Baaghi TV

Category: سیاست

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    جیسے جیسے ڈالر کی اڑان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا حجم بھی ویسے ویسے بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس کو کم کرنے کیلئے حکمران مزید قرضے لینے پہ مجبور ہیں ۔ اور ماہر معشیات کے مطابق پاکستان کی معشیت اب اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اب قرضوں کی ادائیگی بھی مزید قرض لے کر ہوگی۔ اور ان قرضوں سے اب ایکسپورٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا ۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں قرضے کی قسطیں ہمارے مجموعی بجٹ سے بھی بڑہ جائیں گی ۔ صرف یہی نہیں مصیبت برائے مصیبت ان قرضوں کے ساتھ بڑھنے والا سود بھی ہے ۔

    مارچ 2019ء میں ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

    دوسری بات جب بھی کسی شخص کو یا کسی ریاست کو تنہا کیا جاتا ہے تو وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنا لوہا ضرور منواتے ہیں ۔ دنیا میں وہ تمام ممالک جنہیں دیفالٹ قرار دے کر انہیں سیاسی طور پہ تنہا کیا گیا وہ اپنے قدموں پہ کھڑے ہوگئے ۔اس کی ایک زندہ مثال چین ہے جو پاکستان کے بعد وجود میں آیا ۔ لیکن آج اسکی معشیت سے لے کر سیاسی حالت سب ہی قابل رشک ہیں ۔ ایران عراق لیبیا اور سوڈان کو تنہا کیا گیا لیکن وہ سب ایک مضبوط بن کر ابھرے ۔

    ….continue

  • پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو”  تحریر: حسیب احمد

    پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو” تحریر: حسیب احمد

     

    آئے روز ہمیں ہر کسی چیز میں مہنگائی کا سامنا کرنے کو مل رہا ہے۔ پیٹرول اس میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم کمپنیاں ریٹ بڑھا دیتی ہیں پھر بیچاری عوام مہنگے داموں خرید کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    علمی منڈی میں ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے ہمیں مہنگے داموں میں خریدنا اور پھر عام کو بیچنا پڑتا ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ باہر کی کرنسی خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ مہنگی ہوتی تو بیچ کر اپنے ہی پاکستانی روپے کو گراتے ہیں۔ پھر لوگ اپنی غلطی کا ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال دیتے ہیں۔ کیا حکومت نے کہا تھا اپنے روپے کو استعمال نا کرو باہر کی کرنسی کو اہمیت دو؟

    لیکن ہاں کہیں نا کہیں حکومت پاکستان کی بھی تھوڑی سی خامیاں ہیں وہ اپنے ان تین سالوں میں 3 وزیر خزانہ تبدیل کرچکے ہیں اور یہ وہی ہیں جنہوں نے پیچھلی حکومت میں بھی مہنگائی کا جن بےقابو کر رکھا تھا۔ ایسے لوگ ہیں معیشت کی ترقی کے بجائے آئے روز مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی ستائی عوام کو روز روز نئے داموں کے تجربات سے جھٹکے دیتے ہیں۔

    ہمیں اپنے لوگوں کو جوکہ قابل ہیں اور ماہرین معاشیات ہیں ان کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے مہنگائی کے خاتمے کا حل تلاش کروانا چاہیے۔ ہمیں اپنے روپے کو قدر اور اپنی پالیسیوں کو دوبارہ صحیح سے ترتیب دینا چاہیے۔

    2020 میں پاکستان کی افراط زر کی شرح 9.74٪ تھی ، جو 2019 سے 0.84 فیصد کمی تھی۔ 2017 کی شرح 4.09 فیصد تھی جو کہ 2016 سے 0.32 فیصد زیادہ ہے۔

    مہنگائی سے مراد قیمتوں میں اضافہ ہے جو کسی قوم کی قوت خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ افراط زر ایک عام معاشی ترقی ہے جب تک سالانہ فیصد کم رہے۔ ایک بار جب پہلے سے طے شدہ سطح پر فیصد بڑھ جاتا ہے ، اسے افراط زر کا بحران سمجھا جاتا ہے۔ اصطلاح "افراط زر” ایک بار رقم کی فراہمی میں اضافے کا حوالہ دیتا ہے (مالیاتی افراط زر) تاہم ، پیسے کی فراہمی اور قیمت کی سطح کے درمیان تعلقات کے بارے میں معاشی مباحثوں نے قیمتوں کی افراط زر کو بیان کرنے میں آج اس کا بنیادی استعمال کیا ہے۔ افراط زر کو پیسے کی حقیقی قدر میں کمی کے طور پر بھی بیان کیا جا سکتا ہے-زر مبادلہ کے ذریعے قوت خرید میں کمی جو کہ اکاؤنٹ کی مالیاتی اکائی بھی ہے۔ جب قیمت کی عمومی سطح بڑھ جاتی ہے ، کرنسی کا ہر یونٹ کم سامان اور خدمات خریدتا ہے۔ عام قیمت کی سطح کی افراط زر کا ایک اہم پیمانہ عام افراط زر کی شرح ہے ، جو کہ ایک عام قیمت کے انڈیکس ، عام طور پر کنزیومر پرائس انڈیکس میں وقت کے ساتھ فیصد میں تبدیلی ہے۔ مہنگائی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، مستقبل کی افراط زر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور بچت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ زیادہ افراط زر اشیا کی قلت کا باعث بن سکتا ہے اگر صارفین اس خدشے کے باعث ذخیرہ اندوزی شروع کردیں کہ مستقبل میں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ 

    اللہ پاک سرزمین کے ہر مسائل کو حل کرنے میں ہمارے مددگار ثابت ہوں۔ اور پاکستان کو لوگوں کو ان تکالیف سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھے۔ اور پاکستان کو دنیا میں عظیم و ترقی والا ملک بنائے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔

    من

    مہنگائی آتی رہتی ہے بس اپنے گھبرانا نہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔۔۔

    تحریر: حسیب احمد

    @JaanbazHaseeb 

  • سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک  تحریر ؛ علی خان

    سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک تحریر ؛ علی خان

     

