیں جبکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم اور قانون سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے وہ پرانی روایتی استحصالی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک گلی محلے کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسمبلی ممبران مقامی مسائل کے حل کے لیئے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لاتی تاکہ ان کے سر سے ٹوٹی نلکہ، تھانہ کچہری، تقرری تبادلہ اور سکمیوں کا بوجھ ختم ہوتا اور وہ بھی دوسرے ممالک کے کے پارلیمنٹ ارکان کی طرح قانون سازی کرتے۔

    بلدیاتی نظام عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا نظام مہیا کرتا ہے۔حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ایک اہم کام فنڈز کا مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال اور اس کی عوامی جوابدہی ہے۔ اس میں مقامی حکومتیں / باڈیز فنڈز کے شفاف خرچ اور آڈٹ کے زریعے جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ فنڈز سیاسی کارکنان کو نوازنے کے خرد برد کیئے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ریاستی شعبہ لوکل گورنمنٹ بھی اس کرپشن کا حصہ رہا ہے۔ جب تک بلدیاتی نظام نافذ اور فعال نہیں ہوتا تب تک اس خرد برد کو نہیں روکا جا سکتا۔

    بلدیاتی نظام کیا ہے۔اس کی ابتدا کب ہوئی۔اس نظام کو پھلنے پھولنے کیوں نہیں دیا جا رہا۔اس نظام کے آنے سے عام عوام یا نچلی سطح کے سیاسی کارکن اور خود سیاسی پارٹیوں کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔یہ سب وہ سوالات ہیں جو ایک عام سیاسی کارکن کے ذہن میں اکثر اٹھتے ہیں لیکن وہ اپنے زاتی مفاد یا سیاسی اکابرین / راہنماؤں کی ناراضگی کی ڈر کی وجہ سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ (کیوں کہ سیاسی راہنماؤں کی نظر میں بلدیاتی نظام ایک ناقابل معافی جرم ہے)۔یہ نظام کئی صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان اسلامی ممالک میں معروف ہیں وہ 1990کے عشرے میں بلدیاتی انتخابات سے استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔انڈونیشیا میں بلدیاتی اداروں سے تربیت یافتہ جوکوویدو سربراہ مملکت کے منصب تک پہنچے۔ جبکہ بر صغیر میں انگریزدور 1846سے کچھ حد تک لوکل باڈیز نے مختلف شکلوں میں کام کیا۔1947میں پاکستان اور ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں یہ نظام موجود تھاا س کو ختم کر کے تمام اختیارات ختم کر دیے گے،ختم کی جانے والی کمیٹیوں کے ممبران اور چیئرمین کو بذریعہ الیکشن عوام منتخب کرتی اور سماجی بہبود کے 37کاموں کو ان کمیٹیوں کے زیر انتظام کر دیا گیا جن میں سماجی بہبود،صحت،پانی،صفائی و دیگر بنادی انفراسٹکچر و غیرہ شامل تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ کمیٹیاں 29اشیاء پر ٹیکس لگانے کا بھی اختیار رکھتی تھیں، یہ سسٹم جب تک ایوب خان رہے چلتا رہا لیکن پہلی عوامی حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر اس نظام کو ختم کردیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر عنان حکومت سنبھالا تو انہوں نے اس نظام کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا جو اس سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں دوبارہ بننے والی جمہوری حکومتوں نے اس نظا م کا خاتمہ کر دیا۔ اس دوران جمہوری حکومتیں گزری لیکن کوئی بھی حکومت اس نظام کو دوبارہ بحال یا جاری رکھنے میں سنجیدہ نہ ہوئی۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمر جنسی نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس نظام کومذید تبدیلیوں کے ساتھ رائج کیا اب اس نظام میں چیئر مین اور وائس چیئرمین کی جگہ ناظم اور نائب ناظم نے لے لی۔ 2001میں نئے لوکل گورنمنٹ آرڈینس کے تحت لوکل باڈیز کے الیکشن کروائے گیااور تمام اضلاع کو ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اور ضلع ناظم کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو ضلع ناظم کے سپرد کر دیا گیا۔

    پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بہت قلیل مدت کے لیئے بلدیاتی نظام رائج رہا ہے لیکن کبھی بھی ان کو باقاعدہ اختیارات کنہیں ملے۔ 1960میں جنرل ایوب اور پھر 1982میں صدر ضیاء الحق کے دور میں یہاں بریگیڈیر حیات خان نے بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ دوبارہ1986اور1991میں یہاں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ان ادارہ جات کو توڑ دیا اور اس وقت سے لیکر آج تک دوبارہ یہ نظام بحال نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعتیں مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر بلدیاتی نظام کو بحال نہیں کیا۔

    بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حدتک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔ ممبران اسمبلی کا کام قانون سازی ہے چونکہ قانون سازی اور قومی سطح کی پالیسز بنانا ہوتا ہے لیکن یہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان ممبران کو ٹوٹی،نلکہ اور تبادلہ کی سیاست کرنی پڑتی ہے۔بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں یہ ممبران اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی۔چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہو تا ہے۔اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیزدے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقہ میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے،اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی نظام کو ختم ہوئے پچیس سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نام نہاد جمہوری حکمران عوام کو جھوٹے وعدے کرکے اقتدار کی جنگ میں مشغول ہیں۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو بحال کیاا ور بلدیاتی انتخابات کروائے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو نے والے جمہوری حکمران بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیئے چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی خواجہ فاروق وزیر بلدیات کررہے ہیں۔ امید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دور کی طرح اس دفعہ عوام پر زیادتی کے مرتکب نہیں ہونگے بلکہ وہ اس نظام کی بحالی کے زریعے عوام میں اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی، سماجی کارکنان، صحافی اوروکلاء بلدیاتی نظام کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ارضِ پاک کو وجود میں آۓ 74 سال کا عرصہ بیت چکا مگر ہم آج بھی ان ممالک سے ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہیں جو ہمارے وطن عزیز کے بعد وجود میں آۓ۔ اس کی ذمہ دار صرف کوٸی ایک فرد یا سیاسی پارٹی نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ لاتعداد قربانیوں کے بعد جو وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم آج تک ان کا حق ادا نہیں کر سکے ہمارے آباٶاجداد نے بے شمار قربانیاں دیں تاکہ ہم غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک کھلی فضا میں سانس لیں سکیں ایک آزاد اسلامی ریاست تشکیل دی جاۓ تا کہ ہم اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں مگر افسوس کہ بظاہر تو ہم نے انگریز  کی غلامی سے آزادی تو حاصل کر لی مگر آج بھی ہم ذہنی غلام ہیں خواہشات کے ضرورتوں کے غلام ہیں ہم خود غرض قوم ہیں جسے وطن عزیز کی سالمیت یا اسکی فلاح سے کوٸی واسطہ نہیں رہا بلکہ صرف اپنے مفاد اپنی انا کی پڑی ہے۔ 

    پاکستان کے معرض وجود سے لے کر اب تک ہم میں سے کسی نے ایک دن بھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا ہم نے اپنے آباٶاجداد کی قربانیوں کو علامہ اقبال اور قاٸداظم کے فرمان کو نظریہ پاکستان کو بھلا دیا ۔ آج ہم مساٸل کا رونا روتے ہیں مگر ان مساٸل کو پیدا کرنے والے اور انکی افزاٸش کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ ہمارے سامنے بحیثیت لیڈر محمد صلى الله عليه واله وسلم ، صحابہ کرامؓ اور تاریخ کے بڑے بڑے عظیم مسلمان حکمرانوں اور قاٸداعظم کی مثالیں موجود تھی مگر پھر بھی ہم نے ایک بار نہیں بلکہ بہت بار کرپٹ، بے ایمان حکمرانوں کو چنا۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں جتنی بار بھی ووٹ کاسٹ کیا صرف روٹی، کپڑے، مکان کے نا پہ کیا کبھی بھی پاکستان کے مستقبل یا اسکی فلاح کے لیے نہیں کیا۔ ہم نے یا تو جیالا بن کے یا ن لیگی بن کے یا کپتان کے ٹاٸیگرز بن کے ووٹ ڈالا ہم نے کبھی بھی بحیثیت پاکستانی بن کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا کیونکہ ہم چند لوگوں کے ہاتھوں ذہنی غلام بن چکے ہیں ۔ 