    @hidesidewithak 

    سیاست کریں بدتمیزی نہیں اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھولیں کہ آج آپ جس بھی جگہ ہیں وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں 

    کی وجہ سے ہیں 

    سیاست کو عموماً مصلحت پسند یا اگر صاف الفاظ میں کہیں تو منافقوں کا پیشہ کہا جاتا ہے لیکن وطن عزیر میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، سیاست میں نامناسب الفاظ کے استعمال کا سلسلہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا،،، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے پر کردار کشی کی گئی،،، پھر "قائد عوام "ذوالفتار علی بھٹو  کا دور آیا اور سیاست میں مخالفوں کے لیے عوامی کی بجائے بازاری زبان استعمال ہونے لگی۔۔۔  قائد عوام کی سرکردگی میں ہی شروع کردہ تحریک کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف کتا کتا کے نعرے لگائے گئے۔۔۔  اپنے حریف ائیر مارشل ایوب خان کو آلو جیسے القابات دینا بھی انہی کا خاصہ رہا

    اس زبان درازی کے سلسلے سے  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی محفوظ نہ رہ سکیں اور انہیں مختلف مخالفین کی جانب سے بدتہذیبی اور ناشائستہ زبان کے اس سلسلے کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس ناشائستگی کو محترمہ نے ہمیشہ  یاد رکھا۔ انکی جماعت کے رہنما رانا ثنااللہ نے مخالف جماعت نواز  لیگ کی رہنما مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ اور مریم نواز پر رکیک حملہ کیا تو محترمہ نے  راناثنااللہ کو فوراً پارٹی سے  نکال دیا۔  ستم ضریفی  دیکھئے کہ  انہی رانا ثنااللہ کو نواز لیگ نے ہی اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور پھر وہ پیپلزپارٹی کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے اہل خانہ پر ذاتی حملوں میں ملوث رہے

    سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان بار بار ذاتی حملوں کے سبب عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے اور واپس برطانیہ جانے پر مجبور ہوگئیں۔  دوسری جانب تحریک انصاف کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے  مریم نواز  کو بار بارگھر سے بھاگنے کا طعنہ دیا جاتا رہا۔ جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ کی جانب سے سماجی کارکن کو آن ائیر  غلیظ جملوں کا نشانہ بنائے جانے اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو بارے معنی خیز گفتگو  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے

    ہمارے یہ رہنما عوام کو بھی اس بدزبانی کی دلدل میں گھسیٹنے سے باز نہیں آتے ۔  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بیان  دیا ” نئے پاکستان کیلئے ووٹ دیا ہے تو عوام بھگتیں”۔  موجوہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے انتخابی مہم جلسے میں  اپنے ہی ووٹرز کو شدید نازیبا الفاظ سے پکارا جانابھی کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کی بدزبانی اور لغو زبان کا استعمال بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔  ایک مرتبہ چودھری نثار کے بیان پر ایم کیو ایم رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی آپے سے باہر ہوگئے اور کہا پنجاب میں ہر گھر میں مجرے ہو رہے ہیں،،، ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے تو گالم گلوچ کو پنجابی کلچر کا حصہ ہی قرار دے  ڈالا ۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ اور تحریک انصاف کے علی نواز اعوان  کی اخلاق باختہ زبان درازی شاید سب کو ہی یاد ہوگی

    عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید نے مہاجرین کے منہ پہ چماٹ مارنے یا انہیں پاگل خانے بھیجنے کا بیان دیا۔  سابق پی پی اور اب جی ڈی اے رہنما ذوالفقار مرزا نے مہاجر صوبے کی بات کرنے والوں کو بھوکا ننگا  قرار دیا۔  عبدالقادر بلوچ نے ایم کیو ایم کے ورکرز کو جانور قرار دیا۔  پختونخواہ میپ کے محمود اچکزئی نے لاہوریوں کو افغان پشتون وطن پر قبضے کی کوششوں میں انگریزوں کا معاون ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔ سابق  صدر پرویز مشرف کا ریپ کا شکار خواتین بارے قابل مذمت بیان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا تقریر کو عورت کی اسکرٹ سے تشبیہ دینا بھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا،،، یہ عوامی نمائندے ہمارے ہاں اخلاقی  معیار کی پستی کے  بڑے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں۔ خود کو اقتدار میں لانے والے ووٹرز کو گالی دینا اسی وڈیرہ اور جاگیر دار کلچر کا عکاس ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں غریبوں پر ظلم کا باعث ہیں۔ ان سیاستدانوں کوروش بدلنا ہوگی اور تاریخ سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کے لیے لگائی آگ ضرور اپنے گھر تک پہنچتی ہے

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    حصہ اول۔

    وہ کون سے عوامل ہیں جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں؟ یہ جاننے کے
    لیے ہمیں ویت نام کی تاریخ میں جھانکنا ہو گا۔ویت نام کے دارالحکومت ہا نوئی
    میں گھومتے ہوئے ، آپ  ترقی کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ واضح طور پر سن سکتے
    ہیں ۔ لوگگاڑیوں میں گھومتے ہیں ، ان گنت چھوٹی دکانوں میں فون سے لے کر کھانے
    تک سب کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں ، اور اسکول یاکام پر جانے کے لیے ادھر ادھر
    بھاگتے ہیں۔ ویت نام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے آگے
    بڑھ رہا ہے۔  یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ محض 30 برس پہلے ، یہ ملک دنیا کے
    غریب ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ جہاں مہنگائی کی شرح 700 فیصد تھی، کسان بھوک
    سے مر رہے تھے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سوویت یونین سے یومیہ 4 ملین
    ڈالر کی امداد لی جا رہیتھی۔