     ہم نے آج تک کبھی نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی ہم نے کبھی بھی اس نظریہ کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا جو علامہ اقبال اور قاٸداعظم نے ہمیں دیا تھا اور جس پہ پاکستان بنا تھا یہی وجہ ہے ہم ابھی تک ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہم نے ذاتیات کی بنیاد پہ ووٹ ڈالا اور ڈاکو چوروں کو منتخب کر لیا ۔ غلطی تو ایک بار کی جاتی دوسری بار بھی وہی کرنا بے وقوفی کہلاتا یا جہالت

    ہم اگر پاکستانی بن کر سوچتے اور پاکستان کی خاطر اس کے نظریے کی خاطر ووٹ کاسٹ کرتے تو شاید آج اس موڑ پہ نہ کھڑے ہوتے۔ پانامہ کیس ، شوگر ملز کیس، منی لانڈرنگ ، فارن فنڈنگ کیس غرض ان تمام نام نہاد سیاسی جماعتوں پہ کرپشن کیسیز اور بدعنوانیوں کے کیسیز چل رہے لیکن اس کے بعد بھی ہم ان کا احتساب کرنے کی بجاۓ کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا رہا پوچھنے کی بجاۓ ہم پھر بھی انکے ساتھ کھڑے ہیں محض زات اور علاقے اور برادری کی وجہ سے کیا یہ سب وطن عزیز سے منافقت اور بے وفاٸی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا اس وطن کو لوٹنے والے قرض میں ڈبونے والے اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر اپنی جاٸیدادیں بنانے والے کیا اس قابل ہیں کہ ہم انہیں اس وطن عزیز پہ مسلط کر دیں۔

    سیاستدان باہر رہتے باہر جاٸیدادیں بناتے علاج کے لیے اور چھٹیاں منانے کے لیے باہر جاتے اور پھر آ کر کہتے کہ ہمیں منتخب کریں جس کا سب کچھ باہر ہو وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتا۔ ہمیں نچلے طبقے کو اوپر لانا ہو گا  جو غریب عوام کے مساٸل کو سمجھ سکے۔ جیسے ایک مثال ہے کہ اے سی میں بیٹھا شخص کبھی بھی سورج تلے شدید گرمی میں کھڑے شخص کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتا اسی طرح باہر رہنے والے یا اونچے اونچے محلوں میں بنگلوں میں رہنے والے حکمران کبھی بھی جھونپڑی میں رہنے والی عوام کے مساٸل نہیں سمجھ سکتے۔ ووٹ ایک قوم کے پاس اس کے وطن کی امانت ہوتی مگر ہم نے ہمیشہ اس وطن عزیز کی امنت میں خیانت کی کبھی اپنے روٹی کپڑے کے نام پہ تو کبھی فیورٹیزم کے نام پہ تو کبھی برادری کے نام پہ ووٹ ڈال کے۔ اب ہمیں خود میں شعور اجاگر کرنا ہو گا بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا ۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لیے انہیں چننا ہو گا جو واقع ہی وطن عزیز کے ساتھ مخلص ہوں۔ ذات پات ، برادری ، فرقہ پسندی وغیرہ کی رسومات کو توڑ کر نظریہ پاکستان کی خاطر اپنے ووٹ کو ڈالنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاۓ اب ہمیں ایک دوسرے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ایک پاکستانی بن کر حقیقی معنوں میں فقط پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے🌟

    @sbwords7

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ  حصہ دوم۔

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ حصہ دوم۔

    ویت نام ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ یہ اقتصادی ترقی میں چین کا حریف
    ثابت ہوا۔ اس کی برآمدات اس کے جی ڈیپی کی کل قیمت کے برابر ہیں۔ نائکی اسپورٹس
     ویئر سے لے کر سام سنگ اسمارٹ فون تک کوئی بھی چیز اس آسیان قوم میں تیار کی
    جاتی ہے۔