    45 برس قبل جب جنگ ختم ہوئی اور غیر ملکی افواج کا ویتنام سے انخلا شروع ہوا تو
     ہر طرف تباہی اور بربادی کی داستان رقم تھی۔تقریبا 20 سال طویل جاری رہنے والی
     جنگ جب ختم ہوئی توہر کوئی بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھا۔ طویل جنگوں کے بعد
    ملکیمعیشت اور انفراسٹرکچر تو تباہ ہوتا ہی ہے، لیکن افرادی قوت بھی بری طرح
    متاثر ہوتی ہے۔ جنگ بھی اتنی طویل جس میں ایکنسل جوان ہو جائے۔ کوئی نہیں جانتا
     کہ اتنی طویل جنگ دیکھنے کے بعد وہاں کے عوام کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی۔ وہ
    دوبارہ سےاپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں گے کہ نہیں۔ تقریبا 20 لاکھ شہری اس جنگ
    کے دوران مارے گئے،  دو لاکھ فوجی اس کے علاوہتھے۔ تقریبا ڈھائی ملین افراد نے
    فلپائن، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پناہ لی۔

    ویت نام میں تاریخ کی سب سے زیادہ بمباری ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم میں 2.1 ملین ٹن
     کے مقابلے میں 6.1 ملین ٹن سے زیادہ بمگرائے گئے۔ 3 امریکی طیاروں نے 20 ملین
    گیلن جڑی بوٹی مار دواؤں کو ویت کانگ کے چھپے ہوئے مقامات کو ناکارہ بنانے کے
    لیےاستعمال کیا۔ جس نے 5 ملین ایکڑ جنگل اور 500،000 ایکڑ زرعی زمین کو ختم کر
    دیا۔

    یہ جنوب مشرقی ایشیائی قوم ایک درمیانی آمدنی والا ملک کیسے بنی؟ جب 20 سالہ
    ویت نام جنگ 1975 میں ختم ہوئی تو ویت نام کیمعیشت دنیا کی غریب ترین معیشتوں
    میں سے ایک تھی۔  1980 کی دہائی کے وسط تک ، فی کس جی ڈی پی $ 200 اور $ 300 کے
    درمیان پھنس گیا تھا۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

    ویت نام کی کامیابی کی کہانی 1986 کی Doi Moi ("rejuvenation”) اصلاحات سے شروع
     ہوتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ابتدائیطور پر زیادہ توجہ تعلیم کے شعبہ کو دی گئی.
    ویتنام کی حکومت نے ابتداء ہی میں یہ حقیقت جان لی کہ کوئی بھی ملک صحیح معنوں
    میںمستقل ترقی کا خواہش مند ہے تو اس کو سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام میں
    اصلاحات کرنا ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جنگ سےنبردآزما ہونے والا ملک ویتنام
    بھی ہم سے ترقی کی راہ میں بہت آگے نکل گیا کیونکہ انھوں نے جنگ کے بعد معاشی
    اور تعلیمیاصلاحات پر زور دیا۔

    یہاں کی آبادی  آج 95 ملین ہے ، جن میں سے نصف 35 سال سے کم ہیں۔ بڑھتی ہوئی
    آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئےیہاں کی حکومت نے پرائمری تعلیم میں بڑے
    پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب ملازمتوں کی
    بڑھتیہوئی ضرورت بھی ہے۔ ویت نام نے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ
    کاری کی ، جس سے انٹرنیٹ تک سستے پیمانے پررسائی کو یقینی بنایا گیا۔ ویتنام
    میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں تعلیم کا بجٹ
     20 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے ویت نام کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
    نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    ویت نام کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے
    اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ تبادلے کے
    لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت ویت نام میں غیر ملکی طلباء اور محققین کی تعداد
    بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے
    کو DRV ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس نے صنعتوں کو پیداوار کے حجم کوبڑھانے
    کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم
    بجٹ کی پابندی کے تحت چلائیگئیں ۔ ریاست نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔
    کمپنیوں کو پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی،
    جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس کیا گیا۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • وکیل اور خدمت تحریر:عابد حسین رانا

    @AbidRana876
    آج ہم ذکر کریں گے ممتاز قانون دان عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا آپ کا شمار وزیرآباد اور گردونواح کے اعلیٰ ترین وکلاء میں ہوتا ہے
    عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا تعلق وزیرآباد محلہ کانواں والا کے متوسط کاروباری شخصیت حاجی فیروز دین مرحوم کے گھرانے سے ہیں جو ان کے دادا تھے
    آپ کی پیدائش 14 مارچ 1974 کو میں ہوئی آپ کا تعلق آرائیں برادری سے ہے
    میٹرک تک تعلیم پبلک ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی ایف ایس سی FSC مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد سے کیا بعد ازاں بی کام b.com اور ڈی سی ایم اے DCMA ایم اے MA پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی بی اے BBA علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کے بعد ایل ایل بی LLB کی ڈگری لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی آپ تعلیم کے ساتھ سپورٹس مین بھی تھے اچھے فٹبالر ہونے کی وجہ سے دورانِ تعلیم وزیرآباد کی تھری سٹار فٹبال کلب اور لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے کپتان بھی رہے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوجداری وکالت کا آغاز آفتاب احمد باجوہ سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ آف پاکستان کے آفس میں ہی سال 2000 سے کیا ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد لاہور ہی میں اپنا ذاتی آفس بنا کر وکالت شروع کی تقریباً 7 سال لاہور میں وکالت کے بعد نومبر 2006 میں واپس وزیرآباد آ کر مدینہ مارکیٹ میں آفس بنا کر وزیرآباد میں باقائدہ وکالت شروع کی اور دو تین سال کے اندر ہی تحصیل وزیرآباد کے فوجداری وکلاء میں ایک الگ مقام حاصل کیا سال 2010/2011 میں بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدائی دنوں میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اور بعد میں تحصیل صدر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے مگر وکالت میں مصروفیت کی وجہ سے لوکل سیاست کو خیر باد کہہ دیا آپ نے مشہور مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے لاہور راولپنڈی گوجرانولہ گجرات نوشہرہ ورکاں میں فرائض سر انجام دیئے حال ہی میں گوجرانولہ بار کونسل کا الیکشن لڑا اور اب تک وزیرآباد میں الیکشن لڑنے والوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے اس وقت وزیرآباد گوجرانولہ اور لاہور ہائی کورٹ میں یکساں مصروف ہیں آپ نے 300 سے زائد 302 کے مقدمات کی پیروی کی اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وزیرآباد اور گردونواح کی اعلیٰ شخصیات کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے ان کے کیسسز کی پیروی عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ ہی کریں