    جاپانی اور کورین الیکٹرونکس کمپنیاں جیسے سام سنگ ، ایل جی ، اولمپس، پاینیر
    اور ان گنت یورپی اور امریکی ملبوسات بنانے والوںنے یہاں اپنی مارکیٹ بنائی۔
    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں ویت نام خطے میں کپڑوں کا سب سے بڑا
    اور الیکٹرانکسکا دوسرا بڑا برآمد کنندہ تھا۔ چوتھا صنعتی انقلاب جنوب مشرقی
    ایشیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 2010 کے بعد سے ، ویتنام کی جی ڈی پی نمو
    ہر سال کم از کم 5 فیصد رہی ہے ، اور 2017 میں یہ 6.8 فیصد پر پہنچ گئی۔ اور یہ
     غریب ترین ممالک سے ایکدرمیانی آمدنی والے ملک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ جبکہ
     1985 میں اس کی فی کس جی ڈی پی بمشکل $ 230 تھی ، یہ 2017 میں ($ 2،343) سے دس
     گنا زیادہ تھی۔

    ترقی کے عمل کو زیادہ جامع اور پائیدار بنانے میں  خواتین نے بھی بہترین
    کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔  ویتنام میں ابتداء سے ہی خواتینکے کام کرنے کی حوصلہ
    افزائی کی گئی اور ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا گیا۔ ترقی یافتہ قوموں کی
    تاریخ نکال کر دیکھیں تو یہ باتواضح ہوتی ہے کہ جب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ
    کام کرتی ہیں تو ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ چین اور جاپانکے
    بعد ویت نام اس کی نمایاں مثال ہے۔

    ابتداء میں توجہ کا مرکز زیادہ تر تعلیم تھی۔ لیکن 1992 میں صحت کے شعبے پر بھی
     توجہ دی گئی۔ ہیلتھ انشورنس کا نظام متعارف کرایاگیا۔ ابتداء میں ملازمین اور
    ورکرز کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی گئی۔  ویت نام کی 73 فیصد آبادی کو
    صحت کی ضروریسہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ 2017 میں ہیلتھ انشورنس کوریج 86.4 فیصد
     تھی۔صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے والےگھرانوں کی تعداد 78.1 فیصد ہے جس میں ہر
     سال اضافہ ہو رہا ہے۔

    پچھلے 30 سالوں میں ویت نام ، ایک غریب ، جنگ زدہ ملک سے، دنیا کی ایک تیزی سے
    متحرک معیشت کے ساتھ ایک نئے صنعتی”شیر” میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

    ملک کی مسلسل معاشی ترقی مختلف عوامل پر منحصر ہے ، بشمول بیرونی براہ راست
    سرمایہ کاری، سیاسی استحکام ، بنیادی ڈھانچے کیترقی ، اور بدعنوانی سے پاک
    ریگولیٹری نظام۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی کو بڑھانا حکومت کے
    بنیادی مقاصد ہیں۔

    ویت نام کا غربت سے نکلنا اور اس کی معاشی ترقی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو
     پگھلانے اور اس کے نتیجے میں تجارتی اورسرمایہ کاری کے روابط کو بہتر بنانے کے
     لیے ایک اچھا سودا ہے۔ امریکہ ویت نام کا چین کے بعد دوسرا بڑا تجارتی شراکت
    دار ہے۔

    ویت نام نے طویل تھکا دینے والی جنگ کے بعد ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے
    جو کوششیں کیں وہ بین الاقوامی رینکنگ میںنظر انداز نہیں ہوئیں۔ ورلڈ اکنامک
    فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ میں ، ویت نام 2006 میں 77 ویں نمبر سے بڑھ کر
     2017 میں 55 ویں نمبر پر آگیا۔ اس دوران ویت نام نے معاہدوں کو نافذ کرنے ،
    کریڈٹ اور بجلی تک رسائی بڑھانے ، ٹیکس ادا کرنے اورسرحدپار تجارت کرنے سے لے
    کر ہر چیز میں پیش رفت کی۔ آخر میں ، ویت نام نے اپنی افرادی قوت کو بڑھانے اور
     بنیادی ڈھانچےمیں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔

    ویت نام کا معاشی مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ویت نام آنے
    والی دہائیوں میں تیزی سے ترقی کرتا رہے گااور 2050 تک دنیا کی 20 ویں بڑی
    معیشت بن جائے گا۔