  • کرپشن ایک دیمک ہے ملکی بنیادوں کو کھوکلا اور کمزور بنا دیتی ہے تحریر:شمسہ بتول۔

    کرپشن ایک دیمک ہے ملکی بنیادوں کو کھوکلا اور کمزور بنا دیتی ہے تحریر:شمسہ بتول۔

    کرپشن ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج جہاں ہمیں غربت، بے روزگاری جیسے مساٸل کا سامنا ہے وہاں کرپشن بھی ایک خطرناک مسٸلہ ہے ۔کرپشن اور بدعنوانی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے جو صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو تباہ کرتا ہے۔ کرپشن کی ایک وجہ یہ ہے کہ کرپٹ لوگوں کے لیے کوئی مضبوط قانون سازی اور سزا نہیں ہے۔ کلرک سے لے کر افسر تک ہر کوئی اس میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے آج کل کرپشن ہمارے ملک کا فیشن اور کلچر بن چکی ہے۔ یہ ہمارے ملک کے روشن مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کرپشن کیوں بڑھ رہی ہے؟ حکام اور اداروں کے سربراہ اس پر قابو پانے میں کیوں ناکام رہے؟ حکام کی جانب سے کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان سوالوں کا کوئی جواب موجود نہیں۔

    1947 سے 2021 تک ، جب ہم اپنے ملک کی ترقی کی رپورٹ پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کو صرف کرپشن کی وجہ سے کتنا نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی اس میں ملوث ہیں انہوں نے جس حد تک ممکن تھا کرپشن کی وہ پاکستان کے اثاثے چوری کیے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بیرون ملک جائیدادیں بناٸیں اور دیگر اداروں کے افسران بھی اس میں شامل ہیں لیکن پھر بھی ، انہیں اس پر کوئی شرم نہیں۔ ان کے لیے کوئی سزا نہیں ہے اور وہ آزاد ہیں اسی وجہ سے انہیں مذید شے ملی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہے کہ آپ نے ہمارے اثاثے کیوں چوری کیے؟ آپ نے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ کیا؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ 2012 کے مطابق ، پاکستان کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو 94 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ 2013 سے 2017 تک ، نواز شریف حکومت کے تحت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان نے بدعنوانی میں اپنا سکور 28 سے بڑھا کر 32 کر دیا ہے۔  کرپٹ سیاستدان ضمانت پر باہر نکلتے ہیں اور پھر بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور پھر وہ واپس نہیں آتے اور اس لیے کرپشن کے بہت سے مقدمات زیر التوا ہیں۔ اگر بروقت فیصلے سنائے جائیں اور بدعنوانی کے خلاف سخت سزا دی جائے تو کرپشن جیسی لعنت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے ورنہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا جائے گی۔

    یہاں تک کہ اکثر لوگوں کو میرٹ کی بنیاد پر نوکری نہیں ملی اور وہ صرف اس کرپٹ نظام کی وجہ سے بے روزگار ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی سفارش اور پیسہ نہیں ہے۔ سیاستدان اور دیگر افسران اپنے دوستوں ، رشتہ داروں وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں یا ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ جب انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ریفرنس سسٹم پر کیا جاتا ہے تو پھرکچھ ناخواندہ ، ان پڑھ اور غیر ہنر مند لوگ رکھے جاتے ہیں جو کسی بھی ادارے کو بہتر طور پہ نہیں چلا سکتے اور اداروں کی تباہی کا باعث بنتے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس نظام کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ماضی میں کرپشن کے بہت سارے کیسیز سامنے آۓ  جیسے رینٹل پاور پراجیکٹ ، حج کرپشن کیس ، پاکستان سٹیل مل کیس ، اوگرا کیس ، منی لانڈرنگ ، اور شوگر مل گھوٹالہ وغیرہ۔ 1999 میں ایک آرڈیننس پاس کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو ہونا چاہیے۔ لہذا ، ایک قومی احتساب بیورو جو کہ ایک وفاقی ادارہ ہے ، ادارے کی کارکردگی کو جانچنے اور اس میں توازن پیدا کرنے اور اداروں کو بدعنوانی سے جتنا ممکن ہو چھٹکارا دلانے کے لیے قائم کیا گیا ، اور اس ادارے کی طرف سے معاشی بےضابطگیوں کے خلاف تنقیدی معاشی رپورٹ بھی جاری کی گٸی۔

    لیکن اس ادارے کے قیام کے باوجود ملک میں بدعنوانی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لہذا ، ہمیں فوری طور پر موثر اصلاحات کو اپنانا چاہئیے اور قوانین کے فوری نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ اس خطرے سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے جس نے ہمارے ملک کی ساکھ کو سماجی اور معاشی طور پر کمزور کردیا ہے۔

    @sbwords7

  • سودی نظام اور ہماری معیشت ( حصہ اول )۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    وہ شخص کندھے جھکائے آنکھوں میں ندامت کے آنسو لئے زمیں میں نظریں گاڑھے بیٹھا تھا ۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید کبھی یہ نظریں اٹھ نہ پائیں گی ۔ کیونکہ اس نے اللہ سے جنگ کی تھی ۔ اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ، اپنی صلاحیتیں ، اپنی توانائی ایک ایسے مغربی نظام پہ خرچ کی تھی ۔ جسکی اسکے مذہب میں کوئی جگہ نہ تھی مگر اسے واپسی کا کوئی راستہ بھی نظر نہ آ رہا تھا ۔ اور مسلسل اس کی زبان پہ یہی الفاظ تھے ۔ کہ میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ۔ وہ رو رہا تھا وہ اعتراف جو اسکا ضمیر کئی سال سے کر رہا تھا آج پہلی بار وہ یہ اعتراف کسی انسان کے سامنے دہرا رہا تھا۔ اور اسے محسوس ہورہا تھا کہ یہ اعتراف اسے اندر ہی اندر کوڑے مار مار کر شاید نگل جائے گا ۔ یہ ضمیر کا کوڑا ہر اس شخص کو ضرور ایک دن لگتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ سود کے کاروبار سے منسک ہے۔