    ویتنام نے جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد نا مساعد حالات میں دنیا میں اپنا مقام
    بنانے کے لیے جو جدوجہد کی ہے وہ ان تمام ممالککے ایک مثال ہے جو بہتر حالات
    میسر آنے کے باوجود ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ تعلیم تک سب کی رسائی، غریب
    اور وہ لوگجو سکول نہیں جا سکتے ان کو تعلیم دینا، تعلیمی نظام کو جدید ضروریات
     سے ہم آہنگ کرنا ویتنام کے Doi Moi ماڈل کی اولین ترجیحتھی۔ اس کے بعد بجلی کی
     پیداوار اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل تھی۔
    ترقی پذیر ممالک کو اناصولوں کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔
    پہلے نمبر پر تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ جو کامیاب
    شہری بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس کے بعد ملکی پیداوار میں
    اضافے کے لیے توانائی کی بلاتعطل فراہمی بہتضروری ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا اور
     مزدوروں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت دی جائے تو شہری دلجمعی کے ساتھ ملکی
    ترقی میںاپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہو
    رہی ہوں تو ترقی اور پیداوار کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتاہے۔ عام طور پر
    دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں ذاتی مفادات، جھگڑوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے
    میں وقت گذار دیتی ہیں۔ اورملکی مفادات کہیں پس پشت رکھ دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ
    ہے کہ جن ممالک میں سیاسی عدم استحکام ہو، تعلیمی نظام فرسودہ ہو اورصنعتی شعبے
     پر توجہ نہ دی جائے تو وہ ملک کبھی بھی ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن
    نہیں ہوتے۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں سیاسی منظر نامہ جاننے کے لیے ہوا کے رخ کو سمجھنا ایک حکمت ہے۔ کچھ لوگ اس ہوا کو اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں اور کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پرندے جس طرف اڑنا شروع کر دیں تو سمجھ جائیں کہ ہوا کا رخ بھی اسی طرف ہے۔

    اگر ہم مختلف ادوار کے الیکشنوں کا پوسٹ مارٹم کریں تو ہمیں آسانی سے پتہ چل سکتا ہے کے وہ کیا عوامل ہیں کہ الیکشن آنے سے پہلے کچھ پرندے پھڑ پھڑانے لگتے ہیں۔ ان پرندوں کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کے آنے والے الیکشن میں ہوا کا رخ کس طرف ہوگا۔ آسان لفظوں میں ان پرندوں کو الیکٹیبلز بھی کہا جاتا ہے جو الیکشن لڑنے کی سائنس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور نسل در نسل ان حلقوں سے مسلسل جیتے آ رہے ہیں۔

    یہ الیکٹیبلز جیت کی ضمانت ہوتے ہیں جو اپنے حلقے میں ہر ممکن اعتبار سے الیکشن جیتنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہر پارٹی نے ٹکٹ دیتے ہوئے الیکٹیبلز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ جس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں سمجھ جائیں کہ آنے والے الیکشن میں وہی پارٹی حکومت بنائے گی۔ الیکٹیبلز کا یہ دھندہ اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے۔

    یہ الیکٹیبلز سسٹم کے ساتھ ایسے جڑے ہوتے ہیں جیسے مکھیاں اپنے چھتے کے ساتھ، اور یہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بناتے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھی آنے والا اس سٹیٹس کو کو بدل نہ سکے اور وہ آسانی سے کرپشن کے اس دھندے کو جاری رکھ سکیں جو وہ پچھلی حکومتوں میں کرتے آئے۔

    تحریک انصاف کی حکومت 2018 کے الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں لینے والی جماعت بن کر ابھری الیکشن ہونے سے پہلے تحریک انصاف نے بھی وہی غلطی کی جو پچھلی حکومتوں یا حکمرانوں نے کی، انہیں سٹیٹس کو کے حامیوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جنہیں ہم الیکٹیبلز کہتے ہیں، جو لیکشن جیتنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے یہ انہیں حلقوں سے نسل در نسل الیکشن جیت رہے ہیں اور یہ با آسانی سے ہر الیکشن کو منو پلیٹ کرکے جیت جاتے ہیں. الیکشن 2018 کا رزلٹ بھی کچھ اسی طرح کا تھا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

    آپ تھوڑی نظر الیکشن سے پہلے کے ماحول پر ڈال لیتے ہیں، اگر آپ کو یاد ہو الیکشن 2018 سے پہلے ہوا کا رخ بدل گیا بہت سارے الیکٹیبلز مسلم لیگ نون کو چھوڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوگئے توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر ان الیکشن میں مجارٹی سیٹیں لے جائے گی اور ملک میں پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔

    تحریک انصاف الیکشن تو جیت گئی لیکن ہوا وہی جس کا ڈر تھا ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر آپ الیکشن تو جیت سکتے ہیں لیکن ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو اسٹیٹس کو کو چمٹے رہتے ہیں۔ آج بھی ملک میں وہی تھانہ کچہری کی سیاست چل رہی ہے اپنی مرضی کے ایس ایچ او ڈی پی او لگوائے جاتے ہیں تاکہ حلقے کو اپنی گرفت میں رکھ سکیں۔ 

    الیکشن میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کے منشور میں اصلاحات پر بہت زور دیا گیا; اس میں بیروکریسی اور پولیس ریفامز سرفہرست تھے۔

    تحریک انصاف کی حکومت کو سوا تین سال ہونے کو ہیں ابھی تک اداروں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی جاسکی جن اداروں میں اصلاحات کی گئی ہیں وہاں یا تو امپلیمنٹیشن کا مسئلہ چل رہا ہے یا پھر ان اداروں میں بیٹھے بابو صاحبان ان ریفارمز میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ابھی حال ہی میں تحریک انصاف کی حکومت نے صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا منصوبہ بنایا جس کو الیکشن کمیشن سمیت اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر ریجکٹ کردیا ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر صاف شفاف الیکشن ہو گئے تو ان تمام الیکٹیبلز کی دکانیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گی۔ 

    دوسری ایک بڑی وجہ ان الیکٹیبلز کے حلقے کی عوام آج بھی پسماندہ ہے نا سکول ہیں نہ ہسپتال اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، اگر ان حلقوں میں آزاد شفاف الیکشن ہو جائیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں یہ تمام الیکٹیبلز انہی حلقوں سے بری طرح ہار جائیں گے۔ معروف سیاسی رہنما اور مایاناز وکیل جناب اعتزاز احسن نے ایک ٹی وی پروگرام میں انشکاف کیا تھا کے ہر حلقے میں بیس سے تیس ہزار ایسے جیلی ووٹ موجود ہیں جسے یہ الیکٹیبلز استعمال کرکے ہر دفعہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔

    حالیہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے تمام جماعتوں سے زیادہ سیٹیں لی اور الیکشن 2021 جیت کے آزاد کشمیر میں حکومت بنا لی۔ اگر آپ ایک گہری نظر ان تمام اسمبلی ممبران پر ڈالیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ تمام ممبران اس سے پہلے پچھلی جماعتوں میں موجود تھے یا پھر پچھلی حکومت کا حصہ تھے۔

    الیکٹیبلز کی اس گندی سیاست کو ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو آگے بڑھ کر تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ایک جامع مذاکرات کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ آنے والے الیکشن میں صاف شفاف الیکشن ہو سکیں اور اسمبلی میں اصل عوامی نمائندے پہنچیں جو عوام کی مشکلات کا ازالہ کر سکیں انہیں وہ سہولیات دے سکیں جس کے وہ حقدار ہیں اور آئین پاکستان میں درج ہے۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

    Facebook Page: @farazrajpootpti

    Website: www.farazrauf.com

  • حنا کی شہزادی تحریر  اویس گیلانی

    حنا کی شہزادی تحریر اویس گیلانی

    اچھے برانڈڈ کپڑے پہننا اور اپنے چاہنے والوں سے اپنی تعریف لینا ایک فطری عمل ہے۔ آج کی اس ماڈرن فیشن کی دنیا میں اچھے لباس زیب تن کیے ہوئے ہمیں بہت سے چمکتے چہرے میڈیا، اخبارات، فیشن شو میں روز نظر آتے ہیں اور انکے مداح انکی جھلک دیکھنے اور انکے سٹائل کو کاپی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

    مگر اس بنائو سنگھار کا عوامی نمائندے اور ایک حاکم سے کیا لینا دینا؟ دنیا میں کئ لیڈر آئے اور گئے مگر کیا دنیا کسی لیڈر، وقت کے حاکم کو محض اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ سٹائل کی دنیا کا بے تاج بادشاہ یا شہزادی تھی۔