    مغربی مالیاتی نظام یہودیوں نے قائم کیا ۔ اور مالیاتی نظام نے دنیا کی معشیت کو آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا ہے ۔ اب اگر کوئی اس جکڑ سے نکلنا بھی چاہے تو یہ کام اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ دنیا میں مغربی مالیاتی نظام کے بانی یہودی ہیں ۔ اور وہ اس نظام کو موثر اور کامیاب بنانے میں قابل رشک حد تک کامیاب ہیں ۔ یہ وہی سود ہے جو بنی اسرائیل کے زوال اور ذلت کا سبب بنا ۔ لیکن وہی یہود آج بھی اس سے نہ صرف چپکے بیٹھے ہیں بلکہ اسے مسلمانوں کے اندر تک اس طرح پھیلا چکے ہیں ۔ کہ اب یہ سودی نظام ہمارے خون میں ویسے ہی دوڑ رہا ہے جیسے غذا ۔ اور یہ سود اب مسلمانوں کے خمیرمیں اتنا رچ بس گیا ہے ۔ کہ امت مسلمہ اس کو صحیح اور جائز قرار دینے کیلئے دلائل پیش کرتی ہے ۔ اور یہ وہ اُمّتِ محمدی تھی جن کے لیے قبلہ بدلا گیا تھا اور جنہیں بنی اسرائیل سے امامت لے کر دی گئی تھی۔

    بظاہر ہم ایک آزاد ریاست ہیں ۔ مگر جن ممالک سے ہم قرضے لے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقروض ممالک کو قرضے دے کر اپنی مرضی کی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں جن سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوگا ۔ جن کا تما م تر منافع قرضے دینے والوں کو پہنچے گا ۔گزشتہ 73 برس میں لیا گیا کھربوں ڈالرز کا قرضہ کہاں جاتا رہا یہ بات ہمارے علم میں نہیں ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عوام کے لئے منجمند گیارہ ارب ڈالر کا کچھ پتا نہ چل سکا ۔ موجودہ حکومت کے احتساب کے وعوؤں کے بعد اب ہر عمل ہی مشکوک ٹھہرا ۔

    موجودہ حکومت بھی اداروں سے زیادہ غیر ملکی قوتوں کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہے ۔ اگر حالات یونہی رہے تو ممکن ہے کہ احتساب کا پورا نظام اپنے اختتام کو پہنچے ۔ یہ قرضے جو بظاہر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے لئے گئے ۔ یہی قرضے اب عوام کے گلے کا پھندہ بن چکے ۔ اب انہی قرضوں کا سود سمیت واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ پورے کے پورے نظام کو وہ لوگ ان قرضوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں ۔ گیس بجلی اور آٹے کے نرخ آئی ایم ایف طے کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق غریبوں پہ مہنگائی کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ انکے لئے زندگی جیسی نعمت کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کرنسی کی قیمت سے لے کر ذرائع اور وسائل کی تقسیم تک اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والی ایٹمی صلاحیت پہ بھی آئی ایم ایف اپنی نظریں گاڑھے بیٹھا ہے ۔

    صرف یہی نہیں ان قرضوں کو جواز بنا کر ہماری شاہ رگ کشمیر تک کے معاملے میں ہمیں پسپائی پہ مجبور کیا جا رہا ہے ۔ اور ہر معاملے میں یہ قرضے جن سے میٹرو اور اورنجن لائن کا تحفہ تو عوام کو مل گیا مگر ہمارے ہاتھ باندھ دئیے گئے ۔ اور انہی قرضوں کو آئی ایم ایف اب ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہا ہے ۔ جبکہ یہاں بھی کچھ اقتصادی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا، برآمدات نہیں ہوں گی، ایل سی (Letter of credit) نہیں کھلے گا۔ یہ دانشور بھی مغرب کی پیداوار ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔ جب ہم اپنے ہمسائے ممالک پہ غور کریں جن میں چین ، اففانستان ایران اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں ۔ برامدات اور تجارت کا سلسلہ ان ممالک سے جاری رکھا جا سکتا ہے جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس طرح ایک تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے جس کے بدلے ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چاول، گندم اور کپاس برآمد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف لاطینی امریکا کے سولہ ملک خود کو ڈیفالٹ قرار دے چکے ہیں جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ جہاں تک تنہائی کا معاملہ ہے تو چین اور روس نے سیاسی طور پر تنہا ہو کر ہی ترقی کی۔ ہمارے اقتصادی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل رہی ہے، میری نظر میں یہ سفید جھوٹ ہے۔ عوام معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں، مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں، یہ کیسی معاشی ترقی ہے؟اور ہمارے وزیراعظم کام سے زیادہ دکھاوے پہ زور دے رہے ہیں جس کی منہ بولتی مثال تبدیلی سرکار کے تین سال مکمل ہونے پہ کی جانے والی تقریب تھی

    جاری……..

  • بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    پاکستان میں اس وقت جس تیزی کے ساتھ مہنگاٸ کا جن تھیلے سے باہر آیا ہے کہ خدا پناہ ۔

    ہر طرف ذخیرہ اندوزی ہر طرف لوٹ کھسوٹ ، چیک اینڈ بیلنس سسٹم کے مٶثر نہ ہونے کی وجہ سے عوام اشیا مہنگے داموں خریدے پہ مجبور ہے ۔