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو کیا دنیا آج اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ اچھے برانڈڈ سوٹ پہنتے تھے؟ ہرگز نہیں دنیا آج انہیں انکی سیاسی سوچ اور مسلمان قوم کے لیے ایک الگ ملک کی بنیاد پر انکی قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کرتی ہے۔ اب انہی کے ہی مدمقابل بھارت کے بانی لیڈر مہاتما گاندھی جی کو کیا دنیا انکے سٹائل کی وجہ سے یاد کرتی ہے؟ حالنکہ وہ تو قمیض بھی نہیں پہنتے تھے صرف دھوتی پہنتے تھے۔ مگر دنیا آج بھی انکی سیاسی سوچ اور ملک کے لیے خدمات کی وجہ سے انہیں یاد رکھتی ہے۔  بھارتی وزیراعظم کے حالیہ امریکہ دورے پر امریکی صدر بائیڈن نے بھی مودی کو گاندھی جی کی عدم تشدد فلسفہ پر لیچر دیا۔

    حال ہی میں جرمنی کی چانسلر انجلیا مرکل نے 16 سال اقتدار کے بعد پاور کو خیر بعد کہا۔ مگر اپنے اس طویل اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنےکسی رشتے دار کو کسی بڑے عہدوں پر نہیں لگایا نا اپنے لیے مال و دولت سمیٹی۔ ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ وہ برسوں سے وہی کپڑے کیوں استعمال کرتی رہتی ہے تو جواب دیا کہ "میں یہاں جرمنی کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں اور کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے نہیں” یہاں تک کہ انکا کہنا تھا کہ میرے گھر میں کوئ نوکر، نوکرانی نہیں۔ میں اور میرے شوہر ملکر گھر کے کام کرتے ہیں۔

    کیا بینظیر بھٹو اپنے برانڈڈ  سٹائلش سوٹ، برانڈڈ پرس، برانڈڈ جوتے پہننے کی وجہ سے وزیراعظم بنی اور طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں اپنی مقام بحال کیے رکھا؟ کیا آج عمران خان اپنے سٹائلش سوٹ یا بنائو سنگھار کی وجی سے وزیراعظم بنے؟ کیا دنیا آج انکی تقاریر محض اس لیے سنتی ہے کہ وہ اچھا لباس زیب تن کیے ہوتےہیں؟

    اگر ایسا نہیں ہے تو کوئ ہماری حنا بٹ صاحبہ کو بھی تو سمجھائے جو لمز سے پڑھ کر بھی شائد زہنی پسماندگی کا شکار ہو گئ ہیں یا اپنی ریزرو سیٹ کو بچانے کے لیے اپنی لیڈر کی روز روز سٹائلش سوٹ کے ساتھ "شہزادی” "شہزادی” کہتی تصاویر لگاتی نہیں تھکتیں۔ چلیں ایک لمحے کے لیے انکی لیڈر کو شہزادی مان بھی لیا جائے تو کیا وہ اس ملک کی وزیراعظم بن جائیں گی؟  انہیں چاہیے کہ وہ عوام کو مریم نواز کی سیاسی مصروفیات، اپنی پارٹی میں انکا رول اور مستقبل کے لاہے عمل پر انکی سوچ بتائیں نا کہ شہزادی، شہزادی کا راگ آلاپ کر اپنا اور اپنی لیڈر کا مزاق بنوائیں۔ 

                            
    Twitter: @GillaniAwais

  • عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا لہذا وہ اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے یہ بات اوپن ڈور پالیسی کے تحت اپنے آفس کے باہر کھلی کچہری کے دوران لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے کہی۔مختلف محکموں کے ضلعی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات کے حل کے لئے محکمانہ کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور انہیں ہر ممکن ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی شکایات کے حل میں گہری دلچسپی لیں اوردرخواست گزاروں کو اطمینان بخش ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی محکموں کے افسران سے کہا کہ وہ اپنے دفاتر میں موجود رہ کر شہریوں کی شکایات کا ازالہ کریں۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست دہندگان کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے متعلقہ محکموں کو متحرک کیا گیا ہے اور شکایت کا ازالہ نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