    سچ تو یہ ہے کہ اس حکومت کو اگر اندرونی و بیرونی طور پہ چیلنجز کا سامنا ہے تو اس وقت بیوروکریسی حکومت کے سنگ ہوتی کہ حکومت اپنے ریاستی معاملات دیکھے جبکہ بیوروکریسی عوام کو سستی سہولیات فراہم کرنے کو ممکن بنانے کی جدوجہد میں مصروف عمل دکھاٸ دیتی ۔
    مہنگاٸ کا آفریت اس وقت کنٹرول سے باہر ہے عوام ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گٸ ہے ۔
    اے سی حضرات ڈی سی صاحبان اگر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کر کے مال مسروقہ ضبط بحق سرکار کر کے عوام کو سستے داموں دے کے ریلیف دیں تو کیا ہی بات ہوگی کہ عوام کسی بھی چیز کی وہی قیمت دے جو بنتی ہو ایسا نہیں کہ مفاد پرست اور یہ ڈیلر حضرات ذخیرہ اندازی کر کے اس چیز کی شارٹیج کر کے من پسند قیمت وصول کریں یہ بات خلاف ریاست ہے ۔

    اس وقت اگر ملک کی عوام کے حالات کا موازنہ کیا جاۓ تو وہ ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل کھا پا رہے ہیں ۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت بیوروکریسی سے دوبارہ حلف لے تاکہ وہ حلف کی پاسداری کرتے ہوۓ عوام کو سستی سہولیات کی فراہمی کو تو ممکن بناٸیں ۔
    نواب آف کالاباغ نواب ملک امیر محمد خان اعوان اکثر کہا کرتے تھے کہ
    ” بیوروکریٹس پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو اس وقت تک عام آدمی کے مساٸل سے واقف نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود ان حالات سے نہ گزرے “
    جبکہ بیوروکریٹ بنتے ہی 90 فیصد امیروں جاگیرداروں یا سیاستدانوں کے بچے ہیں ۔
    تو جنہوں نے غربت دیکھی ہی نہ ہو جن کو علم ہی نہ ہو کہ چینی ، آٹا ، دال ، چاول ، گھی یا دیگر اشیاۓ خوردونوش کی کیا قیمت ہے ۔؟
    کیا ان قیمتوں پہ ایک دیہاڑی دار طبقہ جو پاکستان کے ساٹھ فیصد پہ مشتمل ہے وہ ایک وقت کی بھی روٹی بچوں کو کھلا سکتا ہے ۔؟
    جس شخص کی دیہاڑی دو سو سے پانچ چھ سو تک ہو کیا وہ ایک وقت میں چینی ، گھی ، دال ، چاول ، آٹا نمک مرچیں لے یا وہ سبزی یا گوشت لے ۔
    اس وقت مہنگاٸ کا مسلہ ریاستی مسلہ ہے اگر بیوروکریٹ اس وقت ریاست و ریاستی عوام کے ساتھ مخلص رہیں چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو ٹھیک کریں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کریں تو یقین مانیں پاکستان میں مہنگاٸ کا بے قابو ہوتا جن قابو ہو جاۓ گا ۔
    بیوروکریسی کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جب تک بیوروکریسی ٹھیک ہے تب تک حالات بہتر ہیں ۔
    اس کی ایک واضع مثال یہ ہے کہ جہاں بیوروکریسی اپنے کام سے مخلص ہے اور دیانت دار ہے وہاں کےحالات بہترین ہونگے نہ کوٸ رشوت کا چکر نہ کوٸ کام نہ ہونے کا ڈر نہ لاقانیونیت ۔
    اب یہ بھی نہیں ان کے ماتحت سب ٹھیک ہونگے ہر جگہ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں ۔
    جہاں بیوروکریسی کرپٹ ہوگی ان کے ماتحت ان کو رول ماڈل بنا لیں گے کہ یہ تو خود کرپٹ ہے ہمیں کیا روکے گا ۔
    جب ان کو ان کی کارستانیوں کے بارے آگاہی دی جاۓ تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ
    ” جا صاحب نال گل کر “
    مطلب فری ہینڈ نہ کوٸ ڈر نہ کوٸ خوف ۔
    ایسے میں حالات کو کنٹرول کرنا رشوت کے بازار کو روکنا اور جراٸم کی شرح پہ قابو پانا مشکل ترین ہوتا ہے ۔
    وہاں کے سب کام پیسے سے ہوتے ہیں اور یہی کسی معاشرے کی تنزلی کا باعث ہوتی ہے کسی شہر یا علاقے کی تباہی کا موجب ۔
    کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک وقت ایسا بھی آجاۓ کہ عوام ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو جاۓ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے بھوک سے خودکشیوں کیتعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جراٸم کنٹرول سے باہر ہو جاٸیں گے جو ریاستی ناکامی ہوگی ۔
    نواب آف کالاباغ نواب امیر محمد خان آج کے بنگلہ دیش اور پورے پاکستان کے گورنر ہوا کرتے تھے ان کے زمانے میں اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ کہا کرتے تھے کہ
    ” اللہ کریسی “ اور یوں وہ اللہ کا نام لے کر عوامی مساٸل کے حل کیلۓ ہر ممکن کوشش کرتے اور عوام کو ریلیف دینے کیلۓ کالاباغ سے آسام تک عوام میں موجود رہتے ۔
    اس وقت ہمارے بیروکریٹس کو بھی اللہ کریسی کہہ کے مہنگاٸ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ تاکہ عوام دووقت کی روٹی سکون سے کھا سکے ۔
    اللہ پاکستان کو ہر مصیبت اور دشمن کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@Gumnam_HBK

  • پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان  تحریر چوہدری عطا محمد

    پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان تحریر چوہدری عطا محمد

    جیسے ہی پینڈورا پیپرز کے شائع ہونے کی خبر منظر عام پر آئی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے مخالفین خصوصا ن لیگ اور اس کے حامی صحافیوں نے بغلیں بجانا شروع کر دی یہاں تک کے ن لیگ کے سنئیر رئینماء احسن اقبال نے تو باقاعدہ پیپرز کی اشاعت سے پہلے کہنا شروع کر دیا کہہ کپتان استعفی دیں احسن اقبال نے تو پہلے ہی کہہ دیا کہہ کپتان وزیز اعظم پاکستان کا نام آگیا ہے لہٰذا وہ استعفی دے دیں اصل میں یہ سب کیسے ہوا اس کیوجہ ہے عمر چیمہ اس کے اندر تحقیقات کا حصہ تھے اور لگ ایسے رہا ہے کہہ کپتان کو پینڈورا پیپرز میں فکس کرنے کی بڑی کوشش کی گئ۔ کپتان کو زمان پارک میں ایک دوسرے ایڈریس میں رئینے والے فرید الدین صاحب سے بھی منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی گئ اگر پیپرز پڑھیں تو اس میں کپتان کا نام اس امر میں ہے ہے یہ پیپرز بہت واضح تصدیق کرتے ہیں کہہ کپتان کی کوئی بھی آفشور کمپنی نہیں ہے کئ ن لیگ کے حمایت یافتہ اور سرکردہ لوگوں کے خواب ایک بار پھر ٹوٹ گے مٹھائیاں پھر ہضم نہ ہوئیں غور طلب بات یہ ہے کہہ پینڈورا پیپرز سے دو تین دن پہلے نواز شریف نے لندن میں اور احسن اقبال نے پاکستان میں یہ کیسے کہا کہہ احتساب تو اب عمران خان کا ہوگا۔ اصل میں اسکی بڑی وجہ ان کے کچھ قریبی صحافی اور میڈیا کا ایک ادراہ تھا جس نے ان کو کہا تھا کہہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کا نام ہے ان پیپرز میں۔ بات تو صیح ہے عمران خان کا نام تو ہے لیکن وہ نام اس لئے ہے کہہ تصدیق کی گئ ہے کہہ کپتان کے نام پر کوئی آفشور کمپنی نہیں ہے
    اصل میں ن لیگ نے حسب روایت جلدی مٹھائی کھا لی ان کو جب کہا گیا کہہ کپتان کانام ہے تو ن لیگ نے سمجھا ایسے ہی نام ہوگا جیسے ہمارا نام آیا تھا
    سچ بات تو یہ ہے کہہ پاکستان میں کوئی بھی سیکنڈل آۓ تو ممکن ہی نہیں اس میں ن لیگ کانام نہ ہو اس بار بھی ان کی اپنی فیملی کے نام موجود ہیں اسحاق ڈار کا بیٹا اور مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد کا نام ان پینڈورا پیپر میں موجود ہے شاید

    لیکن کپتان جناب وزیز اعظم عمران خان نے اسپر بھی ہتھوڑا مارا اور پینڈورا پیپیرز کو اپنی ٹوئیٹ کے زریعے ویلکم کیا اس سے اب زیادہ پریشانی ہو گی ن لیگ اور تمام ناجائز آفشور کمپنیاں رکھنے والوں کو۔
    آپ کو یاد ہوگا کہہ جب پانامہ پیپرز آۓ تھے تو اس وقت کی ن لیگ کی حکومت نے اس کو سازش قرار دیا۔ اور کسی نے کہا کہہ یہ غیر ملکی سازش ہے کسی نے کہا کہہ عوام بھول جاۓ گی مولانا فضل رحمان نے کہا کہہ نواز شریف ڈٹ جاؤ

    لیکن اب پاکستان بدل چکا ہے۔ آج کے انٹرنیشل صادق و امین وزیز اعظم نے پیپرز کو سازش نہیں کہہ رہے بلکہ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اور ان پیپرز کے اندر آنے والے لوگوں سے ان کی آفشور کمپنیوں کی تحقیق کے لئے اپنی سربراہی میں پیپرز آنے کے چوبیس گنٹھے کے اندر ایک سیل قائم کر دیا یہ ہی تو ہے نیا پاکستان
    الحمدللّٰہ کپتان لو اللہ نے ایک بار پھر سرخرو کیا اور کپتان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہہ پاکستان اب بدل چکا ہے پاکستان کے وزیز اعظم کانام اب کسی انٹرنیشنل کرپشن کیسز میں نہیں آتا بلکہ تمام دنیا میں وزیز اعظم پاکستان کے کاموں کو سراہا جاتا الحمدللّٰہ نیا پاکستان۔

    ‏@ChAttaMuhNatt

  • نواز شریف کے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی بےنظیر کا حوالہ دے کر انصاف مانگے مریم نواز شریف تحریر:سفینہ

    رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے ساتھ اسلام ہائی کورٹ کے سپیشل بینچ نے بروز بدھ کو مسلم لیگ ن لی نائب صدر مریم نواز صاحبہ کی درخواست پر سماعت کی ہے ۔ اس بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروقی شامل ہیں۔ اس پیٹیشن میں تقریبا وہی سب کچھ شامل کیا گیا ہے جو ان کی مرکزی درخواست میں شامل تھا۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے الزام لگایا ہے۔ کہ میں اور میرے شوہر (ر) کیپٹن صفدر اور میرے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں ہر مشتمل درخواست  کو دوبارہ سنا جائے۔

    مریم نواز نے اپنے وکیل عرفان قادر کے ذریعے ہائی کورٹ پر زور دیا کہ وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں احتساب عدالت کے فیصلے کو سنگین خلاف ورزیوں پر کالعدم قرار دے۔

    مریم نواز اور ان کے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 6 جولائی 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سزا سنائی تھی ، جنہوں نے مریم نواز کو سات سال اور نواز شریف صاحب کو دس سال اور ر کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں آئی ایچ سی نے ان کی سزائیں معطل کر دیں تھیں۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کا بار کونسل میں خطاب کے دوران کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے۔

     کہ ایون فیلڈ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کنڑول کر رہے تھے ۔ اور انھیں سچ بولنے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا تھا۔

    درخواست میں سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کیس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ پراسیکیوشن کی نگرانی بھی کی ۔ جس کی کہیں مثال نہی ملتی ۔ کیونکہ آئین میں عدالت کا کام تفتیش کار یا کسی پراسیکیوٹر کا نہی ہے۔

    درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدنی سے زائد اثاثوں میں تین الگ الگ ریفرنس دائر کئے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور نیب شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے وجہ سے اس ریفرنسز کے نتیجے میں کیا جانے والا ٹرائل ایک زبردستی دھونس کے ذریعے کروائے گئے فیصلے کا نتیجہ ہے۔

    مریم نواز نے اس درخواست میں دوبارہ مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ کہ انھیں کیسے پریشرائز کر کے فیصلے ہمارے خلاف کروائے گئے۔

    یہاں ایک اور بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ مریم نواز نے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف دئیے گئے فیصلے اور پھر سابق جج جسٹس عبدالقیوم صدیقی کی آڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلوں کو آن ڈو کیا گیا تھا۔

    ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے مریم نواز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر ایون فیلڈ کیس میں دی گئی سزائیں ختم کر دیں جائیں۔آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروقی اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیل کی درخواست کو 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    آج مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس کیس کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہی ہے۔ہم کسی ادارے یا شخص کے خلاف نہی بلکہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ہیں۔

    کیا ان کے اب معاملات جنرل باجوہ سے سیٹ ہو گئے ہیں ؟ یا جان بوجھ کر جرنل فیض حمید کی افغانستان میں کامیابی اور ان کی انٹرنیشلی مثبت کریڈبلٹی کو ڈیمنج کرنا چاہ رہی ہیں ؟ کیونکہ آج کے دن ہی جنرنل فیض حمید ڈی جی ، آئی ایس آئی کے عہدے پر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کور کمانڈر پشاور تعینات ہو گئے ہیں۔

    کیونکہ آرمی چیف بننے کیلئے کم از کم ایک کور کی کمانڈ کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اور جنرنل فیض حمید کے مستقبل کے آرمی چیف بننے کی راہ میں یہی ایک راہ میں رکاوٹ تھی۔ جو اب ختم ہو جائے گی، اور اب وہ آنے والے سالوں میں موسٹ فیورٹ بننے والے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

    کیا یہ اس خوف کی وجہ سے کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو ٹارگٹ بنا رہی ہیں؟اور ان کی شخصیت کو جان بوجھ کر متنازع بنا رہی ہیں ؟

    پھر مریم نواز کہتی ہیں ۔ کہ جسٹس شوکت صدیقی اور جنرنل فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کریں ان سے حلف لیں کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ ان پر لگے الزامات جھوٹ ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جھوٹ ہوتے تو آج تک تردید ہو چکی ہوتی۔

    تو مریم نواز صاحبہ کی خدمت میں عرض ہے عدالتیں ثبوتوں پر فیصلے کرتیں ہیں اور اسی کی بنیاد پر جسٹس شوکت صدیقی کے بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔کیونکہ وہ اپنی باتوں کا پروف دینے میں ناکام رہے تھے۔ لہذا ان کی گواہی اب میرے نزدیک کوئی معنے نہی رکھتی۔

    اب بات ہو جائے مرحوم جج ارشد ملک کی جن کا حوالہ بار بار مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف دیتے ہیں۔ پہلی بات تو اب وہ جج اس دنیا میں ہی نہی ہیں اور دوسرا مرحوم جج ارشد ملک مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز کے بارے میں اپنی زندگی میں ہی پریس ریلیز جاری کر چکے ہیں ۔

     جس میں مرحوم لکھتے ہیں کہ مریم صفدر صاحبہ نے جو ویڈیوز اپنی پریس کانفرنس میں دکھائی ہیں وہ ویڈیوز نا صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاہ و سابق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذہوم کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نا صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں گئیں۔ جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق اور سچ پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا وغیرہ ۔

    مرحوم جج ارشد ملک کی مکمل پریس ریلیز ہر طرف دستیاب ہے ۔ لہذا ایک شخص جب اپنی زندگی میں ہی ان کے الزامات کی تردید کر چکا اب اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کورٹ ان ویڈیوز کو کیسے سچ مان لے گی ؟ اس کے باوجود اگر کورٹ چاہیے تو مریم نواز سے تمام مواد ویڈیو وغیرہ اویجنل فون اور رکارڈینگ گیجٹ بمع اس شخص کے جنہوں نے ریکارڈ کیا ۔ سب کچھ اویجنل ڈیٹا مانگ سکتی ہے۔

    لیکن میری رائے کے مطابق مریم نواز ان ویڈیوز کا اوریجنل ڈیٹا عدالت میں ہیش نہی کریں گی۔ اور نا ہی اس کیس کے اندر جان ہے ۔ یہ کیس زیادہ دور تک نہی جا پائے گا۔

    اب ہم بات کرتے ہیں بہت ہی اہم اور نئے پوائنٹ پر مریم نواز نے سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف ایک آڈیو آ جانے پر ان کے خلاف کئے گئے فیصلے بھی آن ڈو کر دئیے گئے تھے۔ تو پھر ہمارے کیسیز میں ویڈیو پروف آ جانے کے بعد ہمارے کیس کیوں ختم نہی کئے جا سکتے۔

    مطلب ماضی میں سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کی طرف سے مریم نواز کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے چچا شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے سسر سیف الرحمن کے خلاف لگائے گئے الزامات درست تھے؟

    کہ ماضی میں ان کے والد انکے چچا اور انکے سمدھی نے جسٹس ملک عبدالقیوم کو فون کر کے محترمہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلے کرنے کا کہا گیا؟اور ان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو نے ثبوت کے طور پر کورٹ میں پیش کیا اور اپنے خلاف ہوئے فیصلوں کو آن ڈو کروایا۔

    ہمارے پاکستان میں اقتدار کی خاطر ایک دوسرے پر الزامات لگا کر زبردستی گرانے کا گندہ کھیل عرصہ دراز سے جاری ہے۔اور پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہی جو اس گھناونے اور گندے کھیل میں شامل نا ہو۔ 

    آج بھی سب اسی کھیل کا تسلسل کا حصہ ہے۔ ماضی میں نواز شریف صاحب اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کام کرتے رہے۔  بےنظیر کیُ دونوں حکومتوں کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا مرحومہ کو زبردستی سزائیں دلوانے میں شامل رہے اور آج قسمت کا کھیل دیکھیں نواز شریف صاحب کی اپنی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کے ہاتھوں  ظلم ، ناانصافیوں اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی پاکستان کی پہلی سابقہ خاتون وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے کیس کا حوالہ دے کر انصاف مانگ رہی ہیں